العلامۃالعلم حافظ ابن عبدالبرقرطبیؒ

العلامۃالعلم حافظ ابن عبدالبرقرطبیؒ

العلامۃالعلم حافظ ابن عبدالبرقرطبیؒ

مصنف: مفتی محمد صدیق خان قادری جنوری 2020

تعارف:

آپ کا نام یوسف کنیت ابو عمر اور ابن عبد البر عرفیت ہے-نسب نامہ  یوسف بن عبد اللہ بن محمد بن عبد البر بن عاصم آپ کی ولادت بروز جمعہ 25 ربیع الثانی 368ھ کو ہوئی-[1]

امام ابن عبد البر کا وطن اندلس (موجودہ اسپین) کا شہر قرطبہ ہے جو اندلس کا پایہ تخت اور دنیائے اسلام کا عظیم الشان اورممتاز شہر ہوا کرتا تھا -گوکہ آپ کا مولد بلاد مغرب ہے لیکن آباؤ اجداد عرب نژاد اور قبیلہ نمرین قاسط سے تعلق رکھتے تھے آپ کے والد بزرگوار ابو محمد عبد اللہ قرطبہ کے اکابر علماء و فقہاء اور ممتاز لوگوں میں تھے ان کو شعر و ادب سے   بھی کافی شغف تھا-ابن عبد البر کی نشوونما اسی صاحب کمال والد کی آغوش میں ہوئی تھی-وہ وطن کی نسبت سے قرطبی اور خاندان کی نسبت  سے نمری کہلاتے ہیں-

تحصیلِ علم:

ان کے علم و فن کی تحصیل اور سماع حدیث کی ابتداء کب ہوئی اس کا پتہ نہیں چلتا تاہم وہ اپنے معاصر خطیب بغدادی کی ولادت کے وقت علم حدیث کی تحصیل میں مشغول ہو چکے تھے-اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے بچپن ہی میں اس فن کی تحصیل شروع کردی تھی بعض مؤرخین فرماتے ہیں کہ وہ  نہ اندلس سے باہر تشریف لے گئے اور نہ ان ستر علماء کے علاوہ  جو اس زمانہ میں یکتا تھے کسی کو نہ دیکھا اور نہ ہی ان کے علاوہ کسی سے علم حاصل کیا لیکن صحیح یہ ہے کہ ان کا قیام عموماً زیادہ اندلس ہی میں رہا-انہوں نے بلاد مغرب کے  باہر قدم نہیں نکالا مگر آپ اندلس کے شرق  و غرب اور مغرب کے اکثر شہروں  میں تشریف لے گئے چنانچہ مختلف وقتوں میں ہدافیہ، بلنسیہ اور شاطبیہ میں سکونت اختیار کی-[2]ان پر علم کا شوق ہمیشہ رہا اور وہ کبھی علم کی طلب و تحصیل سے غافل نہیں ہوئے-

اساتذہ:

حافظ ابن عبدا لبر  نے جن آئمہ کمال سے استفادہ کیا  ان کے اسم گرامی درج ذیل ہیں:

’’خلف بن قاسم، عبد الوارث بن سفیان، عبد اللہ بن محمد، محمد بن عبد الملک بن صیفوں، عبد اللہ بن محمد بن اسد الجھی، یحیٰ بن وجہ، احمد بن فتح الرسان، سعید بن نصر، حسین بن یعقوب، ابی عمر احمد بن حسور، ابو عمر باجی، ابو الولید بن فرضی، ابو عمر کلمنکی اور بعض دور دراز کے علماء سےبھی ان کو روایت حدیث کی اجازت تحریراً عطا فرمائی تھی- ان میں ابوذر ہروی، ابو الفتح بن سیخت، عبد الغنی منذری، ابو القاسم عبد اللہ بن مقفی اور ابو محمد نحاس قابل ذکر ہیں- آپ کوحافظ ابو الولید فرضی کی خدمت میں  رہے  اور استفادہ کرنے کا زیادہ موقع ملا؛ ان سے حدیث ، علم الرجال اور ادب وغیرہ کے علوم حاصل کیے-[3]

تلامذہ:

آپ سے کثیر تعداد علماء و مشائخ نے اکتسابِ علم کیا-ان میں سے چند مشہور یہ ہیں:

’’ابو العباس الدلائی، ابو محمد بن ابی قحافہ، ابو الحسن ظاہر بن مغوز، ابو علی غسانی، ابو عبد اللہ حمیدی، ابو بحر سفیان بن عاص، محمد بن فتوح انصاری، ابو داؤد سلیمان بن ابو القاسم مقری‘‘-[4]

علمی مقام و مرتبہ اور آئمہ کرام کی آراء:

علامہ ابن عبد البر کی عظمتِ شان، بلند پائیگی اور علمی کمالات کا تمام معاصرین فضلاء، آئمہ فن اور ارباب سِیَر نے اعتراف کیا ہے –امام ذہبی نے احدالاعلام اور صاحب شذرات نے ان کو ’’العلامۃ العلم ‘‘لکھا ہے- علامہ سمعانی نے اپنی کتاب الانساب میں ان کی علمی وجاہت کو اس انداز میں بیان فرمایا:

’’و کان اماما فاضلا کبیرا جلیل القدر‘‘[5]

’’وہ ایک جلیل القدر بہت بڑے فاضل امام تھے‘‘-

صاحب تذکرہ نے ان کو الامام و شیخ الاسلام بتایا ہے-وہ لکھتے ہیں کہ اندلس میں وہ بڑے عظیم مقام و مرتبہ کے مالک تھے-ان کی شہرت کا ساری دنیائے اسلام میں غلغلہ تھا-لوگ ان کے پاس سماع کیلئے سفر کرکے آتے اور تمام علمائے زمانہ ان کے علمی کمالات کے سامنے سوائے اعترافِ عظمت کے چارہ نہ رکھتے -

امام ابو القاسم خلف بن عبد الملک آپ کے علمی مقام کو اس انداز میں بیان فرماتے ہیں :

’’معو امام عصرہ واحد دھرہ‘‘[6]

’’وہ اپنے زمانے کے امام اور یکتائے روزگار تھے‘‘-

علامہ ابن خلکان حدیث میں آپ کی علمی شان کو اس انداز میں بیان فرماتے ہیں :

’’ھو امام عصرہ فی الحدیث و الاثرو الاثرء ما یتعلق بھا‘‘[7]

’’وہ حدیث واثر اور ان کےساتھ جتنے علوم تعلق رکھتے ہیں ان کے اپنے زمانے میں امام تھے‘‘-

شاہ عبد العزیز محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ وہ بلادِ مغرب کے کبار اور منتخب علماء میں سے تھے ان کا علمی پایہ خطیب بیہقی اور ابن حزم سے کمتر نہیں تھا-[8]

حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے علمی کمالات کی وجہ سے نہایت مقبول، مرجع امام، یگانہ  روزگار اور امام وقت سمجھے جاتے تھے-علامہ ابن عبد البر حفظ و اتقان میں منفرد اور تمام معاصرین سے فائق ہونے کی بنا پر ’’حافظِ اُندلس‘‘ کہلاتے تھے-اسی لئے ابو الولید باجی فرماتے ہیں:

’’لم یکن بالاندلس مثل ابی عمر فی الحدیث‘‘[9]

’’فنِ حدیث میں ابو عمر ابن عبد البر جیسا اندلس میں کوئی اور نہیں تھا‘‘-

آپ کے علمی مقام و مرتبہ کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ امام ذہبی فرماتے ہیں-

’’ولیس لاھل المغرب احفظ منہ مع الثقہ والدین، التبحر فی الفقہ و العربیۃ و الاخبار‘‘[10]

’’اہل مغرب میں ان سے بڑھ کر کوئی حافظ نہیں تھا ، ثقاہت اور دین میں فائق ہونے کے ساتھ ساتھ وہ فقہ ، عربیت اور اخبا ر میں بھی تبحر علمی رکھتے تھے‘‘-

علامہ غسانی فرماتے ہیں کہ ابن عبد البر فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے شہر میں قاسم بن محمد اور احمد بن خالد جباب کے ہم پایہ اور ہم عصر کوئی شخص نہیں ہے-

’’لم یکن ابن عبد البر بدونھما‘‘[11]

’’حالانکہ ابن عبد البر بھی ان سے کم نہیں‘‘-

حدیث میں ان کی عظمت و بلند پائیگی کا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امام ابن صلاح اور امام نوَوِی نے آئمہ صحاح کے بعد کے ساتھ اہم اور برگزیدہ محدثین کی فہرست میں ان کا نام بھی لکھا ہے-شاہ عبد العزیز نے مالکیہ میں ان کو سب سے بڑا صاحب کمال شارح حدیث قرار دیا ہے-ان کے علو اسناد سے بھی ان کے کمال کا پتہ چلتا ہے-

رجال ، جرح و تعدیل اور دیگر علوم میں امتیاز:

حافظ ابن  عبد البر کی  حدیث میں جلالت قدر کا ثبوت یہ بھی ہے کہ وہ اسماء الرجال اور جرح و تعدیل کےماہر تھے اور علمائے رجال نے حدیث کی طرح اسماء الرجال سے بھی ان کے شغف کا ذکر کیا ہے-امام ذہبی ابو عبد اللہ حمیدی کے حوالے سے تذکرۃ الحفاظ میں فرماتے ہیں کہ:

’’ابو عمر فقیہ حافظ مکثر عالم باالقراءت و بعلوم الحدیث و الرجال‘‘[12]

’’امام عبد البرفقیہ، حافظ اور مکثر الحدیث تھے وہ قراءت کے عالم، علوم حدیث اور علم الرجال کے ماہرتھے‘‘-

امام ذہبی فرماتے ہیں کہ ان کی سند عالی اور وہ توثیق و تضعیف کے ماہر تھے –انہوں نے مؤطا کی جو شرحیں لکھی ہیں ان سے ان کی حدیث اور جرح و تعدیل دونوں میں مہارت کا پتہ چلتا ہے-بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ابن عبد البر نے متن و سند کی تصحیح ، مرسل و مسند کی تمیز موصول و منقطع میں تفریق اور ضعفاء، ثقات میں امتیاز کر کے صحیح وسقیم کو پوری کوشش سے الگ کر دیا اور مخفی و مستور حدیثوں کا کھوج لگا کر ان کے علل کی نشاندہی اور اسقام و عیوب پر متنبہ کردیا-مؤطا کی شروح میں  سندوں کی وضاحت پر خاص توجہ مبذول کی ہے اور مرسل و منقطع اور ملاقات مؤطا پر لطیف بحث و کلام کیا ہے-

امام ابن عبد البر علوم حدیث میں ممتاز ہونے کے ساتھ ساتھ فقہ میں بھی نہایت صاحب بصیرت تھے ابو علی غسائی فرماتے ہیں کہ آپ نےمشہور فقیہ احمد عبد الملک کی صحبت اختیار کی اور ان سے مسائل کی تحصیل کی-[13]

ابن خلکان اور امام ذہبی نے علم حدیث کی طرح فقہ میں بھی ان کے تقدم اور فقہی بصیرت کا ذکر کیا ہے-ابو عبد اللہ حمیدی فرماتے ہیں کہ وہ فقیہ اور خلافیات کے عالم تھے-بلاد مغرب کے اکابر اور فضلا کی طرح وہ بھی امام دارا الہجرت سیّدنا مالک ابن انس کے مکتب فقہ و اجتہاد سے وابستہ تھے-آپ مالکی ہونے کے باوجود اس مذہب کے جامد مقلد نہ تھے-چنانچہ بعض مسائل میں وہ شافعیہ کے ہم نوا تھے-اسی لیے حافظ ذہبی اور ابو عبد اللہ حمیدی نے امام شافعی کے اقوال و مذاہب کی طرف ان کے میلان کا ذکر کیا ہے-ان کے اس میلان کی وجہ سے ابن کثیر نےان کا طبقات الشافعیہ میں تذکرہ کیا ہے ان کی بعض تصنیفات میں بھی شافعی مذہب کے جانب میلان کی جھلک موجود ہے-لیکن صحیح یہ ہے کہ وہ مالکی تھے البتہ ان میں اجتہادی بصیرت تھی اور ان کا شمار فقہاء میں ہوتا ہے کہ اسی لئے اپنے مذہب کے خلاف شوافع کی جانب ان کے میلانات کو قابل رد و انکار نہیں قرار دیا گیا-سید عبد الحی کتانی فرماتے ہیں کہ ابن عبد البر کی تصنیفات کے تتبع و استقرا سے معلوم ہوتا ہےکہ وہ تقلیدِ محض سے دور تھے اور امام مالک کے مذہب و اصول سے مراجعت کرکے اپنے اعتماد پر کوئی قول اختیار کرتے تھے-

امام بن عبد البر فقہ و حدیث ہی میں ممتاز نہ تھے بلکہ ان کو متعدد علوم و فنون سے بھی مناسبت تھی-چنانچہ قرأت و تفسیر، تاریخ و انساب، سیر و اخبار اورادب و عربیت وغیرہ میں بھی اچھی دسترس رکھتے تھے-امام ذہبی نے ان کی عربیت ، ادب اور معانی و بیان میں تبحر کاذکر فرمایا ہے-

تصنیفات:

امام ابن عبدالبر ایک مایہ ناز اور  مشہور مصنف تھے-تصنیف و تالیف کا ان کو فطری اور عمدہ ذوق تھا-اس لئے بے شمار تصنیفات ان کےقلم سے ظاہر ہوئیں-حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ عبد البر عمدہ اور عظیم الشان کتابوں کے مصنف تھے-آپ کی تصنیفات کو بڑی شہرت نصیب ہوئی امام صاحب کی چند مشہور تصنیفات درج ذیل ہیں:

  1. البیان عن تلاوۃ القرآن
  2. کتاب اخبار آئمۃ الامصار
  3. اختصار تاریخ احمد بن سعید
  4. کتاب اختلاف اصحاب مالک بن انس و اختلاف روایاتھہم عنہ
  5. کتاب الشواید فی اثبات خبرالواحد
  6. کتاب الفرائض
  7. کتاب المدخل فی القراآت
  8. کتاب جمہرۃ الانساب
  9. کتاب العقل و القلاء

10. کتاب الکیٰ

11. کتاب الاکتفاء فی قرأۃ نافع  وابی عمر

12. کتاب الدررفی اختصار المغازی  والسیر

13. کتاب بہجۃ المجالس و انس المجالس

14. کتاب الکافی، صاحب کشف الظنون نے ان کا نام  کافی فی فروع المالکیہ لکھا ہے-

15. القصد و الامم

16. الانباہ علی قبائل الرواۃ

17. الانصاف فیما فی بسم اللہ من الخلاف

18. الانتقاء فی فضائل الثلاثۃ الفقہاءِ ومالک و الشافعی وابی حنیفۃ

19. جامع بیان العلم و فضلہ

20. التمہید لما فی  المؤطا من المعانی و الاسانید:

یہ مؤطا کی ضخیم اور عظیم الشان شرح ہے اس کو حدیث کی عمدہ اور بہترین شرحوں میں خیال کیا جاتا ہے اسی کی بدولت حافظ عبد البر کو ممتاز محدث اور مالکیہ میں سب سے بلند پایہ شارح حدیث قرار دیا گیا ہے-اس کی ترتیب بھی امام مالک کے رواۃ اور شیوخ کے ناموں پر کی گئی ہے-اس میں مؤطا کی حدیثوں کی تشریح ان کے معانی و مطالب کی وضاحت اور ان کی اسانید کی تحقیق کے علاوہ فقہ و حدیث کے گوناگوں فوائد و نکات تحریر کیے گئے ہیں-

  1. کتاب الاستذکار:

یہ مصنف کی اوپر مذکورہ عظیم الشان شرح التمہید کا خلاصہ ہے اور شروحِ حدیث میں بڑی اہم کتاب خیال کی جاتی ہے-

22. التغطا بحدیث المؤطا

23. الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب:

یہ امام صاحب کی نہایت اہم اور شہرہ آفاق کتاب ہے اس میں 2585 صحابہ کرام کے حالات و مناقب بیان کیے گئے ہیں-اس سے پہلے بھی صحابہ کرام کے حالات و واقعات پر کئی مستقل کتابیں لکھی جاچکی تھیں-مگر استیعاب کو ان میں ایک گونہ اہمیت حاصل ہے-علامہ ابن حزم فرماتے ہیں کہ معرفت صحابہ میں بے شمار کتابیں لکھی گئیں لیکن متقدمین میں کسی کی کتاب ابن عبد البر کی کتاب کے ہم پایہ نہیں ہے-استیعاب کو حروف معجم کی ترتیب کے مطابق علیحدہ علیحدہ ابواب پر مرتب کیا گیا ہے لیکن مصنف کا تعلق بلادِ مغرب سے ہے اور اہل مغرب کے ہاں حروف معجم کی ترتیب اہل مشرق سے مختلف ہے اس لئے اس میں اسی کا  لحاظ کیا گیا ہے پہلے ناموں اور کنیتوں کے لحاظ سے صحابہ کرام کا اور آخر میں ناموں اور کنیتوں کے اعتبار سے صحابیات کا ذکر ہے-ہر حرف کے خاتمہ کے بعد جداگانہ فصل قائم کر کے اسی حرف کے باقی ماندہ اسماء کو بلاترتیب باب الافراد کے عنوان کے تحت جمع کیا ہے-صحابہ کرام سے پہلے شروع میں امام صاحب نے تبرک کے خیال  سے رسول اللہ (ﷺ) کا بھی مختصر اور جامع تذکرہ لکھا ہے-الغرض! استیعاب نہایت معتبر و مستند کتاب ہے-امام صاحب خود فرماتے ہیں کہ میں نے اس کی تالیف میں علمائے سِیَرو انساب کے مشہور اقوال نقل کرنے میں ان معروف و معتبر کتابوں پر اعتماد کیا ہے جن پر علماء نے اسلامی عہد کے وقائع و احوال اور اہل اسلام کے سِیَر و سوانح کی معروف و معتبر کتابوں پر اعتماد کیا ہے-جن پر علماء نے اسلامی عہد کے وقائع و احوال اور اہل اسلام کے سیر و سوانح کی معرفت کے سلسلہ میں اعتماد کیا ہے اسی طرح اس میں پہلے کی تمام کتابوں یا سماعی روایات سے جو کچھ مصنف کو معلوم ہوسکا ان کو تحقیق و انتخاب کے بعد شامل کیا ہے-مصنف نے مقدمہ میں ان تمام کتب کا ذکر کیا ہے جو ان کا ماخذ تھیں –اس سےان کی محنت و تحقیق اور وسعتِ علم و نظر اور کثرتِ مطالعہ وغیرہم کا اندازہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ بعد میں یہ تمام کتابوں کا ماخذ بن گئی ہے-[14]

وفات:

آپ کا وصال جمعہ کی رات ربیع الثانی کی آخری تاریخ کو 463ھ میں ہوا-[15]

٭٭٭


[1](تذکرۃ الحفاظ، جز:3، ص:217)

[2](ایضاً، 218)

[3](وفیات الدعیان، جز:7، ص:66)

[4](ایضاً)

[5](کتاب الانساب، جز:10، ص:374)

[6](الصلہ، جز:1، ص:640)

[7](وفیات الدعیان، جز:7، ص:66)

[8](بستان المحدثین، ص:115)

[9](شذرات الذہب، جلد:5، ص:267)

[10](العبر، جز:2، ص:316)

[11](تذکرۃ الحفاظ، جز:3، ص:218)

[12](ایضاً)

[13](ایضاً)

[14](بستان المحدثین،ص:64-73)

[15](تذکرۃ الحفاظ، جز:3، ص:218)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر