دستک : شدت پسندانہ سوچ ،عصرِ حاضر کا بڑا عِفریت!

دستک : شدت پسندانہ سوچ ،عصرِ حاضر کا بڑا عِفریت!

دستک : شدت پسندانہ سوچ ،عصرِ حاضر کا بڑا عِفریت!

مصنف: اکتوبر 2015

شدت پسندانہ سوچ ،عصرِ حاضر کا بڑا عِفریت!

سورہ آل عمران کی آیت ۱۰۳ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ {اللہ تعالیٰ کی اُس نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دُشمن تھے تو اس نے تمہارے قلب کی تالیف فرما کر تمہیں بھائی بھائی بنا دیا} - معلوم ہوا جب تک قلب کی تالیف ، تدوین ، تطہیر اور تطییب نہ کی جائے تب تک انسانی معاشرے میں اخوّت و بھائی چارہ کی فضا قائم نہیں ہوتی اِس لئے تمام اہل اللہ نے قلب کی صفائی اور پاکیزگی کو اپنے عمل کا مرکز بنایا تاکہ معاشرے میں اعتدال قائم کیا جا سکے - انسانی سوچ جبر و تشدد اور شدت پسندی کی جانب اس وقت مائل ہوتی ہے جب وہ دِل کی ایسی آگاہی و آگہی سے محروم ہو ، حضرت سُلطان محمد اصغر علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اِصلاحی جماعت کی بُنیاد اِسی فکر پہ رکھّی تاکہ قرآن پاک کے مذکورہ آفاقی تصور کے تحت اعمالِ قلب و تالیفِ قلب کے ذریعے معاشرے کی اِصلاح کی جا سکے اور معاشرہ میں بھائی چارہ ، اخوّت ، یگانگت اور انسانی ہمدردی کو قائم کیا جا سکے - یہ تو آج ہر شخص جانتا ہے کہ انسانیت کودرپیش مسائل میں سب سے بڑامسئلہ شدت پسندانہ سوچ ہے- شدت پسندانہ سوچ کی پیداوار میں سب سے خوفناک عِفریت شدت پسندانہ طرزِعمل کاہے جب تک شدت پسندانہ سوچ کا تدارک نہ کیا جائے اُس وقت تک شدت پسندانہ طرزِعمل انسانیت کے دامن کو بے گناہوں کے لہو سے داغدار کرتا رہے گا- شدت پسندانہ سوچ کسی ایک مذہب یا کسی ایک ملک ، خطے اور علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری اِنسانیت کو اس مسئلہ سے بے پناہ خطرات لاحق ہیں- شدت پسندانہ سوچ ہے کیا؟ یہ شدت پسندانہ طرزِ عمل کو کیسے تحریک دیتی ہے؟ شدت پسند سوچ کے بڑے بڑے محرکات کیا ہیں؟ انسانی معاشرے سے آخر شدت پسندانہ سوچ کا خاتمہ کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ یہ وہ سوالات ہیں کہ جن کااگر حل ڈھونڈ کر اس پر بھرپور طریقہ سے عمل کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ معاشرے میں شدت پسندانہ طرزِعمل کو اگر مکمل ختم نہ بھی کیاجاسکے کم از کم قابلِ برداشت حد تک کم ضرور کیا جا سکتا ہے-

ہر اِنسان یہ چاہتا ہے کہ دُنیا اس کی سوچ کے مطابق ہو جائے لیکن ایسا ہونا عملاً ممکن نہیں ہے کیونکہ قدرت نے انسان کو اَربعہ عناصر آگ ،ہوا ،پانی اور مٹی سے تخلیق کیا ہے اور یہ عناصر ایک دوسرے کی ضد ہیں- ہر انسان میں درج بالا عناصر میں سے عمومی طور پہ کسی ایک عنصر کی خصوصیات کا غلبہ ہوتا ہے- اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسانوں کے مابین جو سوچ ،طبیعتوں اور نظریات کا اختلاف ہے وہ فطری نوعیت کا ہے- دینِ اسلام کو یہ شرف حاصل ہے کہ اُس نے انسانیت کو اس درپیش خطرے کا عملی تدارک بھی پیش کر دیا کہ حضور نبی مکرم  کا فرمانِ عالی شان ہے کہ ـــ’’اختلا ف میری اُمت کے لئے رحمت کا باعث ہوگا‘‘- صحابہ کرام نے اس فرمان کو اس شاندار اور بھر پور طریقے سے اپنایا کہ دُنیا دَنگ رہ گئی- اسی ’’اختلافِ باعثِ رحمت‘‘ کی بنا پہ قرونِ اولیٰ کی اِسلامی تہذیب میں اُس وقت کے جدید علوم اور انسان دوست تمدن نے عروج حاصل کیا- قابلِ غور امر یہ ہے کہ محض ’’اختلافِ رائے‘‘ کبھی بھی شدت پسندانہ سوچ کابڑا سبب نہیں بنا- یہ تجزیہ ضروری ہے کہ وہی علاقے جہاں صدیوں سے اختلافِ رائے حسنِ معاشرت بنا چلا آ رہا تھا آج اُن علاقوں میں یہ کیسے بے دریغ خون بہا سکتا ہے؟ تاریخِ اسلام بتاتی ہے کہ جامد رویہ جات نے جب علم کو دینی اور دنیَوی دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور سائنسی علوم اسی بنا پہ ناپسند کئے جانے لگے تو یوںجامدیت نے مسلم معاشرے سے وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی خاصیت و خوبی سے محروم کر دیا- تاریخ میں بیرونی سازشوں کا بھی ذکر ہے کہ جنگِ عظیم سے قبل مسلمانوں کی خلافتِ عثمانیہ اور یورپ ہی دو بڑی طاقتیں تھیں مگر خلافتِ عثمانیہ کو کمزور کر کے ان علاقوں پر اہل یورپ نے کالونیاں بنا لیں- ان یورپی طاقتوں بالخصوص برطانیہ نے ملتِ اسلامیہ میں رائج اختلافِ رائے کو مد نظر رکھتے ہوئے ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی تشکیل دی- ماضی قریب میں نیٹو نے عراق و افغانستان پہ قابض ہونے کے بعد اسی پالیسی سے استفادہ کیا- آج مشرقِ وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے آخر اس کی ابتداء عراق سے ہی کیوں ہوئی؟ اس سوال کے جواب کے لیے نیٹو ممالک کے عوام کو ضرور جستجو کرنی چاہیے- ہر وقت انسانیت کا درس دینے والی ترقی یافتہ ممالک کی عامۃ الناس کو اپنے اپنے ممالک کی سرحدوں پر کھڑے لاکھوں شامی تارکینِ وطن کو دیکھ کر یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ آخر ان کے ملک شام پر کونسی آفت آن پڑی ہے جس نے ان کو اپنے وطن سے نکلنے پر مجبور کر دیا ؟

صد شکر ہے کہ پاکستان کے ریاستی ادارے شدت پسندانہ سوچ کے تدارک کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں- چند یوم قبل وزیرِ اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کی زیرِ صدارت اور جنرل راحیل شریف کی موجودگی میں تمام مدارس کی تنظیموں کے نمائندگان کو اسلام آباد میں مدعو کرکے شدت پسندانہ سوچ کے اسباب اور ان کے تدارک پر نہ صرف غور کیا گیا بلکہ اس کا عملی لائحہ عمل بھی طے کیا گیا- یہ اجلاس بر وقت نہ سہی البتہ خطرات کے مُنہ زور ہونے سے قبل ضرور تھا - شدت پسندانہ سوچ کے تدارک کے لیے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ برصغیرِ پاک و ہند کے لوگوں کو اسلام سے بہرہ ور کرنے والے لوگ کون تھے؟ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اَولیائے کرام نے ہی ہمارے اس خطے میں اِسلام کی روشنی پھیلائی اور ان کی تعلیمات پیار ،محبت ، برداشت و تحمل اور رواداری جیسی خصوصیات سے مالا مال ہے- یہی وہ اوصاف ہیں جو شدت پسندانہ سوچ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی طاقت رکھتے ہیں- یہی اوصاف قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی شناخت تھے - ان اوصاف کو درسی کتب میں ضرور پڑھایا جانا چاہیے - ہمارے لبرل اور سخت گیر مذہبی حلقوں کو بھی اپنی اپنی انتہائوں سے پیچھے آنا ہوگا وگرنہ ان کی چپقلش سے شدت پسندانہ سوچ کو مزید فروغ حاصل ہوگا-ضرورت اس امر کی ہے پاکستانی عوام ریاستی اداروں کی وضع کردہ پالیسی کے مطابق خود کوڈھالنے کی کوشش کریں-

شدت پسندانہ سوچ ،عصرِ حاضر کا بڑا عِفریت!

سورہ آل عمران کی آیت ۱۰۳ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ {اللہ تعالیٰ کی اُس نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دُشمن تھے تو اس نے تمہارے قلب کی تالیف فرما کر تمہیں بھائی بھائی بنا دیا} - معلوم ہوا جب تک قلب کی تالیف ، تدوین ، تطہیر اور تطییب نہ کی جائے تب تک انسانی معاشرے میں اخوّت و بھائی چارہ کی فضا قائم نہیں ہوتی اِس لئے تمام اہل اللہ نے قلب کی صفائی اور پاکیزگی کو اپنے عمل کا مرکز بنایا تاکہ معاشرے میں اعتدال قائم کیا جا سکے - انسانی سوچ جبر و تشدد اور شدت پسندی کی جانب اس وقت مائل ہوتی ہے جب وہ دِل کی ایسی آگاہی و آگہی سے محروم ہو ، حضرت سُلطان محمد اصغر علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اِصلاحی جماعت کی بُنیاد اِسی فکر پہ رکھّی تاکہ قرآن پاک کے مذکورہ آفاقی تصور کے تحت اعمالِ قلب و تالیفِ قلب کے ذریعے معاشرے کی اِصلاح کی جا سکے اور معاشرہ میں بھائی چارہ ، اخوّت ، یگانگت اور انسانی ہمدردی کو قائم کیا جا سکے - یہ تو آج ہر شخص جانتا ہے کہ انسانیت کودرپیش مسائل میں سب سے بڑامسئلہ شدت پسندانہ سوچ ہے- شدت پسندانہ سوچ کی پیداوار میں سب سے خوفناک عِفریت شدت پسندانہ طرزِعمل کاہے جب تک شدت پسندانہ سوچ کا تدارک نہ کیا جائے اُس وقت تک شدت پسندانہ طرزِعمل انسانیت کے دامن کو بے گناہوں کے لہو سے داغدار کرتا رہے گا- شدت پسندانہ سوچ کسی ایک مذہب یا کسی ایک ملک ، خطے اور علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری اِنسانیت کو اس مسئلہ سے بے پناہ خطرات لاحق ہیں- شدت پسندانہ سوچ ہے کیا؟ یہ شدت پسندانہ طرزِ عمل کو کیسے تحریک دیتی ہے؟ شدت پسند سوچ کے بڑے بڑے محرکات کیا ہیں؟ انسانی معاشرے سے آخر شدت پسندانہ سوچ کا خاتمہ کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ یہ وہ سوالات ہیں کہ جن کااگر حل ڈھونڈ کر اس پر بھرپور طریقہ سے عمل کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ معاشرے میں شدت پسندانہ طرزِعمل کو اگر مکمل ختم نہ بھی کیاجاسکے کم از کم قابلِ برداشت حد تک کم ضرور کیا جا سکتا ہے-

ہر اِنسان یہ چاہتا ہے کہ دُنیا اس کی سوچ کے مطابق ہو جائے لیکن ایسا ہونا عملاً ممکن نہیں ہے کیونکہ قدرت نے انسان کو اَربعہ عناصر آگ ،ہوا ،پانی اور مٹی سے تخلیق کیا ہے اور یہ عناصر ایک دوسرے کی ضد ہیں- ہر انسان میں درج بالا عناصر میں سے عمومی طور پہ کسی ایک عنصر کی خصوصیات کا غلبہ ہوتا ہے- اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسانوں کے مابین جو سوچ ،طبیعتوں اور نظریات کا اختلاف ہے وہ فطری نوعیت کا ہے- دینِ اسلام کو یہ شرف حاصل ہے کہ اُس نے انسانیت کو اس درپیش خطرے کا عملی تدارک بھی پیش کر دیا کہ حضور نبی مکرم  کا فرمانِ عالی شان ہے کہ ـــ’’اختلا ف میری اُمت کے لئے رحمت کا باعث ہوگا‘‘- صحابہ کرام نے اس فرمان کو اس شاندار اور بھر پور طریقے سے اپنایا کہ دُنیا دَنگ رہ گئی- اسی ’’اختلافِ باعثِ رحمت‘‘ کی بنا پہ قرونِ اولیٰ کی اِسلامی تہذیب میں اُس وقت کے جدید علوم اور انسان دوست تمدن نے عروج حاصل کیا- قابلِ غور امر یہ ہے کہ محض ’’اختلافِ رائے‘‘ کبھی بھی شدت پسندانہ سوچ کابڑا سبب نہیں بنا- یہ تجزیہ ضروری ہے کہ وہی علاقے جہاں صدیوں سے اختلافِ رائے حسنِ معاشرت بنا چلا آ رہا تھا آج اُن علاقوں میں یہ کیسے بے دریغ خون بہا سکتا ہے؟ تاریخِ اسلام بتاتی ہے کہ جامد رویہ جات نے جب علم کو دینی اور دنیَوی دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور سائنسی علوم اسی بنا پہ ناپسند کئے جانے لگے تو یوںجامدیت نے مسلم معاشرے سے وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی خاصیت و خوبی سے محروم کر دیا- تاریخ میں بیرونی سازشوں کا بھی ذکر ہے کہ جنگِ عظیم سے قبل مسلمانوں کی خلافتِ عثمانیہ اور یورپ ہی دو بڑی طاقتیں تھیں مگر خلافتِ عثمانیہ کو کمزور کر کے ان علاقوں پر اہل یورپ نے کالونیاں بنا لیں- ان یورپی طاقتوں بالخصوص برطانیہ نے ملتِ اسلامیہ میں رائج اختلافِ رائے کو مد نظر رکھتے ہوئے ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی تشکیل دی- ماضی قریب میں نیٹو نے عراق و افغانستان پہ قابض ہونے کے بعد اسی پالیسی سے استفادہ کیا- آج مشرقِ وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے آخر اس کی ابتداء عراق سے ہی کیوں ہوئی؟ اس سوال کے جواب کے لیے نیٹو ممالک کے عوام کو ضرور جستجو کرنی چاہیے- ہر وقت انسانیت کا درس دینے والی ترقی یافتہ ممالک کی عامۃ الناس کو اپنے اپنے ممالک کی سرحدوں پر کھڑے لاکھوں شامی تارکینِ وطن کو دیکھ کر یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ آخر ان کے ملک شام پر کونسی آفت آن پڑی ہے جس نے ان کو اپنے وطن سے نکلنے پر مجبور کر دیا ؟

صد شکر ہے کہ پاکستان کے ریاستی ادارے شدت پسندانہ سوچ کے تدارک کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں- چند یوم قبل وزیرِ اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کی زیرِ صدارت اور جنرل راحیل شریف کی موجودگی میں تمام مدارس کی تنظیموں کے نمائندگان کو اسلام آباد میں مدعو کرکے شدت پسندانہ سوچ کے اسباب اور ان کے تدارک پر نہ صرف غور کیا گیا بلکہ اس کا عملی لائحہ عمل بھی طے کیا گیا- یہ اجلاس بر وقت نہ سہی البتہ خطرات کے مُنہ زور ہونے سے قبل ضرور تھا - شدت پسندانہ سوچ کے تدارک کے لیے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ برصغیرِ پاک و ہند کے لوگوں کو اسلام سے بہرہ ور کرنے والے لوگ کون تھے؟ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اَولیائے کرام نے ہی ہمارے اس خطے میں اِسلام کی روشنی پھیلائی اور ان کی تعلیمات پیار ،محبت ، برداشت و تحمل اور رواداری جیسی خصوصیات سے مالا مال ہے- یہی وہ اوصاف ہیں جو شدت پسندانہ سوچ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی طاقت رکھتے ہیں- یہی اوصاف قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی شناخت تھے - ان اوصاف کو درسی کتب میں ضرور پڑھایا جانا چاہیے - ہمارے لبرل اور سخت گیر مذہبی حلقوں کو بھی اپنی اپنی انتہائوں سے پیچھے آنا ہوگا وگرنہ ان کی چپقلش سے شدت پسندانہ سوچ کو مزید فروغ حاصل ہوگا-ضرورت اس امر کی ہے پاکستانی عوام ریاستی اداروں کی وضع کردہ پالیسی کے مطابق خود کوڈھالنے کی کوشش کریں-

 

 

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر