توہین قرآن کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ کے اقدامات کا تنقیدی جائزہ

توہین قرآن کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ کے اقدامات کا تنقیدی جائزہ

توہین قرآن کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ کے اقدامات کا تنقیدی جائزہ

مصنف: جاوید اقبال مارچ 2024

دور حاضر کا مسلمان جو مختلف دینی و دنیاوی مسائل میں الجھا ہے اس کی ایک نہیں کئی ممکنہ وجوہات ہیں جس کا ماضی بڑی بڑی سلطنتوں اور اسلام کا مرکز تھا آج وہ مسلمان غیر مسلم کی یلغار کو للکارنے میں بے حس نظر آتا ہے-مسلمانوں کی اس بےحسی پر غیر مسلم اپنے آپ کو اعلیٰ محسوس کرتے ہوئے اخلاقی اقدار کو بھول چکا ہے-جس کی بنا پر وہ خود کو ایک بڑا (نام نہاد) دعویدار گردانتا ہے-اخلاقی اقدار کی ابتدا ہمیں عرب کی اس عظیم ہستی کے وجود اطہر سے نظر آتی ہے جس نے آتے ہی زندہ درگور ہونے  والوں کی جاں بخش کر انسانیت کے مقام کو رفعت دی- یوں تما م الہامی کتب اور انبیاء کرام (علیھم السلام)کی طرف سے دیا جانےوالا پیغام انسانیت سے محبت،مذاہب اور دینی کتب کے احترام کا درس دیتا ہے اس کے علاوہ عالمی قانون ، عالمی ادارےاور انسانی فلاح وبہبود پر کام کرنے والے ماہرین بھی اس پر اتفاق رکھتے ہیں کیونکہ عالمی قوانین اور انسانی اقدار کا وجود ان الہامی کتابوں سے نظر آتا ہے- گویا ان ماخذ کا احترام ہرکمیونٹی کے فرد کی بقا کا ضامن ہے - لیکن موجودہ صورت میں مسلم نسل کشی، اسلام اور قرآن کریم کی بے حرمتی جیسے واقعات کےباعث ہم زیر نظر تحریر میں تقدسِ قرآن مجید پر بات کریں گے-

یوں تو دنیا میں کتابیں لا محدود ہیں اور یہ لا محدود کتابیں دنیا کی مختلف زبانوں کے مایہ ناز لکھاریوں کے خیالات اور فلسفہ کی عکاس ہیں- لیکن ان تمام کتب میں ایسی کوئی بھی نہیں، نہ تھی اور نہ ہوگی جسے پوری دنیا میں فوقیت حاصل ہو- اس کے علاوہ بارگاہ خداوندی سے کتب اور صحائف کی ایک لمبی فہرست موجود ہے-ان کتب اور صحائف کو بھی وہ مقام حاصل نہیں جو بارگاہِ الٰہی سے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفٰے (ﷺ) پر نازل ہونے والی  کتاب ’’قرآن مجید‘‘ کو ہے- یہ کتاب اللہ کریم کا کلام ہے جو حق و باطل میں حد فاصل قائم رکھنے کے لیے نازل کیا گیا- کلامِ الٰہی کا ازلی کلام ہونا قرآن پاک کی حرمت و تعظیم کیلئے کافی ہے کیونکہ یہ کلام حکم الٰہی سے جبرائیل امین لوح مکنون سے لوح محفوظ کی طرف اترتے رہے-گویا یہ کلام غیر مخلوق ہے جس کی قدر و منزلت، شان و شوکت اور شرف و عظمت کی اور دلیل کیا ہوگی کہ یہ کلام الٰہی جس ہستی مبارک پر نازل ہوا وہ باعثِ تخلیقِ کائنات،محبوب خدا محمد مصطفٰے (ﷺ) ہیں-الغرض! اس حکمت والی لاریب کتاب کو جس نقطۂ نظر سے بھی دیکھا جائے یہ اپنی عظمت و شرف میں بے مثال ہے- جیسا کہ فرمان خداوندی ہے :

’’ذٰلِکَ  الْکِتٰبُ لَا رَیْبَج صلے فِیْہِ‘‘[1]

’’یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے‘‘-

رب کائنات نے حضرت محمد(ﷺ) کے بعد نبوت کا دروازہ بند کر دیا اور نازل ہونے والی یہ الہامی کتاب چونکہ آخری کتاب ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری اپنے سپرد کرتے ہوئے خالقِ کائنات نے ارشاد فرمایا:

’’اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ‘‘[2]

’’بے شک ہم نے اس قرآن کو اُتارا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں‘‘-

قرآن پاک کی عظمت کی یہ واضح دلیل ہے کہ جوکچھ جبرائیل امین لے کر اترتے وہ امین بن کر لاتے اور جس ہستی پاک پر نازل فرمایا گیا ان کی طرف سےبھی کسی قسم کی ( زیر، زبر، شدو مد) تبدیلی نہیں کی گئی- اس بات کی شہادت بارگاہ خدا وندی سے یوں دی گئی:

’’مَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰیط ؁اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی ‘‘[3]

’’وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے وہ تو وحی ہے جو انہیں کی جاتی ہے‘‘-

جب کلام الٰہی عرب کے لوگوں کو سنایا گیا تو (وہاں کے) خطباء اور علماءنے کہا یہ کونسی مشکل بات ہے ہم بھی ایسا کلام لا سکتے ہیں تواللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی سورتوں میں سے سب سے چھوٹی سورت کے ساتھ عرب کے بلند بانگ اور خاص الخاص خطبا ءکو چیلنج کیا (کہ اس کی مثل لے آؤ) لیکن انہیں اس پر قادر نہ پایا- فصحاء عدنان اور بلغاء قحطان میں سے جس نے اس کے معارضہ کا ارادہ کیا وہ لاجواب ٹھہرے- حتی کہ انہوں نے بھی یہ گمان کیا کہ ان پر جادو کر دیا گیا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کیلئے ان کی مصلحتوں کے پیش نظر جس قدر چاہا قرآن پاک کو واضح فرما دیا تاکہ وہ اس کی آیات میں غور کریں اور اہل عقل اس سے خوب نصیحت حاصل کریں-

اگر قرآنی اسلوب اور اندازِ بیان کو گہرائی سے دیکھا جائے تو قرآن پاک کی ایک سورت تو درکنار اس کی ایک سورت کی آیات، ان کی آیات کے کلمات، الفاظ اور حروف ہی نہیں بلکہ زیر، زبر ، شد و مد کے تحت بھی اس قدر حقائق اور رموز مخفی و پوشیدہ ہیں کہ زبان ان کو بیان اور قلم ان کو ضبطِ تحریر میں لانے سے قاصر ہیں-جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’قُلْ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیْ ‘‘[4]

’’تم فرما دو اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے سیاہی ہو تو ضرورسمندر ختم ہو جائے گا اور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی‘‘-

ایک اور مقام پر فرمایا :

’’ وَلَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ  اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّہٗ  مِنْۢ بَعْدِہٖ سَبْعَۃُ  اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ کَلِمٰتُ اللہِط‘‘[5]

’’اور اگر زمین میں جتنے پیڑ ہیں سب قلمیں ہو جائیں اور سمندر اس کی سیاہی ہوں اس کے پیچھے سات سمندر اور (ہوں) تو اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی ‘‘-

قرآن حکیم کی فضیلت اور عظمت کو بیان کرتے ہوئے خاتم الانبیا سیدالمرسلین حضرت محمد (ﷺ)نے ارشاد فرمایا:

’’میری امت کی سب سے بہترین عبادت قرآن پاک کی تلاوت ہے ‘‘-[6]

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:

’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس نے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کی اور دوسروں کو اس کی تعلیم دی‘‘ -[7]

قرآن پاک سے محبت مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے- دنیامیں (2ارب [8]) بسنے والے مسلمان جسم واحد کی طرح ہیں جہاں کہیں بھی مسلمانوں کو تکلیف دینے کی کوشش کی جاتی ہے وہاں مسلمانوں کا متحد ہونا حق بنتا ہے- مغربی ممالک کی طرف سے مسلمانوں کو تذلیل کرنے کی کوشش کے آئے دن واقعات کے ذریعے دنیا بھر کے مسلمانوں کو اکسایا جاتا ہے- مسلمانوں کی تذلیل کے مختلف حربے جس میں توہینِ مذہب، قرآن کریم اور دیگر اسلامی کتب کی بے حرمتی، آخری نبی پیغمبر مصطفٰے (ﷺ) کی گستاخی میں نفرت انگیز الفاظ بولنا جیسےنازیبہ کام کیے جاتے ہیں پھر ان کی طرف سے آنے والے ری ایکشن کو مختلف نام (دہشت گرد، اسلامو فوبیا) دے کر مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے- جس میں زدعام ’’اسلاموفوبیا ‘‘ہے-

اسلاموفوبیا لفظ ’اسلام‘ اور یونانی لفظ ’’فوبیا‘‘ (یعنی ڈر جانا) کا مجموعہ ہے- اس سے غیر مسلم ’اسلامی تہذیب سے ڈرنا‘ اور ’نسلیت مسلم گروہ سے ڈرنا‘ مطلب لیتے ہیں- اکثر غیر مسلموں کو اسلام کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے اور اسلامی تعلیمات کے خلاف زہر افشانی کر کے ان کے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرتیں پیدا کی جاتیں ہیں- جس کی وجہ سے ان کے دلوں میں اسلام کا خوف داخل ہوتا ہے اس کو اسلاموفوبیا کہا جاتا ہے- اسلامو فوبیا یعنی اسلام سے دشمنی جس کی انگریزی (Islamophobia) ہے یا اسلام کا خوف- یہ نسبتاً ایک جدید لفظ ہے جو اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے نہ صرف کافی سمجھا جاتا ہے بلکہ اس کو پروموٹ کرنے کی ناکام کوششیں بھی کی جاتی ہیں- اس اصطلاح کے استعمال کا آغاز فرانسیسی زبان میں 1910ء اور انگریزی میں 1923ء میں ہوا-آغاز سےبیسویں صدی کے آخر تک اس کا استعمال نسبتاً کم رہا-لیکن 11/9 کے بعد کثرت سے اس لفظ کا استعمال ہوا- اسلاموفوبیا کی وجہ سے مغربی دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو ایک دہشت گرد گروہ کے طور پر اور نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے -[9]

اس کے علاوہ غیر مسلم کی طرف سے کی جانے والی مکروہ حرکات میں سے قرآن پاک کی بے حرمتی ( نذر آتش کرنا، پاک کلام کے اوراق سڑکوں پر بکھیرنا) کرنے جیسے واقعات آئے دن نظر آتے ہیں-

حالیہ دنوں میں ڈنمارک، سویڈن اور ہالینڈ میں قرآن مجید کی بے حرمتی کرکےدنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کی گئی-کہیں (سویڈن میں) کلام پاک کو نذر آتش کیا گیا اور کہیں (ہالینڈ میں) قرآن مجید کے اوراق پھاڑ کر سڑکوں پر بکھیرے گئے- اس پس منظر کی بہت سی وجوہات میں سے ایک یہ ہےکہ سویڈن اور ڈنمارک کا نیٹو کے فوجی اتحاد میں شامل ہونے کی کوشش میں ترکی سب سےبڑی رکاوٹ ہے- اس رکاوٹ کے خلاف سویڈن میں ہونے والے مظاہروں کے دوران انتہائی دائیں بازو کی سٹرام کرس پارٹی کے رہنما نے ترکی کے سفارت خانے کے باہر قرآن مجید کا نسخہ نذر آتش کیا جو مسلم دنیا کے غم و غصہ کا سبب بنا- اس طرح کے شرمناک واقعات میں ہالینڈ بھی سر فہرست ہے-قرآن کریم کی بے حرمتی کے ایسے واقعات رونما ہونے کے بعد نہ صرف عوامی سطح پر احتجاج کا دائرہ وسیع ہوا بلکہ مسلم ممالک کی حکومتیں بھی اس کا حصہ بنیں-یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے نبی حضرت محمد (ﷺ) پر اترنے والی الہامی کتاب قرآن کریم کی بے حرمتی کسی بھی مسلمان کے لیے قابل قبول نہیں ہے اور یوں مسلمانوں کا غصہ میں آنا اور اپنے جذبات کا اظہار کرنا، جو ان کے ایمان اور قرآن کریم کے ساتھ وابستگی ہےایک فطری ردعمل ہے-قرآن حکیم سے محبت ہی ہے کہ اس احتجاج میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والا مسلمان شامل ہوتا ہے، اس کےساتھ مغربی ممالک میں رہنے والے مسلمان بھی قرآن کریم کی حرمت ا و ر تقدس کی بحالی میں ہمیشہ سے عالم اسلام کے ساتھ ہمہ تن نظر آتے ہیں-

قرآن کریم جوایک عالمگیرکتاب ہے اس کا مطالعہ نہ صرف مسلمانوں میں کیا جاتاہے بلکہ تحقیقی نقطہ نظر سے دیگر اقوام بھی اس میں غوطہ زن ہیں لیکن ان دونوں اقوام (مسلم اور غیر مسلم) کے مطالعہ میں زمین اور آسمان کا فرق ہے- یہ مغربی دنیا کا دوغلہ پن ہے کہ ایک طرف مقدس کلام کو تحقیقی مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں دوسری طرف بے حرمتی سے باز نہیں آتے ان کا یہ رویہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مسلمان بھی قرآن کریم کو اسی طرح نظرانداز کر دیں جس طرح دنیا کی مسیحی اکثریت نے بائبل کو اپنی عملی زندگی سے لاتعلق کر رکھا ہے- دوسری بات مغرب جو اپنے آپ کو عالمی انسانی حقوق کا علمبردار گردانتا ہے اس طرح کے بے حرمتی والے افعال پر اتنا ایکٹو نہیں جتنا مغربی اور غیر مسلم کے تحفظ میں نظرآتا ہے موجودہ صورت حال میں امریکہ، برطانیہ اور چند دیگر ممالک کا فلسطین کے خلاف اسرائیل کی مدد کی حمایت انسانی حقوق کی پامالی کی واضح مثال ہے-یہاں مسلم دنیا کا اور عالمی انسانی حقوق کے رکھوالوں (اقوام متحدہ اور دیگر اداروں) کی ذمہ داریوں کا جائزہ لینا انتہائی اہمیت کا حامل ہے-

بات کی جا ئے مسلم دنیا کی تو نہ صرف عوام اور حکومت نے مذمت کی ہے بلکہ مسلم ممالک کی آرگنائزیشن اسلامی تعاون تنظیم اور دیگر تعلیمی اداروں جن میں نمایاں،مصر کی جامعہ الازہر، نے مسلمانوں کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کو جرم قرار دیا ہے- انہوں نے عرب اور عجم کے مسلم ممالک کو بھی سویڈن مصنوعات کے بائیکاٹ کا کہا جو کہ ایک مناسب جواب ہےکیونکہ یورپی ممالک میں سویڈن، ہالینڈ اور دیگر چند ممالک غیر انسانی اور غیر اخلاقی جھنڈے تلے وحشیانہ جرائم کی آبیاری کا عزم رکھتے ہیں -[10]

اسی طرح اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے سیکرٹری جنرل حسین براہیم طحہ نے انتہائی دائیں بازو کے کارکنوں کی طرف سے قرآن پاک کو جلانے کے گھناؤنے فعل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور اس پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ قرآن پاک کی بے حرمتی کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے اور مذہبی بنیادوں پر منافرت کو روکنے کے لیے بین الاقوامی قانون کا استعمال ہونا چاہیے-OIC کے سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ ہمیں بین الاقوامی قانون کے فوری اطلاق کے حوالے سے عالمی برادری کو مسلسل یاد دہانی کرانی چاہیے، جو واضح طور پر مذہبی منافرت کی کسی بھی حمایت سے روکتا ہے-OIC کے سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا ہے کہ یہ اشتعال انگیز کارروائیاں جو انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسندوں اور دیگر شدت پسندوں کی طرف سے دہرائی جاتی ہیں اور مسلمانوں کو اس کا نشانہ بنا کر مقدس اقدار کی توہین کی جاتی ہے اس طرح کے واقعات کا نتیجہ اسلامو فوبیا، نفرت، عدم برداشت اور زینو فوبیا جیسی مختلف شکلوں میں نظر آتا ہے جن کا حقیقت کے ساتھ دور دور تک تعلق نہیں-OIC کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے سویڈش حکام پر زور دیا گیا کہ وہ نفرت انگیز اقدامات کے خلاف کارروائی کریں- یوں انہوں نے بین المذاہب کی یکجہتی و ہم آہنگی کیلئے بین الاقوامی کوششوں میں اضافہ کا مطالبہ بھی کیا -[11]

سویڈن میں قرآن کریم  کی بے حرمتی کے واقعہ کے خلاف پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مذمتی قرارداد منظور کی گئی-اس قرارداد میں سویڈن حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف ایسے اقدامات کرے جو صرف قانونی کارروائی تک محدود نہ ہوں بلکہ یقینی بنائے کہ آئندہ کوئی ایسا واقعہ پیش نہ آئے-مزید اس قرار داد میں عالمی تنظیموں اور سپر پاورز سے مطالبہ کیا گیا کہ مقدس کتابوں، علامات، مقامات اور عبادت کی جگہوں کی توہین کو قانونی طور پر جرم قرار دیں -[12]

مختلف ممالک اور آرگنائزیشن کے توہینِ مذہب پر قوانین اور مؤقف:

توہینِ مذہب دنیا کے کئی ممالک میں جرم ہے- امریکی تھنک ٹینک پیو ریسرچ سینٹر نے 2019ء میں دنیا کےتمام ممالک کے قوانین کا جائزہ لے کر ایک رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا ہے کہ کم از کم 79 ایسےممالک ہیں جہاں توہینِ مذہب کو جرم قرار دیا گیا ہے- ان قوانین میں خدا یا کسی مقدس ہستی سے متعلق کسی بھی اہانت آمیز تقریر و تحریر یا عمل کو توہینِ مذہب کے زمرے میں شمار کیا گیا ہے-ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان، برونائی، ایران، موریطانیہ، نائیجیریا، پاکستان اور سعودی عرب (سات) ایسے ممالک ہیں جہاں توہینِ مذہب کی سزا میں موت کی سزا شامل ہے- مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے 20 میں سے 18 ممالک ایسے ہیں جہاں توہینِ مذہب کو جرم قرار دیا گیا ہے-عراق میں کسی بھی مذہبی فرقے یا جماعت کے لیے مقدس شخصیت یا علامت کی سرِ عام توہین پر 3 سال تک قید کی سزا ہے-فرقہ ورانہ کشیدگی کے باعث 1975ء سے 1990ء تک خانہ جنگی کا شکار رہنے والے ملک لبنان میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی مذہبی طبقے یا مکتبِ فکر کی مقدس شخصیات یا علامات کی توہین کو جرم قرار دیا گیا ہے جس میں 3 برس تک کی سزا ہو سکتی ہے- جبکہ امریکہ کے آئین کی پہلی ترمیم میں دیئے گئے آزادیٔ اظہار کے تحفظ کی بنا پر احتجاج کے لیے قرآن کریم یا کسی مذہبی کتاب کو نذرِ آتش کرنے کو غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا-سال 2020ء میں ریاست فلوریڈا کے ایک مسیحی رہنما ٹیری جونز نے نائن الیون حملوں کی برسی کے موقع پر قرآن نذرِ آتش کرنے کا اعلان کیا تھا اس اعلان پر حکام نے تشویش کا اظہار تو کیا تھا لیکن وہ ٹیری جونز کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کرسکے تھے- جونز اس سال تو اپنے منصوبے پر عمل نہیں کرسکے تاہم اگلے سال فلوریڈا ہی میں قرآن نذرِ آتش کیا تھا -[13]

انیسویں صدی کے آخر تک سوئیڈن میں توہینِ مذہب سنگین جرم تھا اور اس کی سزا ، سزائےموت تھی- لیکن رفتہ رفتہ قانون میں مذہب کا عمل دخل ختم ہونے سے توہینِ مذہب سے متعلق قوانین نرم ہوتے گئے- 1970ء میں سوئیڈن میں توہینِ مذہب سے متعلق تمام قوانین ختم کردیئے گئے-[14]

یو ں سزا کا قانون ختم ہونے کے بعد اس طرح کے واقعات نے شدت پکڑی، یہ شدت پسندی آہستہ آہستہ مغرب کے دیگر ممالک میں بھی پھیلتی گئی- اکیسویں صدی کے آغاز پر مقدس کلام اورمقامات کی بے حرمتی کے واقعات کےاضافے پردنیا کے کونے کونے سے اٹھنے والی آواز کو دبانا آسان نہیں تھا- اس پریشر کو دیکھتے ہوئے ڈنمارک کی پارلیمان نے ایک سیشن میں مقدس کتاب قرآن مجید کی ’بے حرمتی اور توہین‘ کرنے پر پابندی عائد کر دی- اس قانون کو ملک میں ’’قرآن قانون‘‘ قرار دیا- اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 2 سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے-یوں ڈنمارک کی پارلیمان میں اس قانون کے حق میں 94 افراد جبکہ 77 نے اس کے خلاف ووٹ دیا -[15]

چین نے مسلمانوں کی مقدس کتاب ’قرآن مجید‘ کو جلانے کے واقعہ کی شدید مذمت کی اور کہاکہ تہذیبوں کے درمیان تنازعات اور دشمنی پیدا کرنے کے لیے نام نہاد ’’آزادیٔ اظہار‘‘ کا کوئی جواز نہیں-چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے ایک نیوز چینل کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ چین مسلمانوں کی کتاب قرآن مجیدکو نذر آتش کرنے کی شدید مذمت کرتا ہے-چین تہذیبوں کے درمیان شدت اور مذاہب کے فوبیا کی سختی سے مخالفت کرتا ہے -[16]

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA)کی قرار داد نمبر 167/66 (2011) کے مطابق دنیا کے بہت سے حصوں میں موجود عدم برداشت، امتیازی سلوک اور تشدد کی کارروائیوں پر ایسے اقدامات جو خاص طور پر مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر افراد کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں ناقابل برداشت ہیں جو مختلف قوموں کے درمیان نفرت اور تشددکی فضا پیدا کرتےہیں-مزید یہ کہ اسمبلی کے پلیٹ فارم پر اس طرح کے واقعات کی روک تھام اور مذہبی و ثقافتی احترام کی اہمیت پر زور دیا گیا -[17]

یورپی یونین نے سویڈن میں قرآن کریم کو نذر آتش کرنے پر اپنے ’سخت ردِ عمل‘ کا اظہار کیا ہے اور اس عمل کو ’جارحانہ، بے عزتی پر مبنی اور اشتعال انگیزی کا واضح عمل‘ قرار دیا ہے- یورپی یونین کے مطابق یہ عمل کسی بھی طرح یورپی یونین کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا-یورپی یونین کے بیان کے مطابق قرآن کریم جلانے کا عمل اس لحاظ سے بھی زیادہ افسوس ناک ہے کہ یہ ایسے وقت میں کیا گیا جب مسلمان عیدالالضحیٰ منا رہے تھے -[18]

اقوامِ متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق (UNHR) نے28 جون 2023ء کو سوئیڈن میں قرآن پاک کے نذرِ آتش کے واقعہ پرہنگامی بحث کا آغاز کیا، دنیا میں بڑھتے ہوئے نفرت انگیز اور اشتعال انگیز واقعات پر تشویش کا اظہار کیا-سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والے اجلاس میں اقوامِ متحدہ کے ہیومن رائٹس ہائی کمشنر والکر ترک نے کہا ہےکہ بظاہر قرآن مجید نذرِ آتش کرنے جیسے واقعات اشتعال انگیزی اور تقسیم پیدا کرنے کی سوچی سمجھی کوشش لگتے ہیں-اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلیٰ عہدیدار نے مذہبی رواداری اور احترا م کی تکریم پر زور دیا-انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر والکر ترک نے کہا ہے کہ :

’’مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر اور کارروائیاں جو یہودی، عیسائی اور دیگر غیر مسلم اقوام کی دشمنی کا سبب بنتی ہیں سراسر غلط ہیں مزید انہوں نےکہا کہ نسل پرستی، نسلی امتیاز، زینو فوبیا، عدم برداشت، صنفی امتیاز اور انتہا پسندی کے عوامل تنازعات بڑھانے کا سبب بنتی ہیں- سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں دیگر چیزوں کے علاوہ رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ عوامی سطح پر تشدد، نفرت انگیز تقریر اور انتہا پسندی کی مذمت کریں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ عدم برداشت کے نظریے کے پھیلاؤ اور نفرت پر اکسانے کو روکیں ‘‘-[19]

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (UNHRC) کی طرف سے منظور کردہ قرارداد 16/18کے مطابق:

’’ عدم برداشت کا مقابلہ کرنا، منفی تصورات، تشدد پر اکسانے کے واقعات، امتیازی سلوک اور مذہب یا عقیدے پر تشدد جیسے واقعات اقوام کے درمیان نفرت اور باہمی ہم آہنگی کو ختم کرنے کے مترادف ہیں اس طرح کے نتائج کی روک تھام کیلئے تمام ممالک کی حکومتوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے جو افراد کو امتیازی سلوک اور نفرت انگیز جرائم سے تحفظ فراہم کرکے بین المذاہب اور بین الثقافتی کوششوں میں اضافے کا سبب ہوں‘‘- [20]

ہم دیکھتے ہیں کہ جنگ عظیم دوم کے بعدنیشنل، ریجنل اور انٹرنیشنل آرگنائزیشنز کارجحان بڑھا- ان تنظیموں کا مقصد دنیا میں امن وامان کی صورت حال کو متوازن رکھنا تھا لیکن نتائج اس کے برعکس نظر آتے ہیں کیونکہ صرف پیپر ورک کافی نہیں امن و امان کو بیلنس رکھنے میں دنیا میں کام کرنے والے ادارے ان حالات و واقعات کےسنگین رزلٹ سے بچنے کیلیے وقتی کام کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کی طرف سے ہونے والے فیصلوں پر عمل درآمدنظر نہیں آتا- موجودہ صورت حال میں سویڈن، ہالینڈ اور ڈنمارک کے یکے بعد دیگرے اس طرح کے گھناونے افعال کے بعد جنرل اسمبلی کی طرف سےہر سال 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کا دن منانا ایک اچھا اقدام ہے لیکن خود کو امن و استحکام قائم رکھنے کا دعویدار کہنے والا ادارہ (اقوام متحدہ) ان ممالک پر کوئی ٹھوس اقدام نہیں کرتا جو اس طرح کی نفرت بھرے واقعات کا سبب بنتے ہیں- روک تھام کی بحث جنرل اسمبلی اور ہیومن رائٹس کےفورم پر تو نظر آتی ہے لیکن اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل (جو کہ ایک مین آرگن ہے) میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہے- مغربی سپر پاورز جو انسانی حقوق کے ٹھیکیدار کہلاتے ہیں دنیا کی ایک بڑی آبادی والی قوم کی مقدس کتاب کی پامالی پر فورًا ایکشن لینے سے قاصر ہیں جو اس کی بے حسی کی واضح مثال ہے- اس بے حسی کے بعد ایسے اداروں اور سپر پاور کو مردہ پاور یا مردہ ادارارے نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے-

اس تمام بحث کا اختتام اس نتیجہ کی طرف لے کر جاتا ہے کہ یہ صرف اور صرف امت مسلمہ کا مسئلہ ہےاس کا دکھ اور درد بھی صرف اسی قوم کا ہے- جب تک مسلم اکابرین اور اسلاف علم کے ذریعے جہاد کرتے رہے تب تک دنیا کی کسی قوم میں مسلمانوں کو نیچادکھانے کی سکت نہیں تھی -موجودہ صورت حال میں روزانہ کی بنیاد پر کئی کتابیں اور پمفلٹ اسلام مخالفت میں لکھ کر پبلش کیے جارہے ہیں جبکہ اس کو counter کرنے کے لئے مسلم دنیا کی طرف سے نہ ہونے کے برابر کام کیا جا رہا ہے- اسلام مخالف قوتوں کو بھر پور جواب دینے کے لیے مسلم دنیا کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا-اسلامی دنیا کے 57 ممالک کو ہر پلیٹ فورم پر اسلام مخالف قوتوں کےخلاف آواز بلند کرنا ہوگی-مسلم دنیا کی (انٹرنیشنل آرگنائزیشن) اسلامی تعاون تنظیم کے تمام ممالک کو متحد ہو کر اسلام مخالف قوتوں کوروکنا ہوگا-مغربی طرز کو فالو کرتے ہوئے دشمن ممالک کے ساتھ سماجی اور معاشی تعلقات کا بائیکاٹ کرنا ہوگا-اسلام مخالف قوتوں کو جواب دینے کے لیے مسلم دنیا کی طرف سے بین الاقوامی میڈیا پلیٹ فورم بنانا ہوگا- “Islam Is Peace”کے موضوع پر انگلش اور دوسری مغربی زبانوں میں لٹریچر مغرب کی نسل نو میں پھیلانا ہوگا تاکہ نئی نسل کی اسلام مخالف سوچ کو تبدیل کیا جاسکے-مسلم اُمہ کو روزانہ کی بنیاد پر پبلش ہونے والے اسلام مخالف مواد کو روکنا ہوگا-یہ وہ اقدامات ہیں جن پرعمل پیرا ہو کر توہین قرآن اور توہین مذہب جیسے واقعات کو روکا جا سکتا ہے-

٭٭٭


[1](البقرۃ:2)

[2](الحجر:9)

[3](النجم:3-4)

[4](الکہف:109)

[5](لقمان:27)

[6](احیاء العلوم)

[7](صحیح بخاری و مسلم)

[8]https://visualfractions.com/unit-converter/convert-1-billion-to-arab

[9]https://ur.wikipedia.org/s/3pug

[10]https://ur.mehrnews.com/news/1917944/

[11]https://ur.mehrnews.com/news/1917525

[13]https://d2nxu8ddenvtvf.cloudfront.net/a/why-does-sweden-allow-quran-burnings-21jul2023/7190415.html

[14]I.b.i.d

[15]https://www.bbc.com/urdu/articles/c3g2l512wgwo

[20]https://www2.ohchr.org/english/bodies/hrcouncil/docs/16session/a.hrc.res.16.18_en.pdf

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر