علامہ ابن عربی

علامہ ابن عربی

ابن آدم کی ہدایت کے لیے اللہ رب العزت نے انبیاء و رسل کو مبعوث فرمایا اور جو تعلق بندہ اور خدا کا منقطع ہو چکا تھا اُس کو بحال کرنے کیلئے یہ سلسلہ چلتا رہا - آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسی علیہ السلام تک اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے لیکر ہادیٔ عالم، نورِ مجسم شفیعِ معظم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر اختتام پذیر ہوا اور نبوت کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بندہو گیا - اب یہ تعلق جو بندہ اور مولیٰ کا تھا اس کے درمیان ہمیشہ ہمیشہ اس واسطہ کی ہر دور اور ہر حال میں اَشد ضرورت تھی کیونکہ اس واسطے کے بغیر یہ نظام نہیں چل سکتا تو اب نبوت کا دروازہ تو بند ہوگیا پھر یہ ڈیوٹی کس کے سپرد ہوئی جو اِس ٹوٹے ہوئے تعلق کو استوار کرے تو اللہ رب العزت نے ابن آدم میں سے اپنے کچھ بندوں کا انتخاب کیا جن کا ظاہر تو امتی اور متبع کا تھا ، لباس تو خادم اور غلام کا تھا، نام مطیع و فرمانبردار تھا لیکن باطن نورِ نبوت سے منور تھا ، سینہ خزانۂ نبوت سے مزین تھا ، مالک کے ساتھ اتنا مضبوط تعلق کہ لمحہ بھر بھی یادِ الٰہی اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے غافل نہ تھا - اٹھنا بیٹھنا ، چلنا پھرنا، کھانا پینا، سونا جاگنا، ایک سانس بھی خدا کی مرضی کے بغیر نہیں لیتے اور خلق کے ساتھ اتنا گہرا تعلق اور پیار کہ ہر لمحہ ان کی فکر کہ فلاح و کامیابی کیسے ملے گی، یہ کیسے مراد تک پہنچے گی، منزل تک رسائی کیسے ہوگی، یہ ابدی سرمدی کامیابی کیسے حاصل کریں گے؟ہر وقت امت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آسانیاں پیدا کرنے اور گوہرمراد حاصل کرنے کی فکر میں رہتے ہیں -

الامام العلامہ الشیخ الاکبر محی الدین ابن العربی علیہ الرحمۃ انہی بندگانِ خدا میں سے ایک ہیں - آپ کی ولادت با سعادت مشرقی اندلس (اسپین) کے شہر مریسہ میں پیر کی رات ۱۷ رمضان المبارک ۵۶۰ ھ میں ہوئی - شیخ الاکبر محی الدین حضرت امام ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کو امام جلال الدّین سیُوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالہ ’’التنبئۃ الغبی بتبرأۃ شیخ ابن العربی‘‘ میں حافظ شرف الدین الدمیاطی کی ’’معجم‘‘ کے حوالہ سے اس شجرہ اور ان القابات سے ذکر فرمایا : -

 ’’ محمد بن علی بن محمد بن احمد ابو عبد اللہ بن ابی عبد اللہ الطائی ،الحاتمی ، مغربی الاصل، دمشقی المولد، الشافعی، الفقیہ، الادیب المعروف ابن العربی‘‘-

آپ کے والد علی بن محمد صاحبِ زہد عالم اور متقی تھے اور غوث الاعظم محی الدین سیّدی شیخ عبد القادر الجیلانی رضی اللہ عنہ کے معتقدین و فیض یافتگان میں سے تھے - آپ کا خاندان اپنی شرافت ، جاہ و جلال ، علم و معرفت ، زہد و تقویٰ ، امارت و عزت میں اپنے وقت میں ممتاز حیثیت رکھتا تھا ، آپ کے والد گرامی فقہ و حدیث میں ممتاز مقام رکھتے تھے ، اس کے علاوہ وہ عظیم فلسفی ابن رشد کے دوست اور سلطان اشبیلیہ کے وزیر بھی تھے - آپ ۸ سال کی عمرمیں اپنے خاندان کے ساتھ ۵۶۸ھ میں مریسہ سے اندلس کے دارالخلافہ اشبیلیہ آگئے اور ۵۹۸ھ تک وہیں مقیم رہے- اس دوران علم و ادب میں دسترس حاصل کی شروع میں ابوبکر محمد بن خلف اور ابو القاسم عبدالرحمن الشرائط القرطبی سے قرآت سبعہ کی تعلیم حاصل کی - یہاں پر آپ تقریباً ۳۰ سال کا عرصہ رہے اور اندلسی صوفیاء کرام سے استفادہ کیا-

شیخ اکبر محی الدین ابن عربی علیہ الرحمۃ عالمِ اسلام اور دُنیائے تصوف کے وہ درخشندہ ستارے ہیں جن کے علم و عرفان سے دنیا کئی صدیوں سے منور ہو رہی ہے ، تصوف کے تمام سلاسل نے ان کو شیخِ اکبر کا نام دیا ہے اور بلا شبہ اس کے حق دار بھی ہیں ، تمام سلاسل کے تمام مشائخ اولیائے کاملین ، صوفیائے عظام ، علمائِ حق ان کے بارے میں رطب اللسان ہیں اور ان کی کشفی و الہامی کیفیات مُسَلَّمَہ ہیں-

علامہ ابن عربی کی ہمہ گیر کثیر الجہات شخصیت ا ن کے علوم و معارف ، حیرت انگیز باطنی احوال ، کثیر تصانیف ، عمیق عرفان اور دیگر افکار کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو آپ کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے علم و عرفان ، اسرارِ الٰہیہ کے دریا بہا دیئے ہیں - تصوف و فلسفہ تو ان کی شخصیت کے اجزئے ترکیبی ہیں ، آپ نے ایسے ایسے اَسرار و رموز کی نقاب کشائی کی ہے جس سے راہِ طریقت کھل کر سامنے آگیا- اپنے عہد کے مشہور فلسفی ابن رُشد چیف جسٹس کے عہدے پر فائز تھے شیخ اکبر ان سے ملنے قرطبہ گئے اور ان کو اتنا متأثر کیا کہ ابن رُشد خود ان کے حلقہ بگوش ہوگئے- علامہ ابن عربی کو اللہ رب العزت نے کثیر اوصافِ حمیدہ سے نوازا جن میں سے ہر پہلو پر گفتگو کی جاسکتی ہے مگر میرا مدعا یہ ہے کہ آپ کے متعلق آپ کے ہم عصر اور بعد میں آنے والے فقہاء ، عرفاء ، محدثین، مؤلفین، مصنفین کی آراء کا جائزہ لیا جائے-

کیونکہ ان کی آراء اور تبصرہ سے علامہ ابن عربی کی شخصیت اور علمی و عملی قابلیت اور خداداد صلاحیتیں جو بارگاہِ ایزدی سے آپ کو نصیب ہوئیں اُن پہ ایک خاطر خواہ روشنی مل جاتی ہے - بعض نہایت جلیل القدر بزرگوں نے آپ سے علمی اِختلاف بھی فرمایا ہے لیکن آپ کے مناصبِ رُوحانی کا اعتراف بھی فرمایا ہے -

شیخ اکبر محی الدین ابن عربی اپنے زمانہ کے اکابرین کے سربراہ تھے ، صوفیاء کرام نے انہیں علی الاعلان مختلف القابات سے یاد کیا ، مثلاً ابن عربی قطب الموحدین، رئیس المکاشفین ، شیخ المحققین اور امام الاولیاء و الصالحین ہیں ، وہ واقف اسرار و ہدایت عارف، محقق اور سردار مقربین تھے بے شک ولایت عظمی اور صدیقیت کبری پر فائز تھے -

امام جلال الدین السیوطی : شیخ اکبر عارفوں کے مربی ہیں ، تنزلات کی روح ہیں ، اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قدم بقدم چلنے والے ہیں -امام سیوطی علیہ الرحمہ نے حضرت شیخ اکبر کی تائید و دفاع میں شاندار رسالہ بعنوان ’’التنبئۃ الغبی بتبرأۃ ابن العربی‘‘ لکھا -

امام فخرالدین رازی : ابن عربی بہت بڑے جلیل القدر ولی اللہ تھے -

امام عبدالوہاب الشعرانی : شیخ اکبر کتاب و سنت کے پابند تھے اور فرماتے تھے جس نے ایک لحظہ بھی شریعتِ محمدی چھوڑ دی وہ ہلاک ہوگیا-

شیخ شہاب الدّین سُہروردی : ابنِ عربی بحر الحقائق ( حقیقتوں کا سمندر ) ہیں-

حافظ عماد الدین ابن کثیر : آپ سے لوگوں نے پوچھا کہ حضرت شیخ اکبر کی غلطی پکڑنے والوں کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے تو فرمایا میرا خیال ہے ان کی غلطی پکڑنے والے خود غلطی پر ہیں او ر جن لوگوں نے ان کا انکار کیا وہ مصیبت میں پڑ گئے-

امام سبکی علیہ الرحمۃ: شیخ اکبر آیت میں آیات اللہ تھے اور اس زمانے میں علم و فضل کی کنجی انہی کے ہاتھ میں تھی اور مَیں سوائے اس کے کسی کو نہیں پہچانتا-

شیخ قطب الدین شیرازی : شیخ اکبر علوم شریعت و حقیقت میں کامل تھے اور ان کی شان میں وہی شخص جرح کرتا ہے جو ان کے کلام کو نہیں سمجھتا-

شیخ مؤیدالدین : ہم نے کسی شخص کو اہلِ طریقت میں سے نہیں سنا کہ وہ ان علوم پر مطلع ہوا جن پر شیخِ اکبر مطلع تھے-

شیخ کمال الدین کاشی : اپنی تاریخ میں شیخ شمس الدین ذہبی سے حکایت کرتے ہیں کہ انہوں نے شیخ اکبر کو سوانح حیات میں لکھا ہے کہ وہ شیخ امام زاہد ، ولی ، بحر الرائق والفنون، مفید علوم والے مبارک تصانیف والے ابو عبداللہ محمد بن علی بن محمد احمد بن علی حاتمی طائی اندلسی اور محی الدین سے ملقب ابن عربی مشہور ہیں ، وہ علوم کا عظیم پہاڑ تھے جس کا دامن پختہ اور اونچائی بہت بلند تھی ان کے فن میں کوئی ان کا نظیر نہ تھا -

امام عبداللہ یافعی : شیخ اکبر ولایت عظمیٰ پر تے اور فرمایا جو شخص اولیاء اللہ سے عداوت رکھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے عداوت رکھتا ہے-

حضرت ابو عبداللہ قرشی : جو شخص مقبول حق افراد کی تنقیض کرے اس کے قلب میں ایک زہر آلود تیر لگتا ہے اور وہ مرتا نہیں یہاں تک کہ اس کے عقائد فاسد ہوجاتے اور اس پر سوئِ خاتمہ کا اندیشہ ہوتا ہے-

شیخ مجدد بن فیروز آبادی : ہم کو قوم میں سے کسی کے متعلق یہ روایت نہیں پہنچتی کہ کوئی شخص کبھی علم شریعت و طریقت میں اسی درجہ کو پہنچا ہو جس درجہ کو شیخ اکبر محی الدین ابن عربی پہنچے ہیں -

امام محی الدین نووی : امام نووی سے ابن عربی کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمانے لگے کہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی ہمارے نزدیک اتنا ضرور ہے کہ ہر صاحبِ عقل پر حرام ہے کہ اولیاء میں سے کسی کے بارے میں بدگمانی رکھے-

شیخ سراج الدین مخزومی : آپ نے علامہ ابن عربی کے حق میں کتاب لکھی جس کا نام کشف العظاء رکھا اس میں انہوں نے فرمایا کہ ہم جیسوں کو کیا زیبا ہے کہ ان کا کلام جو فتوحات میں ہے جس کو ہم نہیں سمجھتے اس پر اعتراض کریں-

محقق ابن کمال پاشا : آپ کا ایک فتویٰ ہے کہ انہوں نے فرمایا شیخ اکبر کی بہت تصنیفات ہیں ان میں ایک فصوص الحکم اور ایک فتوحاتِ مکیہ ہے ان کے بعض مسائل تو مفہوم اللفظ اور معنیٰ امر الٰہی و شریعت نبوی کے موافق ہیں اور بعض اہلِ ظواہر کے ادراک سے پوشیدہ ہیں ، علامہ ابن عربی فرماتے ہیں علم وہ ہے جو بذریعہ وحی و الہام حاصل ہو وہبی ہو کسبی نہ ہو فرماتے ہیں کہ فصوص الحکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مجھے خود لکھوائی-

احمد قشاشی : اگر انسان غور و خوض سے کام لے اور آپ کی تصنیفات اور فتوحات مکیہ سے آپ کے مناقب ، سیاق و تقریب کو سامنے رکھ کر اکٹھے کرنے لگ جائے تو کئی جلدیں تیار ہوجائیں-

شیخ محقق سعد الدین محمد مؤید بن عبداللہ : جب شام سے اپنے وطن لوٹے تو معاصر اشراف اور خاص اصحاب نے ان سے دریافت کیا کہ آپ شام کے علماء میں سے کس کو چھوڑ کر آئے ہیں تو شیخ سعد الدین نے فرمایا کہ مَیں نے وہاں ٹھاٹھیں مارتا سمندر چھوڑا ہے جس کی تو گہرائی میں انتہا ہے اور نہ ساحل یعنی شیخ اکبر-

حافظ ابن عساکر : حافظ ابن عساکرجو تاریخ دمشق وغیرہ اور صاحب تصانیف ہیں یہ شیخ اکبر کے شاگردوں میں سے تھے اور ان کی مجالس میں ہمیشہ شریک ہوتے تھے-

مولانا نورالدین عبدالرحمن جامیؔ:  آپ شیخ اکبر کے مُعَرِّفین میں سے تھے وہ خود بھی ماہر ادیبوں اور چوٹی کے صوفیاء کرام اور پُر شو ر و پر شوق عارفوں میں سے تھے اور ابن عربی کے دلدادہ پیروکاروں میں سے تھے : فرماتے ہیں صوفیوں کی جماعت نے ان کو بزرگ مانا ، ان کے کلام کی اچھی تعریف کی-

امام شرف الدین المناوی : امام ابن عربی پر تبرا بازی کی بجائے خاموشی بہتر ہے اور یہ بات ہر اس پرہیزگار کے موافق ہے جو اپنی ذات سے بھی ڈرتا ہے-

امام ابن عُجیبہ: آپ نے حضرت شیخ اکبر کی تصانیف کی شروحات لکھیں اور معترضین کے اعتراضات کے جواب دیئے اور شیخ اکبر کی علمی و روحانی کمالات کی تائید کی -

شیخ عز الدین بن عبد السلام : شیخ ابن عربی وقت کے عظیم قطب تھے -

شیخ العارف صفی الدین بن ابو المنصور: میں نے دمشق میں امام الوحید، العالم العامل شیخ ابن عربی کو دیکھا وہ طریقت کے عظیم علماء میں سے تھے انہوں نے جو کسبی علوم اور عطائی علوم پڑھے تھے سب کو جمع فرما دیا- ان کی شہرت بہت بلند ہے اور ان کی کتابیں بہت ساری ہیں علمی اور اخلاقی طور پر توحید کا ان پر غلبہ تھا- وہ کسی وجود کی پرواہ نہیں کرتے تھے چاہے وہ (ان کی طرف) متوجہ ہوتا یا وہ اعراض کرنے (منہ پھیرنے) والا ہوتا- ان کے پیرو کار وں میں علماء، ارباب وجد اور اصحابِ تصانیف شامل ہیں-

حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی : شیخ اکبر اکابر و اعاظم اولیاء اللہ سے ہیں ، قرآن و حدیث سے استنباط میں پایہ عالی رکھتے ہیں ان کی مؤلفات میں کوئی ایسا مسئلہ مذکور نہیں جس کی اصل کتاب و سنت سے بیان نہ فرمائی ہو ان میں طعن و شک کی وجہ بعض لوگوں کا تعصب ہے-

علی بن ابراہیم البغدادی : سلطان اعظم حاکم دمشق نے ہمارے شیخ شیخ الاسلام قاضی القضاۃ مجدد الدین فیروز آبادی سے ابن عربی کی کتب کے بارے میں فتوی پوچھا انہوں نے جواباً لکھا شیخ اکبر حالاً وعلماً شیخ طریقت ہیں ، حقیقتاً و رسماً تحقیق کے امام ہیں ، رسوم معارف کو فعلاً و اسماً زندہ کرنے والے ہیں جب آدمی کا غور و فکر اس کے سمندر میں ایک ہی جانب شدت سے داخل ہوگا تو افکار اسی میں غرق ہوجائیں گی وہ بے بہا پانی ہے جیسے ڈول گدلا نہیں کر سکتے اور بادل ہے ان کی برکات بکھرتی ہیں تو آفاق کو بھی روشن کر دیتی ہیں ، ان کا وصف بیان کر رہاہوں حالانکہ وہ میرے بیان کردہ اوصاف سے بہت بالا تر ہیں ، رہی بات ان کی تصانیف کی تو وہ چھلکتے سمندر ان کے گوہر ہائے نایاب اتنے زیادہ ہیں کہ نہ تو ان کے آغاز و انتہا کو جانا جا سکتا ہے اور نہ ہی لکھنے والوں نے ان کی کتابوں کی مثل لکھی -

بڑے بڑے علماء و فقہاء شیخ اکبر کے متعلق اس نتیجے پر پہنچے کہ علامہ ابن عربی ہر فن کو اس فن والوں سے زیادہ جانتے ہیں -شیخ اکبر کا لفظ جب صوفیاء میں بولا جاتا ہے تو اس سے مراد علامہ ابن عربی ہوتے ہیں -

امام یوسف النبہانی علیہ الرحمۃلکھتے ہیں:شیخ اکبر کی تصانیف ایک خود زندہ کرامت ہیں اورعلامہ یوسف نبھانی نے شیخ اکبر کے متعلق ایک قصیدہ لکھا جس میں فرماتے ہیں:

(۱)اے بادنسیم! ذرا قاسیوں شہر تک جا اور اس عظیم المرتبت عالم کو سلام پیش کر جو وہاں دامن کوہ میں مدفون ہے-

(۲)اے باد صبا! میری طرف سے صالحیا میں اس سمندر کوسلام کہہ دے جس نے کائنات کو قیمتی موتیوں سے بھردیا-

(۳)میری طرف سے وہاں اس سورج کوسلام پیش کر جس کے نور نے مغرب سے لے کر چین تک سب کائنات کوڈھانپ رکھا ہے-

(۴)وہ میرے آقا عظیم المرتبت محی الدین ہیں وہ کتنے عظیم المرتبت امام اورامین ہیں -

(۵)وہ سرزمین جلق کی مٹی کے نیچے غائب ہوگیا اوراس سرزمین کی روشنی علیین تک جا پہنچی-

(۶)ان کی ہرایک کتاب بھلائی کاخزانہ ہے جو اچھے لوگوں میں ہمیشہ محفوظ رہے گی-

(۷)اس کی ہر ہر سطر میں ہزار ہا فنون میں جتنا تو چاہیے بڑھتا جائے کہ فنون گنے نہیں جاسکتے -

(۸) یہ عُقّال کی تصنیف نہیں ہے بلکہ یہ پرہیز گاروںکے دلوں کی وارداتیں ہیں-

(۹)اے صاحبانِ اختلاف! اس میں اللہ تعالیٰ کی نصوص بھری ہوئی ہے اس کی مخالفت میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو-

(۱۰)اللہ کریم، نبی رحیم ،اہل اللہ اوران کے پیروکار سب آپ سے راضی ہیں -

(۱۱)اب بعد والے لوگوں کا آپ پراعتراض کرنا ایسا فعل ہے جس پر ایمان دار راضی نہیں -

(۱۲)اے زیارت کرنے والو! پورے احترام سے آپ کی قبر کی زیارت کرو-

(۱۳)آپ اللہ کے عارفوں کے بہترین گروہ میں سے ہیں جو مخلوقات کے لئے مرشد ہیں

توجہ طلب امر یہ ہے کہ علامہ ابن عربی کو یہ مقام اورمرتبہ کیسے حاصل ہوا ،جلیل القدر فقہاء اورصوفیائے کرام کاعلامہ شیخ اکبر کے متعلق یہ نظریہ کہ اس سعادت کاحصول اب بھی ممکن ہے یا نہیں -اب اس سعادت کا اگر حصول ممکن ہے توپھر یہ کسی مدرسہ اورمکتب کالج اوریونیو رسٹی سے ملے گی؟ تو جواب ان تمام سوالوں کایہی ہے کہ یہ ممکن بھی ہے اوراس کاتعلق پڑھنے پڑھانے کالج اوریونیوروسٹی اورجامعہ سے نہیں بلکہ مولائے روم سے پوچھتے ہیں یہ کہاں سے ملیں گی تو فرمایا :

دیں مجو اندر کتب اے بے خبر

 علم وحکمت ازکتب ،دیں از نظر

ترجمہ: -’’ اے بے خبر! کتابوں میں دین مت تلاش کرو، کتابوں سے علم و حکمت لو اور دین(کسی کی)نگاہ سے حاصل کرو-‘‘

تو وہ نظر کہاں سے نصیب ہوگی ؟ عارفوں کے بادشاہ سلطان العارفین برہان الواصلین ،قدوۃ السالکین ،منبع رشدو ہدایت حضرت سلطان محمدباھُو رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ہرکہ خواہد معرفت وحدت خدا

طلب کن از مرشدی گنج غنا

’’جو کوئی وحدت حق کی معرفت کاطالب ہے اُسے چاہیے کہ وہ کسی مرشد کامل سے گنج غنائت طلب کرے -‘‘(عقل بیدا :۲۲۸)

کیمیا یا سنگ پارس بانظر

 احتیاجی تونماند سیم زر

’’مرشد کامل اگر تجھے اپنی نگاہ سے علم کیمیاء یا سنگ پارس عطا کردے تو تجھے تلاش سیم زر کی حاجت نہیں رہے گی -‘‘(عقل بیدار :۲۲۸)

امام محی الدّین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال با کمال دمشق (شام) میں ۶۳۸ھ میں ۲۲ ربیع الثانی کو جمعہ کے دِن ہوا اور وہیں آپ کی تُربتِ مبارک طالبانِ مولیٰ کی زیارت گاہ ہے جہاں سے بڑے بڑے اکابرین و شیوخِ اُمّت نے اکتسابِ فیض فرمایا ہے - عارفانِ مولیٰ کی مجالس میں ہمیشہ ابنِ عربی رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ رفعتوں پہ رہا ہے بالخصوص آپ کی تصانیف ’’فصوص الحکم شریف‘‘ اور ’’فتوحات المکیّہ شریف‘‘ کا درس طالبانِ راہ و عُشّاقانِ الٰہ کو صدیوں سے دیا جاتا رہا ہے ، کئی عُرفائے کرام و صُوفیائے عظّام نے تو یہاں تک لکھّا ہے کہ جب تک کسی مُستند عالمِ معرفت سے ’’تفسیر ابن عربی‘‘ نہ پڑھ لی جائے تب تک حقائقِ قرآن کی تہہ تک نہیں پہنچا جا سکتا اور نہ ہی عجائبات و غرائباتِ قرآن کا ادراک نصیب ہوتا ہے -

امام ابن عربی کے ایک فرزند فقیہ اور ادیب مشہور ہیں جن کا نام الشاعر سعد الدین محمد بن الشیخ محی الدین ابن العربی ہے جو کہ ملطیہ کے مقام پر رمضان ۶۱۸ھ میں پیدا ہوئے - حدیث پاک کی سماعت کی اور درس دیا- وہ بہت عمدہ شاعر تھے - جو کہ دمشق میں جمادی الثانی ۶۵۶ھ میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے- امام ابن عربی کے دوسرے بیٹے عماد الدین محمد (رحمۃ اللّٰہ علیہ) ہے جن کے بارے میں امام سیوطی علیہ الرحمۃ نے القطب الیونینی کے حوالے سے فرمایا ہے کہ ’’وہ ایسے فاضل تھے جنہوں نے علی احمد بن عبد الدائم المقدسی (رحمۃ اللّٰہ علیہ) کی بہت زیادہ سماعت کی- وہ دمشق میں ۶۶۷ھ میں وفات پا گئے- ان کی عمر پچاس سال سے کچھ زائد تھی -‘‘

جدید معلومات کے مطابق مستشرقین (اِسلام پہ تحقیق کرنے والے مغربی دانشوروں) نے بھی حضرت شیخِ اکبر کی تصانیف سے بہت زیادہ استفادہ بھی کیا ہے اور ان پہ تحقیقی کام بھی کیا ہے جن میں خاص کر نیویارک اسٹیٹ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ولیم سی چیٹک ہیں جنہوں نے تشریحاتِ ابنِ عربی پہ بڑا ضخیم اور مسلسل کام کیا ہے - لاطینی سمیت تمام مغربی زبانوں میں آپ کی تصانیفِ شریفہ کے تراجم ہو چکے ہیں - دُنیا کی کئی بڑی بڑی ماڈرن یونیورسٹیوں میں علامہ ابن عربی پر ایم فل اور ڈاکٹریٹ کے سینکڑوں مقالہ جات لکھے گئے ہیں جن میں امریکہ ، جرمنی ، برطانیہ ، فرانس اور اسپین کی یونیورسٹیاں سرِ فہرست ہیں بلکہ اسپین کے کئی فلسفی ، دانشور ، مستشرقین اور نقّاد بڑے فخر سے اِس امر کا اِظہار کرتے ہیں کہ ہم اُس سرزمین سے ہیں جس پہ شیخ ابنِ عربی کی وِلادَت ہوئی -

کتابیات:

(۱) التنبئۃ الغبی بتبرأۃ ابن العربی للسیوطی                     (۲) سیر اعلام النُبلأ

(۳)ترغیب العلم العرفان فی شرح فصوص الحکم والیقان      (۴) عقل بیدار

 (۵) جامع کرامات الاولیاء للنبہانی                               (۶) الدرالثمین ابراھیم بن عبداللّٰہ

(۷)نفحات الاندلس                                       (۸) ملفوظات مہریہ

 

(۹) ابعاد الغمم فی الشرح الحِکم                                   (۱۰) شیخ اکبر محی الدین ابن عربی حیات و افکار کی ایک جھلک

ابن آدم کی ہدایت کے لیے اللہ رب العزت نے انبیاء و رسل کو مبعوث فرمایا اور جو تعلق بندہ اور خدا کا منقطع ہو چکا تھا اُس کو بحال کرنے کیلئے یہ سلسلہ چلتا رہا - آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسی علیہ السلام تک اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے لیکر ہادیٔ عالم، نورِ مجسم شفیعِ معظم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر اختتام پذیر ہوا اور نبوت کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بندہو گیا - اب یہ تعلق جو بندہ اور مولیٰ کا تھا اس کے درمیان ہمیشہ ہمیشہ اس واسطہ کی ہر دور اور ہر حال میں اَشد ضرورت تھی کیونکہ اس واسطے کے بغیر یہ نظام نہیں چل سکتا تو اب نبوت کا دروازہ تو بند ہوگیا پھر یہ ڈیوٹی کس کے سپرد ہوئی جو اِس ٹوٹے ہوئے تعلق کو استوار کرے تو اللہ رب العزت نے ابن آدم میں سے اپنے کچھ بندوں کا انتخاب کیا جن کا ظاہر تو امتی اور متبع کا تھا ، لباس تو خادم اور غلام کا تھا، نام مطیع و فرمانبردار تھا لیکن باطن نورِ نبوت سے منور تھا ، سینہ خزانۂ نبوت سے مزین تھا ، مالک کے ساتھ اتنا مضبوط تعلق کہ لمحہ بھر بھی یادِ الٰہی اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے غافل نہ تھا - اٹھنا بیٹھنا ، چلنا پھرنا، کھانا پینا، سونا جاگنا، ایک سانس بھی خدا کی مرضی کے بغیر نہیں لیتے اور خلق کے ساتھ اتنا گہرا تعلق اور پیار کہ ہر لمحہ ان کی فکر کہ فلاح و کامیابی کیسے ملے گی، یہ کیسے مراد تک پہنچے گی، منزل تک رسائی کیسے ہوگی، یہ ابدی سرمدی کامیابی کیسے حاصل کریں گے؟ہر وقت امت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آسانیاں پیدا کرنے اور گوہرمراد حاصل کرنے کی فکر میں رہتے ہیں -

الامام العلامہ الشیخ الاکبر محی الدین ابن العربی علیہ الرحمۃ انہی بندگانِ خدا میں سے ایک ہیں - آپ کی ولادت با سعادت مشرقی اندلس (اسپین) کے شہر مریسہ میں پیر کی رات ۱۷ رمضان المبارک ۵۶۰ ھ میں ہوئی - شیخ الاکبر محی الدین حضرت امام ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کو امام جلال الدّین سیُوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالہ ’’التنبئۃ الغبی بتبرأۃ شیخ ابن العربی‘‘ میں حافظ شرف الدین الدمیاطی کی ’’معجم‘‘ کے حوالہ سے اس شجرہ اور ان القابات سے ذکر فرمایا : -

’’ محمد بن علی بن محمد بن احمد ابو عبد اللہ بن ابی عبد اللہ الطائی ،الحاتمی ، مغربی الاصل، دمشقی المولد، الشافعی، الفقیہ، الادیب المعروف ابن العربی‘‘-

آپ کے والد علی بن محمد صاحبِ زہد عالم اور متقی تھے اور غوث الاعظم محی الدین سیّدی شیخ عبد القادر الجیلانی رضی اللہ عنہ کے معتقدین و فیض یافتگان میں سے تھے - آپ کا خاندان اپنی شرافت ، جاہ و جلال ، علم و معرفت ، زہد و تقویٰ ، امارت و عزت میں اپنے وقت میں ممتاز حیثیت رکھتا تھا ، آپ کے والد گرامی فقہ و حدیث میں ممتاز مقام رکھتے تھے ، اس کے علاوہ وہ عظیم فلسفی ابن رشد کے دوست اور سلطان اشبیلیہ کے وزیر بھی تھے - آپ ۸ سال کی عمرمیں اپنے خاندان کے ساتھ ۵۶۸ھ میں مریسہ سے اندلس کے دارالخلافہ اشبیلیہ آگئے اور ۵۹۸ھ تک وہیں مقیم رہے- اس دوران علم و ادب میں دسترس حاصل کی شروع میں ابوبکر محمد بن خلف اور ابو القاسم عبدالرحمن الشرائط القرطبی سے قرآت سبعہ کی تعلیم حاصل کی - یہاں پر آپ تقریباً ۳۰ سال کا عرصہ رہے اور اندلسی صوفیاء کرام سے استفادہ کیا-

شیخ اکبر محی الدین ابن عربی علیہ الرحمۃ عالمِ اسلام اور دُنیائے تصوف کے وہ درخشندہ ستارے ہیں جن کے علم و عرفان سے دنیا کئی صدیوں سے منور ہو رہی ہے ، تصوف کے تمام سلاسل نے ان کو شیخِ اکبر کا نام دیا ہے اور بلا شبہ اس کے حق دار بھی ہیں ، تمام سلاسل کے تمام مشائخ اولیائے کاملین ، صوفیائے عظام ، علمائِ حق ان کے بارے میں رطب اللسان ہیں اور ان کی کشفی و الہامی کیفیات مُسَلَّمَہ ہیں-

علامہ ابن عربی کی ہمہ گیر کثیر الجہات شخصیت ا ن کے علوم و معارف ، حیرت انگیز باطنی احوال ، کثیر تصانیف ، عمیق عرفان اور دیگر افکار کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو آپ کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے علم و عرفان ، اسرارِ الٰہیہ کے دریا بہا دیئے ہیں - تصوف و فلسفہ تو ان کی شخصیت کے اجزئے ترکیبی ہیں ، آپ نے ایسے ایسے اَسرار و رموز کی نقاب کشائی کی ہے جس سے راہِ طریقت کھل کر سامنے آگیا- اپنے عہد کے مشہور فلسفی ابن رُشد چیف جسٹس کے عہدے پر فائز تھے شیخ اکبر ان سے ملنے قرطبہ گئے اور ان کو اتنا متأثر کیا کہ ابن رُشد خود ان کے حلقہ بگوش ہوگئے- علامہ ابن عربی کو اللہ رب العزت نے کثیر اوصافِ حمیدہ سے نوازا جن میں سے ہر پہلو پر گفتگو کی جاسکتی ہے مگر میرا مدعا یہ ہے کہ آپ کے متعلق آپ کے ہم عصر اور بعد میں آنے والے فقہاء ، عرفاء ، محدثین، مؤلفین، مصنفین کی آراء کا جائزہ لیا جائے-

کیونکہ ان کی آراء اور تبصرہ سے علامہ ابن عربی کی شخصیت اور علمی و عملی قابلیت اور خداداد صلاحیتیں جو بارگاہِ ایزدی سے آپ کو نصیب ہوئیں اُن پہ ایک خاطر خواہ روشنی مل جاتی ہے - بعض نہایت جلیل القدر بزرگوں نے آپ سے علمی اِختلاف بھی فرمایا ہے لیکن آپ کے مناصبِ رُوحانی کا اعتراف بھی فرمایا ہے -

شیخ اکبر محی الدین ابن عربی اپنے زمانہ کے اکابرین کے سربراہ تھے ، صوفیاء کرام نے انہیں علی الاعلان مختلف القابات سے یاد کیا ، مثلاً ابن عربی قطب الموحدین، رئیس المکاشفین ، شیخ المحققین اور امام الاولیاء و الصالحین ہیں ، وہ واقف اسرار و ہدایت عارف، محقق اور سردار مقربین تھے بے شک ولایت عظمی اور صدیقیت کبری پر فائز تھے -

امام جلال الدین السیوطی : شیخ اکبر عارفوں کے مربی ہیں ، تنزلات کی روح ہیں ، اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قدم بقدم چلنے والے ہیں -امام سیوطی علیہ الرحمہ نے حضرت شیخ اکبر کی تائید و دفاع میں شاندار رسالہ بعنوان ’’التنبئۃ الغبی بتبرأۃ ابن العربی‘‘ لکھا -

امام فخرالدین رازی : ابن عربی بہت بڑے جلیل القدر ولی اللہ تھے -

امام عبدالوہاب الشعرانی : شیخ اکبر کتاب و سنت کے پابند تھے اور فرماتے تھے جس نے ایک لحظہ بھی شریعتِ محمدی چھوڑ دی وہ ہلاک ہوگیا-

شیخ شہاب الدّین سُہروردی : ابنِ عربی بحر الحقائق ( حقیقتوں کا سمندر ) ہیں-

حافظ عماد الدین ابن کثیر : آپ سے لوگوں نے پوچھا کہ حضرت شیخ اکبر کی غلطی پکڑنے والوں کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے تو فرمایا میرا خیال ہے ان کی غلطی پکڑنے والے خود غلطی پر ہیں او ر جن لوگوں نے ان کا انکار کیا وہ مصیبت میں پڑ گئے-

امام سبکی علیہ الرحمۃ: شیخ اکبر آیت میں آیات اللہ تھے اور اس زمانے میں علم و فضل کی کنجی انہی کے ہاتھ میں تھی اور مَیں سوائے اس کے کسی کو نہیں پہچانتا-

شیخ قطب الدین شیرازی : شیخ اکبر علوم شریعت و حقیقت میں کامل تھے اور ان کی شان میں وہی شخص جرح کرتا ہے جو ان کے کلام کو نہیں سمجھتا-

شیخ مؤیدالدین : ہم نے کسی شخص کو اہلِ طریقت میں سے نہیں سنا کہ وہ ان علوم پر مطلع ہوا جن پر شیخِ اکبر مطلع تھے-

شیخ کمال الدین کاشی : اپنی تاریخ میں شیخ شمس الدین ذہبی سے حکایت کرتے ہیں کہ انہوں نے شیخ اکبر کو سوانح حیات میں لکھا ہے کہ وہ شیخ امام زاہد ، ولی ، بحر الرائق والفنون، مفید علوم والے مبارک تصانیف والے ابو عبداللہ محمد بن علی بن محمد احمد بن علی حاتمی طائی اندلسی اور محی الدین سے ملقب ابن عربی مشہور ہیں ، وہ علوم کا عظیم پہاڑ تھے جس کا دامن پختہ اور اونچائی بہت بلند تھی ان کے فن میں کوئی ان کا نظیر نہ تھا -

امام عبداللہ یافعی : شیخ اکبر ولایت عظمیٰ پر تے اور فرمایا جو شخص اولیاء اللہ سے عداوت رکھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے عداوت رکھتا ہے-

حضرت ابو عبداللہ قرشی : جو شخص مقبول حق افراد کی تنقیض کرے اس کے قلب میں ایک زہر آلود تیر لگتا ہے اور وہ مرتا نہیں یہاں تک کہ اس کے عقائد فاسد ہوجاتے اور اس پر سوئِ خاتمہ کا اندیشہ ہوتا ہے-

شیخ مجدد بن فیروز آبادی : ہم کو قوم میں سے کسی کے متعلق یہ روایت نہیں پہنچتی کہ کوئی شخص کبھی علم شریعت و طریقت میں اسی درجہ کو پہنچا ہو جس درجہ کو شیخ اکبر محی الدین ابن عربی پہنچے ہیں -

امام محی الدین نووی : امام نووی سے ابن عربی کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمانے لگے کہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی ہمارے نزدیک اتنا ضرور ہے کہ ہر صاحبِ عقل پر حرام ہے کہ اولیاء میں سے کسی کے بارے میں بدگمانی رکھے-

شیخ سراج الدین مخزومی : آپ نے علامہ ابن عربی کے حق میں کتاب لکھی جس کا نام کشف العظاء رکھا اس میں انہوں نے فرمایا کہ ہم جیسوں کو کیا زیبا ہے کہ ان کا کلام جو فتوحات میں ہے جس کو ہم نہیں سمجھتے اس پر اعتراض کریں-

محقق ابن کمال پاشا : آپ کا ایک فتویٰ ہے کہ انہوں نے فرمایا شیخ اکبر کی بہت تصنیفات ہیں ان میں ایک فصوص الحکم اور ایک فتوحاتِ مکیہ ہے ان کے بعض مسائل تو مفہوم اللفظ اور معنیٰ امر الٰہی و شریعت نبوی کے موافق ہیں اور بعض اہلِ ظواہر کے ادراک سے پوشیدہ ہیں ، علامہ ابن عربی فرماتے ہیں علم وہ ہے جو بذریعہ وحی و الہام حاصل ہو وہبی ہو کسبی نہ ہو فرماتے ہیں کہ فصوص الحکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مجھے خود لکھوائی-

احمد قشاشی : اگر انسان غور و خوض سے کام لے اور آپ کی تصنیفات اور فتوحات مکیہ سے آپ کے مناقب ، سیاق و تقریب کو سامنے رکھ کر اکٹھے کرنے لگ جائے تو کئی جلدیں تیار ہوجائیں-

شیخ محقق سعد الدین محمد مؤید بن عبداللہ : جب شام سے اپنے وطن لوٹے تو معاصر اشراف اور خاص اصحاب نے ان سے دریافت کیا کہ آپ شام کے علماء میں سے کس کو چھوڑ کر آئے ہیں تو شیخ سعد الدین نے فرمایا کہ مَیں نے وہاں ٹھاٹھیں مارتا سمندر چھوڑا ہے جس کی تو گہرائی میں انتہا ہے اور نہ ساحل یعنی شیخ اکبر-

حافظ ابن عساکر : حافظ ابن عساکرجو تاریخ دمشق وغیرہ اور صاحب تصانیف ہیں یہ شیخ اکبر کے شاگردوں میں سے تھے اور ان کی مجالس میں ہمیشہ شریک ہوتے تھے-

مولانا نورالدین عبدالرحمن جامیؔ:  آپ شیخ اکبر کے مُعَرِّفین میں سے تھے وہ خود بھی ماہر ادیبوں اور چوٹی کے صوفیاء کرام اور پُر شو ر و پر شوق عارفوں میں سے تھے اور ابن عربی کے دلدادہ پیروکاروں میں سے تھے : فرماتے ہیں صوفیوں کی جماعت نے ان کو بزرگ مانا ، ان کے کلام کی اچھی تعریف کی-

امام شرف الدین المناوی : امام ابن عربی پر تبرا بازی کی بجائے خاموشی بہتر ہے اور یہ بات ہر اس پرہیزگار کے موافق ہے جو اپنی ذات سے بھی ڈرتا ہے-

امام ابن عُجیبہ: آپ نے حضرت شیخ اکبر کی تصانیف کی شروحات لکھیں اور معترضین کے اعتراضات کے جواب دیئے اور شیخ اکبر کی علمی و روحانی کمالات کی تائید کی -

شیخ عز الدین بن عبد السلام : شیخ ابن عربی وقت کے عظیم قطب تھے -

شیخ العارف صفی الدین بن ابو المنصور: میں نے دمشق میں امام الوحید، العالم العامل شیخ ابن عربی کو دیکھا وہ طریقت کے عظیم علماء میں سے تھے انہوں نے جو کسبی علوم اور عطائی علوم پڑھے تھے سب کو جمع فرما دیا- ان کی شہرت بہت بلند ہے اور ان کی کتابیں بہت ساری ہیں علمی اور اخلاقی طور پر توحید کا ان پر غلبہ تھا- وہ کسی وجود کی پرواہ نہیں کرتے تھے چاہے وہ (ان کی طرف) متوجہ ہوتا یا وہ اعراض کرنے (منہ پھیرنے) والا ہوتا- ان کے پیرو کار وں میں علماء، ارباب وجد اور اصحابِ تصانیف شامل ہیں-

حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی : شیخ اکبر اکابر و اعاظم اولیاء اللہ سے ہیں ، قرآن و حدیث سے استنباط میں پایہ عالی رکھتے ہیں ان کی مؤلفات میں کوئی ایسا مسئلہ مذکور نہیں جس کی اصل کتاب و سنت سے بیان نہ فرمائی ہو ان میں طعن و شک کی وجہ بعض لوگوں کا تعصب ہے-

علی بن ابراہیم البغدادی : سلطان اعظم حاکم دمشق نے ہمارے شیخ شیخ الاسلام قاضی القضاۃ مجدد الدین فیروز آبادی سے ابن عربی کی کتب کے بارے میں فتوی پوچھا انہوں نے جواباً لکھا شیخ اکبر حالاً وعلماً شیخ طریقت ہیں ، حقیقتاً و رسماً تحقیق کے امام ہیں ، رسوم معارف کو فعلاً و اسماً زندہ کرنے والے ہیں جب آدمی کا غور و فکر اس کے سمندر میں ایک ہی جانب شدت سے داخل ہوگا تو افکار اسی میں غرق ہوجائیں گی وہ بے بہا پانی ہے جیسے ڈول گدلا نہیں کر سکتے اور بادل ہے ان کی برکات بکھرتی ہیں تو آفاق کو بھی روشن کر دیتی ہیں ، ان کا وصف بیان کر رہاہوں حالانکہ وہ میرے بیان کردہ اوصاف سے بہت بالا تر ہیں ، رہی بات ان کی تصانیف کی تو وہ چھلکتے سمندر ان کے گوہر ہائے نایاب اتنے زیادہ ہیں کہ نہ تو ان کے آغاز و انتہا کو جانا جا سکتا ہے اور نہ ہی لکھنے والوں نے ان کی کتابوں کی مثل لکھی -

بڑے بڑے علماء و فقہاء شیخ اکبر کے متعلق اس نتیجے پر پہنچے کہ علامہ ابن عربی ہر فن کو اس فن والوں سے زیادہ جانتے ہیں -شیخ اکبر کا لفظ جب صوفیاء میں بولا جاتا ہے تو اس سے مراد علامہ ابن عربی ہوتے ہیں -

امام یوسف النبہانی علیہ الرحمۃلکھتے ہیں:شیخ اکبر کی تصانیف ایک خود زندہ کرامت ہیں اورعلامہ یوسف نبھانی نے شیخ اکبر کے متعلق ایک قصیدہ لکھا جس میں فرماتے ہیں:

(۱)اے بادنسیم! ذرا قاسیوں شہر تک جا اور اس عظیم المرتبت عالم کو سلام پیش کر جو وہاں دامن کوہ میں مدفون ہے-

(۲)اے باد صبا! میری طرف سے صالحیا میں اس سمندر کوسلام کہہ دے جس نے کائنات کو قیمتی موتیوں سے بھردیا-

(۳)میری طرف سے وہاں اس سورج کوسلام پیش کر جس کے نور نے مغرب سے لے کر چین تک سب کائنات کوڈھانپ رکھا ہے-

(۴)وہ میرے آقا عظیم المرتبت محی الدین ہیں وہ کتنے عظیم المرتبت امام اورامین ہیں -

(۵)وہ سرزمین جلق کی مٹی کے نیچے غائب ہوگیا اوراس سرزمین کی روشنی علیین تک جا پہنچی-

(۶)ان کی ہرایک کتاب بھلائی کاخزانہ ہے جو اچھے لوگوں میں ہمیشہ محفوظ رہے گی-

(۷)اس کی ہر ہر سطر میں ہزار ہا فنون میں جتنا تو چاہیے بڑھتا جائے کہ فنون گنے نہیں جاسکتے -

(۸) یہ عُقّال کی تصنیف نہیں ہے بلکہ یہ پرہیز گاروںکے دلوں کی وارداتیں ہیں-

(۹)اے صاحبانِ اختلاف! اس میں اللہ تعالیٰ کی نصوص بھری ہوئی ہے اس کی مخالفت میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو-

(۱۰)اللہ کریم، نبی رحیم ،اہل اللہ اوران کے پیروکار سب آپ سے راضی ہیں -

(۱۱)اب بعد والے لوگوں کا آپ پراعتراض کرنا ایسا فعل ہے جس پر ایمان دار راضی نہیں -

(۱۲)اے زیارت کرنے والو! پورے احترام سے آپ کی قبر کی زیارت کرو-

(۱۳)آپ اللہ کے عارفوں کے بہترین گروہ میں سے ہیں جو مخلوقات کے لئے مرشد ہیں

توجہ طلب امر یہ ہے کہ علامہ ابن عربی کو یہ مقام اورمرتبہ کیسے حاصل ہوا ،جلیل القدر فقہاء اورصوفیائے کرام کاعلامہ شیخ اکبر کے متعلق یہ نظریہ کہ اس سعادت کاحصول اب بھی ممکن ہے یا نہیں -اب اس سعادت کا اگر حصول ممکن ہے توپھر یہ کسی مدرسہ اورمکتب کالج اوریونیو رسٹی سے ملے گی؟ تو جواب ان تمام سوالوں کایہی ہے کہ یہ ممکن بھی ہے اوراس کاتعلق پڑھنے پڑھانے کالج اوریونیوروسٹی اورجامعہ سے نہیں بلکہ مولائے روم سے پوچھتے ہیں یہ کہاں سے ملیں گی تو فرمایا :

دیں مجو اندر کتب اے بے خبر

 علم وحکمت ازکتب ،دیں از نظر

ترجمہ: -’’ اے بے خبر! کتابوں میں دین مت تلاش کرو، کتابوں سے علم و حکمت لو اور دین(کسی کی)نگاہ سے حاصل کرو-‘‘

تو وہ نظر کہاں سے نصیب ہوگی ؟ عارفوں کے بادشاہ سلطان العارفین برہان الواصلین ،قدوۃ السالکین ،منبع رشدو ہدایت حضرت سلطان محمدباھُو رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ہرکہ خواہد معرفت وحدت خدا

طلب کن از مرشدی گنج غنا

’’جو کوئی وحدت حق کی معرفت کاطالب ہے اُسے چاہیے کہ وہ کسی مرشد کامل سے گنج غنائت طلب کرے -‘‘(عقل بیدا :۲۲۸)

کیمیا یا سنگ پارس بانظر

 احتیاجی تونماند سیم زر

’’مرشد کامل اگر تجھے اپنی نگاہ سے علم کیمیاء یا سنگ پارس عطا کردے تو تجھے تلاش سیم زر کی حاجت نہیں رہے گی -‘‘(عقل بیدار :۲۲۸)

امام محی الدّین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال با کمال دمشق (شام) میں ۶۳۸ھ میں ۲۲ ربیع الثانی کو جمعہ کے دِن ہوا اور وہیں آپ کی تُربتِ مبارک طالبانِ مولیٰ کی زیارت گاہ ہے جہاں سے بڑے بڑے اکابرین و شیوخِ اُمّت نے اکتسابِ فیض فرمایا ہے - عارفانِ مولیٰ کی مجالس میں ہمیشہ ابنِ عربی رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ رفعتوں پہ رہا ہے بالخصوص آپ کی تصانیف ’’فصوص الحکم شریف‘‘ اور ’’فتوحات المکیّہ شریف‘‘ کا درس طالبانِ راہ و عُشّاقانِ الٰہ کو صدیوں سے دیا جاتا رہا ہے ، کئی عُرفائے کرام و صُوفیائے عظّام نے تو یہاں تک لکھّا ہے کہ جب تک کسی مُستند عالمِ معرفت سے ’’تفسیر ابن عربی‘‘ نہ پڑھ لی جائے تب تک حقائقِ قرآن کی تہہ تک نہیں پہنچا جا سکتا اور نہ ہی عجائبات و غرائباتِ قرآن کا ادراک نصیب ہوتا ہے -

امام ابن عربی کے ایک فرزند فقیہ اور ادیب مشہور ہیں جن کا نام الشاعر سعد الدین محمد بن الشیخ محی الدین ابن العربی ہے جو کہ ملطیہ کے مقام پر رمضان ۶۱۸ھ میں پیدا ہوئے - حدیث پاک کی سماعت کی اور درس دیا- وہ بہت عمدہ شاعر تھے - جو کہ دمشق میں جمادی الثانی ۶۵۶ھ میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے- امام ابن عربی کے دوسرے بیٹے عماد الدین محمد (رحمۃ اللّٰہ علیہ) ہے جن کے بارے میں امام سیوطی علیہ الرحمۃ نے القطب الیونینی کے حوالے سے فرمایا ہے کہ ’’وہ ایسے فاضل تھے جنہوں نے علی احمد بن عبد الدائم المقدسی (رحمۃ اللّٰہ علیہ) کی بہت زیادہ سماعت کی- وہ دمشق میں ۶۶۷ھ میں وفات پا گئے- ان کی عمر پچاس سال سے کچھ زائد تھی -‘‘

جدید معلومات کے مطابق مستشرقین (اِسلام پہ تحقیق کرنے والے مغربی دانشوروں) نے بھی حضرت شیخِ اکبر کی تصانیف سے بہت زیادہ استفادہ بھی کیا ہے اور ان پہ تحقیقی کام بھی کیا ہے جن میں خاص کر نیویارک اسٹیٹ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ولیم سی چیٹک ہیں جنہوں نے تشریحاتِ ابنِ عربی پہ بڑا ضخیم اور مسلسل کام کیا ہے - لاطینی سمیت تمام مغربی زبانوں میں آپ کی تصانیفِ شریفہ کے تراجم ہو چکے ہیں - دُنیا کی کئی بڑی بڑی ماڈرن یونیورسٹیوں میں علامہ ابن عربی پر ایم فل اور ڈاکٹریٹ کے سینکڑوں مقالہ جات لکھے گئے ہیں جن میں امریکہ ، جرمنی ، برطانیہ ، فرانس اور اسپین کی یونیورسٹیاں سرِ فہرست ہیں بلکہ اسپین کے کئی فلسفی ، دانشور ، مستشرقین اور نقّاد بڑے فخر سے اِس امر کا اِظہار کرتے ہیں کہ ہم اُس سرزمین سے ہیں جس پہ شیخ ابنِ عربی کی وِلادَت ہوئی -

کتابیات:

(۱) التنبئۃ الغبی بتبرأۃ ابن العربی للسیوطی                     (۲) سیر اعلام النُبلأ

(۳)ترغیب العلم العرفان فی شرح فصوص الحکم والیقان      (۴) عقل بیدار

 (۵) جامع کرامات الاولیاء للنبہانی                               (۶) الدرالثمین ابراھیم بن عبداللّٰہ

(۷)نفحات الاندلس                                       (۸) ملفوظات مہریہ

(۹) ابعاد الغمم فی الشرح الحِکم                                   (۱۰) شیخ اکبر محی الدین ابن عربی حیات و افکار کی ایک جھلک

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر