عہدِذوالنورین کی فتوحات

عہدِذوالنورین کی فتوحات

عہدِذوالنورین کی فتوحات

مصنف: مفتی مہرمحمدساجداقبال دسمبر 2015

اللہ رب العزت نے اپنی مخلوق کی ہدایت ورہنمائی کے لئے انبیاء ورسل  علیہم السلام کو مبعوث فرمایااورہدایت و رہنمائی کا یہ سلسلہ سیدناحضرت آدم علیہ السلام سے لیکر سرکارِ دوعالم ،نورِ مجسم ،شفیعِ معظم حضور نبی کریم  ﷺپر اختتام پذیرہو ا اورآپ پر نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا- بعدازاںاللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم فریضہ کو سر انجام دینے کے لئے اپنے محبوب پاک ﷺکی امت سے ایسے لوگوں کا انتخاب فرمایا،جن کا سینہ توحید ِالٰہی اور نبوت ورسالت کے نور سے منور اور محبتِ رسولﷺسے لبریزتھا،اوروہ اُٹھتے بیٹھتے،کھاتے،پیتے ،سوتے جاگتے بلکہ ایک پل کے لیے بھی یادِ الٰہی سے غافل نہ رہتے ، بھلا وہ کیسے رہتے ؟کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دین کی اشاعت اور سربلندی کے لئے چن لیا اور ہمیشہ کے لیے انہیں { رضی اللّٰہ عنہ ورضوا عنہ} کی سند عطافرما ئی- صحابہ کرام کے ایمان کو اہلِ اسلام کے لیے کسوٹی قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: {امنوا کما امن الناس} (البقرۃ :۱۳) ایمان لے آئو، جیسا کہ وہ لوگ ایمان لے آئے ، اسی آیت کے تحت علّامہ محمد بن جریر رحمۃ اللہ علیہ تفسیر الطبری میںلکھتے ہیں { أصحاب محمدٍ}

’’ یعنی حضرت محمد رسول اللہ کے اصحاب کی طرح‘‘ -

اور تفسیرسعدی ، عبدالرحمن بن ناصر بن سعدی میںاس آیت کی تفسیر یوں کی گئی ہے:

{ای کایمان الصحابۃ رضی اللّٰہ عنہم}

’’یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرح ایمان لاؤ‘‘-

 ا ور اللہ تعالیٰ کے انتخاب کے فیضان کا ہی یہ نتیجہ تھا کہ انہوں نے اسلام کواپنا اوڑھنابچھونا بنایا،اور دین حق کے پر چار کے لئے زمین کے طول وعرض میں سفر فرمائے - مال و جان، عزت و آبرو،اولاد،ماں باپ اور تمام رشتوں کو بلکہ کسی بھی چیز کو راہ ِحق میں قربان کرنے سے دریغ نہ کیا- یہی وجہ تھی کہ حضور نبی کریم نے قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے انہیں قابلِ تقلید بنا دیاجیسا کہ حضرت ابنِ عبّاس رضی اللہ عنہ سے مروی آقا ﷺکا ارشادگرامی ہے :

{اصحابی کاالنجوم،فبایھم اقتدیتم اھتدیتم}(۱)

’’میرے صحابہ(ہدایت ورہنمائی میں)ستارو ں کی مانند ہیں ،تم ان میں سے جس کی بھی اقتداء کرو گے ہدایت و رہنمائی پائو گے- ‘‘

 حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بارگاہ میں شرفِ باریابی حاصل کرنیوالے خوش نصیب اشخاصِ عالیّہ کی شان اور مقام و مرتبہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

{اذا اراداللّٰہ برجل من امتی خیرا القی حب اصحابی فی قلبہ}(۲)

’’جب اللہ تعالیٰ میری امت میں سے کسی سے بھلائی کا ارادہ فرماتا تو اس کے دل میں میرے صحابی کی محبت ڈال دیتا ہے-‘‘

 یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین رُشد وہدایت کے منبع ہیں اور تمام کی فضیلت مسلّمہ ہے لیکن جس طرح الہامی کتابوں ، نبیوں اور رسولوںمیں سے بعض کو بعض پر فوقیت حاصل ہے اسی طرح آئمۂ دین کے نزدیک جملہ صحابہ کرام میں سے بعض کو بعض پر فوقیت حاصل ہے- مختصراً! خلفائے راشدین کا درجہ جملہ صحابہ کرام سے بلند ہے - حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

{ان اللّٰہ اختار اصحابی علی جمیع العالمین سوی النبیین والمرسلین،واختارلی من اصحابی اربعۃ فجعلھم خیر اصحابی ،ابو بکر ،عمر ،عثمان، علی،اختار امتی علیٰ سائر الامم}(۳)

’’بیشک اللہ تبارک وتعالیٰ نے میرے صحابہ کو تمام جہانوں پر منتخب فرمایا ہے سوائے نبیوں اور رسولوں کے اور میرے صحابہ میں سے چار کو میرے لیے منتخب فرمایا ہے ،پس اُن میں سے میرے بہترین ساتھی ابو بکر (ص) ، عمر (ص) ، عثمان (ص) اور علی (ص) کو بنایا ہے - میری امت کو تمام امتوں پر منتخب فر مایا ہے-‘‘

اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمام مخلوق میں سے حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ کو منتخب فرما کر اپنا محبوب رسول بنایا،اس لئے آپ خیر الخلائق ہیں ،آپ کا دین خیرالادیان ہے، آپ کی کتاب خیرالکتب ہے ،آپ کی امت خیر الامم ہے،آپ کا زمانہ خیر القرون ہے اسی طرح آپ ﷺکے اصحاب بھی خیر الاصحاب ہیں- آقا پاک ﷺکا ارشاد مبارک ہے-

{ما من نبی الا لہ نظیر من امتی،ابو بکر نظیرابراہیم ،و عمر نظیر موسی،وعثمان نظیر ھارون،وعلی ابن ابی طالب نظیری} (۴)

’’میری امت میں ہر ایک نبی ں کی نظیر یعنی صفات سے متّصف موجود ہے ، ابو بکر صدیق (ص) حضرت ابراہیم ں کی صفات سے متّصف ہیں ،اور عمر فاروق (ص) حضرت موسیٰ ں کی صفات سے متّصف ہیںاور عثمان (ص) حضرت ہارون ں کی صفات سے متّصف ہیں ،اور علی المرتضی بن ابی طالب (ص) خود میری صفات سے متّصف ہیں -‘‘

نبی اکرم  ﷺنے مزیدارشاد فرمایا کہ:

{ابو بکر وعمر منی کعینی فی راسی، و عثمان بن عفان منی کلِسَانی فی فمی وعلی بن ابی طالبٍ منی کروحی فی جسدی}(۵)

’’آقا پاک نے فرمایا ابوبکر و عمر (ص) مجھ میںاس طرح ہیں جیسے میرے سَرمیں آنکھیں ہیں ،اور عثمان بن عفان (ص) مجھ میں ایسے ہیں جس طرح میرے منہ میں میری زبان ہے،اور علی بن ابی طالب (ص) اس طرح ہے جس طرح میرے جسم میں میری رُوح ہے- ‘‘

 خلفائے راشدین نورِ نبوت سے منور چراغ ہیں اور انہی میں سے ایک مقدس نام حضرت عثمان غنی ص  کا ہے یہ واحد صحابی ہیں جنہیں ذُوالنورین(دو نوروں والے )کا لقب نصیب ہوا - آپؓ کی عظمت اہلیانِ اِسلام کے ہاں اظہر من الشمس ہے-

 حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ جود وسخا اورتسلیم ورضا کے پیکر اور صاحبِ حیا ء تھے -حیاء ایسی کہ فرشتے بھی شرما جائیں ،نرم دلی میں ا ن کا کوئی ثانی نہ تھا،جب بھی دینِ اسلام کی اشاعت و تر ویج کے لیے مال واسباب کی ضرورت پڑی آپ ؓ نے بلاتامل اُس کو پورا کیا-آپؓ کاشمار حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قریبی،معتبر اورجانثار ساتھیوں میں ہوتا ہے- آپ کا شجرہ نصب یوں ہے:

’’عثمان بن عفان بن ابو العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبدمناف بن قصیٰ بن کلاب بن مرابن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر

آپؓ کا شجرہ نسب پانچویں پشت میں حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے نسبِ شریف سے جا ملتا ہے -آپؓ کی کنیت اسلام سے پہلے ابوعمر تھی اور زمانہ ٔاسلام میں آپ کی کنیت آپ کے صاحبزادے عبداللہ کے نام پر ابوعبداللہ ہوئی - ‘‘ (۶)

ولادت:

صحیح قول کے مطابق حضرت عثمان غنی  ؓ کی ولادت واقعہ فیل کے چھ سال بعد (ہجرت نبوی سے ۴۷ برس پہلے )ہوئی-

لقب ذوالنورین :

ابو نعیم ایک حسن روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو ذوالنورین اس لیے کہتے ہیںکہ آپ کے سوا ہمیں کوئی ایسا شخص معلوم نہیں جس کے گھر پیغمبر کی دو بیٹیاں ہوں ، یہ لقب آپ کو اِسی لئے نصیب ہوا کہ یکے بعد دیگرے آقا علیہ السلام کی دو دُختران آپ کے نکاح میں آئیں تو آپ کو دو نوروں والا کہا جاتا ہے -(۷)

 ابو خُثیمہ ،فضائل الصحابہ،میں روایت کرتے ہیںکہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کی ہمیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیں ، آپ نے فرمایا: وہ ایسے شخص تھے{ ملاء اعلٰی}(فرشتوں کے گروہ) میں انہیں ذوالنورین کہہ کر پکاراجاتاہے -ایک اور روایت میںہےؒ:

حضور علیہ الصلوۃوالسلام نے اپنی بیٹی رقیہ رضی اللہ عنہا کا عقد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کیا، تو آپ  نے ان کے بعد اپنی دوسری بیٹی اُم کلثوم کی شادی ان سے کر دی ،اس لیے آپ کا لقب ذوالنورین ہے- (۸)

فضیلت :

حضرت عثمان ذوالنورین عشرہ مبشرہ میں شامل تھے ،حضور نبی اکرم نے انہیںزندگی میں ہی جنت کی بشارت دی-آپ کو بدری صحابہ کی فضیلت حاصل ہے حالانکہ آپ ؓ نے غزوہ بدر میں شرکت نہیں کی تھی -غزوہ بدر کے وقت آپؓ حضرت رقیہ کی تیمارداری میں مصروف تھے -حضور نبی کریم نے انہیں بدر کے مالِ غنیمت میں حصہ دار بھی بنایا-آپ نے اہل مدینہ کو پینے کاپانی بہم پہنچانے کے لئے ایک یہودی سے کنواں خرید کر وقف عام کیا-احادیث مبارکہ میں آپؓ کی فضیلت بکثرت بیان ہوئی ہے-روایت میںآتا ہے:

{یاعاشۃ ألا أستحیی من رجلٍ تستحیی منہ الملائکۃ والذی نفس محمد رسول اللہ بیدہ ان الملائکۃ لستحیی من عثمان کما تستحیی من اللہ ورسولہ ولودخل وأنت قریبۃٌ منی لم یتحدَّث ولم یرف رأسہ ولم یتحدث حتی یخرج} (۹)

’’اے عائشہ!کیا میںاُس شخص سے حیا نہ کروں جس کا فرشتے بھی حیا کرتے ہیں -مجھے قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اور ملائکہ عثمان سے اس طرح حیا کرتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول سے حیا کرتے ہیں اگر وہ اس حال میں داخل ہوتے کہ آپ میرے پا س بیٹھی ہوتی تو وہ بات نہ کر تے اوراپنے سر کو بھی نہ اُٹھاتے اور بات نہ کر پاتے یہاں تک کہ وہ چلے جاتے-‘‘

آپؓ کی شان حدیث مبارک میںمزید یوں بیان ہوئی کہ:

{عن جابر بن عبداللہ ؓ فقال الرسول اللہ لینھض کل رجل منکم الی کفئہ فنھض النبیﷺ الی عثمان فاعتنقہ وقال انت ولی فی الدنیاوالأخرتہ}(۱۰)

’’حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے (کہ ہم مہاجرین کی ایک جماعت کے ہمراہ ابن حشفہ کے گھر موجود تھے ان میںحضر ت ابوبکر ، حضرت عمر،حضرت عثمان ،حضرت علی ،حضرت طلحہ،حضرت زبیر،حضرت عبد الرحمن بن عوف حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنھم بھی موجود تھے )رسول اللہ نے فرمایا تم میں سے ہر ایک اپنے کفو (ہمسر) کے ساتھ کھڑا ہوجائے پس نبی اکرم  حضرت عثمانؓ کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور ان سے بغلگیر ہوگئے اور فرمایا تم دُنیا اور آخرت میں میرے دوست ہو-‘‘

 شہادت فاروق اعظم رضی اللّٰہ عنہ  :

عہدِفاروقی میں فتوحات اورخِلافتِ الٰہی کے تحت نظم و نظامِ حکومت اور عدل و اِنصاف کی تاریخ میں نیا باب رقم ہوا- حضرت عمرفاروقؓ کا طرزِ حکومت آج کے دورِ جدید میں بھی مثالی گردانا جاتا ہے لیکن تاریخ کے سنگ دل لمحات نے عظیم ترین حکمران(حضرت عمر فاروقؓ) کو خون سے نہلادیا-انصاف کے علم بردار قائد کے ساتھ حملہ آور نے دورانِ نماز پشت سے حملہ کیا - ہوا یہ کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ صبح کی نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو بد بخت’’ لؤلؤ‘‘ آپؓ کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا {اقیموا صفوفکم }اپنی صفیں درست کر و،اور ابھی اللہ اکبر کہا ہی تھا کہ اُس بے رحم نے خنجر کے پے بہ پے وار کئے آپؓ شدید زخمی ہوگئے اورآپؓ کو گھر لے گئے-یہ واقعہ روایات میں مزید یوں بیان ہواکہ:

محمد بن سعد بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو چھبیس ذوالحجہ ، ۲۳؁ھ بدھ کے دن زخمی کیا گیا اور اتوار کے دن یکم محرم الحرام  ۲۴؁ھ کو آپ کا وصال ہو گیا، اسی دن آپ کو دفن کیا گیا ،دس سال پانچ ماہ اور اکیس دن آپ کی خلافت رہی، آپ کے بیٹے عبداللہ بن عمر نے غسل دیا- حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے آپ کی نمازہ جنازہ پڑھائی اور رسول اللہ ﷺاور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں آپ کو دفن کیا گیا -حضرت عمر رضی اللہ عنہ تریسٹھ(۶۳) سال کی عمر میں شہید ہوئے- (۱۱)

خلافت حضرت عثمان غنی ؓ:

 حضرت عمر فاروقؓ پر جب قاتلانہ حملہ ہوا تو آپؓ شدید زخمی ہوگئے اور جب آپؓ کی شہادت کا وقت آیا تولوگو ں نے کہا اے امیر المومنین وصیت کیجئے اور خلیفہ مقرر کر دیجئے حضرت عمرؓنے کہا مَیں خلافت کا حق دار اُن لوگوں کی جماعت یااُن کے گروہ سے زیادہ کسی کو نہیں پاتاجن سے رسول اللہﷺاپنے وصال کے وقت راضی تھے، اُن میں سے جو خلیفہ بنا لیا جائے وہی میرے بعد خلیفہ ہے - پھر حضرت عمر ؓنے حضرت علی، حضرت عثمان ،حضرت زبیر بن عوام ، حضرت طلحہ ، حضرت سعداور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنھم کا نام لیا اور فرمایا عبداللہ بن عمر لوگوں پر گواہ ہو ںگے اور ان کا خلافت سے کوئی تعلق نہیں ہو گا ، پس اگر خلافت حضرت سعد کو پہنچے تو وہ اس کے مستحق ہیں ورنہ جو شخص بھی خلیفہ بنے تووہ ان سے مدد طلب کرتا رہے -پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وصال ہو گیا اور آپ کی تد فین کے بعد مجلس شوریٰ نے تین صحابہ کرام ؓکے نا م چنے حضرت علی ؓ،حضرت عثمان ؓ ،حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ-

تو پھر حضرت عبد الرحمنؓ نے کہا کہ آپ سب لوگ مجھے اختیا ر دیں تو مَیں تم میں سے بہتر آدمی کا انتخاب کرتا ہوں تو سب نے اختیا ر دے دیا - حضرت عبدالرحمن ؓ نے اپنا فیصلہ بھی حضرت علی ؓ اور حضرت عثمان ؓ کے حق میں کر دیاتو پھر حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ آپ دونوں کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کرنے لگے -اپنے وعدے کے مطابق مسلسل تین دن رات مدینے کے ہر چھوٹے بڑے اور ہر آنے جانے والے سے پوچھا بعض نے حضرت عُثمانؓ کا کہا اور بعض نے حضرت علیؓ کا -

پھرحضرت عبدالرحمن بن عوف ؓنے حضرت علی ؓکا ہاتھ پکڑ کر کہا رسول اللہ کے ساتھ آپ کی رشتہ داری ہے اور اسلام میں تقدم کا شرف آپ کو معلو م ہے پس اللہ آپ پر نگران ہے اگر مَیں آپ کو خلیفہ بنا دوں تو آپ ضرور عدل کریں گے اور اگر مَیں حضرت عثمان ؓکو خلیفہ بنا دوں توآپ ضرور ان کا حکم قبول کریں گے اور ضرور ان کی اطاعت کریں گے - پھر انہوں نے حضرت عثمانؓکا ہاتھ پکڑ کر اسی طرح کہا ،جب انہوں نے پختہ عہد لے لیا تو حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے کہا :اے عثمان اپنا ہاتھ بلند کریں ،پس حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے ان سے بیعت کر لی اور حضرت علیؓنے بھی ان سے بیعت کر لی اور پھر سب لوگوں نے حضرت عثمانؓسے بیعت کر لی-(۱۲)

 عہدِ ذوالنورین کی فتوحات :

فتوحات کے لحاظ سے عہدِ عثمانی تاریخِ اسلام میں ایک خاص اہمیت کا حامل عِہد ہے اگرچہ سیدنا فاروق اعظم ؓکے عہدِ خلافت میں اسلامی سلطنت ۲۲لاکھ مربع کی پہنائیوں تک پہنچ چکی تھی لیکن سیدنا عثمانؓ نے اس کی وسعتوں میں اس قدر اضافہ کیا کہ دُنیا کے مؤرخین انگشت بدنداں ہیں-آپ اپنے عہدِ خلافت میں تین براعظموں ایشیا،افریقہاوریورپ میں مختلف محاذوں پر نبرد آزما ہوئے اور ہر محاذ پر اپنی قابلیت اور اپنی افواج کی بھر پور صلاحیتوں کا لوہا منوایا -

 آذر بائیجان کی فتح:

سیدنا حضرت عمر ؓکی شہادت کے بعد آذر بائیجان کے لوگوں نے بغاوت کردی اور اس معاہدے کو توڑ دیا جو فاروق اعظم ؓکی خلافت میں اسلامی لشکر سے ان کا ہوا تھا سیدنا عثمان ؓنے ولیدبن عقبہ ،گورنر کوفہ کو لشکر کشی کا حکم دیا ،انہوں نے عبداللہ بن شبیل بن عوف کو چار ہزار کا لشکر دے کر بھیجا -چنانچہ انہوں نے موقان ،بیر اور طلیسان کو فتح کیا ،خود ولید بن عقبہ نے آذربائیجان پر حملہ کیا اور اسے فتح کر کے اشعث ؓبن قیس کو وہاں کا گورنر مقرر کیا ،پھر سیدنا عثمانؓکی خلافت میں انہوں نے کبھی بغاوت نہ کی-

آرمینیہ کی فتح:

سیّدنا حضرت امیر معاویہؓنے حضرت صہیب بن مسلمہ کی قیادت میں ایک لشکر آرمینیہ کی طرف روانہ کیا -توجب اس واقعہ کی خبر شاہ قسطنطین بن ہرقل کو ملی تو اس نے ایک سردار کی قیادت میں اَسی(۸۰)ہزار رومی فوجوں کو روانہ کیا - حضرت صہیب بن مسلمہؓکے لشکر پر چڑھائی کرنے کے لیے تو حضرت صہیبؓنے حضرت امیر معاویہؓکو خط لکھاتو حضرت امیر معاویہ ؓ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو خط لکھ بھیجا ،تو حضرت عثمان غنی ؓ نے فوراً حضرت ولید بن عقبہ ؓ کے نام ایک خط لکھا تو انہوں نے اسی وقت حضرت سلمان بن ربیعہ ؓ کو آٹھ ہزار فوج کے ساتھ آرمینیہ کی طرف روانہ کیا ،تو حضرت صہیب بن مسلمہؓ اور سلیمان بن ربیعہؓ نے مل کر رومیوں سے جنگ کی اور رومیوں کو شکست سے دو چار کرتے ہوئے آرمینیہ کو فتح کر لیا اور اسلامی فوج نے اسی فتح پر اِکتفا نہ کیا بلکہ رومیوں کو پسپا کرتے ہوئے سر زمین روم تک جا پہنچے، فتح کے جھنڈے لہراتے ہوئے آرمینیہ سے ہو کر ایشیاء کوچک تک گئے دوسری طرف طبرستان سے ہوتے ہوئے بحر قزوین کے مشرقی کنارے تک جا پہنچے اور شمال میں فتوحات کا سلسلہ تفلیس اور بحر اسود تک جا پہنچا-

 قبرص کی فتح:

قبرص ایک جزیرہ ہے جس کو سائپرس (Cyprus)بھی کہتے ہیں اور بحیرہ روم میں واقع ہے ، حضرت عثمان ؓمسند خلافت پر متمکن ہوئے تو سیدنا حضرت امیر معاویہؓنے آپ سے بحری بیڑے اور قبرص پر حملہ آور ہونے کی اجازت طلب کی تو حضرت عثمان ؓنے کچھ شرائط کے ساتھ اجازت دی -حملے کی اجازت بارگاہِ خلافت سے ملتے ہی آپ نے اپنی پوری توجہ بحری بیڑے کی تشکیل کی جانب مرکوز کی اور جلد ہی کشتیوں میں سوار ہو کر پہنچ گئے اور دوسری جانب سے حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہم نے آکر آپ سے ملاقات کی اور دونوں نے مل کرقبرص کو فتح کر کے  بہت سے کفّار کو قیدی بنایا اور بے شمار عمدہ اموال، غنیمت میں حاصل کر کے بیت المال میں جمع کیے-

 براعظم افریقہ کی جانب پیش قدمی:

حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح  ؓ لشکر کے ساتھ جب افریقہ پہنچے تو’’برقہ‘‘میں عقبہ بن نافع کا لشکر بھی ان سے مل گیا- تواس زمانے میں افریقہ کافرمانروا جرجیر تھا اس کی حکومت طرابلس سے طنجہ تک تھی یہ رومی بادشاہ ہرقل کاباج گزار تھا-مسلمانوں کی جنگی تیاریوں کودیکھتے  ہوئے اس نے ہرقل سے مدد طلب کی اورایک لاکھ بیس ہزار فوج جمع کی ،اپنی فوج کو مروّجۂ عہد انتہائی جدیدقسم کااسلحہ اور دیگر جنگی ساز و سامان بھی دیا - سیدنا عبداللہ بن سعد بن ابی سرحؓ اورجرجیر کے لشکروں کاافریقہ کے دارالحکومت سبیطلہ کے قریب آمنا سامنا ہوا تومسلمانوں نے اسلام کے دستور کے مطابق پہلے جرجیر کودعوتِ اسلام دی تو اس نے انکار کر دیا،پھر کہا کہ تم ہماری حکومت کوجزیہ دو، تو اس نے اس سے بھی انکار کیا تو حضرت عبداللہ بن ابی سرحؓ نے کہاتم جنگ کے لئے تیار ہوجائو،دونوںکی طرف سے صف آرائی ہوئی اورجنگ شروع ہوگئی ،چالیس دن تک یہ لڑائی ہوتی رہی لیکن کوئی فیصلہ نہ ہوسکا ، سیدنا حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی قیادت میں ایک لشکر آیا تو مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اورجرجیر کی فوج کوجب یہ پتہ چلا تو وہ حوصلہ ہاربیٹھی -جب جنگ عروج پہ آئی تو جرجیر اپنی فوج کے عقب میں جاچھپا ،تب سیدنا عبداللہ بن زبیر ؓ  جرجیر کوڈھونڈنے لگ گئے دیکھا تو وہ اپنی فوج کے عقب میں اپنے گھوڑے پہ سوار ہے ،سیدنا زبیرؓ چند تجربہ کار شہسوار لے کر عقب لشکر میں جرجیر کو پکڑنے کے لیے گئے جب جرجیر نے انہیں اپنی طرف آتے ہوئے دیکھاتو میدان سے بھاگا اورسیدنا عبداللہ بن زبیرؓ نے اس کاتعاقب کیا اوراس کے قریب پہنچ کر اس کے سر پر زور سے نیزہ مارا تووہ زمین پرگرنے لگا تو حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے اپنی تلوار کے ایک ہی وارسے اس کاسر کاٹ کر نیزے پرچڑھا لیا ،توجرجیر کاسر نیزے پر دیکھ کراس کی فوج بھاگ کھڑی ہوئی تومسلمانوں نے ان کا تعاقب کر کے ہزاروں کو تہہ تیغ اورکئی ہزار گرفتار کیے اور یہ واقعہ سبیطلہ شہر میں ہوا جو قروان سے دو دن کی مسافت پر ہے - حافظ ابن کثیر نے بھی لکھا ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھ بہت سا مال غنیمت اورکافی قیدی ہاتھ آئے اور مالِ غنیمت حضرت عثمان غنی ؓکے وعدہ کے مطابق فوج میں تقسیم کیا گیا-

اندلس کی فتح کی جانب اوّل قدم:

جب افریقہ فتح ہو گیا تو حضرت عثمان ؓنے عبداللہ بن سعد، گورنر مصر کو حکم دیا کہ عبداللہ بن نافع بن الحصین الفہری اور عبداللہ بن نافع بن عبدالقیس الفہری رضی اللہ عنھم کو فوری طور پر اندلس بھیجیںاور اسے جلد از جلد فتح کریںوہ دونوں  سمندر کے راستے سے اندلس آئے اور حضرت عثمان ؓنے اندلس جانے والوں کی طرف خط لکھا ،کہ بلا شبہ قسطنطنیہ سمندر کی جانب سے فتح ہو گا اور جب تم اندلس کو فتح کرو گے تو تم آخری زمانے میں قسطنطنیہ کے فاتحین کے ساتھ اجرو ثواب میں شریک ہو گے- یوں اُندلس کی وہ فتح جِسے اِقبال نے کہا تھا کہ ظُلمتِ یورپ میں نور کی پہلی شمع اُندلس کی فتح تھی ، اس فتح کی تیّاری کا آغاز حضرت عُثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کے عِہدِ خِلافت میں ہوا

اسکندریہ کی فتح :

اسکندریہ اگرچہ سیدنا فاروقِ اعظم ؓکے عہد میںفتح ہوا تھالیکن آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اُن لوگوں نے بدعہدی کرکے بغاوت کردی اوراسکندریہ میں رومی فوج نے قتل و غارت برپا کردی -گورنر مصر سیدنا عبداللہ بن سعد نے عمرو بن العاص کو فوج دے کر اسکندریہ کی طر ف روانہ کیا ،اُنہوں نے اسکندریہ کا محاصرہ کیا اورمنجنیقوں سے گولہ باری کرکے شہر کی فصیل توڑ دی ،اسلامی فوج شہر میں داخل ہوگئی اورگلی کوچوں میں رومی فوجوں سے جنگ ہوئی اوردشمن کوعبرت ناک شکست دے کر مسلمانوں نے اسکندریہ کو دوبارہ فتح کرلیا- (۱۳)

فتحِ مکران:

ہند ، عرب اور بلوچ تہذیب کو مِلانے والا ثقافتی مرکز مکران بھی حضرت عُثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں فتح ہوا جو کہ بحیرہ عرب کے کنارہ پہ واقع ایک طویل ساحلی پٹی ہے - مکران اور اس کے نواحی علاقہ جات خِلافتِ راشدہ کا حِصَّہ رَہے ہیں یہی وَجہ ہے کہ دانشورانِ پاکستان مدینۂ اوّل اور مدینۂ ثانی میں واحد جغرافیائی رابطہ مکران و گوادر کو کہتے ہیں -

الغرض حضرت عثمان غنیؓ کے عہدِ خلافت میں مملکت اسلامیہ کی حدود ہندوستان ،روس،افغانستان ،لیبیا ،الجزائر،مراکش، افریقہ ، کنارِ مغرب اور بحیرہ روم کے جزائر تک وسیع ہو گئی تھیں -فتوحات کا سلسلہ آرمینیہ کے علاقے سے شروع ہو کر بحیرہ روم کے جزیرہ اروا کی تسخیر پر ختم ہوا -مفاد عامہ کے کاموں میں سڑکیں بنوائی گئیں ،مفتوح علاقوں میں چھاؤنیاں قائم کیں ، چراگاہوں میں مویشیوں کے لیے چشمے کھدوائے ،رعایا کی آسائش کے لیے پل اور مسافر خانے بنوائے-

بلاشبہ عہد ذوالنورین کی فتوحات نے ملتِ اسلامیہ کو بے پناہ تقویت عطا کی - حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہونے والی فتوحات نے عہدِ فاروقی کے باقی رِہ جانے والے کام کو پایۂ تکمیل کی طرف گامزن کیا - تاریخ حضرت عثمانؓ کوایک مدبر ،رحم دل اورشفیق خلیفہ کے طور پہ ہمیشہ یاد رکھے گی -

 حوالہ جات:

(۱) لسان المیزان جزنمبر۲، ص،۱۷۲

(۲)کنزالعمال للھندی: کتاب الفضائل ذکر الصحابہ، ج۱۱، ص۲۴۲

(۳) کنزالعمال للھندی:  ج۱۱ص۲۹۲

 (۴)کنزالعمال للھندی:کتاب الفضائل ،ذکر الصحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین ،ج۱۱،ص۳۴۶

(۵)کنزالعمال للھندی: ج۱۲، ص۲۸۹

(۶) مجمع الزوائد للھیثمی: کتاب المناقب باب ما جاء فی مناقب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ،  ج۹، ص۵۶

(۷) جمع الجوامع للسیوطی:  متوفی۹۱۱، ج۱۲،ص۳۹۶

  (۸) الاصابہ فی تمیز الصحابۃ للعسقلانی: ج۴، ص۳۷۷

(۹)کنزالعمال للھندی ج۱۱،ص۲۷۲

(۱۰) المسند للابی یعلی الموصلی: ج۳ ، ص۴۸۴)

(۱۱) اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ للابن الاثیر الجزری: ج۴،ص۱۶۶

(۱۲) الصحیح للبخاری ومعہ من ھدی الساری،متوفی:۲۵۶ ہجری،ص۹۳۹ کتاب فضائلِ اصحاب النبی ﷺ، باب قصۃ البیعۃ والاتفاق علی عثمان ابن عفانؓ، دارالمعرفہ بیروت

(۱۳) وضاحتی نوٹ:-(زیرِ نظر مضمون کیلئے مندرجہ ذیل کتابوں سے استفادہ کیا گیا،تاریخ ابن کثیر،،تاریخ ابن خلدون،طبقات ابن سعد، سیرت عثمان غنیؓ)

اللہ رب العزت نے اپنی مخلوق کی ہدایت ورہنمائی کے لئے انبیاء ورسل  علیہم السلام کو مبعوث فرمایااورہدایت و رہنمائی کا یہ سلسلہ سیدناحضرت آدم علیہ السلام سے لیکر سرکارِ دوعالم ،نورِ مجسم ،شفیعِ معظم حضور نبی کریم  ﷺپر اختتام پذیرہو ا اورآپ پر نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا- بعدازاںاللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم فریضہ کو سر انجام دینے کے لئے اپنے محبوب پاک ﷺکی امت سے ایسے لوگوں کا انتخاب فرمایا،جن کا سینہ توحید ِالٰہی اور نبوت ورسالت کے نور سے منور اور محبتِ رسولﷺسے لبریزتھا،اوروہ اُٹھتے بیٹھتے،کھاتے،پیتے ،سوتے جاگتے بلکہ ایک پل کے لیے بھی یادِ الٰہی سے غافل نہ رہتے ، بھلا وہ کیسے رہتے ؟کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دین کی اشاعت اور سربلندی کے لئے چن لیا اور ہمیشہ کے لیے انہیں { رضی اللّٰہ عنہ ورضوا عنہ} کی سند عطافرما ئی- صحابہ کرام کے ایمان کو اہلِ اسلام کے لیے کسوٹی قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: {امنوا کما امن الناس} (البقرۃ :۱۳) ایمان لے آئو، جیسا کہ وہ لوگ ایمان لے آئے ، اسی آیت کے تحت علّامہ محمد بن جریر رحمۃ اللہ علیہ تفسیر الطبری میںلکھتے ہیں

{ أصحاب محمدٍ}

’’ یعنی حضرت محمد رسول اللہ کے اصحاب کی طرح‘‘ -

اور تفسیرسعدی ، عبدالرحمن بن ناصر بن سعدی میںاس آیت کی تفسیر یوں کی گئی ہے:

{ای کایمان الصحابۃ رضی اللّٰہ عنہم}

’’یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرح ایمان لاؤ‘‘-

 ا ور اللہ تعالیٰ کے انتخاب کے فیضان کا ہی یہ نتیجہ تھا کہ انہوں نے اسلام کواپنا اوڑھنابچھونا بنایا،اور دین حق کے پر چار کے لئے زمین کے طول وعرض میں سفر فرمائے - مال و جان، عزت و آبرو،اولاد،ماں باپ اور تمام رشتوں کو بلکہ کسی بھی چیز کو راہ ِحق میں قربان کرنے سے دریغ نہ کیا- یہی وجہ تھی کہ حضور نبی کریم نے قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے انہیں قابلِ تقلید بنا دیاجیسا کہ حضرت ابنِ عبّاس رضی اللہ عنہ سے مروی آقا ﷺکا ارشادگرامی ہے :

{اصحابی کاالنجوم،فبایھم اقتدیتم اھتدیتم}(۱)

’’میرے صحابہ(ہدایت ورہنمائی میں)ستارو ں کی مانند ہیں ،تم ان میں سے جس کی بھی اقتداء کرو گے ہدایت و رہنمائی پائو گے- ‘‘

 حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بارگاہ میں شرفِ باریابی حاصل کرنیوالے خوش نصیب اشخاصِ عالیّہ کی شان اور مقام و مرتبہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

{اذا اراداللّٰہ برجل من امتی خیرا القی حب اصحابی فی قلبہ}(۲)

’’جب اللہ تعالیٰ میری امت میں سے کسی سے بھلائی کا ارادہ فرماتا تو اس کے دل میں میرے صحابی کی محبت ڈال دیتا ہے-‘‘

 یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین رُشد وہدایت کے منبع ہیں اور تمام کی فضیلت مسلّمہ ہے لیکن جس طرح الہامی کتابوں ، نبیوں اور رسولوںمیں سے بعض کو بعض پر فوقیت حاصل ہے اسی طرح آئمۂ دین کے نزدیک جملہ صحابہ کرام میں سے بعض کو بعض پر فوقیت حاصل ہے- مختصراً! خلفائے راشدین کا درجہ جملہ صحابہ کرام سے بلند ہے - حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

{ان اللّٰہ اختار اصحابی علی جمیع العالمین سوی النبیین والمرسلین،واختارلی من اصحابی اربعۃ فجعلھم خیر اصحابی ،ابو بکر ،عمر ،عثمان، علی،اختار امتی علیٰ سائر الامم}(۳)

’’بیشک اللہ تبارک وتعالیٰ نے میرے صحابہ کو تمام جہانوں پر منتخب فرمایا ہے سوائے نبیوں اور رسولوں کے اور میرے صحابہ میں سے چار کو میرے لیے منتخب فرمایا ہے ،پس اُن میں سے میرے بہترین ساتھی ابو بکر (ص) ، عمر (ص) ، عثمان (ص) اور علی (ص) کو بنایا ہے - میری امت کو تمام امتوں پر منتخب فر مایا ہے-‘‘

اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمام مخلوق میں سے حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ کو منتخب فرما کر اپنا محبوب رسول بنایا،اس لئے آپ خیر الخلائق ہیں ،آپ کا دین خیرالادیان ہے، آپ کی کتاب خیرالکتب ہے ،آپ کی امت خیر الامم ہے،آپ کا زمانہ خیر القرون ہے اسی طرح آپ ﷺکے اصحاب بھی خیر الاصحاب ہیں- آقا پاک ﷺکا ارشاد مبارک ہے-

{ما من نبی الا لہ نظیر من امتی،ابو بکر نظیرابراہیم ،و عمر نظیر موسی،وعثمان نظیر ھارون،وعلی ابن ابی طالب نظیری} (۴)

’’میری امت میں ہر ایک نبی ں کی نظیر یعنی صفات سے متّصف موجود ہے ، ابو بکر صدیق (ص) حضرت ابراہیم ں کی صفات سے متّصف ہیں ،اور عمر فاروق (ص) حضرت موسیٰ ں کی صفات سے متّصف ہیںاور عثمان (ص) حضرت ہارون ں کی صفات سے متّصف ہیں ،اور علی المرتضی بن ابی طالب (ص) خود میری صفات سے متّصف ہیں -‘‘

نبی اکرم  ﷺنے مزیدارشاد فرمایا کہ:

{ابو بکر وعمر منی کعینی فی راسی، و عثمان بن عفان منی کلِسَانی فی فمی وعلی بن ابی طالبٍ منی کروحی فی جسدی}(۵)

’’آقا پاک نے فرمایا ابوبکر و عمر (ص) مجھ میںاس طرح ہیں جیسے میرے سَرمیں آنکھیں ہیں ،اور عثمان بن عفان (ص) مجھ میں ایسے ہیں جس طرح میرے منہ میں میری زبان ہے،اور علی بن ابی طالب (ص) اس طرح ہے جس طرح میرے جسم میں میری رُوح ہے- ‘‘

 خلفائے راشدین نورِ نبوت سے منور چراغ ہیں اور انہی میں سے ایک مقدس نام حضرت عثمان غنی ص  کا ہے یہ واحد صحابی ہیں جنہیں ذُوالنورین(دو نوروں والے )کا لقب نصیب ہوا - آپؓ کی عظمت اہلیانِ اِسلام کے ہاں اظہر من الشمس ہے-

 حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ جود وسخا اورتسلیم ورضا کے پیکر اور صاحبِ حیا ء تھے -حیاء ایسی کہ فرشتے بھی شرما جائیں ،نرم دلی میں ا ن کا کوئی ثانی نہ تھا،جب بھی دینِ اسلام کی اشاعت و تر ویج کے لیے مال واسباب کی ضرورت پڑی آپ ؓ نے بلاتامل اُس کو پورا کیا-آپؓ کاشمار حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قریبی،معتبر اورجانثار ساتھیوں میں ہوتا ہے- آپ کا شجرہ نصب یوں ہے:

’’عثمان بن عفان بن ابو العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبدمناف بن قصیٰ بن کلاب بن مرابن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر

آپؓ کا شجرہ نسب پانچویں پشت میں حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے نسبِ شریف سے جا ملتا ہے -آپؓ کی کنیت اسلام سے پہلے ابوعمر تھی اور زمانہ ٔاسلام میں آپ کی کنیت آپ کے صاحبزادے عبداللہ کے نام پر ابوعبداللہ ہوئی - ‘‘ (۶)

ولادت:

صحیح قول کے مطابق حضرت عثمان غنی  ؓ کی ولادت واقعہ فیل کے چھ سال بعد (ہجرت نبوی سے ۴۷ برس پہلے )ہوئی-

لقب ذوالنورین :

ابو نعیم ایک حسن روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو ذوالنورین اس لیے کہتے ہیںکہ آپ کے سوا ہمیں کوئی ایسا شخص معلوم نہیں جس کے گھر پیغمبر کی دو بیٹیاں ہوں ، یہ لقب آپ کو اِسی لئے نصیب ہوا کہ یکے بعد دیگرے آقا علیہ السلام کی دو دُختران آپ کے نکاح میں آئیں تو آپ کو دو نوروں والا کہا جاتا ہے -(۷)

 ابو خُثیمہ ،فضائل الصحابہ،میں روایت کرتے ہیںکہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کی ہمیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیں ، آپ نے فرمایا: وہ ایسے شخص تھے{ ملاء اعلٰی}(فرشتوں کے گروہ) میں انہیں ذوالنورین کہہ کر پکاراجاتاہے -ایک اور روایت میںہےؒ:

حضور علیہ الصلوۃوالسلام نے اپنی بیٹی رقیہ رضی اللہ عنہا کا عقد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کیا، تو آپ  نے ان کے بعد اپنی دوسری بیٹی اُم کلثوم کی شادی ان سے کر دی ،اس لیے آپ کا لقب ذوالنورین ہے- (۸)

فضیلت :

حضرت عثمان ذوالنورین عشرہ مبشرہ میں شامل تھے ،حضور نبی اکرم نے انہیںزندگی میں ہی جنت کی بشارت دی-آپ کو بدری صحابہ کی فضیلت حاصل ہے حالانکہ آپ ؓ نے غزوہ بدر میں شرکت نہیں کی تھی -غزوہ بدر کے وقت آپؓ حضرت رقیہ کی تیمارداری میں مصروف تھے -حضور نبی کریم نے انہیں بدر کے مالِ غنیمت میں حصہ دار بھی بنایا-آپ نے اہل مدینہ کو پینے کاپانی بہم پہنچانے کے لئے ایک یہودی سے کنواں خرید کر وقف عام کیا-احادیث مبارکہ میں آپؓ کی فضیلت بکثرت بیان ہوئی ہے-روایت میںآتا ہے:

{یاعاشۃ ألا أستحیی من رجلٍ تستحیی منہ الملائکۃ والذی نفس محمد رسول اللہ بیدہ ان الملائکۃ لستحیی من عثمان کما تستحیی من اللہ ورسولہ ولودخل وأنت قریبۃٌ منی لم یتحدَّث ولم یرف رأسہ ولم یتحدث حتی یخرج} (۹)

’’اے عائشہ!کیا میںاُس شخص سے حیا نہ کروں جس کا فرشتے بھی حیا کرتے ہیں -مجھے قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اور ملائکہ عثمان سے اس طرح حیا کرتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول سے حیا کرتے ہیں اگر وہ اس حال میں داخل ہوتے کہ آپ میرے پا س بیٹھی ہوتی تو وہ بات نہ کر تے اوراپنے سر کو بھی نہ اُٹھاتے اور بات نہ کر پاتے یہاں تک کہ وہ چلے جاتے-‘‘

آپؓ کی شان حدیث مبارک میںمزید یوں بیان ہوئی کہ:

{عن جابر بن عبداللہ ؓ فقال الرسول اللہ لینھض کل رجل منکم الی کفئہ فنھض النبیﷺ الی عثمان فاعتنقہ وقال انت ولی فی الدنیاوالأخرتہ}(۱۰)

’’حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے (کہ ہم مہاجرین کی ایک جماعت کے ہمراہ ابن حشفہ کے گھر موجود تھے ان میںحضر ت ابوبکر ، حضرت عمر،حضرت عثمان ،حضرت علی ،حضرت طلحہ،حضرت زبیر،حضرت عبد الرحمن بن عوف حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنھم بھی موجود تھے )رسول اللہ نے فرمایا تم میں سے ہر ایک اپنے کفو (ہمسر) کے ساتھ کھڑا ہوجائے پس نبی اکرم  حضرت عثمانؓ کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور ان سے بغلگیر ہوگئے اور فرمایا تم دُنیا اور آخرت میں میرے دوست ہو-‘‘

 شہادت فاروق اعظم رضی اللّٰہ عنہ  :

عہدِفاروقی میں فتوحات اورخِلافتِ الٰہی کے تحت نظم و نظامِ حکومت اور عدل و اِنصاف کی تاریخ میں نیا باب رقم ہوا- حضرت عمرفاروقؓ کا طرزِ حکومت آج کے دورِ جدید میں بھی مثالی گردانا جاتا ہے لیکن تاریخ کے سنگ دل لمحات نے عظیم ترین حکمران(حضرت عمر فاروقؓ) کو خون سے نہلادیا-انصاف کے علم بردار قائد کے ساتھ حملہ آور نے دورانِ نماز پشت سے حملہ کیا - ہوا یہ کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ صبح کی نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو بد بخت’’ لؤلؤ‘‘ آپؓ کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا {اقیموا صفوفکم }اپنی صفیں درست کر و،اور ابھی اللہ اکبر کہا ہی تھا کہ اُس بے رحم نے خنجر کے پے بہ پے وار کئے آپؓ شدید زخمی ہوگئے اورآپؓ کو گھر لے گئے-یہ واقعہ روایات میں مزید یوں بیان ہواکہ:

محمد بن سعد بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو چھبیس ذوالحجہ ، ۲۳؁ھ بدھ کے دن زخمی کیا گیا اور اتوار کے دن یکم محرم الحرام  ۲۴؁ھ کو آپ کا وصال ہو گیا، اسی دن آپ کو دفن کیا گیا ،دس سال پانچ ماہ اور اکیس دن آپ کی خلافت رہی، آپ کے بیٹے عبداللہ بن عمر نے غسل دیا- حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے آپ کی نمازہ جنازہ پڑھائی اور رسول اللہ ﷺاور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں آپ کو دفن کیا گیا -حضرت عمر رضی اللہ عنہ تریسٹھ(۶۳) سال کی عمر میں شہید ہوئے- (۱۱)

خلافت حضرت عثمان غنی ؓ:

 حضرت عمر فاروقؓ پر جب قاتلانہ حملہ ہوا تو آپؓ شدید زخمی ہوگئے اور جب آپؓ کی شہادت کا وقت آیا تولوگو ں نے کہا اے امیر المومنین وصیت کیجئے اور خلیفہ مقرر کر دیجئے حضرت عمرؓنے کہا مَیں خلافت کا حق دار اُن لوگوں کی جماعت یااُن کے گروہ سے زیادہ کسی کو نہیں پاتاجن سے رسول اللہﷺاپنے وصال کے وقت راضی تھے، اُن میں سے جو خلیفہ بنا لیا جائے وہی میرے بعد خلیفہ ہے - پھر حضرت عمر ؓنے حضرت علی، حضرت عثمان ،حضرت زبیر بن عوام ، حضرت طلحہ ، حضرت سعداور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنھم کا نام لیا اور فرمایا عبداللہ بن عمر لوگوں پر گواہ ہو ںگے اور ان کا خلافت سے کوئی تعلق نہیں ہو گا ، پس اگر خلافت حضرت سعد کو پہنچے تو وہ اس کے مستحق ہیں ورنہ جو شخص بھی خلیفہ بنے تووہ ان سے مدد طلب کرتا رہے -پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وصال ہو گیا اور آپ کی تد فین کے بعد مجلس شوریٰ نے تین صحابہ کرام ؓکے نا م چنے حضرت علی ؓ،حضرت عثمان ؓ ،حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ-

تو پھر حضرت عبد الرحمنؓ نے کہا کہ آپ سب لوگ مجھے اختیا ر دیں تو مَیں تم میں سے بہتر آدمی کا انتخاب کرتا ہوں تو سب نے اختیا ر دے دیا - حضرت عبدالرحمن ؓ نے اپنا فیصلہ بھی حضرت علی ؓ اور حضرت عثمان ؓ کے حق میں کر دیاتو پھر حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ آپ دونوں کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کرنے لگے -اپنے وعدے کے مطابق مسلسل تین دن رات مدینے کے ہر چھوٹے بڑے اور ہر آنے جانے والے سے پوچھا بعض نے حضرت عُثمانؓ کا کہا اور بعض نے حضرت علیؓ کا -

پھرحضرت عبدالرحمن بن عوف ؓنے حضرت علی ؓکا ہاتھ پکڑ کر کہا رسول اللہ کے ساتھ آپ کی رشتہ داری ہے اور اسلام میں تقدم کا شرف آپ کو معلو م ہے پس اللہ آپ پر نگران ہے اگر مَیں آپ کو خلیفہ بنا دوں تو آپ ضرور عدل کریں گے اور اگر مَیں حضرت عثمان ؓکو خلیفہ بنا دوں توآپ ضرور ان کا حکم قبول کریں گے اور ضرور ان کی اطاعت کریں گے - پھر انہوں نے حضرت عثمانؓکا ہاتھ پکڑ کر اسی طرح کہا ،جب انہوں نے پختہ عہد لے لیا تو حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے کہا :اے عثمان اپنا ہاتھ بلند کریں ،پس حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے ان سے بیعت کر لی اور حضرت علیؓنے بھی ان سے بیعت کر لی اور پھر سب لوگوں نے حضرت عثمانؓسے بیعت کر لی-(۱۲)

 عہدِ ذوالنورین کی فتوحات :

فتوحات کے لحاظ سے عہدِ عثمانی تاریخِ اسلام میں ایک خاص اہمیت کا حامل عِہد ہے اگرچہ سیدنا فاروق اعظم ؓکے عہدِ خلافت میں اسلامی سلطنت ۲۲لاکھ مربع کی پہنائیوں تک پہنچ چکی تھی لیکن سیدنا عثمانؓ نے اس کی وسعتوں میں اس قدر اضافہ کیا کہ دُنیا کے مؤرخین انگشت بدنداں ہیں-آپ اپنے عہدِ خلافت میں تین براعظموں ایشیا،افریقہاوریورپ میں مختلف محاذوں پر نبرد آزما ہوئے اور ہر محاذ پر اپنی قابلیت اور اپنی افواج کی بھر پور صلاحیتوں کا لوہا منوایا -

 آذر بائیجان کی فتح:

سیدنا حضرت عمر ؓکی شہادت کے بعد آذر بائیجان کے لوگوں نے بغاوت کردی اور اس معاہدے کو توڑ دیا جو فاروق اعظم ؓکی خلافت میں اسلامی لشکر سے ان کا ہوا تھا سیدنا عثمان ؓنے ولیدبن عقبہ ،گورنر کوفہ کو لشکر کشی کا حکم دیا ،انہوں نے عبداللہ بن شبیل بن عوف کو چار ہزار کا لشکر دے کر بھیجا -چنانچہ انہوں نے موقان ،بیر اور طلیسان کو فتح کیا ،خود ولید بن عقبہ نے آذربائیجان پر حملہ کیا اور اسے فتح کر کے اشعث ؓبن قیس کو وہاں کا گورنر مقرر کیا ،پھر سیدنا عثمانؓکی خلافت میں انہوں نے کبھی بغاوت نہ کی-

آرمینیہ کی فتح:

سیّدنا حضرت امیر معاویہؓنے حضرت صہیب بن مسلمہ کی قیادت میں ایک لشکر آرمینیہ کی طرف روانہ کیا -توجب اس واقعہ کی خبر شاہ قسطنطین بن ہرقل کو ملی تو اس نے ایک سردار کی قیادت میں اَسی(۸۰)ہزار رومی فوجوں کو روانہ کیا - حضرت صہیب بن مسلمہؓکے لشکر پر چڑھائی کرنے کے لیے تو حضرت صہیبؓنے حضرت امیر معاویہؓکو خط لکھاتو حضرت امیر معاویہ ؓ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو خط لکھ بھیجا ،تو حضرت عثمان غنی ؓ نے فوراً حضرت ولید بن عقبہ ؓ کے نام ایک خط لکھا تو انہوں نے اسی وقت حضرت سلمان بن ربیعہ ؓ کو آٹھ ہزار فوج کے ساتھ آرمینیہ کی طرف روانہ کیا ،تو حضرت صہیب بن مسلمہؓ اور سلیمان بن ربیعہؓ نے مل کر رومیوں سے جنگ کی اور رومیوں کو شکست سے دو چار کرتے ہوئے آرمینیہ کو فتح کر لیا اور اسلامی فوج نے اسی فتح پر اِکتفا نہ کیا بلکہ رومیوں کو پسپا کرتے ہوئے سر زمین روم تک جا پہنچے، فتح کے جھنڈے لہراتے ہوئے آرمینیہ سے ہو کر ایشیاء کوچک تک گئے دوسری طرف طبرستان سے ہوتے ہوئے بحر قزوین کے مشرقی کنارے تک جا پہنچے اور شمال میں فتوحات کا سلسلہ تفلیس اور بحر اسود تک جا پہنچا-

 قبرص کی فتح:

قبرص ایک جزیرہ ہے جس کو سائپرس (Cyprus)بھی کہتے ہیں اور بحیرہ روم میں واقع ہے ، حضرت عثمان ؓمسند خلافت پر متمکن ہوئے تو سیدنا حضرت امیر معاویہؓنے آپ سے بحری بیڑے اور قبرص پر حملہ آور ہونے کی اجازت طلب کی تو حضرت عثمان ؓنے کچھ شرائط کے ساتھ اجازت دی -حملے کی اجازت بارگاہِ خلافت سے ملتے ہی آپ نے اپنی پوری توجہ بحری بیڑے کی تشکیل کی جانب مرکوز کی اور جلد ہی کشتیوں میں سوار ہو کر پہنچ گئے اور دوسری جانب سے حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہم نے آکر آپ سے ملاقات کی اور دونوں نے مل کرقبرص کو فتح کر کے  بہت سے کفّار کو قیدی بنایا اور بے شمار عمدہ اموال، غنیمت میں حاصل کر کے بیت المال میں جمع کیے-

 براعظم افریقہ کی جانب پیش قدمی:

حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح  ؓ لشکر کے ساتھ جب افریقہ پہنچے تو’’برقہ‘‘میں عقبہ بن نافع کا لشکر بھی ان سے مل گیا- تواس زمانے میں افریقہ کافرمانروا جرجیر تھا اس کی حکومت طرابلس سے طنجہ تک تھی یہ رومی بادشاہ ہرقل کاباج گزار تھا-مسلمانوں کی جنگی تیاریوں کودیکھتے  ہوئے اس نے ہرقل سے مدد طلب کی اورایک لاکھ بیس ہزار فوج جمع کی ،اپنی فوج کو مروّجۂ عہد انتہائی جدیدقسم کااسلحہ اور دیگر جنگی ساز و سامان بھی دیا - سیدنا عبداللہ بن سعد بن ابی سرحؓ اورجرجیر کے لشکروں کاافریقہ کے دارالحکومت سبیطلہ کے قریب آمنا سامنا ہوا تومسلمانوں نے اسلام کے دستور کے مطابق پہلے جرجیر کودعوتِ اسلام دی تو اس نے انکار کر دیا،پھر کہا کہ تم ہماری حکومت کوجزیہ دو، تو اس نے اس سے بھی انکار کیا تو حضرت عبداللہ بن ابی سرحؓ نے کہاتم جنگ کے لئے تیار ہوجائو،دونوںکی طرف سے صف آرائی ہوئی اورجنگ شروع ہوگئی ،چالیس دن تک یہ لڑائی ہوتی رہی لیکن کوئی فیصلہ نہ ہوسکا ، سیدنا حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی قیادت میں ایک لشکر آیا تو مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اورجرجیر کی فوج کوجب یہ پتہ چلا تو وہ حوصلہ ہاربیٹھی -جب جنگ عروج پہ آئی تو جرجیر اپنی فوج کے عقب میں جاچھپا ،تب سیدنا عبداللہ بن زبیر ؓ  جرجیر کوڈھونڈنے لگ گئے دیکھا تو وہ اپنی فوج کے عقب میں اپنے گھوڑے پہ سوار ہے ،سیدنا زبیرؓ چند تجربہ کار شہسوار لے کر عقب لشکر میں جرجیر کو پکڑنے کے لیے گئے جب جرجیر نے انہیں اپنی طرف آتے ہوئے دیکھاتو میدان سے بھاگا اورسیدنا عبداللہ بن زبیرؓ نے اس کاتعاقب کیا اوراس کے قریب پہنچ کر اس کے سر پر زور سے نیزہ مارا تووہ زمین پرگرنے لگا تو حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے اپنی تلوار کے ایک ہی وارسے اس کاسر کاٹ کر نیزے پرچڑھا لیا ،توجرجیر کاسر نیزے پر دیکھ کراس کی فوج بھاگ کھڑی ہوئی تومسلمانوں نے ان کا تعاقب کر کے ہزاروں کو تہہ تیغ اورکئی ہزار گرفتار کیے اور یہ واقعہ سبیطلہ شہر میں ہوا جو قروان سے دو دن کی مسافت پر ہے - حافظ ابن کثیر نے بھی لکھا ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھ بہت سا مال غنیمت اورکافی قیدی ہاتھ آئے اور مالِ غنیمت حضرت عثمان غنی ؓکے وعدہ کے مطابق فوج میں تقسیم کیا گیا-

اندلس کی فتح کی جانب اوّل قدم:

جب افریقہ فتح ہو گیا تو حضرت عثمان ؓنے عبداللہ بن سعد، گورنر مصر کو حکم دیا کہ عبداللہ بن نافع بن الحصین الفہری اور عبداللہ بن نافع بن عبدالقیس الفہری رضی اللہ عنھم کو فوری طور پر اندلس بھیجیںاور اسے جلد از جلد فتح کریںوہ دونوں  سمندر کے راستے سے اندلس آئے اور حضرت عثمان ؓنے اندلس جانے والوں کی طرف خط لکھا ،کہ بلا شبہ قسطنطنیہ سمندر کی جانب سے فتح ہو گا اور جب تم اندلس کو فتح کرو گے تو تم آخری زمانے میں قسطنطنیہ کے فاتحین کے ساتھ اجرو ثواب میں شریک ہو گے- یوں اُندلس کی وہ فتح جِسے اِقبال نے کہا تھا کہ ظُلمتِ یورپ میں نور کی پہلی شمع اُندلس کی فتح تھی ، اس فتح کی تیّاری کا آغاز حضرت عُثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کے عِہدِ خِلافت میں ہوا

اسکندریہ کی فتح :

اسکندریہ اگرچہ سیدنا فاروقِ اعظم ؓکے عہد میںفتح ہوا تھالیکن آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اُن لوگوں نے بدعہدی کرکے بغاوت کردی اوراسکندریہ میں رومی فوج نے قتل و غارت برپا کردی -گورنر مصر سیدنا عبداللہ بن سعد نے عمرو بن العاص کو فوج دے کر اسکندریہ کی طر ف روانہ کیا ،اُنہوں نے اسکندریہ کا محاصرہ کیا اورمنجنیقوں سے گولہ باری کرکے شہر کی فصیل توڑ دی ،اسلامی فوج شہر میں داخل ہوگئی اورگلی کوچوں میں رومی فوجوں سے جنگ ہوئی اوردشمن کوعبرت ناک شکست دے کر مسلمانوں نے اسکندریہ کو دوبارہ فتح کرلیا- (۱۳)

فتحِ مکران:

ہند ، عرب اور بلوچ تہذیب کو مِلانے والا ثقافتی مرکز مکران بھی حضرت عُثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں فتح ہوا جو کہ بحیرہ عرب کے کنارہ پہ واقع ایک طویل ساحلی پٹی ہے - مکران اور اس کے نواحی علاقہ جات خِلافتِ راشدہ کا حِصَّہ رَہے ہیں یہی وَجہ ہے کہ دانشورانِ پاکستان مدینۂ اوّل اور مدینۂ ثانی میں واحد جغرافیائی رابطہ مکران و گوادر کو کہتے ہیں -

الغرض حضرت عثمان غنیؓ کے عہدِ خلافت میں مملکت اسلامیہ کی حدود ہندوستان ،روس،افغانستان ،لیبیا ،الجزائر،مراکش، افریقہ ، کنارِ مغرب اور بحیرہ روم کے جزائر تک وسیع ہو گئی تھیں -فتوحات کا سلسلہ آرمینیہ کے علاقے سے شروع ہو کر بحیرہ روم کے جزیرہ اروا کی تسخیر پر ختم ہوا -مفاد عامہ کے کاموں میں سڑکیں بنوائی گئیں ،مفتوح علاقوں میں چھاؤنیاں قائم کیں ، چراگاہوں میں مویشیوں کے لیے چشمے کھدوائے ،رعایا کی آسائش کے لیے پل اور مسافر خانے بنوائے-

بلاشبہ عہد ذوالنورین کی فتوحات نے ملتِ اسلامیہ کو بے پناہ تقویت عطا کی - حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہونے والی فتوحات نے عہدِ فاروقی کے باقی رِہ جانے والے کام کو پایۂ تکمیل کی طرف گامزن کیا - تاریخ حضرت عثمانؓ کوایک مدبر ،رحم دل اورشفیق خلیفہ کے طور پہ ہمیشہ یاد رکھے گی -

 حوالہ جات:

(۱) لسان المیزان جزنمبر۲، ص،۱۷۲

(۲)کنزالعمال للھندی: کتاب الفضائل ذکر الصحابہ، ج۱۱، ص۲۴۲

(۳) کنزالعمال للھندی:  ج۱۱ص۲۹۲

 (۴)کنزالعمال للھندی:کتاب الفضائل ،ذکر الصحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین ،ج۱۱،ص۳۴۶

(۵)کنزالعمال للھندی: ج۱۲، ص۲۸۹

(۶) مجمع الزوائد للھیثمی: کتاب المناقب باب ما جاء فی مناقب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ،  ج۹، ص۵۶

(۷) جمع الجوامع للسیوطی:  متوفی۹۱۱، ج۱۲،ص۳۹۶

  (۸) الاصابہ فی تمیز الصحابۃ للعسقلانی: ج۴، ص۳۷۷

(۹)کنزالعمال للھندی ج۱۱،ص۲۷۲

(۱۰) المسند للابی یعلی الموصلی: ج۳ ، ص۴۸۴)

(۱۱) اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ للابن الاثیر الجزری: ج۴،ص۱۶۶

(۱۲) الصحیح للبخاری ومعہ من ھدی الساری،متوفی:۲۵۶ ہجری،ص۹۳۹ کتاب فضائلِ اصحاب النبی ﷺ، باب قصۃ البیعۃ والاتفاق علی عثمان ابن عفانؓ، دارالمعرفہ بیروت

(۱۳) وضاحتی نوٹ:-(زیرِ نظر مضمون کیلئے مندرجہ ذیل کتابوں سے استفادہ کیا گیا،تاریخ ابن کثیر،،تاریخ ابن خلدون،طبقات ابن سعد، سیرت عثمان غنیؓ)

أؤیٔ

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر