صوفیائے کرام کی نقل کردہ احادیث ،کی سَنَد اور حیثیت

صوفیائے کرام کی نقل کردہ احادیث ،کی سَنَد اور حیثیت

صوفیائے کرام کی نقل کردہ احادیث ،کی سَنَد اور حیثیت

مصنف: مفتی محمد شیرالقادری مئی 2015

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ  وَالصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَامُ  عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَاَزْوَاجِہٖ وَذُرِّیَّتِہٖ وَاَھْلِ بَیْتِہٖ  وَ اَوْلِیَائِ اُمّتِہٖ وَ عُلَمَائِ مِلَّتِہٖ اَجْمَعِیْنَ o اَمَّابَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِo بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ o

ہر آدمی کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ جس فیلڈسے متعلق بات کرنا چاہتا ہے تو اُسے اس فیلڈ کے بنیادی اُصول وضوابط اور قواعد کو سمجھنا از حد ضروری ہے کیونکہ ہرعلم کے کچھ بنیادی اُصول ہوتے ہیں جیسا کہ حضرت امام عبدالوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ ’’ الیواقیت والجواہر ‘‘ میں امام ابن عربی کے حوالے سے لکھتے ہیں :

{ما من طائفۃ تحمل علما من المنطقیین والنحاۃ و أھل الھندسۃ والحساب المتکلمین والفلاسفۃ الا ولھم اصطلاح لا یعلمہ الدخیل فیھم الا بتوقیف منھم}(الیواقیت والجواہر  فی بیان عقائد الا کابر،جلد ۱ ص۲۰، دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

’’جو گروہ بھی منطقیوں اور نحویوں چاور اہل ہندسہ و حساب ، علم الکلام والوں اور فلسفیوں میں سے کسی علم کا حامل ہے اس کی اپنی اصطلاح ہے جس کو اُس میں داخل ہونے والا نہیں جانتا مگر جب وہ خود اُسے واقفیت بخشیں-‘‘

 اورالشیخ عبدالقادر عیسیٰ رحمتہ اللہ علیہ ’’حقائق عن التصوف‘‘ میں لکھتے ہیں :  

{فان لکل فن من الفنون اوعلم من العلوم کالفقہ والحدیث والمنطق والنحوو الھندسۃ والجبروالفلسفۃ اصطلاحات خاصۃ بہ لا یعلمھا الا ارباب ذلک العلم }(حقا ئق عن التصوف ص۲۵۸،از دیوان پریس برطانیہ)

تمام علوم وفنون مثلاً فقہ ،حدیث ،منطق ،نحو ،طب ،جومیڑی ،ریاضی اور فلسفہ وغیرہ کی اپنی مخصوص اصطلاحات ہیں جو ان علوم کے ماہرین جانتے ہیں

الشیخ القاضی العلامۃ محمد اعلیٰ بن علی الفاروقی (المتوفی ۱۱۹۱ھ) ’’کشاف اصطلا حات الفنون‘‘ میں لکھتے ہیں:

{الشطح ‘‘ من مصطلحات الصوفیۃ} کشاف اصطلاحات الفنون جلد ۴ ص۹۴ سہیل اکیڈمی لاھور)

شطح صوفیائے کرام کی اصطلاحات میں سے ایک اصطلاح ہے -

توہم واضح یہ کرنا چاہتے ہیں کہ ہر علم کی الگ الگ اصطلاحات ہوتی ہیں - ہمارے ہاں جوعلماء اور مشائخ کے درمیان نزاع کی نوبت آجاتی ہے تواس کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ علماء صوفیاء کی اصطلاحات سے واقف نہیں ہوتے اور مشائخ علماء و محدثین کی اصطلاحات سے اَن جان ہوتے ہیں - ہم متقدمین مشائخ و علما ء کی بات نہیں کررہے کیونکہ تقریباً اڑھائی ،دو اڑھائی سوسال قبل تک علم ظاہر اور علم باطن کا مرکز ایک ہی ہوتاتھا جوبھی مدرسہ میں فارغ التحصیل ہوتا وہ بیک وقت صوفی بھی ہوتا اور بیک وقت عالم بھی ہوتا اگر صاحبِ رُتبہ صُوفی نہ بھی ہوتا تو فکری و نظری طور پہ تصوف و اہلِ تصوف سے ضرور واقف و مانُوس ہوتا تھا اور بقدرِ ظرفِ طلب اُن سے فیض یاب بھی ہوتا تھا - زوالِ اُمّت اور مغربی غُلامی کے وقت کے آغاز سے یعنی تقریباً دو اڑھائی سوسال سے علماء و صوفیاء کو الگ الگ کردیا گیا ہے نہ وہ ان سے واقف رہے نہ یہ اُن سے واقف رہے-

بوجہ درج بالا کئی ایک مسائل و مُعاملات ایسے پیدا ہو جاتے ہیں جن پہ تحقیقِ مزید کی بجائے بات خواہ مخواہ کی بحث و تنقیص پہ جا پہنچتی ہے جس سے کہ اکابرین و سلف صالحین کے طریقہ و ترتیب سے آدمی کہیں دُور جا نکلتا ہے - مثلاً ایک مُعاملہ جو سوال کی شکل میں اکثر پیش آتا ہے کہ

’’صوفیائے کرام جواحادیثِ مبارکہ اپنی کتابوں میں ’’ قال رسول اللہ ﷺ ‘‘ لکھ کر بیان کرتے ہیں لیکن اِن میں سے اکثراحادیث صحاحِ ستہ کی کتابوں میں نہیں ملتیں تو کیا اُن احادیث کا انکار اس بناء پر کیا جا سکتا ہے کہ چونکہ یہ صحاحِ ستہ میں موجود نہیں ہیں لہٰذا یہ احادیث ہی نہیں ہیں ؟ کچھ لوگ  صوفیاء کی کتابوں میںاُن کی نقل کردہ احادیث کو نہیں مانتے بلکہ صرف اُسی کو حدیث مانتے ہیں جو صحاح ستّہ میں ہو‘‘-

اس مسئلے کو بیان کرنے سے پہلے ایک بنیادی مقدمہ کا سمجھنا نہایت ہی ضروری ہے -حضور شہنشاہِ بغداد حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی الحسنی الحسینی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

{فالانسان علی نوعین : جسمانیّ و روحانیّ } (سرالاسرار و مظھر الانوار فی ما یحتاج الیہ الابرار، ص:۱۳، دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

ترجمہ:-’’ پس انسان کی دو حالتیں ہیں جسمانی اور رُوحانی-‘‘

 سندِ اصفیا و اتقیا و علما ء حضرت امام عبد الوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

{الانسان مرکب من جسم وروح} (لواقع الانوار القدسیۃ فی بیان العھود المحمدیہ ، ص:۱۳۴، دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

ترجمہ:-’’ انسان مرکب ہے جسم اور رُوح سے-‘‘

اور امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

{واعلم ان الانسان مرکب من جسد و من روح } (تفسیر کبیر جلد ۱، ص:۱۵۲، دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

ترجمہ:-’’ اور جان لے کہ انسان مرکب ہے جسم اور رُوح سے-‘‘

اِن جلیل القدر شیوخِ اُمّت کی درج بالا عبارات سے مترشح ہوا کہ اللہ رب العزت نے انسان کو بشریت اور رُوحانیت کا مرکب بنایا ہے اور انسان کی ظاہری اورباطنی تطہیر کیلئے دو علوم (علم ظاہر یعنی علم شریعت اور علم باطن یعنی علم رُوحانیت) عطا فرمائے جن کو قرآن مجید اور احادیثِ رسول اللہ ﷺ میں مختلف مقامات پر بیان کیا گیا ہے-جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

{فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَـآ اٰتَیْنٰـہُ رَحْمَۃً مِّنْ عَبْدِنَا وَعَلَّمْنٰـہُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا o}

ترجمہ :- تو دونوں نے (وہاں) ہمارے بندوں میں سے ایک (خاص) بندے (خضر ں) کو پا لیا جسے ہم نے اپنی بارگاہ سے (خصوصی) رحمت عطا کی تھی اور ہم نے اسے علمِ لدنی (یعنی اَسرار و معارف کا اِلہامی علم) سکھایا تھا-(الکھف:۶۵)

امام ابی محمد الحسین بن مسعود البغوی الشافعی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: ۵۱۶ ھ) اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

{أی علم الباطن الھاما} (تفسیر بغوی المسمی معالم التنزیل، جلد ۳ ص ۱۴۴ دارالکتب العلمیہ بیروت)

ترجمہ:-یعنی علمِ باطن الہامی ہے -

امام ابی عبداللہ محمد بن احمد بن ابی بکر القرطبی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: ۶۷۱ ھ)  { وعلمنہ من لدنا علما} کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

 {أی علم الغیب ابن عطیہ: کان علم الخضر معرفتہ بواطن قد أوحیت الیہ } (تفسیر قرطبی جلد ۱۳ ص ۳۲۵ مکتبۃ الرسالۃ العالمیہ)

ترجمہ:- یعنی علمِ غیب ہے (اور)ابن عطیہ کا قول ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام کا علمِ باطنی حقائق کا جاننا تھا جو انکی طرف وحی کیا گیا -‘‘

امام نورالدین علی بن سلطان الھروی المکی الحنفی المعروف بہ الملا علی القاری (المتوفی: ۱۰۱۴ ھ) {وعلمنہ من لدنا علما} کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

{ العلم اللدنی ما یحصل من طریق الھام دون التکلیف بالطلب} (تفسیر الملا علی القاری المسمی انوارالقرآن واسرار الفرقان جلد ۳ ص ۲۱۲ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

ترجمہ:-علم لدنی وہ ہے جوطلب کی مشقت کے علاوہ الہام کے طریقہ سے حاصل ہو -

صاحبِ عرائس البیان الشیخ العارف باللہ ابی محمد صدرالدین روز بھان ابی نصر البقلی الشیرازی (المتوفی:۶۰۶ ھ) {وعلمنہ من لدنا علما} کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

{من المعارف القدسیۃ والحقائق الکلیۃ اللدنیۃ بلا واسطۃ تعلیم بشری}( تفسیر عرائس البیان فی حقائق القرآن جلد ۲ ص ۴۳۲ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

ترجمہ:-(علمِ لدنی)معارفِ قدسیہ اور حقائق کلیہ لدنیہ میں سے ہے جو تعلیمِ بشری کے واسطے کے بغیر حاصل ہوتا ہے -

الشیخ اسماعیل حقی بن مصطفی الحنفی (المتوفی: ۱۱۲۷ھ) {وعلمنہ من لدنا علما} کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

{خاصا ھو علم غیوب والاخبار عنھا باذنہ تعالیٰ علی ماذھب الیہ ابن عباس رضی اللّٰہ عنھما اوعلم الباطن }

ترجمہ:-(علم لدنی )حقیقتاً علم غیب کی خبریں ہیں اللہ تعالیٰ کے اِذن سے -اس کی طرف حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما گئے ہیں یا علمِ لدنی سے مراد علمِ باطن ہے-

علامہ اسماعیل حقی آگے لکھتے ہیں:

{وعلمنہ من لدنا علما‘‘ وھو علم معرفۃ ذاتہ و صفاتہ الذی لا یعلمہ احد الا بتعلیمہ ایاہ} (تفسیر روح البیان جلد ۵ ص ۲۷۲ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان )

ترجمہ:-(وعلمنہ من لدنا علما)علم لدنی اس کی ذات و صفات کی معرفت کا نام ہے اسے کوئی ایک بھی نہیں جانتا مگر جسے وہ بطورِ خاص سکھائے-

 امام ابی العباس احمد بن المھدی ابن عجیبہ الحسنی (المتوفی: ۱۲۲۴ھ) {وعلمنہ من لدنا علما} کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

{العلم اللدنی : ھوالذی یفیض علی القلب من غیر اکتساب ولا تعلم} (تفسیر بحرالمدید فی تفسیر القرآن المجید جلد ۴ ص ۱۷۹ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

ترجمہ:-علم لدنی وہ علم ہے جو بغیر کسب اور بغیر سیکھے قلب(دل)پر وارد ہو-

قرآن مجید میں ایک اور مقام پر علمِ باطن سے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے-

{کَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُوْلًا مِّنْکُمْ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰـتِنَا وَیُزَکِّیْکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ}( سورۃ البقرہ :۱۵۱)

ترجمہ:-اسی طرح ہم نے تمہارے اندر تمہیں میں سے (اپنا) رسول بھیجا جو تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں (نفسًا و قلبًا) پاک صاف کرتا ہے اور تمہیں کتاب کی تعلیم دیتا ہے اور حکمت و دانائی سکھاتا ہے اور تمہیں وہ (اسرارِ معرفت وحقیقت) سکھاتا ہے جو تم نہ جانتے تھے-

امام المحققین ، قدوۃ المدققین القاضی ناصرالدین ابی سعید عبداللہ ابن عمر بن محمد الشیرازی البیضاوی (المتوفی:۷۹۱ھ) { وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَo} کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

 {بالفکر والنظر، اذ لا طریق الی معرفتہ سوی الوحی ، وکرر الفعل لیدل علی اِنّہٗ جنس آخر} (تفسیر بیضاوی المسمی انوارالتنزیل و اسرار التاویل جلد ۱ ص ۹۵ دارالکتب العلمیہ بیروت)

ترجمہ:-نظر و فکر کے ساتھ ،جبکہ ا س کی معرفت کی طرف وحی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے اور یہاں فعل (یعلمکم)کا تکرار اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ(علم) دوسری جنس سے ہے-

خاتمۃ المحققین و عمدۃ المدققین مفتیٔ بغداد علامہ ابی الفضل شھاب الدین السید محمود آلوسی البغدادی (المتوفی: ۱۲۷۰ھ) نے بھی اس آیت کی یہی تفسیر بیان فرمائی ہے-(تفسیر روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی جلد ۱ ص ۲۸ المکتبۃ الحقانیہ ملتان)

الشیخ علی بن سلطان محمد القاری (المتوفی: ۱۰۱۴ ھ) اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

{وکررالفعل لیدل علی انہ جنس آخر} (تفسیر انوارالقرآن و اسرار الفرقان جلد ۱ ص ۱۳۶دارالکتب العلمیہ بیروت)

(یعلمکم)فعل کا تکرار اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہ تعلیم دوسری قسم کی  ہے-

 الشیخ القاضی ثناء اللہ العثمانی الحنفی المظہری رحمۃ اللہ علیہ اس آیت مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے  لکھتے ہیں:

{ویعلمکم ما لم تکونوا تعلمون} تکرار الفعل یدل علی ان ھذا التعلیم من جنس آخر ولعل المراد بہ العلم اللدنی} (التفسیر المظہری جلد ۱ ص ، ۱۵۱-۱۵۲، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ پاکستان)

{ یعلمکم} فعل کا تکرار اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہ تعلیم دوسری قسم کی ہے اور شاید اس سے مراد علم لدنی ہے -

 قرآن مجید کی آیات مبارکہ اوران کی تفاسیرسے خوب واضح ہوگیاہے کہ علم ظاہرکے ساتھ ایک دوسراعلم بھی ہے جو علم باطن کے نام سے موسوم کیاگیاہے اور حضورنبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کوان دونوں علوم کی باقاعدہ تعلیم فرمائی-حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ’’ صحیح بخاری‘‘ میں حضرت ابوہریرہ کی روایت نقل کرتے ہیں :

{قال حفظت من رسول اللّٰہ ﷺ وعاء ین فأما أحدھما فبثثتہ وأما الاخر فلو بثثتہ قطع ھذا  البلعوم} (صحیح البخاری ،کتاب العلم ،باب حفظ العلم ،ص:۱۰۵، دارالمعرفت بیروت ، لبنان)

ترجمہ:-حضرت ابو ھریرہ ؓ فرماتے ہیں: مَیں نے حضور نبی پاک ﷺسے دو اقسام کے علم سیکھے ہیں کہ ایک کو تو میں نے بیان کردیا اور دوسرے کو اگر میں بیان کرتا تو میرا یہ حلقوم کاٹ دیا جاتا-

الحافظ الامام بدرالدین أبی محمدبن احمدالعینی : (المتوفی:۸۵۵ھ) اسی حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

{قالت المتصوفۃ: المرادبالاوّل: علم الأحکام : والأخلاق وبالثانی: علم الأسرار،المصئون عن الأغیار،المختص بالعلماء باللّٰہ من أہل العرفان. وقال آخرون منھم : العلم المکنون والسرالمصئون علمنا ،وھونتیجۃ الخدمۃ و ثمرۃ الحکمۃ ،لایظفربھا إلاالغواصون فی بحار المجا ہدات، ولایسعدبھاإلاالمصطفون بأنوارالمجاہدات والمشاہدات}(عمدۃ القار ی شرح صحیح البخاری: جلد ۲ صفحہ نمبر۲۷۶، دار احیاء التراث العربی بیروت، لبنان)

ترجمہ:صوفیاء فرماتے ہیں پہلے ظرف سے مراد احکام اوراخلاق کاعلم ہے اوردوسرے ظرف سے مراد اسرارورموز کاعلم ہے جواغیارسے محفوظ ہے اوراہل عرفان میں سے علماء باللہ کے ساتھ خاص ہے-اوران میں سے دوسروں نے کہا:اس سے مراد مخفی علم ہے اوروہ راز ہے جومحفوظ ہے اوریہ ( علم مقربین)کی خدمت کانتیجہ اورحکمت کاثمرہ ہوتا ہے -یہ ان ہی کوحاصل ہوتا ہے جومجاہدات کے سمندروں میں غواصی کرتے ہیںاوریہ ان ہی پرمنکشف ہوتاہے جن کے دل مجاہدات اورمشاہدات کے انوارسے روشن ہوتے ہیں-

امام شرف الدین حسین بن محمد بن عبداللہ الطیبی (المتوفیٰ: ۷۴۳ھ) اسی حدیث کے تحت لکھتے ہیں:

{ولعل المراد بالأول علم الأحکام والأخلاق و بالثانی: علم الأسرار المصون عن الاغیار ، المختص بالعلماء باللّٰہ من اھل العرفان} (شرح الطیبی علی مشکاۃ المصابیح المسمی الکاشف عن حقائق السنن جلد ۱ ص ۴۵۷ مکتبہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان)

ترجمہ:-اور شاید پہلے علم سے مراد احکام اور اخلاق کا علم ہے اور دوسرا اَسرارو رموز کا علم ہے جو اغیار سے محفوظ ہے اور اہلِ عرفان میں سے علماء باللہ کے ساتھ خاص ہے -

شیخ المحققین حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی (المتوفی ۱۰۵۲ھ) اسی حدیث کے تحت لکھتے ہیں :

’’ و گفتہ اند کہ مراد باول علم احکام و اخلاق ست کہ مشترک است میان خواص و عوام و بثانی علم اسرار کہ محفوظ و مصؤلست از اغیار از جہت باریکی و پوشیدگی آن و عدم وصول فہم ایشان بان و مخصوص است بخواص از علماء باللہ از اہل عرفان-‘‘ (اشعۃ للمعات شرح مشکوٰۃ جلد ۱ ص۱۹۰ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ پاکستان)

ترجمہ:- اور علماء کرام فرماتے ہیں کہ اول علم سے مراد احکام و اخلاق کا علم ہے اور (یہ علم) خواص و عوام میں مشترک ہے-اور دوسرے علم سے مراد اسرار کا علم ہے جو اغیار سے محفوظ و مصئون ہے کیونکہ وہ اپنی باریکی ، پوشیدگی اور فہم عوام کے اس تک رسائی نہ ہونے کے باعث اہلِ عرفان علماء باللہ کے ساتھ خواص ہے-

العلامۃ الشیخ علی بن سلطان محمد القاری (المتوفی۱۰۱۴ ھ) اس حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

{(فأما أحدھما) وھو علم الظاہر من الأ حکام والأ خلاق (وأما الاخر) وھو علم الباطن}(مرقاۃ شرح مشکوٰۃ جلد ۱ ص ۴۷۹ ،مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ پاکستان)

ترجمہ:- پس دونوں علوم میں سے پہلا علم احکام اور اخلاق سے متعلق ہے اور وہ علم ظاہر ہے اور دوسرا وہ علمِ باطن ہے-

حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ’’مرأ ۃ شرح مشکوٰۃ‘‘ میں اسی حدیث کے تحت لکھتے ہیں :

(حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں) مجھے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے دو قسم کے علم ملے ایک علمِ شریعت جو میں نے تمہیں بتا دیااور دوسرا علم اسرار و طریقت و حقیقت کہ اگر وہ ظاہر کروں تو عوام نہ سمجھیں اور مجھے بے دین سمجھ کر قتل کردیں- (مرأۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ۱ ص ۱۸۲ مکتبہ اسلامیہ لاہور)

ان دونوں علوم کی مزیدتائید حضورنبی کریم ﷺکے اس ارشاد گرامی سے ہوتی ہے -حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہ سے مرسلا روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :

{العلم علمان، ،فعلم فی القلب فذاک العلم النافع، وعلم علی اللسان فذاک حجۃ اللّٰہ عزوجل علی ابن آدم -رواہ الدارمی}( مشکوٰۃ المصابیح کتاب العلم ، ص:۳۷ قدیمی کتب خانہ کراچی پاکستان)

ترجمہ:-علم دو قسم کا ہے پس ایک قلب کا علم ہے پس یہی علم نافع ہے اور دوسرا زبان کا علم ہے پس یہ بنی آدم پر اللہ تعالیٰ کی حجت ہے-

الشیخ علی بن سلطان محمد القاری (المتوفیٰ: ۱۰۱۴ھ) اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں-

{ قد یحمل الاوّل علی علم الباطن ، والثانی علی علم الظاہر}(ملا علی القاری مرقاۃ شرح مشکوٰۃ کتاب العلم ، حدیث نمبر ۲۷۰ جلد ۱ ص ۴۷۸ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ پاکستان)

ترجمہ:-تحقیق محمول کیا ہے پہلے کو علم باطن اور دوسرے کو علم ظاہر پر-

امام شرف الدین حسین بن محمد بن عبداللہ الطیبی (المتوفیٰ: ۷۴۳ھ) اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں:

{و یمکن ان یحمل الحدیث علی علمی الظاہر والباطن}(شرح الطیبی علی مشکاۃ المصابیح المسمی الکاشف عن حقائق السنن جلد ۱ ص ۴۵۶ مکتبہ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

ترجمہ:-اور ممکن ہے کہ اس حدیث کو علمِ ظاہر اور علمِ باطن پر محمول کیا جائے-

حجۃ الاسلام امام ابی حامد محمد بن محمد الغزالی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: ۵۰۵ ھ) علمِ طریق آخرت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

{فاعلم انہ قسمان: علم مکاشفۃ وعلم معاملۃ ، فالقسم الاول علم المکاشفۃ وھو علم الباطن و ذٰلک غایۃ العلوم} (احیاء علوم الدین جلد ۱ ص ۳۵ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ پاکستان)

ترجمہ:-پس جان لے کہ علم آخرت کی دو قسمیں ہیں : علمِ مکاشفہ اور علمِ معاملہ پس پہلی قسم علمِ مکاشفہ ہے اور وہ علمِ باطن ہے اور وہ تمام علوم کی انتہا اور علتِ غائی ہے -

ان دونوں علوم کی تائید میںحضرت عبداللہ ابن مسعودؓ کی روایت نہایت ہی قابلِ ذکرہے :

{قال رسول اللّٰہ ﷺ انزل القرآن علی سبعۃ احرف لکل آیۃ منھاظاہر و بطن ولکل حد مطلع رواہ فی شرح السنۃ}(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب العلم،ص:۳۵، قدیمی کتب خانہ کراچی ، پاکستان)

ترجمہ:- حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : کہ قرآن سات حرفوں پر اتارا گیا ہے اُن میں سے ہر آیت کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن بھی -اور ہر ظاہر و باطن کی ایک حد ہے جہاں سے اطلاع ہے-

امام جلال الدین سیوطی  ’’ الإ تقان فی علوم القرآن‘‘میں اس روایت کوان الفاظ میں نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

{ واخرج ابو نعیم فی الحلیۃ عن ابن مسعود قال إن القرآن انزل علی سبعۃ أحرف، ما منھا حرف إلا ولہ ظھر وبطن ، و إن علی بن أبی طالب عندہ من الظاہر والباطن}(الإ تقان فی علوم القرآن ، النوع الثمانون فی طبقات المفسرین ، تفسیر الصحابۃ ) (حِلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء ، جلد ۱، ص ۶۵ دارالکتاب العربی بیروت)

ترجمہ:-امام ابو نعیم اصفہانی’’ حلیۃ‘‘ میں حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے روایت کرتے ہیں:کہ بے شک قرآن پاک سات حروف پر نازل ہوا ہے کہ اس کے ہر حرف کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی ہے اور حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس اس کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی-

ان تمام دلائل سے یہ واضح ہوا کہ علم ظاہر کی طرح علم باطن بھی ہمارے دین کا درجہ ہے اور اس کی تعلیم دینا فرائضِ نبوت میں سے ہے اور زمانۂ مصطفیٰ ﷺمیں اس کی باقاعدہ تعلیم و تربیت دی جاتی تھی-

اب حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ ان دونوں علوم کے باہمی ربط و تعلق کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

{من تفقہ ولم یتصوف فقد تفسق، ومن تصوف ولم یتفقہ فقد تزندق، ومن جمع بینھما فقد تحقق} (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ جلد ۱ ص ۴۷۸ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ پاکستان)

ترجمہ:جس نے علمِ فقہ حاصل کیا اور تصوف سے بے بہرہ رہا پس وہ فاسق ہوا اور جس نے تصوف کو اپنایا مگر فقہ کو نظر انداز کر دیا وہ زندیق ہوا اور جس نے دونوں کو جمع کیا پس اُس نے حق کو پالیا-

حضرت امام ابو طالب المکی ؓان دونوں علوم کے ربط وتعلق کویوں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

{ہما علمان أصلیان لا یستغنی أحدھما عن الاخر بمنزلۃ الإسلام والإیمان مرتبط کل منھما بالاخر کالجسم والقلب لا ینفک أحد عن صاحبہ} (رواہ دارمی) (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ جلد ۱ ص ۴۷۸ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ پاکستان) (شرح الطیبی علی مشکوٰۃ المصابیح المسمی الکاشف عن حقائق السنن جلد ۱ ص ۴۵۶ دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان)

ترجمہ:یہ دونوں علوم اصل ہیں کوئی ایک بھی دوسرے سے مستغنی نہیں ہوسکتا یہ بمنزلِ ایمان اور اسلام کے ہیں ان کا ایک دوسرے سے تعلق جسم اور دل کی طرح ہے کوئی ایک بھی دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتا -

اور اسی طرح امام الفقہاء والمجتھدین سید محمد امین ابن عابدین شامی رحمۃاللہ علیہ( المتوفیّٰ:۱۲۵۲ھ) نے ان دونوں علوم کے باہمی ربط کویوں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

{وھی الطریقۃ والشریعۃ متلازمۃ }(ردالمختارار علی الدرالمختار جلد۶ صفہ۳۸۰ مکتبہ امدادیہ ملتان)

ترجمہ:- اور یہ طریقت اور شریعت لازم وملزوم ہے-

امام ابوالقاسم القشیری رحمۃ اللہ علیہ شریعت و طریقت کے باہمی ربط کو یوں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

{وکل شریعۃ غیر مؤیدۃ بالحقیقۃ فغیر مقبول وکل حقیقۃ غیر مقیدۃ بالشریعۃ فغیر مقبول} (الرسالۃ القشیریہ:۱۱۸ ،داراکتب العلمیہ بیروت، لبنان)

ترجمہ:-پس جس شریعت کو حقیقت کی تائید حاصل نہ ہو وہ غیر مقبول ہے اور جو حقیقت شریعت سے مقید نہ ہو وہ بھی غیر مقبول ہے-

الشیخ القاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ علم باطن کہاں سے حاصل ہوگا؟اور اس کاماخذ مصدرکیاہے ؟

{العلم اللدنی المأخوذ من بطون القرآن ومن مشکاۃ صدر النبی الذی لا سبیل إلی درکہ إلا الانعکاس وأما درک درکہ فبعید عن القیاس}(التفسیر المظہری:جلد ۱ ص ۱۵۲، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ ، پاکستان)

ترجمہ:- علم اللدنی کے حصول کا ذریعہ قرآن کا باطن ہے اور حضور نبی کریم ﷺ کا سینہ اطہر ہے اس علم اللدنی کے حصول کا فقط واحد ذریعہ انعکاس ہے اس کے ادراک کا پتہ چلانا بعید از قیاس ہے-

بطون قرآن اورسینۂ مصطفی ﷺ تک رسائی فقط طہارت باطنی سے ہی ممکن ہے اورقرآنی اصطلاح میں طہارتِ باطنی کوتزکیۂ نفس کانام دیاگیاہے اوریہی تزکیہ نفس انسان کی کامیابی کی ضمانت ہے - جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

{قد افلح من تزکی}(سورۃ الاعلیٰ:۱۴)

ترجمہ:-بے شک وہی بامراد ہوا جو (نفس کی آفتوں اور گناہ کی آلودگیوں سے) پاک ہوگیا-

نجیب الطرفین کریم الابوین السید الشریف الشیخ محی الدین ابی محمد عبدالقادر الجیلانی البغدادی الحسنی الحسینی قدس سرہٗ المتوفی۵۶۱ ھ ،اسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ’’ تفسیر الجیلانی‘‘ میں لکھتے ہیں:

{و تطھر عن أدناس الطبائع وأکدار الھیولی من المیل إلی الدنیا وما فیھا من اللذات الفانیۃ والشھوات الغیر الباقیۃ ، و توجہ نحو المولی بالعزیمۃ الخالصۃ} (تفسیر الجیلانی جلد ۶ ص ۳۵۱ مکتبہ الجیلانی للبحوث العلمیہ استنبول ، ترکی)

’’اور پاک ہو طبیعتوں کے میل کچیل سے اور مادہ کی مقدار دُنیا کی طرف مائل ہونے سے اور جو اس میں لذاتِ فانیہ ہیں اُ ن سے ،اور نہ رہنے والی شہوات سے اور تُو متوجہ ہو اپنے مولیٰ کی طرف خالص رخصت کیساتھ(یعنی ہر چیز سے کٹ کر)-‘‘

اورعلامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ {قد افلح من تزکی و ذکر اسم ربہ فصلی} کے تحت لکھتے ہیں:

{و فی الآیۃ اشارۃ إلی تطھیر النفس عن المخالفات الشرعیۃ و تطھیر القلب عن المحبۃ الدنیویۃ بل عن ملاحظۃ الغیر والتوجہ إلی اللّٰہ تعالیٰ بقدر الاستعداد} (روح البیان فی تفسیر القرآن جلد ۱۰ ص ۴۱۷ مکتبہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان)

ترجمہ:- اس آیت میں نفس کی مخالفاتِ شرعیہ سے پاک کرنے اور قلب کو حبِ دنیا سے نہ صرف پاک کرنے بلکہ اسے ملاحظہ غیر سے پاک کرنے اور صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی طرف بقدر استعداد متوجہ کرنے کی طرف اشارہ ہے-

اور قرآن مجید میں ایک اورمقام پر تزکیہ نفس سے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

{قد افلح من زکھاo  و قد خاب من دسھا }(الشمس:۱۰،۹)

ترجمہ:-بے شک وہ شخص فلاح پا گیا جس نے اس (نفس) کو (رذائل سے) پاک کر لیا (اور اس میں نیکی کی نشو و نما کی)-اور بے شک وہ شخص نامراد ہوگیا جس نے اسے (گناہوں میں) ملوث کر لیا (اور نیکی کو دبا دیا)-

 حضرت امام حسن بصری ؓ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

{معناہ قد أفلح من زکی نفسہ فأصلحھا و حملھا علی طاعۃ اللّٰہ عز وجل} (تفسیر بغوی المسمی معالم التنزیل جلد ۴ ص ۴۶۰ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان) (تفسیر مظہری جلد۷ ص ۴۶ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ پاکستان)

ترجمہ:-’’اس کا معنی یہ ہے بے شک وہ شخص کامیاب ہوگیا جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیااور اس کی اصلاح کرلی اور اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر آمادہ کر لیا -‘‘

تو تزکیہ نفس کرنے سے انسان کے دل میں نور پیدا ہوجاتا ہے جس کو صوفیا نہ اصطلاح میں علم باطن کہتے ہیں جیسا کہ حجۃ الاسلام امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

{علم المکاشفۃ فھو عبارۃ عن نور یظھر فی القلب عند تطھیرہ و تزکیہ من صفاتہ المذمومۃ} (احیاء علوم الدین : جلد ۱ ص ۳۶ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ )

ترجمہ:-علمِ مکاشفہ پس وہ نور سے عبارت ہے اور وہ ظاہر ہوتا ہے دل میں اُس کے صفات ِ مذمومہ سے طہارت اور پاکیزگی کے وقت -

اور اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے امام ابی العباس احمد بن محمد بن المھدی ابن عجیبہ الحسنی (المتوفی ۱۲۲۴ھ) لکھتے ہیں :

{وذلک بعد تطھیر القلب من النقائص والرذائل و تفرغہ من العلائق والشواغل، فاذا کمل تطھیر القلب ، وانجذب إلی حضرۃ الرب، فاضت علیہ العلوم اللدنیہ ، والاسرار الربانیۃ} (تفسیر بحرالمدید جلد ۴ ص ۱۷۹ مکتبہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان)

ترجمہ:-اور (اس نور کاپیدا ہوجانا ) قلب کا نقائص اور رذائل سے پاک ہونے اور دل کا علائق و شواغل سے فارغ ہونے کے بعدہے - پس جب دل کی طہارت مکمل ہوجاتی ہے اور اللہ رب العزت کی حضوری نصیب ہوتی ہے تو علوم لدنیہ اور اَسرارِ ربانیہ (دل)پر وارد ہونے لگتے ہیں-

شیخ محقق حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وبعضے میگویند کہ این بشارت است برائیاں جمال او را در خواب کہ آخر بعد از ارتفاع کدورات نفسانیہ و قطع علائق جسمانیہ بمرتبۂ برسند کہ بیحجاب کشفا عیانا در بیداری باین سعادت فائز باشند- (اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ جلد ۳ ص ۶۸۵ ، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ پاکستان)

ترجمہ:-بعض ارباب معرفت کہتے ہیں کہ یہ خواب میں جمال محمدی ﷺ کا دیدار کرنے والے خوش بختوں کیلئے بشارت ہے کہ جسمانی کدورتوں کے اٹھ جانے اور جسمانی تعلقات منقطع ہوجانے کے بعد اس مقام کو پہنچ جائیں گے کہ بحالت بیداری کشف اور مشاہدے میں اس سعادت کو حاصل کریں گے-

اور اسی سے متعلقہ حجۃ الاسلام امام محمد بن محمد الغزالی رحمۃاللہ علیہ’’المنقذمن الضلال‘‘میں لکھتے ہیں:

 {ووراء العقل طور آخر تنفتح فیہ عین أخرٰی یبصر بھاالغیب وماسیکون فی المستقبل وأموراً  أخرٰی العقل معزول عنھا} (مجموعہ رسائل الامام غزالی ’’المنقذمن الضلال ص۶۶‘‘ مکتبہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

ترجمہ:-اور ماوراء عقل ایک اور راستہ ہے جس میں دوسری (باطنی)آنکھ کھل جاتی ہے اس کے ذریعے غیب کا ادراک ہوتا ہے اورمستقبل میں ظہور پذیر ہونے والے واقعات اور دیگر ایسے امور جس سے عقل قاصر ہوتاہے ، بھی نظر آنے لگتے ہیں-

حجۃ الاسلام امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ (الرسالۃ اللدنیہ)میں لکھتے ہیں : کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

{مامن عبدالاولقلبہ عینان} وھماعینان یدرک بھماالغیب فاذا اراداللّٰہ تعالیٰ بعبد خیرا فتح عینی قلبہ لیری ما ھو غائب عن بصرہ}(مجموعہ رسائل الامام الغزالی ، الرسالۃ اللدنیہ صفحہ: ۶۲، دارالکتب العلمیۃ بیروت)

ترجمہ:-’’ہر بندے کے دل کی دو آنکھیں ہوتی ہیں-‘‘

جن سے وہ غائب کا ادراک کرتا ہے جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے بھلائی چاہتا ہے تو اس کے قلب کی دونوں آنکھوں کو کھول دیتا ہے تاکہ وہ ان چیزوں کو بھی دیکھ لے جو اس کی ظاہری آنکھوں سے پوشیدہ ہیں-‘‘

نورِ باطن کی وسعت کا اندازہ حجۃ الاسلام امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے اِس ارشاد سے لگا لیجئے آپ فرماتے ہیں:

{ومن أول الطریقۃ تبتدی ء المشاھدات والمکاشفات ، حتی إنھم فی یقظتھم یشاھدون الملائکۃ وأرواح الانبیاء ، ویسمعون منھم أصواتا ویقتبسون منھم فوائد} (مجموعہ رسائل الامام غزالی ، المنقذمن الضلال صفحہ:۶۳مکتبہ دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان) ( تفسیرروح المعانی ، الجز ۲۲:۵۷المکتبۃ الحقانیہ ملتان، پاکستان)

ترجمہ:- اور ابتدائے طریقت میں مکاشفات ومجاہدات شروع ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ عین حالت بیداری میں بھی وہ ملائکہ اور ارواح انبیاء علیھم السلام کا مشاھدہ کرتے ہیں اور ان کی باتیں سنتے ہیں اور ان سے اکتسابِ فیض کرتے ہیں-

اور یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اُمت محمدیہ ﷺ میں بہت سے پاکیزہ نفوس اس مقام پر پہنچے جو مجلس محمدی ﷺ میں حاضر اور بارگاہِ نبوی ﷺ سے براہِ راست ہدایت و رہنمائی حاصل کرتے ہیں جیسا کہ العلامہ محمد عبدالرؤف المناوی (التوفی:۱۰۳۱ھ) حدیث :{طوبیٰ لمن رانی} کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

{والعارفون یرونہ فی عالم الحس یقظۃحتی قال الشیخ ابوالعباس المرسی : لواحتجب عنی رسول اللّٰہ ﷺ طرفۃ عین ما عددت نفسی من الفقراء وفی روایۃمن المسلمین} (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر جلد ۴ حدیث نمبر ۵۳۰۵ صفحہ ۳۷۰ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

ترجمہ:-عارفین آپ ﷺ کو عالم بیداری میں دیکھتے ہیں یہاںتک کہ حضرت شیخ ابو العاص المرسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر رسول اللہ ﷺ  ایک پل کیلئے بھی مجھ سے اوجھل ہوں تو میں اپنے آپ کو(اس وقت )فقراء میں شمار نہیں کرتا ، اور ایک روایت میں ہے مسلمانوں میں شمار نہیں کرتا -‘‘

امام جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی :۹۱۱ھ) حضرت شیخ ابو العاس مرسی رحمۃ اللہ علیہ سے متعلق یوںلکھتے ہیں :

{وقال الشیخ : لو حجب عنی رسول اللّٰہﷺ طرفۃ عین ماعددت نفسی من المسلمین}(الحاوی للفتاویٰ- جلد ۲ ص:۲۴۶ دارالکتب العلیمہ بیروت لبنان)

ترجمہ:-اگر رسول اللہ ﷺ ایک لمحہ بھر بھی مجھ سے محجوب ہوں تو میں اپنے آپ کومسلمانوں میں نہیںشمار کرتا-

عارف باللہ أحمد بن محمد بن عجیبۃ الحسینی (المتوفی: ۱۲۲۴ ھ) ’’شرحِ الحِکم ‘‘ میں حضرت الشیخ ابوالعباس المرسی کا یوںقول نقل کرتے ہیں :

{قال ابو العباس المرسی لی ثلاثون سنۃ  ماغاب عنی رسول اللّٰہ ﷺ طرفۃ اعین و لو غاب عنی ما اعددت نفسی من المسلمین} (ابعاد الغُمم عن ایقاظ الھُمم فی شرحِ الحِکم :ص : ۱۱۹ ،دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان)

ترجمہ:-ابو العباس المرسی نے فرمایا تیس سال سے میری یہ کیفیت ہے کہ رسول ﷺ مجھ سے ایک پل کے لیے بھی علیحدہ نہیں ہوئے اگر آپ ﷺ مجھ سے اوجھل ہوجائیں تو مَیں خود کو مسلمانوں میں شمار نہیں کرتا-‘‘

حضرت امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ (الحاوی للفتاویٰ)میں شیخ خلیفۃ بن موسی النھرملکی کے حوالے سے لکھتے ہیں :

{وقال أیضاً فی ترجمۃ الشیخ خلیفۃ بن موسی النھر ملکی : کان کثیر الرؤیۃ لرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم یقظۃ ومنا ما فکان یقال إن أکثر أفعالہ متلقا ۃ منہ بأ مرمنہ إمایقظۃ إما مناما ، ورآہ فی لیلۃ واحدۃ سبع عشرۃ مرۃً } (الحاوی للفتاویٰ جلد ۲ صفحہ نمبر ۲۴۶ ،دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان)

 ترجمہ : - اسی طرح شیخ خلیفۃ بن موسی النھر ملکی کے ترجمہ میں ہے کہ حالت بیداری میں رسول اللہ ﷺ کا کثرت سے دیدار ہوتا تھا اور نیند کی حالت میں بھی- کہا جاتا ہے ان کے اکثر امور آپﷺسے حاصل شدہ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے تھے وہ احکام حالت بیداری میں بھی اور حالت خواب میں بھی تھے اور ایک ہی رات میں آپ رحمۃ اللہ علیہ نے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سترہ (۱۷) مرتبہ زیارت کی-

(اسی روایت کوامام المحققین ، عمدۃ المدققین مفتیٔ بغداد حضرت شیخ شہاب الدین سید محمود آلوسی (المتوفی: ۱۲۷۰ھ) نے بھی تفسیر روح المعانی جلد:۱۱، جز: ۲۲، ص: ۵۱ پر نقل کیا ہے - )

امام عبدالوہاب شعرانی (المتوفی: ۹۷۳ ھ) حضرت امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی : ۹۱۱ ھ) کے حوالے سے لکھتے ہیں :

{والشیخ جلال الدین الألسیوطی ،کان یقول : رأیت النبی ﷺ واجتمعت بہ یقظۃ نیفاً وسبعین مرۃ } (لواقح الا نوارالقدسیہ فی بیان العھود المحمدیہ ،ص: ۱۶دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان)

ترجمہ:-’’شیخ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ فرماتے تھے ،کہ میں نے نبی پاکﷺکی مجلس اور زیارت حالتِ بیداری میں پچھتر مرتبہ کی -‘‘

علامہ ابی العباس احمد بن محمد بن المھدی ابن عجیبہ الحینی (المتوفی  ۱۲۲۴ھ) حضرت الشیخ ابوالعباس المرسی کا قول نقل کرنے کے بعدلکھتے ہیں:

{وأھل ھذا المقام موجودون فی کل زمان، فإن القادر فی زمانھم ھو القادر فی زماننا}(تفسیر بحر المدید فی تفسیر القرآن المجید جلد ۳ صفحہ: ۳۶۶،دارالکتب العلمیۃ بیرو ت ، لبنان)

ترجمہ:-’’ اس مقام و مرتبے والے ہر زمانے میں موجود ہوتے ہیں پس ان کے زمانہ میں جو (اس مقام پر) قادر رہے وہ ہمارے زمانہ میں بھی پائے گئے ہیں(یعنی کوئی زمانہ ایسے لوگوں سے خالی نہیں رہا)-‘‘

امام عبدالوہاب شعرانی لکھتے ہیں :

{واعلم أن مقام مجالسۃ رسول اللّٰہ عزیزۃ جدًا ، وقد جاء شخص إلٰی سیدی علی المرصفی وأنا حاضر فقال : یا سیدی قد وصلت إلی مقام صرت أری رسول اللّٰہ ﷺ یقظۃ أی وقت شئت} (لواقع الا نوارالقدسیہ فی بیان العھود المحمدیہ ، ص:۱۶دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان)

ترجمہ:-’’ جان لے بے شک رسول اللہﷺ کی مجلس کی جگہیں بہت ہی پیاری ہیں اور تحقیق ایک شخص ’’سیدی علی مرصفی‘‘ کی بارگاہ میں آیا اور میں بھی وہاں موجود تھا اس نے کہا یاسیدی !میں ایک ایسے مقام تک پہنچ گیا ہوں جہاں میں حالت بیداری میں جس وقت بھی تمنا کرتا ہوں رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرلیتا ہوں -‘‘

الشیخ امام جلال الدین سیوطی حضور شہنشاہ بغداد حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی الحسنی الحسینی سے متعلق ’’ الحاوی للفتاوی‘‘میں اور شیخ الاسلام امام ابن حجر ھیثمی (المتوفی: ۹۷۴ ھ) فتاوی حدیثیہ میں لکھتے ہیں :

{ وقال الشیخ سراج الدین بن الملقن فی’’ طبقات الا ولیاء ‘‘ :قال الشیخ عبدالقادر الکیلانی: رأیت رسول اللّٰہ ﷺ قبل الظھر فقال لی: یا بنی لم لا تتکلم ؟ قلت : یا أبتاہ أنا رجل أ عجمی کیف أ تکلم علی فصحا ء بغداد ؟ فقال افتح فاک ففتحتہ فَتفل فیہ سبعا وقال : تکلم علی الناس وادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ فصلیت الظھر و جلست وحضرنی خلق کثیر فارتج علیّ فرأیت علیًّا قائمًا’’بازائی فی المجلس فقال لی : یا بنی لم لا تتکلم؟ قلت یا أبتاہ قد ارتج علیّ فقال : افتح فاک ففتحتہ فتفل فیہ ستا فقلت: لم لا تکملھا سبعا؟ قال : أدبًا مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم }(الحاوی للفتاویٰ جلد ۲ صفحہ ۲۴۶ دارالکتب بیروت، لبنان) (فتاوی حدیثیہ ص ۳۹۳، قدیمی کتب خانہ کراچی ، پاکستان) (تفسیر ’’روح المعانی‘‘ جلد :۱۱ ، الجز:۲۲، صفحہ ۵۱مکتبہ حقانیہ ملتان، پاکستان)

ترجمہ:-شیخ سراج الدین بن الملقن’’ طبقات الاولیاء ‘‘میں فرماتے ہیں کہ شیخ عبدالقادر جیلانی ؓ نے فرمایا :مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ظہر سے پہلے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا اے میرے بیٹے تم کلام کیوں نہیں کرتے ؟ میں نے عرض کی اے میرے حضور! مَیں عجمی ہوں کیسے بغداد کے فصیح وبلیغ (لوگوں) کو( وعظ ونصیحت) پر کلام کروں؟ آپ نے فرمایا منہ کھول ، مَیں نے منہ کھولا پس آپ نے سات مرتبہ اپنا لعابِ دہن ڈالا اور فرمایا لوگوں کو وعظ ونصیحت کیجئیے اور بلائیے اپنے ربّ کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ -پس مَیں نے نماز ظہر ادا کی اور میں بیٹھا اور بہت زیادہ لوگ جمع ہوگئے، مجھ پر کپکی طاری ہوئی تو مَیں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے سامنے اسی مجلس میں دیکھا آپ نے مجھ سے فرمایا اے میرے بیٹے آپ کلام کیوں نہیں کرتے ؟مَیں نے عرض کی دادا حضور !مجھ پر کپکی سی طاری ہو رہی ہے تو آپ نے فرمایا اپنا منہ کھولیے میں نے اپنا منہ کھولا آپ ؓ نے چھ مرتبہ لعاب دہن ڈالا- مَیں نے عرض کیا سات مرتبہ مکمل کیوں نہیں فرمایا؟ آپ ؓ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ادب واحترام کی وجہ سے -

شیخ محقق حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ حضور شہنشاہ ِ بغداد سیّدنا شیخ عبد القادر الجیلانی رضی اللہ عنہ سے متعلق لکھتے ہیں:

در بہجۃ الاسرار باسنادی کہ دروی دو واسطہ بیش نیست روایت کردہ کہ روزی غوث الثقلین شیخ محی الدین عبدالقادررضی اللہ عنہ برکرسی نشستہ بودووعظ میفرمودوقریب بدہ ہزارکس درپایۂ وعظ وی حاضر وشیخ علی بن ہُیتیے درزیزپای کرسّی شیخ نشست گاہ شیخ علی بن ہُیتیے راخوابی بردپس شیخ عبدالقادرقوم رافرمود{اسکنوا}پس ہمہ ساکت شدندتاآنکہ جزانفاس ازایشان شنیدہ نمیشدپس فرودآمدشیخ از کرسی و بایستادبادب پیش شیخ علی مذکور و می نگریست دروی پس بیدارشدشیخ علی وگفت شیخ عبدالقادربادیٔ -دیدی توآں حضر ت را در خواب گفت {نعم} فرمود ازین جہت ادب درزیدم باتووایستادم درپیش توفرمودبچہ وصیت کرد ترا آں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گفت بلازمت من مجلس ترا پس شیخ علی گفت آنچہ من درخواب دیدم شیخ عبدالقادر دربیداری دید و روایت کردہ اند کہ ہفت کس از مردان راہ دران روز از عالم رفتند رحمۃ اللّٰہ علیہم اجمعین(اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰاۃ: جلد۳،صفحہ ۶۸۴مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ پاکستان)

ترجمہ:صاحب بہجۃ الاسرار اپنی سندسے روایت کرتے ہیں جس میں صرف دوواسطے ہیںکہ ایک دن غوث الثقلین شیخ محی الدین عبدالقادررضی اللہ تعالیٰ عنہ کرسی پربیٹھے ہوئے وعظ کہہ رہے تھے ،قریباً دس ہزار افرادمجلسِ وعظ میں حاضرتھے ،شیخ علی بن ہیتی،حضرت شیخ کی کرسی کے پائے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ،شیخ علی بن ہیتی کونیندآگئی ،حضرت شیخ عبدالقادر نے حاضرین کوخاموشی کاحکم دیاسب لوگ خاموش ہوگئے ،حالت یہ تھی سانس لینے کی آوازوں کے علاوہ کچھ سنائی نہ دیتاتھا،حضرت شیخ عبدالقادر کرسی سے نیچے اترے اورشیخ علی ہیتی کے سامنے باادب کھڑے ہوکران کی طرف دیکھنے لگے ،شیخ علی بیدارہوئے توحضرت شیخ نے کہاتمہیں خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوئی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا ، ہاں !فرمایا: اسی لئے میں تمہارے سامنے باادب کھڑاتھا،تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیانصیحت کی؟ کہنے لگے کہ آپ کی مجلس میں باقاعدہ حاضری دیاکروں ،شیخ علی نے کہاکہ جو کچھ میں نے خواب میں دیکھا تھاحضرت شیخ عبدالقادرنے بیداری میں دیکھاروایت کرتے ہیں کہ اس دن مردانِ خدا میں سے سات افراد اس دنیاسے چلے گئے رحمۃ اللہ علیہم اجمعین-

شیخ محقق محدثِ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’و در مواہب لدنیہ گفتہ کہ ابن منصور در رسالۂ خود نوشتہ کہ در آمد شیخ ابوالعباس قسطلانی برآن حضرت پس دعا کرد آن حضرت او را و فرمود {اخذاللّٰہ بیدک یا احمد}-‘‘(اشعۃ اللمعات، جلد ۳ ص ۶۸۴، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ پاکستان)

ترجمہ:-مواہب لدنیہ میں ہے کہ ابن منصورنے اپنے رسالے میں لکھا کہ شیخ ابوالعباس قسطلانی حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ ﷺ نے ان کیلئے دعا کی اور فرمایا احمد اللہ تعالیٰ تمھاراہاتھ پکڑے -

شیخ محقق رحمۃ اللہ علیہ مزید شیخ ابو مسعود رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’واز شیخ ابو المسعود آوردہ کہ مصافحہ میکرد آن حضر ت را بعد از ہر نماز-‘‘(اشعۃ اللمعات جلد :۳ ص:۶۸۴، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ پاکستان)

ترجمہ : -شیخ ابو المسعودؓکے بارے میں بیان کیا کہ وہ ہر نماز کے بعد حضور نبی کریم ﷺسے مصافحہ کیا کرتے تھے-

فقہا ، مفسرین ، محدثین اور جلیل القدر بزرگانِ دین (رحمۃ اللہ علیھم اجمعین) کے اِن تمام دلائل اور اِن تمام روایات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صوفیاء کرام کو حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ کی حضور ی نصیب ہوتی ہے اور حضور پاکﷺ انہیں باقاعدہ تعلیم وتربیت دیتے ہیں : جیسا کہ سورۃ الجمعۃ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

{ ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰـتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ ق وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰـلٍ مُّبِیْنٍo} (الجمعہ:۳،۲)

ترجمہ:-وہی ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک (با عظمت) رسول(ﷺ) کو بھیجا وہ اُن پر اُس کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں۔ اور اُن (کے ظاہر و باطن) کو پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں بے شک وہ لوگ اِن (کے تشریف لانے) سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے-

{وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ  ط وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُo}

ترجمہ:-اور اِن میں سے دوسرے لوگوں میں بھی (اِس رسول ﷺ کو تزکیہ و تعلیم کے لیے بھیجا ہے) جو ابھی اِن لوگوں سے نہیں ملے (جو اس وقت موجود ہیں یعنی اِن کے بعد کے زمانہ میں آئیں گے)، اور وہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے-

امام فخرالدین محمد بن حسن بن حسین ابن علی التمیمی الرازی الشافعی (المتوفی ۶۰۶ھ) ان آیات کی تفسیر کرتے ہوئے ’’ تفسیر کبیر‘‘ میںلکھتے ہیں:

{’’ویعلمھم ‘‘ ای ویعلمھم ویعلم آخرین منھم}( التفسیرالکبیر جلد ۱۵ جز ۳۰ صفحہ : ۵،دا رالکتب العلمیہ بیروت، لبنان)

ترجمہ :- یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام کو بھی تعلیم دیتے ہیں اور بعد میں آنے والوں کو بھی تعلیم فرماتے ہیں -

امام ابی عبداللہ محمد بن احمد بن ابی بکر القرطبی (المتوفی ۶۷۱ھ) ان آیات کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

{ ’’ویزکیھم ویعلمھم ‘‘ ای یعلمھم ویعلّم آخرین من المؤمنین }(الجامع لاحکام القران جلد ۲۰ صفحہ نمبر ۴۵۳ الرسالۃ العالمیۃ)

ترجمہ:-آپﷺ انہیں پاک بھی فرماتے ہیں اور تعلیم بھی دیتے ہیں اور بعد والے مومنین کا بھی تزکیہ اور تعلیم فرماتے ہیں-

دیوبند مکتبۂ فکر کے ایک بہت بڑے محدث اور شارح بخاری علامہ الشیخ انورشاہ کشمیری (متوفی ۱۳۵۲ھ) ’’ فیض الباری شرح صحیح بخاری ‘‘میں لکھتے ہیں:

{ویمکن عندی رؤیتہ ﷺ یقظۃ لمن رزقہ اللّٰہ سبحانہ کما نقل عن السیوطی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی. کان زاھدًا متشدداً فی الکلام علی بعض معاصریہ ممن لہ شأن. أنہ رآہ ﷺ اثنین و عشرین مرۃ وسألہ عن احادیث  ثم صححھابعد تصحیحہ ﷺ . وکتب إلیہ الشاذلی یستشفع بہ ببعض حاجتہ إلی سلطان الوقت، وکان یوقِّرہ فأبی السیوطی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی أن یشفع لہ، وقال: إنی لا أفعل و ذلک لأن فیہ ضررُ نفسی و ضررُ الأمۃ، لأنی زرتہﷺ غیر مرۃ ولا أعرف فی نفسی أمرًا غیر أنی لا أذھب إلی باب الملوک ، فلو فعلت أمکن أن احرم من زیارتہ المبارکۃ. فأنا أرضی بضررِک الیسیر من ضررِ الأمۃ الکثیر.والشعرانی رحمہ اللّٰہ تعالی أیضاً کتب أنہ راہﷺ وقرأ علیہ البخاری فی ثمانیۃ رفقۃ معہ، ثم سمّاھم وکان واحد منھم حنفیا وکتب الدعاء الذی قرأہ عند ختمِہ- فالرؤیۃ یقظۃ متحققۃ وإنکارُھا جھلٌ .}(فیض الباری شرح صحیح بخاری،جلد ۱ ص ۲۹۲، دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان)

 ’’میرے نزدیک رسول اللہ ﷺ کا بیداری میں دیدار کرنا ہر اس شخص کے لئے ممکن ہے جس کو اللہ تعالیٰ یہ نعمت عطا فرمائے جس طرح حافظ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ وہ زاہد اور اپنے بعض معاصرین پر کلام میں متشدد تھے اُس کیلئے یہ شان ہے کہ انہوں نے رسول ﷺ کی بائیس مرتبہ (صحیح پچھتر بار ہے )زیارت کی اور آپ ﷺ سے بعض احادیث کی صحت کے متعلق سوال کیا اور جب آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ صحیح ہیں تو حافظ سیوطی نے ان کو صحیح قرار دیا اور شاذلی نے سوال کیا کہ وہ حاکم وقت کے پاس اس کی شفاعت کریں تو حافظ سیوطی نے انکارکردیا اور کہا اگر میں حاکم کے دربار میں گیا تو مَیں رسول اللہﷺ کی شفاعت سے محروم ہوجائوںگا اور اس سے امت کا بہت نقصان ہوگا اور علامہ شعرانی نے بھی بیداری میں رسول اللہﷺ کی زیارت کی اور آٹھ ساتھیوں کے ساتھ آپ ﷺ سے ’’صحیح بخاری‘‘پڑھی ،ان آٹھ میں سے ایک حنفی تھا لہٰذا بیداری میں رسول اللہﷺ کی زیارت ثابت ہے اور اس کا انکار کرنا جہل ہے-

امام یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمۃ اللہ علیہ محمد ابوالمواھب الشاذلی رحمۃ اللہ علیہ سے متعلق لکھتے ہیں:

{محمد ابوالمواھب الشاذلی: أحد أکابر العارفین وأئمۃ العلماء العاملین. ومن کراماتہ أنہ کان کثیرا لرؤیا للنبی ﷺ فی المنام ، حتی کأنہ لا یفارقہ وحتی کأنہ یراہ فی الیقظۃ، وقد جمع مرائیہ فی کتاب طالعتہ من أولہ الی آخرہ، فرأیتہ حقیقۃ من أعظم الکرامات لھذا العارف ، حتی أنہ یری النبی ﷺ فیتذاکرمعہ فی أمر ، ثم یراہ فی منام آخر فیکمل لہ الحدیث الذی ابتداہ فی المنام قبلہ، بل ذکر بعضھم أنہ کان یجتمع بہ ﷺ یقظۃ ، وأنہ تلقی عنہ علیہ الصلوٰۃ والسلام حزب الفردانیۃ یقظۃ-} (جامع کرامات الاولیاء جلد ۱،ص۱ ۲۳ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

ترجمہ:- محمد ابوالمواھب شاذلی رحمۃ اللہ علیہ بڑے عارفین اور باعمل عالموںمیں سے ایک تھے اورآپ کی کرامات میں سے یہ ہے کہ وہ خواب میں حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت بکثرت کیا کرتے تھے گویا آپ ﷺ سے جدا بھی نہ ہوتے تھے حتیٰ کہ بیداری میں بھی آپﷺ کی زیارت سے مستفیض ہوتے تھے امام عبدالوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کے بہت سے خواب اور ان کے بڑے فوائد طبقاتِ کبریٰ میں لکھے ہیں  اور میں نے اس کتاب کو اوّل سے آخر تک پڑھا ہے ، مَیں نے اِس عارف کی سب سے بڑی کرامت یہ پائی ہے کہ بسا اوقات ایسا بھی ہوا ہے آپ رحمۃ اللہ علیہ افضل الانبیاء والمرسلین ﷺ کی زیارت کرتے اور کسی معاملے میں عرض و معروض کرتے پھر دوبارہ خواب میں زیارت کرتے اور توسید المخلوقات ، سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اسی حدیث کو جو پہلے خواب میں فرمائی تھی مکمل فرمادیتے-بعض حضرات نے نقل کیا ہے کہ آپ نے خود حضرت صادق الامین ﷺسے ’’ الحزب الفردانیہ ‘‘ بیداری میں پڑھی ہے-

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ’’ اخبار الاخیار فی اسرارالابرار‘‘ میں شیخ سلیمان ابن عفان المندوی الدہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے متعلق لکھتے ہیں:

’’ و در معاملہ ٔ قرآن را پیش آن سرور ﷺ تجوید نمودہ-‘‘ (اخبار الاخیار فی اسرار لابرار ص ۲۲۱)(مطبع مجتبائی دہلی )

ترجمہ:- قرآن مجید آپ رحمۃ اللہ علیہ نے عالم واقعہ میں حضور نبی پاک ﷺ کے حضور میںپڑھا تھا-

سلطان العارفین ، برھان الواصلین حضرت سلطان باھُو رحمۃ اللہ علیہ المتوفی ۱۱۰۲ ھ ’’ نورالہدیٰ کلاں‘‘ میںلکھتے ہیں:

شریعت آنست راہی کہ حضرت محمد رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم رفتہ باشد قد م بر قد مِ محمد ی صلّی اللہ علیہ وآلہٖ  و سلّم شب و روز پیاپی خود را مد خل مجلسِ حضرت محمد رسول اللہ صلّی  اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حضوررساند وہرعلمِ نص وحدیث د رمجلسِ حضور حیات النّبی صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم خواند- (نورالہدی کلاں ،ص ۲۳۶، العارفین پبلی کیشنز لاہور ، پاکستان)

ترجمہ:-شریعت وہ راہ ہے کہ جس پر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم گامزن رہے اِس لئے جو شخص حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نقش ِقدم پر چل کر رات دن اُن کی پیروی کرتا رہتاہے وہ آخر کار مجلس ِمحمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں جا پہنچتاہے اور وہاں سے نص و حدیث کا تمام علم پڑھ لیتاہے-‘‘

 امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ ’’ الحاوی للفتاویٰ ‘‘ اور امام الفقہا والمحدثین، شیخ الاسلام احمد بن محمد بن علی بن حجر الہیثمی المکی (المتوفی : ۹۷۴ھ) فتاویٰ حدیثیہ میںسید علی وفا رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق لکھتے ہیں -

{وحکی ابن فارس عن سیدی علی وفا قال : کنت وأنا ابن خمس سنین أقرا القرآن علی رجل فأتیتہ مرۃ فرأیت النبی ﷺ یقظۃ لا مناماً وعلیہ قمیص أبیض قطن، ثم رأیت القمیص علیّ فقال لی : اقرأ فقرأت علیہ سورۃ والضحیٰ وألم نشرح ثم غاب عنی ، فلما أن بلغت إحدی و عشرین سنۃ  أحرمت بصلاۃ الصبح بالقرافۃ فرأیت النبی ﷺ قبالۃ وجھی فعانقنی فقال: ’’وأما بنعمۃ ربک فحدث ‘‘ فأثبت لسانہ من ذلک الوقت} (فتاویٰ حدیثیہ ص:۳۹۳ قدیمی کتب خانہ کراچی ، پاکستان) (الحاوی للفتاوی: جلد: ۲، ص :۲۴۷ ،دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

ترجمہ:-سید علی وفا فرماتے ہیں کہ میں پانچ برس کا تھا اور ایک شخص کے پاس قرآن مجید پڑھتا تھا اورایک روز میں نے دیکھا کہ اس شخص کے پاس حضرت سرکار مدینہ ﷺسفید کرتہ پہنے جلوہ افروز ہیں اور میں نے یہ سر کی آنکھوں سے بیداری میں دیکھا آپ ﷺ نے مجھے فرمایا ’’پڑھ‘‘پس میں نے آپ ﷺ کو سورۃ والضحیٰ اور الم نشرح پڑھ کر سنادیں پھر آپ ﷺ غائب ہو گئے جب میں ۲۱ برس کا ہوا تو شہر قرافہ میں نماز فجر کے لئے تکبیر کہہ چکا تھا کیادیکھتا ہو ں آپ ﷺ سامنے تشریف لا کرمجھ سے مصافحہ فرمایا اور فرمایا ’’وامابنعمتہ ربک فحدث‘‘پس اسی وقت سے اللہ تعالیٰ نے مجھے خصوصی عطافرمائی-

ذرا سوچیں!انسانی تصوّر و تخیل ان لوگوں کی کیفیات کواپنی گرفت میں کیسے لا سکتا ہے؟ جو عام علمی مسائل میں بھی حضور پُرنورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رہنمائی لیتے ہوں ان کی زندگیوں میں علم وعمل ، اعتقاد اور تقویٰ میں پختگی کا عالم کیا ہوگا ؟

ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ علمائے ظاہر کے پاس حدیث مبارک کی معلومات کا ذریعہ زبانی قیل وقال کی روایات ہیں، جن کے راویوں پر بحث وتنقید کی گنجائش ہے، اس لئے انہوں نے ان کی روایات کی صحت کے لئے نہایت ہی قابل تحسین احتیاطی طریقہ وضع کیاہے جبکہ علمائے باطن (یعنی صوفیاء)کا ذریعہ علم باطن میں مجلس محمدی ﷺ کی دائمی حضوری اور کشف ہے-دائمی حضوری سے متلعق امام جلال الدین سیوطی’’ الحاوی للفتاوی‘‘ میں لکھتے ہیں:

{کان للشیخ العباس المرسی رحمۃ اللّٰہ علیہ وصلۃ بالنبی ﷺ اذاسلم علی النبی ﷺ رد علیہ السلام ویجاوبہ اذا تحدث معہ} (الحاوی للفتاوی جلد۲ صفحہ ۲۴۶ ،دار الکتب العلمیۃ بیروت)

شیخ ابو العباس المرسی نبی کریم  ﷺ کی بارگاہ اقدس میںحاضر ہو کر نبی کریم ﷺ پر سلام پیش کرتے تو آپ  ﷺ سلام کا جواب فرماتے اور جب کوئی بات آپ ﷺسے عرض کرتے تو اس کا جواب بھی ارشاد فرماتے-

حضرت امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں :

{أنہ حضر مجلس فقیہ فروی ذلک الفقیہ حدیثا فقال الہ الولی: ھذالحدیث باطل ، فقال الفقیہ: ومن أین لک ھذا؟ فقال ھذالنبی ﷺ واقف علی راسک یقول انی لم أقل ھذا الحدیث وکشف للفقیہ فرأہ }(الحاوی للفتاوی جلد ۲ ص ۲۴۷ دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان)

ترجمہ:-’’ایک بزرگ ایک فقہیہ کی مجلس میں درس میں حاضر ہوئے فقہیہ نے ایک حدیث پڑھی اس بزرگ نے فرمایا کہ یہ حدیث باطل ہے فقہیہ نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کو کیسے معلوم ہوئی ـ؟ تو اس بزرگ نے فرمایا کہ حضور نبی کریم ﷺ یہ تیرے سر کے پاس تشرف فرما ہیں اورفرمارہے ہیں کہ میں نے یہ حدیث نہیں فرمائی بعد میں اس بزرگ نے اس فقہیہ کو بھی زیارت کروا دی-‘‘

تو یہ بات ذہن نشین کر لے کہ محققین کے نزدیک بنیادی طور پر علم کے حصول کے ذرائع چار ہیں: حواسِ خمسہ، عقل، کشف و الہام اور وحی-

حواس کی رسائی فقط محسوسات تک محدود ہے - مدرکات ِحسی سے ماوراء حقائق کیلئے حواس خمسہ علم کا ذریعہ نہیں بن سکتے اسی طرح عقل کا دائرہ بھی محدود ہے اس کی رسائی صرف معقولات تک محدود ہے - عقل کا ادراک بھی حواس کے ذریعے علم حاصل کیے بغیر پایۂ تکمیل نہیں پہنچ سکتا اس کے بعد علم کے حصول کا تیسرا ذریعہ کشف و الہام ہے -

عالم طبیعات میں جو تمام تر حقائق و موجودات ہیں خواہ ان کا شمار محسوسات میں ہو یا معقولات میں ہو، زمانی ہو یا مکانی ہو، صوفیانہ کشف و الہام کے ذریعے صوفیاء کو عالم مابعد الطبیعات کا ادراک و معرفت ہوتی ہے تو یہاں سمجھنے والی بات یہ ہے کہ حواس اور عقل دونوں مل کر بھی حتمی اور قطعی علم مہیا نہیں کر سکتے لیکن ان کے حرمانِ قطعیت اور نقصانِ ادراک و معرفت کے باوجود انہیں ذریعۂ علم کی حیثیت سے تسلیم کیا جاتا ہے تو پھر کشف و الہام کو ذریعۂ علم کی حیثیت سے ماننے میں کیا چیز مانع ہوسکتی ہے؟

علم کے حصول کا چوتھا ذریعہ وحی ہے جو کشف و الہام سے بھی اعلیٰ او ر سب سے مضبوط حتمی، قطعی اور یقینی ہوتا ہے- جب صوفی تزکیہ اور تصفیہ میں کمال حاصل کرلیتا ہے اور وہ مدارج ولایت کے اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اس کا کشف مشمولاتِ وحی کے مطابق و موافق ہوجاتا ہے اور یہی مطابقت و موافقت اس کے کشف کے صحیح ہونے کی دلیل ہوتی ہے کہ جیسا کہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

{ قال الشیخ محی الدین بن العربی: أنہ بلغنی عن النبی ﷺ أن من قال لا الٰہ الاا للّٰہ سبعین ألفًا غفرلہ ، ومن قیل لہ غفرلہ أیضًا فکنت ذکرت التھلیلۃ بالعدد المروی من غیر أن أنوی لأحدٍ بالخصوص، بل علی الوجہ الإجمالی، فحضرت طعاماً مع بعض الأصحاب و فیھم شابٌ مشہورٌبالکشف فإذا ھو فی أثناء الاکل أظھر البکاء فسألتہ عن السبب فقال أری أمی فی العذاب فوھبت فی باطنی ثواب التھلیلۃ المذکورۃ لھا، فضحک ! وقال إنی أراھا الآن فی حسن المآب قال الشیخ: فعرفت صحۃ الحدیث بصحۃ کشفہ و صحۃ کشفہ بصحۃ الحدیث-}(مرقاۃ شرح مشکوٰۃ جلد ۳ صفحہ ۲۰۰ ،مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)

ترجمہ:-شیخ محی الدین ابن عربی نے کہا مجھے نبی ﷺ سے یہ روایت پہنچی کہ جس شخص نے سترہزار مرتبہ لا الٰہ الا ا للّٰہکہا اس کی مغفرت کردی جائے گی اور جس کو اس کا ثواب بخش دیا گیا،اس کی بھی مغفرت کردی جائے گی۔ میں نے ستر ہزار مرتبہ لا الٰہ الاا للّٰہ پڑھ لیا اور میں نے بالخصوص کسی شخص کیلئے اس کو بخشنے کی نیت نہیں کی پھر اتفاق سے میں بعض اصحاب کی ایک دعوت میں شریک ہوا، ان میں ایک نوجوان تھا جس کے متعلق یہ مشہور تھا کہ اس کو کشف ہوتا ہے اچانک وہ کھانے کے درمیان رونے لگا میں نے اس کے رونے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا ،میں نے اپنی ماں کو عذاب میں مبتلا دیکھا ہے میں نے دل ہی دل میں ستر ہزار بار پڑھے ہوئے لا الٰہ الاا للّٰہ کا ثواب اس کی ماں کو بخش دیا پھر وہ نوجوان ہنسنے لگا اور کہااب میں اپنی ماں کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں- شیخ ابن عربی نے کہا : ’’میں اس حدیث کی صحت کو اس نوجوان کے کشف سے جان گیا اور اس نوجوان کے کشف کی صحت کو اس حدیث کی صحت سے جان گیا-‘‘

اسی وجہ سے اُن صوفیائے کرام کی نقل کردہ روایات کاانکارنہیں کرناچاہیے جن کی ولایت اُمت محمدیہ ﷺ کے نزدیک مسلمہ ہے کیونکہ ان نفوس ِ قدسیہ کواللہ جل شانہ اور اس کے محبوبﷺ کی بارگاہ کی حضوری نصیب ہوتی ہے اوروہ ہر چیز ان کے حکم واجازت سے لکھتے ہیں-جیساکہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُورحمۃ اللہ علیہ ’’کلیدالتوحید خورد ‘‘میں لکھتے ہیں:

’’ کسی را کہ عقل باشد و د انش و شعور تمام است کہ ایں کتاب بہ حکمِ اللّٰہ تعالیٰ و از نظرِ رحمتِ اللّٰہ تعالیٰ مرقوم و منظور شدہ  بہ اجازتِ حضرت محمّد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم رقم حضور شد ہ کہ ہر حرفِ ایں کتاب حضوریٔ مشاہدۂ حق بخشد و ہر سطر ازیں کتاب سِرّیست از اسرارِ مشاہد اتِ تجلّیاتِ نورِ حق ذ ات  با برکات  از برکتِ اسم اللّٰہ ذ ات  و آیاتِ کلام  اللّٰہ شریف وشریعتِ نبی محمّد صلّی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلّم می کشاید- ‘‘(کلیدالتوحیدخورد:العارفین پبلیکیشنز لاہور، پاکستان)

 ترجمہ:-’’جس کسی کو عقل ہے اور وہ کامل دانائی اور شعور کا مالک ہے تو اُس کے لئے یہ بات کامل حجت ہے کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کے حکم اور نگاہِ رحمت کے تحت لکھی گئی ہے اور یہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ سے منظور شدہ ہے اور اُنہی کی اجازت سے تحریر کیا جاتا ہے کہ اِس کتاب کا ہر حرف مشاہدۂ حق کی حضوری بخشتا ہے اور اِس کی ہر سطر اُن بھیدوں میں سے ایک بھید ہے جو نُورِ ذاتِ حق کی بابرکت تجلیات کے مشاہدے میں پائے جاتے ہیں - اسم اللہ ذات و آیاتِ قرآن اور شریعت ِمُحمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی برکات سے اِس کی ہر سطر سے یہ بھید کھلتے ہیں - ‘‘

اس بات کی مزید تائید ہمیں اپنے اَسلاف کے طرزِ عمل سے ملتی ہے مثال کے طور پر اگرآپ تخریج کی کتابوں کا مطالعہ کریں تو آپ کو جگہ جگہ {لم أقف علیہ}  ’’ میں اس پر واقف نہیں ہوں-‘‘{ لم أقف علیہ بھذالفظ}’’ میں اس لفظ پرمطلع نہیں ہوں-‘‘{ لم أقف بھذا الحدیث}’’ میں اس حدیث پر مطلع نہیں ہوں-‘‘ { لم أقف علیٰ أسنادہ}’’ میں اس کی اَسناد پر مطلع نہیں ہوں-‘‘{ لم أری }’’ میںنے نہیں دیکھی-‘‘{لا أعرف من الاسناد}’’ میں اس کی اَسناد کو نہیںپہچانتا-‘‘{ لا اعرف بھذا الحدیث}’’ میں اس حدیث کو نہیںجانتا-‘‘

 وغیرہ اس قسم کے مختلف الفاظ آپ کو بکثرت ملیں گے -اسلاف کا یہ طرزِ تحریرہم پہ واضح کررہاہے کہ انہوں نے مطالعہ کی کمی کی نسبت اپنی ذات کی طرف کی ہے نہ کہ بزرگوں کے علم کی نفی -جب وہ حدیث کی سندکسی کتاب میں نہیں پاتے تو یہ نہیں کہتے کہ یہ حدیث ہی نہیں بلکہ وہ کہتے کہ ہم کواس کی سند نہیں ملی - اس کی مزید وضاحت کیلئے میں اپنی گفتگو کی بجائے زیادہ مناسب سمجھتاہوں کہ اس جگہ اعلیٰ حضرت ، عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ کے ایک فتویٰ کا طویل اقتباس پیش کروں -اعلیٰ حضرت فتاوی رضویہ میں ایک سوال کے جواب کے ضمن میں اس بات کی بھی وضاحت فرماتے ہیں جو اپنی کم علمی کی وجہ سے سلف صالحین کی نقل کردہ احادیث کا انکار کرتے ہیں آپ اُن کا مُحاسبہ فرماتے ہیں :(فتاویٰ رضویہ،ج ۲۲ص ۲۹۴تا۳۰۵)

’’جس امر پر اپنی قاصر نظر ناقص تلاش میں حدیث نہیں پاتے اس پر بے اصل و بے ثبوت ہونے کا حکم لگادیتے اور اس کے ساتھ ہی صرف اس بنا پر اُسے ممنوع وناجائز ٹھہرا دیتے ہیں پھر اس طوفان بے ضابطگی کا وہ جوش ہوتاہے کہ اس اپنے نہ پانے کے مقابل علماء ومشائخ کی تو کیا گنتی حضرات عالیہ آئمہ مجتہدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے ارشادات بھی پایۂ اعتبار سے ساقط اوران کے احکام کو بھی یونہی معاذ اللہ باطل وغیر ثابت بتاتے ہیں یہ وہ جہالتِ بے مزہ ہے جسے کوئی ادنیٰ عقل والا بھی قبول نہیں کر سکتا-ان حضرات سے کوئی اتنا پوچھنے والا نہیں کہ ’’کے آمدی و کے پیر شدی ‘‘ کب آئے اور کب بوڑھے ہوئے - بڑے بڑے اکابر محدثین ایسی جگہ ’’لم ار‘‘ ’’ولم اجد‘‘ پر اقتصار کرتے ہیں یعنی مَیںنے نہیںدیکھی اورمجھے نہیں ملی نہ کہ تمہاری طرح عدم وجدان کو عدم وجود کی دلیل ٹھہرا دیں-

صاحبو! لاکھوں حدیثیں اپنے سینے میں لے گئے کہ اصلاً تدوین میں بھی نہ آئیں - امام بخاری کو چھ لاکھ حدیثیں حفظ تھیں ، امام مسلم کو تین لاکھ ، پھر صحیحین میں صرف سات ہزار حدیثیں ہیں - امام احمدکو دس لاکھ حدیثیں محفوظ تھیں ، مسند میں فقط تیس ہزار ہیں -خود شیخین وغیرھما آئمہ سے منقول کہ ہم سب احادیث صحاح کا استعیاب نہیں چاہتے اور اگراَ دعائے استعیاب فرض کیجئے تو لازم آئے کہ افراد بخاری ،امام مسلم اور افراد مسلم امام بخاری اور صحاح افراد سنن اربعہ دونوں اماموں کے نزدیک صحیح نہ ہوں اور اگر اس ادعا کو آگے بڑھائیے تو یونہی صحیحین کی وہ متفق علیہ حدیثیں جنہیں امام نسائی نے مجتبیٰ میں داخل نہ کیا ان کے نزدیک حلیہ صحت سے عاری ہوں {وھو کما تری} ( یہ وہ چیز ہے جسے تم جانتے ہو)-

 صحیح بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

{مامن اصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم احداکثرحدیثا عنہ منّی الاماکان من عبداللّٰہ بن عمروفانہ کان یکتب ولا أکتب } (صحیح بخاری کتاب العلم باب کتابۃ العلم، ص۱۰۳، دارالمعرفۃ بیروت، لبنان)

ترجمہ:- ’’اصحابِ نبی میں کسی نے حضور اقدس ﷺ سے مجھ سے زیادہ حدیثیں روایت نہ کیں سوائے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماکے کیونکہ وہ لکھ لیا کرتے اور میں نہیں لکھتاتھا-‘‘

 دیکھو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے ان سے زیادہ احادیث روایت فرمائیں-حالانکہ تصانیف محدثین میں ان کی حدیثیں ان کی احادیث سے بدرجہا کم ہیں -عبداللہ بن عمرورضی اللہ تعالیٰ عنہما سے صرف سات سو حدیثیں پائی گئی ہیں اور سید نا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پانچ ہزار تین سو(5300)حدیثیں روایت کی گئی ہیں -

اب کہیے کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی وہ ہزاروں حدیثیں کیا ہوئیں اورکتب حدیث میں ان میں سے کتنی ہاتھ آئیں… امام اجل ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ( جنہیں محدثین اہلِ جرح و تعدیل بھی با آنکہ ان میں بہت کو حضرات حنفیہ کرام سے ایک تعنّت ہے تصریحاً صاحب حدیث منصف فی الحدیث واتبع القوم للحدیث لکھتے ہیں، بلکہ اپنے زعم میں امام الائمہ امام اعظم ابو حنیفہ سے بھی زیادہ محدث و کثیر الحدیث جانتے ہیں- امام ذہبی شافعی نے اس جناب کو ’’ حفاظِ حدیث‘‘ میں شمار اور کتاب تذکرۃ الحفاظ میں بعنوان الامام العلامۃ فقیہ العراقین ذکر کیا) یہ ارشاد فرماتے ہیں: بارہا ہوتا کہ امام ایک قول ارشاد فرماتے کہ میری نظر میں حدیث کے خلاف ہوتا مَیں جانبِ حدیث جھکتا، بعد تحقیق معلوم ہوتا کہ حضرت امام نے اس حدیث سے فرمایا ہے جو میرے خواب میں بھی نہ تھی … اب جو حدیثیں تدوین میں آئیں ،ان میں سے فرمائیے کتنی باقی ہیں ، صدہا کتابیں کہ آئمہ دین نے تالیف فرمائیں، محض بے نشان ہوگئیں اور یہ آج سے نہیں ابتداء ہی سے ہے- امام مالک کے زمانے میں اَسی (80) علماء نے مؤطا لکھیں،پھرسوائے موطائے مالک اور موطائے ابن وھب کے اور بھی کسی کا پتہ باقی ہے… -

امام محقق علی الاطلاق کمال الدین ابن الہمام نے جن کی جلالتِ قدرآفتابِ نیم روز سے اظہر،جب بعض احادیث کہ مشائخ کرام نے ذکرکیں نہ پائیں یوں فرمایاکہ:

{لعلّ قصورنظرنااخفاھماعنّا}

ترجمہ:-’’امیدہے کہ ہماری نظرکے قصورنے انہیں ہم سے چھپالیا-‘‘

 دیکھوعلماء یوں فرماتے ہیں ، اور جاہلوں کے دعوے وہ طویل و عریض ہوتے ہیں-

حدیث اختلاف امتی رحمۃ (میری امت کااختلاف رحمت ہے-)امام جلال الدین سیوطی جیسے حافظِ جلیل نے کتاب جامع صغیر میں ذکرفرمائی اوراس کاکوئی مخرج نہ بتاسکے کہ کس محدث نے اپنی کتاب میں روایت کی ان بعض علماء کے نام لکھ کرجنھوں نے بے سنداپنی کتابوں میں اسے ذکرکیالکھ دیاکہ:

{لعلّہ خرّج فی بعض کتب الحفّاظ التی لم تصل الینا}

ترجمہ:-’’شایدوہ حافظانِ حدیث کی بعض کتابوں میں روایت کی گئی جوہم تک نہ پہنچیں -‘‘

یہ وہ امام ہیں کہ فنِ حدیث میں جن کے بعد ان کانظیرنہ آیا،جنہوں نے کتاب جمع الجوامع تالیف فرمائی اوراس کی نسبت فرمایا:

{قصدتُ فیہ جمیع الاحادیث النبویۃ باسرھا}

ترجمہ:-’’میں نے ارادہ کیاکہ اس میں تمام احادیثِ نبویہ جمع کردوں-‘‘

اس پربھی علماء نے فرمایا:

{ھذابحسب مااطلع علیہ المصنف لاباعتبار مافی نفس الامرقالہ المناوی}

ترجمہ:-’’یہ وہ اپنے علم کے اعتبار سے کہتے ہیں نہ یہ کہ واقع میں جس قدرحدیثیں ہیں سب کاجمع کرنا-‘‘

وہ اپنے نہ پانے پریوں فرماتے ہیںکہ شاید یہ حدیث ان کتبِ آئمہ میں تخریج ہوئی جوہمیں نہ ملیں اورپھردیکھئے ہوا بھی ایسا ہی -عبادت مذکورہ کے بعدعلامہ مناوی صاحبِ تیسیرشرح جامع صغیرنے لکھ دیاکہ الامرکذلک یعنی واقعی ایسا ہی ہے -پھراس کی تخریج بتائی کہ بیہقی نے ’’مدخل ‘‘اورویلمی نے ’’مسند الفردوس‘‘ میں بروایت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماروایت کی اوراس حدیث کی سندپرنہ صرف امام سیوطی بلکہ اکثر آئمہ کواطلاع نہ ہوئی -امام خاتم الحفاظ ابن حجرعسقلانی فرماتے ہیں:

{زعم کثیرمن الائمۃ انہ لااصل لہ }

ترجمہ:-’’بہت سے اماموں نے یہی زعم کیاکہ اس کے لئے کوئی سندنہیں-‘‘

پھرامام عسقلانی نے اس کی بعض تخریجیں ظاہرفرمائیں :

{حدیث الوضُوء علی الوضوئِ نورعلیٰ نور}

ترجمہ:-’’وضو پروضوکرنانور علی نورہے -‘‘

(مذکورہ حدیث )کی نسبت امام عبدالعظیم منذری نے کتاب الترغیب اورامام عراقی نے تخریج احادیث الاحیاء میں تصریح کردی کہ لم نقف علیہ ‘‘ہمیں اس پراطلاع نہیں حالانکہ وہ مسندامام رُزَین میں موجود-تیسیرمیں ہے :

{حدیث الوضوء علی الوضوء نورعلیٰ نورا خرجہ رُزَین ولم یطلع علیہ العراقی کالمنذری فقالالم نقف علیہ}

ترجمہ:-’’وضوپروضو کرنا نور علی نورہے ،یہ وہ حدیث ہے جس کی تخریج حضرت رُزین نے کی ہے اورمنذری کی طرح امام عراقی اس پرمطلع نہیں ہیں،توانہوں نے کہاہم اس پرواقف نہیں ہیں-‘‘

اس سے عجیب ترسُنیے - حدیث حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہ انہوں نے رکوع میںدونوں ہاتھ ملاکرزانوکے بیچ میں رکھے اوربعدنماز کے فرمایا:

{ھکذافعل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم }

ترجمہ:-’’ایسا ہی کیارسول اللہ ﷺ نے -‘‘

اس کی نسبت امام ابوعمر بن عبدالبرنے فرمایا:نبی ﷺ کی طرف نسبت صحیح نہیں، محدثین کے نزدیک صرف اس قدرصحیح ہے کہ عبداللہ بن مسعودنے ایساکیا-اورامام اجل ابوزکریانَوَوِی شارح صحیح مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے توکتاب الخلاصہ میں سخت ہی تعجب خیزبات واقع ہوئی کہ فرمایاصحیح مسلم شریف میں بھی صرف اسی قدر ہے کہ ابن مسعودنے ایساکیااوریہ نہیں کہ{ ھکذافعل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم } حالانکہ بعینہٖ یہی الفاظ صحیح مسلم میں موجود ،امام محقق علی الاطلاق’’ فتح ‘‘میں فرماتے ہیں -

{فی صحیح مسلم عن علقمۃ والاسودانھما داخلاعلی عبداللّٰہ فقال اصلّی من خلفکماقالانعم فقام بینھما فجعل احدھماعن یمینہ والاٰخرعن شمالہ ثم رکعنافوضعناایدیناعلی رکبنا ثم طبق بین یدیہ ثم جعلھمابین فخذیہ فلمّاصلّی قال ھکذا فعل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم-قال ابن عبدالبرلایصح رفعہ والصحیح عندھم الوقف علی ان مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ،وقال النووی فی الخلاصۃ الثابت فی صحیح مسلم ان ابن مسعودفعل ذٰلک ولم یقل ھکذاکان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یفعلہ قیل کانّھماذھلافانّ مسلمااخرجہ من ثلث طرقٍ لم یرفعہ فی الاولیین ورفعہ فی الثالثۃ وقال ھکذافعل}

ترجمہ:-’’صحیح مسلم میں حضرت علقمہ اوراَسودسے روایت ہے یہ دونوں حضرات عبداللہ بن مسعودکے پاس آئے کہاکیادوسروں نے نماز پڑھ لی ہے ،دونوں نے عرض کی ہاں حضور-پھرآپ دونوں کے بیچ میں کھڑے ہوگئے ایک کوداہنے طرف دوسرے کوبائیں طرف کرلیا،پھرہم سبھوں نے رکوع کیاتو ہم نے اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پررکھ لیا‘پھردونوں ہاتھ کو ملایا،پھرانہیں دونوں رانوں کے بیچ میں رکھ دیا،جب آپ نے نماز سے فارغ ہوئے توآپ نے فرمایا:ایسے ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا-ابن عبدالبرنے کہا:اس روایت کاحضورتک پہنچناثابت نہیں -ان کے نزدیک صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث عبداللہ ابن مسعودتک موقوف ہے-امام نووی نے خلاصہ میںکہاکہ صحیح مسلم میں یہ روایت ثابت ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعودنے ایساکیا،انہوں نے یہ نہیں کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایساکیاکرتے تھے -یہ بھی کہاگیاکہ ان دونوں سے ذہول ہوگیاکیونکہ امام مسلم نے تین طریقوں سے اسے تخریج فرمایا،پہلی دوروایتیں مرفوع نہیں البتہ تیسری روایت میں انہوں نے حضورصلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف منسوب کیاہے اورفرمایااسی طرح کیا-

میں یہاں اگراس کی نظیریں جمع کرنے پرآئوں کہ خبروحدیث میں مشہورومتداول کتابوں یہاں تک خودصحاح ستّہ سے اکابر محدثین کوکیسے کیسے ذہول واقع ہوئے ہیں توکلام طویل ہوجائے ،بعض مثالیں اس کی فقیرنے اپنے رسالہ ’’نورعینی فی الانتصارللامام العینی ‘‘میں لکھیں -یہاں مقصود اسی قدر کہ مدعی آنکھ کھول کردیکھے کہ کس بضاعت (کم مائیگی) پرکمالِ علم واحاطۂ نظرکادعویٰ ہے ،کیاان آئمہ سے غفلت ہوئی اورتم معصوم ہو؟--کیانہیں ممکن کہ حدیث اِنہی کتابوں میں ہواورتمہاری نظرسے غائب رہے ؟--ماناکہ ان کتابوں میں نہیں کیاسب کتابیں تمہارے پاس ہیں؟ممکن کہ ان کتابوں میں ہوجواوربندگانِ خداکے پاس دیگربلاد میں موجودہیں-ماناکہ ان میں بھی نہیں پھرکیااسی قدرکتابیں تصنیف ہوئی تھیں ؟ ممکن کہ ان کتابوں میں ہوجومعدوم ہوگئیں --ماناکہ ان میں بھی نہیں پھرکیاتمام احادیث کتابوں میں مندرج ہوگئی تھیں؟--ممکن کہ ان احادیث میں ہوجوعلماء اپنے سینوں میں لے گئے--پھر’’ہلدی کی گرہ پرپنساری بنناکس نے مانا‘‘- اپنے نہ پانے کونہ ہونے کی دلیل سمجھنااورعدمِ علم کوعلم بالعدم ٹھہرالیناکیسی سخت سفاہت ہے -خاص نظیراسکی یہ ہے کہ کوئی شخص ایک چیزاپنی کوٹھری کی چاردیواری میں ڈھونڈ کربیٹھ رہے اورکہ دے ہم تلاش کرچکے تمام جہان میں کہیں نشان نہیں ،کیااس بات پرعقلاء اسے مجنون نہ جانیں گے !--ولاحول ولاقوۃ الاباللّٰہ العلی العظیم-

اَلطف واَہم ،ان سب سے گزرئیے بفرض ہزاردرہزار باطل تمام جہان کی اگلی پچھلی سب کتب حدیث آپ کی الماری میں بھری ہیں اوران سب کے آپ پورے حافظ ہیں آنکھیں بندکرکے ہرحدیث کا پتا دے سکتے ہیں ،پھرحافظ جی صاحب یہ تو طوطے کی طرح حق اللہ پاک ذات اللہ کی یادہوئی ، فہم حدیث کا منصب ارفع واعظم کدھرگیا،لاکھ بارہوگاایک مطلب کی حدیث انہیںاحادیث میںہوگی جوآپ کو بر زبان یادہیں اورآپ کی خواب میں بھی خطرہ نہ گزرے گاکہ اس سے وہ مطلب نکلتا ہے-آپ کیا اور آپ کے علم وفہم کی حقیقت کتنی ،اکابراجلّہ محدثین یہاں آکرزانوٹیک دیتے ہیں اور فقہائے کرام کا دامن پکڑتے ہیں -حفظِ حدیث فہمِ حدیث کو  مستلزم ہوتاتوحضورپرنورسیدعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشادکے کیامعنی تھے-

{رُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ اِلٰی مَنْ ھُوَ اَفْقَہُ مِنْہُ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ لَیْسَ بِفَقِیْہٍ}

رواہ الائمۃ الشافعی والاحمد والدارمی وابوداؤد والترمذی وصححہ والضیاء فی المختارۃ والبیہقی فی المدخل عن زیدبن ثابت والدارمی عن جبیربن مطعم رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما ونحوہ لاحمدوالترمذی وابن حبان عن ابن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بسندصحیح وللدارمی عن ابی الدرداء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم-

بہتیرے حاملانِ فقہ اُن کے پاس فقہ لے جاتے ہیں جواِن سے زیادہ اِس کی سمجھ رکھتے ہیں، اوربہتیرے وہ کہ فقہ کے حامل وحافظ وراوی ہیں مگرخوداس کی سمجھ نہیں رکھتے -اس کی روایت ائمہ شافعی ،احمد،دارمی ،ابودائوداورترمذی نے کی اوراسے صحیح قراردیااورضیاء نے مختارہ میں اوربیہقی نے مدخل میں حضرت زیدابن ثابت سے اوردارمی نے حضرت جبیرابن مطعم رضی اللہ عنہماسے روایت کی اوراسی طرح احمدوترمذی اورابن حبان نے حضرت ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ ٗسے بسندِصحیح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی، اورحضرت دارمی کی روایت جومروی ہے حضرت ابودرداء سے انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی-

ذراخداکے لئے آئینہ لے کراپنامنہ دیکھئے اورامام اجل سلیمٰن اعمش کاعلم عزیزوفضل کبیرخیال کیجئے جوخود حضرت سیدناانسؓ کے شاگردِ جلیل الشان اوراجلّہ آئمہ تابعین اورتمام ائمہ حدیث کے اساتذۃ الاساتذہ سے ہیں -امام ابن حجرمکی شافعی کتاب خیرات الحسان میں فرماتے ہیں :کسی نے ان امام عمش سے کچھ مسائل پوچھے ہمارے امام اعظم امام الائمہ مالک الازمہ سراج الامہ سیدناابوحنیفہ رضی اللہ عنہ (کہ اس زمانے میں انہیں امام اعمش سے حدیث پڑھتے تھے )حاضرمجلس تھے امام اعمش نے وہ مسائل ہمارے امام اعظم سے پوچھے ،امام نے فوراً جواب دئیے -امام اعمش نے کہایہ جواب آپ نے کہاں سے پیداکئے :فرمایا:ان حدیثوں سے جومیں نے خود آپ سے سنی ہیں اوروہ حدیثیں مع سندروایت فرمائیں -امام اعمش نے کہا:

{حسبک ماحدثتک بہ فی مائۃ یوم تحدثنی بہ فی ساعۃ واحدۃ ماعلمت انّک تعمل بھذہ الاحادیث یامعشرالفقھاء انتم الاطبّاء ونحن الصیادلۃ ، وانت ایّھاالرجل اخذت بکلاالطرفین}

ترجمہ:-’’بس کیجئے ،جوحدیثیں میں نے سودن میں آپ کوسنائیں آپ ایک گھڑی میں مجھے سنائے دیتے ہیں مجھے معلوم نہ تھاکہ آپ ان حدیثوں میں یوں عمل کرتے ہیں-اے فقہ والو!تم طیب ہواورہم محدث لوگ عطارہیں اوراے ابوحنیفہ ! تم نے فقہ وحدیث دونوں کنارے لئے -‘‘والحمدللہ-

یہ تویہ خودان سے بھی بدرجہااجل واعظم ان کے استاداکرم واقدم امام عامرشعبی جنہوں نے پانچ سو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنھم کو پایا ، حضرت امیرالمومنین مولی علی وسعد بن ابی وقاص و سعید بن زیدوابوھریرہ وانس بن مالک وعبداللہ بن عمروعبداللہ بن عباس وعبداللہ بن زبیروعمران بن حصین وجریربن عبداللہ ومغیرہ بن شعبہ وعدی بن حاتم وامام حسنؓ وامام حسینؓ وغیرہ ہم بکثرت اصحاب کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شاگرد اورہمارے امام اعظم ؓ کے استادہیں جن کاپایۂ رفیع حدیث میں ایساتھاکہ فرماتے ہیں بیس سال گزرے ہیں کسی محدث سے کوئی حدیث میرے کان تک ایسی نہیں پہنچی جس کاعلم مجھے اس سے زائد نہ ہو،ایسے امام والامقام باآں جلالت شان فرماتے :

{انّالسنابالفقھاء ولکنا سمعنا الحدیث فرویناہ الفقہاء من اذاعلم عمل -نقلہ الذھبی فی تذکرۃ الحفاظ}

ترجمہ:-’’ہم لوگ فقیہ ومجتہدنہیں ہمیں مطالب حدیث کی کامل سمجھ نہیں ہم نے توحدیثیں سُن کرفقیہوں کے آگے روایت کردی ہیں جوان پرمطلع ہوکرکاروائی کریں گے (اسے ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ میں نقل کیا)-‘‘

مگرآج کل کے نامُشخَّص حضرات کواپنی یادوفہم اوراپنے دوحرفی نام علم پروہ اعتماد ہے جوابلیس لعین کو اپنی اصل آگ پرتھاکہ دوحرف رٹ کرہرامامِ اُمت کے مقابل اناخیرمنہ (میں اس سے بہترہوں)کی بینٹی گھمانے کے سواکچھ نہیں جانتے  ولاحول ولاقوۃ الاباللّٰہ العظیم- (فتاویٰ رضویہ،ج ۲۲ص ۲۹۴تا۳۰۵، رضا فاونڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ، پاکستان) 

اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی اس طویل عبارت سے یہ واضح ہواکہ مسلمہ بزرگوں کی نقل کردہ روایات کاانکارنہیں کرناچاہیے کیوں کہ ان کاطریق کتاب و سنت کی حقیقی برکات سے مستحکم اور اخلاق انبیاء علیہم السلام و اصفیاء کے سلوک پر مبنی ہوتا ہے اور یہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں باعتبارِ تقویٰ و رجوع الیٰ اللہ سب سے افضل ترین گروہ ہے -

حضرت ذوالنون مصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جب جماعت صوفیاء کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:

{ھم قوم اثرواللّٰہ عزوجل علی کل شیٔ فاثرھم اللّٰہ عزوجل علی کل شیٔ } (رسالہ قشیریہ باب التصوف ص ۳۱۴ دارالکتب العلمیہ بیروت)

ترجمہ :- یہ وہ قوم ہے جو اللہ عز وجل کو ہر چیز پر ترجیح دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر چیز پر ترجیح دے دی-‘‘

امام ابی القاسم عبدالکریم بن ھوازن القشیری (المتوفی ۴۶۵ ھ) جماعتِ صوفیاء کے اوصاف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

{فقد جعل اللّٰہ ھذہ الطائفۃ صفوۃ اولیائہ، و فضَّلھم علی الکافۃ من عبادہ، بعد رسلہ وانبیائہ، صلوات اللّٰہ وسلامہ علیھم، ،وجعل قلوبھم معادن أ سرارہ، واختصَّھم من بین الأ مۃ بطوالع أنوارہ}

{فھم الغیاث للخلق ، والدائرون فی عموم أحوالھم مع الحق بالحق، صفاھم من کدورات البشریۃ ، ورقَّاھم الی محال المشاھدات بما تجلی لھم من حقائق الأحدیۃ. ووفَّقھم للقیام بآداب العبودیۃ ، وأ شھدھم مجاری احکام الربوبیۃ}

{فقاموا بأداء ما علیھم من واجبات تکلیف، و تحققوا بما منہ سبحانہ لھم من التقلیب والتصریف}

{ثم رجعوا الی اللّٰہ ، سبحانہ وتعالیٰ ، بصدق الافتقار، ونعت الانکسار ولم یتکلوا علی ما حصل منھم من الاعمال ، اوصفا لھم من الاحوال} (رسالۃ قشیریۃ ص ۸ ،دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

’’پس تحقیق اللہ تعالیٰ نے جماعتِ صوفیاء کو اپنے اولیاء میں سے منتخب فرمایا ہے اور اپنے رسولوں اور انبیاء (ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور سلام ہو)کے بعد اپنے تمام بندوں پر ان کو فضیلت دی اور ان کے دلوں کو اپنے اسرار کا مخزن بنایا اور امت کے درمیان ان کو اپنے انوار کے طلوع ہونے کے ساتھ خاص کیا-

وہ مخلوق کے مددگار ہیں اور اپنے عام حالات میں حق کے ساتھ حق کے ہمراہ پھرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو بشری کدورتوں سے پاک کیا ہے اور وحدانیت کے جو حقائق ان کیلئے روشن کیے ان کے مشاہدات کے مقامات کی طرف ان کو ترقی دی اور ان کو آدابِ عبودیت (بندگی) قائم رکھنے کی توفیق دی اور احکامِ ربوبیت جاری ہونے کے مقامات میں حاضر کیا-

پس ان کو جن واجبات کا مکلف بنایا وہ ان کو ادا کرنے کیلئے کمر بستہ ہوئے اور اللہ رب العزت کی طرف سے جو تبدیلی اور پھرنے کا حکم ملا اس کو ثابت کیا -

پھر وہ سچی محتاجی اور انکساری کی صفت کے ساتھ اپنے رب کی طرف لوٹے اور انہوں نے اپنے اعمال یا احوال کی صفائی پر بھروسہ نہ کیا‘‘-

 صوفیاء کی اسی اخلاقی پاکیزگی نے حجۃ الاسلام امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ کو بہت متأثر کیاآپ جماعت صوفیاء کاآنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

{انی علمت یقینا ان الصوفیۃ ھم السابقون لطریق اللّٰہ تعالیٰ خاصۃ، وأن سیرتھم احسن السیر ، و طریقھم أصوب الطرق ، أخلاقھم ازکی الأخلاق، بل لو جمع عقل العقلاء ، و حکمۃ الحکمائٗ وعلم الواقفین علی أسرار الشرع من العلماء ، لیغیروا شیئا من سیرھم واخلاقھم و یبدلوہ بما ھو خیر منہ، لم یجدوا الیہ سبیلا، فان جمیع حرکاتھم وسکناتھم ، فی ظاہر ھم و باطنھم، مقتبسۃ من نور مشکاۃ النبوۃ، ولیس وراء نورالنبوۃ علی وجہ الارض نور یستضاء بہ}(مجموعۃ رسائل امام غزالی، المنقذ من الضلال ، ص ۶۲-دارالکتب العلمیہ بیروت ،لبنان)

’’بے شک مجھے قطعیت کے ساتھ معلوم ہوا کہ صوفیاء ہی وہ جماعت ہے جو خصوصیت سے اللہ کی راہ پر گامزن ہے اور ان کی سیرت سب سیرتوں سے بہتر ہے اور ان کا طریق سب طریقوں سے زیادہ صاف ہے ان کے اخلاق سب اخلاقوں سے پاکیزہ تر ہیں بلکہ اگر تمام عقلاء کی عقل اور حکماء کی حکمت اور علماء میں واقفانِ شریعت کے اسرار و علم کو جمع کیا جائے تاکہ یہ لوگ صوفیاء کی سیرت اوراخلاق میں سے ذرابھی بدل سکیں اوراُن سے بہترسیرت کی تشکیل ہوسکے -تووہ یہ ہرگز نہیں کرسکیں گے-

کیونکہ ان کی تمام حرکات وسکنات چاہے ظاہری ہوں چاہے باطنی نورِ مشکاۃ نبوت سے ہی منور ہیں - اورنُورِنبوت سے بڑھ کرکوئی نوررُوئے زمین پراس لائق نہیں کہ اس سے روشنی حاصل کی جائے-‘‘

آپ اندازہ لگائیں کہ جن کی زندگی کی تمام حرکات وسکنات بارگاہ نبوت سے تشکیل پاتی ہوں -بھلاوہ کیسے غلط بیانی کرسکتے ہیں؟اوروہ کیسے تاجدارِ کائناتﷺ کی طرف غلط چیزمنسوب کرسکتے ہیں؟ یا جو قول آقا کریم صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلم کی بارگاہِ مُبارک سے تصدیق نہ کیا ہو وہ بیان کر سکتے ہیں -

امام ابی المواھب عبدالوہاب بن احمدبن علی الانصاری الشافی المصری المعروف بالشعرانی (المتوفی :۹۷۳ھ) ’’طبقات الکبری‘‘میں صوفیاء کے مقام ومراتب کوبیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں -

{ قال القشیری لم یکن عصرفی مدۃ الاسلام ،وفیہ شیخ من ھذہ الطائفۃ إلاواَئمۃ ذلک الوقت من العلماء قداستسلموا لذلک الشیخ ، وتواضعوا لہ، وتبرکوا بہ ولولا مزیۃ وخصوصیّۃ للقوم لکان الأمربالعکس.

قلت: ویکفینا للقوم مدحاً إذعان الامام الشافعی رضی اللّٰہ عنہ، لشیبان الراعی حین طلب الامام احمد بن حنبل أن یسألہ عمن نسی صلاۃ  لایدری أیّ صلاۃ ھی، وإذعان الامام احمدبن حنبل  لشیبان کذلک حین قال شیبان : ھذا رجل غفل عن اللّٰہ عزوجل فجزاؤہ أن یؤدب.

وکذلک یکفینا إذعان الامام احمد بن حنبل رضی اللّٰہ عنہ لأبی حمزۃ البغدادی الصوفی رضی اللّٰہ عنہ ، واعتقادہ حین کان یرسل لہ دقائق المسائل ویقول : ماتقول فی ھذایاصوفی؟ فشی ئٍ  یقف فی فھمہ الامام احمد ویعرفہ ابوحمزہ غایۃ المنقبۃ للقوم، کذلک یکفیناإذعان ابی العباس بن سُریج للجنیدحین حضرہ وقال لاأدری مایقول ولکن لکلامہ صولۃ لیست بصولۃ مبطل، وکذلک إذعان الامام أبی عمران للشبلی حین امتحنہ فی مسائل من الحیض ،وأفادہ سبع مقالات لم تکن عندأبی عمران.وحکی الشیخ قطیب الدین بن اَیمن رضی اللّٰہ عنہ أن الامام احمدبن حنبل رضی اللّٰہ عنہ کان یحث ولدہ علی الاجتماع بصوفیۃ زمانہ، ویقول اِنھم بلغوا فی الاخلاص مقاماً لم تبلغہٗ ،……قلت: وسمعت شیخی ومولائی اَبایحیی زکریاالأنصاری شیخ الاسلام یقول : إذلم یکن للفقیہ علم باحوال القوم ،واصطلاحاتھم ،فھوفقیہ جاف…۔

قلت وقد رأیت رسالۃ أرسلھا الشیخ محی الدین بن العربی رضی اللّٰہ عنہ للشیخ فخرالدین الرازی صاحب التفسیر،یبین لہ فیھانقص درجتہ فی العلم. ھذا والشیخ فخرالدین الرازی مذکورفی العلماء الذین انتھت إلیھم الریاسۃ فی الاطلاع علی العلوم من جملتھا:

’’{اعلم یاأخی وفقنا اللّٰہ وإیاک أن الرجل لایکمل عندنا فی مقام العلم ، حتی یکون علمہ عن اللّٰہ عزوجل بلا واسطۃ من نقل، اوشیخ. فان من کان علمہ مستفاداً من نقل،اوشیخ ،فما برح عن الأخذ عن المحدثات،وذلک معلول عند اہل اللّٰہ عزوجل ،ومن قطع عمرہ فی معرفۃ ا لمحدثات وتفاصیلھا،فاتہ حظہ من ربہ عزوجل ،لان العلوم المتعلقۃ بالمحدثات یفنی الرجل عمرہ فیھا،ولایبلغ إلی حقیقتھا،ولوأنک یاأخی سلکت علی ید شیخ من أھل اللّٰہ عزوجل ،لأوصلک إلی حضرۃ شھودالحق تعالیٰ ،فتأخذ عنہ العلم بالأمورمن طریق الإلھام الصحیح ،من غیرتعب ولانصب،ولاسھر،کماأخذہ الخضر علیہ السلام ، فلا علم إلا ما کان عن کشف و شھود ، لا عن نظر، وفکر،وظن وتخمین ،وکان الشیخ الکامل أبویزید البسطامی رضی اللّٰہ عنہ یقول لعلماء عصرہ اخذتم علمکم من علماء الرسوم میتًا عن میت، وأخذناعلمناعن الحیی الذی لایموت-

وینبغی لک یاأخی ألا تطلب من العلوم الا ماتکمل بہ ذاتک ،وینتقل معک حیث انتقلت ،ولیس ذلک إلاالعلم باللّٰہ تعالیٰ ،من حیث الوھب والمشاہدۃ ،فإن علمک بالطب مثلاً إنمایحتاج إلیہ فی عالم الأسقام ، والامراض،فإذا انتقلت إلی عالم مافیہ سقم،ولامرض فمن تداوی بذلک العلم-

فقد علمت یاأخی أنہ لاینبغی للعاقل أن یأخذمن العلوم إلاماینتقل معہ إلی البرزخ، دون ما یفارقہ عند انتقالہ إلی عالم الآخرۃ ،ولیس لمنتقل معہ إلاعلمان فقط،العلم باللّٰہ عزوجل ،والعلم بمواطن الآخرۃ-

حتی لا ینکرالتجلیات الواقعۃ فیھا،ولایقول للحق إذا تجلی لہ نعوذ باللّٰہ منک کما ورد، فینبغی لک یاأخی الکشف عن ھذین العلمین ،فی ھذہ الدارلتجنی ثمرۃ ذلک فی تلک الدار،ولاتحمل من علوم ھذہ الدار،إلا ماتمس الحاجۃ إلیہ فی طریق سیرک إلی اللّٰہ عزوجل علی مصطلح أہل اللّٰہ عزوجل ولیس طریق الکشف عن ھذین العلمین ، الا بالخلوۃ ، والریاضۃ ، والمشاھدۃ، والجذب الا لٰھی، وکنت أریدأن أذکرلک یاأخی الخلوۃ وشروطھا،ومایتجلی لک فیھاعلی الترتیب شیئاً فشیئاً، لکن منعنی من ذلک الوقت وأعنی بالوقت من لاغوص لہ فی أسرار الشریعۃ ،ممن دأبھم الجدال حتی أنکروا کل ماجھلوا،وقیدھم التعصب ،وحب الظھور،والریاسۃ ،وأکل الدنیابالدین عن الاذعان لأھل اللّٰہ تعالیٰ ، والتسلیم لھم}‘‘(الطبقات الکبری المسماۃ بلواقح الانوارفی طبقات الاخیارص ۱۰، ۱۱، ۱۲ دار لکتب العلمیۃ بیروت لبنان)

ترجمہ:امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دورِ اسلام میں کوئی ایسازمانہ نہیں گزرا کہ اس میں اس گروہ کاشیخ موجود ہواوراس زمانے کے علماء کے اماموں نے اس شیخ کے آگے گردن نہ جھکائی ہو اوراس سے عاجزی سے پیش نہ آئے ہوں اوراس سے برکت حاصل نہ کی ہواوراگران کویہ فضیلت و خصوصیت حاصل نہ ہوتی تو معاملہ اس کے برعکس ہوتا،

میں(امام شعرانی)کہتاہوں کہ اس قوم (جماعت صوفیاء)کی فضیلت کے لئے ہم کویہی کافی ہے کہ جس وقت امام احمدبن حنبل رضی اللہ عنہ نے حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ سے یہ پوچھناچاہاکہ اس شخص کاکیاحکم ہے جونماز میں یہ بھول جائے کہ یہ کون سی نماز پڑھ رہاہے؟تو حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ نے حضرت شیبان راعی رضی اللہ عنہ کے قول کومان لیااورحضرت امام احمدبن حنبل رضی اللہ عنہ نے حضرت شیبان راعی رضی اللہ عنہ کے سامنے اس وقت سرجھکادیاجس وقت انہوں نے فرمایا:کہ اایساشخص اللہ تعالیٰ سے غافل ہے پس اسکی پاداش یہ ہے کہ اس کی تادیب کی جائے -اوراس طرح امام احمدبن حنبل کاابی حمزہ بغدادی صوفی پراعتقاد لانااوران کے پاس دقیق مسائل کابھیجنا اوریہ کہنا (ماتقول فی ھذایاصوفی؟)کہ اے صوفی تم اس مسئلے میں کیاکہتے ہو؟جوچیزامام احمدکی سمجھ میں نہ آئے اوراس کوابوحمزہ سمجھ جائیں- تو اِس سے جماعت صوفیاء کی غایت درجہ کی تعریف نکلتی ہے - (امام شعرانی فرماتے ہیں )اسی طرح ہمارے لئے کافی ہے ابولعباس بن سریج کاحضرت جنیدبغدادی رضی اللہ عنہ پراعتقاد لانا - جب وہ ان کے پاس حاضرہوئے توکہنے لگے کہ جو کچھ جنیدکہتے ہیں اس کو تو میں نہیں جانتا لیکن ان کے کلام میں ایک رعب پایاجاتاہے - جواہل باطل کارعب نہیں ہے اوراسی طرح امام ابوعمران اکابرین فقہاء میں تھے نے حضرت امام شبلی رضی اللہ عنہ کے آگے اس وقت سرجھکایاجس وقت حیض کے مسائل میں حضرت امام شبلی کاامتحان لینا چاہااورانہوں نے سات ایسی باتیں بتائیں جوامام ابوعمران کومعلوم نہ تھیں -

اورشیخ قطب الدین ایمن رضی اللہ عنہ نے نقل کیاہے کہ امام احمدبن حنبل رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے کورغبت دلایاکرتے تھے کہ اپنے زمانے کے صوفیوں کے پاس جایاکرو اورکہاکرتے تھے کہ یہ لوگ خلوص میں جس درجہ تک پہنچے ہیں وہاں تک تم نہیں پہنچے-----مَیں(امام شعرانی )کہتا ہوں کہ میں نے اپنے پیرومرشد اورآقاومولیٰ حضرت ابویحیٰ زکریاانصاری رضی اللہ عنہ کوکہتے سناکہ جب فقیہ کو اس قوم (جماعت صوفیاء)کے احوال اوران کی اصطلاحات سے واقفیت نہ ہوتو وہ برہنہ پافقیہ ہے ‘‘-

میں (امام شعرانی)کہتاہوں کہ میں نے ایک رسالہ دیکھاہے جو شیخ حضرت محی الدین ابن عربی رضی اللہ عنہ نے حضرت امام فخرالدین رازی صاحب تفسیرکبیرکولکھ کربھیجاتھا-اس میں انہوں نے امام صاحب کے درجہ کاعلم میں کمتر ہونابیان کیاہے -حالانکہ امام فخرالدین رازی کاشماراُن علماء میں ہے-جن پرتمام علوم (اسلامیہ )کی ریاست ختم ہوتی ہے -

(اوروہ خط یہ ہے )

’’اے میرے بھائی خداہم کوتوفیق عطافرمائے سنو! کوئی شخص ہمارے نزدیک علم کے مقام میں اُس وقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک اس کاعلم بغیرواسطۂ نقل یااستاد کے خدائے عزوجل کی طرف سے نہ ہو کیونکہ جس کاعلم نقل یااستاد سے حاصل ہوتاہے (یقینا) وہ برابرنوپیداچیزوںسے لیتاہے - اور (یہ) اہل اللہ کے نزدیک خالی ازعلت نہیں اورجس نے نوپیدا چیزوں کی شناخت اوراس کی تفاصیل میں عمر گنوائی اس نے اپنا حصہ اللہ عزوجل کے پاس کھودیاکیونکہ آدمی ان علوم میں جونوپیداچیزوں سے تعلق رکھتے ہیں اپنی عمر کوفناکرتاہے اوران کی حقیقت تک نہیں پہنچتا-

اے میرے بھائی! اگرآپ اہل اللہ میں سے کسی شیخ کے ہاتھ پربیعت کرکے سلوک اختیارکرتے تووہ تم کوحق تعالیٰ کے حضور مرتبۂ شہود تک پہنچادیتا-وہاں سے تم اشیاء کاصحیح علم الہام کے طریقے سے حاصل کرتے جس میں نہ مشقت ہے نہ ماندگی ہے نہ بے خوابی ہے جیسا کہ خضرعلیہ السلام نے حاصل کیا - پس علم توہے ہی وہی جوکشف وشہود سے حاصل ہونہ کہ وہ جونظر وفکراورگمان وقیاس سے -

اورشیخ کامل حضرت ابویزید بسطامی رضی اللہ عنہ اپنے زمانے کے علماء سے فرمایاکرتے تھے تم نے اپنے علوم رسمی عالموں (یعنی ) مُردوں نے مُردوں سے حاصل کئے ہیں -اورہم نے اپنے علوم اُس زندہ جاوید سے حاصل کئے ہیں جومرنے والانہیں ہے اوراے میرے بھائی! آپ کے لئے مناسب یہی ہے کہ علوم میں سے اُسی علم کی جستجومیں رہوجس سے تمہاری ذات کامل ہو-

اور جہاں تم جائو تمہارے ساتھ رہے اور ایسا علم صرف علم باللہ ہی ہے جو وھب اور مشاہدہ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے پس اگر آپ کا علم طب ہے مثال کے طور پر تو اس کی ضرورت اُسی عالم میں ہے جہاں دکھ اور بیماریاں ہیںاور جب تم اس عالم میں منتقل ہوجائو گے جہاں دکھ اور مرض نہیں ہے تو وہاں اس علم کے ذریعے کس کا علاج کرو گے؟

اے میرے بھائی ! یقینا آپ کو علم ہوگا کہ صاحب عقل کیلئے مناسب یہی ہے کہ علوم میں سے صرف وہی علم حاصل کرے جو اس کے ساتھ عالمِ برزخ تک جائے نہ کہ وہ جو عالمِ آخرت کی طرف منتقل ہوتے وقت ساتھ چھوڑ دے اور آدمی کے ساتھ جانے والے صرف دو ہی علم ہیں ایک علم باللہ اور دوسرا مواطن آخرت (معاملات آخرت ) کا علم-

حتیٰ کہ اس عالم میںجو تجلیات واقع ہوں اس کا انکار نہ کر بیٹھے اور جب حق کی تجلی اس پر ہو تو’’ نعوذ باللہ منک‘‘ نہ کہہ دے جیسا کہ وارد ہوا ہے اس لیے اے میرے بھائی! آپ کیلئے یہ مناسب ہے کہ اسی عالم میں یہ دونوں علم آپ پر کھل جائیں تاکہ ان کا پھل اس عالم میں تم کو ملے، اور اس عالم کے انہی علوم کو لو جن کی ضرورت اہل اللہ کی اصطلاح کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کے راستہ میں پیش آئے اور کشف کا راستہ (فقط) ان دونوں علوم میں سے نہیں مگر خلوت، ریاضت ، مشاہدہ اور جذبِ الٰہی کیساتھ-

اور اے میرے بھائی !مَیں نے چاہا (کہ ان دونوں علموں کا انکشاف)صرف خلوت اور اس کی شرائط اور ان تجلیات کا جو آپ کو خلوت میں نظر آئیں ترتیب وار تھوڑا تھوڑا کر کے آپ کیلئے ذکر کروں لیکن (مخالفتِ) زمانہ نے مجھے اس ارادے سے باز رکھا ۔ (مخالفتِ) زمانہ سے میری مراد وہ اشخاص ہیں جن کو اسرارِ شریعت کی سمجھ نہیں ہے جن کا طریقہ لڑنا جھگڑنا ہے یہاں تک کہ ایسے لوگ جتنی چیزوں سے ناواقف ہوتے ہیں اُن سب کا انکار کرتے ہیں اور تعصب اور نام و نمو د سردار بننے اور دین کے ذریعے سے دنیا حاصل کرنے کی محبت نے ان کو اہل اللہ پر اعتقاد لانے اور ان کی بزرگی کو ماننے سے روک رکھا ہے-‘‘ (شیخ ابن عربی کا خط ختم ہوا)

امام اجل الشیخ محمد بن علی بن عطیہ الحارثی بابی طالب المکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف ’’ قُوتُ القلوب فی معاملۃ المحبوب و وصف طریق المرید الی مقام التوحید‘‘ میں صوفیاء کرام کے مقام اور عظمت کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : عبارت نقل کرنے سے پہلے مناسب سمجھتا ہوں کہ اس کتاب کی اہمیت واضح کردوں-

تصوف کی دنیا میں ’’ قُوتُ القلوب‘‘ ایسی مستند ترین کتاب ہے جس سے امام غزالی جیسی شخصیات نے استفادہ کیا ہے:’’المنقذ من الضلال‘‘ میں امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :

{فابتدأت بتحصیل علمھم من مطالعۃ کتبھم مثل قوت القلوب لأبی طالب مکی رحمۃ اللّٰہ وکتب الحارث المحاسبی والمتفرقات المأ ثورۃ عن الجنید والشبلی وأ بی یزید البسطامی قدس اللّٰہ ارواحھم} (مجموعہ رسائل غزالی المنقد من الضلال ص ۵۷، دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

ترجمہ:-’’ میں نے علمِ صوفیاء کو حاصل کرنے کی ابتدا ان کی کتابیں پڑھنے سے شروع کی مثلاً ابو طالب مکی کی قُوتُ القلوب اور تصنیفاتِ حارث محاسبی اور متفرقاتِ ماثورہ جنید و شبلی اور بایزید بسطامی قدس اللہ ارواحھم-‘‘

اب حضرت ابُو طالب مکی رحمہ اللہ کی قوت القلوب کی عبارت ملاحظہ کیجیئے:

{وقد کان علماء الظاہر إذا أشکل علیھم العلم فی مسأ لۃ لاختلاف الأ دلۃ سأ لوا أھل العلم باللّٰہ لأ نھم أقرب إلی التوفیق عندھم وأبعد من الھوی والمعصیۃ منھم :

الشافعی رحمہ اللّٰہ تعالیٰ کان إذا اشتبھت علیہ المسأ لۃ لاختلاف أقوال العلماء فیھا وتکافؤ الا ستدلال علیھا رجع إلی علماء أھل المعرفۃ فسألھم قال: وکان یجلس بین یدی شیبان الراعی کما یجلس الصبی بین یدی المکتب ویسأ لہ کیف یفعل فی کذا و کیف یصنع فی کذا فیقال لہ مثلک یا ابا عبداللّٰہ فی علمک و فقھک تسأل ھذا لبدوی فیقول : ان ھذا وفق لما علمناہ----وقد کان أحمد بن حنبل و یحی بن معین رضی اللّٰہ تعالیٰ عنھما یختلفان إلی معروف بن فیروز الکرخی رحمھم اللّٰہ ولم یکن یحسن من العلم والسنن ما یحسنا نہ فکانا یسٔا لانہ }( قُوتُ القلوب جلد ۱ ص ۲۷۰، ۲۷۱ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)

ترجمہ: علمائِ ظاہر کو جب کوئی مسئلہ دلائل میں اختلاف پائے جانے کی وجہ سے حل کرنا مشکل ہوجاتاتو وہ کسی عالم باللہ (صوفی)کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھا کرتے کیونکہ وہ تسلیم کرتے کہ یہ لوگ ان کے نزدیک بھی اللہ جل وعلا کی توفیق کے زیادہ قریب اور نفسانی خواہشات اور معصیت سے بہت دور ہیں-

حضرت امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب کبھی علماء کرام کے اقوال میں اختلاف پائے جانے کی وجہ سے کسی مسئلہ میں اشکال پیدا ہوجاتا اور وہ استدلال نہ کر پاتے تو اہلِ معرفت علماء کرام (یعنی صوفیاء کرام) کی خدمت میں حاضر ہوکر ان سے پوچھتے ،-

منقول ہے: کہ وہ (امام شافعیؓ) حضرت شیبان راعیؓ کی خدمت میں اس طرح بیٹھا کرتے تھے جیسے کوئی بچہ مکتب میں استاد کے سامنے بیٹھتا ہے اور ان سے عرض کرتے کہ فلاں مسئلہ میں کیا کریں اور فلاں میں کیا کریں؟ تو انہیں جواب ملتا اے ابو عبداللہ ! آپ جیسا عالم اور فقیہ اس بدوی سے مسائل دریافت کرتا ہے تو وہ (امام شافعی )عرض کرتے ہیں جو ہم جانتے ہیں یہ سوال کرنا بھی اُسی کے موافق ہے ---- حضرت امام احمد بن حنبل ؓ اور حضرت امام یحی بن معین ؓ اکثر حضرت معروف بن فیروز کرخی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے حالانکہ حضرت معروف کرخی ؓ  علم و سنن میں ان دونوں سے زیادہ (عالم و محدث) نہ تھے مگر اس کے باوجود وہ دونوں ان سے مسائل دریافت کیا کرتے تھے-

اورامام الفقہاء والمجتھدین سید محمدامین ابن عابدین الشامی (المتوفی۱۲۵۲ھ) ’’ردالمختار‘‘میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہؓ کے متعلق لکھتے ہیں :

{لولاالسنتان لھلک النعمان}

ترجمہ:-’’اگر میرے دوسال تحصیل کمالات باطنیہ میں صرف نہ ہوتے تونعمان بن ثابت ہلاک ہوجاتا-‘‘

ایک لمحہ کے لئے ائمہ اربعہ اوربالخصوص امام اعظم ابوحنیفہ ،امام احمدبن حنبل، امام شافعی،امام یحییٰ بن معین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے مقام اورمرتبہ کوبھی دیکھیں اورامام اعظم ابوحنیفہ کاحضرت امام جعفرصادق ،امام شافعی کاحضرت شیبان راعی ،امام احمد بن حنبل اورامام یحییٰ بن معین کاحضرت معروف کرخی ،فقیہ ابوعمران کاحضرت امام شبلی اورابوالعباس بن سریج کاحضرت جنیدبغدادی اورحضرت امام احمدبن حنبل کاحضرت ابی حمزہ بغدادی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی خدمت میں بیٹھنا بھی دیکھیں - اس لئے یہ بڑے احتیاط کی جگہ ہے:

علامہ سید محمد امین ابن عابدی شامی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ۱۲۵۲ھ) لکھتے ہیں:

{ومن فتح باب اعتراض علی المشائخ والنظر فی افعالھم والبحث عنھا فان ذلک علامۃ حرمانہ سوء عاقبتہ وانہ لا یفلح انتھی}(مجموعہ رسائل ابن عابدین ،الجز الثانی ص ۲۸۹،سہیل اکیڈمی لاہور پاکستان)

ترجمہ:-’’اور جس شخص نے صوفیاء و اولیاء پر اعتراض کا دروازہ کھولا اور (عیب جوئی کیلئے) ان کے افعال میں نظر کی اور (مخالفت میں) اس سے بحث کی بے شک یہ بد نصیبی اور بُرے خاتمے کی علامت ہے اور بے شک وہ کبھی بھی فلاح نہیں پائے گا-‘‘

ضروری گزارشات:

لہٰذا اگر ہم تصانیفِ صُوفیائے کرام میں عملِ تخریج کے دوران وسائل کی کمی یا کُتبِ احادیث کی عدمِ دستیابی یا کسی بھی اور وجہ سے متنِ حدیث ڈھونڈنے میں ناکام ہو جائیں تو :

(۱) اُس کے حدیث ہونے سے اِنکار نہ کیا جائے -

(۲) اُسے اپنی علمی کم مائیگی کی طرف لوٹایا جائے -

(۳) تمام متونِ حدیث کے دستیاب ہونے تک اُس پہ تحقیق کا کام جاری رکھا جائے -

(۴) صُوفیا و اولیا کے روایتِ حدیث کے طریقہ کو لازماً مدِّ نظر رکھّا جائے اور اُسے برحق مانا جائے - کیونکہ یہ ہستیاں اکثر فرامین و احادیث براہِ راست مجلسِ نبوُّت ﷺ سے سِماع فرماتی ہیں -

حُکمِ شرعی:

صوفیاء کرام جواحادیث مبارکہ خواب میں یا براہِ راست حضورنبی کریم ﷺ سے لیتے ہیں جیسا کہ حضرت امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے کثرت سے احادیث کو لیا اور بعض احادیث کی تصحیح کروائی اور شاہ صاحب نے توان تمام احادیث مبارکہ کو ایک رسالہ میں جمع کیا جس کا نام دُرِ ثمین رکھا ہے تو ایسی تمام احادیث فضائل اعمال اور مناقب میں معتبر ہیں لیکن ان سے احکام شرعی ثابت نہیں ہوں گے - اوراس بات کی بھی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ خواب یابیداری میں حضورنبی پاک ﷺ کی زیارت سے مشرف ہونے والے شخص کوصحابی نہیں کہیں گے اورنہ صحابیت کادرجہ دیں گے اورنہ دے سکتے ہیں اورنہ وہ کسی صحابی کے مقام ومرتبہ کے برابر ہوسکتا ہے -

سلطان العارفین ، برھان الواصلین حضرت سخی سلطان باھُو رحمۃ اللہ علیہ (۱۰۳۹-۱۱۰۲ ہجری) ’’کلید التوحید کلاں ‘‘میں اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

جمیع اصحاب ،اصحاب صفہ واصحاب بدرواصحاب کباررضوان اللہ تعالیٰ علیہم ہیچ کس نہ میرسد بجز اصحابانِ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم-

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اصحاب پاک کے سواکوئی اورشخص اصحابہ صفہ ،اصحاب بدر اصحاب کبار اورجملہ صحابہ کرام کے مراتب تک نہیں پہنچ سکتا - (کلید التوحید کلاں : صفحہ ۱۴۲: العارفین پبلیکیشنز لاہور،پاکستان)

شیخ محقق حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ میں لکھتے ہیں :

در حصولِ صحبت و ثبوت احکام شرعی بر غیر رائی حجت نہ واللّٰہ اعلم - (اشعۃ اللمعات جلد ۳ ص ۶۸۴ کتاب الرؤیاء مکتبہ رشیدیہ سرکی روڈ کوئٹہ)

(کوئی ولی اللہ )حضورنبی کریم ﷺ کی زیارت کرنے سے صحابی نہیں بنتا اور احکام شرعیہ کے ثبوت کیلئے دوسرے شخص کے نزدیک یہ زیارت حجت نہیں ہے - واللہ تعالیٰ اعلم

خُلاصۂ کلام :

خلاصہ کلام یہ ہے کہ صوفیاء کرام حضور نبی کریم ﷺ کے رُوحانی اور باطنی شاگرد ہوتے ہیں اور آپ ﷺ ان کا ظاہری اور باطنی تزکیہ اور تعلیم و تلقین فرماتے ہیں اور یہ اللہ جل شانہٗ اور اس کے محبوب پاک ﷺ کی مرضی و رضا کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اور یقینا انہی نفوس قدسیہ کی شان میں آیا ہے -

{کنت سمعہ الذی یسمع بہ وبصرہ الذی یبصر بہ ویدہ التی یبطش بہا ورجلہ التی یمشی بہا }( ولسانہ التی یتکلم بہ)

اور انہی سے متعلق فرمایا گیا ہے :

{اتقوا فراسۃ المؤمن فانہ ینظر بنو راللّٰہ تعالیٰ}

امام ابی القاسم عبدالکریم بن ھوازن القشیری ’’ رسالۃ القشیریۃ ‘‘(ص:۱۱) میں فرماتے ہیں :

{اعلموا، رحمکم اللّٰہ، أن شیوخ ھذہ الطائفۃ بنوا قواعد أمرھم علی أصول صحیحۃ فی التوحید، صانوا بھا عقائدھم عن البدع، ودانوا بما وجدوا علیہ السلف واھل السنۃ}

 ترجمہ:-’’جان لو اللہ تم پر رحم فرمائے اس جماعتِ صوفیاء کے بزرگوں نے توحید کے سلسلے میں اپنے موقف کے قواعد کو صحیح اصول پر استوار کیا ہے انہوں نے اپنے عقائد کو بدعات سے محفوظ رکھا اور جو کچھ اسلاف اور اہلِ سنت سے پایا اس کے قریب تر ہے- ‘‘

اور ’’ رسالۃ القشیریۃ ‘‘(ص:۴۲۷) میں لکھتے ہیں :

{کان اصول ھذہ الطائفۃ اصح الاصول ، ومشایخھم اکبر الناس ، وعلماء ھم اعلم الناس }

ترجمہ:اس گروہ کے اصول سب سے زیادہ صحیح اصول ہیں اور ان کے مشائخ تمام لوگوں سے بڑے اور ا ن کے علماء سب لوگوں سے بڑھ کر علم رکھنے والے ہیں -

اور حجۃ الاسلام امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ ’’ المنقذ من الضلال‘‘  ص ۶۲ میں فرماتے ہیں :

{ وأن سیرتھم احسن السیر، و طریقھم أصوب الطرق ، أخلاقھم ازکی الأخلاق،}

ترجمہ:-’’اور ان کی سیرت سب سیرتوں سے بہتر ہے اور ان کا طریق سب طریقوں سے زیادہ صاف ہے ان کے اخلاق سب اخلاقوں سے پاکیزہ تر ہیں -‘‘

اور جیسا کہ امام ابو طالب مکی ان کی شان میں ’’ قوت القلوب‘‘ ( ص ۲۷۰ )میں لکھتے ہیں:

{وقد کان علماء الظاہر إذا أشکل علیھم العلم فی مسأ لۃ لاختلاف الأ دلۃ سأ لوا أھل العلم باللّٰہ لأ نھم أقرب إلی التوفیق عندھم وأبعد من الھوی والمعصیۃ منھم :

ترجمہ:-’’علمائِ ظاہر کو جب کوئی مسئلہ دلائل میں اختلاف پائے جانے کی وجہ سے حل کرنا مشکل ہوجاتاتو وہ کسی عالم باللہ (صوفی)کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھا کرتے کیونکہ وہ تسلیم کرتے کہ یہ لوگ ان کے نزدیک بھی اللہ جل وعلا کی توفیق کے زیادہ قریب اور نفسانی خواہشات اور معصیت سے بہت دور ہیں-‘‘

اعلیٰ حضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ ’’فتاو یٰ رضویہ ‘‘ (جلد:۲۲- ص:۵۵۷) میں امام ابو طالب مکی کے بارے میں لکھتے ہیں :

{وقول الشیخ ابی طالب المکی یعتبر لو فور علمہ وکمال حالہ و علمہ باحوال السلف ومکان ورعہ واتقواہ و تحریہ الاصواب والاولی}

ترجمہ:-’’اور شیخ ابو طالب مکی رحمۃ اللہ علیہ کا قول معتبر او رمستند ہے - کیوں؟ اس لیے کہ وہ کثیر علم سے معمور ہیں حال میں صاحبِ کمال ہیں اور اسلاف کے حالات کو بخوبی جانتے ہیں اور تقویٰ اور ورع میں ان کا ایک خاص مقام ہے اور زیادہ صواب اور زیادہ بہتر امور میں گہری سوچ اور فکرِ کا مل رکھتے ہیں -

اعلیٰ حضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ ’’فتاو یٰ رضویہ ‘‘میں لکھتے ہیں کہ صوفیاء کرام کی نسبت یہ کہنا کہ اُن کاقول وفعل معاذ اللہ کچھ وقعت نہیں رکھتا بہت سخت اور نامُناسب بات ہے -اللہ عزوجل فرماتا ہے :

{واتبع سبیل من اناب الیّ }(لقمان:۱۵)

جومیری طرف جھکے ان کی راہ کی پیروی کر-

صوفیاء کرام سے زیادہ اللہ کی طرف جھکنے والاکون ہوگا -فتاویٰ عالمگیری میں ہے -

{انمایتمسک بافعال اہل الدین}

دینداروں ہی کے افعال سے سندلائی جاتی ہے -

صوفیاء سے بڑھ کرکون دین دار ہے - (فتاویٰ رضویہ جلد ۲۲:صفحہ :۵۵۹:رضافائوندیشن لاہورپاکستان)

(واللّٰہ و رسولہ اعلم )

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر