اعرابِ قرآن کے تاریخی و ارتقائی مراحل کا مطالعہ

اعرابِ قرآن کے تاریخی و ارتقائی مراحل کا مطالعہ

اعرابِ قرآن کے تاریخی و ارتقائی مراحل کا مطالعہ

مصنف: مولانامفتی محمدمنظورحسین مئی 2018

یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ تمام تراسلامی تعلیمات کا سر چشمۂ فیض اور انسان کے جسمانی و روحانی اصلاح و فلاح کا ماخذ جمیع علوم اسلامیہ و عربیہ کا مرجع و مرکز مسلمانوں کی ترقی و تمدن کا راز سر بستہ عالم کی تاریکی و جہالت کو فنا کر دینے والا آفتابِ درخشاں نوع انسان کو سعادت ابدی اور نجات سرمدی کا منزل مقصود تک پہچانے والا ہادی برحق قرآن مجید فرقان حمید ہے اور اس کی درست تفہیم اور حقیقی ابلاغ اور عملی افکار کو روشناس کرانے کے لئےخاتم النبیین سید المرسلین آقا دو عالم (ﷺ) کو مبعوث فرمایا گیا تاکہ انسانیت کماحقہ اس سے سیراب ہوسکے جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’یٰٓاَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ‘‘[1]

’’اے (برگزیدہ) رسول! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے (وہ سارالوگوں کو) پہنچا دیجیے‘‘-

آپ (ﷺ) کی ذاتِ اقدس قرآن کریم کی عملی تفسیر ہے- جوں جوں وقت گزرتا گیا اسی قدر اسلام کا پودا پھلتا پھولتا گیا او ر اس کا دائرہ کار بڑھتا گیا اور یہ صرف  عرب تک ہی نہیں بلکہ ہند و عجم ، افریقہ و یورپ میں اس کی مقبولیت عام ہوتی چلی گئی تو اس کی حقیقی اور درست تفہیم کی ضرورت پیش آنے لگی اور اس کے کامل اور مکمل نسخہ کتاب کی صورت میں پیش کرنے کی حاجت  محسوس کی گئی اور اس کے اعراب کی بھی ضرورت بڑھتی گئی تاکہ ایسے عجمی جو عربی لغت کو نہیں جانتے وہ درست اعراب کے ساتھ اس کی تفہیم حاصل کریں تو پھر اس عظیم کام کو سرانجام دیا گیا اور اعرابِ قرآن پر مستقل طور پر آئمہ تفاسیر نے اور علماء کرام نے کتب تصانیف فرمائیں-امام جلال الدین سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص کتاب اللہ کا مطالعہ کرتا ہےاور اس کے اسرار و رموز کو معلوم کرنا چاہتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ ہرلفظ کے صیغہ اور اس کے محل پر غور کرے یعنی دیکھے کہ مبتداء ہے یا خبر، فاعل ہے یا مفعول، کلام کے ابتدائی حصوں میں سے ہے یا کسی سابقہ کلام کا جواب، اسی طرح دیگر متعلقات کے  معلوم کرنے کی سعی کرے اور اس پر پہلا فرض ہے کہ اعراب سے پہلے جس کلمہ کو مفرد یا مذکر قرار دینے کا ارادہ کرتا ہے اس کے معنی کو سمجھ لے کیونکہ اعراب معنیٰ کی شاخ ہے-[2]

کاتب قرآن اور حکم مبارک :

علامہ نیشا پوریؒ لکھتے ہیں کہ:

’’رسول اللہ (ﷺ) کے عہد میں قرآن جمع کر لیا گیا تھا کیونکہ جب بھی کوئی آیت نازل ہوتی رسول اللہ (ﷺ) کاتبِ قرآن کو یہ حکم دیتے کہ اس آیت کو فلاں سورۃ میں فلاں جگہ لکھ دو اور جب بھی کوئی سورۃ نازل ہوتی تو رسول اللہ (ﷺ) کاتب کو یہ حکم دیتے کہ اس کو فلاں سورۃ کے بعد لکھو‘‘[3]-

کاتبین قرآن کی تعداد:

ڈاکٹر وھبہ زحیلیؒ لکھتے ہیں کہ:

’’نبی کریم (ﷺ) سے سن کر صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم)قرآن مجید لکھ لیتے تھے اور مشہور یہ ہے کہ 25 صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) کاتب وحی تھے اور تحقیق یہ ہے کہ وہ  60 صحابہ کرام ؓتھے-ان میں زیادہ مشہور خلفائے اربعہ حضرت ابی بن کعب، حضرت زید بن ثابت، حضرت معاویہ بن ابی سفیان، حضرت یزید بن ابی سفیان، حضرت مغیرہ بن شعبہ، حضرت زبیر بن عوام، حضرت خالد بن ولید (رضی اللہ عنہ)  ہیں-پھر علامہ زحیلی نے ابو عبید کے حوالہ ان حفاظ صحا بہ کا ذکر کیا ہے جن کا ہم ابھی ذکر کر چکے ہیں اور یہ لکھا ہے کہ زیادہ مشہور حفاظ حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت ابی بن کعب، حضرت ابو دردا، حضرت معاذ بن جبل، حضرت زید بن ثابت، حضرت ابن مسعود اور حضرت ابو موسی اشعری (رضی اللہ عنھم ) تھے-[4]

رسول اللہ (ﷺ) کے عہد میں قرآن مجید کو ایک مصحف میں  اس لئے جمع نہیں کیا گیا کہ نزول وحی کا عمل آپ (ﷺ) کی حیاتِ مبارکہ میں مسلسل جاری تھا اور ہر وقت کسی نئی وحی کے نازل ہونے کا امکان تھا البتہ قرآن مجید کی تمام آیات کپڑے کے ٹکروں پر، ہڈیوں پر، پتھروں پر اور پتوں سے صاف کی ہوئی کھجور کی ٹہنیوں پر لکھی ہوتی تھیں پھر جب حضرت ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہ) کے عہد میں جنگ یمامہ کے دوران بہت سے حفاظِ قرآن شہید ہوگئے تب قرآن مجید کو پہلی بار ایک مصحف میں جمع کرنے کی تحریک ہوئی-

اعراب کالکھنا:

صاحبِ تفسیرَین ، شارحِ صحیحین علامہ غلام رسول سعیدی صاحبؒ حافظ ابن کثیرؒ کہ حوالہ سے لکھتے ہیں کہ:

’’حضرت زید، حضرت ابن الزبیر، حضرت سعید اور حضرت عبد الرحمٰن(رضی اللہ عنھم)،قرآن مجید لکھنے کے لئے بیٹھے اور جب ان کا اس میں اختلاف ہوتا کہ اس لفظ کو کس لغت پر لکھا جائے تو وہ حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ)کی طرف رجوع کرتے، مثلاً تابوت میں اختلاف ہوا کہ اس لفظ کو کس لغت پر لکھا جائے آیا اس کو’’ہ‘‘ کے ساتھ ’’تابوہ‘‘ یا ’’ت‘‘ کے ساتھ ’’تابوت‘‘  لکھا جائے-حضرت زید بن ثابت نے کہا یہ تابوہ ہے اور تین قریشی صحابہ نے کہا کہ یہ تابوت ہے تب انہوں نے حضرت عثمان (﷜) کی طرف رجوع کیا-حضرت عثمان (﷜)نے فرمایا اس کو لغت قریش پر لکھو کیونکہ قرآن لغتِ قریش پر نازل ہوا ہے‘‘[5]-

سات حرفوں پر نازل ہونے کی تحقیق:

امام بخاریؒ لکھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’قال اقرانی جبریل علی حرف، قلم ازل استزیدہ حتی انتھی الی سبعۃ احرف‘‘[6]

’’جبریل نے مجھے ایک حرف پر قرآن پڑھایا میں نے ان سے رجوع کیا اور مسلسل زیادتی طلب کرتا رہا اور وہ حروف زیادہ کرتے رہے حتی کہ سات حرفوں پر انتہاء ہوگئی‘‘-

امام بخاریؒ نے امیر المؤمنین حضرت عمر (رضی اللہ عنہ)سے روایت کیا کہ رسول اللہ(ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’ کذالک انزلت ان ھذا القرآن انزل علی سبعۃ احرف فاقرؤوا ما تیسر منہ ‘‘[7]

’’رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا یہ قرآن پاک سات حرفوں پر نازل ہوا ہے جو حرف تم کو آسان لگے اس پر قرآن پڑھو‘‘-

سات لغات اور سات قبیلے:

اکثر اہل علم مثلاً سفیان بن عینیہ، عبد اللہ بن وہب، ابن جریر طبری، ابو جعفر طحاویؒ وغیرہم کا نظریہ ہے کہ سات حرفوں سے مراد ہے سات مختلف الفاظ سے متقارب معانی مثلاً اقبل، تعال، اور ھلم، ان سب کا معنی ہے آؤ اور اذھب، اسرع اور عجل ان کا معنی ہے جاؤ-حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب ’’سورۃ الحدید کی آیت نمبر13‘‘، ’’لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا ‘‘ میں’’ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امھلوْنَا ‘‘، ’’ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اخروْنَا‘‘، ’’ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارقبونا‘‘پڑھتے تھے اور حضرت ابی بن کعب(﷜) ’’سورۃ بقرہ کی آیت :20‘‘، ’’کلما اضاء لھم مشوا فیہ‘‘ میں ’’مروافیہ‘‘ پڑھتے تھے اور ’’سعوافیہ‘‘ پڑھتے تھے اور ’’صحیح بخاری و صحیح مسلم‘‘ میں ہے کہ:

’’انما ھذہ الاحرف فی الامر الواحدلیس یختلف فی حلال ولا حرام‘‘[8]

’’ ان تمام حروف کا معنی واحد ہے اور ان میں حلال و حرام کا کوئی فرق نہیں ہے‘‘-

ایک قوم نے یہ کہا کہ یہ سات لغات مضر میں ہیں کیونکہ حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ)نے کہا ہے کہ قرآن لغتِ مضر پر نازل ہوا ہے اور انہوں نے یہ کہا کہ قریش، کنانہ، اسد، ھذیل، تمیم، ضبہ اور قیس سب مضر کے قبائل ہیں اور یہ سات لغا ت انہی مراتب پر ہیں البتہ مضر میں بعض شواذ بھی ہیں کیونکہ قیس میں مؤنث کی ضمیرخطاب میں ’’کاف‘‘ کی  جگہ’’شین‘‘ لاتے ہیں ’’جَعَلَ رَبُّکِ تَحْتَکِ سَرِیًّا‘‘[9]کو یوں پڑھتے ہیں کہ’’جَعَلَ ربش تَحْتَش سریا‘‘اور ’’تمیم  الناس‘‘ کو ’’النات‘‘ اور ’’اکیاس‘‘ کو ’’اکیات‘‘ پڑھتے ہیں-قرآن مجید کو اس طرح پڑھنا جائز نہیں ہے-[10]

’’سات حرفوں سے مراد قرآن مجید کے سات معانی ہیں اور یہ ہیں، امر، نہی،وعد، وعید، قصص، مجادلہ اور امثال-ابن عطیہ نے کہا کہ یہ قول ضعیف ہے کیونکہ ان عنوانا ت کو حروف نہیں کہتے نیز اس پر اجماع ہے کہ حلال حرام اور کسی معنی کے تغیر میں وسعت کی گنجائش نہیں ہے‘‘-[11]

نبی کریم (ﷺ)کے عہد مبارک میں کتابت میں قرآن مجید کو جمع کیا گیا اور تمام سورتوں اور آیتوں کو مرتب کر کے اپنی اپنی جگہوں پر لکھ دیا گیا امام بخاریؒ روایت کرتے ہیں ک:

’’حضرت زید بن ثابت (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے (رضی اللہ عنہ) میری طرف یہ پیغام بھیجا کہ تم رسول اللہ (ﷺ) پر نازل ہونے والی وحی کو لکھتے تھے لہذا اب تم قرآن مجید کو جمع کرو‘‘[12]-

نقطے اور اعراب لگانے کی تاریخ اور تحقیق:

شروع میں جب قرآن مجید کو لکھا جاتا تھا تو قرآن مجید کے حروف پر نقطے نہیں لگائے جاتے تھے اور نہ حرکات و سکنات اور اعراب لگائے جاتے تھے اور نہ رموز و اوقاف تھے کیونکہ اہل عرب اپنی زبان اور محاورہ کی مدد سے نقطوں اور حرکات و سکنات اور اعراب کے بغیر بالکل صحیح قرآن پڑھ لیتے تھے اور انہیں کسی فقرے کو ملانے یا اس پر وقف کرنے کیلئے رموز و اوقاف کی ضرورت نہ تھی وہ اہل زبان تھے اور ان تمام چیزوں سے مستغنٰی تھے اور حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ) نے جو مصحف تیار کروایا تھا وہ بھی ان تمام چیزوں سے معریٰ تھا-پھر جیسے جیسے اسلام پھیلتا گیا اور غیر عرب لوگ مسلمان ہوتے گئے اور وہ اہل زبان نہ ہونے کی وجہ سے قرأت میں غلطیاں کرنے لگے تو پھر قرآن مجید کی کتابت میں ان تمام چیزوں کا اہتمام  اور التزام کیا گیا-سب سے پہلے قرآن مجید کے حروف پر نقطے لگائے گئے پھر حرکات و سکنات اور اعراب لگائے گئے-پھر قرآن مجید کو صحیح پڑھنے کیلئے قرأت اور تجوید کے قوائد مقرر کئے گئے اور عام لوگوں کی سہولت کے لئےقرآن کریم کی آیتوں پر رموز و اوقا ف کو لکھا گیا-

علامہ قرطبیؒ لکھتے ہیں کہ:

’’عبد الملک بن مروان نے مصحف کے حروف کو متشکل کرنے اور ان پر نقطے لگانےکا حکم دیا اس نے اس کام کے لئے حجاج بن یوسف کو شہر واست میں فارغ کردیا اس نے بہت کوشش سے اس کام کو انجام دیا اور اس میں اعراب کا اضافہ کیا-اس وقت حجاج عراق کا گورنر تھا اس نے حسن اور یحی بن یعمر کے ذمہ یہ کام لگایا- اس کےبعد واست میں ایک کتاب لکھی جس میں قرأت کے متعلق مختلف روایت کو جمع کیا بڑے عرصہ تک لوگ اسی کتاب پر عمل کرتے رہے حتی کہ ابن مجاہد نے قرأت میں ایک کتاب لکھی-زبیدی نے کتاب الطبقات میں مبرد کے حوالہ سے یہ لکھا ہے کہ جس شخص نے سب سے پہلے مصحف کے حروف پر نقطے لگائے وہ ابو الاسود الدؤلیٰ (المتوفی:69ھ) ہیں اور یہ بھی ذکر کیا ہے کہ ابن سرین کے پاس ایک مصحف تھا جس پر یحٰی بن یعمر نے نقطے لگائے تھے‘‘-[13]

علامہ ابن خلقانؒ لکھتے ہیں ابو الاسود الدولیٰ کا پورا نام ہے عمر بن سفیان بن جندل بن یعمر بن حلس بن نفاثہ بن عدی بن الدیل بن بکر الدیلی یہ وہ شخص ہیں جنہوں نے سب سے پہلے علم نحو کو وضع کیا- حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے ان کو بتایا کہ کلام کی کل تین قسمیں ہیں اسم، فعل اور حرف جیسے ’’کل فاعل مرفوع ، کل مفعول منصوب اور کل مضاف الیہ مجرور‘‘ اور فرمایا اس بنیاد پر تم قوائد تحریر کرو-

ایک قول یہ ہے کہ ابو الاسود عراق کے گورنر زیاد کے بچوں کو پڑھاتا تھا ایک دن وہ زیاد کے بچوں کے پاس گیا اور کہا اللہ امیر کی خیر کرے میں دیکھتا ہوں کہ عربوں کے ساتھ بکثرت عجم مخلوط ہو گئے ہیں اور ان کی زبان متغیر ہوگئی ہے کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں ان کے لئے ایسے قوائد تحریر کروں-جس کی بنا پر وہ درست طریقہ سے عربی بولیں زیاد نے کہا نہیں-پھر ایک دن ایک شخص نے زیاد سے کہا :’’توفی ابانا وترک بنون‘‘زیاد نے حیرت سے کہا ’’توفی ابانا وترک بنون‘‘ (کہنا چاہیے تھا ’’توفی ابونا وترک بنین‘‘ ہمارا باپ فوت ہوگیا اور اس نے بیٹے چھوڑے ہیں گویا اس نےعربی زبان میں گرائمر کی غلطی کی)-تب زیاد نے کہاابو الاسود کو بلاؤ جب وہ آیا تو اس سے کہا لوگوں کے وہ قوائد تحریر کرو جن سے میں نے پہلے تم کو منع کیا تھا -

ایک قول یہ ہے کہ زیاد نے از خود ابو الاسود سے اس علم کی فرمائش کی لیکن اس نے زیاد سے معذرت کر لی پھر ایک دن ابو الاسود نے ایک شخص سے سنا وہ سورۃ توبہ کی آیت غلط پڑھ رہا تھا:

’’اَنَّ اللہَ بَرِيْئٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ وَرَسُولُہٗ‘‘[14]

’’اللہ مشرکوں سے بیزار ہے اور اس کا رسول (ﷺ) بھی (ان سے بری الذّمہ ہے)‘‘-

’’اس آیت میں رسولہ پر پیش ہے وہ شخص زیر پڑھ رہا تھا اور اس سے یہ معنی ہو جاتا ہےکہ اللہ مشرکوں اور اپنے رسول سے بیزار ہے-العیاذ باللہ! تب ابو الاسود زیاد کے پاس گیا اور کہا میں اب عربی قوائد لکھنے پر تیار ہوں اس وقت ابو الاسود نے زبر کی علامت حرف کے اوپر ایک نقطہ قرار دی ابو الاسود 69ھ میں بصرہ میں تاعون کی بیماری میں فوت ہوا اس کی عمر 85 سال تھی[15]-

حافظ ابن عساکرؒ نے اس واقعہ کا بھی ذکر کیا  ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ:

’’حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کے زمانہ میں ایک شخص نےسورۃ توبہ کی اسی آیت کو غلط پڑھا تو حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے ابو الاسود کو قرآن مجید کے قواعد مرتب کرنے کا حکم دیا‘‘-

حافظ ابن کثیرؒ نے لکھا ہے کہ:

’’عراق کے گورنر زیاد کے کہنے سے ابو الاسود نے عربی زبان کے قواعد مرتب کیے‘‘-[16]

علامہ زرقانیؒ لکھتے ہیں کہ :

’’عبد الملک بن مروان نے حجاج کو یہ حکم دیا کہ قرآن مجید پر نقطے لگائیں اور حجاج نے نصر بن عاصم اللیثی اور یحی بن یعمر العدوانی کو اس کام کے لئے مقرر کیا یہ دونوں ابو الاسود الدولیٰ کے شاگرد تھے-ایک قول یہ ہے کہ ابو الاسود نے سب سے پہلے نقطے لگائے اور اس پر مؤرخین کا اتفاق ہے کہ جب ابو لاسود نے ایک شخص کو سورۃ توبہ کی آیت کو غلط پڑھتے ہوئے سنا تو اس نے علم نحو ایجاد کیا اور ’’زبر زیر اور پیش‘‘ کے لئے نقطوں کے علامات وضع کیں-ایک عرصہ تک حرکات و اعراب کے لئے یہی علامات رائج رہیں-لیکن چونکہ ان علامات کا نقطوں کے ساتھ التباس اور اشتباہ تھا اس لئے پھر زبر، زیر اورپیش کیلئے ’’-َ‘‘، ’’-ِ‘‘، اور ’’-ُ‘‘ اس طرح کی علامات مقرر کر دی گئیں‘‘[17]

علامہ غُلام رَسُول سعیدی رحمہ اللہ قرآن مجید پہ اعراب و نقاط لگانے کی تاریخ کا تعین کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’عبدالملک بن مروان66 ھ میں سریر آرائے سلطنت ہوا اور 86ھ میں فوت ہوا اور ابو الاسود 69ھ میں فوت ہوا-اس کا مطلب یہ ہے کہ 66ھ اور 69ھ کے درمیان میں قرآن مجید پر نقطےاور اعراب لگائے گئے-[18]

قرآن مجید پر رموز لگانے کی تاریخ اور تحقیق:

قرآن مجید کو صحیح پڑھنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وقف اور وصل کا صحیح علم حاصل کیا جائے یعنی کہ اس جملہ کو دوسرے جملہ یا کس لفظ کو دوسرے لفظ کے ساتھ ملا کر پڑھنا ہے یا کس جملہ اور لفظ کو دوسرے جملہ اور لفظ سے جدا کرکے پڑھنا ہے-اردو میں اس کی مثال ہے روکو، مت جانے دو-اگر روکو پر وقف کرلیا جائے تو اس کا معنی روکنا ہے اور اگر روکو مت ،پر وقف کر کے جانے دو پڑھا جائے  تو اس کا معنی نہ روکنا ہے-قرآن مجید سے اس کی حسبِ ذیل دو واضح مثالیں ہم پیش کررہے ہیں :

1-’’وَمَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَہٗٓ اِلاَّ اللہُ وَالرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہٖ‘‘[19]

’’اور اس کی(آیاتِ متشابہات کی)تاویل کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جو لوگ علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں‘‘-

اس آیت میں اگر ’’اِلاَّ اللہُ ‘‘ پر وقف کیا جائے تو یہی معنی ہوگا جو ہم نے لکھا ہے- اگر ’’وَالرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ‘‘پروقف کیا جائےتو معنی بدل جائے گااور اب یوں معنی ہوگا آیاتِ متشابہات کی تاویل کو اللہ اور علمائے راسخین کے علاوہ کوئی نہیں جانتا-

2-’’وَاﷲُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘، ’’اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ ہَاجَرُوْا  وَجَاہَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ‘‘[20]

’’اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا-جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا‘‘-

اس آیت میں اگر ’’الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ‘‘ پر وقف کیا جائے تو یہی معنی ہوگا جو ہم نے لکھا ہے اور اگر اس پر وقف نہ کیا جائے اور اس کو دوسری آیت کے ساتھ ملاکر پڑھا جائے تو پھر یہ معنی ہوگا کہ اللہ ان ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا-ایسے لوگوں کو ظالم کہنا قرآن مجید کی بہت ساری آیتوں کی تکذیب ہے اور قرآن مجید کی تکذیب کفر ہے -اس سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید میں صحیح جگہ پر وقف نہ کرنا قرآن  مجید کے معنی اور منشاء کو بدل دیتا ہے اور بعض اوقات کفر تک پہنچا دیتا ہے-

اہل عرب اپنی زبان دانی کی وجہ سے جس طرح بغیر اعراب کے قرآن مجید کو صحیح پڑھنے پرقادر تھے اسی طرح وہ قرآن مجید کو پڑھتے وقت صحیح جگہ پر وقف کرتے تھے اور ان سے معنی میں کوئی غلطی واقع نہیں ہوتی تھی-لیکن جب اسلام کا پیغام عرب کے باہر پہنچا اور عربی زبان سے ناواقف لوگوں نے قرآن مجیدکو پڑھنا شروع کیا تو معانی سے لاعلمی کی وجہ سے وہ غلط جگہ پر وقف کرنے لگے-اس لئے اس وقت کے علماء نے قرآن مجید کی آیت پر رموز و اوقاف لگانے کی ضرورت محسو س کی-سب سے پہلے اس موضوع پر امام احمد بن یحی الثعلب النحوی (المتوفی291ھ) نے ’’کتاب الوقف والابتداء‘‘ کے نام سے کتاب لکھی اس طرح تیسری صدی ہجری میں قرآن مجید کی  آیات پر رموز و اوقاف لگائے گئے-

وقف کی اقسام:

وقفِ لازم، وقفِ مطلق، وقفِ جائز، المرخص بوجہ اور المرخص ضرورۃ  ان کی تعریفات اور مثالیں حسبِ ذیل ہیں-

وقف لازم:اس کو کہتے ہیں کہ اگر اس جگہ وقف نہ کیاجائے اور ملا کر پڑھا جائے تو ایسا معنی لازم آئے گا جو اللہ کی مراد نہیں  ہے اس کی مثال یہ ہے-

’’وَمَا ہُمْ بِمُؤْمِنِیْنَoیُخٰدِعُوْنَ اللہَ‘‘[21]

’’(وہ منافق) مومن نہیں ہیں-وہ اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں‘‘-

اگر اس جگہ ’’بِمُؤْمِنِیْنَ‘‘ پر وقف نہ کیاجائے اور اس کو ’’یُخٰدِعُوْنَ اللہَ ‘‘ کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو یہ معنی ہوگا وہ منافق ایسے مومن نہیں ہیں جو اللہ کو دھوکہ دیں-حالانکہ مراد یہ ہے کہ وہ مطلقاً مومن نہیں ہیں-

وقفِ مطلق: وہ ہے جس کو ملائے بغیر ابتداً پڑھنا مستحسن ہو- اس کی مثال یہ ہے :

’’وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْم بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًاط یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئًا‘‘[22]

’’اللہ، ان کے خوف کے بعد ان کی حالت کو ضرور امن سے بدل دے گاوہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں قرار دیں گے‘‘-

پہلے جملہ میں اللہ تعالیٰ کے فعل کا بیان ہے اور دوسرے جملہ میں بندوں کے فعل کا بیان ہے اس لئے ان دونوں جملوں کو ملائے بغیر الگ الگ پڑھنا مستحسن ہے-

رموز واوقاف کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:

م:                                  وقف لازم

ط:                                  وقف مطلق

سکتہ:                               اس طرح ٹھہر جائے کہ سانس نہ ٹوٹے پورے قرآن مجید میں صرف سات جگہ یہ علامت ہے-

مذکور الصدعلامات پر وقف کرنا ضروری ہے-

لا:                                   جب ۵اور ہ کے بغیر ’’لا‘‘ ہوتو ملا کر پڑھنا ضروری ہے اس کی مثال یہ آیت ہے:

’’وَلَمَّا جَآئَ ھُمْ کِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ وَکَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ‘‘[23]

’’اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے وہ کتاب (قرآن) آئی جو اس کتاب (تورات) کی (اصلاً) تصدیق کرنے والی ہے جو ان کے پاس موجود تھی، حالاں کہ اس سے پہلے وہ خود (نبی آخر الزماں حضرت محمد(ﷺ) اور ان پر اترنے والی کتاب ’قرآن‘ کے وسیلے سے) کافروں پر فتح یابی (کی دعا) مانگتے تھے‘‘-

’’وکانو من قبل‘‘، کا جملہ سابقہ جملہ کی ’’ھم‘‘ضمیر  سے حال واقع ہو رہا ہے اور حال اور ذوالحال میں فصل نہیں ہوتا اس لئے یہاں ملاکر پڑھنا ضروری ہے -

حسب ذیل مقامات پر وصل کر کے پڑھنا اولیٰ ہے:

ز:                                    وقف مجوز

ج-ز:                             وقفِ جائز و مجوز

ق:                                  وقف کا قول ضعیف ہے

صلی:                                 وصل کر کے پڑھنا اولیٰ ہے

اور جہاں قف لکھا ہو اس کا معنی  ہے وقف کرنا اولیٰ ہے

صل:                               ملاؤ

۵:                                  اس کا مطلب ہے کہ اس کے وقف یا وصل میں اختلاف ہے

ہ:                                   وقف اور وصل دونوں جائز ہیں

ج:                                  وقف کرنا جائز ہے

ص:                                وقف کی رخصت ہے

قرآن مجید میں جب ایک مضمون ختم ہوجاتا ہے تو وہاں رکوع کی علامت ’’ع‘‘ لکھی ہوتی ہے-قرآن مجید میں کل 558 رکوع ہیں-یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس کی ابتداء کب اور کیسے ہوئی-قرآن مجید میں سورتوں کے اسماء اور آیتوں کی تعداد لکھنے کا بھی پہلے رواج نہیں تھا-

حافظ ابن کثیرؒ نے لکھا ہے کہ:

’’ہمارے زمانہ میں اس کا بکثرت رواج ہے اور علمائے سلف کی اتباع کرنا اولیٰ ہے‘‘[24]-

’’فتاویٰ عالم گیری میں مذکور ہے قرآن مجید میں سورتوں کے اسماء اور آیتوں کی تعداد لکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ہر چند کہ یہ ایک نیا کام ہے لیکن یہ بدعت حسنہ اور کتنے ہی کام نئے ہیں اور وہ بدعتِ حسنہ ہیں اور کتنی چیزوں کا حکم زمان اور مکان کے اختلاف سے مختلف ہو جاتا ہے‘‘-[25]

مضامین قرآن کا خاکہ ایک نظر میں:

قرآن مجید کے پارے                                         30

قرآن مجید کی سورتیں                                             114

قرآن مجید کی آیتیں ، حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) کی روایت کے مطابق               6616

امر                                                                    1000

نہی                                                                       1000

وعد                                                                1000

وعید                                                                1000

قصص و اخبار                                                          1000

عبرو امثال                                                            1000

حرام و حلال                                                         500

دعا                                                                     100

منسوخ الحکم آیات(با اعتبارِ شہرت)[26]                           12

یاد رکھیں! اللہ رب العزت نے قرآن کریم کو انسانیت کی ہدایت کے لئے نازل فرمایااور قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:

’’ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰی وَالْفُرْقَانِ‘‘[27]

’’(قرآن مجید) لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں‘‘-

قرآن کریم سےکامل ہدایت کے حصول کے لئے لازم ہے کہ قرآن کریم کو فقط زبان تک محدود نہ کیا جائے بلکہ اس کی تاثیر کو دل کی گہرائیوں میں وارد کیا جائے جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کا فرمان ہے:

’’ان القرآن ظاہراً وباطنا‘‘[28]

’’بے شک قرآن کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ہے‘‘-

ظاہر میں قرآن کریم کے ظاہری احکام ہیں اور با طن میں اسرار و رموز ہیں اور یہ دونوں اللہ رب العزت کے تقرب کا باعث ہیں مگر انسانی ہدایت کے لئے لازم ہے کہ ظاہر کی طہارت کے ساتھ باطن کی پاکیزگی بھی ضروری ہے-

٭٭٭


[1](المائدہ:67)

[2](الاتقان فی علوم القرآن، ص:471)

[3](غرائب القرآن جلد:1، ص:24)

[4]( التفسیر المنیر، ج:1، ص:20-21)

[5](تبیان القرآن، ج:1، ص:102)

[6]( صحیح البخاری، کتاب بدء الخلق)

[7]( صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن)

[8]( صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین و قصرھا)

[9](مریم:24)

[10](تبیان القرآن، ج:1، ص:107)

[11](الجامع لاحکام القرآن، ج:1، ص:46)

[12](صحیح بخاری،ج:2، ص:746)

[13](الجامع لاحکام القرآن، ج:1، ص:63)

[14](التوبہ:3)

[15](وفیات الاعیان، ج:2، ص:535-539)

[16](البدایہ و النہایہ، ج:8، ص:312)

[17](مناہل العرفان، ج:1، ص:400-401)

[18](تبیان القرآن، ج:1، ص:114)

[19](آلِ عمران:7)

[20](التوبہ:19-20)

[21](البقرۃ:8-9)

[22](النور:55)

[23](البقرۃ:89)

[24](تفسیر القرآن، ج:7، ص:451)

[25](فتاوی عالم گیری،ج:5،ص:323)

[26](تبیان القرآن، ج:1، ص:118)

[27](البقرۃ:185)

[28](احیاء علوم الدین، ج:1، ص:99)

یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ تمام تراسلامی تعلیمات کا سر چشمۂ فیض اور انسان کے جسمانی و روحانی اصلاح و فلاح کا ماخذ جمیع علوم اسلامیہ و عربیہ کا مرجع و مرکز مسلمانوں کی ترقی و تمدن کا راز سر بستہ عالم کی تاریکی و جہالت کو فنا کر دینے والا آفتابِ درخشاں نوع انسان کو سعادت ابدی اور نجات سرمدی کا منزل مقصود تک پہچانے والا ہادی برحق قرآن مجید فرقان حمید ہے اور اس کی درست تفہیم اور حقیقی ابلاغ اور عملی افکار کو روشناس کرانے کے لئےخاتم النبیین سید المرسلین آقا دو عالم (ﷺ) کو مبعوث فرمایا گیا تاکہ انسانیت کماحقہ اس سے سیراب ہوسکے جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’یٰٓاَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ‘‘[1]

’’اے (برگزیدہ) رسول! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے (وہ سارالوگوں کو) پہنچا دیجیے‘‘-

آپ (ﷺ) کی ذاتِ اقدس قرآن کریم کی عملی تفسیر ہے- جوں جوں وقت گزرتا گیا اسی قدر اسلام کا پودا پھلتا پھولتا گیا او ر اس کا دائرہ کار بڑھتا گیا اور یہ صرف  عرب تک ہی نہیں بلکہ ہند و عجم ، افریقہ و یورپ میں اس کی مقبولیت عام ہوتی چلی گئی تو اس کی حقیقی اور درست تفہیم کی ضرورت پیش آنے لگی اور اس کے کامل اور مکمل نسخہ کتاب کی صورت میں پیش کرنے کی حاجت  محسوس کی گئی اور اس کے اعراب کی بھی ضرورت بڑھتی گئی تاکہ ایسے عجمی جو عربی لغت کو نہیں جانتے وہ درست اعراب کے ساتھ اس کی تفہیم حاصل کریں تو پھر اس عظیم کام کو سرانجام دیا گیا اور اعرابِ قرآن پر مستقل طور پر آئمہ تفاسیر نے اور علماء کرام نے کتب تصانیف فرمائیں-امام جلال الدین سیوطی (﷫)فرماتے ہیں کہ جو شخص کتاب اللہ کا مطالعہ کرتا ہےاور اس کے اسرار و رموز کو معلوم کرنا چاہتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ ہرلفظ کے صیغہ اور اس کے محل پر غور کرے یعنی دیکھے کہ مبتداء ہے یا خبر، فاعل ہے یا مفعول، کلام کے ابتدائی حصوں میں سے ہے یا کسی سابقہ کلام کا جواب، اسی طرح دیگر متعلقات کے  معلوم کرنے کی سعی کرے اور اس پر پہلا فرض ہے کہ اعراب سے پہلے جس کلمہ کو مفرد یا مذکر قرار دینے کا ارادہ کرتا ہے اس کے معنی کو سمجھ لے کیونکہ اعراب معنیٰ کی شاخ ہے-[2]

کاتب قرآن اور حکم مبارک :

علامہ نیشا پوری (﷫)لکھتے ہیں کہ:

’’رسول اللہ (ﷺ) کے عہد میں قرآن جمع کر لیا گیا تھا کیونکہ جب بھی کوئی آیت نازل ہوتی رسول اللہ (ﷺ) کاتبِ قرآن کو یہ حکم دیتے کہ اس آیت کو فلاں سورۃ میں فلاں جگہ لکھ دو اور جب بھی کوئی سورۃ نازل ہوتی تو رسول اللہ (ﷺ) کاتب کو یہ حکم دیتے کہ اس کو فلاں سورۃ کے بعد لکھو‘‘[3]-

کاتبین قرآن کی تعداد:

ڈاکٹر وھبہ زحیلی (﷫)لکھتے ہیں کہ:

’’نبی کریم (ﷺ) سے سن کر صحابہ کرام (﷢)قرآن مجید لکھ لیتے تھے اور مشہور یہ ہے کہ 25 صحابہ کرام (﷢) کاتب وحی تھے اور تحقیق یہ ہے کہ وہ  60 صحابہ کرام ؓتھے-ان میں زیادہ مشہور خلفائے اربعہ حضرت ابی بن کعب، حضرت زید بن ثابت، حضرت معاویہ بن ابی سفیان، حضرت یزید بن ابی سفیان، حضرت مغیرہ بن شعبہ، حضرت زبیر بن عوام، حضرت خالد بن ولید (﷢)  ہیں-پھر علامہ زحیلی نے ابو عبید کے حوالہ ان حفاظ صحا بہ کا ذکر کیا ہے جن کا ہم ابھی ذکر کر چکے ہیں اور یہ لکھا ہے کہ زیادہ مشہور حفاظ حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت ابی بن کعب، حضرت ابو دردا، حضرت معاذ بن جبل، حضرت زید بن ثابت، حضرت ابن مسعود اور حضرت ابو موسی اشعری (﷢)تھے-[4]

رسول اللہ (ﷺ) کے عہد میں قرآن مجید کو ایک مصحف میں  اس لئے جمع نہیں کیا گیا کہ نزول وحی کا عمل آپ (ﷺ) کی حیاتِ مبارکہ میں مسلسل جاری تھا اور ہر وقت کسی نئی وحی کے نازل ہونے کا امکان تھا البتہ قرآن مجید کی تمام آیات کپڑے کے ٹکروں پر، ہڈیوں پر، پتھروں پر اور پتوں سے صاف کی ہوئی کھجور کی ٹہنیوں پر لکھی ہوتی تھیں پھر جب حضرت ابو بکر صدیق (﷜) کے عہد میں جنگ یمامہ کے دوران بہت سے حفاظِ قرآن شہید ہوگئے تب قرآن مجید کو پہلی بار ایک مصحف میں جمع کرنے کی تحریک ہوئی-

اعراب کالکھنا:

صاحبِ تفسیرَین ، شارحِ صحیحین علامہ غلام رسول سعیدی صاحب (﷫)حافظ ابن کثیر (﷫)کہ حوالہ سے لکھتے ہیں کہ:

’’حضرت زید، حض?

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر