ضبطِ غصہ ، قرآن و احادیث اور ماہرین نفسیات کی آراءکی روشنی میں

ضبطِ غصہ ، قرآن و احادیث اور ماہرین نفسیات کی آراءکی روشنی میں

ضبطِ غصہ ، قرآن و احادیث اور ماہرین نفسیات کی آراءکی روشنی میں

مصنف: لیئق احمد جون 2018

اللہ تعالیٰ نے انسان کو احساسات اور جذبات دے کر پیدا کیا ہے -یہ جذبات ہی ہیں جن کا اظہار ہمارے رویوں سے ہوتا ہے کہ جہاں انسان اپنی خوشی پر خوش ہوتا ہے، وہیں اگر ناپسندیدہ اور اپنی توقعات سے مختلف امور دیکھ لے تو اس کے اندر غصہ بھی پیدا ہو جاتا ہے- کیونکہ غصہ ایک منفی جذبہ ہے جس پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو ہم اکثر دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنا بھی نقصان کر بیٹھتے ہیں اس لیے اسلام نے غصہ ضبط کرنے اور جوشِ غضب کے وقت انتقام لینے کی بجاے صبرو سکون سے رہنے کی تلقین کی ہے، تا کہ معاشرہ انتشار کا شکار نہ ہو بلکہ امن کا گہوارہ بن سکے-

قرآن مجید میں غصہ نہ کرنے اور معاف کر دینے کی فضیلت کا بیان:

1-’’وَالَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓـئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَاِذَا مَا غَضِبُوْا ہُمْ یَغْفِرُوْنَ‘‘[1]

 

’’اور جو لوگ کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب انہیں غصّہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں‘‘-

غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد تو عموماً لوگ معاف کر دیتے ہیں لیکن اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کی صفات میں سے اہم صفت یہ بیان کی ہے وہ حالتِ غضب میں معاف کرتے ہیں جو بہت ہمت اور جرأت کا کام ہوتا ہے- بلند ہمت اور بلند حوصلہ لوگ ہی اس شان کے مالک ہوتے ہیں جو اپنے اوپر ظلم کرنے والوں پر بھی شفقت کرتے ہیں-

اس آیتِ مبارکہ کے شانِ نزول میں علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالک قرطبی (متوفی: 668ھ) نے حسبِ ذیل اقوال نقل کیے ہیں:

1.       یہ آیت حضرت عمر(رضی اللہ عنہ) کے متعلق نازل ہوئی ہے جب انہیں مکہ میں گالیاں دی گئیں اور انہوں نے اس پر صبر کیا-

2.       حضرت ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) نے جب اپنا سارا مال راہِ خُدا میں خرچ کر دیا تو لوگوں نے اس پر انہیں ملامت کی اور بُرا کہا تو انہوں نےاس پر صبرکیا-

3.       حضرت علی (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ صدیقِ اکبر (رضی اللہ عنہ) کے پاس مال جمع ہو گیا، انہوں نے وہ سب مال نیکی کے راستے میں خرچ کر دیا مسلمانوں نے ان کو ملامت کی اور کفار نے ان کی خطا نکالی جس پر یہ آیت نازل ہوئی:

2-’’الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآئِ وَالضَّرَّآئِ وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِط وَاللہُ  یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ‘‘[2]

 

’’یہ وہ لوگ ہیں جو فراخی اور تنگی (دونوں حالتوں) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے (ان کی غلطیوں پر) درگزر کرنے والے ہیں؛ اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے‘‘-

برائی کے عوض بھلائی کرنا جود وکرم ہے اور بھلائی کے عوض برائی کرنا خباثت ہے- اس آیت میں جود و کرم کا ذکر ہے کہ اللہ کے محبوب و محسنین کا یہ وصف قرآن نے بیان کیا ہے کہ وہ غصے کو پی جاتے ہیں اور عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں- انسان جو کسی پر غضب ناک ہوتا ہے تو دراصل یہ شیطان کے وسوسے کی وجہ سے ہوتا ہے،انسان کو چاہیے کہ جب اسے کسی بات پر غصہ آئے تو وہ اپنے غصہ کو ضبط کرے اور جس پر غصہ آیا ہے اس کو معاف کر دے-

’’غصہ ضبط کرنے کی فضیلت میں احادیث‘‘:

1.       ’’حضرت سلیمان بن صدور (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں نبی کریم (ﷺ)کے سامنے دو آدمی ایک دوسرے سے لڑے- ان میں سے ایک غضب ناک ہوا اس کا چہرہ سرخ ہو گیا اور اس کی گردن کی رگیں پھول گئیں- نبی کریم (ﷺ)نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا،مجھے ایک ایسے جملے کا علم ہے کہ اگر وہ یہ جملہ کَہ دے تو اس کا غضب فرو ہو جائے گا -وہ جملہ یہ ہے، ’’اعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم‘‘- ایک جس نے نبی کریم (ﷺ)کی یہ حدیث سنی تھی وہ اس شخص کے پاس گیا اور اس سے کہا تم جانتے ہو کہ ابھی رسول اکرم (ﷺ) نے کیا فرمایا تھا؟ اس نے کہا نہیں! اس نے کہا آپ (ﷺ)نے فرمایا تھا کہ مجھے ایسے جملے کا علم ہے اگر اس نے وہ جملہ کَہ دیا تو اس کا غصہ ختم ہو جائےگا -وہ جملہ یہ ہے ’’اعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم‘‘، اس شخص نے کہا! کیا تم مجھے دیوانہ سمجھتے ہو‘‘؟[3]

2.       ’’سیدنا ابو مسعود انصاری (رضی اللہ عنہ)فرماتے ہں میں غلام کی پٹائی کر رہا تھا کہ میں نےاپنے پیچھے سے آواز سنی -اے ابومسعود تمہیں علم ہونا چاہیے کہ تم اس پر جتنی قدرت رکھتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ تم پر قدرت رکھتا ہے -میں نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو وہ رسول اکرم (ﷺ) تھے- میں نےعرض کی یا رسول اللہ (ﷺ)یہ اللہ کی رضا کےلیے آزاد ہے، آپ (ﷺ) نے فرمایا،اگر تم یہ نہ کرتے تو تمہیں دوزخ کی آگ جلاتی یا فرمایا کہ تمہیں دوزخ کی آگ چھوتی‘‘ [4]-

3.       ’’حضرت عطیہ (رضی اللہ عنہما) بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا، غضب شیطان کے اثر سے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے تو جب تم میں سے کوئی شخص غضب ناک ہو تو وہ وضو کرے‘‘-[5]

4.       ’’حضرت ابوذر (رضی اللہ عنہ)بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم (ﷺ)نے فرمایا،جب تم میں سے کسی شخص کو غصہ آجائے کھڑا ہو تو بیٹھ جائے پھر اس کا غصہ ختم ہو جائے توٹھیک، ورنہ وہ لیٹ جائے‘‘-[6]

5.      ’’امام ابو جعفر محمد بن جریر طبریؒ (متوفی: 310) ہجری روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (ﷺ)نے فرمایا جس شخص نےغصہ ضبط کر لیا حالانکہ وہ اس کے اظہار پر قادر تھا ،اللہ تعالیٰ اس کو امن اور ایمان سے بھر دے گا‘‘-[7]

ضبطِ غصہ ماہرینِ نفسیات کی نظر میں:

ضبطِ غصہ کو انگریزی میں(Anger Management)کہتے ہیں-ہمارے یہاں کچھ جامعات میں اس علم کو بطورِ مضمون پڑھایا جاتاہے خاص کر بزنس ایڈمنسٹریشن کے ڈیپارٹمنٹ میں، لیکن پاکستان میں اس مضمون کو پڑھانے کا انتظام چھوٹے پیمانے پر ہے-جبکہ دیگر یورپی ممالک میں اس موضوع پر الگ ڈیپارٹمنٹ ہے، الگ فیکلٹی ہے جہاں اس موضوع پر ایم -اے ، ایم فِل اور پی -ایچ- ڈی ڈگریاں دی جاتی ہیں؛ اس کے علاوہ وہاں کی بڑی بڑی کمپنیاں اور ادارے کے لوگ اس موضو ع پر کورسز کرواتے ہیں کیونکہ عمومی طور پر روز مرہ کی بحث یا چپقلش کے باعث ادارے کے لوگوں کو غصہ آجاتا ہے جس کی وجہ سے ان کے ادارے کو بڑا نقصان اٹھاناپڑتا ہے -ضبطِ غصہ سے مراد بنیادی طور پر اس علم کو جاننا ہے کہ کس طرح غصے کی کیفیات پر قابو پایا جائے،اس حوالے سے ماہرینِ نفسیات نے کچھ طریقے بتائے ہیں جن پر عمل کرنے کے بعد غصےپر قابو پایا جا سکتا ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:

1.       نیند کا پورا نہ ہونا بھی غصے کا باعث بنتا ہے، کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نیند لازمی 8 گھنٹے ہونی چاہیے جبکہ ایسا ضروری نہیں ہے بلکہ روٹین کے مطابق سونا ضروری ہے- نیند کو اپنے کام کے لحاظ سےجس سطح پر لانا چاہتے ہیں لے آئیں یعنی روزانہ گھنٹوں کا تعین کریں کہ اتناسونا ہے، پھر اس کے مطابق نیند پوری کریں، اگر وقت زیادہ اوپر نیچے کریں گے تو مزاج میں چڑچڑا پن اور غصہ پیداہوگا-

2.       غصہ آنے کی دوسری بڑی وجہ ورزش کا نہ کرنا ہے- انسان جب اپنی جان پر جبر یا سختی کرتا ہے اس سے بھی غصہ مرتا ہے، کیونکہ ورزش سے وجود میں طبعی طور پر استحکام پیدا ہوتا ہے-

3.       غصہ کی ایک وجہ آدمی کا اپنی سوچ کو مثبت نہ رکھنا بھی ہے-منفی سوچ انسان کو شر کی جانب لے جاتی ہے جس سے اس کے اندر غصہ پیدا ہوتا ہے- ہر چیز میں مثبت پہلو تلاش کرنے کی عادت ڈالنے سے بھی غصہ میں کمی آ سکتی ہے -

4.       غصہ آنے کی ایک وجہ تکبر بھی ہے کہ ہمارے اندر احساسِ برتری آجاتا ہے، ہم مخالف کو اپنے سے حقیر سمجھنا شروع کر دیتے ہیں جبکہ اپنے مزاج میں عاجزی و انکساری رکھنے والے کی طبیعت میں نرمی کا عنصر غالب آجاتا ہے،وہ دوسروں کو اپنے برابر جانتا ہے،تو اپنے اند ر عجز وانکساری پیدا کرنے سے بھی غصہ میں کمی لائی جا سکتی ہے-

5.       علمِ نفسیات کی روشنی میں غصے کی ایک وجہ ذہنی دباؤ بھی ہے- احساسِ محرومی اور گزشتہ زندگی کے تلخ واقعات نفسیاتی دباؤ پیدا کرتے ہیں اس ذہنی دباؤ کی وجہ سے افراد کا بلڈ پریشر زیادہ یا کم ہوتا رہتا ہے،ایسے افراد کو اپنی زندگی کے واقعات لکھنا چاہییں اور یہ بھی لکھنا چاہیے کہ یہ سب ماضی کا حصہ ہے اور میں مستقبل میں بہت سے ایسے اقدامات کر سکتا ہوں جن سے ان محرومیوں کا ازالہ ممکن ہے-

6.       اپنے اندر لا محدود خواہشات کو پیدا کر لینا یاکسی انسان سے بے جا توقعات وابستہ کر لینا جبکہ وہ ان توقعات پر پورا نہ اُترے-انسان کے اندر غصے کو ابھارتا ہے- حقیقت پسندی کو اختیار کرنے اور خواہشات کو محدود رکھنے سے بھی غصےمیں کمی آتی ہے-

7.       غصے کی ایک اور بڑی وجہ اپنے وجود سے زیادہ بوجھ اپنے ذمے لے لینا ہے-آدمی کو ایسی ذمہ داری اپنے سر نہیں لینی چاہیے جو اس کے کندھوں پر مستقلاً تلوار کی مانند لٹک جائے، اپنے کاموں میں اعتدال رکھنے سے بھی غصے میں کمی آتی ہے -

جب غصہ آئے تو اس وقت کون کون سی اہم تدابیر اختیار کی جائیں جن سے ہمارے اندر غصہ ختم ہو جائے اور ہم کسی بڑے نقصان سے بچ جائیں؟اس حوالے سے مندرجہ ذیل امور پر فوراً عمل کرنا چاہیے:

1.       غصے کے وقت کھڑے ہوں تو بیٹھ جائیں، بیٹھے ہوں تو لیٹ جائیں-

2.       غصہ آئے تو فوراً وضو کر لیں-

3.       غصے کے خاتمے کے لیے حضورنبی کریم(ﷺ) کے تجویز کردہ کلمات ’’اعوذبااللہ من الشیطان الرجیم “فوراً پڑھ لیں-

4.       ایسے مسائل کے بارے میں سوچنا جو آپ کے لیے جذباتی نہیں ہیں، جیسے حساب کے بارے میں سوچنا، الٹی گنتی گننا-

5.       شدید غصے میں لمبے اور گہرے سانس لیں -

6.       غصے والی جگہ چھوڑ دیں ،اگر کسی تنگ مقام پر موجود ہیں تو کشادہ جگہ یا کھلی فضا میں آجائیں -

7.       دور کے مناظر کی طرف دیکھنا شروع کر دیں جیسے آسمان کی طرف دیکھنا-

ان ہدایات پر عمل کرکے غصے کے وقت کی کیفیات کو قابو کیا جاسکتا ہے-

٭٭٭


[1](الشوریٰ:37)

[2](آل عمران:134)

[3](صحیح البخاری، رقم الحدیث: 4048)

[4](صحیح مسلم، رقم حدیث :1658)

[5](سنن ابو داؤد، ج: 2،  ص: 304)

[6](سنن ابو داؤ د، رقم الحدیث: 4782)

[7](جامع البیان، ج: 4، ص:61)

اللہ تعالیٰ نے انسان کو احساسات اور جذبات دے کر پیدا کیا ہے -یہ جذبات ہی ہیں جن کا اظہار ہمارے رویوں سے ہوتا ہے کہ جہاں انسان اپنی خوشی پر خوش ہوتا ہے، وہیں اگر ناپسندیدہ اور اپنی توقعات سے مختلف امور دیکھ لے تو اس کے اندر غصہ بھی پیدا ہو جاتا ہے- کیونکہ غصہ ایک منفی جذبہ ہے جس پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو ہم اکثر دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنا بھی نقصان کر بیٹھتے ہیں اس لیے اسلام نے غصہ ضبط کرنے اور جوشِ غضب کے وقت انتقام لینے کی بجاے صبرو سکون سے رہنے کی تلقین کی ہے، تا کہ معاشرہ انتشار کا شکار نہ ہو بلکہ امن کا گہوارہ بن سکے-

قرآن مجید میں غصہ نہ کرنے اور معاف کر دینے کی فضیلت کا بیان:

1-’’وَالَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓـئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَاِذَا مَا غَضِبُوْا ہُمْ یَغْفِرُوْنَ‘‘[1]

 

’’اور جو لوگ کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب انہیں غصّہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں‘‘-

غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد تو عموماً لوگ معاف کر دیتے ہیں لیکن اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کی صفات میں سے اہم صفت یہ بیان کی ہے وہ حالتِ غضب میں معاف کرتے ہیں جو بہت ہمت اور جرأت کا کام ہوتا ہے- بلند ہمت اور بلند حوصلہ لوگ ہی اس شان کے مالک ہوتے ہیں جو اپنے اوپر ظلم کرنے والوں پر بھی شفقت کرتے ہیں-

اس آیتِ مبارکہ کے شانِ نزول میں علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالک قرطبی (متوفی: 668ھ) نے حسبِ ذیل اقوال نقل کیے ہیں:

1.       یہ آیت حضرت عمر (﷜) کے متعلق نازل ہوئی ہے جب انہیں مکہ میں گالیاں دی گئیں اور انہوں نے اس پر صبر کیا-

2.       حضرت ابوبکر صدیق (﷜) نے جب اپنا سارا مال راہِ خُدا میں خرچ کر دیا تو لوگوں نے اس پر انہیں ملامت کی اور بُرا کہا تو انہوں نےاس پر صبرکیا-

3.       حضرت علی (﷜) بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ صدیقِ اکبر (﷜) کے پاس مال جمع ہو گیا، انہوں نے وہ سب مال نیکی کے راستے میں خرچ کر دیا مسلمانوں نے ان کو ملامت کی اور کفار نے ان کی خطا نکالی جس پر یہ آیت نازل ہوئی:

2-’’الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآئِ وَالضَّرَّآئِ وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِط وَاللہُ  یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ‘‘[2]

 

’’یہ وہ لوگ ہیں جو فراخی اور تنگی (دونوں حالتوں) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے (ان کی غلطیوں پر) درگزر کرنے والے ہیں؛ اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے‘‘-

برائی کے عوض بھلائی کرنا جود وکرم ہے اور بھلائی کے عوض برائی کرنا خباثت ہے- اس آیت میں جود و کرم کا ذکر ہے کہ اللہ کے محبوب و محسنین کا یہ وصف قرآن نے بیان کیا ہے کہ وہ غصے کو پی جاتے ہیں اور عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں- انسان جو کسی پر غضب ناک ہوتا ہے تو دراصل یہ شیطان کے وسوسے کی وجہ سے ہوتا ہے،انسان کو چاہیے کہ جب اسے کسی بات پر غصہ آئے تو وہ اپنے غصہ کو ضبط کرے اور جس پر غصہ آیا ہے اس کو معاف کر دے-

’’غصہ ضبط کرنے کی فضیلت میں احادیث‘‘:

1.       ’’حضرت سلیمان بن صدور (﷜) بیان کرتے ہیں نبی کریم (ﷺ)کے سامنے دو آدمی ایک دوسرے سے لڑے- ان میں سے ایک غضب ناک ہوا اس کا چہرہ سرخ ہو گیا اور اس کی گردن کی رگیں پھول گئیں- نبی کریم (ﷺ)نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا،مجھے ایک ایسے جملے کا علم ہے کہ اگر وہ یہ جملہ کَہ دے تو اس کا غضب فرو ہو جائے گا -وہ جملہ یہ ہے، ’’اعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم‘‘- ایک جس نے نبی کریم (ﷺ)کی یہ حدیث سنی تھی وہ اس شخص کے پاس گیا اور اس سے کہا تم جانتے ہو کہ ابھی رسول اکرم (ﷺ) نے کیا فرمایا تھا؟ اس نے کہا نہیں! اس نے کہا آپ (ﷺ)نے فرمایا تھا کہ مجھے ایسے جملے کا علم ہے اگر اس نے وہ جملہ کَہ دیا تو اس کا غصہ ختم ہو جائےگا -وہ جملہ یہ ہے ’’اعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم‘‘، اس شخص نے کہا! کیا تم مجھے دیوانہ سمجھتے ہو‘‘؟[3]

2.       ’’سیدنا ابو مسعود انصاری (﷜)فرماتے ہں میں غلام کی پٹائی کر رہا تھا کہ میں نےاپنے پیچھے سے آواز سنی -اے ابومسعود تمہیں علم ہونا چاہیے کہ تم اس پر جتنی قدرت رکھتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ تم پر قدرت رکھتا ہے -میں نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو وہ رسول اکرم (ﷺ) تھے- میں نےعرض کی یا رسول اللہ (ﷺ)یہ اللہ کی رضا کےلیے آزاد ہے، آپ (ﷺ) نے فرمایا،اگر تم یہ نہ کرتے تو تمہیں دوزخ کی آگ جلاتی یا فرمایا کہ تمہیں دوزخ کی آگ چھوتی‘‘ [4]-

3.       ’’حضرت عطیہ (﷞) بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا، غضب شیطان کے اثر سے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے تو جب تم میں سے کوئی شخص غضب ناک ہو تو وہ وضو کرے‘‘-[5]

4.       ’’حضرت ابوذر (﷜)بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم (ﷺ)نے فرمایا،جب تم میں سے کسی شخص کو غصہ آجائے کھڑا ہو تو بیٹھ جائے پھر اس کا غصہ ختم ہو جائے توٹھیک، ورنہ وہ لیٹ جائے‘‘-[6]

5.      ’’امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری (﷫)(متوفی: 310) ہجری روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ (﷜) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (ﷺ)نے فرمایا جس شخص نےغصہ ضبط کر لیا حالانکہ وہ اس کے اظہار پر قادر تھا ،اللہ تعالیٰ اس کو امن اور ایمان سے بھر دے گا‘‘-[7]

ضبطِ غصہ ماہرینِ نفسیات کی نظر میں:

ضبطِ غصہ کو انگریزی میں(Anger Management)کہتے ہیں-ہمارے یہاں کچھ جامعات میں اس علم کو بطورِ مضمون پڑھایا جاتاہے خاص کر بزنس ایڈمنسٹریشن کے ڈیپارٹمنٹ میں، لیکن پاکستان میں اس مضمون کو پڑھانے کا انتظام چھوٹے پیمانے پر ہے-جبکہ دیگر یورپی ممالک میں اس موضوع پر الگ ڈیپارٹمنٹ ہے، الگ فیکلٹی ہے جہاں اس موضوع پر ایم -اے ، ایم فِل اور پی -ایچ- ڈی ڈگریاں دی جاتی ہیں؛ اس کے علاوہ وہاں کی بڑی بڑی کمپنیاں اور ادارے کے لوگ اس موضو ع پر کورسز کرواتے ہیں کیونکہ عمومی طور پر روز مرہ کی بحث یا چپقلش کے باعث ادارے کے لوگوں کو غصہ آجاتا ہے جس کی وجہ سے ان کے ادارے کو بڑا نقصان اٹھاناپڑتا ہے -ضبطِ غصہ سے مراد بنیادی طور پر اس علم کو جاننا ہے کہ کس طرح غصے کی کیفیات پر قابو پایا جائے،اس حوالے سے ماہرینِ نفسیات نے کچھ طریقے بتائے ہیں جن پر عمل کرنے کے بعد غصےپر قابو پایا جا سکتا ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:

1.       نیند کا پورا نہ ہونا بھی غصے کا باعث بنتا ہے، کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نیند لازمی 8 گھنٹے ہونی چاہیے جبکہ ایسا ضروری نہیں ہے بلکہ روٹین کے مطابق سونا ضروری ہے- نیند کو اپنے کام کے لحاظ سےجس سطح پر لانا چاہتے ہیں لے آئیں یعنی روزانہ گھنٹوں کا تعین کریں کہ اتناسونا ہے، پھر اس کے مطابق نیند پوری کریں، اگر وقت زیادہ اوپر نیچے کریں گے تو مزاج میں چڑچڑا پن اور غصہ پیداہوگا-

2.       غصہ آنے کی دوسری بڑی وجہ ورزش کا نہ کرنا ہے- انسان جب اپنی جان پر جبر یا سختی کرتا ہے اس سے بھی غصہ مرتا ہے، کیونکہ ورزش سے وجود میں طبعی طور پر استحکام پیدا ہوتا ہے-

3.       غصہ کی ایک وجہ آدمی کا اپنی سوچ کو مثبت نہ رکھنا بھی ہے-منفی سوچ انسان کو شر کی جانب لے جاتی ہے جس سے اس کے اندر غصہ پیدا ہوتا ہے- ہر چیز میں مثبت پہلو تلاش کرنے کی عادت ڈالنے سے بھی غصہ میں کمی آ سکتی ہے -

4.       غصہ آنے کی ایک وجہ تکبر بھی ہے کہ ہمارے اندر احساسِ برتری آجاتا ہے، ہم مخالف کو اپنے سے حقیر سمجھنا شروع کر دیتے ہیں جبکہ اپنے مزاج میں عاجزی و انکساری رکھنے والے کی طبیعت میں نرمی کا عنصر غالب آجاتا ہے،وہ دوسروں کو اپنے برابر جانتا ہے،تو اپنے اند ر عجز وانکساری پیدا کرنے سے بھی غصہ میں کمی لائی جا سکتی ہے-

5.       علمِ نفسیات کی روشنی میں غصے کی ایک وجہ ذہنی دباؤ بھی ہے- احساسِ محرومی اور گزشتہ زندگی کے تلخ واقعات نفسیاتی دباؤ پیدا کرتے ہیں اس ذہنی دباؤ کی وجہ سے افراد کا بلڈ پریشر زیادہ یا کم ہوتا رہتا ہے،ایسے افراد کو اپنی زندگی کے واقعات لکھنا چاہییں اور یہ بھی لکھنا چاہیے کہ یہ سب ماضی کا حصہ ہے اور میں مستقبل میں بہت سے ایسے اقدامات کر سکتا ہوں جن سے ان محرومیوں کا ازالہ ممکن ہے-

6.       اپنے اندر لا محدود خواہشات کو پیدا کر لینا یاکسی انسان سے بے جا توقعات وابستہ کر لینا جبکہ وہ ان توقعات پر پورا نہ اُترے-انسان کے اندر غصے کو ابھارتا ہے- حقیقت پسندی کو اختیار کرنے اور خواہشات کو محدود رکھنے سے بھی غصےمیں کمی آتی ہے-

7.       غصے کی ایک اور بڑی وجہ اپنے وجود سے زیادہ بوجھ اپنے ذمے لے لینا ہے-آدمی کو ایسی ذمہ داری اپنے سر نہیں لینی چاہیے جو اس کے کندھوں پر مستقلاً تلوار کی مانند لٹک جائے، اپنے کاموں میں اعتدال رکھنے سے بھی غصے میں کمی آتی ہے -

جب غصہ آئے تو اس وقت کون کون سی اہم تدابیر اختیار کی جائیں جن سے ہمارے اندر غصہ ختم ہو جائے اور ہم کسی بڑے نقصان سے بچ جائیں؟اس حوالے سے مندرجہ ذیل امور پر فوراً عمل کرنا چاہیے:

1.       غصے کے وقت کھڑے ہوں تو بیٹھ جائیں، بیٹھے ہوں تو لیٹ جائیں-

2.       غصہ آئے تو فوراً وضو کر لیں-

3.       غصے کے خاتمے کے لیے حضورنبی کریم(ﷺ) کے تجویز کردہ کلمات ’’اعوذبااللہ من الشیطان الرجیم “فوراً پڑھ لیں-

4.       ایسے مسائل کے بارے میں سوچنا جو آپ کے لیے جذباتی نہیں ہیں، جیسے حساب کے بارے میں سوچنا، الٹی گنتی گننا-

5.       شدید غصے میں لمبے اور گہرے سانس لیں -

6.       غصے والی جگہ چھوڑ دیں ،اگر کسی تنگ مقام پر موجود ہیں تو کشادہ جگہ یا کھلی فضا میں آجائیں -

7.       دور کے مناظر کی طرف دیکھنا شروع کر دیں جیسے آسمان کی طرف دیکھنا-

ان ہدایات پر عمل کرکے غصے کے وقت کی کیفیات کو قابو کیا جاسکتا ہے-

٭٭٭



[1](الشوریٰ:37)

[2](آل عمران:134)

[3](صحیح البخاری، رقم الحدیث: 4048)

[4](صحیح مسلم، رقم حدیث :1658)

[5](سنن ابو داؤد، ج: 2،  ص: 304)

[6](سنن ابو داؤ د، رقم الحدیث: 4782)

[7](جامع البیان، ج: 4، ص:61)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر