اقتباس

اقتباس

اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَ اَزْوَاجُہٗ اُمَّہٰتُہُمْطوَ اُولُو الْاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتٰبِ اللہِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُہٰجِرِیْنَ اِلَّا اَنْ تَفْعَلُوْا اِلٰی اَوْلِیٰٓئِکُمْ مَّعْرُوْفًا ط کَانَ ذٰلِکَ فِی الْکِتٰبِ مَسْطُوْرًا

’’یہ نبی مکرم (ﷺ)مومنوں کے ساتھ اُن کی جانوں سے زیادہ قریب اور حقدار ہیں اور آپ (ﷺ)کی ازواجِ (مطہرات) اُن کی مائیں ہیں اور خونی رشتہ دار اللہ کی کتاب میں (دیگر) مومنین اور مہاجرین کی نسبت (تقسیمِ وراثت میں) ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں سوائے اس کے کہ تم اپنے دوستوں پر احسان کرنا چاہو، یہ حکم کتابِ (الٰہی) میں لکھا ہوا ہے‘‘-(الاحزاب :6)

رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)سے مروی ہے کہ رسول اللہ (ﷺ)نے ارشادفرمایا :کیاتم یہ گمان کرتے ہو کہ میری توجہ صرف قبلہ کی طرف ہوتی ہے؟ (اور میں کسی طرف نہیں دیکھتا) پس اللہ کی قسم! مجھ پر تمہارا نہ خشوع مخفی ہے اور نہ تمہارا رکوع مخفی ہے اور بے شک میں تم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے بھی ضرور دیکھتا ہوں ‘‘- (صحیح بخاری، کتاب الاذان)

فرمان سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ :

محض علمِ ظاہر سے حقیقت حاصل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی منزل ِ مقصود پر پہنچا جا سکتاہے -کامل عبادت کیلئے دونوں علوم کاجمع ہوناضروری ہے،محض ایک علم سے کام نہیں چلتا-جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا :میں نے جنوں اورانسانوں کو محض اپنی عبادت کیلیے پیدا کیا ہے-یعنی اپنی معرفت کیلیے پیدا کیاہے -پس جو شخص اللہ تعالیٰ کو نہیں پہچانتاوہ اس کی عباد ت کس طرح کر سکتا ہے؟ اور اللہ تعالیٰ کی معرفت آئینہ دل کو حجاباتِ نفس کی کدورت سے پاک کرکے اس کے اندر مقامِ سرمیں مخفی خزانے کے مشاہدے سے حاصل ہوتی ہے جیساکہ حدیثِ قدسی میں فرمان ِ حق تعالیٰ ہے :-مَیں ایک مخفی خزانہ تھا،میں نے چاہاکہ میری پہچان ہو،بس میں نے اپنی پہچان کے لیے مخلوق کو پیداکیا-لہٰذایہ حقیقت کھل کرسامنے آگئی کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو محض اپنی معرفت و پہچان کے لیے پیدا فرمایا ہے‘‘- (سرالاسرار)

فرمان سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ:

وَنجن سر تے فرض ہے مَینوں قول قَالُوا بلیٰ دا کر کے ھو
لوک جَانےمُتفکر ہوئیاں وِچ وحدت دے وڑ کے ھو
شَوہ دیاں ماراں شوہ ونج لہیساں عِشق تلّہ دَھر کے ھو
جیونْدیاں شوہ کسے نہ پایا باھوؒ جیں لَدھا تَیں مَر کے ھو (ابیاتِ باھو)

فرمان قائداعظم محمد علی جناح ؒ :

ایمان ، اتحاد، تنطیم

مَیں یہ ضروری سمجھتاہوں کہ آپ کو آگاہ کروں کہ آپ کا لائحہ عمل بے بنیاد خبروں،سنی سنائی باتوں، کھوکھلے نعروں اور وقتی طور پر ابھارنے والے مقولوں سے متاثر نہیں ہونا چاہیے-ایسے نعروں کو نہ دل میں جگہ دیجئے اور نہ ہی ان کو دہرائیے ،یہ آپ کی تربیت کا زمانہ ہے جسے حاصل کر کے آپ آنے والی نسل کے رہبر بننے کیلیے خود کو تیار کرسکتے ہیں‘‘-(طلبہ اسلامیہ کالج پشاور کے سپاسنامے کے جواب میں ،12 اپریل 1948)

فرمان علامہ محمد اقبالؒ:

آہ وہ مردانِ حق! وہ عربی شہسوار
حاملِ خلقِ عظیم، صاحب صدق و یقین
جن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمزِ غریب
سلطنت ِ اہلِ دل فقر ہے، شاہی نہیں (بالِ جبریل)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر