تفسیر الجیلانی ؒکا عصر حاضر کے رجحانات میں جائزہ

تفسیر الجیلانی ؒکا عصر حاضر کے رجحانات میں جائزہ

تفسیر الجیلانی ؒکا عصر حاضر کے رجحانات میں جائزہ

مصنف: مفتی محمد اسماعیل خان نیازی مارچ 2024

ؒتمام اہل طریقت کی تمام عظیم شخصیات جن سے بہ کثرت سلاسلِ تصوف نے اکتساب فیض کیا ان میں سب سے ممتاز مقام سیدی مرشدی محی الدین پیرانِ پیر شیخ عبد القادر الجیلانی البغدادی کی شخصیت کا ہے-اہل طریقت کا آپؒ کی ذاتِ اقدس سے نسبت و عقیدت میں پختگی و وارفتگی کو الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے- فقر و ولایت میں دیے گئے اسماء و القاب آپؒ کی عظمت و اعترافِ عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں- مثلاً: غوث الاعظم، غوث الثقلین، قطبِ ربانی، شاہبازِ لامکانی، باز اللہ الاشہب، میراں، محی الدین، دستگیر، واہب المراد،قطب الارشاد، مرجع الاوتاد،شہنشاہ بغداد، اِن کے علاوہ بھی کثیر ہیں-

عوام الناس میں آپؒ  کا عام طور پر تعارف ’’تصوف‘‘ کے حوالے سے کیا جاتا ہے اور اس میں شک بھی نہیں ہے اور آپؒ کی شانِ اقدس کا یہ پہلو بلا شک و شبہ ضرور ہے- لیکن آپؒ کی شخصیت کا ایک بنیادی پہلو آپؒ کے علم کی عظمت و شان کا بھی ہے جس کو فی زمانہ بہت کم علماء کرام بیان کرتے ہیں-حالانکہ تمام سلاسل آپؒ  سے اکتساب فیض کا دعوٰی کرتے ہیں بلکہ کوئی بھی صاحب ولایت آپؒ کے درِ اقدس کی چاکری کے بغیر دعوٰی ولایت میں صادق نہیں ہو سکتا- جیساکہ حضرت سُلطان باھو (﷫)فرماتے ہیں:

’’ہر طریقہ کہ جس خانوادہ کو بھی دولت و نعمت ملی حضرت شاہ عبدالقادر جیلانیؒ کی بارگاہ اقدس سے ملی،جو بھی قادری طریقے کا منکرہوا وہ دنیا وآخرت میں مردود ہوا‘‘-[1]

ایک اورمقام پہ آپؒ ارشادفرماتے ہیں:

ہر کہ او بندہ خدا امت نبی ؐ
خاک بوسی می کند با قادری

’’جو بھی اللہ عزوجل کا بندہ اورحضور نبی کریم (ﷺ) کاامتی ہے وہ بارگاہِ قادریہ کی خاک بوسی کرتا ہے‘‘-[2]

اس لیے ہمارے لئے لازم ٹھہرتا ہے کہ جہاں ہم آپؒ کے چشمۂ روحانیت سے اپنی پیاس کو بجھاتے ہیں وہاں ہم پر یہ بھی لازم ہے کہ دینِ مُبین کے جس علم کی محافظت و آبیاری غوث پاکؒ نے کی ہے اس علم کے چشمے سے بھی خود کو سیراب کریں- متعدد سیرت نگاروں نے آپؒ کے متعلق لکھا ہے کہ:

’’جب آپؒ اپنی والدہ کے حکم سے پڑھنے کیلئے آئے تو 30 برس تک آپؒ بغداد کے مختلف شیوخ سےعلمِ فقہ، علمِ حدیث، علمِ تفسیر اور علمِ تصوف علم حاصل کرتے رہے‘‘-

محمد بن یحیٰ التاذفیؒ ’’قلائد الجواہر‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:

’’سیدنا شیخ عبد القادر جیلانیؒ اپنے جد امجد اپنے نانا جان آقا دو عالم (ﷺ) کی احادیث کے حافظ تھے‘‘- (یعنی آپؒ حافظ الحدیث [3]تھے)-

اللہ تعالیٰ نے غوث الاعظمؒ کو اتنی علمی وسعت عطا فرمائی تھی کہ آپؒ نے مختلف موضوعات پہ کئی کتب رقم فرمائیں اور آپؒ کی کتب مبارکہ کی طویل ترین فہرست ہے-کچھ کتب مبارکہ تو منظر ِ عام پر ہیں جبکہ آپؒ کی بے شمار کتب تاتاریوں کے بغداد پر حملے کے دوران ضائع ہو گئیں-اسی طرح آپؒ نے قرآن مجید کی دو تفاسیر مرتب فرمائیں- ایک کا نام ’’مسک الختام‘‘ہے جو کہ ابھی تک غیر مطبوعہ ہے مگر اس کا خطی نسخہ کتب خانۂ بغداد شریف میں موجود ہے- دوسری ’’تفسیر الجیلانی‘‘ جو کہ 6 جلدوں پر محیط ہے، استنبول اور بیروت سے چھپتی رہتی ہے -

ابھی ہم آپؒ کی تصنیف لطیف ’’الفواتح الالھیۃ و المفاتح الغیبیۃ الموضحۃ للکلم القرآنیۃ والحکم الفرقانیۃ، المسمیٰ تفسیر الجیلانی(ؓ)‘‘کو عصر حاضر کے تناظر میں لکھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں -

عقلِ محض  سے اللہ عزوجل کو پرکھنے والوں کا ردّ:

آج روشن خیالی اور ماڈرنزم کے نام پر الحاد کی جدید شکل بعض مقامات پہ دیکھنے کو ملتی ہے وہ ہے دہریت (ذاتِ باری تعالیٰ کا معاذاللہ انکار)اور اللہ عزوجل کی ذاتِ اقدس کو محض عقلی پیمانوں پر پرکھنااور یہ نفس و شیطان کا ایسا کاری وار ہے جس کے بعد وہ خود کو ہراسلامی ضابطے و قانون سے آزاد تصور کرتا ہے- آپؒ اپنی تفسیر میں ان لوگوں کے افکار کا قلع قمع کرتے ہوئےفرماتے ہیں:

’’اللہ عزوجل کی ذاتِ مقدسہ اس بات سے کہیں ارفع واعلیٰ ہے کہ ہرپینے والے کا گھونٹ بن سکے اورا س سے ارفع ہے کہ ہرمسافر کا مقصود بن سکے،اس کی تلاش کرنے والا بھی عجیب ہوتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہرمتلاشی تلاش کے اس مقام پرکھڑا ہوتا ہے جس میں ’’مَاعَرَفْنَاکَ حَقَّ مَعْرِفَتِکَ‘‘ (ہم نے تجھے اس طرح نہیں پہچانا جس طرح تجھے پہچاننے کا حق ہے)کے سوا کوئی گنجائش نہیں -اللہ عزوجل کی ذاتِ اقدس لوگوں کے علم سے بہت بلند ہے ‘‘- [4]

سیّدی رسول اللہ () کی اتباع کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں :

کچھ لوگ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ جب قرآن پا ک میں سب کچھ موجود ہے اس لیے قرآنی احکام پہ عمل کر لینا ہی کافی ہے-حالانکہ ان ناعاقبت اندیشوں کو اس بات کاعلم نہیں کہ خود قرآن پاک اطاعت اور اتباعِ مصطفٰے (ﷺ) کا درس دیتا ہے-قرآن پاک کے ان اجمالی احکامات کو اپنے لیے کافی سمجھنے والوں کو آپؒ درسِ نصیحت یوں ارشادفرماتے ہیں :

’’یاد رکھنا غور و خوض اورتامل تجھے اس وقت تک میسر نہ آئے گا جب تک تو آقا دو عالم(ﷺ) کے ارشادات عالیہ پر عمل کر کے اپنے ظاہر کی صفائی حاصل نہ کرے گا اور آپ (ﷺ) کے بتلائے ہوئے طریقہ پر چل کر پاکیزگی حاصل نہ کرے گا کیونکہ آپ (ﷺ) کے تمام ارشادات در اصل قرآنی کلمات سے ہی حاصل کئے گئے ہیں اور دوسری بات یہ کہ تُو جب تک اپنے باطن کو حضور نبی کریم (ﷺ) کے افعال و اخلاق سے مزین نہ کرے گا‘‘-[5]

مرشد کامل کے سامنے ’’تسلیم و رضا‘‘ کا پیکر بننا:

آج مادیت کے دور میں مرشد و رہبر کامل کی تلاش و طلب اول تو لازماً سمجھی نہیں جاتی-اگر کہیں اس کو تسلیم کرنے والے مل ہی جائیں تو اس کے تقاضوں کا نظرانداز کردیا جاتا ہے-بلاشبہ طالب پہ لازم ہے کہ اپنی تلاش وجستجو کے پیمانوں کوسو فیصد رکھے اور نقلی و جعلی عاملوں سے اپنے دامن کو بچائے-لیکن جب اس کو کسی کامل کا آستان مل جائے تو سیّدنا غوث الاعظمؒ کی تعلیمات ذہن میں رکھنی چاہیئں جیساکہ آپؒ ارشادفرماتے ہیں:

’’جو گفتگو اور سوال و جواب جناب موسیٰ اور خضر (علیہ السلام) کے درمیان ہوئے- اس سے ہر وہ شخص جو عارف، لبیب، طالب اریب اور ادیب ہے -وہ سمجھ جاتا ہے کہ کسی سے کوئی فائدہ حاصل کرنے اور رشد و ہدایت کی شرط اور اپنے (باطن کی) تکمیل اور رہنمائی کی طلب کا اصول یہ ہے کہ مرید اور رُشد و ہدایت کا طالب اپنے نفس کو کامل و مکمل مرشد کے سامنے ارادی موت سے مار ڈالے- اس طرح کہ مرشد کے سامنے معارضہ و مقابلہ کرنے کے درپے نہ رہے- اگر چہ اسے اپنے گمان کے مطابق یقین ہو کہ مرشد کا فعل عقل و شرع سے خارج ہے بلکہ مرشد کے ایسے فعل کو انتہائی درست اور انتہائی کامل شمار کرے- بحث و مباحثہ اور جدال سے خاموش رہے- اس لئے کہ جب اس نے اپنا معاملہ مرشد کے سپرد کر دیا-اسے اپنا وکیل بنالیااور اسے اپنا ضمانتی و کفیل بنالیا،تو یقیناً وہ اس میں فنا ہو گیا اور اس کی بقاء سے باقی ہے- لہٰذا اب اس کی قوتوں، اعضاء، مدارک و مشاعر کا تصرف اصلاً باقی نہ رہا، اے ہمارے رب! ہمیں اپنی طرف سے ایسی رحمت بخش دے جو ہمیں ہمارے نفوس کی من گھڑت باتوں سے نجات دے دے ‘‘- [6]

وصالِ الٰہی کی دعوت:

الحمدللہ! مسلمانوں کی اکثریت اسلام و ایمان پہ عمل پیرا تو ہے لیکن ’’احسان‘‘ جوکہ حدیث جبریل ؑ کا لازمی حصہ ہے-ا س کو نظر انداز کردیتے ہیں حالانکہ عرفاء وصلحاء کے نزدیک عبادت کا مقصود ہی اس مقام تک پہنچنا اور ان کیفیات سے لطف اندوز ہونا ہے -آپؒ نے اس مقام کی طرف رہنمائی فرماتے ہوئے اور اس کا عملی طریق بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’یہ حالت (حالتِ معراج) اس وقت تک میسر نہیں ہوتی جب تک اوصاف بشریہ کے تقاضوں سے ارادی موت مرا نہ جائے اور پسندیدہ اخلاق اور اعلیٰ و ارفع عادت سے اپنے آپ کو مزین نہ کر لیا جائے ‘‘- [7]

مزید ایک اور مقام پہ آپؒ ارشادفرماتے ہیں:

’’یہ مقام و مرتبہ تجھے اس وقت حاصل ہوگا - جب تو اپنی موت ارادی اختیاری (یعنی ’’مُوتُوا قَبْلَ أَنْ تَمُوتُوا‘‘)سے اپنے اوصاف بشریہ کے تقاضوں کو ختم کردے گا اور یہ بات مشکل اور گراں گزرنے والی ریاضتوں سے حاصل ہوتی ہے جو خواہشات و غفلتوں کے میل کو اکھیڑ پھینک دیتی ہے اور ان عادات کو خیر باد کہنے سے حاصل ہوتی ہے جو جاہل لوگوں کے نفوس میں رچی بسی ہوتی ہے؛ اور عزلت و خلوتوں کی طرف جھکاؤ سے پیدا ہوتی ہے؛ اورتخمین و تقلید والے لوگوں کی رسوم سے منقطع ہونے پر حاصل ہوتی ہے  اور عام اوقات و حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف کٹ جانے سے حاصل ہوتی ہے‘‘- [8]

اللہ تعالیٰ، آقا کریم() اور کتاب اللہ لازم وملزوم:

’’وہ پیغمبر اعظم(ﷺ) جنہیں اللہ عزوجل نے اپنی صورت پر پیدا فرمایا، جنہیں تمام کائنات کی طرف مبعوث فرمایا ‘‘-[9]

کچھ لوگ (یہود و نصارٰی وغیرہ) جو اللہ تعالیٰ کی ذات مقدسہ کو تو مانتے ہیں لیکن  آقا کریم (ﷺ) کی اتباع کو لازم نہیں سمجھتے اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمیں قرآن مجید ہی کافی ہے اور وہ سنتِ رسول (ﷺ) کو معاذ اللہ پس پشت ڈال دینے میں عار نہیں سمجھتے؛ان کا ردبلیغ آپؒ نے  یوں ارشادفرمایا :

’’ یہ بھی تمہارے علم میں ہے کہ اسباب کا سلسلہ اس کی ذات مقدسہ پر ختم ہوتا ہے اس کے سوا کوئی موجود نہیں بلکہ موجود صرف اور صرف وہی ہے اور وہی ہے جس کے قبضہ قدرت میں غیب کی کنجیاں ہیں- اس مقام کی تحقیق اور اس مقصد تک رسائی اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک اللہ تعالیٰ کے اخلاق کو اپنا نہ لیا جائے اور اللہ تعالیٰ کے اخلاق سے مزین ہو جانا اس وقت تک میسر نہیں آتا جب تک اس ذات کی متابعت نہ ہو جو اس کے اخلاق کی کامل ومکمل جامع ہے اور اخلاق باری تعالیٰ سے مکمل مزین ہونے والے حضرات میں ہمارے پیغمبر (ﷺ) سب سے زیادہ کامل ہیں اورآقا کریم (ﷺ) جو اخلاقِ الٰہیہ سے بہ طریقیہ اکمل متصف ہیں کے اخلاق سے متصف اس وقت تک نہیں ہوا جا سکتا جب تک اس کتاب کو راہنما نہ بنایا جائے جو اللہ تعالیٰ کے تمام اخلاق کی جامع ہے اور آپ (ﷺ) کےمرتبہ پرنازل کی گئی ہے ‘‘- [10]

مزید ہدایت  کو آقا کریم(ﷺ)کی اتباع سے مشروط کرتے ہوئے ارشادفرمایا:’’ اس کتاب سے رشد و ہدایت اس بات پر موقوف ہے کہ آدمی کسی قدر ان اوصاف سے خود کو متصف کرتا ہےجو اوصاف اس شخصیت اقدس (ﷺ) کے تھے- جن پر یہ کتاب اتاری گئی اور ان کے اخلاق سے خود کو کہاں تک متخلق کرتا ہے اور آپ (ﷺ) کے آداب کو کہاں تک سیکھتاہے، آپ (ﷺ) کی سُنت مبارکہ پر بغیر کسی چیز کو چھوڑے اور ذرہ بھر سُستی کیے بغیر کس حدعمل کرتا ہے‘‘-[11]

انسان؛ اللہ عزوجل کے اسماء وصفات کا مظہر :

کچھ لوگ ظاہری انسا ن (جوکہ بلاشبہ ایک ملے جلے نطفے کی پیدائش ہے )تک اکتفاء کرجاتے ہیں اور وہ فضائل وکمال جو اللہ عزوجل نے انسان کو عطافرمائے ہیں ان کو نظر انداز کر دیتے ہیں -آپؒ ان کو جھنجھوڑتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :

’’وہ (اللہ ) وہی ہے جس نے زمین پر تمہیں خلیفہ بنایا اور اس نے تمہاری صورت اپنی صورت پر بنائی اور اپنے تمام اوصاف و اسماء کا تمہیں مظہر بنایا ‘‘- [12]

مزیدارشادفرمایا:’’مظہر کامل و جامع کہ جس سے اسماء و صفات الٰہیہ کے تمام آثار علی التفصیل چمکتے ہیں وہ انسان کامل ہے- اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی صورت پر پیدا فرمایا اور اپنی تمام مخلوقات میں سے اس کو خلیفہ بنایا اور اپنی تمام مخلوق پر اس کو بزرگی بخشی اور اسے اپنے معارف و حقائق کے طیبات میں سے رزق دیا اور بذاتہٖ اس کے خیر کی طرف التفات فرمائی - اپنے رسول بھیج کر اس کی تربیت کے بعد اور اپنی کتابیں نازل فرما کراس کی پرورش کی تاکہ اس میں سے وہ تمام کمالات جواللہ کے اسماء حسنٰی اور صفات علیا پر مرتب ہوتے ہیں جو اس میں ودیعت کئے گئے ہیں ان کا ظہور ہو-حتیٰ کہ یہ مرتبۂ خلافت و نیابت پر متمکن ہو سکے اور توحید کے آرام گاہ میں مقیم ہو- اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان پر احسان کرتے ہوئے ندا فرمائی تاکہ اس کی طرف بڑھیں اور تقویٰ کی انہیں وصیت کی تاکہ اسے ہی اپنی ڈھال اور نگہبان سمجھیں‘‘- [13]

آدابِ تلاوت:

آج  قرآن پاک کی تلاو ت تو شب وروز اور ہر جگہ  کی جار ی ہے لیکن جب اس کے ثمرات کی بات کی جائے تو وہ ہمیں خال خال اور بہت کم نظر آتے ہیں ،ا س کی نشاندہیؒ یوں ارشادفرماتے ہیں :

’’پس تلاوت کے وقت تیرے لئے ضروری ہے کہ تو اپنے ظاہر اور باطن کو اپنی بشریت کے تمام لوازمات سے پاک کرے، اس حیثیت سے تجھ سے تیرا نفس غائب ہو جائے -تو ھویت اور شان فناء ہو جائے اور تجھے تیرا رب(اپنی شایان ِ شان) اپنی زبان و کلام اورنطق سے گویا کرے، جب یہ حالت تجھ میں راسخ ہوگئی اور یہ حالت تیری خصلت و عادت بن گئی توتُو اس کی تلاوت سے اپنے حصہ پر کامیاب ہوجائے گا اور خیال رکھنا کہ تو اس کی قرأۃ کے وقت اس کے محض اشارہ، اس کی روایت کی باریک بینی اور اس کی درایت کی باریک باتوں میں پڑ کر غفلت کا شکار نہ ہوجانا-جب تیرا باطن تمام آلائشوں سے صاف اور خالی ہو جائے اور تیری عادت عوائق سے مکمل طور پر خالص ہوجائے تو اب تیرے لیے صحیح ہے تو اس کتاب سے رشد و ہدایت طلب کرے- اس قدر جس قدر اللہ تعالیٰ نے تیرے مقدر میں رکھی ہے اور اس نے اپنے سابق علم میں تجھے اس کی توفیق عنایت فرمائی ہے ایک وہ جو چاہتا ہے اس پر قادر ہے اور اپنی طرف سے اجابت کا حقیقی مستحق ہے‘‘- [14]

امر ونواہی کی پابندی میں مرشد کامل کی ضرورت واہمیت:

’’اےحق کی تحقیق کے طالب! اللہ تجھے تیرے مقصد و مقصود کی بلندیوں تک پہنچا دے- تجھ پر لازم ہے کہ تو اس واضح برُہان سے تمسّک کرے جو رسول کریم (ﷺ) کی طرف سے تجھ تک پہنچی- جو توحید حق پر دلالت کرنے والی ہے اور تجھ پر یہ بھی لازم ہے کہ تو قرآن کریم کے نور سے نورانیت حاصل کرے- وہ قرآن کریم جو حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والا ہے- وہ حق و باطل جس کا حق کے راستے میں سامنا کرنا پڑتا ہے اور تجھ پر لازم ہے کہ قرآن کریم کے او امر پر پوری طرح عمل بجا لائے جو طریق حق کی طرف پہنچانے والے ہیں اور تجھ پر یہ بھی لازم ہے کہ اس کے نواہی سے اجتناب برتے جو گمراہ کن اور حق کے راستے سے دُور لے جانے والے ہیں اور یاد رکھنا کہ یہ کام تیرے لئے یونہی آسان نہ ہو جائے گا بلکہ اس کے لئے تجھے مرشد و کامل مکمل کی خدمت کرنا پڑے گی جو اللہ کی طرف تیری رہنمائی کرتا ہے وہ ازل ذات سے اسماء وصفات کے ابد تک کھینچی ہوئی ایک لمبی رسی ہے،خبردار اس کا نام قرآن ہے جو خیر الانام (ﷺ) پر اتارا گیاجیسا کہ رسول اکرم(ﷺ) نے ارشادفرمایا:’’قرآن اللہ کی رسی ہے جو آسمان سے زمین کی طرف تانی گئی ‘‘-[15]

ایک اورمقا م پر آپؒ ارشادفرماتے ہیں:

’’اے طالب تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ ہدایت کے راستہ کی طرف قوم اور اس کی نشانیوں کی واقفیت صرف اس وقت حاصل ہوسکتی جب اللہ عزوجل کا کوئی پیغمبر ،تنبیہہ کرنے والا اس پر تنبیہ اور کوئی مرشد کامل خیر بصیر اس کی راہنمائی اور اس طرف ر ہبری فرمائے ‘‘- [16]

احکام شرعیہ کی ضرورت واہمیت:

’’پس جو شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ قرآن مجید کے سمندر میں غوطہ زن ہوتا کہ یقین وعرفان کے یکتا موتی نکالے تو اس پر لازم ہے کہ وہ پہلے ان احکام ِ شرعیہ پر عمل پیرا ہو، جنہیں عزائم صحیحہ کے ارباب نے قرآن کریم کے کلمات کے ظاہر سے استنباط کیا تاکہ وہ اہلِ طلب و ارادہ میں سے بیدار و ہو شیار رہنے والے حضرات کے ظواہر کے لئے مہذب ہو جائے حتی کہ اِن کی وجہ سے ان کے نفوس میں استعداد آ جائے اور ان کے باطن صاف ہو جائیں تا کہ توحید کے سمندر کے چھینٹے ان پر پڑیں اور وہ اس قابل ہو جائے کہ عشق و محبت کا سلطان ان پر اُترے- اس لئے کہ توحید کے مغز کی حفاظت احکام شرعیہ کرتے ہیں‘‘- [17]

اللہ بس ماسوی اللہ ہوس:

تما م صوفیاء کرام بلکہ انبیاء کرام(علیھم السلام) کی بعثت کا مقصد بھی یہ یہی تھا یہ نکتہ تما م مخلوق کے ذہنوں میں راسخ ہوجائے کہ اللہ عزوجل کے سوا ہر چیز فانی ہے اور کائنات میں صرف اسی اکیلے وحدہ لاشریک کی ذاتِ اقدس جلوہ گر ہے اسی چیز کی وضاحت فرماتے ہوئے محبوب سُبحانی ،قطب ِ ربّانی سیّدی الشیخ عبدالقادر جیلانیؒ اپنی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں:

’’اللہ عزوجل کے  غیر کا وجود ہی نہیں اور اس کے سوا کا بالکل ثابت ہی نہیں -لہٰذا افعال یقینیہ ، آثار محکمہ اور نظام محسوس و مشاہدہ جو اس خوبصورت ضابطہ کے ساتھ چل رہا ہے یہ سب اس پر دلالت کرتے ہیں کہ ان کا فاعل ایک ہے لیکن یہ اس شخص کیلیے ہے جو عقل مستدل کے دامن سے وابستہ ہو - اے اہل کشف و شہود اور جمال و جلال خدا کے مطالعہ میں مستغرق حضرات تو وجود میں صرف اسے ہی دیکھتے ہیں اس لیے وہ آثار، افعال، حرکات، سکنات اور کائنات میں رُونما ہونے والے حوادثات کو مطلقاً اسی کی طرف منسوب کرتے ہیں اور یہ اسناد اولاً اور بالذات ہے - وہ اسباب و وسائل کی طرف نہیں دیکھتے بلکہ وہ انہیں اللہ عزوجل کی تجلیات کی شعاعیں اس کے شوؤن کی کرنیں کہتے ہیں-اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنے بندوں کو اپنے حبیب مکرم (ﷺ) کے وسیلہ جلیلہ سے خطاب فرماتے ہوئے تنبیہ فرمائی کہ کائنات میں رونما ہونے والی تمام تدابیر اسی ذات کی طرف منسوب ہوتی ہیں اور بالاستقلال اس سے صادر ہوتی ہیں‘‘- [18]

ایک اورمقام پہ آپؒ ارشادفرماتے ہیں :

’’تجھے معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم کی صورت یہ ہے کہ تو اس کے مظاہر اور جلوہ گاہوں کی تعظیم کرے،  اس لیے کہ کائنات کے ذرّوں میں سے کوئی ایک ذرّہ ایسا نہیں  جس میں حق نے ظہور نہ فرمایا ہواور اس پر اپنے اسماء حسنیٰ اور صفات عالیہ کی تجلی نہ فرمائی ہو- لہٰذا تیرے لئے لازم ہے  کہ مظاہر کے سامنے خوشی و ناخوشی ہر طرح تواضع و عاجزی اختیار کر، تکبر وغرور مت کر‘‘-[19]

خلاصہ کلام :

امام ذہبی نے’’سیر اعلام النبلاء‘‘میں آپ کے شیخ ابو سعید المخرمیؒ کی تاریخ وفات 513ھ لکھی ہے- لیکن انہوں نے اپنی زندگی میں ہی اپنا مدرسہ وعظ و تدریس کیلئے سیدنا شیخ عبد القادر الجیلانی کے سپرد کر دیا تھا-جبکہ آپؒ کا تاریخ وصال 561ھ ہے- گویا تقریباً48 برس تک غوث پاکؒ اس مدرسہ میں تدریس و تلقین اور علوم دین کو جاری فرماتے رہے-اس لئے جہاں آپؒ کی تعلیمات اور روحانی کمالات کا ذکر ہوتا ہے وہاں آپؒ کے وجود سے پھوٹنے والی برکت جو 48 برس تک علم کے متلاشیوں کو سیراب کرتی رہی-آپؒ کی ذات اقدس سے منسوب لوگوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آپؒ کا فیض محض روحانی صورت میں ہی موجود نہیں بلکہ علومِ حدیث، علومِ تفسیر، علوم فقہ میں بھی جاری ہے- بطور آپؒ کے مرید و عقیدت مند ہونے کے ہم پر یہ لازم آتا ہے کہ جہاں ہم آپ کی ذات اقدس سے اکتساب روحانی کرتے ہیں وہی ہمیں اپنی نسلوں کو آپؒ کی سنت کےمطابق علم دین کے لئے بھی وقف کرنا چاہیے-

آپؒ روحانی و باطنی کمالات میں اپنا ثانی نہیں رکھتے- آپؒ نے ظاہری علوم میں مہارتِ تامہ حاصل کی-اندازہ لگائیں!آپؒ کے مدرسہ سے سالانہ 3 ہزار طلباء دستارِ فضیلت حاصل کرتے تھے اور آپؒ نے ان48برسوں میں ایک لاکھ سے زائد علماء کو فارغ التحصیل کیا -

آخر میں محبوب سُبحانی الشیخ عبدالقادرجیلانیؒ کے ان فرمودات کے ساتھ اپنی معروضات کو سمیٹتے ہیں:

’’تیرے لیے ضروری ہے کہ تو قرآن پاک کے اسرارورموز میں  غور و فکر   کرے اور اس میں رکھے گئے رازوں کے کشف میں  خوب تدبّرکرے (اور یہ تدبّر) ایسے دل کے ساتھ ہو جو وساوس اور اوہام سے مطلقاً خالی ہو اور  ان کدورتوں سے بھی صاف ہو جو  محض عقل والوں کی تقلید سے حاصل ہوتی ہیں اور (وہ  عقل والے) اس قرآن میں ایسی آراء افہام کےساتھ غوروخوض کرتے  ہیں جو نہایت باریک اور کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ  حکیم وعلیم کی تائید سے محروم ہوتی ہیں-اس لیے تجھ پر لازم ہے کہ تُواس کی طرف حاضر قلب اور عام اشغال سے فارغ و غائب دل سے متوجہ ہو جو ا س ٹیڑھ پن اور گمراہی سے مطلقاً منہ پھیرنے والا  ہو جو اصحاب ظواہر سے اس میں واقع ہوئی ہے جو عرف کی سمجھ  کے مطابق صرف قیل وقال تک محدود ہوتے ہیں ‘‘-[20]

٭٭٭


[1]عقل بیدار، ایڈیشن : 9،  ص:174

[2]ایضاً

[3]حافظ حدیث وہ ہے جسے کم از کم ایک لاکھ احادیث متن اور اسناد کے ساتھ زبانی یاد ہوں اور وہ اس کی (سند میں آنے والے تمام) راویوں کے احوال اور ا س کی جرح و تعدیل اور تاریخ سے واقف ہو-

[4]الجیلانی،عبدالقادر،الفواتح الالھیۃ و المفاتح الغیبیۃ الموضحۃ للکلم القرآنیۃ و الحکم الفرقانیۃ، المسمیٰ تفسیر الجیلانی (مکتبۃ المعروفیہ، کوئٹہ ،  پاکستان)،ص:51

[5]ایضاً، ص:64

[6]ایضاً، ج: 3،ص:222

[7]ایضاً، ص:66

[8]ایضاً،ج: 3،ص: 53

[9]ایضاً ، ج: 1،ص:254

[10]ایضاً، ص:82

[11]ایضاً،  ج: 3،ص:315

[12]ایضاً، ص:90

[13]ایضاً،ص:338

[14]ایضاً،  ج: 1،ص:254

[15]ایضاً،ص:421-422

[16]ایضاً، ج: 2،ص:432

[17]ایضاً،  ج:01،ص: 422

[18]ایضاً، ج: 2،ص: 386

[19]ایضاً، ج: 3،ص: 53

[20]ایضاً، ج:5، ص:51

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر