قرآن پاک کا اولین مقصد

قرآن پاک کا اولین مقصد

قرآن پاک کا اولین مقصد

مصنف: محمدشاہدخان مئی 2018

اللہ تعالیٰ نے اس بے مثال کائنات کو اپنی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ سے تخلیق فرمایا اور اس شاہکار کائنات کی تخلیق کے بعد انسان کو اس دنیائے فانی میں بھیجا اورا س کی رشد وہدایت کے لئے متعدد انبیاء و رسل (علیھم السلام) کو مبعوث فرمایا اور اپنے برگزیدہ انبیاء و رسل کرام (علیھم السلام) پر کتب و صحائف نازل فرمائے تاکہ ان کی امت اس کتابِ ہدایت سے رہنمائی حاصل کرکے رب کی معرفت حاصل کرسکیں اورجس وقت حضرت آدم علیہ السلام کا اس دنیا میں ہبوط ہوا تو اسی وقت رب تعالیٰ نے اولادِ آدم کے لیے جامع ومانع قاعدہ وکلیہ بیان فرمایا:

’’فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَـلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَھُمْ یَحْزَنُوْنَ‘‘[1]

 

’’پھر اگر آئے تمہارے پاس میری طرف سے (پیغام) ہدایت تو جس نے پیروی کی میری ہدایت کی انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اورنہ وہ غمگین ہوں گے‘‘-

یعنی اس آیت مبارکہ میں واضح ترین اشارہ اور حکم صادر فرمایا کہ میری طرف سے جو بھی پیغامِ ہدایت موصول ہو تو اس کی اتباع اور پیروی لازمی کی جائے- لہذا اللہ تعالیٰ نے مختلف اوقات میں مختلف اقوام وملل کے پاس اپنے گوناگوں خصوصیات کے حامل انبیاء و رسل کرام (علیھم السلام) کو مبعوث فرمایا تاکہ یہ برگزیدہ نفوسِ قدسیہ اللہ کے بندوں کواللہ سے ملانے کا عظیم کام سرانجام دیں پائیں کیونکہ جب ہم تاریخِ ادیان و مذاہب کا بنظرِ غائر مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اس دنیا ئے عالم میں مختلف النوع عقائد ونظریات رکھنے والے لوگ نظرآتے ہیں جو کہ مختلف ’’پرستشوں‘‘ میں ملوث ہوتے ہیں- مذہبی علمِ بشریات کے نقطہ نظر (Religious Anthropological view) سے ہر معاشرے میں لوگ اپنے علاقائی خدوخال اورتہذیب و تمدن کے مطابق مظاہر پرستی (Nature Worship) میں گرفتار ہوتے ہیں-

کوئی قوم سورج کو سب سے بڑادیوتا تسلیم کرتی ہے تو کوئی قوم چاند کو سب سے بڑا خدا مانتی ہے- کوئی قوم ستاروں وسیاروں کو خدائی درجہ دے بیٹھے ہیں تو کوئی شجر وحجر،بحرو بر،پہاڑوں،جانوروں،پرندوں،درندوں،چرندوں یعنی ہر شے میں خدا کے حلول (Incarnation) کو تصور کرتے ہیں- لہذا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی کامل رہنمائی کے لئے اپنے پسندیدہ بندوں کو منتخب فرمایا تاکہ ان لوگوں کو ’’صراطِ سقیم‘‘سے نکال کر’’صراطِ مستقیم‘‘ کی طرف رہنمائی کی جائے اور مجموعی پر ’’ظلمات ‘‘ سے نکال کر اصل’’نور‘‘ کی طرف مائل وقائل کیا جائے جس کے بارے میں رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:

’’الٓرٰقف تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ‘‘[2]

 

’’الف لام را (حقیقی معنی اﷲ اور رسول(ﷺ)ہی بہتر جانتے ہیں)، یہ (برگزیدہ) کتاب اور روشن قرآن کی آیتیں ہیں‘‘-

ایک اورمقام پراللہ تعالیٰ ارشادفرماتاہے:

’’یَّھْدِیْ بِہِ اللہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَیُخْرِجُھُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ بِاِذْنِہٖ وَیَھْدِیْھِمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ‘‘[3]

 

’’اﷲ اس کے ذریعے ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے پیرو ہیں، سلامتی کی راہوں کی ہدایت فرماتا ہے اور انہیں اپنے حکم سے (کفر و جہالت کی) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان و ہدایت کی) روشنی کی طرف لے جاتا ہے اور انہیں سیدھی راہ کی سمت ہدایت فرماتا ہے‘‘-

یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے اور دیگر بے راہ روی کی چیزوں سے منہ موڑ کر راہِ راست پر آیا جائے اورتاریکیوں کے چنگل سے نکل کر روشنی کی شاہراہ پر قدم رکھاجائے تاکہ انسان منزلِ مقصود کو پاسکے-اللہ تعالیٰ نے اس انسان کی ہدایت کے لئے متعدد انبیاء کرام مبعوث فرمائے اور اس دور کی امت کی رہنمائی اور ہدایت کے لئے الہامی کتب و صحائف نازل فرمائے جو صرف اسی دور کی امت کے لئے خاص تھے- یعنی توریت،زبور، انجیل جو نبیوں پر نازل کی گئی تو صرف اسی خاص دور کے لئے ہدایت کا سرچشمہ تصور کی جاتی ہیں-پھر رب تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب بنام قرآن پاک نازل فرمایا جو حضرت محمد الرسول اللہ (ﷺ)پر نازل ہوا-آپ (ﷺ) جو کہ خاتم النبیین کے تاج سے سرفراز کیے گئے لہذا آپ پر نازل ہونے والی کتاب بھی قیامت تک آنے والی تمام قوموں اورلوگوں کے لئے ہے- اس میں امتِ دعوت کے لئے ہدایت ہے اورامتِ اجابت کے لئے بھی ہدایت کا خزینہ ہے اور ماضی میں ترقی و فلاح و بہبود پانے والی قوموں کا بھی ذکر خیر ہے اور ان کے زوال کے اصل اسباب بھی وضاحت سے بیان کئے گئے ہیں-یعنی عروج و زوال کا فلسفہ واضح طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ جو قومیں اپنے خالقِ کائنات کی اطاعت کرتی ہیں وہ فلاح پا جاتی ہیں ورنہ ان کو عبرت ناک انجام کا سامنا کرنا پڑتا ہے-دین اسلام انسانیت کو راہ راست پر لانے اور ان کے مسائل حل کرنے کا داعی ہے لہذا قرآن پاک ایک ایسی غیر محرف،ترمیم واضافہ سے پاک کتاب ہے کہ جس طرح یہ کتاب نازل ہوئی تھی اسی طرح اپنی اصل حالت میں موجود ہے اور نوعِ انسانیت کے گھمبیر مسائل کا کافی و شافی حل پیش کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس بے مثال خوبیوں کی حامل کتاب کے بارے میں فرماتا ہے:

’’یٰٓـایُّھَا النَّاسُ قَدْ جَآئَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَآئٌ لِّمَا فِیْ الصُّدُوْرِ وَھُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ‘‘[4]

 

’’اے لوگو! بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت اور ان (بیماریوں) کی شفاء آگئی ہے جو سینوں میں (پوشیدہ) ہیں اور ہدایت اور اہلِ ایمان کے لیے رحمت (بھی)‘‘-

اس کتاب سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’ھٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَھُدًی وَّمَوْعِظَۃٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ‘‘[5]

 

’’یہ قرآن لوگوں کے لیے واضح بیان ہے اور ہدایت ہے اور پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ہے‘‘-

’’لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِہِمْ عِبْرَۃٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِط مَا کَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰی وَلٰـکِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ وَتَفْصِیْلَ کُلِّ شَیْئٍ وَّہُدًی وَّرَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ‘‘[6]

 

’’بے شک ان کے قصوں میں سمجھداروں کے لیے عبرت ہے، یہ (قرآن) ایسا کلام نہیں جو گھڑ لیا جائے بلکہ (یہ تو) ان (آسمانی کتابوں) کی تصدیق ہے جو اس سے پہلے (نازل ہوئی) ہیں اور ہر چیز کی تفصیل ہے اور ہدایت ہے اور رحمت ہے، اس قوم کے لیے جو ایمان لے آئے‘‘-

       

قرآن پاک رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں نازل فرمایا گیا، جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰی وَالْفُرْقَانِ‘‘[7]

 

’’رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں‘‘-

اس سے معلوم ہوا کہ ہمیں قرآن پاک کی نہ صرف زیادہ سے زیادہ تلاوت کرنی چاہیے بلکہ اس کتاب ہدایت و رحمت سے اپنے شب و روز اسلامی تعلیمات و احکامات کے مطابق ڈھالنے کی طرف توجہ مبذول کرنی چاہیے-اس کی سب سے بنیادی وجہ یہ ہے کہ دین اسلام تمام تر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق جامع رہنمائی فرماتا ہے-مذہبی، جسمانی، روحانی،اخلاقی،تعلیمی،معاشی،معاشرتی، سیاسی،سماجی، سفارتی،عسکری اور جمالیاتی حس (Aesthetical Sense) کے بارے میں ہدایت اورلائحہ عمل (Line of Action) فراہم کرنے کی بھرپور صلاحت رکھتا ہے اورہر شے کا ذکرِ خیر قرآن پاک میں موجود ہے-اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’ وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْئٍ وَّہُدًی وَّرَحْمَۃً وَّبُشْرٰی لِلْمُسْلِمِیْنَ‘‘[8]

 

’’اور ہم نے آپ پر وہ عظیم کتاب نازل فرمائی ہے جو ہر چیز کا بڑا واضح بیان ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے‘‘-

لہٰذا قرآن پاک کا زیادہ سے زیادہ فہم حاصل کیا جائے، اِسے سمجھا جائے اور پورے خلوص سے اس پہ عمل پیرا ہوا جائے -اس کی شب و روز تلاوت کی جائے تاکہ دین وآخرت میں کامیابی و کامرانی ہمارا مقدر بنے-کہیں ایسا نہ ہو کہ بروز قیامت حضرت محمد مصطفےٰ احمد مجتبیٰ خاتم النبیین (ﷺ) رب کی بارگاہ میں عرض کریں:

’’وَقَالَ الرَّسُوْلُ یٰـرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہْجُوْرًا‘‘[9]

 

’’اور رسولِ (اکرم (ﷺ) عرض کریں گے: اے رب! بے شک میری قوم نے اس قرآن کو بالکل ہی چھوڑ رکھا تھا‘‘-

اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآن پاک کی تلاوت اور اس کا فہم حاصل کرنے کے بعد اس کے احکامات کو شاہراہ زندگی پر لاگو کیا جائے کیونکہ یہی قرآن پاک کا اولین مقصد ہے - بقول شخصے:

’’قرآن مجید اپنے لئے ہے نہ کہ شیلف پر رکھنے کے لئے‘‘-

 

“Quran is for self, not for shelf”.

٭٭٭


[1](البقرۃ:38)

[2](الحجر:1)

[3](المائدہ:16)

[4](یونس:57)

[5](آل عمران:138)

[6](یوسف:111)

[7](البقرۃ:185)

[8](النحل:89)

[9](الفرقان:30)

اللہ تعالیٰ نے اس بے مثال کائنات کو اپنی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ سے تخلیق فرمایا اور اس شاہکار کائنات کی تخلیق کے بعد انسان کو اس دنیائے فانی میں بھیجا اورا س کی رشد وہدایت کے لئے متعدد انبیاء و رسل (﷩) کو مبعوث فرمایا اور اپنے برگزیدہ انبیاء و رسل کرام (﷩) پر کتب و صحائف نازل فرمائے تاکہ ان کی امت اس کتابِ ہدایت سے رہنمائی حاصل کرکے رب کی معرفت حاصل کرسکیں اورجس وقت حضرت آدم علیہ السلام کا اس دنیا میں ہبوط ہوا تو اسی وقت رب تعالیٰ نے اولادِ آدم کے لیے جامع ومانع قاعدہ وکلیہ بیان فرمایا:

’’فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَـلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَھُمْ یَحْزَنُوْنَ‘‘[1]

 

’’پھر اگر آئے تمہارے پاس میری طرف سے (پیغام) ہدایت تو جس نے پیروی کی میری ہدایت کی انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اورنہ وہ غمگین ہوں گے‘‘-

یعنی اس آیت مبارکہ میں واضح ترین اشارہ اور حکم صادر فرمایا کہ میری طرف سے جو بھی پیغامِ ہدایت موصول ہو تو اس کی اتباع اور پیروی لازمی کی جائے- لہذا اللہ تعالیٰ نے مختلف اوقات میں مختلف اقوام وملل کے پاس اپنے گوناگوں خصوصیات کے حامل انبیاء و رسل کرام (﷩) کو مبعوث فرمایا تاکہ یہ برگزیدہ نفوسِ قدسیہ اللہ کے بندوں کواللہ سے ملانے کا عظیم کام سرانجام دیں پائیں کیونکہ جب ہم تاریخِ ادیان و مذاہب کا بنظرِ غائر مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اس دنیا ئے عالم میں مختلف النوع عقائد ونظریات رکھنے والے لوگ نظرآتے ہیں جو کہ مختلف ’’پرستشوں‘‘ میں ملوث ہوتے ہیں- مذہبی علمِ بشریات کے نقطہ نظر (Religious Anthropological view) سے ہر معاشرے میں لوگ اپنے علاقائی خدوخال اورتہذیب و تمدن کے مطابق مظاہر پرستی (Nature Worship) میں گرفتار ہوتے ہیں-

کوئی قوم سورج کو سب سے بڑادیوتا تسلیم کرتی ہے تو کوئی قوم چاند کو سب سے بڑا خدا مانتی ہے- کوئی قوم ستاروں وسیاروں کو خدائی درجہ دے بیٹھے ہیں تو کوئی شجر وحجر،بحرو بر،پہاڑوں،جانوروں،پرندوں،درندوں،چرندوں یعنی ہر شے میں خدا کے حلول (Incarnation) کو تصور کرتے ہیں- لہذا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی کامل رہنمائی کے لئے اپنے پسندیدہ بندوں کو منتخب فرمایا تاکہ ان لوگوں کو ’’صراطِ سقیم‘‘سے نکال کر’’صراطِ مستقیم‘‘ کی طرف رہنمائی کی جائے اور مجموعی پر ’’ظلمات ‘‘ سے نکال کر اصل’’نور‘‘ کی طرف مائل وقائل کیا جائے جس کے بارے میں رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:

’’الٓرٰقف تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ‘‘[2]

 

’’الف لام را (حقیقی معنی اﷲ اور رسول(ﷺ)ہی بہتر جانتے ہیں)، یہ (برگزیدہ) کتاب اور روشن قرآن کی آیتیں ہیں‘‘-

ایک اورمقام پراللہ تعالیٰ ارشادفرماتاہے:

’’یَّھْدِیْ بِہِ اللہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَیُخْرِجُھُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ بِاِذْنِہٖ وَیَھْدِیْھِمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ‘‘[3]

 

’’اﷲ اس کے ذریعے ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے پیرو ہیں، سلامتی کی راہوں کی ہدایت فرماتا ہے اور انہیں اپنے حکم سے (کفر و جہالت کی) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان و ہدایت کی) روشنی کی طرف لے جاتا ہے اور انہیں سیدھی راہ کی سمت ہدایت فرماتا ہے‘‘-

یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے اور دیگر بے راہ روی کی چیزوں سے منہ موڑ کر راہِ راست پر آیا جائے اورتاریکیوں کے چنگل سے نکل کر روشنی کی شاہراہ پر قدم رکھاجائے تاکہ انسان منزلِ مقصود کو پاسکے-اللہ تعالیٰ نے اس انسان کی ہدایت کے لئے متعدد انبیاء کرام مبعوث فرمائے اور اس دور کی امت کی رہنمائی اور ہدایت کے لئے الہامی کتب و صحائف نازل فرمائے جو صرف اسی دور کی امت کے لئے خاص تھے- یعنی توریت،زبور، انجیل جو نبیوں پر نازل کی گئی تو صرف اسی خاص دور کے لئے ہدایت کا سرچشمہ تصور کی جاتی ہیں-پھر رب تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب بنام قرآن پاک نازل فرمایا جو حضرت محمد الرسول اللہ (ﷺ)پر نازل ہوا-آپ (ﷺ) جو کہ خاتم النبیین کے تاج سے سرفراز کیے گئے لہذا آپ پر نازل ہونے والی کتاب بھی قیامت تک آنے والی تمام قوموں اورلوگوں کے لئے ہے- اس میں امتِ دعوت کے لئے ہدایت ہے اورامتِ اجابت کے لئے بھی ہدایت کا خزینہ ہے اور ماضی میں ترقی و فلاح و بہبود پانے والی قوموں کا بھی ذکر خیر ہے اور ان کے زوال کے اصل اسباب بھی وضاحت سے بیان کئے گئے ہیں-یعنی عروج و زوال کا فلسفہ واضح طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ جو قومیں اپنے خالقِ کائنات کی اطاعت کرتی ہیں وہ فلاح پا جاتی ہیں ورنہ ان کو عبرت ناک انجام کا سامنا کرنا پڑتا ہے-دین اسلام انسانیت کو راہ راست پر لانے اور ان کے مسائل حل کرنے کا داعی ہے لہذا قرآن پاک ایک ایسی غیر محرف،ترمیم واضافہ سے پاک کتاب ہے کہ جس طرح یہ کتاب نازل ہوئی تھی اسی طرح اپنی اصل حالت میں موجود ہے اور نوعِ انسانیت کے گھمبیر مسائل کا کافی و شافی حل پیش کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس بے مثال خوبیوں کی حامل کتاب کے بارے میں فرماتا ہے:

’’یٰٓـایُّھَا النَّاسُ قَدْ جَآئَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَآئٌ لِّمَا فِیْ الصُّدُوْرِ وَھُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ‘‘[4]

 

’’اے لوگو! بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت اور ان (بیماریوں) کی شفاء آگئی ہے جو سینوں میں (پوشیدہ) ہیں اور ہدایت اور اہلِ ایمان کے لیے رحمت (بھی)‘‘-

اس کتاب سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’ھٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَھُدًی وَّمَوْعِظَۃٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ‘‘[5]

 

’’یہ قرآن لوگوں کے لیے واضح بیان ہے اور ہدایت ہے اور پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ہے‘‘-

’’لَقَدْ کَانَ فِیْ قَصَصِہِمْ عِبْرَۃٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِط مَا کَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰی وَلٰـکِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ وَتَفْصِیْلَ کُلِّ شَیْئٍ وَّہُدًی وَّرَحْمَۃً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ‘‘[6]

 

’’بے شک ان کے قصوں میں سمجھداروں کے لیے عبرت ہے، یہ (قرآن) ایسا کلام نہیں جو گھڑ لیا جائے بلکہ (یہ تو) ان (آسمانی کتابوں) کی تصدیق ہے جو اس سے پہلے (نازل ہوئی) ہیں اور ہر چیز کی تفصیل ہے اور ہدایت ہے اور رحمت ہے، اس قوم کے لیے جو ایمان لے آئے‘‘-

       

قرآن پاک رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں نازل فرمایا گیا، جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰی وَالْفُرْقَانِ‘‘[7]

 

’’رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں‘‘-

اس سے معلوم ہوا کہ ہمیں قرآن پاک کی نہ صرف زیادہ سے زیادہ تلاوت کرنی چاہیے بلکہ اس کتاب ہدایت و رحمت سے اپنے شب و روز اسلامی تعلیمات و احکامات کے مطابق ڈھالنے کی طرف توجہ مبذول کرنی چاہیے-اس کی سب سے بنیادی وجہ یہ ہے کہ دین اسلام تمام تر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق جامع رہنمائی فرماتا ہے-مذہبی، جسمانی، روحانی،اخلاقی،تعلیمی،معاشی،معاشرتی، سیاسی،سماجی، سفارتی،عسکری اور جمالیاتی حس (Aesthetical Sense) کے بارے میں ہدایت اورلائحہ عمل (Line of Action) فراہم کرنے کی بھرپور صلاحت رکھتا ہے اورہر شے کا ذکرِ خیر قرآن پاک میں موجود ہے-اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’ وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْئٍ وَّہُدًی وَّرَحْمَۃً وَّبُشْرٰی لِلْمُسْلِمِیْنَ‘‘[8]

 

’’اور ہم نے آپ پر وہ عظیم کتاب نازل فرمائی ہے جو ہر چیز کا بڑا واضح بیان ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے‘‘-

لہٰذا قرآن پاک کا زیادہ سے زیادہ فہم حاصل کیا جائے، اِسے سمجھا جائے اور پورے خلوص سے اس پہ عمل پیرا ہوا جائے -اس کی شب و روز تلاوت کی جائے تاکہ دین وآخرت میں کامیابی و کامرانی ہمارا مقدر بنے-کہیں ایسا نہ ہو کہ بروز قیامت حضرت محمد مصطفےٰ احمد مجتبیٰ خاتم النبیین (ﷺ) رب کی بارگاہ میں عرض کریں:

’’وَقَالَ الرَّسُوْلُ یٰـرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہْجُوْرًا‘‘[9]

 

’’اور رسولِ (اکرم (ﷺ) عرض کریں گے: اے رب! بے شک میری قوم نے اس قرآن کو بالکل ہی چھوڑ رکھا تھا‘‘-

اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآن پاک کی تلاوت اور اس کا فہم حاصل کرنے کے بعد اس کے احکامات کو شاہراہ زندگی پر لاگو کیا جائے کیونکہ یہی قرآن پاک کا اولین مقصد ہے - بقول شخصے:

’’قرآن مجید اپنے لئے ہے نہ کہ شیلف پر رکھنے کے لئے‘‘-

 

“Quran is for self, not for shelf”.

٭٭٭



[1](البقرۃ:38)

[2](الحجر:1)

[3](المائدہ:16)

[4](یونس:57)

[5](آل عمران:138)

[6](یوسف:111)

[7](البقرۃ:185)

[8](النحل:89)

[9](الفرقان:30)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر