بانی اصلاحی جماعت کی تحریک : قیامِ پاکستان کے مقاصدکی امین

بانی اصلاحی جماعت کی تحریک : قیامِ پاکستان کے مقاصدکی امین

بانی اصلاحی جماعت کی تحریک : قیامِ پاکستان کے مقاصدکی امین

مصنف: مفتی محمد اسماعیل خان نیازی اگست 2021

 

میرِ عربؐ کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے

قیام پاکستان کے مقاصد جلیلہ کیا تھے؟کیایہ تھا کہ چند لوگ اٹھیں اور قائد اعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں یہ خطہ زمین حاصل کرلیں اور وہاں اپنی من چاہی زندگی بسر کرسکیں یا کوئی اورتھے ؟تو آئیے اس چیز کوجانچنے کے لیے اس کے ماضی کی تاریخ کے جھروکوں میں جھانکتے ہیں -

بلاشبہ پاکستان کا ظاہر ی قیام 14 اگست 1947ء کو عمل میں آیا -لیکن درحقیقت یہ اس وقت معرض وجود میں آگیا تھا جس وقت خیر الورٰی،پیکر جودو سخا ، احمد مجتبیٰ، خاتم الانبیاء سیدنا رسول اللہ (ﷺ) نے اپنے زبان مبارک سے ارشاد فرمایا تھا کہ ’’مجھے ہندوستان سے اسلام کی خوشبوآرہی ہے‘‘-اس کی ترجمانی کرتے ہوئے قائداعظم ؒ نے فرمایا :

’’امر واقع یہ ہےکہ پاکستان صدیوں سے موجود ہے-یہ آج بھی ہے اور ابد تک رہے گا-یہ ہم سےچھین لیا گیا ہے-ہمیں صرف اسے واپس لینا ہے اس پرہندوؤں کا کیاحق ہے؟ہمیں اس خطۂ زمیں پر دعوٰی سے کس طرح باز رکھا جا سکتا ہے جو ہماری اپنی ہے‘‘- [1]

شاید آج ہم یہ بھول چکے ہیں کہ بانیانِ پاکستان کا مقصد صرف ایک خطہ زمین کا حصول نہیں تھا بلکہ ایسی اسلامی فلاحی مملکت کا قیام تھا جہاں اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق حکومت اور نظامِ ہائے حیات کو تشکیل دیا جا سکے جیسا کہ بانیٔ پاکستان محمد علی جناحؒ نے ارشادفرمایا:

’’ہم نے پاکستان کامطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیاتھا-بلکہ ہم ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے-جہاں اسلام کے اصولوں کو آزماسکیں‘‘-[2]

کچھ ایسے ناعاقبت اندیش لوگ جو یہ سوچ رکھتے ہیں کہ ہمیں اب جدید دنیا کے ساتھ چلنا چاہیے ا ن کا اشارہ سیکو لرازم کی طرف ہوتاہے، جبکہ اس سوچ کے متعلق قائداعظم ؒ نے ان پہ واضح فرمایا کہ :

’’اسلامی اصول آج بھی ہماری زندگی کیلیے اسی طرح قابل عمل ہیں جس طرح 1300سال پہلے قابل عمل تھے-میں نہیں سمجھ سکا کہ لوگوں کا ایک گروہ جان بوجھ کر فتنہ اندازی سے یہ بات کیوں پھیلانا چاہتا ہے کہ پاکستان کا آئین شریعت کی بنیاد پر مدون نہیں کیا جائے گا‘‘- [3]

یہ یادرہے کہ پاکستان دنیا کی دوسری سلطنت ہے جو کلمہ طیبہ کی بنیاد پہ معرض وجود میں آئی اور یہ حسین اتفاق دیکھیں کہ پاکستان کا اردو ترجمہ ’’مدینہ طیبہ‘‘ بنتا ہے وہ یوں کہ پاکستان فارسی کے دو الفاظ ’’پاک اور استان‘‘ کا مجموعہ ہے-استان کا معانی ’’رہنے کی جگہ‘‘ یعنی ’’شہر‘‘ کے ہیں اور پاک کو عربی میں ’’طیب‘‘کہتے ہیں یعنی پاکستان کا عربی ترجمہ ہی ’’مدینہ طیبہ‘‘ بنتا ہے-

اس قیام کے مقاصد کو یہ چیز بھی عیاں کرتی ہے کہ اس کی تعمیر و تشکیل میں ڈائریکٹ سیدی و مرشدی تاجدارِ کائنات، صاحب لولاک حضرت محمد مصطفٰے (ﷺ) کا حکم مبارک اور آپ (ﷺ) کی نگرانی وشفقت کا فیضان ہے جیسا کہ قائداعظم محمدعلی جناحؒ کا خواب کچھ ان الفاظ میں لکھاہوا ہے(یہ خواب -مبشرات پاکستان -اور دیگر کئی جگہوں باختلاف الفاظ پہ منقول ہے) -آپؒ فرماتے ہیں :

’’مَیں لندن میں اپنے فلیٹ میں سویا ہوا تھا- رات کا پچھلا پہر ہوگا، میرے بستر کو کسی نے ہلایا، میں نے آنکھیں کھولیں، ادھر اُدھر دیکھا- کوئی نظر نہ آیا مَیں پھر سوگیا- میرا بستر پھر ہلا میں پھر اٹھا، کمرے میں ادھر اُدھر دیکھا اور سوچا شائد زلزلہ آیا ہو- کمرے سے باہر نکل کر دوسرے فلیٹوں کا جائزہ لیا- تمام لوگ محو استراحت تھے میں واپس کمرے میں آکر سوگیا- کچھ دیر ہی گزری تھی کہ تیسری بار پھر کسی نے میرا بستر نہایت زور سے جھنجھوڑا میں ہڑ بڑا کر اٹھا- پورا کمرہ معطر تھا-میں نے فوری طور پر محسوس کیا کہ :

An extraordinary Personality is in my room”. 

’’ایک غیر معمولی شخصیت میرے کمرے میں موجود ہے‘‘-

Who are you?” 

’’(میں نے کہا کہ )آپ کون ہیں؟‘‘

I am your Prophet Muhammad”.

’’(جواب آیا( ’’میں تمہارا پیغمبر محمد (ﷺ) ہوں ‘‘-

’’میں جہا ں تھا وہیں بیٹھ گیا دونوں ہاتھ باندھ لئے فوراً میرے منہ سے نکلا‘‘-

Peace be upon you, my Lord

’’ آپ پر سلام ہو میرے آقا (ﷺ)‘‘-

ایک بار پھر وہ خوبصورت آواز گونجی:

Mr. Jinnah! You are urgently required by the Muslims of the sub-continent and I order you to lead the freedom movement. I am with you. Don't worry at all. You will succeed in your mission In sha Allah”.

’’جناح! برِا عظم ایشیاء کے مسلمانوں کو تمہاری فوری ضرورت ہے اورمَیں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تحریک آزادی کی قیادت کرو- مَیں تمہارے ساتھ ہوں تم بالکل فکر نہ کرو- انشاء اللہ تم اپنے مقصد میں کامیاب رہوگے‘‘-

’’قائد فرماتے ہیں کہ میں ہمہ تن گوش تھا- صرف اتنا کَہ پایا:

Yes my Lord”.

’’آپ کا حکم سر آنکھوں پر میرے آقا (ﷺ)‘‘ - [4]

اسی طرح حضرت نعمت اللہ شاہ ولیؒ کا لکھاہوا قصیدہ پڑھنے سے قیام ِ پاکستان کےمقاصد مزید واضح ہوجاتے ہیں یہاں ان کا بالتفصیل ذکر کرنا باعثِ طوالت ہوگا-ہم صرف یہاں ان کے ملکِ خدا داد پاکستان کے بارے میں دو اشعار پیشِ خدمت کرتے ہیں:

قاتل کفار خواہد شد شہ شیرِ علی
حامی دین محمدؐ پاسباں پیدا شود

’’علیؓ کا شیر’’بادشاہ ‘‘ کافروں کو قتل کرنے والا ہوگا اور سید الانبیاء و المرسلین حضرت محمد (ﷺ) کے دین کی حمایت کرنے والا ہو گا اور( ملک و قوم کا) پاسباں ظاہر ہو گا‘‘-

قائم شرع آل پیغمبرؐ
در جہاں آشکار مے بینم[5]

’’مَیں جہاں میں حضور رسالت مآب (ﷺ) کی آل پاک (ﷺ) کی شرع کا قائم کرنے والا صاف ظاہر دیکھ رہا ہوں‘‘-

پاکستان کے مستقبل کے بارے میں نوید سناتے ہوئے نماز جمعہ کے بعد حضرت شیخ محمدبرکت علی لدھیانویؒ صاحب نے فرمایا:

’’لوگو!جان لو کہ ایک ایسا دن آنے والا ہے جب یواین او ہر قدم اٹھانے سے پہلے پاکستان سے پوچھے گی کیا میں یہ قدم اٹھاؤں؟اس وقت ہم رخصت ہوچکے ہوں گے اگر ایسا نہ ہوا تو تم آکر ہماری قبر پہ تھوکنا‘‘- [6]

ان تما م اقباسات سے یہ بات اظہر من الشمس ہوتی ہے کہ قیام پاکستان کی تشکیل ایک کنفرم اور لازمی امر تھا اور اس کا مستقبل بھی ان شاء اللہ روشن ہے -

یہ قدرت کا حسین اتفاق ہے کہ جس دن سلطنت مدینہ کے بعد دنیا میں دوسری اسلام ریاست کلمہ طیبہ ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘کی بنیاد پہ معرض وجود میں آرہی تھی اسی دن 14 اگست 1947ء کو بمطابق 27 رمضان المبارک بروز جمعۃ المبارک سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو صاحبؒ کی نویں پشت میں سلطان الفقر (ششم ) حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی صاحبؒ کی ولادت باسعادت ہوئی -دراصل قدرت ایسے اتفاقات اس لیے ظاہرفرماتی ہے تاکہ لوگوں کے سامنے اس چیز کو واضح کیا جائے کہ محض حادثہ نہیں بلکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے-

یہ یادر ہے:

’’إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا‘‘[7]

’’بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کے لیے ہرصدی کے آخرمیں ایک ایسی ہستی مبارک کو بھیجتا ہے جو اس امت کے لیے اس کے دین کی تجدید کرتا ہے ‘‘-

قیام پاکستان کے دن ہی آفتاب کرم واحسان ، گلشن ِ عزیزیہ کے مہکتے ہوئے پھول ، آسمان ولایت کے نیرِ اعظم ،سلطان الفقر (ششم ) کی ذات اقدس کا ظہور مسعود غورو فکر کرنے والوں کے لیے اپنے اندر کئی حکمتوں کو سموئے ہوئے ہے - جب ہم آپؒ کی حیات مبارکہ کا بحیثیت طالب مطالعہ کرتے ہیں تو ہم پہ واضح ہوتا ہے کہ آپؒ نے عمر مبارک کا بیشتر حصہ اپنے والد گرامی سلطان الاولیاء شہباز عارفاں سیدنا حضرت سخی سلطان محمد عبد العزیزؒ کی خدمت اور فقر کے اسرار و رموز سمیٹنے میں گزارا- سنت نبوی (ﷺ) پہ عمل پیرا ہوتے ہوئے آپؒ نے 40 برس کا عرصہ انتہائی خاموشی میں گزارا -40 سال کی عمرمبارک میں آپ نے انجمن غوثیہ عزیزیہ حق باھوؒ پاکستان و عالم ِ اسلام کی تنظیم سازی فرمائی اورعالمگیر تحریک ’’اصلاحی جماعت‘‘کی بنیادرکھی تو آپؒ نے حلقہ احباب پہ واضح فرما یا کہ:

’’مَیں نے یہ جماعت روضہ مبارک والوں (سیدی حضرت محمد رسول اللہ)ﷺ)کی مرضی مبارک سے شروع کی-وہی اس کی نگہبانی فرمارہے ہیں ہم تو صرف اُن کی غلامی کر رہے ہیں ‘‘- [8]

جب ہم آپؒ کی ذاتِ اقدس کو بحیثیت ’’مرشد‘‘ دیکھتے ہیں تو اعلیٰ حضرت شاہ احمد رضا خاں بریلوی کا لکھا ہوا یہ شعر زبان پہ جاری ہوجاتاہے:

جن کی ہر ہر ادا سنتِ مصطفٰے (ﷺ)
ایسے پیر طریقت پہ لاکھوں سلام

المختصر! جب جب ہم آپؒ کی زندگی مبارک جس زاویے سے بھی دیکھتے ہیں توقلوب واذہان کو جِلا ملتی ہے-جیساکہ آپؒ کی ذات اقد س کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے طارق اسمٰعیل ساگر صاحب نے لکھا :

’’طالبان مولیٰ جوق در جوق سلطان الفقر سلطان محمد اصغر علی صاحبؒ کے گرد جمع ہوتے رہے-آپؒ نے سرکارِ دو عالم (ﷺ) کی مکی زند گی کی سنت کے مطابق اپنے مریدین اور عقیدت مندوں کو تصورِاسم ذات کا طریقہ سکھایا اور اللہ بس ماسوٰی اللہ ہوس کا تصور عطاکر کے اپنی نگاہ سے تاریک دلوں کو نورِ ایمان سے منور فرمایا اورانہیں خصائل رذیلہ، طمع، لالچ، بغض، کینہ،تکبر، غرور، شہوت، غصہ، ہوا، ہوس، حبِ دنیاسے پاک کیا اور یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی جان و مال و اولاد اورخواہشِ نفسانی سے دستبردار ہوچکے ہیں- ان کی زندگیوں کا مقصد صرف اللہ پاک کی رضا کا حصول ہے‘‘-[9]

مزید لکھتے ہیں کہ:

’’فقر کے ششم سلطان حضرت سلطان محمد اصغر علیؒ کی شخصیت ہمہ جہت تو تھی ہی-اس کے ساتھ ساتھ میں اپنے مختصر سے مطالعے سے یہ سمجھنے میں کامیاب ہواہوں کہ آپؒ اس قحط الرجال کے دور میں ایک مرد خود آگاہ تھے-آپ نے اپنے اسلاف کے ہراس سنت کو اپنایا جو جہدمسلسل اور تحریک سے عبارت ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ آپؒ کی عظمت کیلیے اتنا ہی کافی تھا کہ آپؒ سلطان العارفینؒ کے پوتے تھے اور خود بھی عارف تھے آپؒ نے دیگر تبلیغی و تحریکی سلسلے کیوں شروع فرمائے؟ تو میں اس نتیجہ پہ پہنچاہوں کہ آپؒ نے پدرم سُلطان بُود اور پدرم سُلطان العارفین بُود میں واضح فرق کیا‘‘-[10]

در اصل آپؒ نے شاعرِمشرق کی اس فکر ’’نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیریؓ‘‘ کوعملی جامہ پہنایا حضور نبی رحمت (ﷺ) کی رضا مبارک کے حصول اور آپ (ﷺ) کے حکم مبارک کی تعمیل کی خاطر جب آپؒ نے عملی اقدام اٹھایا تو اس وقت لوگوں کی اکثریت مقصد حیات کو فراموش کرچکی تھی اس وقت پاکستان کو داخلی و خارجی طور پر مختلف چیلنجز کا سامنا تھا- مملکت خداداد میں قومی و ملی نظریاتی یک جہتی کا فقدان تھا- اس وقت لوگوں کی اکثریت قیام ِ پاکستان کے مقاصد سے دور اور دین محض رسم و رواج تک محدود تھا اور لوگ قیام ِ پاکستان کے حقیقی مقاصد کو یکسر نظر انداز کرچکے تھےاور کم نظری اور کم فکر ی یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ اللہ عزوجل کی رضا کا حصول (جوکہ بندہ مومن کی زندگی کا مقصد اولین ہے)کو بعید ازقیاس سمجھ بیٹھے تھے یعنی طریقت صرف اولیاء اللہ کاکام ہے اورسلک سلوک کی منازل کے بارے میں عام بندہ صرف سوچ ہی سکتاہے- لیکن آپؒ نے بڑے احسن اورسہل انداز میں بیک وقت عام آدمی کو شریعت و طریقت سے جس طرح روشناس کروایا وہ اپنی مثال آپ ہے- سنت ِ مصطفٰے (ﷺ)بھی یہی ہے کہ آقا کریم (ﷺ)نے بیک وقت عام آدمی کو شریعت، طریقت، معرفت و حقیقت سے روشناس کروایا-بلاشبہ یہ قیام پاکستان کے مقاصد کے عین مطابق تھا-

جہاں تک یہ سوال کہ سلطان الفقر ششم قدس اللہ سرہ کی تحریک کا قیام پاکستان کے مقاصد میں کیا کردار ہے؟ تو تمہیداً پہلے عرض کردوں کہ کسی بھی قوم وملت کی اصلاح کے بنیادی طور پہ دو پہلو ہیں -انفرادی (فرد کی اصلاح ) اور اجتماعی (معاشرتی اصلاح)-

اس تناظر میں اب ہم حضور سلطان الفقر ششم (قدس اللہ سرہ) کی شبانہ روز مساعی جمیلہ کا جائزہ لیتے ہیں

انفراد ی اصلاحی :

  • آپؒ نے اپنی محفل میں بیٹھنے والے ہرخاص وعام کو جہاں اپنی نگاہ مبارک کے فیض سے نوازا وہیں انہیں اسم اللہ ذات بھی عطا فرمایا جس کی بدولت آپؒ کی صحبت و نگاہ سے فٰیض یاب ہونے والے کو نظریاتی اور فکری وحدت سے آشنائی ہوئی اور خوشامدا ور شخصی تقلید کی بجائے دلوں میں حق گوئی و بیباکی اور ’’قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا‘‘[11]کے جذبات پروان چڑھنے لگے-مزید اس پہ یہ حقیقت عیاں ہوئی کہ :
  • انسان کی ذات امانتِ الٰہیہ کی حامل ہے -
  • اللہ عزوجل اور اس کے حبیب مکرم، شفیع معظم (ﷺ) کی رضا کے حصول سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں-
  • انسانی عظمت خواہشات نفسانی کا خاتمہ کرنے اور اپنے دل کو اسم اللہ ذات کے نور سے منور کرنے میں ہے -
  • دنیاوی مال و اسباب اکٹھے کرنے کی بجائے دولتِ فقر کا حصول اولین ترجیح ہونی چاہیے –
  • دنیاوی مفادات اور بے وفا رشتوں کی بجائے اللہ عزوجل کیلئے محبت اور عداوت دائمی کامیابی کی ضامن ہے -
  • انسان کی اصل کامیابی مال و دولت سمیٹنے میں نہیں -بلکہ دل کو انوار و تجلیات سے منور کرنے میں ہے -

اجتماعی اصلاح:

1:اصلاحی جماعت کے پلیٹ فارم سے آپؒ نے اولیاء اللہ کاپیغام قرآن وسنت کی روشنی میں عوام الناس تک پہنچایا اور مزید اعلائے کلمۃ الحق کیلئے ’’عالمی تنظیم العارفین‘‘ کا قیام عمل میں لایا- آپؒ نے جہاں دربار گوہر بار اور ضلعی سطح پہ محافل میلادِ مصطفٰے (ﷺ) کا انعقاد عمل میں لایا وہاں گھر گھر بھی اس مقدس نام سے ملقب محافل کا سلسلہ شروع فرمایا-

2:آپؒ نے جہاں طالبانِ مولیٰ کی تعلیم و تربیت کےلیے مراکز قائم فرمائے وہاں مدارس کے قیام کو بھی عملی جامہ پہنایا-دار العلوم غوثیہ عزیزیہ انوارِ حق باھوؒ اور اس کے زیر ِ اہتمام مختلف مدارس کا قیام اس کا عملی ثبوت ہے -

3:قوم کو قرون اولیٰ کی خالص فکر مہیاکر نے کے لیے حضور سلطان العارفین برھان الواصلین حضرت سخی سلطان باھوؒ کی کتب کے تراجم کا انتظام فرمانا اور ماہنامہ مرآۃ العارفین کا اجراء اس سلسلہ کی حسین کڑیاں ہیں -

4:مسئلہ کشمیر کے مستقل اور پائیدار حل کے لیے ہمہ وقت سعی فرماتے رہے لیکن آپؒ نے مملکت خدا داد پاکستان کے آئین وقانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی بجائے حکومتی قوانین کا احترام کرتے ہوئے افواج کے شانہ بشانہ چلنے کو ترجیح دی-اس چیز کاعملی مظاہر ہ آپؒ کے فیضان ِ نظر سے کام کرنے والے ادارے ’’مسلم انسٹیٹیوٹ‘‘ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے-

5:آپؒ کی دور اندیشی کی حالیہ مثال آپؒ کا قائم کردہ کلب ’’محمدیہ حیدریہ سلطانیہ اعوان کلب‘‘ ہے جس نے پچھلے دنوں میں نہ صرف دہلی میں سبز ہلالی پرچم لہرایا اور فتح کے جھنڈے گاڑھے بلکہ انٹرنیشنل سطح پہ ملک وقوم کا نام روشن کیا-

اس کے علاوہ انفرادی اور اجتماعی سطح پہ آپؒ کے قافلہِ عارفین کے شرکاءمیں یہ تبدیلی آئی کہ انہوں نے پاکستانی قوانین کو ہاتھ میں لینے کی بجائے اپنے آپ کو آئین وقانون کے سانچے میں ڈھالا-افواج پاکستان کے ساتھ والہانہ عقیدت ومحبت کا جذبہ پروان چڑھا-دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف طبعی طور پہ نفر ت پیدا ہوئی -

خلاصہ کلام :

اس خطہ کے حصول کا ایک خاص مقصد اور مشن ہے اور وہ ہے ’’اللہ عزوجل او راس کے رسول مکرم (ﷺ) کے احکام کی ترویج واشاعت ‘‘-اگر ہم قیام پاکستان کے مقاصد کا خلاصہ انتہائی مختصر مگر جامع انداز میں بیان کرناچاہیں تو وہ کچھ اس طرح ہے -قیام پاکستان کا مطلب کیا، ’’لاالٰہ الا اللہ‘‘-یعنی اس ملک خداداد پاکستان کے حصول کوا س لیے یقینی بنایا گیا تاکہ ایسے افراد اور معاشرہ تشکیل دیا جاسکے جو خود پہلے ’’لاالہ الااللہ‘‘کی حقیقت اور قرآن وسنت کے تعلیمات کو اپنے قلوب و اجسام پہ نفوذ کرے اور بعد ازاں اس کی دنیا میں ترویج و اشاعت کابندوبست و انتظام کرے-

قیام پاکستان کے تناظر میں جب ہم سیدی ومرشدی بانیٔ اصلاحی جماعت حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ اور آپؒ کی تحریک (اصلاحی جماعت وعالمی تنظیم العارفین ) کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں تو ہم پہ واضح ہوتا ہےکہ آپؒ کا اٹھا یا گیا ہر قدم مبارک امت مسلمہ کی بقاء اور استحکام پاکستان کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے- آپؒ کی زندگی مبارک کا لمحہ لمحہ ’’قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَ نُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِين‘‘ [12] کا عملی مصداق تھا-آپؒ نےاپنی نگاہ کرم، تعلیم و تلقین اور گفتار و کردار سے نوعِ انسانی کوحضور رسالت مآب (ﷺ) کا دیا ہوا پیغام یاد دلایا اور بالخصوص اپنی صحبت میں بیٹھنے کا شرف حاصل کرنے والوں کو ’’فَفِرُوْا اِلَی اللہ‘‘کا درس دیا اورانہیں اس نہج پہ تیار فرمایا تاکہ پاکستان کا حقیقی معنوں میں مفید شہری اور قیام پاکستان کے مقاصد کی صحیح معنوں میں ترجمانی کرسکے - آپؒ ہمیشہ ا س بات پر زور دیتے کہ اصلاح اپنی ذات سے شروع کی جائے اورہر انسان پہلے اپنےآپ پر قرآن وسنت کا نفاذ کرکے ’’اُدْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً‘‘ [13]کا عملی مظہر بنے پھر دوسروں کو اس کی تبلیغ کرے-آپؒ عالمگیر امن کے داعی تھے اور ہمیشہ تفرقہ بازی سے گریز کا درس دیا کرتے تھے-آپ (قدس اللہ سرہ) ملت کے افرادمیں اتحاد و یگانگت پیدا فرما کر ان کو جسدِ واحدکی مانند دیکھنا چاہتے تھے-

قارئین کرام! حسین امتزاج دیکھیں کہ جب قیام پاکستان کی بات ہوئی تب بھی سیدی رسول اللہ(ﷺ) نے لطف وکرم فرما کر قائد اعظم ؒ کو اس کیلیے مامور فرمایا اور جب استحکام پاکستان اور صحیح معنوں میں اسلامی و فلاحی ریاست کی طرف عملی اقدام کی باری آئی تو سیدی ومرشدی بانی ٔ اصلاحی جماعت کاانتخاب فرما کر اس مبارک کام کے لیے مامور فرمایا - آپؒ نے جس منہج پہ عوام الناس کی تربیت فرمائی یہ وہی منہج تھا جس پہ غوث الاعظم پیران پیر دستگیرسیدنا شیخ عبد القادر جیلانی اور سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ نے تربیت فرمائی-قیام پاکستان کے وقت ہرمسلمان کی کامیابی کا راز اسی میں تھا کہ وہ مسند و فضیلت کو چھوڑ کر اور تما م قسم کے مسلکی اختلافات بھلا کر حضرت قائد اعظمؒ کے کاروان میں شامل ہوئے تو آج ملک وقوم کی بقا اسی میں ہے کہ وہ سلطان الفقر (ششم) مخزن بحر معرفت وحقیقت حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی صاحبؒ کے منہج کو سمجھے اور اس پہ عمل پیراہو-

٭٭٭


[1](مسلم یونیورسٹی یونین علی گڑھ کے جلسے سے خطاب، 10 مارچ 1941ء)

[2]( اسلامیہ کالج پشاور،13 جنوری ،1948ء)

[3]( 25 جنوری 1948ء کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب)

[4](ڈاکٹر عاصم فہیم ،ماہنامہ مرآۃ العارفین(انٹرنیشنل)،(اگست،2016ء)، ص:21-22)

[5](پیش گوئی،حضرت نعمت اللہ شاہ ولیؒ ، پبلی کیشنز،مکتبہ نوریہ رضویہ)

[6](الکھ نگری، ممتازمفتی، ص:713 ص:الفیصل ناشران)

[7]( المقاصد الحسنۃ،امام سخاویؒ ص:129،دارالکتب العربی)

[8]( ایس ایچ قادریؒ ،ماہنامہ مرآۃ العارفین(انٹرنیشنل)،(اکتوبر،2015ء)،ص:25)

[9](ساگر، طارق اسماعیل، صاحب لولاک، ایڈیشن پنجم (لاہور،العارفین پبلی کیشنز، 2016ء)،ص:68)

[10]( ایضاً،ص:169)

[11]( الاحزاب:70)’’ سیدھی بات کہو‘‘

[12]( الانعام:162)’’تم فرماؤ بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رب سارے جہان کا‘‘

[13]( البقرۃ:208)’’اسلام میں پورے داخل ہو‘‘

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر