قرآن کا فلسفہ عملیت پسندی

قرآن کا فلسفہ عملیت پسندی

قرآن کا فلسفہ عملیت پسندی

مصنف: وسیم فارابی مارچ 2024

 اس جہان کی ہر شے کا وجود تب تک برقرار رہتا ہے جب تک وہ شے حرکت کر تی رہتی ہے- اگر سورج، چاند، زمین اور دوسری آسمانی مخلوقات کی حرکت ایک لمحے کیلئے بھی رُک جائے تو کائنات کا نظام تباہ ہو جائے گا- لہٰذا، ہمیں اس کائنات میں جو ترتیب نظر آتی ہے اس کی بنیادی وجہ کائنات کی ہر شئے کا مسلسل اپنی فطری حرکت کو جاری رکھنا ہے-[1] چونکہ قرآنی تعلیمات کے مطابق انسان اشرف المخلوقات ہے[2] تو حرکت کا یہ قانون اس کی زندگی کیلئے زیادہ اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے اور اس انسانی حرکت کو قرآن نے عمل کی قوت کا نام دیا ہے- جس طرح زمین کی گردش رُک جانے سے زمین پر زندگی کا نظام تباہ ہو جائے گا اسی طرح ایک انسان میں عمل کی قوت ختم ہوجانے سے اس کی زندگی کی رونق ختم ہو جائے گی اور اس کی چھپی ہوئی صلاحیتیں آہستہ آہستہ زنگ آلود ہو کر بالکل ختم ہو جائیں گی- یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم خیال اور سوچ سے زیادہ عمل کو پسند کرتا ہے اور انسان میں حقیقت کی جستجو کیلئے تحرک کو پیدا کرتا ہے - اس مضمون کا مقصد قرآن مجید کے فلسفۂ عملیت پسندی کا مختصر تعارف پیش کرنا ہے -

قرآن مجید کا فلسفۂ عملیت پسندی کیا ہے؟

قرآن مجید سب سے پہلے اپنے پڑھنے والے کو اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ زندگی فقط اس جہان تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ دنیا تو زندگی کے سفر میں ایک مقام ہے اور ابھی زندگی کے اس سفر میں اور مقامات آنے ہیں- قرآن کریم جنت اور جہنم دونوں میں قیام سے متعلق ’’ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ‘‘[3] کہتا ہے جس سے ایک بات واضح ہوجاتی ہے کہ جنتی و جہنمی دونوں پر زندگی ختم نہیں ہونے والی ہے -زندگی کا پہلا مقام یہ دنیا اور دوسرا مقام آخرت ہے- مگر زندگی اس کے بعد بھی جاری و ساری رہے گی جس کی حقیقتیں ہم پر آہستہ آہستہ کھلیں گی- لہٰذا، موت ایک ایسے ہتھیار کے سوا کچھ نہیں ہے جو انسان کو زندگی کے ایک مقام (دنیا) سے دوسرے (آخرت) کی طرف دھکیل کر اس پر حقیقت کو کھول دیتی ہے- زندگی کے اس نظریے کا بنیادی مقصد انسان کے اندر زندگی اور اس کی حقیقتوں کو قبول کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ہے جسے انسان قبول کرنے سے بھاگتا ہے[4] اور اپنی خیالی دنیا میں رہنا پسند کرتا ہے- قرآن کریم کا تقاضا ہے کہ انسان ان حقیقتوں کا اپنے مکمل شعور کے ساتھ مشاہدہ کرے تا کہ وہ ان تجربات سے گزر کر یقین حاصل کرلے جو کہ قرآن مجید کے مطابق انسان کی فطرت کا تقاضا ہے کہ:

’’اے انسان! تو اپنے رب کی طرف (پہنچنے کی) بہت زیادہ کوشش کرتا ہے- پس تو اس سے ضرور ملاقات کرے گا‘‘-[5]

جب انسان زندگی کو اس کی تمام حقیقتوں کے ساتھ قبول کر لیتا ہے تو قرآن کریم اسے یہ بتاتا ہے کہ زندگی آزمائش کا نام ہے جس میں سکھ، دکھ، مال، اولاد، جان حتی کہ سب کچھ کے ذریعے انسان کی آزمائش مقصود ہے- اس لیے قرآن مجید نے انسان کی تخلیق کو یوں بیان کیا ہے :

’’بے شک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا تا کہ اسے آزمائیں‘‘-[6]

یعنی انسان کی بنیاد میں ہی سکون و قرار کا مادہ شامل نہیں اس لیے وہ ماں کے پیٹ میں ایک حالت سے دوسری میں بدلتا رہتا ہے [7]اور یہی حال اس کا اس جہان میں ہوتا ہے کہ وہ ذہنی و دلی طور پر ہر وقت کسی نہ کسی کیفیت میں رہتا ہے- اس لیے قرآن مجید ایک مقام پر واضح الفاظ میں فرماتا ہے:

’’بے شک ہم نے انسان کو تکلیف و مشقت (کی حالت) میں (رہنے والا) بنایا ہے‘‘-[8]

مزید ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے :

’’اور ہم ضرور کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جان اور میووں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے‘‘-[9]

’’تمہیں ضرور تمہارے مال اور جان سے آزمایا جائے گا‘‘- [10]

اسی طرح لوگوں کے درمیان امیر و غریب، بیمار و صحت مند، عالم و جاہل، وغیرہ کی درجہ بندی بھی آزمائش کیلئے ہے- قرآن کریم فرماتا ہےکہ:

’’اور وہی تو ہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا اور ایک دوسرے پر درجے بلند کیے تا کہ جو کچھ اس نے تمہیں بخشا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے‘‘- [11]

جب انسان کو یہ پتہ چلتا ہے کہ زندگی مختصر نہیں ہے بلکہ لا محدود ہے اور اس میں انسان کو طرح طرح سے آزمایا جائے گا تو ایک سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ آزمائش کیوں؟ یہ سارے ہنگامے اگر آزمائش کیلئے ہیں تو پھر آزمائش بھی کسی نہ کسی مقصد کیلئے ہو گی- وہ مقصد کیا ہے اس کا اظہار قرآن  کریم کچھ یوں کرتا ہے:

’’اسی(اللہ تعالیٰ) نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کون احسن عمل کرتا ہے‘‘-[12]

یعنی زندگی اور موت اور اس کے تمام عوامل جو انسان کو پیش آتے ہیں ان کا مقصد انسان کی آزمائش ہے اور آزمائش کا مقصد یہ ہے کہ خدا جو اپنے علم سے سب کچھ جانتا ہے[13] ہمارے اعمال کا مشاہدہ کر کے جاننا چاہتا ہے[14] کہ کون کیا کیا عمل کرتا ہے- تو ثابت ہوا کہ قرآن مجید کے نزدیک زندگی کے مقصد کی بنیاد عمل ہے- جہاں عمل نہیں ہے وہاں زندگی نہیں ہے اور جہاں زندگی نہیں ہے وہاں زندگی کے دیگر عوامل کے ہونے یا نہ ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے- ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

’’اور بیشک ہم نے جہنم کے لیے بہت سے جنات اور انسان پیدا کئے ہیں ان کے ایسے دل ہیں جن کے ذریعے وہ سمجھتے نہیں اور ان کی ایسی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے نہیں اور ان کے ایسے کان ہیں جن کے ذریعے وہ سنتے نہیں ، یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ،یہی لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ‘‘- [15]

 اس لیے قرآن مجید ایمان کی بنیاد بھی عمل پر رکھتا ہے اور فرماتا ہے:

’’کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اتنی بات پر چھوڑ دیئے جائیں گےکہ کہیں ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی‘‘-[16]

اور اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے اس زمینی زندگی میں لذت رکھ دی ہے اور فرمایا ہے:

’’ جو کچھ زمین پر ہے ہم نے اسے زمین کی زینت بنایا ہے تا کہ اس سے لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں کون احسن عمل کرتا ہے‘‘-[17]

جب یہ واضح ہو گیا کہ زندگی کی اہمیت عمل کے بغیر کچھ نہیں ہے تو اس کے بعد قرآن کریم انسان کو مختلف طریقوں سے عمل کی اہمیت بیان کرتا ہے تا کہ انسان اپنی زندگی میں زیادہ سے زیادہ عمل کرے اور اس جہان کی رونق میں مزید اضافہ کرے-

1- مشاہدہ کیلئے مجاہد ہ ضروری ہے:

مذہب و فلسفہ دونوں کی جستجو میں ایک سوال مرکزی حیثیت رکھتا ہے کہ غیب کی حقیقتیں جن کو جسمانی حواس سے محسوس نہیں کیا جا سکتا کیا ان کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ قرآن مجید اس سوال کا جواب ہاں میں دیتا ہے اور ان غیبی حقیقتوں کے مشاہدے کیلئے ایک شرط عائد کرتا ہے اور وہ شرط عمل ہے- اگر کسی نے ان حقیقتوں کا مشاہدہ کرنا ہے جو قرآن کریم نے بیان کی ہیں تو اس کیلئے قرآن مجید نے عملی طریقے بتائے ہیں- لگن اور اخلاص کے ساتھ ان پر عمل کرتے جائیں اور ان حقیقتوں تک رسائی حاصل کرتے جائیں حتیٰ کہ ایسے محنتی اور عمل پسند انسان سے حقیقت الحقائق یعنی اللہ تعالیٰ بھی پوشیدہ نہیں رہتا اور اپنے ہونے کا مشاہدہ ہر ممکن طریقے سے کرواتا ہے -[18] کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وجود محض ایسا نہیں ہے کہ جسے دلائل سے ثابت کر کے جستجو روک دینی چاہئے بلکہ اس کا وجود تو ایک حقیقت ہے جس کا مشاہدہ ہی اس کی جستجو کی انتہا ہے- قرآن مجیدکے اس تحقیقی طریقہ کی مزید وضاحت کیلئے چند مثالیں درج ذیل ہیں-

ا- حضور نبی کریم()کی معراج:

’’پاک ہے وہ ذات جوراتوں رات اپنے بندے کو لے گیا مسجدِ حرام(خانہ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ(بیت المقدس) تک جس کے گرداگرد ہم نے برکت رکھی ہے تا کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں بےشک وہ سنتا دیکھتا ہے‘‘- [19]

یہاں قرآن مجید حضور نبی کریم (ﷺ) کے واقعہ معراج کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ(ﷺ) کو عرش پر بلوایا اور تمام غیبی حقیقتوں کا مشاہدہ اور اپنا دیدار کروایا- لیکن یہ مشاہدات و دیدار اس وقت ہوئے جب آپ(ﷺ) مکے کے لوگوں کے بے انتہا ظلم برداشت کر چکے تھے اور یہ واقعہ بالخصوص تب پیش آیا جب آپ(ﷺ) طائف کے لوگوں سے پتھر کھا کر لہو لہان ہو کر مکہ واپس تشریف لائے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو معراج کی نعمت سے سرفراز کیا-

یہاں ایک بات قابلِ غور ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) کو یہ نعمت ان مصائب کے صلے میں نہیں بلکہ آپ (ﷺ) تو اس سے پہلے بھی اس مقام پر فائز تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ (ﷺ) کو اپنے دیدار سے سرفراز کرے مگر ان واقعات میں حضور نبی کریم(ﷺ) کو ایک رہنما کے طور پر پیش کر کے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سکھا رہا ہےکہ مصیبتوں سے گزرنے کے بعد ہی حقیقت نصیب ہوتی ہے-

ب- حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مردوں کے زندہ ہونے کا مشاہدہ کرنے کی تمنا:

’’اور جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام)نے عرض کی: اے میرے رب! تومجھے دکھا کہ تو مُردوں کو کس طرح زندہ فرمائے گا؟ اللہ نے فرمایا: کیا تجھے(اس حقیقت پر ) یقین نہیں ہے؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام)نے عرض کی: یقین کیوں نہیں مگر میں یہ (چاہتا ہوں) کہ میرے دل کو اطمینان آجائے- اللہ نے فرمایا :توپرندوں میں سے کوئی چار پرندے پکڑ لوپھر انہیں اپنے ساتھ مانوس کرلو پھر ان سب کا ایک ایک ٹکڑا ہر پہاڑ پر رکھ دو پھر انہیں پکارو تو وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے چلے آئیں گے اور جان رکھو کہ اللہ غالب حکمت والا ہے‘‘-[20]

اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے اور وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ حضرت ابراہیم(علیہ السلام) کو اس حقیقت کا مشاہدہ ایسے ہی کرا دیتا مگر اس نے حضرت ابراہیم(علیہ السلام) کو عمل کا حکم دیا اور عمل بھی ایسا جو کئی مہینوں یا سالوں تک جاری رہا ہوگا کہ پہلے اتنی مشکل سے چار پرندوں کو پکڑنا، پھر ان کو اپنے ساتھ مانوس کرنا، پھر ان کو ذبح کر کے چار مختلف پہاڑوں پر ان کے گوشت کے ٹکڑے رکھنا اس کے بعد ان کو اس حقیقت کا مشاہدہ  ہوا جس کی طلب میں ان کا دل بے قرار تھا-

2- محشر کے دن اعمال کا وزن ہو گا

ایک شخص کتنا ہی ذہین کیوں نہ ہو اور اپنے خیالات و شعلہ بیانی سے لوگوں پر سحر طاری کیوں نہ کر دیتا ہو مگر قرآن  مجید کے نزدیک اس کی کامیابی کا انحصار اس کے اعمال کے وزن پر ہی ہو گا- یعنی جب تک وہ اپنے خیالات کو عمل میں نہیں لائے گا تب تک وہ زندگی کی دوڑ میں شامل نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ اعمال ہی ہیں جن کی بنیاد پر انسان اچھے یا برے گروہ میں شامل کیے جائیں گے- قرآن  مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

’’اور اس روز (اعمال کا ) وزن ہونا برحق ہے تو جن لوگوں کے (اعمال کے) وزن بھاری ہوں گے تو وہ نجات پانے والے ہیں‘‘-[21]

3- قوموں کا عروج و زوال اور عمل:

قرآن  کریم نے قوموں کے عروج و زوال کو بھی ان کے اعمال سے جوڑ دیا ہے جیسے کسی قوم کے اعمال ہو ں گے ویسے ہی ان کے حالات ہوں گے- کسی بھی قوم کے حالات تب تک خراب نہیں ہوئے جب تک ان کے اعمال میں بگاڑ پیدا نہیں ہوا- اس فلسفہ کو قرآن  کریم یوں بیان کرتا ہے:

’’ اور خدا ایسا نہیں کہ کسی قوم کو ہدایے دینے کے بعد گمراہ کر دے جب تک کہ ان کو وہ چیز نہ بتا دے جس سے وہ پرہیز کریں‘‘-[22]

’’بے شک اللہ تعالیٰ اس کو نہیں بدلتا کہ کسی قوم کے پاس ہے (ان کی نعمتیں یا اچھے حالات) یہاں تک کہ وہ خود اس کو نہ بدل دیں جو ان کے دلوں میں ہے ( یعنی اچھے اعمال کی جگہ برے اعمال اختیار کر لیں)‘‘-[23]

 قرآن مجید میں اس قانون کی کئی تاریخی مثالیں بھی بیان کی گئی ہیں- مثلاً حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کو ناپ تول میں کمی کرنے کی وجہ سے ، حضرت صالح(علیہ السلام) کی قوم کو ان کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کی وجہ سے،حضرت لوط(علیہ السلام) کی قوم کو مردوں کے آپس میں بد فعلی کرنے کی وجہ سے ہلاک کیا گیا تھا- اسی طرح  حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم پر جب عذاب آیا تو انہوں نے اللہ سے معافی مانگی تو اللہ تعالیٰ کو ان کا یہ عمل پسند آیا اور اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ٹال دیا- [24]اس یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن  کریم کے نزدیک کوئی بھی قوم مسلم یا غیر مسلم اپنے اعمال کی وجہ سے ہی ترقی کرتی ہے اور اپنے اعمال کی ہی وجہ سے زوال کا شکار ہو جاتی ہے-

یہاں بنی اسرائیل کا ذکر خاص طور پر کیا جا سکتا ہے کہ جب انہوں نے حضرت موسیٰ(علیہ السلام) سے کہا:

’’وہ بولے کہ (اے موسیٰ)! تمہارے آنے سے پہلے بھی ہمیں اذیتیں دی جاتی رہیں اور آنے کے بعد بھی- موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کی جگہ تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے پھر دیکھے کہ (ان کی جگہ) تم کیسے عمل کرتے ہو‘‘-[25]

جب بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات ملی اور ان کو اپنی ریاست بھی واپس مل گئی تو انہوں نے شاید یہ سمجھ لیا کہ ہم چونکہ خدا کے ماننے والے ہیں تو ہم جو چاہے کرتے پھریں اس کا اثر ہمارے معاشرتی، معاشی اور سیاسی حالات پر ہرگز نہیں آئے گا- جب وہ ان اعمال سے ہٹ گئے جن کو اختیار کر کے انہوں نے خلافت حاصل کی تھی تو نتیجہ یہ نکلا کہ ان پر ہر طرف سے مصیبت اور ذلت برسنا شروع ہو گئی جس کی وجہ قرآن   مجید یوں بیان کرتا ہے:

’’اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے وعدہ لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھلائی کرتے رہنا اور لوگوں سے اچھی باتیں کہنا اور نماز پڑھتے رہنا اور زکوٰۃ دیتے رہنا تو چند لوگوں کے سوا تم سب (اس وعدے سے) پھِر گئے‘‘- [26]

4-عمل اور نیت کا تعلق:

اگر عمل کی بات ہو تو وہاں نیت کی بات بھی لازم ہوجاتی ہے اور اکثر پڑھنے والوں کے ذہن میں یہ سوال ابھر رہا ہوگا کہ اگر سب کچھ عمل ہی ہے تو پھر نیت کی کیا اہمیت ہے کیونکہ عمل تو منافق بھی کرتے تھے مگر ان کو اس عمل کا وہ نتیجہ نہیں ملا جو مومنین کو ملا- تو اس کا جواب یہ ہے کہ عمل اور نیت ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہیں ہیں- عمل نیت کی ہی انتہائی حالت ہے جس کی نیت میں جتنا اخلاص اور عزم ہو گا اس کا عمل اتنا ہی بہترین ہو گا- منافقین کی نیت کا اظہار بھی ان کے اعمال سے ہوا تھا جس کی نشاندہی قرآن  کریم نے کئی مقامات پر فرمائی ہے- لہٰذا عمل خود نیت کا اظہار ہے فقط نیت کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ نیتیں تو ہزار کریں اور عمل کرتے ہوئے جی گھبرانے لگے- جس کی نیت میں کھوٹ ہوتا ہے تو اس کا عمل بھی برائے نام ہوتا ہے جس میں انسان کام سے جی چراتا ہے - ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن  کریم فرماتا ہے:

’’جب وہ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہو کر (صرف) لوگوں کو دکھانے کیلئے اور اللہ تعالیٰ  کوبہت ہی کم یاد کرتے ہیں‘‘- [27]

5- سستی اور غم سے پرہیز:

جب انسان میں زندگی گزارنے کا حوصلہ پیدا ہو جاتا ہے اور اس میں عملی تحرک بھی پیدا ہوجاتا ہے تو بظاہر انسان عمل کے جذبے سے سرشار ہو کر کسی شے کو حاصل کرنے کیلئے دن رات محنت کرتا ہے- مثلاً ایک کاروباری اپنے کاروبار میں، ایک طالب علم اپنے امتحانات میں، ایک سیاستدان اپنی سیاست میں، ایک خدا کا متلاشی اس کا قرب حاصل کرنے میں کامیاب ہونے کیلئے کوشش کرتا ہے مگر اتنی محنت کے باوجود اسے کامیابی نہیں ہوتی تو اکثر اس پہ مایوسی کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے- لیکن اس موقع پہ بھی قرآن  کریم  اسے مایوسی سے نکالنے کی کوشش کرتا ہے اور عمل کو کسی صورت ترک کرنے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ یوں ارشادفرماتا ہے:

’’اور نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ تمہیں غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو‘‘-[28]

پہلی نصیحت یہ ہے کہ عمل کو ترک مت کرو بلکہ عمل جاری رکھو مگر جو پہلے اتنی کوشش کی ہے اس کا غم انسان کو کھائے جارہا ہوتا ہے اس لیے فورًا فرمایا کہ جو ہوگیا ہے اس کا غم مت کرو بلکہ یقین کے ساتھ مسلسل محنت کرو گے تو تمہیں کامیابی ضرور ملے گی- بلکہ جو محنت کی ہے وہ بھی ضائع نہیں ہو گی - قرآن  کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

’’تو ان کے پروردگار نے ان کی دعا قبول کر لی ( اور فرمایا) کہ میں کسی عمل کرنے والے مرد ہو یا عورت کے عمل کو ضائع نہیں کرتا‘‘-[29]

’’تو جس نے ذرہ بھر بھی اچھا عمل کیا ہو گا وہ اس کو دیکھ لے گا‘‘- [30]

 اس موقع پر قرآن کریم ماضی سے ایسے واقعات سامنے لاتا ہے تا کہ انسان کو یقین ہو کہ میں پہلا شخص نہیں ہوں بلکہ مجھ سے پہلے بھی لوگوں پر ایسے حالات گزر چکے ہیں-

’’کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ (یونہی) جنت میں داخل ہوجاؤ گے اور ابھی تم کو پہلے لوگوں کی سی (مشکلیں) تو پیش آئی ہی نہیں- ان کو (بڑی بڑی) سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ (مصیبتوں میں) ہِلادیئے گئے یہاں تک کہ پیغمبر اور مومن لوگ جو ان کے ساتھ تھے سب پکار اٹھے کہ کب خدا کی مدد آئے گی ؟ ‘‘[31]

یہی وجہ ہے کہ قرآن  کریم میں حضرت یوسف اور حضرت ایوب (علیہ السلام)کا ذکر بالخصوص اس لیے کیا گیا ہے تا کہ اس کے پڑھنے والے مشکلات میں گھبرا کر عمل نہ ترک کر دیں کیونکہ ہر مشکل کے ساتھ ضرور آسانی ہے جس کو قرآن  کریم یوں بیان کرتا ہے:

’’ تو بے شک دشواری کے ساتھ آسانی ہے -بے شک دشواری کے ساتھ آسانی ہے ‘‘- [32]

بلکہ جب ایک مرتبہ رسولِ کریم (ﷺ) پر کافی عرصے تک وحی نازل نہ ہوئی تو آپ(ﷺ) پر بھی حزن کی کیفیت طاری ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے ان تسلی بخش الفاظ سے آپ(ﷺ)کا حوصلہ بلند فرمایا:

’’چاشت کی قسم اور رات کی جب پردہ ڈالے- آپ کے رب نے نہ آپ کو چھوڑا اور نہ ناپسند کیا-اور بیشک آپ کے لئے ہر پچھلی گھڑی پہلی سے بہتر ہے اور بیشک قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو اتنا دے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے-کیا اس نے آپ کو یتیم نہ پایا پھر جگہ دی- اور آپ کو اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی اور آپ کو حاجت مند پایا تو غنی کردیا ‘‘- [33]

اختتامیہ:

آج اگر ہم اپنے ارد گرد نگاہ دوڑائیں تو زندگی کے ہر دوسرے شعبے میں مسلمان ناکامی کا شکار ہیں- تعلیم کا میدان ہو، معیشت ہو، نئی نئی ایجادات کی دوڑ ہو، اخلاقی اقدار ہوں، معاشرتی مسائل ہوں یا  زندگی کے دوسرے جتنے بھی  ہوں مسلمانوں کی حالت دگرگوں ہے- اس کی بنیادی وجہ مسلمانوں اور بالخصوص پاکستانیوں میں مجموعی طور پر پائی جانے والی سستی اور محنت نہ کرنے کی عادت ہے- جبکہ قرآن کریم کا نہ صرف مسلمان سے بلکہ ہر اس شخص سے جو اس کا مطالعہ کرتا ہے یہ تقاضا ہے کہ وہ زندگی کے ہر میدان میں سخت محنت اور مسلسل عمل سے کام لے- جس طرح حضرت یوسف(علیہ السلام) نے اپنی محنت اور صلاحیتوں سے سلطنت مصر کو قحط کی تباہی سے بچا کر خوشحالی کی راہ پر گامزن کر دیا ، اسی طرح قرآن کریم کو اپنی زندگی کا دستور سمجھنے والا شخص جہاں بھی جائے گا اپنی محنت اور لگن سے شعبےیا ادارے کو دیکھتے ہی دیکھتے ترقی کی بلندیوں تک لے جائے گا-

٭٭٭


[1]( الانبیاء:    33  )

[2](بنی اسرائیل:70)

[3](البقرۃ:  25)

[4]( ق:   19)

[5]( الانشقاق:     6)

[6] الانسان: 2)

[7]( المومنون:  14)

[8]( البلد: 4  )

[9]( البقرۃ:        155)

[10]( آل عمران:    186)

[11]( الانعام:  165)

[12]( الملک:   2)

[13]( البقرۃ:   255)

[14](سورۃ محمد:31)

[15]( ا لاعراف: 179)

[16]( العنکبوت:   2)

[17]( الکہف: 7)

[18]( حم سجدۃ:  53)

[19]( الاسراء: 1)

[20]( البقرۃ:  260)

[21]( الاعراف:   8)

[22]( التوبہ:  115)

[23]( الرعد:  11)

[24]( یونس :  98)

[25]( الاعراف:  129)

[26]( البقرۃ: 83)

[27]( النساء:  142)

[28]( آل عمران:  139)

[29]( آل عمران: 195)

[30]( الزلزال:     7)

[31]( البقرۃ:  214)

[32]( الشرح:  6-5)

[33]( الضحٰی:1-8)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر