ابیات باھوؒ : عِشق جِنہاندے ہَڈیں رَچیا اوہ رَہندے چُپ چُپاتے ھو

ابیات باھوؒ : عِشق جِنہاندے ہَڈیں رَچیا اوہ رَہندے چُپ چُپاتے ھو

ابیات باھوؒ : عِشق جِنہاندے ہَڈیں رَچیا اوہ رَہندے چُپ چُپاتے ھو

مصنف: Translated By M.A Khan نومبر 2021

ع:عِشق جِنہاندے ہَڈیں رَچیا اوہ رَہندے چُپ چُپاتے ھو
لُوں لُوں دے وِچ لکھ زباناں اوہ پھِردے گُنگے بَاتے ھو
اوہ کردے وُضو اِسم اعظم دا تے دریا وحدت وِچ ناتے ھو
تَدوں قَبول نمازاں باھوؒ جَداں یَاراں یَار پِچھاتے ھو

Those who have ishq in their bones quiet they remain Hoo

They have hundred thousand tongues in their every hair yet stuttering dumb they maintain Hoo

They perform ablution with glorious name and bathe in river of Oneness Essence Hoo

Prayer acknowledged Bahoo when friend recognises acquaintance Hoo

Ishq jinhanday ha’Dai’N  rachiya oah rehanday chup chupatay Hoo

Lo’N lo’N day wich lakh zubana’N oah phirday gangay bathay Hoo

Oah karday wazu ism e azam da tay darya wahdat wich natay Hoo

Tado’N qabool namaza’N bahoo jada’N yara’N yar pichatay Hoo

تشریح : 

ہر کہ می بیند نہ آید زو آواز

 

گویا کہ از جان مردہ بردہ راز

1-2: ’’ جو دیدارِ الٰہی سے مشرف ہوجاتاہے وہ صاحب ِ راز بن کر یوں خاموش ہوجاتاہے گویا وہ ایک مردہ ہے‘‘-(نورالھدٰی)

خاموشی کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے حضور رسالت مآب (ﷺ) نے ارشادفرمایا :

’’جس نے اپنے ربّ کو پہچان لیا بے شک اُس کی زبان گونگی ہو گئی ، جو خاموش رہا وہ سلامت رہا اور جو سلامت رہا وہ نجات پا گیا‘‘- (امیرالکونین)

اسی چیز کی ترغیب دلاتے ہوئے حضور سلطان العارفینؒ نے اپنی تعلیمات میں ارشادفرمایا :

’’ عارفانِ الٰہی علم دیدارکا سبق خاموشی سے پڑھتے ہیں اور بندآنکھوں سے کھلادیدارکرتے ہیں‘‘- (امیرالکونین)

’’ جو شخص اسم اﷲذات کا مطالعہ کر تا ہے وہ رازِ ربّ کو پا لیتا ہے اورہمیشہ باادب خاموش رہتاہے‘‘-(کلیدالتوحیدکلاں)

اسی چیز کی وضاحت فرماتے ہوئے آپؒ نے ارشادفرمایا :’’جب دل ذکر اللہ میں محو ہو کر یا اللہ، یا اللہ پکارنے لگتاہے تو زبان بالکل خاموش ہوجاتی ہے اور عارف مراقبہ میں غرق ہو کر ایک ہی دم میں حضورِ حق سے الہاماتِ ذکر مذکور پانے لگتا ہے- جو شخص ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ہم کلام رہے اُس کے لب بند ہوجاتے ہیں اور وہ اپنی مرضی سے کچھ نہیں بولتا، اب وہ ایک خاموش عارف ہوتا ہے- خاموشی میں ستر ہزار حکمتیں ہیں اور ہر حکمت میں مزید ستر ہزار حکمتیں ہیں اور حکمت معرفت اِلَّا اللّٰہُ اور حکمِ اِلٰہی کو کہتے ہیں‘‘-(کلیدالتوحیدکلاں)

واضح رہےکہ اس خاموشی سے مراد غیراللہ کی گفتگو یعنی قرآن وسنت سے ہٹ کرگفتگو ہے ورنہ سید ی رسول اللہ (ﷺ) نے ارشادفرمایا: ’’ سچ بات کہنے سے چپ رہنے والا آدمی گونگا شیطان ہے‘‘(نورالھدٰی) -اس لیے آپؒ نے ارشادفرمایا :’’جان لے کہ خاموشی میں نفاق بھی ہو سکتا ہے اور جس خاموشی کا تعلق نفاق سے ہو اُس کا اتفاق شیطان کے ستر ہزار فتنہ و فریب سے ہوتا ہے‘‘-(اسرارلقادری)

3: یادرہے ’’اسم اعظم ‘‘سے مراد ’’اسم اللہ ذات‘‘ ہے-  جولوگ اللہ عزوجل سے اپنا تعلق مضبوط کرلیتے ہیں اسم اللہ ذات ان کے وجود میں سرایت کرجاتا ہےاور ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتاہے ،جیساکہ آپؒ  نے ارشادفرمایا:ذاکرانِ الٰہی کے بدن کے ہر بال کی زبان ہوتی ہے جو ہمیشہ ذکرِ اَللّٰہُ میں مشغول رہتی ہے-اُن کا دل، اُن کی ہڈیاں، اُن کے رگ و پوست اور اُن کے تن بھی ذکرِ اَللّٰہُ میں مشغول رہتے ہیں‘‘(عین الفقر)- مزید ارشادفرمایا: ’’ اُن کے دل آتش ِعشق کی گرمی سے دیگ کی طرح کھولتے رہتےہیں، کبھی وہ پُرجوش ہوتے ہیں اور کبھی پُر سکون ، وہ اپنے شب و روز اِسی طرح گزارتے ہیں‘‘- (عین الفقر)

4:تما م عبادات کا مقصد چونکہ اللہ عزوجل کی معرفت و پہچان ہے،جیسا کہ علامہ بدرالدین عینیؒ ارشادفرماتے ہیں:’’اَلْمُرَادُ مِنَ الْعِبَادَةِ اَلْمَعْرِفَةُ‘‘ (عبادت سے مراد معرفت ہے )(عمدة القاری  شرح صحيح البخاری)-مزید فرمان مبارک ہے:’’وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ أَيْ لِيَعْرِفُونِ‘‘ (میں نے جن و انس کو محض اپنی عبادت یعنی پہچان کے لیے پیدا فرمایا)(تفسیر مظہری)- اس لیے صوفیاء کرام معرفت کے بغیر عبادت کو خام تصور کرتے ہیں اور اپنی عبادت کو عبادت کا نام ہی تب دیتے ہیں جب اللہ عزوجل انہیں اپنی معرفت وپہچان سے بہرہ مند فرماتا ہے-اسی لیے آپؒ ارشادفرماتے ہیں:’’عقل وہ ہے جو خدا تک راہنمائی کرے، علم وہ ہے جو وحدتِ الٰہی کی معرفت بخشے‘‘(عین الفقر)- اس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے آپؒ نے ارشاد فرمایا :

’’اگر طالب چاہے کہ وہ ہروقت قربِ حضور میں دیدارِ الٰہی سے مشرف رہے یا مجلس ِحضرت محمد رسول اللہ (ﷺ) میں حاضر رہے یا جملہ انبیاء واؤلیاء اللہ کی ارواح سے مجلس و ملاقات کرے تو اُسے چاہیے کہ وہ علمِ معرفت و قربِ انوارِ دیدار کی راہ اختیارکرے کہ اُس راہ میں کسی قسم کی غلطی،سلب اور رجعت کا خطرہ نہیں‘‘-(نورالھدٰی)

معرفت الٰہی کیسے حاصل ہوتی ہے؟ اس طر یق کے بارے میں رہنمائی فرماتے ہوئے آپؒ  نے ارشادفرمایا: ’’جب طالب اللہ اپنے وجود سے خود پرستی اور مستی ٔہوا کے دو خداؤں کو تصورِ اسم اللہ ذات کی تلوار سے قتل کرڈالتاہے تو تب کہیں جاکر فقرِ معرفت ِاللہ میں قدم رکھتاہے- ایسے باطن آباد طالب اللہ کو نفس کا قتل کرنا مبارک ہو‘‘-(نورالھدٰی)

مزید ارشادفرمایا :’’معرفت ِالٰہیہ کا یہ علم و ہ شخص پڑھ سکتاہے جو ا ِس کا سبق اسم ’’اَللّٰہُ‘‘ سے پڑھتا ہے اور وہ ہمارا جان سے پیار ا بھائی ہے‘‘-(نورالھدٰی)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر