تبیان القرآن کے تفسیری منہج کا عصرِحاضرکے رجحانات میں جائزہ

تبیان القرآن کے تفسیری منہج کا عصرِحاضرکے رجحانات میں جائزہ

تبیان القرآن کے تفسیری منہج کا عصرِحاضرکے رجحانات میں جائزہ

مصنف: شفقت علی مئی 2019

قرآن کریم دینِ اسلام کا بنیادی مآخذ اور شریعتِ محمدی (ﷺ) کی اساس ہے-قرآن مجید جسے اُم الکتاب بھی کہا گیا ہے اپنے نظم و انداز بیان میں تمام اسالیب سے مختلف اور منفرد نوعیت کا حامل ہے جس میں جامعیت، اکملیت و آفاقیت، حکمت و معرفت، معانی و مطالب کی عمیقت، دلائل و براہین کا تنوع، جملوں کی عام فہمی اور اختصار،منطق و استدلال کی جدت اور اپنے اندر فصاحت و بلاغت کا وہ اعلیٰ ترین معیار سموئے ہوئے ہے کہ بڑے بڑے دانشور،فصحا ء و بلغاء حیران و ششدر رہ گئے اور اس حقیقت ِ مطلق کوتسلیم کئے بغیر نہ رہ سکےکہ قرآن معجز اتی کلام ہے اور یہ اعجاز قرآن مجید کو ہی حاصل ہے کہ وہ واحد کلام ہے جس کی نظیر لانے سے تمام جن و انس بھی عاجز رہے ہیں-

ہر عہد میں مختلف تفاسیر مختلف ضروریات کے باعث لکھی جاتی رہیں ہیں جو مختلف موضوعات و علوم پر سیر حاصل گفتگو کرتی ہیں- آج تک بہت سےآئمہ مفسرین نےقرآن کریم کی ضخیم، جامع اورمفصل تفسیرلکھی ہیں لیکن کوئی ایک تفسیر بھی ایسی نہیں جس کے بارے میں کہا جائے کہ تمام موضوعات قرآنی کا احاطہ کئے ہوئے ہے- حالات کے تغیرات سے تقاضے تبدیل ہوتے رہتے  ہیں، جبکہ قرآن مجید کا پیغام ابدیت پر قائم ہے، جس سے تفسیر کا منہج بھی ایسے اسلوب کا مطالبہ کرتا ہے- عصر حاضر سابقہ ادوار کی طرح قرآن پاک پہ تحقیقات کی کئی مثالیں پیش کرتا ہے کہ کس طرح اہلِ علم قرآن پاک کی خدمت کر رہے ہیں، خاص کر تفسیرِ قرآن میں-جہاں کئی زبانوں میں تفاسیر مرتب کی جا رہی ہیں اُن میں اُردو زبان کا ایک اپنا مقام ہے جس میں کئی تفاسیر لکھی گئی ہیں ، اردو زبان کے اس تفسیری ادب میں ایک بڑی جامع تفسیر لکھی گئی ہے جسے ’’تبیان القرآن‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے - زیر نظر مضمون میں ہم ’’تبیان القرآن‘‘ کے تفسیری منہج کا عصرِ حاضر کے رجحانات اور علمی مباحث کی روشنی میں مختصرتحقیقی جائزہ لیں گے کہ ’’تبیان القرآن‘‘ کاتفسیری منہج، خصوصیات اور عصری معنویت و انفرادیت کیا ہے؛ اور مذکورہ تفسیر بالخصوص دور جدید کے رجحانات میں کس حدتک قابلِ اطلاق اور ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہے-

تفسیر کی کامل تعریف بڑی ہی احسن انداز میں علامہ میر سید شریف جرجانی یوں فرماتے ہیں:

’’تفسیر کا لغوی معنی کشف اور ظاہرکرنا ہے جبکہ اصطلاحی معنی ’’واضح لفظوں کے ساتھ آیت کے معنی کو بیان کرنا، اس سے مسائل مستنبط کرنا، اس کے متعلق احادیث و آثار بیان کرنا اور اس کا شان نزول بیان کرنا ہے‘‘-[1]

جبکہ علامہ ابو الحیا ن اندلسی بیان فرماتےہیں:

’’تفسیر وہ علم ہےجس میں الفاظ قرآن کی کیفیت نطق، ان کے مدلولات، ان کے مفرد اور مرکب ہونے کے احکام، حالت ترکیب میں ان کے معانی اور ان کے تتمات سے بحث کی جاتی ہے‘‘-[2]

علامہ غلام رسول سعیدی مذکورہ تعریفِ تفسیر کی توضیح اپنی تفسیر ’’تبیان القرآن‘‘ کے مقدمہ میں یوں لکھتےہیں:

’’الفاط قرآن کی کیفیت نطق سے مراد علم قرأت ہے، الفاظ قرآن کے مدلولات سے مراد ان الفاظ کےمعانی ہیں اور اس کا تعلق علم لغت سے ہے- مفرد اور مرکب کے احکام سے مراد علم صرف، علم نحو (عربی گرامر)، علم بیان اور علم بدیع (فصاحت اور بلاغت)ہے؛ اور حالت ترکیب میں الفاظ قرآن کے معانی سے مراد یہ ہے کہ کبھی لفظ کا ظاہری معانی مراد نہیں ہوتا اور اس کو مجاز پر محمول کیا جاتا ہے، اس کا تعلق علم معانی اور بیان سے ہے اور تتمات سے مراد ناسخ اور منسوخ کی معرفت، آیات کا شان نزول اور مبہمات قرآن کا بیان کرنا ہے‘‘-[3]

صاحب تفسیر کی مندرجہ بالا بیان کردہ تعریفِ تفسیر ان کی اپنی تفسیر کے مختلف پہلؤں کا بیان ہے؛بالفاظ دیگر تمام پہلو جن کا موصوف تعریف میں بیان کرتے ہیں یہ مذکورہ تمام پہلو تبیان القرآن کا خاصہ ہیں- تبیان القرآن کے اگر تفسیری منہج کو خلاصۃً بیان کیا جائے تو یہ تفسیر بالرائے اور تفسیر بالماثور دونوں میں شمار ہوتی ہے- مفسر جہاں اپنی رائے بیان کرتے ہیں تو وہ آثار کی دلیل اور معاونت سے بیان کرتے ہیں یعنی اس تفسیر کا منہج بالرائے محمود ہے نہ کہ مذموم-

تبیان القرآن علامہ غلام رسول سعیدی[4] کی 11 سال 10 ماہ 23 دن کی انتھک کاوشوں اور سعی کا نتیجہ ہے- یہ تفسیر 12 ضخیم جلدں پر مشتمل ہے- آپ نے 10رمضان المبارک 1414ھ (21 فروری 1994ء) کو تبیان القرآن لکھنے کا آغاز کیا اور   12 ذوا لحج1426ھ بمطابق 13 جنوری 2006ء بروز جمعہ کو یہ عظیم کام اپنی تکمیل کو پہنچا- دین ِمتین کے اس عظیم فریضے کو سر انجام دینے کیلئے علامہ غلام رسول سعیدی صاحب نے طویل عرصہ میں جس جان فشانی، محنت اور عرق ریزی سےمسلسل کام کیا اور بالخصوص دورانِ تفسیر دین اسلام کے عقائد، احکام و مسائل وغیرہ کو دور ِجدید کے رجحانات کو خاطر میں لاتے ہوئے جو مدلل،مفصل اور عام فہم اسلوب بیان اپنایا ہے وہ آپ کی وسعت علمی، پیغامِ الٰہی سے اٹوٹ وابستگی اور عشقِ مصطفےٰ (ﷺ)کا عکاس ہے- دورانِ تفسیر آپ نے زمانہ قدیم و جدید کی دیگر مشہور زمانہ  تفاسیر سے بھی استفادہ کیا ہے جن کا تذکرہ بطور مآخذ و مراجع کے ہر جلد کے آخر میں فرماتے ہیں-جیساکہ آپ رقم طراز ہیں کہ:

’’تفسیر میں، مَیں نے زیادہ تر احکام القرآن،الجامع الاحکام القر آن، ا لبحر ا لمحیط، تفسیر کبیر، الدرّ منثور اور روح المعانی سے استفادہ کیا ہے- جدید تفاسیر میں سے تفسیر منیر مراغی، فی ظلال القرآن اور تفسیر قاسمی بھی میرے پیش نظر رہی ہیں - اسباب نزول کے بیان میں جامع البیان پر زیادہ زور دیا ہے‘-[5]

علامہ غلام رسول سعیدی، تبیان القرآن کی ضرورتِ تفسیر کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:

’’ہمارے علمائے متقدمین نے تفسیر کے موضوع پر اس قدر عظیم کام کیا ہوا ہے کہ اس پرکوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہو سکتا- البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ علمائے اسلام کی زیادہ تر کاوشیں عربی زبان میں ہیں جن تک عام اردو دان طبقہ کی رسائی نہیں ہے تو اس بات کی بے شک ضرورت تھی کہ علوم اور معارف کے ان جواہر پاروں کو سہل اور عام فہم انداز میں جدید اسلوب نگارش کے مطابق اردو زبان میں منتقل کر دیا جائے- اسی طرح قرآن مجید کے تراجم کا حال ہے ؛ ہمارے بزرگ علماء نے اپنے اپنے زمانہ میں اس دور کی زبان کے مطابق قرآن مجید کی مفاہیم کو اردو زبان میں منتقل کیا اور ان کی یہ مساعی بہت قابل قدر بلکہ لائق رشک ہے- لیکن زبان کا اسلوب اور مزاج وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے اس وجہ سےمیں محسوس کرتا تھا کہ اس دور کے اردو پڑھنے والوں کے مزاج اور ان کے اسلوب کے مطابق قرآن مجید کا ترجمہ کرنا چاہیے تاکہ پڑھنے والوں کیلئے وہ ترجمہ اجنبی اور نا مانوس نہ ہو‘‘-[6]

با الفاظ دیگر یہی بات پروفیسر ڈاکٹر سعاد یلدرم نےاس طرح بیان کی ہےکہ:

’’اگر اس زمانے میں کوئی عالم ز مخشر ی، رازی،بیضاوی، نسفی یا ابو السعود کے انداز میں تفسیر کرنے بیٹھ جائے تو اس کی کتاب کو پڑھنے والوں میں مطلوبہ پذیرائی حاصل نہ ہو سکے گی -اس بناء پر ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے مخاطبین کی سطح پر آئے اور علمی اصطلاحات کو ممکن حد تک مختصر کرے‘‘-[7]

علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں:

’’تفسیر میں، مَیں نے اسلام کے مسلمہ عقائد کو دلائل سے مزین کیا ہے اور قرآن مجید کی جن آیات میں احکام اور مسائل کا ذکر ہے وہاں میں نے تمام فقہی مذاہب کا دلائل کے ساتھ ذکر کیا ہے- ہمارے متقدمین مفسرین نے قرآن کریم کی تفسیر میں جو نکات بیان کئے ہیں ان میں سے میں نے استفادہ کیا ہے لیکن جو بہت بعید نکات ہیں یا دوراز کارتاویلات ہیں ان کو ترک کر دیا ہے میں نے یہ کوشش کی ہے کہ قرآن مجید کی تفسیر میں زیادہ سے زیادہ احادیث اور آثار کو پیش کروں- عام طور پر مفسرین صرف حدیث کا ذکر کر دیتے ہیں اس کی تخریج نہیں کرتے میں نے کافی محنت اور جان فشانی کر کے ’’تبیان القرآن‘‘ میں درج ہر حدیث کی تخریج کی ہے اور اس کا مکمل حوالہ بیان کیا ہے‘‘-[8]

تبیان القرآن کے تفسیری منہج کا عصرِ حاضر کے رجحانات کے تناظر میں واضح کرنے کے لئے چند مثالیں پیش خدمت ہیں- مثلاً روزہ سے متعلقہ مسائل پر غلام رسول سعیدی صاحب نے نہایت مفصل و مدلل بحث کی ہے-

i.    ’’تبیان القرآن‘‘ میں سورۃ البقرہ کی آیت:183 (روزہ سےمتعلق) میں مریض کے روزہ قضاء کرنے کے متعلق مذاہب آئمہ کرام کے(8 اقوال) اور مسافر کے روزہ قضاء کرنے کے متعلق مذاہب اربعہ (تین احادیث اور چار اقوال مذاہب اربعہ)کا ذکر کیا ہے؛ اور ’’اَلَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ‘‘ (جن لوگوں پر روزہ رکھنا دشوار ہو) کے معنی کی تحقیق میں احادیث اور آثار صحابہ( دو احادیث اور تیرہ آثارِ صحابہ ) کا ذکر کیا ہے- مزید اس آیت کے معنی کی تحقیق میں مختلف مفسرین کی آراء  بھی نقل کیں ہیں-آگے چل کر مزید بڑھاپے یا دائمی مریض کے روزہ رکھنے سے متعلق مذاہب اربعہ کے نقل کئےہیں-

ii.  مزید علامہ صاحب معراج کے متعلق انسانی ذہن میں اٹھنے والے جدید سوالات کی بڑی احسن تفسیر و تاویل فرماتے ہیں- واقعہ معراج کے متعلق جو روایات خواب میں معراج ہونے کے متعلق ہیں ان روایات کے جوابات انتہائی احسن انداز میں دیے ہیں اور دوسرا سوال کہ اللہ تعالیٰ کا حضور نبی کریم (ﷺ) کو اپنا عبد فرمانے کی کیا وجہ ہے؟ جبکہ تیسرا سوال رسول اللہ (ﷺ) کو براہ راست آسمانوں کی طرف کیوں نہیں لے جایا گیا اور درمیان میں مسجد اقصیٰ کیوں لے جایا گیا؟ اس کا جواب مختلف آئمہ کی آراء سے دیا ہے اور اس کی حکمتیں بیان کی ہیں- مزید واقعہ معراج کی حقانیت کو تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو حضرت دحیہ بن خلیفہ کا قیصر سے مکالمہ اور اس کے واقعاتی شواہد پیش کئے ہیں- اسی طرح سائنسی تناظرمیں اٹھائے جانے والے سوالات، یعنی رات کےقلیل وقفہ میں معراج ہونے پر سوال جنم لیتا ہے کہ ایک لمحہ میں اتنی طویل اور عظیم سیر کیسے واقع ہوگئی؟ پر بڑی پُر مغز گفتگو کی ہے- [9]

iii. مزید برآں ’’سورۃ الزلزال‘‘کی مناسبت زلزلہ کے موضوع پرتفسیر میں ایک باب باندھتے ہیں- علامہ صاحب لکھتے ہیں کہ زمین کے اندرتہوں میں چٹانوں کےدرمیان عرصہ سے جاری حرکت کے باعث پیدا ہونے والی توانائی کے اخراج سے سطح زمین پر ہونے والی ہلچل کا نام زلزلہ ہے- اس بات کی نفی بھی کرتے ہیں کہ زمین کو بیل نے اپنے سینگوں پر اٹھا رکھا ہے اور بیل کا زمین کو ایک سینگ کے دوسرے سینگ کے بدلنے سے زلزلہ آ جاتا ہے- زلزلہ کہاں کہاں آسکتا ہے؟  مذکورہ سوال پر بڑی تفصیلی گفتگو کی ہے اور زلزلے کس طرح وقوع پذیر ہوتے ہیں؟ جیسے موضوع پر بڑی قابلِ ستائش تحقیق پیش کی ہے-اسی زلزلہ پیمائی کا آغاز کس کے ایجاد کردہ آلات سے ہوا؟  اور برصغیر  پاک و ہندمیں زلزلے جیسےموضوعات تاریخ کے آئینے میں رقم کئےہیں-اس کے علاوہ زلزلے سے متعلق 20 اہم سوالات کے جوابات کو اپنی تحقیقی میں شامل کیا ہے- [10]

iv. عصر حاضر کے دیگر اہم اجتہادی موضوعات میں انسانی اعضاء کی پیوند کاری اہم موضوعات میں شامل ہے-علامہ صاحب نے بڑے احسن انداز میں انسان کے کسی بھی اعضاء کی دوسرے انسان کے اعضاء کے ساتھ پیوند کرنے کا تحقیقی مقالہ تفسیر میں پیش کیا ہے جس میں محققین کے دلائل شامل ہیں کہ کیا اپنے جسم سے بعض اعضاء نکلوا کر کسی دوسرے انسان کو دے دینا، اللہ کی تخلیق کو بدلنا ہے- انسانی اعضاء کے ساتھ پیوند کاری کی ممانعت اور تحریم سے متعلق نص کی روشنی میں بیان کیا ہے- انسانی اجزاء کے ساتھ پیوندکاری کی تحریم ممانعت کےمتعلق فقہاء مذاہب کی تصریحات بیان کی ہےاور انسان کے بالوں سے پیوند کاری کی ممانعت پر تمام فقہاء کرام کی آراء بیان کی ہیں- مثلہ کی تحریم سے استدلال پر جو اعتراض ہوتے ہیں ان کا جواب دلائل کے ساتھ دیا ہے اور اسی طرح انسان کی اپنے جسم پر عدم ملکیت سے استدلال پر اعتراض کا جواب دیتے ہیں- احیاء نفس سے اعضاء  کی پیوند کاری کے جواز پر استدلال اور اس کا جواب دیا ہے اور انسان کے اعضاء کے ساتھ پیوند کاری کے جواز پر ایثار نفس سے استدلال کو جمع کیا ہے- مردہ عورت کےپیٹ سے بچہ نکالنے اور اضطرار کی بنیاد پر پیوند کاری سے استدلال کا جواب بڑی تفصیل کے ساتھ دیا ہے- گردوں کے کام کی توضیح اور گردوں کو کس طرح صاف کیا جاتا ہے کہ یہ عمل کس طرح ظہور پذیر ہوتا ہے، کیا کام کرتا ہے اور ’’سی اے پی ڈی ڈائیلیسس‘‘ کے بارے میں تفصیلی گفتگو فرمائی ہے اور مشینی صفائی یا ’’ہیمو ڈائیلیسس‘‘ کہ گردوں کی صفائی کس طرح ہوتی ہے اور سرجری کے لیے تعلیمی مشق پر غیر مسلم اموات کے پوسٹ مارٹم کے جواز اورمسلم اموات کے پوسٹ کے عدم جواز کی تحقیق درج کی ہے[11]

الغرض! علامہ غلام رسول سعیدی صاحب کی تبیان القرآن کی تفسیری کاوش کافی حدتک عصر حاضرکےعلمی مباحث و موضوعات کا احاطہ کئے ہوئے ہے- ضرورت ہے کہ ایسی عُمدہ اور عصری مسائل کے حل اور عصری سوالات کا بہترین قرآنی جواب فراہم کرنے والی تفسیر کو پڑھا جائے، محققین تک پہنچایا جائے- ہم نے اختصار کے پیشِ نظر کئی ایک موضوعات کو چھوا بھی نہیں ہے، خاص کر علم الکلام کے مسائل، سیرت النبی (ﷺ)  کے معاشی و سیاسی پہلو ،  جدید قانون سازی اور قرآن ، اور اس طرح کے دیگر موضوعات-یہ تفسیر کتابِ ہدایت سے نُورِ ہدایت کی جستجو رکھنے والوں کو اپنے اندر غوطہ زنی کی دعوت دیتی ہے- اختتام پہ حضرت علامہ اقبال (﷫) کا شعر یاد آتا ہے  :

سنائی کے ادب سے میں نے غوّاصی نہ کی، ورنہ
ابھی اِس بحر میں باقی ہیں لاکھوں لؤ لؤے لا لا

٭٭٭


[1](کتاب التعر یفات،  ص:38،مطبوعہ المطبعتہ الخیریہ،مصر،1306ھ)

[2](البحر المحیط ، ج:1،  ص:26،مطبوعہ دارلفکر،بیروت،1412ھ)

[3]( مقدمہ تبیان القرآن، جلد:1،ص: 119)

[4]( علامہ غلام رسول سعید ی کا شمار برِ صغیر پاک و ہند کی نامور علمی و ادبی شخصیات میں ہوتا ہے- آپ کی ولادت  10 رمضان المبارک 1356ھ(14 نومبر 1937ء) کو دہلی میں ہوئی-ابتدائی تعلیم دہلی سے ہی حاصل کی اور والدہ ماجدہ سے ناظرہ قرآن مجید بھی مکمل کیا- آپ اپنی ہمہ جہت شخصیت میں متعدد اوصاف کے مالک تھے  جو بیک وقت ایک  مفسر قرآن ،شیخ الحد یث ، فقیہ ،عظیم مدرس  ا ور بلند پایہ ادیب و مصنف تھے-’’ قیامِ پاکستان کے وقت دہلی سےہجرت کی اور کراچی میں سکونت اختیار کی- والدین کی وفات کے بعد12 سال کی عمر میں آپ نےنا سازگار حالات کی وجہ سے تعلیم کو خیر باد کَہ دیا اور مزدوری شروع کر دی-آپ ہمیشہ سے ہی دینی علوم کے حصول کی طرف مائل تھےمختلف وجوہات کی بناء پر طلبِ علم میں آپ نے کراچی کو خیر باد کیا اور رحیم یار خان میں جامعہ محمودیہ رضویہ میں داخلہ لے لیا- اس مدرسہ میں ابتدائی کتب پڑھنے کے بعد لاہور کا رخ کیا اور جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہو لا ہور میں داخل ہو گئے جہاں انہوں نے تفسیر، حدیث، فقہ، منطق اور حکمت میں بھر پور اکتساب فیض کیا- تبیان القرآن کے علاوہ آپ کی علمی کاوشیں میں شرح صحیح مسلم(7جلدیں)، شرح صحیح بخاری(نعمتہ الباری/نعم الباری،16 جلدیں)، تذکرۃ المحدثین، توضیح البیان، مقالاتِ سعیدی اور ضیائےکنز الایمان وغیرہ شامل ہیں -آپ نے دار العلوم نعیمیہ کراچی میں 32 برس بطور شیخ الحدیث تدریسی خدمات سر انجام دیں  جبکہ4 فروری 2016ء کو آپ اس دارِ فانی سے رحلت فرماگئے-)

[5]( مقدمہ تبیان القرآن، ج:1،ص: 119)

[6]( تبیان القرآن،ج:1،ص: 37)

[7](اضواء قرآن در فلکِ وجدان،محمد فتح اللہ گو لن،مترجم (عبد الخالق ہمدرد)،ص:17-18،ہارمنی پبلی کیشنز،اشاعت 2011ء)

[8]( تبیان القرآن،ج: 1،ص: 37)

[9]( تبیان القرآن ،ج: 6، ص: 617)

[10](تبیان القرآن، ج:12،ص: 926)

[11](تبیان القرآن، ج: 12، ص: 154)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر