دینِ اِسلام : ذاتی معاملہ یا آفاقی نصب العین؟ (فکری خطاب)

دینِ اِسلام : ذاتی معاملہ یا آفاقی نصب العین؟ (فکری خطاب)

دینِ اِسلام : ذاتی معاملہ یا آفاقی نصب العین؟ (فکری خطاب)

مصنف: صاحبزادہ سلطان احمد علی نومبر 2015

(گزشتہ سے پیوستہ)

(۵) اِعتدل و میانہ رَوِی:-

 اللہ تبارک وتعالیٰ نے اعتدال مقرر کیاکہ ہر چیز میں اعتدال کو ،توازن کو، برقرار رکھو میانہ روی کو قائم رکھو،شدت سے اجتناب کرو اور اس کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:

{وَلاَ تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَلَا تَبْسُطْھَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًاo} (بنی اسرائیل:۲۹)

’’اور نہ اپنا ہاتھ اپنی گردن سے باندھا ہوا رکھو (کہ کسی کو کچھ نہ دو) اور نہ ہی اسے سارا کا سارا کھول دو (کہ سب کچھ ہی دے ڈالو) کہ پھر تمہیں خود ملامت زدہ (اور) تھکا ہارا بن کر بیٹھنا پڑے-‘‘

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اپنے ہاتھ اپنی گردنوں پہ نہ باندھ لواور انہیں بالکل کھلا چھوڑ کر بھی نہ رکھواگر تم بالکل اپنے سروں پہ باندھ کے بیٹھ جاتے ہو یا انہیں بالکل کھلا چھوڑ دیتے ہو تو فرمایا اس میں تمہارے حصے میں سوائے ملامت کے کچھ نہیں آئے گا - اِس میں ایک اِشارہ تو رزق کی طرف ہے جس سے حکمِ سخاوت بھی معلوم ہوتا ہے اور بخل و فضول خرچی سے منع کرنا بھی معلوم ہوتا ہے - اگر پہلے حصّے کو دیکھیں تو فرمایا {نہ اپنا ہاتھ اپنی گردن سے باندھا ہوا رکھّو} یعنی جہاں آپ کو مال خرچ کرنے کی ضرورت ہے اپنے لئے ، اولاد کیلئے عزیز و اقارب کیلئے ، دینی معاملات میں تعاوُن کیلئے ، اپنی سوسائٹی کی فلاح و بقا کیلئے یا کسی بھی اور مقصد کیلئے تو اُس میں بُخل سے کام نہ لو اور پیچھے نہ ہٹو - حتیٰ کہ اپنے رہن سہن میں بھی جو سہولتیں موجود وسائل میں فضول خرچی کئے بغیر حاصل کی جا سکتی ہیں وہ حاصل کرنی چاہئیں جیسا کہ ابو داؤود شریف اور سنن النسائی شریف میں حدیث پاک ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ ہادیٔ عالم صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو معمولی لباس پہنا ہوا تھا آقا علیہ السلام نے اُن کی حیثیت کو جانتے ہوئے استفسار فرمایا کہ کیا تمہارے پاس مال نہیں ہے ؟ تو انہوں نے جواباً اُس کی تفصیل عرض کی کہ اللہ کا دیا ہو امال ہے جس میں غلام ، اونٹ ، گھوڑے بکریاں اورسب کچھ موجود ہے ، تو آقا علیہ السلام نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں اتنی ساری نعمتیں عطا کی ہیں تو اُن نعمتوں کا اثر بھی تمہارے اوپر نظر آنا چاہئے- یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کچھ عطا فرما رکھّا ہے اُسے اپنے اوپر صرف کرو یہ نہ ہو کہ تم خود مصیبتیں جھیل رہے ہو اور دولت تجوریوں یا اکاؤنٹس میں سوکھ رہی ہو - دوسرے حِصّے میں فرمایا {اور نہ ہی اسے سارا کا سارا کھول دو} یعنی فضول خرچی اور اسراف و تبذیر پہ بھی نہ اُتر آؤ کہ جہاں ضرورت نہ ہو وہاں بھی لُٹاتے رہو، جہاں وسائل اور دولت کا ضیاع ہو وہاں خرچ نہ کرو - اِسی لئے بڑوں نے ہمیشہ میانہ رَوی اور اعتدال کے راستے پہ چلنے کا کہا - اسراف و تبذیر سے متعلق چوتھے پوائنٹ میں وضاحت سے ہم دیکھ چکے ہیں کہ اگر فضول خرچی یا مال و متاع کا ضیاع نہ روکا جائے تو اُس سے کس طرح کے انسانی سانحات و اَلمیے جنم لیتے ہیں ، یہاں اِعتدال کے حوالے سے اور میانہ رَوِی کے حوالے سے چند دیگر چیزیں ہمیں سمجھ لینی چاہئیں -

راہِ اعتدال کااللہ تبارک تعالیٰ نے ہمیں حکم دیاکہ نہ کسی پر اتنی سختی کرو کہ وہ ٹوٹ جائے اور نہ ہی اتنے نرم ہو جائو کہ لوگ تمہیں نگل جائیں بلکہ ان کے درمیان تمہارے لئے ایک راستہ ہے اگرتم کسی کو دین یا نفاذِ دین کی دعوت دیتے ہووہ تمہاری دعوت کو قبول کرتا ہے تو احسن سمجھو،اگر وہ تمہاری دعوت کو قبول نہیںکرتا ، تمہاری فکر کے مطا بق وہ نہیں ڈھلتا تو اس پہ سختی کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے اسے کافر یا واجب القتل کہنے کا اختیار تمہیںحاصل نہیں ہے - ’’کوایگزیسٹنس‘‘ کا سبق دیا ہے قرآن نے کہ مل کے رہو - ہماری تاریخ ہمیںیہ بتاتی ہے کہ مدینہ منورہ سے لیکر آپ ہندوستان تک دیکھ لیں مسلمان تمام مذاہب کے ساتھ رہے ہیں، یہودیت کے ساتھ، نصرانیت کے ساتھ، عیسائیت کے ساتھ، مجُوسیوں کے ساتھ، ہندوؤں کے ساتھ ،بدھوں کے ساتھ - ہماری شناخت سب سے الگ رہی ہے اور ہے اور الگ رہے گی لیکن بات یہ ہے کہ ہم جس بھی معاشرے میں رہے ان کے ساتھ اس معاشرے کا حصہ بن کے رہے ہیں تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ ایک مثالی معاشرہ رہا ہے - اگر وہ روئے تو ہم نے ان کی اشک شوئی کی ہے، اگر وہ دکھی تھے ہم ان کے دکھ میں برابر کے شریک تھے، وہ غمگین تھے ہم نے ان کی دل جوئی کی، وہ ہنستے تھے ہم ان کی خوشی میں شریک تھے اور یہی اسلام کی وہ اعلیٰ اقدار تھیں اور یہی وہ اسلام کی راہِ اعتدال تھی جس نے یہاں کے باسیوں کو اتنا متأثر کیا کہ آج بیس کروڑ مسلمان پاکستان میں ،بتیس کروڑمسلمان ہندوستان میں ، چودہ کروڑ مسلمان بنگلہ دیش میں ہیں یہ سارے کے سارے سنٹرل ایشاء اور عرب سے تو نہیں آئے تھے یہ یہیں کے لوگ ہیں اور آخر یہ کس بات سے متأثر ہوئے تھے ؟ آخر انہیں کس بات نے دعوت اسلام قبول کرنے پہ مجبور کیا تھا؟

ایک واقعہ عرض کرتا چلوں کہ ایک بزرگ تھے ان کی خانقاہ ایک دریا کے کنارے تھی تو مسجد کے قریب وضُو کیلئے پانی کا وسیع تالاب بنایا گیا تھا جسے زائرین اور خلفا مشکیزوں کی مدد سے بھرا رکھتے تھے وہاں قریب ہی ہندؤوں کی ایک بستی تھی جہاں سے ایک خاتون اپنے مشکیزے سے اس تالاب میں پانی بھرنے آتی - بزرگوں نے اُس کو اپنی منہ بولی بیٹی فرما رکھّا تھا اور اُسے اتنی ہی تقدیس اور احترام دیتے جیسے ایک بیٹی کودِیا جاتا ہے اکثر لوگ اعتراض کرتے کہ حضرت ! اِس تالاب سے مسلمان وضو کرتے ہیں جبکہ یہ عورت مشرک ہے اور اس کے پانی بھرنے سے پاکی مکمل نہیں رہتی اِس لئے اس کو منع کیا جائے - تو آپ نے فرمایا کہ میں نے اسے بیٹی کہا ہے اِس لئے اِسے پانی سے منع نہیں کروں گا اور نہ ہی کسی اور کو منع کرنے دوں گا جو سمجھتا ہے کہ اس کے بھرے ہوئے پانی سے وضُو نہیں ہوتا تو وہ جا کر دریا سے کر لے - بزرگوں کو اطلاع مِلی کہ کسی بھی حادثہ یا اچانک بیماری یا سانپ کے کاٹنے یا غرض کسی بھی وجہ سے وہ خاتون مر گئی ہے تو آپ نے اس بستی میں جانے کا اِرادہ فرمایا اور تیاری فرمائی تو خلفا پھر آگئے کہ حضرت ! وہ ہندو ہیں وہ اپنی میّت کو جلاتے ہیں جب کہ ہم مسلمان ہیں ہم دفنانے پہ یقین و ایمان رکھتے ہیں اِس لئے آپ کا اس کی آخری رسومات میں شریک ہونا درست نہیں تو آپ نے فرمایا کہ وہ میری بیٹی تھی بیٹی کی آخری رسومات میں ضرور جاؤں گا جو اِختلاف کرتا ہے کرتا رہے - آپ وہاں گئے اور ایک کونے میں کھڑے ہوگئے ایک طرف اس خاتون کے گھروالے ، شوہر بچے والدین اور دوسری طرف بھائی بہنیں رشتہ دار اور پڑوسی لوگ رو رہے تھے اور ایک کونے میں یہ بزرگ اپنے عصا کو ٹھوڑی کے نیچے رکھے اپنی ضعیف آواز سے فرما رہے تھے کہ میں تو تبلیغِ دین کیلئے اپنا گھر بار چھوڑ کر آیا ہوں اپنی بیٹیاں تو میں افغانستان چھوڑ آیا ہوں یہاں تو میں اکیلا ہوں یہی میری بیٹی تھی ، اب میں یہاں کس کو بیٹی بلاؤں گا ؟ کس کے سر پہ اپنی پدرانہ شفقت کا ہاتھ رکھوں گا ؟ اِس دِیارِ غیر میں مجھے کون ’’ابّا‘‘ کہہ کر پُکارے گا؟ تو وہ بزرگ اس کی آرتی کو جلتا دیکھتے رہے آنسو بہاتے رہے اور اپنی شفقت اور تقدیس کا اِظہار فرماتے رہے اس بات کا اور اُن کی مذہبی رواداری کا اُس پوری بستی پہ یہ اثر ہوا کہ وہ اُس خاندان کی آخری میّت تھی جو جلائی گئی اس کے بعد سبھی دفنائی گئیں - یہ ہے کو ایگزیسٹنس کا طریقِ صُوفیانہ ، یہ ہے راہِ اعتدال کا تصور کہ یہاں صوفیاء ِکاملین نے محبت کے ساتھ، اس جذبہ انسانی کے ساتھ ان لوگوں کے غم میں شریک ہو کے ،ان کی خوشی میں شریک ہو کے ،ان کے آنسو پونچھ کے، ان کے ہونٹوں کو مسکان دے کے اِس کفرستان و شرکستان و ہندوستان میں اسلام کی تبلیغ کی ہے -

یہ اس راہِ اعتدال کے تحت ،اس میانہ روی کے ساتھ کہ نہ تو وہ اپنے ہاتھ اپنی گردنوں میںڈال کے اور نہ ہی اپنے ہاتھ انہوں نے کھلے چھوڑ دیئے یہی کچھ معاشرے میں ہوتا ہے کہ اتنی سختی کرو جتنی کہ تمہیں اجازت ہے جب اس سے تم بڑھتے ہو تو پھراللہ کہتا ہے کہ تم ظلم کرنے والوں میں ہواور ظالموں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا -

(۶) افلاس و تنگدستی کے باعث قتلِ اولاد کی ممانعت:-

چھٹا حکم اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا :غربت و تنگ دستی کی وجہ سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق سورہ بنی اسرائیل کے اگلے احکامات میں سے چھٹا حکم فرمایا:

{وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ خَشْیَۃَ اِمْلَاقٍط نَحْنُ نَرْزُقُھُمْ وَاِیَّاکُمط اِنَّ قَتْلَھُمْ کَانَ خِطْاً کَبِیْرًاo}(بنی اسرائیل:۳۱)

’’اور تم اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل مت کرو، ہم ہی انہیں (بھی) روزی دیتے ہیں اور تمہیں بھی، بے شک ان کو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے-‘‘

اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ رزق کی تنگی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو کیو نکہ ان کی روزی تمہارے ذمہ نہیں ،ان کا رزق تمہارے پروردگار کے ذمے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب کے رزق کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ کی ذات پہ ہے - اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیںکہ اگرتم ایساکرتے ہوتو{خِطْاً کَبِیْرًا} یہ کبیرہ گناہ ہے ،ایک بہت بڑا جرم ہے ،ایک بہت بڑی خطاہے- ساری گفتگو چونکہ زمانۂ حال اور اِسلام کے متعلق اور اسلام کے ایک ابدی و آفاقی نصب العین کی حیثیت سے ہو رہی ہے تو کسی کی دِل آزاری کئے بغیر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اُس وقت اولاد کو کسی اور طرح سے قتل کردیا جاتا تھا ، آج اولاد کو کسی اور طریقے سے قتل کیاجاتا ہے - اسی لئے مَیں اکثر کہتا ہوں کہ آقا پاکﷺ نے جب ظہور فرمایا اس وقت بھی وہ عہدِ جہالت تھا اورمجھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آج بھی عہدِ جہالت ہے اور فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت ’’جہالتِ قدیمہ‘‘ تھی آج ’’جہالتِ جدیدہ‘‘ ہے - وہاں جہالت کے قدیم طریقے مروّج تھے، یہاں جہالت کے جدید طریقے مروّج ہیں- وہاں جہالتِ قدیم رسومات کی بنیاد پہ کی جاتی ہے یہاں جہالتِ جدید نظریات کی بنیادپہ کی جاتی ہے - اور کوئی فرق نہیں جہالت میں وہ بھی عہدِ جہالت تھا آقاپاکﷺ نے شمع نور منور فرمائی ،آفتابِ اسلام طلوع کیا اور اس زمانے کو منور فرمایا ،اس کی ظلمت ،اس کی تاریکی و تیرگی کو زائل کیا - آج تاجدارِ کائنات حضرت محمد رسول اللہﷺ کے غلام ہونے کے ناطے سے، تاجدارِ کائنات حضرت محمدرسول اللہﷺ سے نسبت کا دعویٰ کرنے کے ناطے ہم پر بھی یہ لازم ہے کہ اس شمع اسلام کو روشن رکھیں ،اس آفتابِ اسلام کو روشن رکھیں اور اس پرچم اسلام کو تھامے رکھیں -

میرے ساتھیو ! ذرا پلٹ کر اپنے معاشرے میں جھانکو اور اس کا جہالت آلود گریبان چاک کر کے دیکھو کہ اِس چھٹے حکمِ ربّانی سے متعلّق جدید دُنیا میں کیا رُجحان پایا جاتا ہے - روزانہ کی بُنیاد پہ ہزاروں زائرین کی مرجع خانقاہ (Frequently most visited shrine) کا ادنیٰ ترین خادِم ہونے کے ناطے لاکھوں لوگوں سے مُصافحہ و مُلاقات ہوتی ہے ، سینکڑوں ایسے لوگوں کو ذاتی طور پہ جانتا ہوں کہ جو قبل از وِلادت الٹرا ساؤنڈ وغیرہ کے ذریعے بیٹی کا پتہ چلنے پہ اسقاطِ حمل (Abortion) کروا دیتے ہیں اور کئی لوگ اِسی وجہ جو قرآن نے بطورِ خاص (Specifically) بیان کی ہے کہ افلاس کے خوف سے بچوں کو قتل نہ کیا جائے - دورِ جدید میں Abortion بچوں کے قتل کا ایک طبّی طریقہ ہے - صرف ایک برس یعنی سن ۲۰۱۲ ء میں پاکستان میں ۲۵. ۲ ملین (کم و بیش ساڑھے بائیس لاکھ) Abortions کروائے گئے بالفاظِ دیگر ایک برس میں کم و بیش ساڑھے بائیس لاکھ بچے قتل کئے گئے - (بحوالہ : رپورٹ ورلڈ پاپولیشن کونسل) اِس میں سے صرف پنجاب میں ۲۹. ۱ ملین (لگ بھگ تیرہ لاکھ) ابارشن ہوئے اور بقیّہ تقریباً نو لاکھ ابارشنز سارے مُلک میں ہوئے وہ بھی صرف ایک برس کی قلیل مُدَّت میں - یہ حشر ہم نے کر رکھّا ہے اُس پاک سرزمین کا جو نفاذِ قُرآن و سُنّت کے وعدہ پہ ہم نے حاصل کی ، قرآن پاک کو اگر صرف ثواب کمانے کا آلہ ہی سمجھا جاتا رہا اور اس کے عملی احکامات معاشرہ میں نافذ العمل نہ رہے تو ایسی برائیاں معاشرے میں برائی نہ سمجھی جائیں گی اور کھلی اور واضح گمراہیاں معاشرتی رسوم و روایات اور نام نہاد جدّت و تہذیب کی شکل اِختیار کر جائیں گی - اور {وَ زَیّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ أَعْمَالَھُمْ} یعنی شیطان لوگوں کو ان کے اعمالِ بد مزیّن کرکے پیش کرتا ہے ان کی خوش نما و دلخوش کنندہ تاویلات گھڑ کر اور تراش کر دیتا ہے تاکہ وہ اعمالِ بد کو کبھی فیشن کا نام دے لیں ، کبھی تہذیبِ جدید کا نام دے لیں ، کبھی جِدّت کا نام دے لیں ، کبھی روشن خیالی کا نام دے لیں ، کبھی لبرل ازم کا نام دے لیں اور کبھی ماڈرن ازم کا نام دے لیں -

گزارش یہ ہے کہ بغیر کسی معقول و معتبر میڈیکل عذر کے ابارشن کروانا قتلِ اولاد کے زُمرے میں آتا ہے خاص کر وہ لوگ تو ظُلمِ عظیم کرتے ہیں جو بیٹی کا معلُوم ہونے پہ اِس طرح کی قبیح و ظالمانہ حرکت کرتے ہیں ، اور وہ لوگ بھی جو یہ سمجھ کر اسقاط کرواتے ہیں کہ یہ اُن کے اثاثہ جات کی تقسیم میں مشکلات پیدا کرے گا یا وجۂ غُربت بن جائے گا تو ایسے لوگوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ {’’اور تم اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل مت کرو، ہم ہی انہیں (بھی) روزی دیتے ہیں اور تمہیں بھی، بے شک ان کو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے-‘‘} ناچیز کی رائے میں جو لوگ دینِ اِسلام کو دینِ فطرت سمجھتے ہیں اور کتابِ حکیم کو ازلی و ابدی دستورِ عظیم سمجھتے ہیں اور اپنے سچے معبودِ حق تعالیٰ کو واقعی اپنا رازقِ حقیقی مانتے ہیں وہ قتلِ اولاد جیسا فعل کرنا تو درکنار ، سوچ بھی نہیں سکتے -

(۵) زِنا و بد کاری سے مُمانعت:-

ساتواں حکم اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:

{وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓی اِنَّہُ کَانَ فَاحِشَۃً ط وَسَآئَ سَبِیْلاًo}

’’اور تم زنا (بدکاری) کے قریب بھی مت جانا بے شک یہ بے حیائی کا کام ہے، اور بہت ہی بری راہ ہے-‘‘ (الاسراء:۳۲)

اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایازنا کے قریب مت جاؤ یہ فحاشی ہے-

 میرے بھائیو اور بزرگو!مَیں بڑے جھکے سر سے مگر بڑے کھلے دل سے یہ بات آپ سے عرض کرناچاہتا ہوں کہ یہ ریاست جسے ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کہتے ہیں کیا اس کی مقننہ نے ایسے قوانین نہیں بنائے جن میں عملی طور پہ اورقانونی طور پہ زنا بالرضا کو جائز قرار دیا گیا اور اس پر حد کو معطل کر دیا گیا -اس طرح کے قوانین بناناجن قوانین سے زانی کو سہولت ملے ،زنا کو فروغ ملے یہ قرآن سے صریح بغاوت ہے ،یہ قرآن سے غداری ہے- اللہ تبارک تعالیٰ نے فحاشی سے منع فرمایا اور فحاشی کیا ہے؟ فحاشی کے متعلق فرما یا کہ فحاشی بہت ہی برا راستہ ہے- فحاشی کی مختصر ترین تشریح یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو جنسی اشتہاء پہ ابھارے ،جو شہوت پہ مائل کرے اور جو چیز صفاتِ اِنسانیّہ پہ صفاتِ حیوانیّہ کو غالب کر دے اور ایک جانورانہ خواہش اور انسانی خواہش کی لطافت میں حدِّ فاصِل مٹ جائے- ہمارے قانون ساز اِداروں پہ آج یہ فریضہ عائد ہوتا ہے اُنہیں چاہیے کہ اس کا فیصلہ کریں اور فحاشی کی اسلامی تعبیر واضح کریں جو ایک اسلامی معاشرے میں فحاشی کی تعبیر ہونی چاہیے -یہ جگہ جگہ پہ بڑے بڑے بورڈ آویزاں کر کے ٹی وی اشتہارات کے ذریعے جس طریقے سے لوگوں کو جنسی اشتہا پہ اُبھارا جاتا ہے ،جنسی اشتہا پہ مائل کیا جاتاہے کیا یہ فحاشی کے زمرے میں نہیں آتا؟ کیا یہ اشتہا کے زُمرے میں نہیں آتا؟

ہمارے ہاں جس طرح کی فحش، نجس ،غلیظ ،گندی شاعری کی گئی، اِنہی صفاتِ رذیلہ سے متّصف افسانے لکھے گئے، ڈرامے لکھے گئے، فلمیں بنائی گئیں، ناول لکھے گئے یہ سارا کچھ کیاہے؟ آج اس نے ہمیں کس ڈگر پہ ڈال دیا ہے؟ آج ہم کس راستے پہ چل پڑے ہیں ؟اور بالخصوص یہ سوشل میڈیا جو در حقیقت ’’اینٹی سوشل‘‘ میڈیا ہے کی لعنت آنے کے بعد تو معاشرے کی جھوٹی سچی اَخلاقیات ، رہتی سہتی قدروں کو بالکل ہی برباد کر کے رکھ دیا ہے - معاشروں کا اِس سے بڑا زوال کیا ہوگا کہ چار دیواری ، چاردیواری نہ رہے - دہلیز ، دہلیز نہ رہے - فرزندان و دُختران ِ معاشرہ جانوروں جیسی حرکات پہ اُتر آئیں ، گلیاں بازار اور چوراہے عصمت و تقدّس کے نگہبان اداروں کی بجائے جِنسی بغاوت کی محفوظ پناہ گاہیں بن جائیں - پارک اور باغات عوامی تفریح گاہوں کی بجائے فحاشی کی آماج گاہیں بن جائیں - مجھے تو حیرت ہوتی ہے کہ تفرقہ پرستی و اشتعال پھیلانے والے واعظین و خطبائے کرام اِن بڑی بڑی سیلولرنیٹ ورک موبائیل کمپنیز کے فحاشانہ و بے حیانہ کردار پر بات کیوں نہیں کرتے جو اِس نسل کی تباہی کا ایک بڑا موجب ہیں - یہ موبائیل کمپنیاں (Network providers) کیا کرتے ہیں ؟ یہ مختلف پیکج متعارف کرواتے ہیں کہ جناب شام آٹھ بجے سے صبح چار بجے تک - ساری رات کریں پانچ روپے میں باتیں - میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آخر کون سا کاروبار ہوتا ہے رات کو ، کہ جن کاروباریوں کو یہ کمپنیاں نفع دینا چاہتی ہیں ؟ کاروبار ، دوکان ، ریڑھی ، ٹریفک ، بینک ، اسکول ، کالج ، یونیورسٹی ، جاب ، ملازمت یہ سارا کچھ تو ہوتا ہے دِن کے اُجالے میں صبح ساڑھے آٹھ سے شام پانچ بجے تک ! اِن اوقات کے پیکج تو ایسے لچھے دار بنا کر سارا دِن ٹی وی سکرینوں پہ اخبارات پہ نہیں چلائے جاتے - آخر یہ لوگ عوام الناس کو فائدہ کیا دے رہے ہیں ؟ نہیں جناب ! یہ عوام کو کوئی فائدہ نہیں دے رہے رات بھر اِن پیکجز سے (الّا ما شا اللہ) وہ لوگ فائدہ اُٹھاتے ہیں جنہیں ہم اپنا مستقبل کہتے ہیں اور وہ ہیں نوجوان ، جو میڈیا کے ذریعے موٹیویٹ بلکہ ڈی موٹیویٹ کر دیئے گئے ہیں فحاشی و بے حیائی کے اوپر ، اِس لئے معاشرے میں ان پیکجز کی وجہ سے طوفانِ بد تمیزی بپا ہے بیٹیاں دہلیزیں پھلانگ رہی ہیں شرفا اپنی عزتیں اور سفید پوشیاں بچانے کیلئے خود کشیاں کر تے ہیں جنہیں کوئی اور جائے پناہ مل ہی نہیں سکتی - یوں لگتا ہے کہ شرافت و حیا داری اور عزت و غیرت کو شجرِ ممنوعہ بنایا جا رہا ہے -

میں آپ کی توجہ پھر سورہ النمل کی آیت چوبیس کی طرف دِلانا چاہوں گا کہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس آکر ہدہد یہ عرض کرتا ہے کہ ایک ملکہ ہے اس کا ایک تخت ہے اس کے اُمرأ ہیں،اُس کے وزیر ہیں،اُس کی سلطنت ہے لیکن وہ ساتھ ساتھ اس کی بد عمالیوں کاذکرکرکے کہتا ہے لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ ان کے سامنے شیطان نے ان کے برے اعمال کو مزیّن کرکے پیش کیا ہے - {وَ زَیّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ أَعْمَالَھُمْ} -

کیا آج ہم نہیں دیکھتے کہ شیطان نے ہماری بد اعمالیوںکو مزیّن کر کے پیش کر دیا،انہیں خوش نما کرکے ہمارے سامنے رکھّا اور آج بہت لوگ یہ کہتے ہیں کہ ’’یہ دین میرا ذاتی معاملہ ہے، تم کون ہوتے ہو مجھ سے پوچھنے والے‘‘- میرے بھائی ! ملاں و مشائخ کچھ نہیں ہوتے آپ سے پوچھنے والے! میں مانتا ہوں - لیکن خدا کی کتاب ہے آپ سے پوچھنے والی! میری کیا مجال کہ مَیں آپ سے پوچھوں ،کسی اور کی کیا مجال کہ آپ سے پوچھے لیکن کیا خدا کی کتاب کو یہ طاقت ہے کہ نہیں ؟ خدا کے دین کو یہ طاقت ہے کہ نہیں ؟ خداکے میزان کو ،خدا کے ترازو کو یہ طاقت ہے کہ آپ سے پوچھے گا ایک ایک چیز ،ایک ایک عضو اپنی خبریں اُگلے گا اندر سے{یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَھَا } - اور ایک طرف ہم ہیں کہ ہم نے اس بے حیائی ، عریانی ، فحاشی کو سٹیٹس سمبل سمجھ لیا ہے -آج جس کے ہاتھ میں موبائل نہیں، جس کے گھر میں انٹرینٹ نہیں، جو در حقیقت ’’اینٹی سوشل‘‘ اور نام نہاد ’’سوشل‘‘ میڈیا پہ موجود نہیں اسے کہتے کہ بڑا بیکورڈآدمی ہے یہ زندگی کیسے گزارتا ہے؟ کیا دُنیا اس سے پہلے اس پہ قائم نہیں تھی یا اس شدت کے ساتھ اسکی کیا ضرورت ہے ؟اورکیااِس کااحتساب ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے ؟ والدین جب اپنی اولاد کو یہ لیکر دیں تو کم از کم اتنا احتساب تو رکھیں اُن پربطور ایک مسلمان کے ، یہ ہماری ذمہ داری ہے اور ہمیں خود ان باتو ں کاخیال رکھنا چاہئے - اور پھر بد تمیزی پہ مائل جوان اولاد کی طرف سے والدین کی ’’جذباتی بلیک میلنگ‘‘ کیلئے کہاجاتا ہے کہ ’’ کیا آپ کو مجھ پہ اعتبار نہیں؟‘‘ نرم دِل والدین کہتے ہیں ’’یار اب بیٹا ہے یا بیٹی ہے اسے کیا کہیں ‘‘؟ ان کی دلجوئی کیلئے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے کہہ دیتے ہیں ’’نہیں نہیں بیٹا اعتبارہے‘‘- کبھی اولاد کا موبائل کھول کے نہیں دیکھا-جو معاشرہ قرآن سے غداری کرے ،جو معاشرے قرآن سے بغاوت کریں،جو معاشرے قرآن سے منحرف ہو جائیں ، قرآن کے وفا دار نہ رہیں اور قرآن سے کئے گئے عہد کو توڑ دیں تو کیا وہ والدین کے غدّار نہیں ہونگے ؟ کیا وہ والدین سے بغاوت نہیں کریں گے ؟ کیا وہ والدین کی معاشرتی عزت و سفید پوشی سے منحرف نہیں ہونگے ؟ کیا وہ والدین کے نام و ناموس سے بے وفائی نہیں کریں گے ؟ کیا وہ والدین کے اعتماد و اعتبار سے کئے گئے عہد کو نہیں توڑیں گے ؟ 

ایسے ہی معاشرے ظالم ہو جاتے ہیں ، ایسے ہی معاشروں میں ظلم عام ہو جاتا ہے - حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا قول ہے کہ ظلم کی بنیاد پہ معاشرے قائم نہیں رہ سکتے، شرک کی بنیاد پہ البتہ قائم رہ سکتے ہیں اور جب قومیں ظالم ہو جائیں اور جب اپنے مابین ظلم کرنے لگ جائیں اوراس سے بڑھ کے اور ظلم کیا ہوگا کہ مغرب کی اپنی سوسائٹی میں ان کے اپنے ادارے ،سروے فورمز ہیں، ان کی بڑی بڑی سروے این جی اوز ہیں، اُن کے سروے آپ پڑھ کے دیکھیں وہ کہتے ہیں آپ کو مغرب میں 99% بچے یقین کے ساتھ اپنے باپ کا نام نہیں بتا سکتے- ہم یہ معاشرہ پاکستان میںبنانا چاہتے ہیں ؟ ہم اِس ڈگر پہ اپنی نسل کولانا چاہتے ہیں؟ کہ ہم سے آنے والی تیسری نسل اس منزل پہ پہنچ جائے کہ نوے فیصد بچوں کو پتہ ہی نہ ہوکہ ہمارا باپ کون ہے؟ ہم پہ لازم ہے اس آواز کواٹھانا،ہم پہ لازم ہے اپنے آپ کی اصلاح کرنا، اپنے وجود کی، اپنے اعمال کی اصلاح کرنا، اپنے گفتار اور اپنے کردار کی اصلاح کرنا،انسانی حقوق کا بہانا بنا ہے، انسانی حقوق کی آڑ لے کے فحاشی اور زنا کو عام نہیںکیا جاسکتا -اللہ نے قرآن میں منع کیا ہے

{وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓی اِنَّہُ کَانَ فَاحِشَۃً ط وَسَآئَ سَبِیْلاًo}

’’اور تم زنا (بدکاری) کے قریب بھی مت جانا بے شک یہ بے حیائی کا کام ہے، اور بہت ہی بری راہ ہے-‘‘

یہ ایک برا راستہ ہے ،فحاشی کا راستہ ہے -

(۸اور آٹھواں حکم اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:

{وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اﷲُ اِلاَّ بِالْحَقِ ط}

’’اور تم کسی جان کو قتل مت کرنا جسے (قتل کرنا) اﷲ نے حرام قرار دیا ہے-‘‘

اللہ نے کہا کہ ناحق کسی کو قتل نہ کرو،ناحق کسی کا خون نہ کرولیکن آج ہم اگر دیکھیں تو پورے انسانی سماج کا سب سے بڑاسانحہ ،سب سے مسئلہ یہ بن چکا ہے کہ یہاں پہ قتل و غارت عام ہے، بوریوں میں بند لاشیں ملتی ہیں ،نہروں میں بہتی لاشیں ملتی ہیں، پنکھے سے لٹکی لاشیں ملتی ہیں ،معلوم نہیں ہوتا مارنے والا کون ہے؟ مرنے والا کون ہے؟ ویرانے میں لاش پڑی ہے نامعلوم چہرہ مسخ ہے ،یہ کیا ہے؟ یہ کس بات کانتیجہ ہے؟ یہ کس بات کا خمیازہ ہے؟ یہ کیوں ایسا ہو رہا ہے ہماری سوسائٹی میں، ہمارے معاشرے میں ؟اور نواں حکم اللہ تبارک تعالیٰ نے فرمایا کہ

{وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ حَتّٰی یَبْلُغَ اَشُدَّہ}

’’اور تم یتیم کے مال کے (بھی) قریب تک نہ جانا مگر ایسے طریقہ سے جو (یتیم کے لیے) بہتر ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے -‘‘

کہ مال یتیم کی حفاظت کرو ،مال یتیم پہ غصب نہ لگائو،جب تک کہ وہ جوان نہ ہو جائے معاملاتِ معاشر ت اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادئیے- دسواں حکم اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا

{وَاَوْفُوْا بِالْعَھْدِج اِنَّ الْعَھْدَ کَانَ مَسْئُوْلاًo}

’’ اور وعدہ پورا کیا کرو، بے شک وعدہ کی ضرور پوچھ گچھ ہو گی-‘‘

 بے شک وعدوں کے متعلق اللہ کی بارگاہ میں پوچھا جائے گا، وعدوں کے متعلق تم سے حساب لیا جائے گا اور وہ وعدہ کون سا وعدہ ہے؟ وعدوں سے وفا کرنا جو وعدہ ہم دورانِ بیعت کرتے ہیں،ہم کسی عہدے یا کسی منصب کا حلف اٹھاتے ہوئے جو وعدہ کرتے ہیں ،ہم اپنے دین سے جو وعدہ کرتے ہیں، اللہ کی حاکمیت اعلیٰ کا وعدہ جو ہم اپنے دستور میں قرادادمقاصد میں کیا ہے اور رسول پاکﷺ کی اتباع کا وعدہ جو ہم نے بطورایک مسلمان کے کیا ہے اور اللہ کی توحید کا وعدہ جس کی گواہی ہم نے دی اورنبیﷺ کی رسالت کا وعدہ اور آپ کی ختمِ نبوت کا وعدہ جس پہ ہم ایمان لائے اور ہم مسلمان کہلائے- ان وعدوں سے وفا ہمارے اوپر لازم ہے- جو قوم وعدے توڑتی ہے، جس قوم کی مقننہ کے اراکین اپنے عہد کی پاسداری نہ کریں، اپنے عہد سے وفا نہ کریں، جس کے بڑے بڑے مناسب ،جس کے بڑے بڑے عہدوں پہ بیٹھے ہوئے لوگ اپنے عہد کو ،اپنے پیمان کو ،اپنے حلف کو توڑ کے کرپشن اور بد عنوانی میں ملوث ہوجائیں ،اس معاشرے پہ ،اس قوم پہ زوال نہیں آئے گا تو اور کیا ہوگا اور گیارھواں حکم اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:

{وَاَوْفُوا الْکَیْلَ اِذَا کِلْتُمْ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِط ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِیْلًاo}

’’اور ناپ پورا رکھا کرو جب (بھی) تم (کوئی چیز) ناپو اور (جب تولنے لگو تو) سیدھے ترازو سے تولا کرو، یہ (دیانتداری) بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے (بھی) خوب تر ہے-‘‘

اللہ تعالیٰ نے فر مایا کہ جب پیمانہ بھرو،جب ناپ تول کرنے لگو توپوراپورا ناپ تول کرو، ناپ تول میں کمی نہ کرو اور اس کی تشریح میںمتعدد مفسرین نے فرمایا کہ ناپ تول میں کمی کرنا یا چیزوں میں ملاوٹ کرنا یہ سخت ترین گنا ہ ہے یہ ایک ہی طرح کی دو چیزیں ہیں -اہلِ ٹوبہ ٹیک سنگھ مَیں ڈیمانڈ کرتا ہوں کہ مجھے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کو ئی دکان بتا دیجئے جہاں پہ ملاوٹ کے بغیر دودھ ملتا ہو،جہاں ناپ تول میں کمی نہ کی جاتی ہو، اس سے بڑھ کے ہماری بد قسمتی اورکیا ہو سکتی ہے؟ پٹرول پمپوں کے پیمانے دیکھ لیں، اپنے گریبان میں جھانک کر اپنی کون کونسی غلطی ،اپنے کون کون سے جرم کا اعتراف کروں کہ بطور اجتماعی ،بطورِ معاشرہ مجھ میں، میرے اندر کیا کیاخرابیاںہیں؟مَیں معاشرہ ہوں اور کوئی مانتا ہے یا نہیں ہم سب معاشرہ ہیں ،ہم اپنے اندر جھانکیں، اندر دیکھیں کہ خدا نے جو یہ آفاقی احکامات مقرر کئے ہم ان پہ کس حد تک عمل پیرا ہیں- بارھواں حکم اللہ تبارک تعالیٰ نے فرمایا :

{وَلَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ط اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُوْلًاo}

’’اور (اے انسان!) تو اس بات کی پیروی نہ کر جس کا تجھے (صحیح) علم نہیں، بے شک کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے باز پرس ہو گی-‘‘

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو بات تمہارے ذمے نہیں، جس کا تمہیں علم نہیں ہے اس کے پیچھے نہ پڑ جاؤ،بے شک تمہارے کانوں سے، تمہاری آنکھوں سے اور تمہارے دل یعنی تمہارا سوچنے کا جو آلہ ہے’’ فواد‘‘ دماغ بھی کہا جاتا ہے اور اسے دل بھی کہا جاتاہے اس سے حساب لیا جائے گا ،بد نظری نہ کرو،براخیال ،چھپی شہوت، آقاپاکﷺ کی حدیث مبارک ہے آپ نے فرمایا مجھے اپنی امت سے یہ خدشہ نہیں ہے کہ یہ چانداور ستاروں کی اور آگ کی اوربتوں کی پوجا کرنے لگیں مجھے خطرہ یہ ہے کہ یہ شرک خفی میں مبتلا ہو جائیں گے، یا رسول اللہﷺ! شرکِ خفی آپ نے فرمایاکہ یہ اپنی خفیہ شہوت کی پیروی کریں گے ،جو شخص بد نظری میں مبتلا ہو ،بد خیالی میں ،بد گمانی میں مبتلاہو تاہے اللہ تبارک تعالیٰ اسے نا پسند فرماتا ہے- آدابِ معاشرت اللہ نے مقررفرمائے -اور تیرھواں حکم اللہ تبارک تعالیٰ نے فرمایا کہ

{وَلَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا ج  اِنَّکَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًاo}

’’اور زمین میں اکڑ کر مت چل، بے شک تو زمین کو (اپنی رعونت کے زور سے) ہرگز چیر نہیں سکتا اور نہ ہی ہرگز تو بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ سکتا ہے (تو جو کچھ ہے وہی رہے گا)-‘‘

بے شک تم تکبر سے چل کے، اکڑ کے چل کے، نہ زمیں کو پھاڑ سکتے اور نہ پہاڑ سے بلند ہو سکتے ہو-

میرے بھائیو اور بزرگو! یہ تیرہ (۱۳) احکامات قرآن کریم کی صرف ایک سورۃ سے اس کی متصل آیا ت سے میں نے آپ کے سامنے پیش کیے ہیں جن میں معاشرت بھی ہے، معیشت بھی ہے ،سیاست بھی ہے، عدل بھی ہے، تجارت بھی ہے اور قرآن نے ہر چیز کے احکامات مقرر کئے اور مَیں نے شروع سے جوبات کہی تھی کہ ہمارا دین ،دینِ فطرت ہے اور یہ شروع سے آخر تک ہر بات کا احاطہ کرتا ہے، یہ شروع سے آخر تک ہربات کو ساتھ لے کرچلتا ہے، اس کا تصورِ خدا آفاقی ہے، اس کا تصورِ انسان آفاقی ہے، اس کا تصورِ کائنات آفاقی ہے، اس میں جزوی نوعیت کی کوئی چیز نہیں ہے اس لئے جو مانے گا وہ پورے دین کو مانے گا، جو منحرف ہو گا وہ پورے دین سے منحرف ہوگا ،درمیان کا کوئی راستہ نہیںہے کہ ہم کچھ احکامات کو مان لیں اور بعض احکامات کو چھوڑ دیں ایسا نہیں ہو سکتا- مغرب کے تصورِ دین میں اور ہمارے تصورِ دین میں فرق ہے، ان کا تصورِ دین، ان کا تصورِ خدامختلف ہے ہمارا تصور خدا مختلف ہے -ہمارا خدا اپنے اسماء حسنہ میں ہمیںیہ بتاتا ہے کہ مَیں مالک ہوں-

{مٰـلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِo}

’’روزِ جزا کا مالک ہے-‘‘

{ بِیَدِہِ الْمُلْکُ}

’’ جس کے دستِ (قدرت) میں (تمام جہانوں کی) سلطنت ہے-‘‘

اس کے ہاتھ میںیہ ملک ہے، اس کے ہاتھ میںیہ کائنات ہے ،وہ چلانا چاہے گا اس کائنات کو ،وہ حق رکھتا ہے اس کائنات کو چلانے کا -

{المقتدر}

’’اقتدار اس کا حق ہے -‘‘

{العدل}

’’عدالت اس کا حق ہے-‘‘

 ترازو اس کاہے، حکم اس کا ہے، پیغام اس کا ہے، نظام اس کا ہے، ہمارے پاس کوئی اختیا نہیںہے کہ ہم اس کی حاکمیت میں مداخلت کریں ،انسان اس زمین پہ حاکم نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ کی حاکمیتِ اعلیٰ کا نائب ہوتا ہے، اللہ کا خلیفہ ہوتاہے ،اس لئے دین جزوی اور فرد کا نجی معاملہ نہیںہے، دین فرد کا مکمل معاملہ ہے اگر اگر کوئی فرد دین کے کسی ایک بھی حکم سے اپنے آپ کو آزاد کرانا چاہتا ہے تو قرآن وسنت سے بغاوت کرتاہے ،وہ قرآن وسنت سے غداری کرتا ہے- آج آقا پاکﷺ کے میلاد مبارک پہ اگر ہم بیٹھے ہیں ،اس میں ہمارے لئے سب سے اہم اور سب سے ضروری ترین عمل یہ ہے ، ہمارے اوپر لازم اور واجب یہ ہے کہ ہم نے اپنا احتساب کرنا ہے کہ جس ہستی کی آمد کی خوشی ہم منارہے ہیں اس سے ہمارے تعلق کی بنیادیں کہاں تک پختہ ہیں؟

چوں می گویم مسلمان بلرزم

کہ دانم مشکلاتِ لاالٰہ را

’’جب مَیں یہ کہتا ہوںکہ مَیں مسلمان ہوں تو مَیںلرز اٹھتا ہوں کیونکہ مَیں لاالٰہ کی مشکلات کوجانتا ہوں -‘‘

یہ شہادت گہہ اُلفت میں قدم رکھنا  ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا

میرے نوجوان ساتھیو! مَیں آخری گزارش کررہا ہوں، آقا پاکﷺ سے اگر ہمیں محبت ہے تو اس محبت کی ہمارے پاس دلیل کیاہے؟ کیا آقاﷺ سے محبت کی یہ دلیل ہے کہ حضور کے دین کواہلِ دُنیا مذاق بنا دے اور ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں ؟کیا یہ حضور کے دعویٰٔ محبت کی دلیل ہے ؟آقا پاکﷺ نے جس دین کی خاطر اپنا وطن چھوڑا،ہجرت کی، جس دین کے لئے پتھر کھائے ،لہو لہان ہوئے ،حضور کے بدن اطہر سے لہو ٹپکتا رہا،نیزے کھائے ،تلواریں کھائیں ،رخصار زخمی ہوئے ،پیشانی زخمی ہوئی ،سر مبارک پہ چوٹ آئی ،دندان مبارک شہید ہوئے ،کائنات کی عظیم ترین وہ نفیس ترین اور لطیف ترین ہستی جس سے بڑھ کوئی لطیف نہیں ہوگا، جس سے بڑھ کے کوئی حسین نہیں ہوگا، جس سے بڑھ کو ئی نفیس نہیں ہوگا، آج اُسی دین پہ جس کے لئے یہ سارا کچھ کیا ہے، آج اس پہ مشکل وقت ہے اورہم اس دین کے رکھوالے نہیں بن رہے کیا یہ حضورکیساتھ محبت کے دعویٰ کی دلیل ہے ؟جس دین پہ آقا پاکﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ اگر تم میرے ایک ہاتھ پہ سورج اور دوسرے پہ چاند رکھ دو، مال دولت کے انبارلگا دو،مَیں اِس دین کی دعوت سے نہیں رکوں گا- آج ہم اس دین کو اپنی چند دُنیاوی خواہشات کی خاطر ترک کر کے بیٹھے ہیں ،دعویٰ ٔ محبت کی دلیل کیا ہے ہمارے پاس؟ حضور کے چچا ،حضور کے قریبی رفقاء ،حضور کے قریبی ساتھی بے دردی سے شہید کئے جاتے رہے، ان کے مثلے کئے گئے ،ان کے کلیجے ان کے سینے سے نکال کے چبائے گئے، آقا پاکﷺ نے یہ سارے غم کس کے لئے برداشت کئے؟ اس دین کے لئے، آج اس دین پہ مشکل وقت طاری ہے تو ہم دین پہ اپنی ذات کو، دین کے معاملات میں اپنے ذاتی معاملات کو ترجعیح دیتے ہیں کیا یہ حضور سے محبت کے دعویٰ کی دلیل ہے؟ ہمارے پاس کیا دلیل ہے حضور سے محبت کی، حضور سے عشق کی،؟

میرے بھائیومیرے ساتھیو !اگر حضور سے محبت ہے، اگر حضور سے عشق ہے، اگر حضور سے پیار ہے ،تو اس عشق کی ،اس محبت کی ،اس پیار کی دلیل دیں، یہ زندگی کتنی ہے، یہ کتنی اور رہ جائے گی، کسے معلوم ؟کیا اس دنیا میں صرف اَسی (۸۰)سال کی عمر کے لوگ مرتے ہیں،اٹھاراں(۱۸) سال کے نہیں مرتے ؟ہم جتنے بھی یہاں بیٹھے ہیں کسی کو یقین ہے کہ اس کے بعد مَیں کب تک زندہ ہو ں اور میں اپنے گھر بھی خیریت سے پہنچوں گا یانہیں ،کسی کو یقین ہے اپنی موت کا اور اپنی موت کے نہ آنے کا؟ وقت اس کے ہاتھ میں ہے وہ جب آواز دے گا یہ بدن جاتا رہے گا- حضرت سلطان باھُورحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ

؎لوگ قبر داکرسن چارا لحدبناون ڈیرا ھُو

جب تو مر جائے گا ناں تولوگوں کو پھر تیری فکر نہیں ہوگی ،جب رُوح نکل جائے گی لوگوںکو تیری فکر نہیں ہوگی،لوگ قبر کی طرف بھاگیںگے، دفناؤ اِسے میت بدبو چھوڑ جائے گی،’’ میت ترک ویسی پورو اینو ں جلدی‘‘ تعفن پھیلائے گی، بیماریاں پھیلائے گی ،خراب ہو جائے گی، لے جاؤ ،اسے دفناؤ، مٹی میں لے جاؤ ،قبر میںلے جاؤ،چاہے والد ہے، چاہے بھائی ہے، چاہے والدہ ہے، چاہے بچے ہیں، چاہے بہنیں ہیں جو بھی ہو، سب کو جلدی ہوگی-پھر تیرا گھر تیری قبر ہوگی

؎چٹکی بھر مٹی دی پاسن کرسن ڈھیر اُچیرا ھُو

ایک چٹکی مٹی کی اس پہ ڈال دیں گے، وہ چٹکی کس کا صلہ ہے؟ تیرے ساتھ ساری زندگی کی محبت کا، تیرے ساتھ ساری زندگی کے یارانے کا، تیرے ساتھ ساری زند گی کی دوستی کا، تیرے ساتھ ساری زندگی کے تعلق کا صلہ تمہیں لوگ آخرمیں کیا دیتے ہیں ؟مٹی ایک مٹھی بھر کے تیری قبر پہ ڈل دیتے ہیں-

مٹھیوں میں خاک لے کے دوست آئے بعد ازاں

زندگی بھر کی محبت کا صلہ دیتے ہیں

اس دُنیا سے محبت کرتے ہوجو تجھے جاتے ہوئے مٹی پھینکتے ہیں جاؤ اب

؎ پڑھ درود گھراں نوں جاسن کوکن شیراشیراھُو

جس نے فاتحہ درود پڑھنا ہوگا وہ پڑھے گا اور ایک بار روتا ہوا جائے گااور کہے گا تُو بڑا شیر تھا، بڑا شیر تھا -

بے پرواہ درگا رب باھوؔ نہیں فضلاں باہجھ نبیڑا ھُو

وہ بڑا بے نیاز ہے، وہ بڑا بے پرواہ ہے، کسی کی نہ اونچی ذات دیکھتا ہے ،نہ اونچا منصب دیکھتاہے ،نہ اونچی شان دیکھتا ہے، اس کی عدالت میں جب جاتے ہیں تو میاں محمد رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:

عدل کریں تے تھر تھر کنبن اُچیاں شاناں والے

فضل کریں تے بخشے جاون مَیں ورگے منہ کالے

حضرت عمر ؓ کا فرمان ہے کہ لوگو! اپنے اعمال کو تول لو اس سے پہلے کہ تمہارے اعمال اللہ کے ترازو میں رکھے جائیں، اپنے اعمال کا احتساب کرلو اس سے پہلے کہ اللہ تمہارا حساب لے ،اور ہمارے بزرگوں نے ،ہمارے اسلاف نے کہا ہے:

در جوانی توبہ کردن شیوۂ پیغمبری

وقت پیر ی گُرگ ظالم می شود پرہیز گار

جوانی میں توبہ کرنا ،جوانی میں اپنی لَواللہ سے لگانا، جوانی میں اپنی چاہت کو اللہ کی چاہت کے سپرد کرنا، اپنی جوان دھڑکنوںکو اللہ کی رضا پہ قربان کرنا، اپنی جوان سانسوں ،اپنے جوان جذبات ،اپنے جوان احساسات کو اللہ کی راہ میں لگانا، اللہ کی رضا میں لگانا ،یہ شیوہ ٔپیغمبری ،یہ انبیاء کی سنت ہے، یہ پیغمبروں کا شیوہ ہے- تُو چاہتا ہے مَیں بڑھاپے میں جاکے سُدھر جاؤں گا- اوہ خدا کے بندے بڑھاپے میں تو بھیڑیا بھی ظلم کرنا چھوڑ دیتا ہے، بندہ سُدھر جائے توکون سی بڑی بات ہے-

 آج میرے نوجوان ساتھیو !تمہیں اللہ نے جوان دھڑکنے دی ہیں، جوان جذبے دیے ہیں، ہم اللہ کے دین کی حفاظت، اپنے جوان بازوئوں سے کر سکتے ہیں ،اپنی جوان زبان سے کرسکتے ہیں، اپنے جوان لفظوں سے کر سکتے ہیں، اپنی جوان دھڑکنوں سے کر سکتے ہیں، اپنے جوان جذبوں سے کر سکتے ہیں، جب یہ سارا کچھ نحیف ہو جاتا ہے،جب یہ سارا کچھ ضیف ہو جاتاہے، سوائے حسرت اور سوائے ہاتھ مَلنے کے کچھ نہیں آتا، خدا کی بارگاہ میں حسرت کرتے ہوئے نہ لوٹو بلکہ اس کی طرف یوں لوٹو کہ

نشان مردِ مومن با تو گویم

چو مرگ آید تبسم بر لبِ اُو ست

آجا کہ مَیں تجھے بتاؤں کہ مردِ مومن کی نشانی کیا ہے؟ جب اُس پہ موت آتی ہے تواس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ کھیل جاتی ہے، وہ حسرت لے کر نہیں جاتا ہے کہ مَیں کچھ کر نہیں سکا بلکہ وہ خوش جاتا ہے یا اللہ تیرے توکل پہ، تیرے بھروسے پہ اس دنیا کے سامنے تیرا نام بلند کرتا رہا ،تیرے دین کی اِقامت کی جدوجہد کرتارہا، تیرے دین کے اِحیاء کی جدوجہد کرتا رہا، تیرے دین کے نفاذکی جدوجہد کرتا رہا ،تیرے نبی کے ادب، تیرے نبی کی عظمت کو سَربلند کرتا رہا-حضرت علامہ اقبا ل رحمۃ اللہ علیہ جب حضرت ٹیپو سلطان کی مزار پہ گئے تو بڑے روئے، وہاںپہ مراقبہ کیا ،قرآن کی دعوت پڑھی ،جب باہر آئے تو لوگوں نے پوچھا کہ ٹیپوسلطان سے کیا مکالمہ ہوا؟ ٹیپوسلطان بھی ایک فقیر آدمی تھا، ایک فقیر بادشاہ تھا اور بہت اللہ کا نیک آدمی تھا، علامہ اقبال نے کہا کہ مجھے ٹیپو سلطان نے کچھ باتیں کی ہیں یہ کلام حضرت علامہ کے کسی شعر ی مجموعے میں نہیں لیکن حیاتِ اقبال کی کتب میں موجود ہے ،’’ زندہ رُود‘‘ جو جاوید اقبال نے لکھی ہے اس میں بھی موجود ہے، علامہ اقبا ل نے ان لوگوں کو کہا کہ مجھے ٹیپو سلطان نے یہ بات کہی ہے کہ

درجہاں نتواں اگرمردانہ زیست

ہمچوں مرداں جاں سپرد ن زندگیست 

اقبال! مسلمانو ں کو یہ پیغام دو کہ اگر زندگی میں وہ مَردوں کی طرح زندگی بسر نہیں کر سکتے، اگر مومن کی طرح زندگی گزارنا ممکن نہیںپھر مَردوںکی طرح جان پہ کھیل جانا یہ زندگی ہے، جان سے گزر جانا یہ زندگی ہے-

 اس لئے ہمارے پاس یہ وقت ہے جو چند سانسیں ہمیں اللہ نے مہلت دی ہیں اس کے نام پہ صَرف کریں ،اس کے ساتھ یہ عہد کریں ،اس عہد کے متعلق ہم سے پوچھا جائے گا-

 اصلاحی جماعت یہی دعوت لے کے سلطان العارفین کی درگاہ سے آئی ہے، جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمدعلی صاحب یہی پیغام لے کے آئیں ہیں کہ خدارا آپ آئیں اور اللہ کے دین کو نافذ کرنے کیلئے، اللہ کی کتاب کو نافذ کرنے کیلئے، سنتِ رسولﷺ کو مروج کرنے کیلئے ہمیں اپنی کوششیں ،اپنی کاوشیں بروئے کار لانی چاہئیں- حضرت ہاجرہ کاکام سعی کرنا تھا،ہمارا کام سعی کرنا ہے، یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ ننھے اسماعیل کے قدموں سے پانی کا چشمہ جاری کردے ،ہم سعی کریں گے، خلوص سے کریں گے ،اللہ پانی کا چشمہ جاری فرمائے گا، وہی قادرِ مطلق ہے ،وہی سب کچھ عطا کرنے والا ہے -

اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطاء فرمائے -

(گزشتہ سے پیوستہ)

(۵) اِعتدل و میانہ رَوِی:-

 اللہ تبارک وتعالیٰ نے اعتدال مقرر کیاکہ ہر چیز میں اعتدال کو ،توازن کو، برقرار رکھو میانہ روی کو قائم رکھو،شدت سے اجتناب کرو اور اس کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:

{وَلاَ تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَلَا تَبْسُطْھَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًاo} (بنی اسرائیل:۲۹)

’’اور نہ اپنا ہاتھ اپنی گردن سے باندھا ہوا رکھو (کہ کسی کو کچھ نہ دو) اور نہ ہی اسے سارا کا سارا کھول دو (کہ سب کچھ ہی دے ڈالو) کہ پھر تمہیں خود ملامت زدہ (اور) تھکا ہارا بن کر بیٹھنا پڑے-‘‘

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اپنے ہاتھ اپنی گردنوں پہ نہ باندھ لواور انہیں بالکل کھلا چھوڑ کر بھی نہ رکھواگر تم بالکل اپنے سروں پہ باندھ کے بیٹھ جاتے ہو یا انہیں بالکل کھلا چھوڑ دیتے ہو تو فرمایا اس میں تمہارے حصے میں سوائے ملامت کے کچھ نہیں آئے گا - اِس میں ایک اِشارہ تو رزق کی طرف ہے جس سے حکمِ سخاوت بھی معلوم ہوتا ہے اور بخل و فضول خرچی سے منع کرنا بھی معلوم ہوتا ہے - اگر پہلے حصّے کو دیکھیں تو فرمایا {نہ اپنا ہاتھ اپنی گردن سے باندھا ہوا رکھّو} یعنی جہاں آپ کو مال خرچ کرنے کی ضرورت ہے اپنے لئے ، اولاد کیلئے عزیز و اقارب کیلئے ، دینی معاملات میں تعاوُن کیلئے ، اپنی سوسائٹی کی فلاح و بقا کیلئے یا کسی بھی اور مقصد کیلئے تو اُس میں بُخل سے کام نہ لو اور پیچھے نہ ہٹو - حتیٰ کہ اپنے رہن سہن میں بھی جو سہولتیں موجود وسائل میں فضول خرچی کئے بغیر حاصل کی جا سکتی ہیں وہ حاصل کرنی چاہئیں جیسا کہ ابو داؤود شریف اور سنن النسائی شریف میں حدیث پاک ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ ہادیٔ عالم صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو معمولی لباس پہنا ہوا تھا آقا علیہ السلام نے اُن کی حیثیت کو جانتے ہوئے استفسار فرمایا کہ کیا تمہارے پاس مال نہیں ہے ؟ تو انہوں نے جواباً اُس کی تفصیل عرض کی کہ اللہ کا دیا ہو امال ہے جس میں غلام ، اونٹ ، گھوڑے بکریاں اورسب کچھ موجود ہے ، تو آقا علیہ السلام نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں اتنی ساری نعمتیں عطا کی ہیں تو اُن نعمتوں کا اثر بھی تمہارے اوپر نظر آنا چاہئے- یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کچھ عطا فرما رکھّا ہے اُسے اپنے اوپر صرف کرو یہ نہ ہو کہ تم خود مصیبتیں جھیل رہے ہو اور دولت تجوریوں یا اکاؤنٹس میں سوکھ رہی ہو - دوسرے حِصّے میں فرمایا {اور نہ ہی اسے سارا کا سارا کھول دو} یعنی فضول خرچی اور اسراف و تبذیر پہ بھی نہ اُتر آؤ کہ جہاں ضرورت نہ ہو وہاں بھی لُٹاتے رہو، جہاں وسائل اور دولت کا ضیاع ہو وہاں خرچ نہ کرو - اِسی لئے بڑوں نے ہمیشہ میانہ رَوی اور اعتدال کے راستے پہ چلنے کا کہا - اسراف و تبذیر سے متعلق چوتھے پوائنٹ میں وضاحت سے ہم دیکھ چکے ہیں کہ اگر فضول خرچی یا مال و متاع کا ضیاع نہ روکا جائے تو اُس سے کس طرح کے انسانی سانحات و اَلمیے جنم لیتے ہیں ، یہاں اِعتدال کے حوالے سے اور میانہ رَوِی کے حوالے سے چند دیگر چیزیں ہمیں سمجھ لینی چاہئیں -

راہِ اعتدال کااللہ تبارک تعالیٰ نے ہمیں حکم دیاکہ نہ کسی پر اتنی سختی کرو کہ وہ ٹوٹ جائے اور نہ ہی اتنے نرم ہو جائو کہ لوگ تمہیں نگل جائیں بلکہ ان کے درمیان تمہارے لئے ایک راستہ ہے اگرتم کسی کو دین یا نفاذِ دین کی دعوت دیتے ہووہ تمہاری دعوت کو قبول کرتا ہے تو احسن سمجھو،اگر وہ تمہاری دعوت کو قبول نہیںکرتا ، تمہاری فکر کے مطا بق وہ نہیں ڈھلتا تو اس پہ سختی کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے اسے کافر یا واجب القتل کہنے کا اختیار تمہیںحاصل نہیں ہے - ’’کوایگزیسٹنس‘‘ کا سبق دیا ہے قرآن نے کہ مل کے رہو - ہماری تاریخ ہمیںیہ بتاتی ہے کہ مدینہ منورہ سے لیکر آپ ہندوستان تک دیکھ لیں مسلمان تمام مذاہب کے ساتھ رہے ہیں، یہودیت کے ساتھ، نصرانیت کے ساتھ، عیسائیت کے ساتھ، مجُوسیوں کے ساتھ، ہندوؤں کے ساتھ ،بدھوں کے ساتھ - ہماری شناخت سب سے الگ رہی ہے اور ہے اور الگ رہے گی لیکن بات یہ ہے کہ ہم جس بھی معاشرے میں رہے ان کے ساتھ اس معاشرے کا حصہ بن کے رہے ہیں تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ ایک مثالی معاشرہ رہا ہے - اگر وہ روئے تو ہم نے ان کی اشک شوئی کی ہے، اگر وہ دکھی تھے ہم ان کے دکھ میں برابر کے شریک تھے، وہ غمگین تھے ہم نے ان کی دل جوئی کی، وہ ہنستے تھے ہم ان کی خوشی میں شریک تھے اور یہی اسلام کی وہ اعلیٰ اقدار تھیں اور یہی وہ اسلام کی راہِ اعتدال تھی جس نے یہاں کے باسیوں کو اتنا متأثر کیا کہ آج بیس کروڑ مسلمان پاکستان میں ،بتیس کروڑمسلمان ہندوستان میں ، چودہ کروڑ مسلمان بنگلہ دیش میں ہیں یہ سارے کے سارے سنٹرل ایشاء اور عرب سے تو نہیں آئے تھے یہ یہیں کے لوگ ہیں اور آخر یہ کس بات سے متأثر ہوئے تھے ؟ آخر انہیں کس بات نے دعوت اسلام قبول کرنے پہ مجبور کیا تھا؟

ایک واقعہ عرض کرتا چلوں کہ ایک بزرگ تھے ان کی خانقاہ ایک دریا کے کنارے تھی تو مسجد کے قریب وضُو کیلئے پانی کا وسیع تالاب بنایا گیا تھا جسے زائرین اور خلفا مشکیزوں کی مدد سے بھرا رکھتے تھے وہاں قریب ہی ہندؤوں کی ایک بستی تھی جہاں سے ایک خاتون اپنے مشکیزے سے اس تالاب میں پانی بھرنے آتی - بزرگوں نے اُس کو اپنی منہ بولی بیٹی فرما رکھّا تھا اور اُسے اتنی ہی تقدیس اور احترام دیتے جیسے ایک بیٹی کودِیا جاتا ہے اکثر لوگ اعتراض کرتے کہ حضرت ! اِس تالاب سے مسلمان وضو کرتے ہیں جبکہ یہ عورت مشرک ہے اور اس کے پانی بھرنے سے پاکی مکمل نہیں رہتی اِس لئے اس کو منع کیا جائے - تو آپ نے فرمایا کہ میں نے اسے بیٹی کہا ہے اِس لئے اِسے پانی سے منع نہیں کروں گا اور نہ ہی کسی اور کو منع کرنے دوں گا جو سمجھتا ہے کہ اس کے بھرے ہوئے پانی سے وضُو نہیں ہوتا تو وہ جا کر دریا سے کر لے - بزرگوں کو اطلاع مِلی کہ کسی بھی حادثہ یا اچانک بیماری یا سانپ کے کاٹنے یا غرض کسی بھی وجہ سے وہ خاتون مر گئی ہے تو آپ نے اس بستی میں جانے کا اِرادہ فرمایا اور تیاری فرمائی تو خلفا پھر آگئے کہ حضرت ! وہ ہندو ہیں وہ اپنی میّت کو جلاتے ہیں جب کہ ہم مسلمان ہیں ہم دفنانے پہ یقین و ایمان رکھتے ہیں اِس لئے آپ کا اس کی آخری رسومات میں شریک ہونا درست نہیں تو آپ نے فرمایا کہ وہ میری بیٹی تھی بیٹی کی آخری رسومات میں ضرور جاؤں گا جو اِختلاف کرتا ہے کرتا رہے - آپ وہاں گئے اور ایک کونے میں کھڑے ہوگئے ایک طرف اس خاتون کے گھروالے ، شوہر بچے والدین اور دوسری طرف بھائی بہنیں رشتہ دار اور پڑوسی لوگ رو رہے تھے اور ایک کونے میں یہ بزرگ اپنے عصا کو ٹھوڑی کے نیچے رکھے اپنی ضعیف آواز سے فرما رہے تھے کہ میں تو تبلیغِ دین کیلئے اپنا گھر بار چھوڑ کر آیا ہوں اپنی بیٹیاں تو میں افغانستان چھوڑ آیا ہوں یہاں تو میں اکیلا ہوں یہی میری بیٹی تھی ، اب میں یہاں کس کو بیٹی بلاؤں گا ؟ کس کے سر پہ اپنی پدرانہ شفقت کا ہاتھ رکھوں گا ؟ اِس دِیارِ غیر میں مجھے کون ’’ابّا‘‘ کہہ کر پُکارے گا؟ تو وہ بزرگ اس کی آرتی کو جلتا دیکھتے رہے آنسو بہاتے رہے اور اپنی شفقت اور تقدیس کا اِظہار فرماتے رہے اس بات کا اور اُن کی مذہبی رواداری کا اُس پوری بستی پہ یہ اثر ہوا کہ وہ اُس خاندان کی آخری میّت تھی جو جلائی گئی اس کے بعد سبھی دفنائی گئیں - یہ ہے کو ایگزیسٹنس کا طریقِ صُوفیانہ ، یہ ہے راہِ اعتدال کا تصور کہ یہاں صوفیاء ِکاملین نے محبت کے ساتھ، اس جذبہ انسانی کے ساتھ ان لوگوں کے غم میں شریک ہو کے ،ان کی خوشی میں شریک ہو کے ،ان کے آنسو پونچھ کے، ان کے ہونٹوں کو مسکان دے کے اِس کفرستان و شرکستان و ہندوستان میں اسلام کی تبلیغ کی ہے -

یہ اس راہِ اعتدال کے تحت ،اس میانہ روی کے ساتھ کہ نہ تو وہ اپنے ہاتھ اپنی گردنوں میںڈال کے اور نہ ہی اپنے ہاتھ انہوں نے کھلے چھوڑ دیئے یہی کچھ معاشرے میں ہوتا ہے کہ اتنی سختی کرو جتنی کہ تمہیں اجازت ہے جب اس سے تم بڑھتے ہو تو پھراللہ کہتا ہے کہ تم ظلم کرنے والوں میں ہواور ظالموں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا -

(۶) افلاس و تنگدستی کے باعث قتلِ اولاد کی ممانعت:-

چھٹا حکم اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا :غربت و تنگ دستی کی وجہ سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق سورہ بنی اسرائیل کے اگلے احکامات میں سے چھٹا حکم فرمایا:

{وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ خَشْیَۃَ اِمْلَاقٍط نَحْنُ نَرْزُقُھُمْ وَاِیَّاکُمط اِنَّ قَتْلَھُمْ کَانَ خِطْاً کَبِیْرًاo}(بنی اسرائیل:۳۱)

’’اور تم اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل مت کرو، ہم ہی انہیں (بھی) روزی دیتے ہیں اور تمہیں بھی، بے شک ان کو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے-‘‘

اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ رزق کی تنگی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو کیو نکہ ان کی روزی تمہارے ذمہ نہیں ،ان کا رزق تمہارے پروردگار کے ذمے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب کے رزق کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ کی ذات پہ ہے - اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیںکہ اگرتم ایساکرتے ہوتو{خِطْاً کَبِیْرًا} یہ کبیرہ گناہ ہے ،ایک بہت بڑا جرم ہے ،ایک بہت بڑی خطاہے- ساری گفتگو چونکہ زمانۂ حال اور اِسلام کے متعلق اور اسلام کے ایک ابدی و آفاقی نصب العین کی حیثیت سے ہو رہی ہے تو کسی کی دِل آزاری کئے بغیر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اُس وقت اولاد کو کسی اور طرح سے قتل کردیا جاتا تھا ، آج اولاد کو کسی اور طریقے سے قتل کیاجاتا ہے - اسی لئے مَیں اکثر کہتا ہوں کہ آقا پاکﷺ نے جب ظہور فرمایا اس وقت بھی وہ عہدِ جہالت تھا اورمجھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آج بھی عہدِ جہالت ہے اور فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت ’’جہالتِ قدیمہ‘‘ تھی آج ’’جہالتِ جدیدہ‘‘ ہے - وہاں جہالت کے قدیم طریقے مروّج تھے، یہاں جہالت کے جدید طریقے مروّج ہیں- وہاں جہالتِ قدیم رسومات کی بنیاد پہ کی جاتی ہے یہاں جہالتِ جدید نظریات کی بنیادپہ کی جاتی ہے - اور کوئی فرق نہیں جہالت میں وہ بھی عہدِ جہالت تھا آقاپاکﷺ نے شمع نور منور فرمائی ،آفتابِ اسلام طلوع کیا اور اس زمانے کو منور فرمایا ،اس کی ظلمت ،اس کی تاریکی و تیرگی کو زائل کیا - آج تاجدارِ کائنات حضرت محمد رسول اللہﷺ کے غلام ہونے کے ناطے سے، تاجدارِ کائنات حضرت محمدرسول اللہﷺ سے نسبت کا دعویٰ کرنے کے ناطے ہم پر بھی یہ لازم ہے کہ اس شمع اسلام کو روشن رکھیں ،اس آفتابِ اسلام کو روشن رکھیں اور اس پرچم اسلام کو تھامے رکھیں -

میرے ساتھیو ! ذرا پلٹ کر اپنے معاشرے میں جھانکو اور اس کا جہالت آلود گریبان چاک کر کے دیکھو کہ اِس چھٹے حکمِ ربّانی سے متعلّق جدید دُنیا میں کیا رُجحان پایا جاتا ہے - روزانہ کی بُنیاد پہ ہزاروں زائرین کی مرجع خانقاہ (Frequently most visited shrine) کا ادنیٰ ترین خادِم ہونے کے ناطے لاکھوں لوگوں سے مُصافحہ و مُلاقات ہوتی ہے ، سینکڑوں ایسے لوگوں کو ذاتی طور پہ جانتا ہوں کہ جو قبل از وِلادت الٹرا ساؤنڈ وغیرہ کے ذریعے بیٹی کا پتہ چلنے پہ اسقاطِ حمل (Abortion) کروا دیتے ہیں اور کئی لوگ اِسی وجہ جو قرآن نے بطورِ خاص (Specifically) بیان کی ہے کہ افلاس کے خوف سے بچوں کو قتل نہ کیا جائے - دورِ جدید میں Abortion بچوں کے قتل کا ایک طبّی طریقہ ہے - صرف ایک برس یعنی سن ۲۰۱۲ ء میں پاکستان میں ۲۵. ۲ ملین (کم و بیش ساڑھے بائیس لاکھ) Abortions کروائے گئے بالفاظِ دیگر ایک برس میں کم و بیش ساڑھے بائیس لاکھ بچے قتل کئے گئے - (بحوالہ : رپورٹ ورلڈ پاپولیشن کونسل) اِس میں سے صرف پنجاب میں ۲۹. ۱ ملین (لگ بھگ تیرہ لاکھ) ابارشن ہوئے اور بقیّہ تقریباً نو لاکھ ابارشنز سارے مُلک میں ہوئے وہ بھی صرف ایک برس کی قلیل مُدَّت میں - یہ حشر ہم نے کر رکھّا ہے اُس پاک سرزمین کا جو نفاذِ قُرآن و سُنّت کے وعدہ پہ ہم نے حاصل کی ، قرآن پاک کو اگر صرف ثواب کمانے کا آلہ ہی سمجھا جاتا رہا اور اس کے عملی احکامات معاشرہ میں نافذ العمل نہ رہے تو ایسی برائیاں معاشرے میں برائی نہ سمجھی جائیں گی اور کھلی اور واضح گمراہیاں معاشرتی رسوم و روایات اور نام نہاد جدّت و تہذیب کی شکل اِختیار کر جائیں گی - اور {وَ زَیّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ أَعْمَالَھُمْ} یعنی شیطان لوگوں کو ان کے اعمالِ بد مزیّن کرکے پیش کرتا ہے ان کی خوش نما و دلخوش کنندہ تاویلات گھڑ کر اور تراش کر دیتا ہے تاکہ وہ اعمالِ بد کو کبھی فیشن کا نام دے لیں ، کبھی تہذیبِ جدید کا نام دے لیں ، کبھی جِدّت کا نام دے لیں ، کبھی روشن خیالی کا نام دے لیں ، کبھی لبرل ازم کا نام دے لیں اور کبھی ماڈرن ازم کا نام دے لیں -

گزارش یہ ہے کہ بغیر کسی معقول و معتبر میڈیکل عذر کے ابارشن کروانا قتلِ اولاد کے زُمرے میں آتا ہے خاص کر وہ لوگ تو ظُلمِ عظیم کرتے ہیں جو بیٹی کا معلُوم ہونے پہ اِس طرح کی قبیح و ظالمانہ حرکت کرتے ہیں ، اور وہ لوگ بھی جو یہ سمجھ کر اسقاط کرواتے ہیں کہ یہ اُن کے اثاثہ جات کی تقسیم میں مشکلات پیدا کرے گا یا وجۂ غُربت بن جائے گا تو ایسے لوگوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ {’’اور تم اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل مت کرو، ہم ہی انہیں (بھی) روزی دیتے ہیں اور تمہیں بھی، بے شک ان کو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے-‘‘} ناچیز کی رائے میں جو لوگ دینِ اِسلام کو دینِ فطرت سمجھتے ہیں اور کتابِ حکیم کو ازلی و ابدی دستورِ عظیم سمجھتے ہیں اور اپنے سچے معبودِ حق تعالیٰ کو واقعی اپنا رازقِ حقیقی مانتے ہیں وہ قتلِ اولاد جیسا فعل کرنا تو درکنار ، سوچ بھی نہیں سکتے -

(۵) زِنا و بد کاری سے مُمانعت:-

ساتواں حکم اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:

{وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓی اِنَّہُ کَانَ فَاحِشَۃً ط وَسَآئَ سَبِیْلاًo}

’’اور تم زنا (بدکاری) کے قریب بھی مت جانا بے شک یہ بے حیائی کا کام ہے، اور بہت ہی بری راہ ہے-‘‘ (الاسراء:۳۲)

اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایازنا کے قریب مت جاؤ یہ فحاشی ہے-

 میرے بھائیو اور بزرگو!مَیں بڑے جھکے سر سے مگر بڑے کھلے دل سے یہ بات آپ سے عرض کرناچاہتا ہوں کہ یہ ریاست جسے ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کہتے ہیں کیا اس کی مقننہ نے ایسے قوانین نہیں بنائے جن میں عملی طور پہ اورقانونی طور پہ زنا بالرضا کو جائز قرار دیا گیا اور اس پر حد کو معطل کر دیا گیا -اس طرح کے قوانین بناناجن قوانین سے زانی کو سہولت ملے ،زنا کو فروغ ملے یہ قرآن سے صریح بغاوت ہے ،یہ قرآن سے غداری ہے- اللہ تبارک تعالیٰ نے فحاشی سے منع فرمایا اور فحاشی کیا ہے؟ فحاشی کے متعلق فرما یا کہ فحاشی بہت ہی برا راستہ ہے- فحاشی کی مختصر ترین تشریح یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو جنسی اشتہاء پہ ابھارے ،جو شہوت پہ مائل کرے اور جو چیز صفاتِ اِنسانیّہ پہ صفاتِ حیوانیّہ کو غالب کر دے اور ایک جانورانہ خواہش اور انسانی خواہش کی لطافت میں حدِّ فاصِل مٹ جائے- ہمارے قانون ساز اِداروں پہ آج یہ فریضہ عائد ہوتا ہے اُنہیں چاہیے کہ اس کا فیصلہ کریں اور فحاشی کی اسلامی تعبیر واضح کریں جو ایک اسلامی معاشرے میں فحاشی کی تعبیر ہونی چاہیے -یہ جگہ جگہ پہ بڑے بڑے بورڈ آویزاں کر کے ٹی وی اشتہارات کے ذریعے جس طریقے سے لوگوں کو جنسی اشتہا پہ اُبھارا جاتا ہے ،جنسی اشتہا پہ مائل کیا جاتاہے کیا یہ فحاشی کے زمرے میں نہیں آتا؟ کیا یہ اشتہا کے زُمرے میں نہیں آتا؟

ہمارے ہاں جس طرح کی فحش، نجس ،غلیظ ،گندی شاعری کی گئی، اِنہی صفاتِ رذیلہ سے متّصف افسانے لکھے گئے، ڈرامے لکھے گئے، فلمیں بنائی گئیں، ناول لکھے گئے یہ سارا کچھ کیاہے؟ آج اس نے ہمیں کس ڈگر پہ ڈال دیا ہے؟ آج ہم کس راستے پہ چل پڑے ہیں ؟اور بالخصوص یہ سوشل میڈیا جو در حقیقت ’’اینٹی سوشل‘‘ میڈیا ہے کی لعنت آنے کے بعد تو معاشرے کی جھوٹی سچی اَخلاقیات ، رہتی سہتی قدروں کو بالکل ہی برباد کر کے رکھ دیا ہے - معاشروں کا اِس سے بڑا زوال کیا ہوگا کہ چار دیواری ، چاردیواری نہ رہے - دہلیز ، دہلیز نہ رہے - فرزندان و دُختران ِ معاشرہ جانوروں جیسی حرکات پہ اُتر آئیں ، گلیاں بازار اور چوراہے عصمت و تقدّس کے نگہبان اداروں کی بجائے جِنسی بغاوت کی محفوظ پناہ گاہیں بن جائیں - پارک اور باغات عوامی تفریح گاہوں کی بجائے فحاشی کی آماج گاہیں بن جائیں - مجھے تو حیرت ہوتی ہے کہ تفرقہ پرستی و اشتعال پھیلانے والے واعظین و خطبائے کرام اِن بڑی بڑی سیلولرنیٹ ورک موبائیل کمپنیز کے فحاشانہ و بے حیانہ کردار پر بات کیوں نہیں کرتے جو اِس نسل کی تباہی کا ایک بڑا موجب ہیں - یہ موبائیل کمپنیاں (Network providers) کیا کرتے ہیں ؟ یہ مختلف پیکج متعارف کرواتے ہیں کہ جناب شام آٹھ بجے سے صبح چار بجے تک - ساری رات کریں پانچ روپے میں باتیں - میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آخر کون سا کاروبار ہوتا ہے رات کو ، کہ جن کاروباریوں کو یہ کمپنیاں نفع دینا چاہتی ہیں ؟ کاروبار ، دوکان ، ریڑھی ، ٹریفک ، بینک ، اسکول ، کالج ، یونیورسٹی ، جاب ، ملازمت یہ سارا کچھ تو ہوتا ہے دِن کے اُجالے میں صبح ساڑھے آٹھ سے شام پانچ بجے تک ! اِن اوقات کے پیکج تو ایسے لچھے دار بنا کر سارا دِن ٹی وی سکرینوں پہ اخبارات پہ نہیں چلائے جاتے - آخر یہ لوگ عوام الناس کو فائدہ کیا دے رہے ہیں ؟ نہیں جناب ! یہ عوام کو کوئی فائدہ نہیں دے رہے رات بھر اِن پیکجز سے (الّا ما شا اللہ) وہ لوگ فائدہ اُٹھاتے ہیں جنہیں ہم اپنا مستقبل کہتے ہیں اور وہ ہیں نوجوان ، جو میڈیا کے ذریعے موٹیویٹ بلکہ ڈی موٹیویٹ کر دیئے گئے ہیں فحاشی و بے حیائی کے اوپر ، اِس لئے معاشرے میں ان پیکجز کی وجہ سے طوفانِ بد تمیزی بپا ہے بیٹیاں دہلیزیں پھلانگ رہی ہیں شرفا اپنی عزتیں اور سفید پوشیاں بچانے کیلئے خود کشیاں کر تے ہیں جنہیں کوئی اور جائے پناہ مل ہی نہیں سکتی - یوں لگتا ہے کہ شرافت و حیا داری اور عزت و غیرت کو شجرِ ممنوعہ بنایا جا رہا ہے -

میں آپ کی توجہ پھر سورہ النمل کی آیت چوبیس کی طرف دِلانا چاہوں گا کہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس آکر ہدہد یہ عرض کرتا ہے کہ ایک ملکہ ہے اس کا ایک تخت ہے اس کے اُمرأ ہیں،اُس کے وزیر ہیں،اُس کی سلطنت ہے لیکن وہ ساتھ ساتھ اس کی بد عمالیوں کاذکرکرکے کہتا ہے لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ ان کے سامنے شیطان نے ان کے برے اعمال کو مزیّن کرکے پیش کیا ہے - {وَ زَیّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ أَعْمَالَھُمْ} -

کیا آج ہم نہیں دیکھتے کہ شیطان نے ہماری بد اعمالیوںکو مزیّن کر کے پیش کر دیا،انہیں خوش نما کرکے ہمارے سامنے رکھّا اور آج بہت لوگ یہ کہتے ہیں کہ ’’یہ دین میرا ذاتی معاملہ ہے، تم کون ہوتے ہو مجھ سے پوچھنے والے‘‘- میرے بھائی ! ملاں و مشائخ کچھ نہیں ہوتے آپ سے پوچھنے والے! میں مانتا ہوں - لیکن خدا کی کتاب ہے آپ سے پوچھنے والی! میری کیا مجال کہ مَیں آپ سے پوچھوں ،کسی اور کی کیا مجال کہ آپ سے پوچھے لیکن کیا خدا کی کتاب کو یہ طاقت ہے کہ نہیں ؟ خدا کے دین کو یہ طاقت ہے کہ نہیں ؟ خداکے میزان کو ،خدا کے ترازو کو یہ طاقت ہے کہ آپ سے پوچھے گا ایک ایک چیز ،ایک ایک عضو اپنی خبریں اُگلے گا اندر سے{یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَھَا } - اور ایک طرف ہم ہیں کہ ہم نے اس بے حیائی ، عریانی ، فحاشی کو سٹیٹس سمبل سمجھ لیا ہے -آج جس کے ہاتھ میں موبائل نہیں، جس کے گھر میں انٹرینٹ نہیں، جو در حقیقت ’’اینٹی سوشل‘‘ اور نام نہاد ’’سوشل‘‘ میڈیا پہ موجود نہیں اسے کہتے کہ بڑا بیکورڈآدمی ہے یہ زندگی کیسے گزارتا ہے؟ کیا دُنیا اس سے پہلے اس پہ قائم نہیں تھی یا اس شدت کے ساتھ اسکی کیا ضرورت ہے ؟اورکیااِس کااحتساب ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے ؟ والدین جب اپنی اولاد کو یہ لیکر دیں تو کم از کم اتنا احتساب تو رکھیں اُن پربطور ایک مسلمان کے ، یہ ہماری ذمہ داری ہے اور ہمیں خود ان باتو ں کاخیال رکھنا چاہئے - اور پھر بد تمیزی پہ مائل جوان اولاد کی طرف سے والدین کی ’’جذباتی بلیک میلنگ‘‘ کیلئے کہاجاتا ہے کہ ’’ کیا آپ کو مجھ پہ اعتبار نہیں؟‘‘ نرم دِل والدین کہتے ہیں ’’یار اب بیٹا ہے یا بیٹی ہے اسے کیا کہیں ‘‘؟ ان کی دلجوئی کیلئے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے کہہ دیتے ہیں ’’نہیں نہیں بیٹا اعتبارہے‘‘- کبھی اولاد کا موبائل کھول کے نہیں دیکھا-جو معاشرہ قرآن سے غداری کرے ،جو معاشرے قرآن سے بغاوت کریں،جو معاشرے قرآن سے منحرف ہو جائیں ، قرآن کے وفا دار نہ رہیں اور قرآن سے کئے گئے عہد کو توڑ دیں تو کیا وہ والدین کے غدّار نہیں ہونگے ؟ کیا وہ والدین سے بغاوت نہیں کریں گے ؟ کیا وہ والدین کی معاشرتی عزت و سفید پوشی سے منحرف نہیں ہونگے ؟ کیا وہ والدین کے نام و ناموس سے بے وفائی نہیں کریں گے ؟ کیا وہ والدین کے اعتماد و اعتبار سے کئے گئے عہد کو نہیں توڑیں گے ؟ 

(جاری ہے)

 

 

 

ایسے ہی معاشرے ظالم ہو جاتے ہیں ، ایسے ہی معاشروں میں ظلم عام ہو جاتا ہے - حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا قول ہے کہ ظلم کی بنیاد پہ معاشرے قائم نہیں رہ سکتے، شرک کی بنیاد پہ البتہ قائم رہ سکتے ہیں اور جب قومیں ظالم ہو جائیں اور جب اپنے مابین ظلم کرنے لگ جائیں اوراس سے بڑھ کے اور ظلم کیا ہوگا کہ مغرب کی اپنی سوسائٹی میں ان کے اپنے ادارے ،سروے فورمز ہیں، ان کی بڑی بڑی سروے این جی اوز ہیں، اُن کے سروے آپ پڑھ کے دیکھیں وہ کہتے ہیں آپ کو مغرب میں 99% بچے یقین کے ساتھ اپنے باپ کا نام نہیں بتا سکتے- ہم یہ معاشرہ پاکستان میںبنانا چاہتے ہیں ؟ ہم اِس ڈگر پہ اپنی نسل کولانا چاہتے ہیں؟ کہ ہم سے آنے والی تیسری نسل اس منزل پہ پہنچ جائے کہ نوے فیصد بچوں کو پتہ ہی نہ ہوکہ ہمارا باپ کون ہے؟ ہم پہ لازم ہے اس آواز کواٹھانا،ہم پہ لازم ہے اپنے آپ کی اصلاح کرنا، اپنے وجود کی، اپنے اعمال کی اصلاح کرنا، اپنے گفتار اور اپنے کردار کی اصلاح کرنا،انسانی حقوق کا بہانا بنا ہے، انسانی حقوق کی آڑ لے کے فحاشی اور زنا کو عام نہیںکیا جاسکتا -اللہ نے قرآن میں منع کیا ہے

{وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓی اِنَّہُ کَانَ فَاحِشَۃً ط وَسَآئَ سَبِیْلاًo}

’’اور تم زنا (بدکاری) کے قریب بھی مت جانا بے شک یہ بے حیائی کا کام ہے، اور بہت ہی بری راہ ہے-‘‘

یہ ایک برا راستہ ہے ،فحاشی کا راستہ ہے -

 

 

(۸)

اور آٹھواں حکم اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:

{وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اﷲُ اِلاَّ بِالْحَقِ ط}

’’اور تم کسی جان کو قتل مت کرنا جسے (قتل کرنا) اﷲ نے حرام قرار دیا ہے-‘‘

اللہ نے کہا کہ ناحق کسی کو قتل نہ کرو،ناحق کسی کا خون نہ کرولیکن آج ہم اگر دیکھیں تو پورے انسانی سماج کا سب سے بڑاسانحہ ،سب سے مسئلہ یہ بن چکا ہے کہ یہاں پہ قتل و غارت عام ہے، بوریوں میں بند لاشیں ملتی ہیں ،نہروں میں بہتی لاشیں ملتی ہیں، پنکھے سے لٹکی لاشیں ملتی ہیں ،معلوم نہیں ہوتا مارنے والا کون ہے؟ مرنے والا کون ہے؟ ویرانے میں لاش پڑی ہے نامعلوم چہرہ مسخ ہے ،یہ کیا ہے؟ یہ کس بات کانتیجہ ہے؟ یہ کس بات کا خمیازہ ہے؟ یہ کیوں ایسا ہو رہا ہے ہماری سوسائٹی میں، ہمارے معاشرے میں ؟اور نواں حکم اللہ تبارک تعالیٰ نے فرمایا کہ

{وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ حَتّٰی یَبْلُغَ اَشُدَّہ}

’’اور تم یتیم کے مال کے (بھی) قریب تک نہ جانا مگر ایسے طریقہ سے جو (یتیم کے لیے) بہتر ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے -‘‘

کہ مال یتیم کی حفاظت کرو ،مال یتیم پہ غصب نہ لگائو،جب تک کہ وہ جوان نہ ہو جائے معاملاتِ معاشر ت اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادئیے- دسواں حکم اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا

{وَاَوْفُوْا بِالْعَھْدِج اِنَّ الْعَھْدَ کَانَ مَسْئُوْلاًo}

’’ اور وعدہ پورا کیا کرو، بے شک وعدہ کی ضرور پوچھ گچھ ہو گی-‘‘

 بے شک وعدوں کے متعلق اللہ کی بارگاہ میں پوچھا جائے گا، وعدوں کے متعلق تم سے حساب لیا جائے گا اور وہ وعدہ کون سا وعدہ ہے؟ وعدوں سے وفا کرنا جو وعدہ ہم دورانِ بیعت کرتے ہیں،ہم کسی عہدے یا کسی منصب کا حلف اٹھاتے ہوئے جو وعدہ کرتے ہیں ،ہم اپنے دین سے جو وعدہ کرتے ہیں، اللہ کی حاکمیت اعلیٰ کا وعدہ جو ہم اپنے دستور میں قرادادمقاصد میں کیا ہے اور رسول پاکﷺ کی اتباع کا وعدہ جو ہم نے بطورایک مسلمان کے کیا ہے اور اللہ کی توحید کا وعدہ جس کی گواہی ہم نے دی اورنبیﷺ کی رسالت کا وعدہ اور آپ کی ختمِ نبوت کا وعدہ جس پہ ہم ایمان لائے اور ہم مسلمان کہلائے- ان وعدوں سے وفا ہمارے اوپر لازم ہے- جو قوم وعدے توڑتی ہے، جس قوم کی مقننہ کے اراکین اپنے عہد کی پاسداری نہ کریں، اپنے عہد سے وفا نہ کریں، جس کے بڑے بڑے مناسب ،جس کے بڑے بڑے عہدوں پہ بیٹھے ہوئے لوگ اپنے عہد کو ،اپنے پیمان کو ،اپنے حلف کو توڑ کے کرپشن اور بد عنوانی میں ملوث ہوجائیں ،اس معاشرے پہ ،اس قوم پہ زوال نہیں آئے گا تو اور کیا ہوگا اور گیارھواں حکم اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:

{وَاَوْفُوا الْکَیْلَ اِذَا کِلْتُمْ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِط ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِیْلًاo}

’’اور ناپ پورا رکھا کرو جب (بھی) تم (کوئی چیز) ناپو اور (جب تولنے لگو تو) سیدھے ترازو سے تولا کرو، یہ (دیانتداری) بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے (بھی) خوب تر ہے-‘‘

اللہ تعالیٰ نے فر مایا کہ جب پیمانہ بھرو،جب ناپ تول کرنے لگو توپوراپورا ناپ تول کرو، ناپ تول میں کمی نہ کرو اور اس کی تشریح میںمتعدد مفسرین نے فرمایا کہ ناپ تول میں کمی کرنا یا چیزوں میں ملاوٹ کرنا یہ سخت ترین گنا ہ ہے یہ ایک ہی طرح کی دو چیزیں ہیں -اہلِ ٹوبہ ٹیک سنگھ مَیں ڈیمانڈ کرتا ہوں کہ مجھے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کو ئی دکان بتا دیجئے جہاں پہ ملاوٹ کے بغیر دودھ ملتا ہو،جہاں ناپ تول میں کمی نہ کی جاتی ہو، اس سے بڑھ کے ہماری بد قسمتی اورکیا ہو سکتی ہے؟ پٹرول پمپوں کے پیمانے دیکھ لیں، اپنے گریبان میں جھانک کر اپنی کون کونسی غلطی ،اپنے کون کون سے جرم کا اعتراف کروں کہ بطور اجتماعی ،بطورِ معاشرہ مجھ میں، میرے اندر کیا کیاخرابیاںہیں؟مَیں معاشرہ ہوں اور کوئی مانتا ہے یا نہیں ہم سب معاشرہ ہیں ،ہم اپنے اندر جھانکیں، اندر دیکھیں کہ خدا نے جو یہ آفاقی احکامات مقرر کئے ہم ان پہ کس حد تک عمل پیرا ہیں- بارھواں حکم اللہ تبارک تعالیٰ نے فرمایا :

{وَلَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ط اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُوْلًاo}

’’اور (اے انسان!) تو اس بات کی پیروی نہ کر جس کا تجھے (صحیح) علم نہیں، بے شک کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے باز پرس ہو گی-‘‘

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو بات تمہارے ذمے نہیں، جس کا تمہیں علم نہیں ہے اس کے پیچھے نہ پڑ جاؤ،بے شک تمہارے کانوں سے، تمہاری آنکھوں سے اور تمہارے دل یعنی تمہارا سوچنے کا جو آلہ ہے’’ فواد‘‘ دماغ بھی کہا جاتا ہے اور اسے دل بھی کہا جاتاہے اس سے حساب لیا جائے گا ،بد نظری نہ کرو،براخیال ،چھپی شہوت، آقاپاکﷺ کی حدیث مبارک ہے آپ نے فرمایا مجھے اپنی امت سے یہ خدشہ نہیں ہے کہ یہ چانداور ستاروں کی اور آگ کی اوربتوں کی پوجا کرنے لگیں مجھے خطرہ یہ ہے کہ یہ شرک خفی میں مبتلا ہو جائیں گے، یا رسول اللہﷺ! شرکِ خفی آپ نے فرمایاکہ یہ اپنی خفیہ شہوت کی پیروی کریں گے ،جو شخص بد نظری میں مبتلا ہو ،بد خیالی میں ،بد گمانی میں مبتلاہو تاہے اللہ تبارک تعالیٰ اسے نا پسند فرماتا ہے- آدابِ معاشرت اللہ نے مقررفرمائے -اور تیرھواں حکم اللہ تبارک تعالیٰ نے فرمایا کہ

{وَلَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا ج  اِنَّکَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًاo}

’’اور زمین میں اکڑ کر مت چل، بے شک تو زمین کو (اپنی رعونت کے زور سے) ہرگز چیر نہیں سکتا اور نہ ہی ہرگز تو بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ سکتا ہے (تو جو کچھ ہے وہی رہے گا)-‘‘

بے شک تم تکبر سے چل کے، اکڑ کے چل کے، نہ زمیں کو پھاڑ سکتے اور نہ پہاڑ سے بلند ہو سکتے ہو-

میرے بھائیو اور بزرگو! یہ تیرہ (۱۳) احکامات قرآن کریم کی صرف ایک سورۃ سے اس کی متصل آیا ت سے میں نے آپ کے سامنے پیش کیے ہیں جن میں معاشرت بھی ہے، معیشت بھی ہے ،سیاست بھی ہے، عدل بھی ہے، تجارت بھی ہے اور قرآن نے ہر چیز کے احکامات مقرر کئے اور مَیں نے شروع سے جوبات کہی تھی کہ ہمارا دین ،دینِ فطرت ہے اور یہ شروع سے آخر تک ہر بات کا احاطہ کرتا ہے، یہ شروع سے آخر تک ہربات کو ساتھ لے کرچلتا ہے، اس کا تصورِ خدا آفاقی ہے، اس کا تصورِ انسان آفاقی ہے، اس کا تصورِ کائنات آفاقی ہے، اس میں جزوی نوعیت کی کوئی چیز نہیں ہے اس لئے جو مانے گا وہ پورے دین کو مانے گا، جو منحرف ہو گا وہ پورے دین سے منحرف ہوگا ،درمیان کا کوئی راستہ نہیںہے کہ ہم کچھ احکامات کو مان لیں اور بعض احکامات کو چھوڑ دیں ایسا نہیں ہو سکتا- مغرب کے تصورِ دین میں اور ہمارے تصورِ دین میں فرق ہے، ان کا تصورِ دین، ان کا تصورِ خدامختلف ہے ہمارا تصور خدا مختلف ہے -ہمارا خدا اپنے اسماء حسنہ میں ہمیںیہ بتاتا ہے کہ مَیں مالک ہوں-

{مٰـلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِo}

’’روزِ جزا کا مالک ہے-‘‘

{ بِیَدِہِ الْمُلْکُ}

’’ جس کے دستِ (قدرت) میں (تمام جہانوں کی) سلطنت ہے-‘‘

اس کے ہاتھ میںیہ ملک ہے، اس کے ہاتھ میںیہ کائنات ہے ،وہ چلانا چاہے گا اس کائنات کو ،وہ حق رکھتا ہے اس کائنات کو چلانے کا -

{المقتدر}

’’اقتدار اس کا حق ہے -‘‘

{العدل}

’’عدالت اس کا حق ہے-‘‘

 ترازو اس کاہے، حکم اس کا ہے، پیغام اس کا ہے، نظام اس کا ہے، ہمارے پاس کوئی اختیا نہیںہے کہ ہم اس کی حاکمیت میں مداخلت کریں ،انسان اس زمین پہ حاکم نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ کی حاکمیتِ اعلیٰ کا نائب ہوتا ہے، اللہ کا خلیفہ ہوتاہے ،اس لئے دین جزوی اور فرد کا نجی معاملہ نہیںہے، دین فرد کا مکمل معاملہ ہے اگر اگر کوئی فرد دین کے کسی ایک بھی حکم سے اپنے آپ کو آزاد کرانا چاہتا ہے تو قرآن وسنت سے بغاوت کرتاہے ،وہ قرآن وسنت سے غداری کرتا ہے- آج آقا پاکﷺ کے میلاد مبارک پہ اگر ہم بیٹھے ہیں ،اس میں ہمارے لئے سب سے اہم اور سب سے ضروری ترین عمل یہ ہے ، ہمارے اوپر لازم اور واجب یہ ہے کہ ہم نے اپنا احتساب کرنا ہے کہ جس ہستی کی آمد کی خوشی ہم منارہے ہیں اس سے ہمارے تعلق کی بنیادیں کہاں تک پختہ ہیں؟

چوں می گویم مسلمان بلرزم

کہ دانم مشکلاتِ لاالٰہ را

’’جب مَیں یہ کہتا ہوںکہ مَیں مسلمان ہوں تو مَیںلرز اٹھتا ہوں کیونکہ مَیں لاالٰہ کی مشکلات کوجانتا ہوں -‘‘

یہ شہادت گہہ اُلفت میں قدم رکھنا  ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا

میرے نوجوان ساتھیو! مَیں آخری گزارش کررہا ہوں، آقا پاکﷺ سے اگر ہمیں محبت ہے تو اس محبت کی ہمارے پاس دلیل کیاہے؟ کیا آقاﷺ سے محبت کی یہ دلیل ہے کہ حضور کے دین کواہلِ دُنیا مذاق بنا دے اور ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں ؟کیا یہ حضور کے دعویٰٔ محبت کی دلیل ہے ؟آقا پاکﷺ نے جس دین کی خاطر اپنا وطن چھوڑا،ہجرت کی، جس دین کے لئے پتھر کھائے ،لہو لہان ہوئے ،حضور کے بدن اطہر سے لہو ٹپکتا رہا،نیزے کھائے ،تلواریں کھائیں ،رخصار زخمی ہوئے ،پیشانی زخمی ہوئی ،سر مبارک پہ چوٹ آئی ،دندان مبارک شہید ہوئے ،کائنات کی عظیم ترین وہ نفیس ترین اور لطیف ترین ہستی جس سے بڑھ کوئی لطیف نہیں ہوگا، جس سے بڑھ کے کوئی حسین نہیں ہوگا، جس سے بڑھ کو ئی نفیس نہیں ہوگا، آج اُسی دین پہ جس کے لئے یہ سارا کچھ کیا ہے، آج اس پہ مشکل وقت ہے اورہم اس دین کے رکھوالے نہیں بن رہے کیا یہ حضورکیساتھ محبت کے دعویٰ کی دلیل ہے ؟جس دین پہ آقا پاکﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ اگر تم میرے ایک ہاتھ پہ سورج اور دوسرے پہ چاند رکھ دو، مال دولت کے انبارلگا دو،مَیں اِس دین کی دعوت سے نہیں رکوں گا- آج ہم اس دین کو اپنی چند دُنیاوی خواہشات کی خاطر ترک کر کے بیٹھے ہیں ،دعویٰ ٔ محبت کی دلیل کیا ہے ہمارے پاس؟ حضور کے چچا ،حضور کے قریبی رفقاء ،حضور کے قریبی ساتھی بے دردی سے شہید کئے جاتے رہے، ان کے مثلے کئے گئے ،ان کے کلیجے ان کے سینے سے نکال کے چبائے گئے، آقا پاکﷺ نے یہ سارے غم کس کے لئے برداشت کئے؟ اس دین کے لئے، آج اس دین پہ مشکل وقت طاری ہے تو ہم دین پہ اپنی ذات کو، دین کے معاملات میں اپنے ذاتی معاملات کو ترجعیح دیتے ہیں کیا یہ حضور سے محبت کے دعویٰ کی دلیل ہے؟ ہمارے پاس کیا دلیل ہے حضور سے محبت کی، حضور سے عشق کی،؟

میرے بھائیومیرے ساتھیو !اگر حضور سے محبت ہے، اگر حضور سے عشق ہے، اگر حضور سے پیار ہے ،تو اس عشق کی ،اس محبت کی ،اس پیار کی دلیل دیں، یہ زندگی کتنی ہے، یہ کتنی اور رہ جائے گی، کسے معلوم ؟کیا اس دنیا میں صرف اَسی (۸۰)سال کی عمر کے لوگ مرتے ہیں،اٹھاراں(۱۸) سال کے نہیں مرتے ؟ہم جتنے بھی یہاں بیٹھے ہیں کسی کو یقین ہے کہ اس کے بعد مَیں کب تک زندہ ہو ں اور میں اپنے گھر بھی خیریت سے پہنچوں گا یانہیں ،کسی کو یقین ہے اپنی موت کا اور اپنی موت کے نہ آنے کا؟ وقت اس کے ہاتھ میں ہے وہ جب آواز دے گا یہ بدن جاتا رہے گا- حضرت سلطان باھُورحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ

؎لوگ قبر داکرسن چارا لحدبناون ڈیرا ھُو

جب تو مر جائے گا ناں تولوگوں کو پھر تیری فکر نہیں ہوگی ،جب رُوح نکل جائے گی لوگوںکو تیری فکر نہیں ہوگی،لوگ قبر کی طرف بھاگیںگے، دفناؤ اِسے میت بدبو چھوڑ جائے گی،’’ میت ترک ویسی پورو اینو ں جلدی‘‘ تعفن پھیلائے گی، بیماریاں پھیلائے گی ،خراب ہو جائے گی، لے جاؤ ،اسے دفناؤ، مٹی میں لے جاؤ ،قبر میںلے جاؤ،چاہے والد ہے، چاہے بھائی ہے، چاہے والدہ ہے، چاہے بچے ہیں، چاہے بہنیں ہیں جو بھی ہو، سب کو جلدی ہوگی-پھر تیرا گھر تیری قبر ہوگی

؎چٹکی بھر مٹی دی پاسن کرسن ڈھیر اُچیرا ھُو

ایک چٹکی مٹی کی اس پہ ڈال دیں گے، وہ چٹکی کس کا صلہ ہے؟ تیرے ساتھ ساری زندگی کی محبت کا، تیرے ساتھ ساری زندگی کے یارانے کا، تیرے ساتھ ساری زند گی کی دوستی کا، تیرے ساتھ ساری زندگی کے تعلق کا صلہ تمہیں لوگ آخرمیں کیا دیتے ہیں ؟مٹی ایک مٹھی بھر کے تیری قبر پہ ڈل دیتے ہیں-

مٹھیوں میں خاک لے کے دوست آئے بعد ازاں

زندگی بھر کی محبت کا صلہ دیتے ہیں

اس دُنیا سے محبت کرتے ہوجو تجھے جاتے ہوئے مٹی پھینکتے ہیں جاؤ اب

؎ پڑھ درود گھراں نوں جاسن کوکن شیراشیراھُو

جس نے فاتحہ درود پڑھنا ہوگا وہ پڑھے گا اور ایک بار روتا ہوا جائے گااور کہے گا تُو بڑا شیر تھا، بڑا شیر تھا -

بے پرواہ درگا رب باھوؔ نہیں فضلاں باہجھ نبیڑا ھُو

وہ بڑا بے نیاز ہے، وہ بڑا بے پرواہ ہے، کسی کی نہ اونچی ذات دیکھتا ہے ،نہ اونچا منصب دیکھتاہے ،نہ اونچی شان دیکھتا ہے، اس کی عدالت میں جب جاتے ہیں تو میاں محمد رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:

عدل کریں تے تھر تھر کنبن اُچیاں شاناں والے

فضل کریں تے بخشے جاون مَیں ورگے منہ کالے

حضرت عمر ؓ کا فرمان ہے کہ لوگو! اپنے اعمال کو تول لو اس سے پہلے کہ تمہارے اعمال اللہ کے ترازو میں رکھے جائیں، اپنے اعمال کا احتساب کرلو اس سے پہلے کہ اللہ تمہارا حساب لے ،اور ہمارے بزرگوں نے ،ہمارے اسلاف نے کہا ہے:

در جوانی توبہ کردن شیوۂ پیغمبری

وقت پیر ی گُرگ ظالم می شود پرہیز گار

جوانی میں توبہ کرنا ،جوانی میں اپنی لَواللہ سے لگانا، جوانی میں اپنی چاہت کو اللہ کی چاہت کے سپرد کرنا، اپنی جوان دھڑکنوںکو اللہ کی رضا پہ قربان کرنا، اپنی جوان سانسوں ،اپنے جوان جذبات ،اپنے جوان احساسات کو اللہ کی راہ میں لگانا، اللہ کی رضا میں لگانا ،یہ شیوہ ٔپیغمبری ،یہ انبیاء کی سنت ہے، یہ پیغمبروں کا شیوہ ہے- تُو چاہتا ہے مَیں بڑھاپے میں جاکے سُدھر جاؤں گا- اوہ خدا کے بندے بڑھاپے میں تو بھیڑیا بھی ظلم کرنا چھوڑ دیتا ہے، بندہ سُدھر جائے توکون سی بڑی بات ہے-

 آج میرے نوجوان ساتھیو !تمہیں اللہ نے جوان دھڑکنے دی ہیں، جوان جذبے دیے ہیں، ہم اللہ کے دین کی حفاظت، اپنے جوان بازوئوں سے کر سکتے ہیں ،اپنی جوان زبان سے کرسکتے ہیں، اپنے جوان لفظوں سے کر سکتے ہیں، اپنی جوان دھڑکنوں سے کر سکتے ہیں، اپنے جوان جذبوں سے کر سکتے ہیں، جب یہ سارا کچھ نحیف ہو جاتا ہے،جب یہ سارا کچھ ضیف ہو جاتاہے، سوائے حسرت اور سوائے ہاتھ مَلنے کے کچھ نہیں آتا، خدا کی بارگاہ میں حسرت کرتے ہوئے نہ لوٹو بلکہ اس کی طرف یوں لوٹو کہ

نشان مردِ مومن با تو گویم

چو مرگ آید تبسم بر لبِ اُو ست

آجا کہ مَیں تجھے بتاؤں کہ مردِ مومن کی نشانی کیا ہے؟ جب اُس پہ موت آتی ہے تواس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ کھیل جاتی ہے، وہ حسرت لے کر نہیں جاتا ہے کہ مَیں کچھ کر نہیں سکا بلکہ وہ خوش جاتا ہے یا اللہ تیرے توکل پہ، تیرے بھروسے پہ اس دنیا کے سامنے تیرا نام بلند کرتا رہا ،تیرے دین کی اِقامت کی جدوجہد کرتارہا، تیرے دین کے اِحیاء کی جدوجہد کرتا رہا، تیرے دین کے نفاذکی جدوجہد کرتا رہا ،تیرے نبی کے ادب، تیرے نبی کی عظمت کو سَربلند کرتا رہا-حضرت علامہ اقبا ل رحمۃ اللہ علیہ جب حضرت ٹیپو سلطان کی مزار پہ گئے تو بڑے روئے، وہاںپہ مراقبہ کیا ،قرآن کی دعوت پڑھی ،جب باہر آئے تو لوگوں نے پوچھا کہ ٹیپوسلطان سے کیا مکالمہ ہوا؟ ٹیپوسلطان بھی ایک فقیر آدمی تھا، ایک فقیر بادشاہ تھا اور بہت اللہ کا نیک آدمی تھا، علامہ اقبال نے کہا کہ مجھے ٹیپو سلطان نے کچھ باتیں کی ہیں یہ کلام حضرت علامہ کے کسی شعر ی مجموعے میں نہیں لیکن حیاتِ اقبال کی کتب میں موجود ہے ،’’ زندہ رُود‘‘ جو جاوید اقبال نے لکھی ہے اس میں بھی موجود ہے، علامہ اقبا ل نے ان لوگوں کو کہا کہ مجھے ٹیپو سلطان نے یہ بات کہی ہے کہ

درجہاں نتواں اگرمردانہ زیست

ہمچوں مرداں جاں سپرد ن زندگیست 

اقبال! مسلمانو ں کو یہ پیغام دو کہ اگر زندگی میں وہ مَردوں کی طرح زندگی بسر نہیں کر سکتے، اگر مومن کی طرح زندگی گزارنا ممکن نہیںپھر مَردوںکی طرح جان پہ کھیل جانا یہ زندگی ہے، جان سے گزر جانا یہ زندگی ہے-

 اس لئے ہمارے پاس یہ وقت ہے جو چند سانسیں ہمیں اللہ نے مہلت دی ہیں اس کے نام پہ صَرف کریں ،اس کے ساتھ یہ عہد کریں ،اس عہد کے متعلق ہم سے پوچھا جائے گا-

 اصلاحی جماعت یہی دعوت لے کے سلطان العارفین کی درگاہ سے آئی ہے، جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمدعلی صاحب یہی پیغام لے کے آئیں ہیں کہ خدارا آپ آئیں اور اللہ کے دین کو نافذ کرنے کیلئے، اللہ کی کتاب کو نافذ کرنے کیلئے، سنتِ رسولﷺ کو مروج کرنے کیلئے ہمیں اپنی کوششیں ،اپنی کاوشیں بروئے کار لانی چاہئیں- حضرت ہاجرہ کاکام سعی کرنا تھا،ہمارا کام سعی کرنا ہے، یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ ننھے اسماعیل کے قدموں سے پانی کا چشمہ جاری کردے ،ہم سعی کریں گے، خلوص سے کریں گے ،اللہ پانی کا چشمہ جاری فرمائے گا، وہی قادرِ مطلق ہے ،وہی سب کچھ عطا کرنے والا ہے -

اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطاء فرمائے -

ژزژزژ

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر