مرشدِاکمل، استاذِکاملین

مرشدِاکمل، استاذِکاملین

اسلام کیلئے جن لوگوں نے قربانیاں پیش کی ہیں ان میں خانوادۂ رسول () کا نام سرِ فہرست ہے-کہیں نواسۂ رسول، سید الشہداء حضر ت امام حسین (رضی اللہ عنہ)سب کچھ قربان فرما کر اسلام کو یزیدیت کے جبر و استبداد سے نجات دلاتے ہیں اور کہیں محبوب ِ سبحانی سید نا الشیخ عبد القادر جیلانی (رضی اللہ عنہ) اسلامی تعلیمات کی احیاء فرما کر اللہ پاک کی بارگاہِ صمدیت سے ’’محی الدین‘‘ کا لقب پاتے ہیں،اسی خانوادۂ رسول () کے چشم وچراغ شہبازِعارفاں سید سلطان محمد بہادرعلی شاہ صاحب کاظمی مشہدی(قدس اللہ سرّہٗ) کی ولادت باسعادت 1217ھ بمطابق 1801ء میں پنجاب ،ضلع جھنگ کی تحصیل شورکوٹ کے ایک قصبہ ’’حسّو والی‘‘میں ہوئی -سات (7)سال کی عمر میں آپ (قدس اللہ سرّہٗ) کے والدِ محترم حضرت سید فتح محمد شاہ صاحب ؒ نے دینی تعلیم کی غرض سے آپؒ کو ملتان لے جانے کافیصلہ فرمایا -ملتان جانے سے پہلے دربار حضرت سخی سلطان باھو صاحبؒ پہ حاضری کی سعادت نصیب ہوئی-بعض روایات کے مطابق سات (7) دن درِ پُر انوار پہ قیام کا شرف ملا،انہی دنوں میں حضرت سلطان باھو صاحبؒ نے اپنی نگاہِ فیض سے سید سلطان محمد بہادر علی شاہ صاحب ؒ کو ظاہری وباطنی علوم سے مالا مال فرمادیا-آپؒ نے حضور سلطان العارفین صاحبؒ کی انہی نوازشات کا تذکرہ بعد میں اپنے کلام میں یوں بیان فرمایا :

عشق دا مکتب کھولیا اے سلطان سوہنے عالیشان سائیں
داخل مکتب ہوون جانن یکساں سود زیاں سائیں
دسے الف دکھائے ہک صحیح استاد ہے اہلِ عرفان سائیں
سلطان بہادر شاہ ؒ مدارج طے ہوون ہک آن تے ہک زمان سائیں

یہی وجہ ہے کہ جب آپؒ ملتان مدرسے میں تشریف لے جاتے ہیں تو مدرسے کے مہتمم سید عبیداللہ شاہ صاحب ؒ نے جب آپؒ کو پڑھانے کا ارادہ کیاتو معلوم ہوا کہ آپؒ کو نہ صرف مکمل قرآن پاک حفظ ہے بلکہ تما م مروجہ علوم پہ بھی مہارت حاصل ہے- سید عبیداللہ شاہ صاحبؒ بہت حیران ہو ئے جب ان کو حقیقت ِ حال کاعلم ہو اتو انہوں نے آپؒ کے والد صاحب کو بلا کر بتایا کہ آپؒ کے بیٹے کو سلطان العارفین صاحبؒ نے ’’علم لدنی‘‘عطا فرمایا ہے جس کی وجہ سے انہیں ظاہری علوم کی بھی احتیاج نہیں رہی -

سید فتح محمد شاہ صاحبؒ اپنے صاحبزادے کو لے کر واپسی پہ دوبارہ حضرت سخی سلطان باھوصاحبؒ کے دربار پُرانوار پہ حاضر ہوئے،رات کو خواب میں حضور سلطان العارفین صاحبؒ نے فرمایا :

’’اس بچے کی نگرانی میرے ذمہ ہے اس کو یہیں چھوڑکر آپ گھر جاسکتے ہیں‘‘-[1]

سید سلطان محمد بہادر علی شاہ صاحبؒ کی پوری زندگی مبارک حضرت سخی سلطان باھو صاحبؒ سے وفا سے عبارت ہے-ایک روایت کے مطابق آپؒ 12 سال زائرین کے وضو وغیرہ کیلئے پانی کی ڈیوٹی سرانجام دیتے رہے-اسی دوران حضرت سلطان باھوصاحبؒ نے خزانۂ فقر عطا فرما کر یہ حکم بھی فرمایا کہ:یہ امانت میری اولاد میں سلطان محمد عبد العزیز صاحبؒ کو منتقل کرنا جوکہ پیدائشی طور پہ ناف بریدہ ہوں گے -

’’ایک مرتبہ دربار سلطان العارفینؒ پہ حضرت سخی سلطان محمد عبد العزیز صاحبؒ اپنے بچپن میں دوسرے بچوں کےساتھ کھیل رہے تھے،تو حضرت سخی سلطان بہادرعلی شاہ صاحبؒ کافی دیر تک آپؒ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے رہے -

سلطان الفقر (ششم) حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی صاحبؒ اپنے والد ماجدسے روایت بیان فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد صاحب نے اس واقعہ کو بتایا کہ فقر کی امانت تو اس وقت منتقل ہوگئی تھی جب نظروں سے نظریں ملی تھیں، بعد میں محض رسوم ادا ہوتی رہیں ‘‘- [2]

کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ:

طیبہ سے منگائی جاتی ہے سینوں میں چھپائی جاتی ہے
توحید کی مئے ساغرسے نہیں نظروں سے پلائی جاتی ہے

آپؒ کی زندگی مبارک کا لمحہ لمحہ سبق آموز ہے  کیونکہ آپؒ کی زندگی مبارک جہاں طالبانِ مولیٰ کو طلبِ صادق، خلوص،حسن ِ سیرت، توکل علی اللہ اور جہدِ مسلسل کا درس دیتی ہے وہاں اس بات پہ بھی زوردیتی ہے کہ انسان چاہے جس مقام پہ بھی پہنچ جائے اس کے لیے کسی صاحبِ حال،مرشدِکامل ،اکمل مکمل جامع نورالھدٰی کی صحبت و رفاقت نہایت ضروری ہے تاکہ وہ قرآن فہمی اور احادیث مبارکہ کے اسرار و رموز کو اپنے من میں اُتار سکے-

ظاہری بیعت و مرشد کی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ اتنی مشقت و نوازشات ہونے کے باوجود سلطان العارفین صاحبؒ نے آپؒ کو 1918ء میں حضرت سید پیر عبد الغفور شاہ صاحبؒ کےدست اقدس  پہ بیعت ہو نے کا حکم مبارک فرمایا -[3]

ظاہری مرشد کی بیعت و رفاقت کی اہمیت کو آپؒ نے اپنے کلام میں  یوں بیان فرمایاہے:

مجرم نوں محرم پیر کرے بخشے جاہل نوں علم عیان بیلی
کافر فاسق تے جیکر نظر کرے ہووے کامل اہلِ عرفان بیلی
وسیلہ اہل ِ ایمان تے فرض ہوا ثابت نال آیات قرآن بیلی
سلطان بہادشاہؒ رموز تے راز کھلن جدمرشد کرے دھیان بیلی

آپؒ کے ذوق ِ مطالعہ اور محبتِ علم کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ آپؒ نے حضرت سخی سلطان باھوؒ کی کئی کتب مبارکہ کے قلمی نسخہ جات تحریر فرمائے-

آپؒ نے سونے کے پانی سے لکھے ہوئے اسم اللہ ذات طالبان مولیٰ کو عطافرمائے کیونکہ اسم اللہ ذات کا عطا کیا جانا صوفیاء کرام کاطریق چلا آرہاتھا- یہی وجہ ہے کہ امام احمد رضا خان بریلویؒ فرماتے ہیں:

قد کنت رایت تالیفًا لبعض المشارقۃ یقول فیھاانہ ینبغی لذاکر(اسم)الجلالۃ من المریدین ان یکتہ بالذھب ِفی ورقۃ ویجعلہ نصب عینیہ[4]

’’میں نے بعض اہل ِ مشر ق کی تالیف میں دیکھا ہے کہ مریدین میں سے جواسم ِ جلالت (اسم ِ اللہ ذات ) کا ذاکر ہو اسے چاہیے کہ اسم جلالت کو سونے سے ایک ورق پر لکھ کر اپنی آنکھوں کے سامنے رکھے‘‘-

آپؒ نے جہاں قلمی نسخہ جات تحریرفرمائے ہیں وہاں شاعری کی صورت میں پنجابی کلام بھی تحریر فرمایا ہے جو خالصتاً طالبانِ مولیٰ کی رہنمائی کیلئے ہے- جیساکہ آپؒ فرماتے ہیں :

ضرور ہے نور حقیقت دا جس سمجھ لیا مقبول ہویا
بے سمجھاں نوں علم گمراہ کیتا العلم حجاب فضول ہویا
موقوف سبھے گلاں فضل اتے معروف حصول وصول ہویا
سلطان بہادر شاہ ؒ امین یقین کیتا اے خائن کل مجہول ہویا

مزید آپؒ حضور خاتم النبیین () کی شان اقدس میں لب کشائی کرتے ہوئےفرماتے ہیں :

جاہل جیندا پیشوا ہووے اوہ کتھوں محمدؐ دا شان جانے
صدیق تصدیق تحقیق کیتا جہڑا من رانی عیان جانے
جیں اللہ ہادی پہچان لیا اوہ علمہ البیان جانے
سلطان بہادر شاہ ؒ پیر توں بھل ناہیں وسواس قیاس شیطان جانے

اولیاء اللہ کو اللہ پاک جہاں دنیاوی حیات مبارکہ میں جاہ وجلا ل عطافرماتا ہے وہاں بززخی زندگی کو اہل ِ ایمان کے لیے فیض رساں بنا کر ان کے تصرفات اور فیوض و برکات کو کائنات میں جاری و ساری فرما دیتا ہے- جیسا کہ حضورنبی کریم () کا فرمان مبارک ہے:

’’المؤمنون لا يموتون بل ينقلون من دار إلى دار‘‘[5]

’’مؤمنین مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے ددسرے گھر منتقل ہوتے ہیں ‘‘-

اس حدیث مبارک کا عملی اظہار ہمیں حضور پیر صاحبؒ کی ذات مبارک میں بھی ملتا ہے جیسا کہ خلیفہ بابا احمدؒ نے بیان فرمایا کہ:

’’ہم ایک مرتبہ حضرت سلطان محمد عبد العزیز صاحب (قدس اللہ سرّہٗ)کے ہمراہ سفر میں تھے-مَیں قافلے سے پیچھے رَہ گیا، میرا سامان بھی اونٹ سے گر گیا اوراس وقت قریب قریب کو ئی ایساشخص بھی موجود نہ تھاجس سے مدد لی جاسکے-دیکھتا ہوں کہ  اتنے میں حضرت سخی سلطان محمد بہادر علی شاہ صاحبؒ تشریف لاتے ہیں، میرے ساتھ سامان اس اونٹ پر رکھواتے ہیں اور جب میں ملاقات کا ارادہ کرتا ہوں تو آپؒ آنکھوں سے اوجھل ہوجاتے‘‘-[6]

اسی طرح آپؒ کی حیات مبارکہ میں اور بعد از وصال مبارک کئی خرق عادت امور کا ظہور ہوتا ہے لیکن سلسلہ قادریہ میں کرامت کو پرِ کاہ جتنی بھی حیثت نہیں دی جاتی بلکہ کرامت پہ استقامت کو ترجیح دی جاتی ہے-

زندگی کی 133 بہاریں دیکھنے کے بعد گلستانِ قادریہ کے یہ چشم و چراغ 27 فروری 1934ءمیں اس جہان ِ فانی سے اپنا رختِ سفر باندھا-آپؒ کا دربار پُر انوار اڈا قاسم آباد تحصیل شور کوٹ سے1.5 کلومیڑ مشرق کی طر ف موضع فرید کاٹھیہ میں ہے-آپؒ کا عرس مبارک 26 اور 27 فروری کو انعقا د پذیرہوتا ہے -

اگر حقائق کو مدِ نظر رکھا جائے تو حق یہ بنتا ہے کہ بے دین، اسلامی تہذیب سے عاری افراد کو مسلمان طلبہ کے سامنے ہیرو بناکرپیش کرنے کی بجائے ایسے افراد کو رول ماڈل کے طور پہ پیش کیاجانا چاہیے جن کے شب و روز اللہ اور اس کےرسول () کی محبت میں گزرے ہیں-جنہوں نے اپناتن، من، دھن فروغ ِ اسلام کیلیے وقف کردیا-اس سے نہ صرف ان پاکیزہ ہستیوں کو خراجِ عقید ت پیش کی جاسکےگی ،ساتھ ہی ہماری قوم کے نونہالوں کی تربیت بھی اس نہج پہ ہوگی جس پہ اللہ کی چاہت ہے –اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو---!آمین

٭٭٭


[1](ماہنامہ مرآہ العارفین انٹرنیشنل، فروری 2012)

[2](ماہنامہ مرآہ العارفین  انٹرنیشنل،جنوری 2009)

[3](ایضاً)

[4]( فتاوٰی رضویہ، ج:21، ص:447)

[5]( مفاتیح الغیب،جلد:25،ص:75)

[6]( ماہنامہ مراۃ العارفین انٹرنیشنل، فروری 2012)

اسلام کیلئے جن لوگوں نے قربانیاں پیش کی ہیں ان میں خانوادۂ رسول () کا نام سرِ فہرست ہے-کہیں نواسۂ رسول، سید الشہداء حضر ت امام حسین (﷜)سب کچھ قربان فرما کر اسلام کو یزیدیت کے جبر و استبداد سے نجات دلاتے ہیں اور کہیں محبوب ِ سبحانی سید نا الشیخ عبد القادر جیلانی (﷜) اسلامی تعلیمات کی احیاء فرما کر اللہ پاک کی بارگاہِ صمدیت سے ’’محی الدین‘‘ کا لقب پاتے ہیں،اسی خانوادۂ رسول () کے چشم وچراغ شہبازِعارفاں سید سلطان محمد بہادرعلی شاہ صاحب کاظمی مشہدی(قدس اللہ سرّہٗ) کی ولادت باسعادت 1217ھ بمطابق 1801ء میں پنجاب ،ضلع جھنگ کی تحصیل شورکوٹ کے ایک قصبہ ’’حسّو والی‘‘میں ہوئی -سات (7)سال کی عمر میں آپ (قدس اللہ سرّہٗ) کے والدِ محترم حضرت سید فتح محمد شاہ صاحب (﷫)نے دینی تعلیم کی غرض سے آپ (﷫) کو ملتان لے جانے کافیصلہ فرمایا -ملتان جانے سے پہلے دربار حضرت سخی سلطان باھو صاحب (﷫) پہ حاضری کی سعادت نصیب ہوئی-بعض روایات کے مطابق سات (7) دن درِ پُر انوار پہ قیام کا شرف ملا،انہی دنوں میں حضرت سلطان باھو صاحب (﷫) نے اپنی نگاہِ فیض سے سید سلطان محمد بہادر علی شاہ صاحب (﷫) کو ظاہری وباطنی علوم سے مالا مال فرمادیا-آپ (﷫) نے حضور سلطان العارفین صاحب( ﷫) کی انہی نوازشات کا تذکرہ بعد میں اپنے کلام میں یوں بیان فرمایا :

عشق دا مکتب کھولیا اے سلطان سوہنے عالیشان سائیں
داخل مکتب ہوون جانن یکساں سود زیاں سائیں
دسے الف دکھائے ہک صحیح استاد ہے اہلِ عرفان سائیں
سلطان بہادر شاہ ؒ مدارج طے ہوون ہک آن تے ہک زمان سائیں

یہی وجہ ہے کہ جب آپ(﷫) ملتان مدرسے میں تشریف لے جاتے ہیں تو مدرسے کے مہتمم سید عبیداللہ شاہ صاحب (﷫) نے جب آپ (﷫) کو پڑھانے کا ارادہ کیاتو معلوم ہوا کہ آپ (﷫)کو نہ صرف مکمل قرآن پاک حفظ ہے بلکہ تما م مروجہ علوم پہ بھی مہارت حاصل ہے- سید عبیداللہ شاہ صاحب (﷫) بہت حیران ہو ئے جب ان کو حقیقت ِ حال کاعلم ہو اتو انہوں نے آپ (﷫) کے والد صاحب کو بلا کر بتایا کہ آپ (﷫) کے بیٹے کو سلطان العارفین صاحب (﷫) نے ’’علم لدنی‘‘عطا فرمایا ہے جس کی وجہ سے انہیں ظاہری علوم کی بھی احتیاج نہیں رہی -

سید فتح محمد شاہ صاحب (﷫) اپنے صاحبزادے کو لے کر واپسی پہ دوبارہ حضرت سخی سلطان باھوصاحب(﷫)کے دربار پُرانوار پہ حاضر ہوئے،رات کو خواب میں حضور سلطان العارفین صاحب (﷫) نے فرمایا :

’’اس بچے کی نگرانی میرے ذمہ ہے اس کو یہیں چھوڑکر آپ گھر جاسکتے ہیں‘‘-[1]

سید سلطان محمد بہادر علی شاہ صاحب (﷫) کی پوری زندگی مبارک حضرت سخی سلطان باھو صاحب (﷫) سے وفا سے عبارت ہے-ایک روایت کے مطابق آپ (﷫)12 سال زائرین کے وضو وغیرہ کیلئے پانی کی ڈیوٹی سرانجام دیتے رہے-اسی دوران حضرت سلطان باھوصاحب (﷫)نے خزانۂ فقر عطا فرما کر یہ حکم بھی فرمایا کہ:یہ امانت میری اولاد میں سلطان محمد عبد العزیز صاحب (﷫) کو منتقل کرنا جوکہ پیدائشی طور پہ ناف بریدہ ہوں گے -

’’ایک مرتبہ دربار سلطان العارفین (﷫)پہ حضرت سخی سلطان محمد عبد العزیز صاحب (﷫)اپنے بچپن میں دوسرے بچوں کےساتھ کھیل رہے تھے،تو حضرت سخی سلطان بہادرعلی شاہ صاحب (﷫) کافی دیر تک آپ (﷫) کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے رہے -

سلطان الفقر (ششم) حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی صاحب (﷫)اپنے والد ماجدسے روایت بیان فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد صاحب نے اس واقعہ کو بتایا کہ فقر کی امانت تو اس وقت منتقل ہوگئی تھی جب نظروں سے نظریں ملی تھیں، بعد میں محض رسوم ادا ہوتی رہیں ‘‘- [2]

کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ:

طیبہ سے منگائی جاتی ہے سینوں میں چھپائی جاتی ہے
توحید کی مئے ساغرسے نہیں نظروں سے پلائی جاتی ہے

آپ (﷫) کی زندگی مبارک کا لمحہ لمحہ سبق آموز ہے  کیونکہ آپ (﷫) کی زندگی مبارک جہاں طالبانِ مولیٰ کو طلبِ صادق، خلوص،حسن ِ سیرت، توکل علی اللہ اور جہدِ مسلسل کا درس دیتی ہے وہاں اس بات پہ بھی زوردیتی ہے کہ انسان چاہے جس مقام پہ بھی پہنچ جائے اس کے لیے کسی صاحبِ حال،مرشدِکامل ،اکمل مکمل جامع نورالھدٰی کی صحبت و رفاقت نہایت ضروری ہے تاکہ وہ قرآن فہمی اور احادیث مبارکہ کے اسرار و رموز کو اپنے من میں اُتار سکے-

ظاہری بیعت و مرشد کی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ اتنی مشقت و نوازشات ہونے کے باوجود سلطان العارفین صاحب (﷫)نے آپ (﷫)کو 1918ء میں حضرت سید پیر عبد الغفور شاہ صاحب (﷫) کےدست اقدس  پہ بیعت ہو نے کا حکم مبارک فرمایا -[3]

ظاہری مرشد کی بیعت و رفاقت کی اہمیت کو آپ (﷫) نے اپنے کلام میں  یوں بیان فرمایاہے:

مجرم نوں محرم پیر کرے بخشے جاہل نوں علم عیان بیلی
کافر فاسق تے جیکر نظر کرے ہووے کامل اہلِ عرفان بیلی
وسیلہ اہل ِ ایمان تے فرض ہوا ثابت نال آیات قرآن بیلی
سلطان بہادشاہؒ رموز تے راز کھلن جدمرشد کرے دھیان بیلی

آپ (﷫) کے ذوق ِ مطالعہ اور محبتِ علم کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ آپ (﷫) نے حضرت سخی سلطان باھو (﷫) کی کئی کتب مبارکہ کے قلمی نسخہ جات تحریر فرمائے-

آپ (﷫)نے سونے کے پانی سے لکھے ہوئے اسم اللہ ذات طالبان مولیٰ کو عطافرمائے کیونکہ اسم اللہ ذات کا عطا کیا جانا صوفیاء کرام کاطریق چلا آرہاتھا- یہی وجہ ہے کہ امام احمد رضا خان بریلوی (﷫) فرماتے ہیں:

قد کنت رایت تالیفًا لبعض المشارقۃ یقول فیھاانہ ینبغی لذاکر(اسم)الجلالۃ من المریدین ان یکتہ بالذھب ِفی ورقۃ ویجعلہ نصب عینیہ[4]

’’میں نے بعض اہل ِ مشر ق کی تالیف میں دیکھا ہے کہ مریدین میں سے جواسم ِ جلالت (اسم ِ اللہ ذات ) کا ذاکر ہو اسے چاہیے کہ اسم جلالت کو سونے سے ایک ورق پر لکھ کر اپنی آنکھوں کے سامنے رکھے‘‘-

آپ (﷫)نے جہاں قلمی نسخہ جات تحریرفرمائے ہیں وہاں شاعری کی صورت میں پنجابی کلام بھی تحریر فرمایا ہے جو خالصتاً طالبانِ مولیٰ کی رہنمائی کیلئے ہے- جیساکہ آپ (﷫) فرماتے ہیں :

ضرور ہے نور حقیقت دا جس سمجھ لیا مقبول ہویا
بے سمجھاں نوں علم گمراہ کیتا العلم حجاب فضول ہویا
موقوف سبھے گلاں فضل اتے معروف حصول وصول ہویا
سلطان بہادر شاہ ؒ امین یقین کیتا اے خائن کل مجہول ہویا

مزید آپ (﷫) حضور خاتم النبیین () کی شان اقدس میں لب کشائی کرتے ہوئےفرماتے ہیں :

جاہل جیندا پیشوا ہووے اوہ کتھوں محمدؐ دا شان جانے
صدیق تصدیق تحقیق کیتا جہڑا من رانی عیان جانے
جیں اللہ ہادی پہچان لیا اوہ علمہ البیان جانے
سلطان بہادر شاہ ؒ پیر توں بھل ناہیں وسواس قیاس شیطان جانے

اولیاء اللہ کو اللہ پاک جہاں دنیاوی حیات مبارکہ میں جاہ وجلا ل عطافرماتا ہے وہاں بززخی زندگی کو اہل ِ ایمان کے لیے فیض رساں بنا کر ان کے تصرفات اور فیوض و برکات کو کائنات میں جاری و ساری فرما دیتا ہے- جیسا کہ حضورنبی کریم () کا فرمان مبارک ہے:

’’المؤمنون لا يموتون بل ينقلون من دار إلى دار‘‘[5]

’’مؤمنین مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے ددسرے گھر منتقل ہوتے ہیں ‘‘-

اس حدیث مبارک کا عملی اظہار ہمیں حضور پیر صاحب (﷫) کی ذات مبارک میں بھی ملتا ہے جیسا کہ خلیفہ بابا احمد (﷫)نے بیان فرمایا کہ:

’’ہم ایک مرتبہ حضرت سلطان محمد عبد العزیز صاحب (قدس اللہ سرّہٗ)کے ہمراہ سفر میں تھے-مَیں قافلے سے پیچھے رَہ گیا، میرا سامان بھی اونٹ سے گر گیا اوراس وقت قریب قریب کو ئی ایساشخص بھی موجود نہ تھاجس سے مدد لی جاسکے-دیکھتا ہوں کہ  اتنے میں حضرت سخی سلطان محمد بہادر علی شاہ صاحب (﷫) تشریف لاتے ہیں، میرے ساتھ سامان اس اونٹ پر رکھواتے ہیں اور جب میں ملاقات کا ارادہ کرتا ہوں تو آپ (﷫) آنکھوں سے اوجھل ہوجاتے‘‘-[6]

اسی طرح آپ (﷫) کی حیات مبارکہ میں اور بعد از وصال مبارک کئی خرق عادت امور کا ظہور ہوتا ہے لیکن سلسلہ قادریہ میں کرامت کو پرِ کاہ جتنی بھی حیثت نہیں دی جاتی بلکہ کرامت پہ استقامت کو ترجیح دی جاتی ہے-

زندگی کی 133 بہاریں دیکھنے کے بعد گلستانِ قادریہ کے یہ چشم و چراغ 27 فروری 1934ءمیں اس جہان ِ فانی سے اپنا رختِ سفر باندھا-آپ (﷫) کا دربار پُر انوار اڈا قاسم آباد تحصیل شور کوٹ سے1.5 کلومیڑ مشرق کی طر ف موضع فرید کاٹھیہ میں ہے-آپ (﷫) کا عرس مبارک 26 اور 27 فروری کو انعقا د پذیرہوتا ہے -

اگر حقائق کو مدِ نظر رکھا جائے تو حق یہ بنتا ہے کہ بے دین، اسلامی تہذیب سے عاری افراد کو مسلمان طلبہ کے سامنے ہیرو بناکرپیش کرنے کی بجائے ایسے افراد کو رول ماڈل کے طور پہ پیش کیاجانا چاہیے جن کے شب و روز اللہ اور اس کےرسول () کی محبت میں گزرے ہیں-جنہوں نے اپناتن، من، دھن فروغ ِ اسلام کیلیے وقف کردیا-اس سے نہ صرف ان پاکیزہ ہستیوں کو خراجِ عقید ت پیش کی جاسکےگی ،ساتھ ہی ہماری قوم کے نونہالوں کی تربیت بھی اس نہج پہ ہوگی جس پہ اللہ کی چاہت ہے –اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو---!آمین

٭٭٭



[1](ماہنامہ مرآہ العارفین انٹرنیشنل، فروری 2012)

[2](ماہنامہ مرآہ العارفین  انٹرنیشنل،جنوری 2009)

[3](ایضاً)

[4]( فتاوٰی رضویہ، ج:21، ص:447)

[5]( مفاتیح الغیب،جلد:25،ص:75)

[6]( ماہنامہ مراۃ العارفین انٹرنیشنل، فروری 2012)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر