ابیات باھوؒ

ابیات باھوؒ

سَو ہزار تِنہاں تُوں صَدقے جہڑے مُنہ نہ بولن پھِکّا ھو
لَکھ ہَزار تِنہاں تُوں صَدقے جہڑے گَل کریندے ہِکّا ھو
 لَکھ کروڑ تِنہاں تُوں صَدقے جہڑے نَفْس رکھیندے جھِکّا ھو
نِیل پَدم تِنہاں تُوں صَدقے باھوؒ جِہڑے ہوون سون سڈاوِن سِکّا ھو؎

Hundred thousand sacrifice upon those who don’t utter stinking Hoo

Thousands of thousand sacrifices upon those who only say one thing Hoo

Billions of sacrifices upon those who keep their nafs impede Hoo

Trillion and trillions of sacrifices upon those Bahoo who are pure gold but call themselves lead Hoo

Soo hazar tinhaa’N to sadqay jeh’Ray mounh na bolan phikka Hoo

Lakh hazar tinhaa’N to sadqay jeh’Ray gall karainday hikka Hoo

Lakh caror tinhaa’N to sadqay jeh’Ray nafs rakhainday jhikka Hoo

Neel pidam tinhaa’N to sadqay Bahoo jeh’Ray howan sona saDawan sikka Hoo

تشریح : 

1-2: اللہ پاک نے اپنے کامیاب مؤمنین کی نشانی بتاتے ہوئے ارشادفرمایا :

’’وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَo‘‘[1]                                               ’’اور جو بیہودہ باتوں سے (ہر وقت) کنارہ کش رہتے ہیں‘‘-

حضرت سلطان باھُو (قدس اللہ سرّہٗ)ان سالکوں اورطالبان ِ مولیٰ کی تعر یف فرمارہے جومصائب و آلام کے وقت نہ صرف صبر کرتے ہیں بلکہ زبان  کوشکوہ ٔ رنج و الم  جیسی بیہودہ و لغو گفتگو سے پاک رکھتے ہیں اور  ہمیشہ حق سچ بات کہتے ہیں-آپؒ نے اپنے کلام مبارک میں جہاں نفس کو انسان کا بہت  بڑا دشمن قرار دیا ہے وہاں اس کی آماجگاہوں کو شمارفرماتے ہوئے اس کی پہلی  آماجگاہ  زبان کو قرار دیا ہے،جیساکہ آپؒ فرماتے ہیں :

’’آدمی کے وجود میں نفس کے چار گھر ہیں، پہلا گھر زبان ہے جس کو وہ لہو و لغو سے آلودہ رکھتا ہے‘‘-  [2]

دوسرے مقام پہ  ارشادفرمایا :

’’صاحب ِنفس ِامارہ کی صورت کو اِس سے جاننا چاہیے کہ وہ تُرش رُو و بدخُو ہوگا - جو بات کرے گا جہالت کی کرے گا چاہے وہ کتنا ہی پڑھا لکھا کیوں نہ ہو یعنی اُس کی گفتگو میں قہر ، غضب اور غصّہ ہو گا ‘‘- [3]

شکر دانی چیست عجز و شکرِ او

 

بر عطا ہائی کہ بخشید است او

3-4:’’  تُو شکر کو کیا سمجھتا ہے؟ شکر اُس کی عطا و بخشش پر عاجزی و نیازمندی کا رویہ اختیارکرنے کا نام ہے ‘‘-[4]

اس بیت  مبارک کے آخری دونوں مصرعوں میں آپؒ طالب اللہ کو عاجزی و انکساری کا درس ارشاد فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ  بارگاہ ِ حق میں عاجزی وانکساری کے ساتھ آنے والوں کو محروم نہیں لوٹایاجاتا-جیساکہ آپؒ فرماتے ہیں :

ای سِرِّ تو در سینۂ ہر صاحبِ راز
ہر کس کہ بہ درگاہِ تو آید  بہ  نیاز

 

    پیوستہ درِ رحمتِ تو بر ہمہ باز
محروم ز درگاہِ تو کی گردد باز

     ’’اِلٰہی تیرا راز ہر صاحب ِراز مرشد کے سینے میں جلوہ گر ہے، تیری رحمت کا دروازہ ہر ایک کے لئے کھلا ہے، جو بھی تیری درگاہ میں عاجزی سے آتاہے وہ خالی ہاتھ نہیں لوٹتا‘‘ -[5]

اللہ تعالیٰ نے اپنے مقبول بندوں کی تعریف بیان کرتے ہوئے ارشادفرمایا :

’’ وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا‘‘            [6]               ’’  رحمٰن کے بندے وہ ہیں کہ جب وہ زمین پر چلتے ہیں تو عاجز ی کے ساتھ چلتے ہیں‘‘-

آپؒ نے دیگرکئی مقامات پہ اسی چیز کی اہمیت کرتے ہوئے ارشادفرمایا :

’’صاحب ِتوفیق کی صورت کو اِس بات سے پہچاننا چاہیے کہ وہ ہمیشہ طاعت و بندگی میں عاجزی و انکساری سے سرجھکا کے پورے صدق کے ساتھ اپنے معبود کے سامنے سجدہ ریز رہتا ہے - اُس کی بول چال میں  تاثیر ہوتی ہے جس سے نفس ِامارہ یہود مسلمان ہو جاتا ہے - [7]

ایک اورمقام پہ ارشادفرمایا :’’جو جتنا عارف ہوتا ہے اُتنا ہی عاجز ہوتا ہے ‘‘-[8]

مزید فرمایا:’’طالب ہمیشہ راہِ معرفت میں عاجزی سے جان دینے پر تیار رہتا ہے ‘‘-[9]

عاجزی محض اچھی گفتگویا ظاہری جھک جانے کا نام نہیں بلکہ عاجزی  اللہ تعالیٰ کے ذکرسے دل کے بیدار ہونے اور بارگاہِ مصطفٰے(ﷺ)کی حضوری  کانام ہے جیساکہ  آپؒ ایک مقام پہ غرور وتکبرسے بچنے کاطریقہ اور عاجزی کے حصول کا طریقہ بیان فرماتے ہوئے رقم طرازہیں :

ہر کرا از دل کشاید چشم نور

 

شد حضوری مصطفٰیؐ رست از غرور[10]

’’جس شخص کے دل کی نوری آنکھ کھل جاتی ہے اُسے مجلس ِمحمدی (ﷺ) کی حضوری حاصل ہو جاتی ہے اور وہ غرور و تکبر سے پاک ہو جاتا ہے(یعنی اسے حقیقی عاجزی نصیب ہوتی ہے )‘‘-


[1](المومنون:3)

[2]( عین الفقر)

[3]( کلیدالتوحید(خورد)

[4]( محک الفقر(کلاں)

[5]( کلیدالتوحید(کلاں)

[6]( الفرقان:63)

[7]( کلیدالتوحید(خورد)

[8]( عین الفقر)

[9](اسرارالقادری)

[10]( کلیدالتوحید(کلاں)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر