فریدالعصر،عدیم النظیر،بحرامن بحورالعلم امام الائمہ ابن خزیمہؒ

فریدالعصر،عدیم النظیر،بحرامن بحورالعلم امام الائمہ ابن خزیمہؒ

فریدالعصر،عدیم النظیر،بحرامن بحورالعلم امام الائمہ ابن خزیمہؒ

مصنف: مفتی محمد صدیق خان قادری فروری 2019

تعارف:

آپ کا نام محمد کنیت ابوبکراور شیخ الاسلام لقب ہے-نسب نامہ کچھ یوں یہ ہے :

’’محمد بن اسحاق بن خزیمہ بن مغیرہ بن صالح بن بکر-آپ ماہ صفر 223ھ میں نیشا پور میں پیدا ہوئے‘‘[1]-

مجشر بن مزاحم سے ولاء کا تعلق تھا- آپ نے علم و فن کی تحصیل اور حدیث و فقہ کی  تکمیل کے لئے مختلف مقامات کے اسفار فرمائے- بچپن میں اپنے وطن کے علماء و مشائخ سے استفادہ کیا اس کے بعد بغداد، بصرہ، کوفہ، شام، حجاز، عراق، مصر اور واسط وغیرہ تشریف لے گئے-[2]

اساتذہ:

آپ نے جن نامور علماء و مشائخ سے اکتساب علم کیا ان میں سے چند مشہور یہ ہیں-محمود بن غیلان، محمد بن مہران، ابی سعید الاشج، محمد بن بشار، محمد بن مثنی، محمد بن اعلی صنعانی، محمد بن یحیی،  نصر بن علی، محمد بن عبد اللہ مخرمی، یوسف بن موسیٰ، محمد بن رافع، ہارون بن اسحاق، آپ نے اسحاق بن راہویہ اور محمد بن حمید سے بھی حدیث کا سماع کیا مگر اس وقت کم سن تھے اس لئے احتیاط کی بنا پر ان بزرگوں سے حدیثیں نہیں بیان کرتے تھے[3]

تلامذہ:

جن حضرات کو آپ سے مستفید ہونے کا شرف ملا ان میں احمد بن مبارک مستملی ، ابراہیم ابی طالب، ابو حامد بن شرقی، ابو علی حسین بن محمد نیشا پوری، ابو احمد بن عدی، ابو عمرو  بن حمدان، اسحاق بن سعد نسوی، ابو بکر احمد بن مہران المقری، حسین   بن علی تمیمی، ابو محمد عبد اللہ بن احمد بن جعفر شیبانی، ابو الحسین احمد بن محمد البحیری، احمد بن محمد صندوقی، محمد بن احمد ابو بکر بن اسحاق صبغی؛ ابو سہل صعلو کی اور محمد بن بشر کرابیسی نے روایت کیا ہے-[4]

حدیث میں درجہ و مرتبہ:

امام ابن خزیمہ کا شمار اکابر محدثین اور نامور آئمہ فن میں ہوتا ہے-احادیث پر ان کی نظر نہایت وسیع اور گہری تھی وہ کم سنی میں ہی امام اور حافظ حدیث کی حیثیت سے مشہور ہو گئے تھے - ایک دفعہ امام شافعی کے نامور شاگرد اور فقہ شافعی کے جامع و مدون امام مزنی سے ایک عراقی شخص نے دریافت کیا کہ جب قرآن مجید نے قتل کی صرف دو ہی صورتیں بیان کی ہیں-عمد  و خطا تو آپ لوگ تیسری قسم شبہ عمدکو کس طرح مانتے ہیں؟ انہوں نے جواب میں ایک حدیث پاک پیش کی اس نے کہا کہ آپ علی بن زید بن  جدعان کی روایت سے استدلال کرتے ہیں- یہ سن کر امام مزنی خاموش ہوگئے اور امام ابن خزیمہ نے جواب دیا کہ شبہ عمد کی روایتیں دوسرے طرق سےبھی مروی ہیں-عراقی نے کہا کہ وہ کس کے واسطہ سے مروی ہیں امام ابن خزیمہ نے فرمایا ایوب سختیانی اور خالد حزا سے اس نے ایک راوی عقبہ بن اویس کے متعلق شک و تردد کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ ایک بصری شیخ ہیں اور ابن سیر ین جیسے جلیل القدر بزرگ نے بھی ان سے روایت کی ہے-معترض  نے امام مزنی سے عرض کیا کہ آپ مناظرہ کررہے ہیں یا یہ صاحب(یعنی امام ابن خزیمہ)-انہوں نے فرمایا کہ یہ احادیث کے بارے میں مجھ سے زیادہ واقف کار ہیں اس لئے جب حدیثوں پر گفتگو ہوتی ہے تو میں خاموش رہتا ہوں اور یہ بحث و مناظرہ میں حصہ لیتے ہیں-[5]

امام ابن خزیمہ مسائل و فتاوی کا جواب بھی احادیث کی روشنی میں دیتے تھے-امیر اسماعیل بن احمد نے ایک مرتبہ مال فئے اور مالِ غنیمت کا فرق دریافت کیا تو انہوں نے سورہ انفال کی آیت پڑھنے کے بعد چند احادیث مبارکہ بیان کیں پھر سورۃ حشر کی آیت’’ما افاء اللہ علی رسول---الخ‘‘ پڑھ کر احادیث سے مسئلہ کی وضاحت کی-ابو زکریا یحی بن محمد فرماتے ہیں کہ اس موقع پر انہوں نے تقریبا 170 احادیث مبارکہ بیان  کی ہوں گی-[6]

احادیث سے استنباط مسائل میں ان کو بڑا ملکہ حاصل تھا-ابن سریج کا بیان ہے کہ بڑی چھان بین اور محنت سے احادیث کے نکات  و مطالب کا استخراج کرتے تھے-[7]

حدیث کی نقل و درایت میں ان کے فضل و امتیاز کا اعتراف کرتے ہوئے علامہ ابن جوزی نے لکھا ہے:

’’و کان مبرزفی علم الحدیث‘‘

’’یعنی وہ علم حدیث میں وہ بہت ممتاز اور نہایت فاضل تھے‘‘-

انہوں نے سنن کی اشاعت و احیاء  کا مقدس فرض بھی انجام دیا- ایک مرتبہ ان کے  ایک پڑوسی نے خواب دیکھا کہ وہ  حضور نبی کریم (ﷺ) کی شبیہ مبارک صاف کر رہے ہیں معبرین نے بتایا کہ ابن خزیمہ احیاء سنت اور اشاعت حدیث کا کام انجام دیں گے-

آئمہ کی آراء:

آپ کی علمی و جاہت کی وجہ سے آپ کے معاصرین علماء و مشائخ آپ کے علم و کمال کے معترف تھے- آئمہ کرام نے آپ کی علمی انفرادیت کو مختلف انداز میں بیان کیا ہے-امام دار قطنی نے ان کو عدیم النظیر اور علامہ ذہبی نے فرید العصر اور حافط ابن کثیر نے بحر امن بحور العلم لکھا ہے-

امام ابو حاتم رازی فرماتے ہیں:

’’ھو ثقۃ صدوق‘‘[8]         ’’یعنی وہ ثقہ اور صدوق ہیں‘‘-

ابو علی نیشا پوری فرماتے ہیں:

’’لم ار احدًمثل ابن خزیمۃ‘‘[9]

’’میں نے ان سے زیادہ صاحب کمالات آدمی نہیں دیکھا‘‘-

آپ کے استاد ربیع  بن سلیمان آپ کے علمی مقام و مرتبہ کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ امام ابن خزیمہ کو جانتے ہیں تو آپ نے فرمایا جی ہاں! پھر فرمایا کہ:

’’استفد نامنہ اکثر استفادمنا‘‘[10]

’’ابن خزیمہ نے  ہم سے جتنا استفادہ کیا بنسبت اس کے ہم نے ان سے زیادہ استفادہ  کیا‘‘-

امام ابن حبان آپ کی جامعیت و فضیلت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’کان احد آئمۃ الدنیا علما و فقہا و حفظا‘‘[11]

’’آپ باعتبار علم و فقہ و حفظ کے دنیا کے اماموں میں سے ایک تھے‘‘-

حفظ  و ضبط:

امام ابن خزیمہ حفظ و ضبط کی دولت سے مالا مال تھے جب آپ سے حافظے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں جس چیز کو تحریر کرتا ہوں وہ مجھے زبانی یاد ہوجاتی ہے-امام ابن حبان ان کے حفظ و ضبط کو اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ:

’’ما رأیت علی وجہ الارض من یحسن صناعۃ السنن و یحفظ الفاظھا الصحاح و زیاداتھا حتی کان السنن کلھا نصب عیینہ الا ابن خزیمہ فقط‘‘[12]

’’یعنی میں روئے زمین پر احادیث و سنن کے صحیح الفاظ اور زیادات کی یادداشت رکھنے والا، ان کی مانند کوئی شخص نہیں دیکھا-ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سنن و احادیث کا تمام ذخیرہ ان کی نگاہوں کے سامنےہوتا ہے‘‘-

ابو علی نیشاپوری فرماتے ہیں کہ:

’’و کان یحفظ الفقہیات من حدیثہ کما یحفظ القاری السورۃ‘‘[13]

’’آپ کو حدیث کی فقہی جزئیات اس طرح یاد تھیں جس طرح قاری کو سورت یاد ہوتی ہے‘‘-

ان خوبیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی مرجعیت اور شہرت عطا فرمائی تھی-امام الائمہ کا لقب ان کے نام کا جز بن گیا تھا- مقبولیت کا یہ حال تھا کہ ان سے استفادہ کرنے کے لئے علماء و طلبہ کا ہجوم لگا رہتا تھا- بڑے بڑے ارباب کمال  دور دراز سے مشقتیں برداشت کر کے  آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے- آپؒ کی مجلس میں مستفیدین کے قافلے ہر وقت خیمہ زن  رہتے تھے-

فقہ و اجتہاد:

فقہ میں بھی ان کا درجہ نہایت بلند تھا، امام مزنی جیسے اساتذہ وقت  سے اس کی تحصیل کی تھی لیکن فقہ کے  عام مذاہب میں سے وہ کسی خاص مذہب سے وابستہ نہیں تھے بلکہ ان کا شمار مجتہدین مطلق میں ہوتا ہے- علامہ ابن سبکی نے ان کو المجتہد المطلق  قرار دیا ہے-جبکہ علامہ ابن کثیر  فرماتے ہیں:

’’و ھو من المجتہدین فی دین الاسلام‘‘

’’وہ دین کے مجتہدین میں سے تھے‘‘-

ابو زکریا یحی بن محمد عنبری فرماتے ہیں کہ میں نے ابن خزیمہ سے سنا کہ رسول اللہ (ﷺ) کے صحیح فرمان کی موجودگی میں کسی شخص کی بات کا اعتبار نہیں کیا جائے گا-[14]

بعض علماء کا خیال ہے کہ  وہ خود صاحب مذہب اور مستقل امام فقہ کی حیثیت رکھتے تھے-جیساکہ مندرجہ ذیل میں ابوبکر نقاشؒ سےبیان کردہ روایت سے واضح ہوتاہے-

وحکی عنہ ابوبکر النقاش انہٗ قال ماقلدت احدًافی مسألۃ منذ بلغت ست عشرۃ سنۃ[15]

’’ابوبکرنقاشؒ ان سے روایت کرتے ہیں کہ امام ابن خزیمہ  نے فرمایا کہ جب سے میری عمر سولہ (16)سال  کی ہوئی تو میں نے مسائل میں کسی کی تقلید نہیں کی‘‘-

آپ کے اس بیان سےعیاں ہو جاتا ہےکہ آپ ایک مستقل  صاحب  مذہب تھے-الغرض! آپ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے آپ مختلف علوم کے جامع اور مرتبہ کمال  پر فائز تھے- نیشا پور میں  جو کہ علم و فن کا مرکز تھا یکتائے روز گار تھے ان کی علمی شان سب سے بلند تھی؛ ان کے فتاوے تمام روئے زمین میں نقل  ہوتے تھے- عقل و فطانت  میں بے مثال تھے بحث و مناظرہ میں انہیں زیر نہیں کیا جاسکتا تھا-درحقیقت علم و فضل کا ایسا بحربے کنار تھے جس سے  تشنگانِ علوم سیراب  ہوتے تھے- ان کے  فیض کا یہ حال تھا کہ:

’’کا البحر یقذف للقریب جواھرا کرما و یبعث للغریب صحائبا‘‘[16]

’’یعنی ابن خزیمہ سمندر کی طرح اپنے قریب کے لوگوں کو موتی اور جواہرات سے مالا مال کرتے تھے اور دور والوں کے لئے باران  رحمت کی طرح سامان فیض کرتے تھے‘‘-

زہدوتقویٰ:

امام ابن خزیمہ جہاں علم و  فن کا منبع تھے، وہیں زہدوتقوی اور اتباعِ سنت  میں بھی نمایاں مقام رکھتے تھے وہ چھوٹی چھوٹی  باتوں میں بھی سنت کا  لحاظ رکھتے تھے- ایک مرتبہ ان سے حمام میں بال منڈوانے کے لئے کہا گیا تو آپ نے فرمایا میرے نزدیک رسول اللہ (ﷺ) کا حمام میں داخل ہو کر بال منڈوانا ثابت نہیں ہے- ابو عمر و بن اسماعیل فرماتے ہیں کہ میں ابن خزیمہ کے درس میں شریک ہوتا تھا ایک دفعہ میرا داہنا ہاتھ روشنائی سے سیاہ ہوگیا تھا اس لئے میں نے ان کو بائیں  ہاتھ سے قلم دینا چاہا تو انہوں نہ لیا پھر میرے رفقاء نے داہنے ہاتھ سے قلم دینے کے  لئے کہا جب میں نے داہنے ہاتھ سے دیا  تو انہوں نے لے لیا -[17]

وہ صاحب کرامت بھی تھے لوگ ان کی ذات  کو نہایت با برکت  خیال کرتے تھے ابو عثمان زاہد کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ  اہل نیشا پور کے مصائب و آلام ابن خزیمہ کی برکت سے دفع  کرے گا-[18]

آپ نے زندگی بڑی سادہ اور درویشانہ گزاری-آپ کی زندگی تکلف و آرائش سے بالکل پاک تھی ایک معمولی رقم میں گزر بسر کر لیتے تھے پہننے کے لئے  ہمیشہ ایک ہی قمیض ہوتی تھی جب دوسری قمیص بنواتے تو پرانی کسی ضرورت مند کو دیتے تھے لوگ درخواست کرتے تو کچھ زیادہ کپڑے بنوا لیجئے فرماتے کہ مجھے اپنے نفس کے آرام و راحت کا کوئی خیال نہیں-

آپ بڑے فیاض اور مہمان نواز تھے ان کے پوتے محمد بن فضل فرماتے ہیں کہ میرے دادا بخل سے نا آشنا تھے ان کا کل  مال و دولت اہل علم اور ضرورت مندوں کے لئے وقف تھا- ایک دفعہ بڑی پُر تکلف دعوت کی مختلف قسم کے لذیز کھانوں اور پھلوں سے دستر خوان آراستہ تھا امراء داعیان کے ساتھ اہل علم اور فقہاء و محدثین  مدعو تھے ہر شخص نے شکم سیر ہوکر کھانا کھایا لوگوں کا  بیان ہے کہ ایسی شاندار دعوت اور اہتمام صرف سلطان ہی کر سکتا  تھا ان کے زہد و تقوی اور اخلاقی اوصاف میں ایک وصف صاف گوئی بھی تھا- امراء و حکماء کے سامنے بھی حق بات کہنے سے  نہیں ڈرتے  تھے-ایک دفعہ امیر اسماعیل بن احمد  نے اپنے والد گرامی کے واسطہ سے ایک حدیث  مبارکہ بیان کی جس کی سند میں ان کو وہم ہوگیا تھا امام ابن خزیمہ  بھی وہاں موجود تھے انہوں نے فوراً اس کی تصحیح کی جب واپس ہوئے تو قاضی ابوذر نے بتایا کہ ہم لوگ  20 سال  سے یہ غلط روایت سنتے تھے مگر تصحیح کی جرأت نہیں ہوتی تھی- ابن  خزیمہ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ (ﷺ) کی احادیث مبارکہ میں خطاء و تحریف جان کر خاموش  رہنا گوارا نہیں کر سکتا[19]

تصنیفات اوروفات:

امام ابن خزیمہ نامور مصنف بھی تھے ان کی تصنیفات  کی تعداد امام حاکم نے 140 سے زیادہ بتائی ہے ان کے علاوہ ان کے مسائل کا مجموعہ بھی سو جزوں کے بقدر تھا ابن کثیر کا بیان ہے ’’فکتب الکثیر و صنف و جمع‘‘ یعنی بے شمار کتابیں  تصنیف کیں- آپ تصنیف شروع کرنے سے پہلے استخارہ کرتے تھے اگر استخارہ نکل آتا تب تصنیف کی ابتدا کرتے تھے-آپؒ سے منسوب چند کتابوں کے نام درج ذیل ہیں-

1-     فقہ حدیث بریرہ: یہ تین جزوں پر مشتمل ہے اس میں ایک حدیث کی فقاہت کے پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے-

2-     کتاب التوحید و الصفات: یہ بڑی اہم اور مشہور کتاب ہے اور کئی اجزاء پر مشتمل ہے اس کا موضوع کلام و عقائد ہے- امام رازی اس کو کتاب الاشراک کے نام سے موسوم کرتے تھے-

3-     صحیح ابن خزیمہ: یہ امام ابن خزیمہ کی سب سے مشہور کتاب ہے اس کتاب کا شمار حدیث کی اہم اور معتبر کتابوں میں ہوتا ہے-مستند مصنفین اور ثقہ علماء اس کی حدیثوں سے اخذ و استناد کرتے ہیں-

کتب صحاح کے علاوہ جن محدثین نے اپنی کتابوں میں صحت کا زیادہ التزام کیا ہے ان میں امام ابن خزیمہ بھی ہیں- شاہ عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں جن دیگر علماء نے صحاح کے مجموعے لکھے ان میں ابن  خزیمہ کی صحیح بعض حیثیتوں سے زیادہ مشہور ہے اس کی اہمیت کا اندازہ ابن کثیر کے اس بیان سے بھی ہوتا ہے-

’’من انفع لکتب و اجلھا‘‘

’’یعنی صحیح ابن خزیہ نہایت مفید اور اہم کتابوں میں ہے‘‘-

علامہ سیوطی نے بخاری و مسلم کے بعد جن کتابوں کو زیادہ معتبر بنایا ہے ان میں کتب صحاح کے ساتھ اس کا بھی ذکر کیا ہے- وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ صحیح ابن خزیمہ کا پایہ صحیح ابن حبان سے زیادہ ہے کیونکہ ابن خزیمہ نے صحت کی جانب زیادہ توجہ کی ہے وہ ادنی شبہ پر بھی توقف سے کام لیتے  ہیں چنانچہ اکثر ان صح الخبر و ان ثبت و غیرہ قسم کے الفاظ لکھتے ہیں یہ صحت میں صحیح مسلم کے قریب قریب ہے-آپؒ نے2 ذی القعدہ 311ھ کو وصال فرمایا[20]اور اپنے گھر کے ایک کمرہ میں دفن  کیے گئے بعد میں پورا گھر مقبرہ میں تبدیل ہوگیا تھا-

٭٭٭


[1](السیر اعلام النبلاء، جز:11، ص:225)

[2](طبقات الشافعیہ الکبری، جز:3، ص:110)

[3](السیر اعلام النبلاء، جز:11، ص:226)

[4](ایضاً)

[5](طبقات الفقہاءم جز:1، ص:106)

[6](طبقات الشافعیہ الکبریٰ، جز:3، ص:118)

[7](السیر اعلام النبلاء، جز:11، ص:230)

[8](الجرح و التعدیل، جز:7، ص:196)

[9](طبقات الحفاظ للسیوطی، جز:1، ص:313)

[10](السیر اعلام النبلاء، جز:11، ص:229)

[11](الثقات لابن حبان، جز:9، ص:156)

[12](طبقات الحفاظ للسیوطی، جز:1، ص:314)

[13](السیر اعلام النبلاء، جز:11، ص:229)

[14](طبقات الشاہین، جز:1، ص:222)

[15]( طبقات الفقہاءاز ابو اسحاق  ابراھیم بن  علی الشیرازی، ص :106)

[16](طبقات الشافعیہ الکبری، جز:3، ص:110)

[17](طبقات الشافعیہ الکبریٰ، جز:3، ص:111)

[18](السیر اعلام النبلاء، جز:11، ص:228)

[19](طبقات الشافعیہ الکبریٰ، جز:3، ص:111)

[20](الثقات لابن حبان، جز:9، ص:156)

تعارف:

آپ کا نام محمد کنیت ابوبکراور شیخ الاسلام لقب ہے-نسب نامہ کچھ یوں یہ ہے :

’’محمد بن اسحاق بن خزیمہ بن مغیرہ بن صالح بن بکر-آپ ماہ صفر 223ھ میں نیشا پور میں پیدا ہوئے‘‘[1]-

مجشر بن مزاحم سے ولاء کا تعلق تھا- آپ نے علم و فن کی تحصیل اور حدیث و فقہ کی  تکمیل کے لئے مختلف مقامات کے اسفار فرمائے- بچپن میں اپنے وطن کے علماء و مشائخ سے استفادہ کیا اس کے بعد بغداد، بصرہ، کوفہ، شام، حجاز، عراق، مصر اور واسط وغیرہ تشریف لے گئے-[2]

اساتذہ:

آپ نے جن نامور علماء و مشائخ سے اکتساب علم کیا ان میں سے چند مشہور یہ ہیں-محمود بن غیلان، محمد بن مہران، ابی سعید الاشج، محمد بن بشار، محمد بن مثنی، محمد بن اعلی صنعانی، محمد بن یحیی،  نصر بن علی، محمد بن عبد اللہ مخرمی، یوسف بن موسیٰ، محمد بن رافع، ہارون بن اسحاق، آپ نے اسحاق بن راہویہ اور محمد بن حمید سے بھی حدیث کا سماع کیا مگر اس وقت کم سن تھے اس لئے احتیاط کی بنا پر ان بزرگوں سے حدیثیں نہیں بیان کرتے تھے[3]

تلامذہ:

جن حضرات کو آپ سے مستفید ہونے کا شرف ملا ان میں احمد بن مبارک مستملی ، ابراہیم ابی طالب، ابو حامد بن شرقی، ابو علی حسین بن محمد نیشا پوری، ابو احمد بن عدی، ابو عمرو  بن حمدان، اسحاق بن سعد نسوی، ابو بکر احمد بن مہران المقری، حسین   بن علی تمیمی، ابو محمد عبد اللہ بن احمد بن جعفر شیبانی، ابو الحسین احمد بن محمد البحیری، احمد بن محمد صندوقی، محمد بن احمد ابو بکر بن اسحاق صبغی؛ ابو سہل صعلو کی اور محمد بن بشر کرابیسی نے روایت کیا ہے-[4]

حدیث میں درجہ و مرتبہ:

امام ابن خزیمہ کا شمار اکابر محدثین اور نامور آئمہ فن میں ہوتا ہے-احادیث پر ان کی نظر نہایت وسیع اور گہری تھی وہ کم سنی میں ہی امام اور حافظ حدیث کی حیثیت سے مشہور ہو گئے تھے - ایک دفعہ امام شافعی کے نامور شاگرد اور فقہ شافعی کے جامع و مدون امام مزنی سے ایک عراقی شخص نے دریافت کیا کہ جب قرآن مجید نے قتل کی صرف دو ہی صورتیں بیان کی ہیں-عمد  و خطا تو آپ لوگ تیسری قسم شبہ عمدکو کس طرح مانتے ہیں؟ انہوں نے جواب میں ایک حدیث پاک پیش کی اس نے کہا کہ آپ علی بن زید بن  جدعان کی روایت سے استدلال کرتے ہیں- یہ سن کر امام مزنی خاموش ہوگئے اور امام ابن خزیمہ نے جواب دیا کہ شبہ عمد کی روایتیں دوسرے طرق سےبھی مروی ہیں-عراقی نے کہا کہ وہ کس کے واسطہ سے مروی ہیں امام ابن خزیمہ نے فرمایا ایوب سختیانی اور خالد حزا سے اس نے ایک راوی عقبہ بن اویس کے متعلق شک و تردد کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ ایک بصری شیخ ہیں اور ابن سیر ین جیسے جلیل القدر بزرگ نے بھی ان سے روایت کی ہے-معترض  نے امام مزنی سے عرض کیا کہ آپ مناظرہ کررہے ہیں یا یہ صاحب(یعنی امام ابن خزیمہ)-انہوں نے فرمایا کہ یہ احادیث کے بارے میں مجھ سے زیادہ واقف کار ہیں اس لئے جب حدیثوں پر گفتگو ہوتی ہے تو میں خاموش رہتا ہوں اور یہ بحث و مناظرہ میں حصہ لیتے ہیں-[5]

امام ابن خزیمہ مسائل و فتاوی کا جواب بھی احادیث کی روشنی میں دیتے تھے-امیر اسماعیل بن احمد نے ایک مرتبہ مال فئے اور مالِ غنیمت کا فرق دریافت کیا تو انہوں نے سورہ انفال کی آیت پڑھنے کے بعد چند احادیث مبارکہ بیان کیں پھر سورۃ حشر کی آیت’’ما افاء اللہ علی رسول---الخ‘‘ پڑھ کر احادیث سے مسئلہ کی وضاحت کی-ابو زکریا یحی بن محمد فرماتے ہیں کہ اس موقع پر انہوں نے تقریبا 170 احادیث مبارکہ بیان  کی ہوں گی-[6]

احادیث سے استنباط مسائل میں ان کو بڑا ملکہ حاصل تھا-ابن سریج کا بیان ہے کہ بڑی چھان بین اور محنت سے احادیث کے نکات  و مطالب کا استخراج کرتے تھے-[7]

حدیث کی نقل و درایت میں ان کے فضل و امتیاز کا اعتراف کرتے ہوئے علامہ ابن جوزی نے لکھا ہے:

’’و کان مبرزفی علم الحدیث‘‘

’’یعنی وہ علم حدیث میں وہ بہت ممتاز اور نہایت فاضل تھے‘‘-

انہوں نے سنن کی اشاعت و احیاء  کا مقدس فرض بھی انجام دیا- ایک مرتبہ ان کے  ایک پڑوسی نے خواب دیکھا کہ وہ  حضور نبی کریم (ﷺ) کی شبیہ مبارک صاف کر رہے ہیں معبرین نے بتایا کہ ابن خزیمہ احیاء سنت اور اشاعت حدیث کا کام انجام دیں گے-

آئمہ کی آراء:

آپ کی علمی و جاہت کی وجہ سے آپ کے معاصرین علماء و مشائخ آپ کے علم و کمال کے معترف تھے- آئمہ کرام نے آپ کی علمی انفرادیت کو مختلف انداز میں بیان کیا ہے-امام دار قطنی نے ان کو عدیم النظیر اور علامہ ذہبی نے فرید العصر اور حافط ابن کثیر نے بحر امن بحور العلم لکھا ہے-

امام ابو حاتم رازی فرماتے ہیں:

’’ھو ثقۃ صدوق‘‘[8]         ’’یعنی وہ ثقہ اور صدوق ہیں‘‘-

ابو علی نیشا پوری فرماتے ہیں:

’’لم ار احدًمثل ابن خزیمۃ‘‘[9]

’’میں نے ان سے زیادہ صاحب کمالات آدمی نہیں دیکھا‘‘-

آپ کے استاد ربیع  بن سلیمان آپ کے علمی مقام و مرتبہ کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ امام ابن خزیمہ کو جانتے ہیں تو آپ نے فرمایا جی ہاں! پھر فرمایا کہ:

’’استفد نامنہ اکثر استفادمنا‘‘[10]

’’ابن خزیمہ نے  ہم سے جتنا استفادہ کیا بنسبت اس کے ہم نے ان سے زیادہ استفادہ  کیا‘‘-

امام ابن حبان آپ کی جامعیت و فضیلت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’کان احد آئمۃ الدنیا علما و فقہا و حفظا‘‘[11]

’’آپ باعتبار علم و فقہ و حفظ کے دنیا کے اماموں میں سے ایک تھے‘‘-

حفظ  و ضبط:

امام ابن خزیمہ حفظ و ضبط کی دولت سے مالا مال تھے جب آپ سے حافظے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں جس چیز کو تحریر کرتا ہوں وہ مجھے زبانی یاد ہوجاتی ہے-امام ابن حبان ان کے حفظ و ضبط کو اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ:

’’ما رأیت علی وجہ الارض من یحسن صناعۃ السنن و یحفظ الفاظھا الصحاح و زیاداتھا حتی کان السنن کلھا نصب عیینہ الا ابن خزیمہ فقط‘‘[12]

’’یعنی میں روئے زمین پر احادیث و سنن کے صحیح الفاظ اور زیادات کی یادداشت رکھنے والا، ان کی مانند کوئی شخص نہیں دیکھا-ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سنن و احادیث کا تمام ذخیرہ ان کی نگاہوں کے سامنےہوتا ہے‘‘-

ابو علی نیشاپوری فرماتے ہیں کہ:

’’و کان یحفظ الفقہیات من حدیثہ کما یحفظ القاری السورۃ‘‘[13]

’’آپ کو حدیث کی فقہی جزئیات اس طرح یاد تھیں جس طرح قاری کو سورت یاد ہوتی ہے‘‘-

ان خوبیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی مرجعیت اور شہرت عطا فرمائی تھی-امام الائمہ کا لقب ان کے نام کا جز بن گیا تھا- مقبولیت کا یہ حال تھا کہ ان سے استفادہ کرنے کے لئے علماء و طلبہ کا ہجوم لگا رہتا تھا- بڑے بڑے ارباب کمال  دور دراز سے مشقتیں برداشت کر کے  آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے- آپؒ کی مجلس میں مستفیدین کے قافلے ہر وقت خیمہ زن  رہتے تھے-

فقہ و اجتہاد:

فقہ میں بھی ان کا درجہ نہایت بلند تھا، امام مزنی جیسے اساتذہ وقت  سے اس کی تحصیل کی تھی لیکن فقہ کے  عام مذاہب میں سے وہ کسی خاص مذہب سے وابستہ نہیں تھے بلکہ ان کا شمار مجتہدین مطلق میں ہوتا ہے- علامہ ابن سبکی نے ان کو المجتہد المطلق  قرار دیا ہے-جبکہ علامہ ابن کثیر  فرماتے ہیں:

’’و ھو من المجتہدین فی دین الاسلام‘‘

’’وہ دین کے مجتہدین میں سے تھے‘‘-

ابو زکریا یحی بن محمد عنبری فرماتے ہیں کہ میں نے ابن خزیمہ سے سنا کہ رسول اللہ (ﷺ) کے صحیح فرمان کی موجودگی میں کسی شخص کی بات کا اعتبار نہیں کیا جائے گا-[14]

بعض علماء کا خیال ہے کہ  وہ خود صاحب مذہب اور مستقل امام فقہ کی حیثیت رکھتے تھے-جیساکہ مندرجہ ذیل میں ابوبکر نقاش(﷫) سےبیان کردہ روایت سے واضح ہوتاہے-

وحکی عنہ ابوبکر النقاش انہٗ قال ماقلدت احدًافی مسألۃ منذ بلغت ست عشرۃ سنۃ[15]

’’ابوبکرنقاشؒ ان سے روایت کرتے ہیں کہ امام ابن خزیمہ  نے فرمایا کہ جب سے میری عمر سولہ (16)سال  کی ہوئی تو میں نے مسائل میں کسی کی تقلید نہیں کی‘‘-

آپ کے اس بیان سےعیاں ہو جاتا ہےکہ آپ ایک مستقل  صاحب  مذہب تھے-الغرض! آپ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے آپ مختلف علوم کے جامع اور مرتبہ کمال  پر فائز تھے- نیشا پور میں  جو کہ علم و فن کا مرکز تھا یکتائے روز گار تھے ان کی علمی شان سب سے بلند تھی؛ ان کے فتاوے تمام روئے زمین میں نقل  ہوتے تھے- عقل و فطانت  میں بے مثال تھے بحث و مناظرہ میں انہیں زیر نہیں کیا جاسکتا تھا-درحقیقت علم و فضل کا ایسا بحربے کنار تھے جس سے  تشنگانِ علوم سیراب  ہوتے تھے- ان کے  فیض کا یہ حال تھا کہ:

’’کا البحر یقذف للقریب جواھرا کرما و یبعث للغریب صحائبا‘‘[16]

’’یعنی ابن خزیمہ سمندر کی طرح اپنے قریب کے لوگوں کو موتی اور جواہرات سے مالا مال کرتے تھے اور دور والوں کے لئے باران  رحمت کی طرح سامان فیض کرتے تھے‘‘-

زہدوتقویٰ:

امام ابن خزیمہ جہاں علم و  فن کا منبع تھے، وہیں زہدوتقوی اور اتباعِ سنت  میں بھی نمایاں مقام رکھتے تھے وہ چھوٹی چھوٹی  باتوں میں بھی سنت کا  لحاظ رکھتے تھے- ایک مرتبہ ان سے حمام میں بال منڈوانے کے لئے کہا گیا تو آپ نے فرمایا میرے نزدیک رسول اللہ (ﷺ) کا حمام میں داخل ہو کر بال منڈوانا ثابت نہیں ہے- ابو عمر و بن اسماعیل فرماتے ہیں کہ میں ابن خزیمہ کے درس میں شریک ہوتا تھا ایک دفعہ میرا داہنا ہاتھ روشنائی سے سیاہ ہوگیا تھا اس لئے میں نے ان کو بائیں  ہاتھ سے قلم دینا چاہا تو انہوں نہ لیا پھر میرے رفقاء نے داہنے ہاتھ سے قلم دینے کے  لئے کہا جب میں نے داہنے ہاتھ سے دیا  تو انہوں نے لے لیا -[17]

وہ صاحب کرامت بھی تھے لوگ ان کی ذات  کو نہایت با برکت  خیال کرتے تھے ابو عثمان زاہد کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ  اہل نیشا پور کے مصائب و آلام ابن خزیمہ کی برکت سے دفع  کرے گا-[18]

آپ نے زندگی بڑی سادہ اور درویشانہ گزاری-آپ کی زندگی تکلف و آرائش سے بالکل پاک تھی ایک معمولی رقم میں گزر بسر کر لیتے تھے پہننے کے لئے  ہمیشہ ایک ہی قمیض ہوتی تھی جب دوسری قمیص بنواتے تو پرانی کسی ضرورت مند کو دیتے تھے لوگ درخواست کرتے تو کچھ زیادہ کپڑے بنوا لیجئے فرماتے کہ مجھے اپنے نفس کے آرام و راحت کا کوئی خیال نہیں-

آپ بڑے فیاض اور مہمان نواز تھے ان کے پوتے محمد بن فضل فرماتے ہیں کہ میرے دادا بخل سے نا آشنا تھے ان کا کل  مال و دولت اہل علم اور ضرورت مندوں کے لئے وقف تھا- ایک دفعہ بڑی پُر تکلف دعوت کی مختلف قسم کے لذیز کھانوں اور پھلوں سے دستر خوان آراستہ تھا امراء داعیان کے ساتھ اہل علم اور فقہاء و محدثین  مدعو تھے ہر شخص نے شکم سیر ہوکر کھانا کھایا لوگوں کا  بیان ہے کہ ایسی شاندار دعوت اور اہتمام صرف سلطان ہی کر سکتا  تھا ان کے زہد و تقوی اور اخلاقی اوصاف میں ایک وصف صاف گوئی بھی تھا- امراء و حکماء کے سامنے بھی حق بات کہنے سے  نہیں ڈرتے  تھے-ایک دفعہ امیر اسماعیل بن احمد  نے اپنے والد گرامی کے واسطہ سے ایک حدیث  مبارکہ بیان کی جس کی سند میں ان کو وہم ہوگیا تھا امام ابن خزیمہ  بھی وہاں موجود تھے انہوں نے فوراً اس کی تصحیح کی جب واپس ہوئے تو قاضی ابوذر نے بتایا کہ ہم لوگ  20 سال  سے یہ غلط روایت سنتے تھے مگر تصحیح کی جرأت نہیں ہوتی تھی- ابن  خزیمہ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ (ﷺ) کی احادیث مبارکہ میں خطاء و تحریف جان کر خاموش  رہنا گوارا نہیں کر سکتا[19]

تصنیفات اوروفات:

امام ابن خزیمہ نامور مصنف بھی تھے ان کی تصنیفات  کی تعداد امام حاکم نے 140 سے زیادہ بتائی ہے ان کے علاوہ ان کے مسائل کا مجموعہ بھی سو جزوں کے بقدر تھا ابن کثیر کا بیان ہے ’’فکتب الکثیر و صنف و جمع‘‘ یعنی بے شمار کتابیں  تصنیف کیں- آپ تصنیف شروع کرنے سے پہلے استخارہ کرتے تھے اگر استخارہ نکل آتا تب تصنیف کی ابتدا کرتے تھے-آپؒ سے منسوب چند کتابوں کے نام درج ذیل ہیں-

1-     فقہ حدیث بریرہ: یہ تین جزوں پر مشتمل ہے اس میں ایک حدیث کی فقاہت کے پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے-

2-     کتاب التوحید و الصفات: یہ بڑی اہم اور مشہور کتاب ہے اور کئی اجزاء پر مشتمل ہے اس کا موضوع کلام و عقائد ہے- امام رازی اس کو کتاب الاشراک کے نام سے موسوم کرتے تھے-

3-     صحیح ابن خزیمہ: یہ امام ابن خزیمہ کی سب سے مشہور کتاب ہے اس کتاب کا شمار حدیث کی اہم اور معتبر کتابوں میں ہوتا ہے-مستند مصنفین اور ثقہ علماء اس کی حدیثوں سے اخذ و استناد کرتے ہیں-

کتب صحاح کے علاوہ جن محدثین نے اپنی کتابوں میں صحت کا زیادہ التزام کیا ہے ان میں امام ابن خزیمہ بھی ہیں- شاہ عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں جن دیگر علماء نے صحاح کے مجموعے لکھے ان میں ابن  خزیمہ کی صحیح بعض حیثیتوں سے زیادہ مشہور ہے اس کی اہمیت کا اندازہ ابن کثیر کے اس بیان سے بھی ہوتا ہے-

’’من انفع لکتب و اجلھا‘‘

’’یعنی صحیح ابن خزیہ نہایت مفید اور اہم کتابوں میں ہے‘‘-

علامہ سیوطی نے بخاری و مسلم کے بعد جن کتابوں کو زیادہ معتبر بنایا ہے ان میں کتب صحاح کے ساتھ اس کا بھی ذکر کیا ہے- وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ صحیح ابن خزیمہ کا پایہ صحیح ابن حبان سے زیادہ ہے کیونکہ ابن خزیمہ نے صحت کی جانب زیادہ توجہ کی ہے وہ ادنی شبہ پر بھی توقف سے کام لیتے  ہیں چنانچہ اکثر ان صح الخبر و ان ثبت و غیرہ قسم کے الفاظ لکھتے ہیں یہ صحت میں صحیح مسلم کے قریب قریب ہے-آپؒ نے2 ذی القعدہ 311ھ کو وصال فرمایا[20]اور اپنے گھر کے ایک کمرہ میں دفن  کیے گئے بعد میں پورا گھر مقبرہ میں تبدیل ہوگیا تھا-

٭٭٭



[1](السیر اعلام النبلاء، جز:11، ص:225)

[2](طبقات الشافعیہ الکبری، جز:3، ص:110)

[3](السیر اعلام النبلاء، جز:11، ص:226)

[4](ایضاً)

[5](طبقات الفقہاءم جز:1، ص:106)

[6](طبقات الشافعیہ الکبریٰ، جز:3، ص:118)

[7](السیر اعلام النبلاء، جز:11، ص:230)

[8](الجرح و التعدیل، جز:7، ص:196)

[9](طبقات الحفاظ للسیوطی، جز:1، ص:313)

[10](السیر اعلام النبلاء، جز:11، ص:229)

[11](الثقات لابن حبان، جز:9، ص:156)

[12](طبقات الحفاظ للسیوطی، جز:1، ص:314)

[13](السیر اعلام النبلاء، جز:11، ص:229)

[14](طبقات الشاہین، جز:1، ص:222)

[15]( طبقات الفقہاءاز ابو اسحاق  ابراھیم بن  علی الشیرازی، ص :106)

[16](طبقات الشافعیہ الکبری، جز:3، ص:110)

[17](طبقات الشافعیہ الکبریٰ، جز:3، ص:111)

[18](السیر اعلام النبلاء، جز:11، ص:228)

[19](طبقات الشافعیہ الکبریٰ، جز:3، ص:111)

[20](الثقات لابن حبان، جز:9، ص:156)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر