اکل حلال اور صدق مقال : تعلیمات نبویﷺ کے تاکیدی پہلو

اکل حلال اور صدق مقال : تعلیمات نبویﷺ کے تاکیدی پہلو

اکل حلال اور صدق مقال : تعلیمات نبویﷺ کے تاکیدی پہلو

مصنف: مفتی محمد منظور حسین اکتوبر 2022

انسان اگر بنظر تفکر کائنات کی صنعت کاری میں غور کرے تو یہ حقیقت پنہاں نہیں رہتی کہ خالق کائنات نے دنیا کی جملہ مخلوقات کو ایک مکمل و مربوط نظم اور ڈسپلن عطا کیا -ہر چیز اپنے مقررہ قواعد و ضوابط میں رہتے ہوئے ہی زندگی گزارنے کی پابند ہے -بلکہ اگر یوں کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ ہر شے کی تخلیق کے مقصد اور اس کی افادیت سے اسی وقت کامل طور پر بہرہ مند ہوا جاسکتا ہے جب وہ شے اپنے متعین اصولوں اور نظم و ضبط (discipline)پر عمل پیرا ہو -

تمثیلاًعرض ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کے نظم و ضبط کو یوں بیان فرمایا :

’’وَالشَّمْسُ تَجْرِىْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ط ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ ‘‘[1]

’’اور سورج اپنے مقرر رستے پر چلتا رہتا ہے- یہ (خدائے) غالب اور دانا کا (مقرر کیا ہوا) اندازہ ہے‘‘-

یعنی سورج کیلئے یہ متعین نظام ہے کہ وہ اپنے مقررہ مدار پر رہتے ہوئے ہی طلوع و غروب ہوتا ہےاور یہی اس کا ضبط ونظم ہے- بصورت دیگر جیسے ہی وہ اپنے مقررہ راستہ سے ہٹ کر مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہوگا تو از روئے حدیث پاک نظام کائنات تغیر پذیر ہو جائے گا اور قیامت قائم ہو جائے گی -اسی طرح ہم جب آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتے ہیں اور اس کی صنعت میں غور کرتے ہیں تو صانع کائنات اس کے نظم و ضبط کو یوں بیان فرماتا ہے:

’’اَلَّذِىْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا‌ ط مَا تَرٰى فِىْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ‌ ط فَارْجِعِ الْبَصَرَ لاهَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ ‘‘[2]

’’وہ ذات جس نے تخلیق کیا سات آسمانوں کو طبق در طبق (اوپر تلے ) -کیاتو رحمٰن کی خلقت میں کچھ نقص دیکھتا ہے؟ ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھ بھلا تجھ کو (آسمان میں) کوئی شگاف نظر آتا ہے؟‘‘

گویا آسمان کا طبق در طبق ہونا اس کے حسن انتظام اور نظم و ضبط کو واضح کرتا ہے -مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے متصل یہ دعوٰی فرمایا کہ تجھے رحمٰن کی صنعت اور تخلیق میں کوئی تفاوت،نقص یا کمی بیشی نظر نہیں آئے گی-اب اگر زمین کی خلقت اور صنعت میں غور کیا جائے تو اللہ تعالیٰ اس متعلق ارشاد فرماتے ہیں :

’’وَّجَعَلْنَا فِيْهَا رَوَاسِىَ شٰمِخٰتٍ وَّ اَسْقَيْنٰكُمْ مَّآءً فُرَاتًا‘‘[3]

’’اور ہم نے اس میں اونچے اونچے لنگرڈالےاور ہم نے تم کو خوب میٹھا پانی پلایا‘‘-

یعنی زمین کو پہاڑوں کی میخوں پر کھڑا کیا اور ان کے نیچے سے پانی جاری کیا جس سے لوگ سیراب ہو رہے ہیں- اگر پہاڑوں کی میخیں زمین سے ہٹا دی جائیں تو زمین ہلنے لگ جائے اور اس پر بسنے والی مخلوق اپنا سکون تو کیا اپنی جان تک گنوا بیٹھے اور نظم کائنات درہم برہم ہو جائے-اس طرح کی کئی مثالیں قران کریم سے پیش کی جا سکتی ہیں جیسے ہوا، پانی، آگ وغیرہ یہ جب تک اپنی حدود میں چلتے اور بہتے ہیں تو سب کیلئے نفع بخش ہوتے ہیں مگر جب حد سے تجاوز کرتے ہیں تو آندھی، طوفان،سیلاب اور جلانے کے ساتھ ساتھ تباہی اور بربادی کا سبب بنتے ہیں-

اسی طرح اگر شہد کی مکھی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ  اگرچہ دیکھنے میں تو چھوٹی ہے مگر سبق بہت بڑا دیتی ہے کیونکہ وہ ایک خاص نطم و ضبط کے تحت چلتی نظر آتی ہے کہ اللہ نے اس کو خاص راستوں سے آنے جانے، خاص مقامات پر اپنا گھر بنانے اور صاف پھلوں سے غذا حاصل کرنے کا حکم دیا- جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَاَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِىْ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا وَّمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُوْنَ‘‘ [4]

’’اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی کو الہام فرمایا کہ تو پہاڑوں میں گھر بنا اور درختوں اور چھتوں پر ‘‘-

مزید فرمایا:

’’ثُمَّ كُلِىْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِىْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا‌ طيَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِيْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ‌طاِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ‏‘‘[5]

’’اور ہر قسم کے پھل میں سے کھا- اور اپنے رب کے صاف رستوں پر چلی جا کہ تیرے لئے نرم وآسان ہے- اس کے پیٹ سے ایک پینے کی چیز رنگ برنگ نکلتی ہے- اس میں لوگوں (کے کئی امراض) کی شفا ہے- بےشک اہل تفکر کے لیے اس میں بھی نشانی ہے‘‘-

پس ثابت ہوا کہ اگر شہد کی مکھی نظم و ضبط میں رہ کر خدا کے حکم کو تسلیم کرتی ہے تواس کے پیٹ سے نکلنے والا مادہ لوگوں کے لئے شفاء ثابت ہوتا ہے- اگر شہد کی مکھی اپنے نظم حیات کو فراموش کردے تو اس کے بطن سے نکلنے والا رس شفا نہیں بلکہ وبا بن جائے -

ان تمام مثالوں سے یہ بات واضح ہوئی کہ جملہ مخلوقات کے نظام حیات کی بقا کیلئے ایک مخصوص نظم و ضبط مقرر کیا گیا ہے جس سے کسی بھی صورت دستبردار ہونے کا واحد نتیجہ نظام کائنات کی تباہی اور فساد ہے-اس لئے جس طرح زمین اور آسمان کی بقا کا ایک نظام متعین ہے تواسی طرح زمین و آسمان کے مابین رہنے والے انسانوں کو سفر حیات گزارنے کیلئے بھی قرآن و سنت سے ایک خاص عطا کیا گیا ہے جس پر کاربند رہنے میں ہی انسانیت کا حسن اور نظام حیات کی بقا ہے بلکہ اسی میں انسان کی دنیوی و اخروی زندگی کی فلاح بھی پوشیدہ ہے-

اسی نصاب اور نظم و ضبط پر عمل پیرا ہو کر انسان زندگی کے ہر پہلو کے ساتھ ساتھ اپنے وجود کےہر عضو کو سنوار کر اپنے تن کو ایک عظیم محل بنا سکتا ہے جسے رحمانی حجرہ قرار دیا جائے-جیسا کہ سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:

ایہہ تن رب سچے دا حجرہ وچ پا فقیرا جھاتی ھو

اس شاندار محل کے دو اہم اور بنیادی مقامات پر قران کریم اور بالخصوص حدیث نبوی(ﷺ) کے تاکیدی پہلوکو پیش کرنے کی کو شش کرتے ہیں -ایک کا تعلق بطن سے اور دوسرے کا لسان سے یعنی اکل حلال اور صدق مقال-

یہاں پر ایک بنیادی بات ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ اکل حلال کیلئے کسب حلال لازم ہے-کسب حلال کو کئی نقطہ نظر سے دیکھا جا سکتا ہے ،لیکن یہاں دو طریق کی وضاحت کی گئی ہے-

معاشرتی اعتبار سے کسب حلال کے نتیجہ میں آدمی کو معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اگر اسے خالصتاً دینی اور مذہبی نگاہ سے دیکھیں تو وہ مخلوق کے ساتھ ساتھ خالق کی نگاہ میں بھی محبوب ترین بندہ قرار پاتا ہے جیسا کہ  کہا گیا ہے کہ ’’الکاسب حبیب اللہ ‘‘[6]گویا وہ خالق و مخلوق کے ہاں محبوب بن جاتا ہے-

گوکہ پیٹ بھرنے کے لئے مختلف طریقوں سے کمائی کی جاسکتی ہے مثلاً جائز اور ناجائز -اگر انسان جائز طریقے سے کمائی کرکے کھائے تو اکل حلال اور ناجائز طریقے سے کماکر کھائے تو حرام- اس کی بے شمار مثالیں قرآن و سنت میں موجود ہیں-

حلال کمائی میں نوید اور حرام کمائی میں وعید

ایک مقام پر حضور نبی کریم (ﷺ)نے ایسے شخص سے متعلق نوید سنائی جس نے مسلسل چالیس دن حلال کا لقمہ کھایا اور حرام سے خود کو محفوظ کیا -

’’قال النبی (ﷺ): مَنْ أَكَلَ الحَلاَلَ أَرْبَعِينَ يَوْماً نَوَّرَ الله قَلْبَهُ وَأَجْرَى يَنَابِـيعَ الحِكْمَةِ مِنْ قَلْبِهِ عَلَى لِسَانِهِ ‘‘[7]

’’حضور نبی کریم (ﷺ)نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے چالیس دن تک رزق حلال کھایا اللہ تعالیٰ اس کے قلب کو منور فرما دےگا اور حکمت کے چشموں کو اس کے دل سے اس کی زبان پر جاری فرما دےگا‘‘-

اس حدیث پاک میں تین بشارتیں دی گئی ہیں:(1) تنویر قلب، (2) چشمہ حکمت اور  (3) قلب کے راستے طہارت لسانی-یہ تو 40 دن کے رزق حلال کی برکت ہے دائمی حلال کھانے کی برکات کی تو اندازے سے باہر ہوں گی-

حضرت سعد (رضی اللہ عنہ)نے سیدی رسول اللہ (ﷺ) کی بارگاہ میں عرض کی کہ یا رسول اللہ(ﷺ)آپ اللہ تعالیٰ سے میرے مستجاب الدعوات ہونے کا سوال فرمائیے تو حضور نبی کریم (ﷺ)نے ارشاد فرمایا:

’’أَطِبْ طُعْمَتَكَ تُسْتَجَبْ دَعْوَتَكَ‘‘[8]

’’تو اپنے کھانے کو پاک (حلال)کرلے تیری دعا قبول کی جائے گی‘‘-

گویا دعاؤں کی مستجابی کا نسخہ اکسیر اکل حلال ہے:

’’عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ (ﷺ): إِنَّ اللهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا وَأَنَّ اللَّهَ أَمَرَ المؤْمنينَ بِمَا أمرَ بِهِ المرسَلينَ فَقَالَ: (يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ واعْمَلوا صَالحا) وَ قَالَ: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ) ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ: يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَ مَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَ غُذِّيَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ؟‘‘[9]

’’حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)سے روایت ہے کہ رسول اللہ  (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:بے شک اللہ پاک ہے اور وہ صرف پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جس چیز کے متعلق رسولوں کو حکم فرمایا اسی چیز کے متعلق ہی مومنوں کو حکم فرمایا تو پس فرمان باری تعالیٰ ہے:  رسولوں کی جماعت! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو اور فرمایا: ’’اےایمان والو! ہم نے جو پاکیزہ چیزیں تمہیں عطا کی ہیں ان میں سے کھاؤ‘‘- پھر آپ نے اس آدمی کا ذکر فرمایا جو دُور دراز کا سفر طے کرتا ہے پراگندہ بال اور خاک آلود ہے، آسمان کی طرف اپنے ہاتھ پھیلائے دعا کرتا ہے: اے میرے رب! اے میرے رب حالانکہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام اور اسے حرام کی غذا دی گئی تو ایسے شخص کی دعا کیسے قبول ہو؟‘‘

اس حدیث پاک میں درج ذیل نکات کا ذکر ہے:

v     مطلق پاکیزگی کا ذکر

v     لقمہ حلال کھانے کے بعد اپنی عبادت اور بندگی کا ذکر

v     اہل ایمان کو انبیاء (علیھم السلام) کی پیروی میں رہ کر حلال اور پاکیزہ کھانے کی تلقین فرمائی

v     حرام کھا کر دعا کی قبولیت کی توقع فضول ہے-

توجہ رہے! محض حرام کے لقمہ کی ہی بات نہیں بلکہ کھانا، پینا، پہننا اور باقی تمام اقسام کی حرام غذائیں دعا کو قبولیت سے محروم کر دیتی ہیں-

بلکہ دوسرے مقام پر اتنی سخت وعید فرمائی گئی کہ آدمی دہل جاتا ہے کہ صرف دعا ہی کی عدم قبولیت کی بات نہیں بلکہ فرائض ونوافل جیسی عبادت کی قبولیت بھی روک دی جاتی ہے-جیسا کہ فرمانِ نبوی (ﷺ)ہے :

حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ)سے روایت ہے کہ سیدی رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایاکہ:

’’إِنَّ لله مَلَكاً عَلَى بَـيْتِ المَقْدِسِ يُنَادِي كُلَّ لَيْلَةٍ: مَنْ أَكَلَ حَرَاماً لَمْ يُقْبَلْ مِنْهُ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ‘‘[10]

’’اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس پر ایک فرشتہ کو معمور فرمایا جو ہر رات یہ ندا لگاتا ہے کہ :جس نے حرام میں سے کھایا اس کا نہ کوئی نفل قبول کیا جائے گا نہ ہی کوئی فرض‘‘-

پہلی حدیث پاک میں تو پورے لباس کا ذکر ہواہے اس حدیث پاک میں اس سے بھی زیادہ وعید فرمائی گئی کہ اگردس درہم کے لباس میں ایک درہم بھی حرام شامل ہوا تو جب تک وہ لباس جسم پر موجود رہے گا نماز قبول نہیں ہو گی-

حضور نبی کریم(ﷺ) نے ارشاد فرمایا کہ:

’’مَن اشْتَرَى ثَوْباً بِعَشَرَةِ دَرَاهِمَ وَفِي ثَمَنِهِ دِرْهَمٌ حَرَامٌ لَمْ يَقْبَلِ الله صَلاَتَهُ مَا دَامَ عَلَيْهِ مِنْهُ شَيْءٌ‘‘[11]

’’جس نے بھی دس درہم کے عوض کوئی کپڑا خریدا اور اس کے مال میں ایک درہم حرام کا تھا تو جب تک اس کپڑے کا کوئی حصہ اس انسان کے بدن پر ہوگا اللہ تعالیٰ اس کی نماز کو کبھی قبول نہیں فرمائےگا‘‘-

اگر عمیق نظری سے احادیث مبارکہ کا مطالعہ کیا جائے تو آدمی ورطۂ حیرت میں چلا جاتا ہے کہ اعمال صالحہ کی قبولیت میں رزق حلال کا اتنا بڑا عمل دخل ہے- جیسا کہ سیدی رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا:

’’العِبَادَةُ عَشَرَةُ أَجْزَاءٍ: تِسْعَةٌ مِنْهَا فِي طَلَبِ الحَلاَلِ‘‘[12]

’’عبادت کے کل دس اجزاء ہیں جن میں سے نو اجزاء کا تعلق طلب حلال سے ہے‘‘-

اگر رزق میں سود کی آمیزش ہو جائے تو اس پر سخت وعید فرمائی گئی ہے -آقا کریم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا کہ:

’’دِرْهِمٌ مِنْ رِباً أَشَدُّ عِنْدَ الله مِنْ ثَلاَثِينَ زِنْيَةً فِي الإِسْلاَمِ‘‘[13]

’’مال ِسود کا ایک درہم اللہ تعالیٰ کے ہاں دین اسلا م میں 30 مرتبہ زنا کرنے سے بھی زیادہ سخت جرم ہے‘‘-

قرآن و سنت کے عملی پیکر ہر دور میں نمایاں نظر آتے ہیں اور تاریخ کے اوراق کا وہ نمایاں ورق ہوتے ہیں جن کے بارے میں علامہ محمد اقبال فرماتے ہیں:

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

انہی ذوات قدسیہ میں سیدنا صدیق اکبر (رضی اللہ عنہ) کی ذات گرامی بھی ہے جن کے تقوٰی کی شہادت اللہ پاک نے  قرآن  کریم میں یوں ارشاد فرمائی:

’’اُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى‌طلَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ عَظِيْمٌ‘‘[14]

’’وہ ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کیلئے پرکھ لیا ہے ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے‘‘-

آپ(رضی اللہ عنہ)کے تقوٰی اور پارسائی کو اختلافِ الفاظ کے ساتھ امام بخاری اور امام غزالیؒ نے یوں ذکر فرمایا ہے کہ:

’’سیدنا صدیق اکبر(رضی اللہ عنہ)نے اپنے غلام کی کمائی سے دودھ نوش فرمایا- پھر اپنے غلام سے اس متعلق سوال کیا کہ یہ دودھ کس مال سے خریدا تو اس غلام نے کہا: میں نے ایک قوم کیلئے عمل کہانت (یعنی نجومیوں کا سا عمل) کیا تھا انہوں نے اس کے بدلہ مجھے جو مال دیا اس میں سے مَیں نے یہ دودھ خریدا تھا ؛

’’فأدخل أصابعه في فيه وجعل يقيء حتى ظننت أن نفسه ستخرج‘‘[15]

’’سیدنا ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) نے اپنی انگلی اپنے منہ میں ڈالی اور قے یعنی الٹی کردی حتی کہ راوی فرماتے ہیں مجھے گمان ہوا کہ عنقریب آپ کی جان نکل جائے گی‘‘-

صوفیاء کرام کے ہاں بھی تقویٰ اور پارسائی اتنا اہم عمل ہے کہ عملی زندگی میں انہوں نے اس کے اوپر کبھی سودا نہیں کیا- جیسا کہ حضرت سفیان ثوری (رضی اللہ عنہ)کے فرمان سے واضح ہے کہ:

’’من أنفق من الحرام في طاعة الله كان كمن طهر الثوب النجس بالبول والثوب النجس لا يطهره إلا الماء، و الذنب لا يكفره إلا الحلال‘‘[16]

’’جس نےاللہ کی اطاعت میں حرام مال کو خرچ کیا تو وہ ایسے ہیں کہ گویا اس نے ناپاک کپڑے کو پیشاب کے ساتھ پاک کیا اور ناپاک کپڑے کو سوائے پانی کے کوئی شے پاک نہیں کرسکتی اور گناہ کو سوائے (اکل) حلال کے کوئی چیز نہیں مٹا سکتی‘‘-

صدق مقال:

1-زبان ایک ایسی حقیقت ہے جسے نہ تو جھٹلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کا انکار کیا جا سکتا ہے کیونکہ پورے وجود میں یہ ایک ایسا لطیف مقام ہے کہ جس کو غور و فکر کے بعد کبھی تمام اعضاء کے سردار قلب یعنی دل سے کبھی پہلے پاتے ہیں اور کبھی بعد- یعنی دل نے جس چیز کا مشاہدہ کیا زبان اس کا اقرار کرتی نظر آتی ہے اور پورے کا پورا دین اسی کے گرد گھومتا نظر آتا ہے- گویا ’’اقرار باللسان و تصدیق بالقلب‘‘ کی عملی تفسیر کا یہاں نظارہ کیا جا سکتا ہےلیکن اگر کسی مقام پے زبان کو پھسلتا دیکھو تو جان لینا کہ ہلاکت کی سب سے بڑی وادی آپ کا مقدر بن چکی ہے-کیونکہ کفر و شرک کے کلمات بھی اسی زبان سے ادا ہوتے ہیں جو انسان کی تباہی و بربادی کا سبب بنتے ہیں- کائنات کی سب سے بڑی حقیقت کا اگر زبان اقرار کرے اور دل اس کی تصدیق کرے تو اسی اقرار کے نتیجے میں اکل حلال کی طرح صدق مقال بھی انسان کو محبوبِ خدا بنا دیتی ہے کیونکہ سب سے بڑا سچ زبان کے ذریعے ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کے اقرار سے ادا کیا جاتا ہے-

جیسا کہ ارشادنبوی (ﷺ)ہے:

’’ قولو ا لا الہ الا اللہ تفلحوا‘‘[17]

’’تم کہو اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں فلاح پاؤ گے‘‘-

گویا یہی کلمہ بندے کو خدا کی معرفت کے ساتھ ساتھ اس کی قربت کے گُر بھی سکھا تا ہے اور اس کو محبوبِ خدا بھی بناتا ہے-حتی کہ بعض اوقات انسان اپنے کسی کلمے کو محض ایک معمولی  جملہ سمجھتا ہے مگر اسے کیا خبر وہ اسے اس کی قربت کے باغات میں سے کس کیاری تک لے کر جاتا ہے- جیسا کہ صحیح بخاری شریف کی روایت ہے :

’’عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا، ‏‏‏‏‏‏يَرْفَعُهُ اللهُ بِهَا دَرَجَاتٍ‘‘[18]

’’حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ  حضور نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا: بندہ اللہ کی رضا مندی کے لیے ایک بات زبان سے نکالتا ہے اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اسی کی وجہ سے اللہ اس کے درجے بلند کردیتا ہے‘‘-

جبکہ اسی طرح ایک دوسرا آدمی ایک ایسا کلمہ ادا کرتا ہے جس کے نتیجے میں وہ جہنم کی ایک ایسی وادی میں جا گرتا ہے کہ اسے اس کی خبر بھی نہیں ہوتی جو کہ اسی حدیث پاک کے دوسرے حصے میں مذکور ہے :

‏‏‏‏‏‏’’وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا، ‏‏‏‏‏‏يَهْوِي بِهَا فِي جَهَنَّمَ‘‘

’’اور ایک دوسرا بندہ ایک ایسا کلمہ زبان سے نکالتا ہے جو اللہ کی ناراضگی کا باعث ہوتا ہے اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم میں چلا جاتا ہے‘‘-

اس کی تائید ایک اور حدیث پاک سے بھی ہوتی ہے:

قال معاذ بن جبل: قلت: يا رسول الله أنؤاخذ بما نقول؛ فقال (ﷺ): ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يا ابْنَ جَبَلٍ وَهَلْ يُكِبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إلا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ؟[19]

’’حضرت معاذ بن جبل (رضی اللہ عنہ)سے روایت ہے کہ میں حضور نبی کریم (ﷺ)  کی بارگاہ میں عرض کی یا رسول اللہ (ﷺ)کیا ہماری گفتگو پر بھی مواخذہ کیاجائے گا؟ تو حضور (ﷺ) نے ارشاد فرمایا کہ: اے ابن جبل تیری ماں تجھ پر روئے یہ بات بطور شفقت فرمائی بے فائدہ اور فضول گفتگو ہی لوگوں کو جہنم میں اوندھے منہ گرائے گی‘‘-

آپ (ﷺ)نے تعلیم امت کیلئے حفظ لسان میں اس قدر احتیاط  فرما کر امت کو درس عطا فرمایا کہ زبان کی حفاظت ایسے کی جاتی ہےاور ساتھ ہی حضرت عبداللہ ثقفی (رضی اللہ عنہ) کے ذریعے ہر انسان پر واضح کیا کہ اگر بات ہی کرنی ہے تو صرف یار کی کرو ورنہ خاموش رہو یہی صدق مقال ہے-

حدیث پاک میں ہے کہ:

’’و قال عبد الله الثقفي: قلت يا رسول الله حدثني بأمر أعتصم به فقال (ﷺ): قُلْ رَبِّـيَ الله ثُمَّ اسْتَقِمْ» قلت: يا رسول الله ما أخوف ما تخاف عليَّ؟ فأخذ بلسانه (ﷺ) وقال: هذا‘‘[20]

’’حضرت عبداللہ الثقفی (رضی اللہ عنہ) روایت فرماتے ہیں کہ میں نےعرض کی یا رسول اللہ (ﷺ) مجھے کسی ایسی چیز کا حکم فرمائیں جسے میں مضبوطی سے تھام لوں - حضور نبی کریم (ﷺ)نے ارشاد فرمایا:تم کہو میرا رب اللہ ہے پھر اس پر استقامت اختیار کرو-مَیں نے عرض کی یا رسول اللہ (ﷺ)آپ مجھ پر سب سے زیادہ کس چیز کا خوف رکھتے ہیں ؟توآپ(ﷺ)نے اپنی زبان مبارک کو پکڑ کر ارشاد فرمایا کہ ’’اس کا‘‘-

حدیث پاک میں  بیان ’’قُلْ رَبِّـيَ الله ثُمَّ اسْتَقِمْ‘‘ سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ استقامت کا عملی طریق کیا ہے؟ اس کا جواب بھی خود حضور نبی کریم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا کہ استقامت ایمانی استقامت قلبی پر اور استقامت قلبی زبان کی استقامت پر موقوف ہےاور اسی پر نجات کا انحصار ہے-

’’وقال أنس بن مالك: قال (ﷺ): لا يَسْتَقِيمُ إيمانُ العَبْدِ حَتّٰى يَسْتَقِيمَ قَلْبُهُ ولا يَسْتَقِيمُ قَلْبُهُ حَتّٰى يَسْتَقِيمَ لِسَانُهُ، وَلا يَدْخُلُ الجَنَّةَ رَجُلٌ لا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ‘‘[21]

’’حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ سیدی رسول  اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا کہ بندے کا ایمان اس وقت تک استقامت پر قائم نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کا قلب درست نہ ہوجائے اور اس کا قلب اس وقت تک درست نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی زبان استقامت اختیار نہ کرے اور وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کی لغویات سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو ‘‘-

حضرت سعید بن جبیر (رضی اللہ عنہ) نے مرفوعاً حضور نبی کریم (ﷺ) سے روایت فرمایا کہ آپ (ﷺ)نے ارشاد فرمایا کہ:

«إذا أَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ أَصْبَحَتِ الأَعْضَاءُ كُلُّهَا تُذَكِّرُ اللِّسَانَ أَيْ تَقُولُ اتَّقِ الله فِينا فَإنَّكَ إنِ اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا وَإنِ اعْوَجَجْتَ اعْوَجَجْنَا‘‘[22]

’’جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو اس کے تمام اعضاء زبان سے کہتے ہیں کہ ہمارے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا کیونکہ اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی درست رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہوجائیں گے‘‘-

دوسری  روایت میں ہے:

’’وعن ابن مسعود أنه كان على الصفا يلبـي ويقول: يا لسان قل خيراً تغنم واسكت عن شر تسلم من قبل أن تندم، فقيل له يا أبا عبد الرحمن أهذا شيء، تقوله أو شيء سمعته؟ فقال: لا بل سمعت رسول الله (ﷺ) يقول: «إنَّ أَكْثَرَ خَطَايا ابْنِ آدَمَ فِي لِسَانِهِ‘‘[23]

’’حضرت ابن مسعود (رضی اللہ عنہ)سے روایت ہے کہ آپ صفا کے پہاڑ پر تلبیہ پڑھ رہے تھے اور فرما رہے تھے: اے زبان بھلائی کی بات کہہ فائدہ اٹھائے گی اور اس سے پہلے کہ تجھے ندامت اٹھانی پڑے بری بات کہنے سے خاموش رہ سلامت رہے گی-آپ سے سوال کیا گیا کہ اے ابو عبد الرحمٰن! یہ بات آپ اپنے سے کہہ رہے ہیں یا آپ نے کسی سے سنی ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ میں نے حضور نبی کریم (ﷺ) کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا کہ ابن آدم کی اکثر خطائیں اس کی زبان سے سرزد ہوتی ہیں ‘‘-

مومن اور منافق کی زبان کا واضح فرق بھی بیان کیا گیا کہ حضور نبی کریم (ﷺ)نے ارشاد فرمایا کہ:-

’’إنَّ لِسَانَ المُؤْمِنِ وَرَاءَ قَلْبِهِ فَإذا أَرَادَ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِشَيءٍ تَدَبَّرَهُ بِقَلْبِهِ ثُمَّ أَمْضَاهُ بِلِسَانِهِ، وَإنَّ لِسَانَ المُنَافِقِ أَمَامَ قَلْبِهِ، فَإذا هَمَّ بِشَيءٍ أَمْضَاهُ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَتَدَبَّرْهُ بِقَلْبِهِ‘‘[24]

’’مومن کی زبان اس کے دل کے پیچھے ہوتی ہے جب وہ کسی چیز کے متعلق گفتگو کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے بارے میں اپنے دل میں غور کرتا ہے پھر اسے زبان پر لاتا ہے-منافق کی زبان اس کے دل کے آگے ہوتی ہے جب وہ کسی چیز کا ادارہ کرتا ہے تو اسے اپنی زبان پر لے آتا ہے اور اس کے بارے میں اپنے دل میں غور و فکر نہیں کرتا‘‘-

سیدی رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا کہ :

’’ مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيه‘‘[25]

’’انسان کے اسلام کی خوبیوں میں سےسب بڑی خوبی یہ ہے کہ لا یعنی  چیزوں کو چھوڑ دے‘‘-

یعنی بے معنیٰ چیزوں اور فضول باتوں کو ترک کر دے-کیونکہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ رب کریم نے ملائکہ کرام کی یہ ڈیوٹی لگائی ہے کہ وہ ہر انسان کی بات کو اس کے نامہ اعمال میں محفوظ رکھے-جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ ‘‘[26]

’’وہ زبان سے کوئی بات نہیں نکالتامگر یہ کہ ایک محافظ فرشتہ اس کے پاس تیار بیٹھاہوتا ہے‘‘-

لہٰذا انسان کو ہمیشہ سچ بولنا چاہیےکیونکہ سچ اسے اپنے خالق و مالک کی بارگاہ اقدس سے صدیقین کی معیت و قربت کا شرف بخشے گا اور کامیابی و کامرانی اس کا مقدر بنے گی- اگر انسان سچ سے روگردانی کرے گا تو خود کو کذابوں کی صف میں کھڑا پائے گا-

حضرت عبد اللہ (رضی اللہ عنہ)سے روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَی الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَی الْجَنَّةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّی يُکْتَبَ صِدِّيقًا وَ إِنَّ الْکَذِبَ يَهْدِي إِلَی الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَی النَّارِ وَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَکْذِبُ حَتَّی يُکْتَبَ کَذَّابًا‘‘[27]

’’سچ نیکی کا راستہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے کر جاتی ہے اور انسان سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ عند اللہ سچا لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ برائی کا راستہ دکھاتا ہے اور برائی دوزخ کی طرف لے جاتی ہے اور انسان جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے‘‘-

حضرت ابوالحوراء شیبان سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن علی ؓ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ (ﷺ) سے کیا چیز یاد کی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ (ﷺ) کا یہ فرمان یاد کیا ہے کہ:

’’دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيْبَةٌ ‘‘[28]

’’اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے اور اسے اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے، سچائی دل کو مطمئن کرتی ہے اور جھوٹ دل کو بےقرار کرتا اور شک میں مبتلا کرتا ہے ‘‘-

گویا صدق بھی ذکر الٰہی کی ایک صورت ہے جس سے سکون قلب ملتا ہے -

حضرت عبادہ بن صامت (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ حضور نبی (ﷺ) نے فرمایا:

’’اِذَا ائتُمِنْتُم لِي سِتًّا مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَضْمَنُ لَكُمُ الْجَنَّةَ: اصْدُقُوا إِذَا حَدَّثْتُمْ وَأَوْفُوا إِذَا وَعَدْتُمْ وأدوا إِذا ائتمتنم واحفظوا فروجكم وغضوا أبصاركم وَكفوا أَيْدِيكُم‘‘[29]

’’تم مجھے اپنی طرف سے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو تو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں: جب تم بات کرو تو سچ بولو، جب وعدہ کرو تو پورا کرو، جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اسے ادا کرو، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو، اپنی نظریں نیچی رکھو اور اپنے ہاتھوں کو (ظلم سے) روکو‘‘-

 حضرت عبداللہ بن عمرو (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ:

 ’’قِيلَ لِرَسُولِ اللهِ (ﷺ) أَيْ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: كُلُّ مَخمومُ الْقلب صَدُوق اللِّسَان‘‘[30]

’’رسول اللہ (ﷺ) سے عرض کیا گیا، کون سا آدمی سب سے بہتر ہے؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا:  ہر صاف دل سچ بولنے والا ‘‘-

یاد رہے کہ جھوٹے شخص سے ملائکہ بھی نفرت کرتے ہیں-جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر(رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ  حضور نبی کریم(ﷺ) نے  ارشاد فرمایا:

’’إِذَا كَذَبَ الْعَبْدُ تَبَاعَدَ عَنْهُ الْمَلَكُ مِيلًا مِنْ نَتْنِ مَا جَاءَ بِهِ‘‘[31]

’’جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے فرشتہ اس سے ایک میل دور بھاگتا ہے‘‘-

ہر اہل ایمان کو اللہ رب العزت نے صادقین کی معیت کا حکم فرمایا ہے کہ:

’’ کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ‘‘[32]

’’سچے لوگوں کے ساتھ  ہوجاؤ‘‘-

انسان کے راہ راست پر استقامت کی دلیل اس کی زبان  مہیا کرتی ہےاور بندے کی  مقبولیت اور عدم قبولیت کا اندازہ بھی زبان سے لگایا جا سکتا ہے-جب زبان اپنی صداقت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوتو پھر یہ حرام کے ایک لقمہ کو بھی پیٹ تک پہنچانے میں مدد نہیں کرتی کیونکہ حرام کا ایک لقمہ بھی انسانی دعا کو 40 دن تک قبولیت سے محروم کر دیتا ہے- جیسا کہ  امام سیوطی علیہ الرحمہ نے ’’جامع الاحادیث‘‘ میں حضرت انس (رضی اللہ عنہ) سے روایت فرمایا ہے کہ:

’’فان الرجل يرفع اللقمة الى فيه من حرام فما يستجاب له دعوة اربعين يوما‘‘

’’بے شک آدمی حرام کا ایک لقمہ بھی منہ میں لیتا ہے تو اس کی چالیس دن تک دعا قبول نہیں ہوتی‘‘-

گویا اکل حلال اور صدق مقال دونوں میں زبان کا کردار موجود ہےاور صادقین کی صحبت کے فیض و تربیت سے دونوں کو درست سمت کی رہنمائی نصیب ہوتی ہے اور ان کی زندگی کا نصب العین بھی یہی ہےکہ انسان کے بطن و باطن کی اصلاح فرما کر ظاہر کو بھی اس قابل بنایا جائے کہ یہ مخلوق اپنے خالق ومالک کو پسند آ جائے-

٭٭٭


[1](یٰس:38)

[2](الملک:3)

[3]( المرسلت:27)

[4](النحل:68)

[5](النحل:68)

[6]البیضاوی، قاضی شھاب الدین احمد بن محمد بن عمر الخفاجی،المتوفی 1069،حاشیۃ الشھاب علی التفسیر البیضاوی  (بیروت :دارلکتب العلمیہ ،ایڈیشن  2 سن 2018)،ص319

[7]الشیخ ابی طالب المکی محمد بن علی بن عطیۃ ،المتوفی 386، قوت القلوب فی معالمۃ المحوب ،جلد 3، کتاب تفصیل الحلال و الحرام و ما بینھما من الشبھات ،الفصل الثامن و الاربعون(القاھرہ : مکتبہ  دارلتراث)، ص1712

[8]الغزالی،الامام ابوحامد محمد بن محمد ،المتوفی 505ھ،احیاء علوم الدین ،جلد دوم،کتاب الحلال و الحرام،باب فی فضیلۃ الحلال و مذمۃ الحرام (کوئٹہ :مکتبہ رشیدیہ)،ص:111

الشیخ ابی طالب المکی محمد بن علی بن عطیۃ ،المتوفی 386، قوت القلوب فی معالمۃ المحوب ،جلد 3، کتاب تفصیل الحلال و الحرام و ما بینھما من الشبھات ،الفصل الثامن و الاربعون(القاھرہ : مکتبہ  دارلتراث)، ص:1714

[9]القشیری،ابوالحسن مسلم بن الحجاج،صحیح مسلم، کتاب الزکوۃ ،باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیب وتربیتھا ،رقم الحدیث:1015 (بیروت :دار الکتب العلمیہ ،ایڈیشن ہشتم 1437ھ )،ص:364

[10]الہیتمی، ابوالعباس احمد بن محمد بن علی ابن حجر ،المتوفی 974ھ، الزواجر عن اقتراف الکبائر ،جلد  اول ،باب المناھی من البیوع (بیروت: دارلکتب العلمیہ)، ص:332

[11]التبریزی، العلامہ الشیخ ولی الدین ابی عبداللہ محمد بن عبد اللہ الخطیب،المتوفی 741ھ، مشکوۃ المصابیح،جلد اول، کتاب البیوع ،باب الکسب و طلب الحلال ،رقم :2789(بیروت :دارلکتب العلمیہ)، ص :518  

[12]الغزالی،الامام ابوحامد محمد بن محمد ،المتوفی 505ھ،احیاء علوم الدین ،جلد دوم،کتاب الحلال و الحرام،باب فی فضیلۃ الحلال و مذمۃ الحرام (کوئٹہ :مکتبہ رشیدیہ)،ص:112

[13]احمد بن حنبل ،المتوفی 241ھ ،المسند،جلد 12 ، حدیث عبد اللہ بن حنظلہ، رقم:21854،( قاھرہ:دارلحدیث) ،ص373 

[14](الحجرات:3)

[15]البخاری، محمد بن اسماعیل ،الجامع الصحیح ، کتاب مناقب الانصار،باب ایام الجاھلیۃ ،رقم الحدیث:3842، (بیروت:دارالکتب العلمیہ،ایڈیشن نہم  ،1438ھ)،ص:696

[16]الغزالی،الامام ابوحامد محمد بن محمد ،المتوفی 505ھ،احیاء علوم الدین ،جلد دوم،کتاب الحلال و الحرام،باب فی فضیلۃ الحلال و مذمۃ الحرام (کوئٹہ :مکتبہ رشیدیہ)،ص:113

[17]احمد بن حنبل ،المتوفی 241ھ ،المسند،جلد 9، حدیث ربیعۃ بن عباد الدیلیؒ، رقم:15965،( قاھرہ:دارلحدیث) ،ص:562

[18]البخاری، محمد بن اسماعیل ،الجامع الصحیح ، کتابالرقائق ،باب حفظ اللسان،رقم الحدیث:6478، (بیروت:دارالکتب العلمیہ،ایڈیشن نہم، 1438ھ)،ص:1182

[19]الترمذی، ابو عیسی محمد بن عیسی بن سورہ ،المتوفی 697ھ،سنن الترمذی ،کتاب الایمان،باب ما جاء فی حرمۃ الصلاۃ، رقم: 6212، (بیروت: دارلکتب العلمیہ )ص617

[20]الدارمی ، الامام الحافظ عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی السمرقندی ،المتوفی 255ھ،سنن الدارمی ،جلد دوم ،کتاب الرقائق ،باب فی حفظ اللسان (قاہرہ: دارالحدیث )، ص:181

[21]البیہقی ، الامام ابی بکر احمد بن الحسین ،المتوفی 458ھ،شعب الایمان ،ج 1،(بیروت:دارلکتب العلمیہ)،ص:41 

[22]الترمذی، ابو عیسی محمد بن عیسی بن سورہ ،المتوفی 697ھ،سنن الترمذی ،کتاب الزھد،باب ما جاء فی حفظ اللسان، رقم:2407، (بیروت: دارلکتب العلمیہ )ص:572

[23]البیہقی ، الامام ابی بکر احمد بن الحسین ،المتوفی 458ھ،شعب الایمان ،ج 4، باب فی حفظ اللسان ، فصل فی فضل السکوت عن کل ما لا یعنینہ (بیروت:دارلکتب العلمیہ)،ص:241

[24]الغزالی،الامام ابوحامد محمد بن محمد ،المتوفی 505ھ،احیاء علوم الدین ،جلد ،کتاب آفات اللسان ، (کوئٹہ :مکتبہ رشیدیہ)،ص:135

[25]الترمذی، ابو عیسی محمد بن عیسی بن سورہ ،المتوفی 697ھ،سنن الترمذی ،کتاب الزھد،باب ما جاءمن تکلم بالکلۃ لیضحک بہ الناس، رقم:2317، (بیروت:دارلکتب العلمیہ )ص:555

[26]سورۃ ق:18

[27]صحیح مسلم ،رقم 2607،کتاب  البر و الصلۃ ، باب قبح الکذب و حسن الصدق و فضلہ ،ص1007

[28]الترمذی، ابو عیسی محمد بن عیسی بن سورہ ،المتوفی 697ھ،سنن الترمذی ، ابواب صفۃ القیامۃ و الرقائق و الورع، رقم:2518، (بیروت: دارلکتب العلمیہ )ص:595

[29]التبریزی، العلامہ الشیخ ولی الدین ابی عبداللہ محمد بن عبد اللہ الخطیب،المتوفی 741ھ، مشکوۃ المصابیح،جلد دوم، کتاب الاداب ،الفصل الثالث ،رقم :4870(بیروت :دارلکتب العلمیہ)، ص :197

[30]القزوینی ، الحافظ ابی عبد اللہ محمد بن یزید ،المتوفی 741ھ، سنن ابن ماجہ،کتاب الزھد ،باب الورع و التقوی،رقم:4216(بیروت:دارالکتب العلمیہ )،ص684

[31]الترمذی، ابو عیسی محمد بن عیسی بن سورہ ،المتوفی 697ھ،سنن الترمذی ،کتاب البر و الصلۃ،باب ما جاء فی الصدق و الکذب، رقم:1972، (بیروت:دارلکتب العلمیہ )ص:481

[32](التوبہ:119)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر