ابیات باھوؒ

ابیات باھوؒ

روزے نَفل نَمازاں تَقویٰ سبھو کم حَیرانی ھو
اِنہیں گلیں ربّ حاصل ناہیں خود خوانی خود دانی ھو
ہمیش قدیم جلیندا ملیو، سو یار، یار نہ جانی ھو
وِرد وظیفے تھیں چھُٹ رہسی باھوؒ جَد ہو رہسی فَانی ھو

Fasting, supererogatory prayer and abstinence are factors of confusion Hoo

Rabb not accessed with these factors because they are of pride and ostentation Hoo

He remains your friend from primordial and he is your beloved soul-mate Hoo

You will be relieved from wird wazaif Bahoo when you annihilate Hoo

Rozay, nafal, namaza’N sabho kam Hairaani Hoo

Inhee’N galai’N Rabb hasil nahi’N Khud Khwani Khud dani Hoo

Hamesh qadeem jalainda milio, so yaar, yaar na jaani Hoo

Wird wazifay thi’N Chhutt rahsi Bahoo jadd ho rahsi faani Hoo

تشریح : 

: نماز،روزہ اور دیگر ارکانِ اسلام کی باطنی کیفیات انسان کو میسر نہ ہوں توا ن چیزوں سے اجر و ثواب تو یقیناً ملتا ہے مگر  اللہ پاک کا قرب و وصال نصیب نہیں ہوتا، جیسا کہ حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں :

’’محض ظاہری اعمال اختیار کرنے سے آدمی کے دل سے نہ تو نفاق جاتا ہے اور نہ  ہی دل کی سیاہی اور زنگار ختم ہوتا ہے جب تک کہ دل تصورِ اسم اللہ ذات اور عشق و محبت و معرفت ِ اِلٰہی کی آگ میں نہ جلے اور ذکر ِخاص اختیار کر کے اخلاص قبول نہ کرے‘‘-[1]

صوفیاء کرام نے کبھی ظاہر ی ارکان ِ اسلام کی نفی نہیں فرمائی بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے باطنی تقاضے پورے کیے جائیں آپؒ نے خود بھی نمازکی اہمیت پہ زوردیتے ہوئے فرمایا :

’’مَیں ہر حال میں اِس قدر خبردار اور ہوشیار رہتا ہوں کہ کبھی کوئی فرضِ خدا مجھ سے نہیں چھوٹا اور نہ کبھی نمازِ باجماعت کی سنت مجھ سے قضا ہوئی کیونکہ خدا اور رسول اللہ (ﷺ) کی رضا مندی پنجگانہ نماز میں پائی جاتی ہے ‘‘-[2]

باھُوا! نمازِ دائمی با وقت پندار

 

کسی وقتی نخواند بس گنہگار[3]

 ’’اے باھُو ! وقت پر نماز کی پابندی کر کہ جو آدمی وقت پر نماز نہیں پڑھتا وہ گنہگار ہے‘‘-

2: اَلغرض! ظاہری اعمال و وِرد وظائف سے طالب اللہ باطن میں ہرگز مجلس ِمحمدی (ﷺ)کی حضوری نہیں پاسکتا چاہے عمر بھر ریاضت کے پتھر سے سر ٹکراتا رہے کیونکہ راہ ِباطن صرف صاحب ِ باطن مرشد کی مدد سے ہی کھلتی ہے جس پر گامزن ہو کر طالب اللہ لمحہ بھر میں مجلس ِ محمدی (ﷺ)کی حضوری سے مشرف ہو کر واصل باللہ ہو جاتا ہے -[4]آپ (﷫) مزید فرماتے ہیں :

’’جب تُو دیکھے کہ کوئی آدمی ظاہری عبادت میں بے حد محنت کرتا ہے لیکن باطن میں معرفت ِ الٰہی سے بے خبر ہے تو جان لے کہ وہ کشف و کرامات کے بادیۂ ضلالت میں غرق ہو کر لوگوں کی مرادیں پوری کر رہا ہے- وہ خواص کے مراتب سے محروم و بے خبر ہے‘‘-[5]

اللہ پاک کے قرب و وصال کے لیے ظاہری عبادت کے ساتھ باطنی بیداری ضروری ہے جیساکہ آپؒ فرماتے ہیں:

’’ظاہری جسم کے اندرایک باطنی جسم پنہاں ہے جو نور ِذات سے روشن ہے، جو کوئی اُس روشن جسم کی نمو کر لیتا ہے وہ صاحب ِنظر بن کر ہر وقت دیدار ِذات کی لذت میں غرق رہتا ہے‘‘-[6]

3: ’’ آ! میں تجھے دکھا دوں کہ اللہ تعالیٰ شہ رگ سے زیادہ قریب ہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی فرمایا ہے کہ میں بندے کی شہ رگ سے زیادہ قریب ہوں‘‘-[7]

ہر کہ ایں جائی لقائِ حق ندید

 

ہمچو حیواں بر زمیں کاہ می چرید[8]

’’جسے یہاں لقائے حق نصیب نہ ہوسکا وہ گویا حیوان ہے جو روئے زمین پر گھاس ہی چرتا رہا  ‘‘-

خدا   با   تو   ترا   بین چشم  باید

 

بہ  چشمِ   معرفت  حق  رو  نماید[9]

’’خدا تو ہر وقت تیرے ساتھ ہے لیکن تجھے چشمِ بینا کی ضرورت ہے کہ صرف چشمِ بینا ہی معرفت ِحق کے قابل ہوتی ہے‘‘-

اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس ہمہ وقت  انسان  کے ساتھ ہے لیکن ہم اس کی لقااور قرب و وصال سے محروم ہیں وجہ صرف یہ ہے کہ ہماری روحانی بیداری و قلبی طہارت اس نہج پہ  نہیں جیسا کہ آپ (﷫)فرماتے ہیں :

’’تیرا محبوب ہر وقت تیرے ساتھ ہے، اگر تُو اُسے دیکھنا چاہتا ہے تو اُسے اپنے آئینۂ دل میں تلاش کر لیکن یاد رکھ کہ جو آئینہ زنگار و کدورت سے آلودہ ہو کر سیاہ ہو جاتا ہے اُس میں انوارِ یار کے جلوے نمودار نہیں ہوا کرتے- پس تجھے چاہیے کہ اپنے آئینۂ دل کو صاف کر کے کدورت سے پاک رکھ کہ پاک دل میں خطرات ِ بد پیدا نہیں ہوتے ‘‘-[10]

4:’’انوارِ دیدار و لقائے حضور سے مشرف ہوئے بغیر محض ذکر فکر و مراقبۂ وِرد وظائف سے باطن ہر گز صاف نہیں ہوتا اور نہ ہی دیدار و لقاء  سے مشرف ہوئے بغیر مجلس ِمحمدی (ﷺ)کی حضوری کا شرف حاصل ہو تا ہے‘‘-[11]

در اصل اس مقام پہ قضا کچھ نہیں ہوتابلکہ دن رات قیام وسجود میں گزرتاہے فرق صرف یہ ہے کہ عام آدمی ان عبادات ِ الہٰیہ کو مقصود سمجھ کے ادا کرتا ہے اور اس کی نظر اس کے ثواب و جزا پہ ہوتی ہے اورطالب ِ صاوق کی نگاہ صرف اپنے مالک کی رضا پہ ہوتی ہے جیساکہ آپ (﷫)فرماتے ہیں :

وِرد را بہ گزار وحدت را طلب

 

و ز وحدت عارف شوی با قربِ ربّ[12]

’’وِرد وظائف کو چھوڑ اور استغراقِ وحدت طلب کر کہ اُس سے تُو قرب ِحق کا عارف بن جائے گا‘‘-

اس سے عام آدمی بھی سمجھ سکتاہے کہ جس کو استغراقِ حق تعالیٰ  نصیب ہو،توکیااس کے  وردووظائف رک گئے    یااس کالمحہ لمحہ معبودِ حقیقی کی یادمیں بسر ہوا؟


[1]( کلیدالتوحید(کلاں))

[2]( امیرالکونین)

[3](عین الفقر)

[4]( کلیدالتوحید(کلاں))

[5]( عقلِ بیدار)

[6](ایضاً)

[7](نور الھدیٰ)

[8](ایضاً)

[9](عین الفقر)

[10](ایضاً)

[11](امیرالکونین)

[12](ایضاً)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر