دینِ اِسلام : ذاتی معاملہ یا آفاقی نصب العین؟ (فکری خطاب)

دینِ اِسلام : ذاتی معاملہ یا آفاقی نصب العین؟ (فکری خطاب)

دینِ اِسلام : ذاتی معاملہ یا آفاقی نصب العین؟ (فکری خطاب)

مصنف: صاحبزادہ سلطان احمد علی ستمبر 2015

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِo اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ o  بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ o

وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّـقْبَلَ مِنْہُ ج وَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَo (ال عمران:۸۵)

صَدَقَ اللّٰہُ الْعَظِیْم  اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یَاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہٖ وَسَلِّمُوْا  تَسْلِیْمًا،اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سَیِّدِیْ یَا حَبِیْبَ اللّٰہِ ،

 وَ عَلٰی اَلِکَ وَاَصْحَابِکَ یَا سَیِّدِیْ یَا مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰہ ،صَلَی اللّٰہُ عَلَیْک وَآلِک وَ اَصْحَابِک وَاَزْوَاجِک وَبَارِکْ وَسَلِّمْo

اللہ تعالیٰ نے زمین پہ اپنی توحید کے پرچاراور تبلیغ کے لئے معروف روایات کے مُطابق کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیھم السلام بھیجے اور وہ سلسلۂ نبوت رحمۃ اللعالمین، امام الانبیاء والمرسلین حضرت محمدرسول اللہﷺ پہ آکے مکمل ہوا اور اُس کے بعد اُس دین کی، اُن آفاقی احکامات کو آگے پہنچانے کی اور انہیں زمین پہ عملی طور پر نافذ کرنے کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں ، اپنے چنے ہوئے ،اپنے برگزیدہ بندوں کے سپرد کی اور ہم اپنی تاریخ میں جب بحیثیت مسلمان اور اپنی مومنانہ نگاہ سے دیکھتے ہیں تو ہمیں ہماری تاریخ کے وہ پہلوبڑے درخشندہ اور بڑے تابناک نظرآتے ہیں جن میں ہمارے بزرگوں نے، ہمارے اَسلاف نے، ہمارے آباؤ اَجداد نے دین کو اپنی زندگی کا فقط ایک جز نہیں سمجھا اور مَیں یوں کہوں تو شاید میرے نوجوان ساتھیوں کے لئے زیادہ آسان ہو گا کہ وہ دین کو پارٹ ٹائم جاب نہیں سمجھتے تھے، ان کے نزدیک دین ان کی زندگی کا کُل تھا ،ان کی زندگی کے ہر پہلو پر محیط تھا چاہے معیشت تھی، چاہے سیاست تھی، چاہے ان کی خانگی زندگی تھی یا ان کی ازدواجی زندگی تھی، ان کی پدرانہ زندگی تھی، ان کی پسرانہ زندگی تھی، ان کا سماج تھا، ان کا معاشرہ تھا، ان کی تجارت تھی، ان کے روزمرہ کے معاملات تھے، ان کے پڑوسیوں سے معاملات تھے ،ان کے عزیز واقارب سے معاملات تھے ،دوست احباب سے معاملات تھے ،کہیں آنے کہیں جانے کے معاملات تھے ،خوشی تھی یا غمی تھی یا مرگ تھا جوبھی تھا اُن کا ہر قدم ،ان کی ہر سانس ،ان کی ہر جستجو،ان کی ہر تمنا اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے دین کے دائرے میں رہتے ہوئے تھی اور دین اُن کی زندگی میں جزوی طور نہیں تھا بلکہ دین ان کی زندگی میں کلی طور پر شامل تھا اور وہ بھی دین میں کلی طور پر شامل تھے جیسا کہ اللہ پاک نے قرآن پاک میں نے فرمایا:

{یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً }(البقرۃ: ۲۰۸)

’’اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ-‘‘

پوری طرح داخل ہونے کا کیا مطلب ہے؟ پوری طرح داخل ہو نے کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری زندگی کے جتنے پہلو ہیں، جتنے تقاضے ہیں ، جتنی جہات ہیں ، جتنی اَطراف ہیں جتنی جوانب ہیں ، ان تمام پہلوؤں سے، ان تمام کے تمام تقاضوں سے ، اُن جہات سے ، اُن تمام اَطراف سے اور اُن تمام جوانب سے تم دین میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ- تمہاری زندگی کا کوئی بھی پہلو کوئی بھی تقاضا کوئی بھی جہت کوئی بھی طرف اور کوئی بھی جانب اِحکاماتِ شریعت اور احکاماتِ دینِ مُبین سے غافل نہ ہونے پائے - عدل ہے تو دین کے ذریعے کرو ،انصاف ہے تو دین کے ذریعے کرو، معاملات ہیں تو دین کے ذریعے سلجھاؤ، دین کے ذریعے چلاؤ اور آقا پاکﷺ نے ارشاد فرمایا :

’’مَیں تم میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں اگر ان دو چیزوں کو تھامے رکھو گے ،ان دو چیزوں کو پکڑے رکھو گے، ان دو چیزوں کے ساتھ اپنے دامن کی گانٹھیں مظبوط کر کے باندھے رکھو گے، ان دو چیزوں کو تم اچھے طریقے سے تھام لوگے تو آقا پاکﷺ نے فرمایا کہ

{لَنْ تَضِلُّوْ }

’’تم ہرگز ہرگز گم گمراہ نہیں ہو سکتے -‘‘

یارسول اللہ ﷺ !وہ دو کون کون سی چیزیں ہیں؟

{کِتَابُ اللّٰہِ وَسُنَّتِ رَسُوْل}

’’ اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے -‘‘

کہ اگر اللہ کی کتاب کو اور نبیﷺ کی سنت کو مکمل طور پر تھام لو گے تو تم کبھی گمراہ اور ناکام نہیں ہو گے -لیکن ہمارے ہاں بد قسمتی سے ایسے مباحث چھیڑ دیے گئے ہیں دورِ حاضر میں اس طرح کی بحث کا آغاز کردیا گیاجس کے نتائج بڑے بھیانک، خطر ناک اور بڑے تباہ کن ہوں گے -مَیں بالخصوص یہ ساری کی ساری باتیں اپنے ان نوجوان بھائیوں سے کر رہا ہوں اور میری اِس ساری کی ساری گفتگو کامخاطَب میرے وہ نوجوان ساتھی اور نوجوان بھائی ہیں جو مختلف کالجز اور مختلف یونیورسٹیز میں پڑھتے ہیں - وہاں پہ اُنہیں اس بات پہ کنوینس کیا جاتا ہے کہ

’’مذہب انسان کی زندگی کا جزوی حصہ ہے اور مذہب انسان کا ذاتی اور انفرادی معاملہ ہے وہ اسے جس حد تک چاہے اختیار کرے باقی اس کی مرضی ہے‘‘-

 اور پھر سونے پہ سُہاگہ یہ ہے کہ ہم ’’میڈیا ایڈکٹ‘‘ بھی ہیں کہ ہر چیز ہم میڈیا سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ میڈیا کیا کہہ رہاہے؟ ذرائع ابلاغ کیا کہہ رہے ہیں ؟ وہ چاہے انٹر ٹینٹمنٹ میڈیا ہے وہ چاہے نیوزمیڈیا ہے وہ چاہے سوشل میڈیا ہے آپ اِن تینوں میں سے جس کو بھی سامنے رکھ لیں ہمیں یہی کنوینس کیا جاتا ہے کہ مذہب ،انسان کا ذاتی معاملہ ہے اس کا معاشرے کی اجتماعیت سے کوئی تعلق نہیں ہے - اور وہاں ہمارے سامنے اس طرح کے خواتین و حضرات بیٹھتے ہوتے جو اپنے آپ کو ایک نام نہاد مہذب اور ایک نام نہاد پڑھا لکھا کہتے ہیں اور ہمیں یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مغرب کی ترقی کا راز اس میں ہے کہ انہوں نے دین کو چھوڑ دیا، انہوں نے اپنے مذہب کو چھوڑ دیا - لہٰذاتم اگر ترقی کرنا چاہتے ہوتو تمہارے لئے بھی سب سے پہلی منزل یہ ہے کہ دین کو چھوڑ دو کیونکہ دین تمہارے راستے کی رکاوٹ ہے- مَیں آپ کو اِس بات کا تھوڑا پسِ منظر عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ سانحہ کیوں ہمارے ساتھ پیش آ رہا ہے؟ مَیں شاید ان لوگو ں کو جو یہ پراپیگنڈا کرتے ہیں وہ اس بات کے زیادہ جرم دار تو ہیں ،جرم دار ہم بھی ہیں، جرم دار وہ بھی ہیں لیکن مَیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وہ اس جرم میںکیوں ملوث ہیں ؟ اس لئے کہ وہ اس تہذیب میں پلے ہیں ،اس تہذیب سے متأثر ہیں جس تہذیبی نظریہ ہمارے تہذیبی نظریہ سے مختلف اور جس کا تہذیبی اسلوب ہمارے تہذیبی اسلُوب سے مختلف ہے - اسلام میں، دنیا کے دیگر فلسفوں میں اور دنیا کی ہر فکر، ہر مذہب میں تین بنیادی چیزیں ہیں ، یاد رکھ لیجئے !

۱-ایک مذہب یا فکر یا فلسفے کا تصورِ انسان ہے کہ انسان کیا ہے ؟

۲-دوسرا بنیادی نظر یہ تصور کائنات ہے کہ کائنات کیا ہے؟

۳- اور تیسرا بنیادی نظریہ تصورِ خدا ہے کہ خدا کیا ہے ؟

جسے علامہ اقبال نے مختصراً بیان کرتے ہوئے کہا کہ

چیست آدم ؟ آدم کیا ہے یعنی انسان (Human Being) کیا ہے ؟

چیست عالم ؟عالم کیا ہے یعنی کائنات (Universe) کیا ہے؟

چیست حق ؟اور حق کیا ہے یعنی خدا کیا ہے؟جسے انگریزی میں Godکہتے ہیں

یہ تین ہیں وہ بنیادی سوالات جو کسی بھی نظامِ فکر کی بُنیاد بنتے ہیں -

اب آئیے اس تہذیبی اختلاف پہ کہ جس کی تفہیم کئے بغیر ہم اِسلامی تہذیب کو نہیں سمجھ سکتے اور نہ ہی مذہب کے انفرادی ہونے یا اجتماعی ہونے کی بحث کو سمیٹ سکتے ہیں اورنہ ہی یہ طے کر سکتے ہیں کہ آیا مغرب کی جدید تاریخ میں مذہب کے متعلق پایا جانے والا عمومی رُجحان اِسلامی دُنیا کیلئے بھی فائدہ مند یا نفع بخش ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ - بات شروع کرتے ہیں تاریخِ اِسلامی میں مسلم تہذیب پرہونے والے دو بڑے حملوں کی - تہذیبی و سیاسی طور پہ پہلاحملہ تاتاریوں نے کیا تھا اور کئی علاقوں/ خطوں میں پوری کی پوری اسلامی تہذیب کو انہوں نے تہس نہس ، تہہ و بالا اور زیر وزبر کر کے رکھ دیا ، پوری کی پوری سلطنتِ اسلامیہ زوال کا شکار ہو گئی اورانہوں نے ہماری تہذیب پر ایسی کاری ضربیں لگائیں کہ اس کے بعد ہم اٹھ نہیں سکے- علمی طور پر ،فکری طور پہ ہمارا سرمایہ انہوں دریائے دجلہ میں بہا دیا، بغدادکی وہ گلیاں جن میں سورج کی چمک سے آئینہ دِکھتا تھا، ان گلیوں میں خُون کی ندّیاں بہہ نکلیں ، بغداد کی اُن لائبریریوں میں کتابوں کی راکھ اُڑتی ہوئی نظر آتی تھی- گلیوں میں مسلمانوں کا خون یوں بہتا تھا کہ مؤرخین لکھتے ہیں کہ دریائے دجلہ کا پانی سرخ ہو گیا تھا اور پھر مسلمانوں کی لائبریریاں اور کتب اٹھا کر دریائے دجلہ میں پھینکی تو وہ پانی سرخی مائل سیاہ ہو گیا تھا ہمارا جتنا علمی ذخیرہ تھا ،جتنا علمی سرمایہ تھا وہ سارے کاسارے انہوں نے دجلہ میں پھینک دیا - لیکن قابلِ غور بات یہ ہے کہ تاتاریوں کا اپنا کو ئی تصورِ خدانہیں تھا ،ان کا اپنا کوئی تصورِ کائنات تھا ،ان کا اپنا کوئی تصورِ اِنسان نہیں تھا اس لئے وہ مسلمان تہذیب کے سیاسی اور ’’بظاہر نظر آنے والے‘‘ نقوش کو تو انہوں نے ضرب پہنچائی، اُس کو تو مٹانے میں کسی حد تک کامیاب ہوئے ،اسے تو کسی حد تک متأثر کرنے میں کامیاب ہوئے لیکن مسلمانوں کی اجتماعی فکر کو وہ متأثر نہ کرسکے مسلمانوں کے نظامِ فکر اور فلسفہ کو تبدیل نہ کرسکے -اس کے بعد آپ دیکھتے ہیں ہم نے خلافتِ عثمانیہ قائم کردی- اس کے بعد آپ دیکھتے ہیں پھر مسلمانوں کی اور بھی تابناک تہذیبیں وقتاًفوقتاً کہیں بڑی کہیں چھوٹی جنم لیتی رہیں -

تاتاریوں کے بعد اسلامی تاریخ کا دوسرا بڑاسانحہ مغرب کا نو آبادیاتی نظام اور سامراجی جنون تھا بلکہ وحشیانہ دیوانگی تھی - کہ جب ترکی کے ایک خاص علاقے کے علاوہ اور ایران کا کچھ تھوڑا سا حصہ چھوڑ کے پوری کی پوری دنیائے اسلام کسی نہ کسی مغربی ملک کے نوآبادیات کا حصہ تھی، کالونیل ازم کا حصہ تھی ،اُن کی کالونی تھی چاہے وہ مسلمان افریقہ میں رہتے تھے ،چاہے وہ مسلمان مشرقِ بعید (فارایسٹ) میں رہتے تھے، چاہے وہ سنٹرل ایشاء میں رہتے تھے ،چاہے وہ گلف میں رہتے تھے ،چاہے کوئی یورپ کے مختلف ممالک میں رہتے تھے ،چاہے وہ برصغیرمیں رہتے تھے جہاں کہیں بھی آباد تھے ان پر مغرب کا نوآبادیاتی نظام قائم تھا - اِس منظر کو یاد کرکے عارفِ لاہوری حضرتِ اِقبال رحمۃ اللہ علیہ کے اَلفاظ دل و دِماغ میں گونجتے ہیں :

کیا سُناتا ہے مجھے تُرک و عرب کی داستاں

مجھ سے کچھ پنہاں نہیں اِسلامیوں کا سوز و ساز

لے گئے تثلیث کے فرزند میراثِ خلیل

خشتِ بُنیادِ کلیسا بن گئی خاکِ حجاز

ہوگئی رُسوا زمانے میں کُلاہِ لالہ رنگ

جو سراپا ناز تھے ، ہیں آج مجبُورِ نیاز

ہوگیا مانندِ آب اَرزاں مسلماں کا لہُو

مُضطرب ہے تُو کہ تیرا دِل نہیں دانائے راز

حکمتِ مغرب سے مِلّت کی یہ کیفیّت ہوئی

ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کر دیتا ہے گاز

مغرب کے سامراجی جنون نے لاکھوں جانیں ضائع کیں ہزاروں قصبے اور شہر اُجاڑ دیئے دُنیائے اِسلام کا کونہ کونہ مغربی غُلامی کی لپیٹ میں تھا - انہوں (مغربیوں) نے اُسی طرح ہمیں تاخت وتاراج کیا جس طریقے سے تاتاریوں نے ہمیں نقصان پہنچایا اُسی طرح فاتح ہوئے جس طرح تاتاریوںنے ہمارے اوپر فتح کی تھی - لیکن تاتاریوں سے مغربیوں کا فرق یہ ہوا کہ

۱- مسلمانوںکے نظریۂ انسان کے مقابلے میں مغرب کا اپنا الگ نظریۂ انسان تھا

۲- مسلمانوں کے نظریۂ کائنات کے مقابلے میں مغرب کا اپنا الگ نظریہ کائنات تھا

۳- مسلمان کے نظریۂ خدا کے سامنے مسلمانوں کے نظریۂ معبود کے سامنے اہل مغرب کا اپنا الگ نظریۂ معبود تھا ،ان کا اپنا مختلف نظریہ خدا تھا

اور انہوں نے اپنے لٹریچر کے ذریعے اپنے تعلیمی اداروں کے ذریعے ہماری جو پولیٹیکل ایلیٹ، سیاسی اشرافیہ ، علمی اشرافیہ تھی ان کے ذہنوں کو اس طرح سے ڈھال دیا، اپنا تصورِ خدا ہمارے تصور خداپہ انہوں نے غالب کرنے کی کوشش کی اور ہمیں اپنا تصورِ خدا اور اپنا تصورِ کائنات اور اپناتصورِ انسان پڑھانے کے کوشش کی -اور یاد رکھیں اہلِ مغرب ان کی اکثریت عیسائیت سے تعلق رکھتی ہے اور تاریخی اعتبار سے اگر دیکھیں تو انجیل مقدس جو سیّدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہ نازل ہوئی وہ فقط الٰہیات کی کتاب تھی ،وہ فقط فکریات کی کتاب تھی، وہ اخلاقیات کی کتاب تھی ،وہ آداب کی کتاب تھی، وہ قرآن کی طرح تعیُّنِ قوانین کی کتاب نہیں تھی بلکہ اس میں عبادات کا بیان تو تھا، اخلاقیات کا بیان تو تھا لیکن کائنات کیسے چلانی ہے ،انسان معاملہ کیسے کریں گے ، قرآن مجید کی طرح وہ کتاب یہ نہیں بتاتی - یہودیوں کی زبور میں یہ بات درج تھی یا مسلمانوں کے قرآن میں - حضرت عیسیٰ علیہ السلام باضابطہ حکمران نہیں ہوئے  یعنی آپ نے کوئی باضابطہ سلطنت کی بُنیاد نہیں رکھّی تھی - حضرت دائودؑ ،حضرت موسیٰؑ اور حضرت سلیمان ؑ حکمران تھے انہوں نے جنگیں لڑیں اور اس کے بعد اسی دین کی تکمیل کرتے ہوئے آقاپاک محمدرسول اللہﷺ نے مدینہ منور ہ میں حکومت قائم کی اور کتابِ مقدس قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب نازل ہوئی اس میں نظامِ معیشت بھی تھا، نظام حکومت بھی تھا ،نظامِ سلطنت بھی تھا اور اس کا نظریۂ خدا اُن کے (یعنی اہلِ مغرب کے ) نظریۂ خدا سے مختلف تھا -

یہ کتاب بتاتی ہے کہ تمھارا خدا مقتدر ہے، تمھارا خدا حاکم خدا ہے، تمھارا خدا عدل کرتا ہے، حتمی عدل خداکرے گا- یہ کتاب بتاتی ہے کہ اقتدار کس کا حق ہے؟ اقتدار اعلیٰ اللہ کا حق ہے بندہ مقتدر نہیں ہوتا ،بندہ حاکم نہیں ہوتا ہے بلکہ اللہ کے نائب کے طور پہ کا م کرتا ہے حاکمیت اعلیٰ اللہ کی برقرار رہتی ہے- یہ کتاب یہ بتاتی ہے کہ خدا حاکم ہے، حکم بہر صورت خدا کا ہو گا، خدا کے حکم کی سپریمیسی ہے پارلمنٹ کے حکم کی سپریمیسی نہیں ہے، سپریم کورٹ کی ججمنٹ کی سپریمیسی نہیںہے اللہ کے حکم کی سپریمیسی ہے-

لیکن مغرب کاجو نظریۂ خدا تھا وہ یہ نہیں بتاتا، مغرب کا جو نظریۂ انسان تھا وہ یہ نہیں بتاتا، مغرب کا جوتصور ِکائنات تھا وہ یہ نہیں بتاتا-

مجھے اندازہ ہے اس طرح کی گفتگو ہماری عوام سننے کیلئے رضا مند نہیں ہوتی ہم زیادہ تر فضائل یا کرامات یا سُریلی لفاظی سے مزیّن باتیں سننے کوزیادہ پسند کرتے ہیں یا ایسی جذباتی باتیں جو محض جذباتی ہی ہوں - لیکن آج ضرورت اس بات کی کہ ہمارے اندر دین کا وہ شعور موجود ہو کہ ہمارے دین کی اساس کیا ہے ؟ہمارے دین کی میراث کیا ہے؟ اور ترکِ مذہب کی یہ بحث جو مملکتِ پاکستان میںچھیڑدی گئی ہے اِس کے ردّ اور اِبطال پہ بتکرار اور بار بار علمی و تاریخی دلائل سے بات کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا عہد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دُنیا کی ہر قوم سے مُختلف ہے جس عہد پہ ہم قائم ہوئے اور یہ ریاست وجود میں آئی وہ قراردادِ مقاصد میں بالتفصیل بیان کردیا گیا ہے جو کہ آئینِ پاکستان کا حِصّہ ہے اس کی تکمیل کے بغیر یا اس کو ایک طرف رکھ کر آگے بڑھنے کا واضح مطلب اُس وعدے سے اِنحراف ہے اُس عہد سے اِنحراف ہے جو ہمارے بزرگوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کیا تھا اور وہ تھا پاکستان کو ’’اسلام کی تجربہ گاہ‘‘ بنانا ! 

ہمیں یہ بھی ذہن نشین رکھنا چاھئے کہ ’’پاکستانی ‘‘ وہ قوم ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس قوم میںایک بھڑکتی ہوئی آگ رکھ دی ہے ،ایک سلگتی ہوئی چنگاری رکھ دی ہے، وہ آگ ،وہ چنگاری، وہ شعلہ توانا،وہ شعلہ جوالہ ہمیں باربار اس بات پہ اُکساتا ہے، وہ ہمیں باربار اس بات پہ ابھارتا ہے، وہ ہمیں باربار اس بات پہ اٹھاتا ہے کہ نفاذِ قرآن کی جدوجہد کرو اور وہ شعلہ ،وہ آگ لاہور کے اندر مدفون حضرت علامہ اقبال ہیں- اللہ تعالیٰ نے جنہیں اس قوم میں ایک ایسے رہنما کے طور پہ بھیجاجنہوں نے آکے اس قوم کو بیدار کیا اور ان کا جذبۂ اِسلامی بیدار کیا اور پھر ایک ایسے مردِ مومن کا ظہور ہوا جس نے اِس قوم کی تشکیل کی اور ہمیں اسلام کے نام پہ، اسلام کے نعرے پہ کھڑا کیا اور اگرآج دُنیا کسی سے خائف ہے ،دنیاکسی سے ڈرتی ہے، دنیا پہ اگر کسی قوم کا خوف طاری ہے تو وہ فقط اورفقط مسلمانانِ پاکستان کا خوف طاری ہے ،دُنیا کی کسی اور قوم سے وہ خدشات اور خطرات نہیں جو وہ سمجھتے ہیں جو اسلام کا عشق اسلام کی محبت اسلام کا جذبہ پاکستانی قوم کے اندر پایا جاتا ہے تبھی وہ اپنے وسائل ،اختیارات ، ہتھکنڈوں سے ہمارے دل و دِماغ سے ہمارے دین کی محبت، ہمارے مذہب کی محبت ،ہمارے اسلام کی محبت، ہمارے آقا کریم ﷺ کی محبت نکالنا چاہتے ہیں -ہمارے قرآن کی عزت، ہمارے قرآن کا ادب واحترام ہمارے دلوں سے نکالنا چاہتے ہیں اور وہ یہی چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کا کتاب سے اتنا سارشتہ رہ جائے کہ یہ اس کے ایک لفظ سے دس نیکیاں کماتے رہیں لیکن وہ یہ نہیں چاہتے کہ یہ اس کے لفظوں سے زمین پہ امن قائم کریں ،اس کے لفظوں سے زمین پہ سلامتی قائم کریں، اس کے لفظوں سے زمین پر عدل قائم کریں، اس کے لفظوں سے زمین پہ انصاف قائم کریں، اس کے لفظوںسے زمین پہ مساوات قائم کریں، اس کے لفظوں سے زمین پہ برابری کو قائم کریں، اس کے لفظوںسے زمین پہ خداکے قانون کو رائج کریں ، قرآن کے لفظوں سے زمین پہ خدا کا دستور نافذ کریں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے دلوں سے یہ محبت، مسلمان قوم کے دل سے یہ جذبہ نکال دیا جائے، انہیں باطنی طور پہ، روحانی طور پہ کمزور کردیا جائے -

دوستو! یا رکھیئے گا ! ایک ثواب کمانے والی قوم میں اور اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے دین کے نفاذکی جدوجہد کرنے والی قوم میں واضح فرق ہے - اب یہ ہماری نیّت اور ارادے پہ منحصر ہے کہ ان دونوں میں سے ہم کون سی قوم بننا چاہتے ہیں ؟ اگر جُہد و کاوِش والی قوم بننا ہے تو قرآن کو ’’آلۂ جلبِ ثواب‘‘ سے بڑھ کر بھی کچھ سمجھنا ہوگا یعنی ایک زندہ و جاوید کتاب ! جس کا ایک ایک حرف و حکم ہر لحظہ نئی شان سے ظہور فرماتا ہے اور اس کائنات سے اتنا ہی متعلقہ (Relevant) اُتنا ہی قابلِ عمل (Applicable) اور اُتنا ہی مؤثّر (Effective & Valid) ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے رہے گا جتنا کہ سیّدی رسول اللہ ﷺ کی زُبانِ مُبارک سے ادا ہوتے وقت تھا اِس میں کاوش تو ہے ہی ساتھ ثواب بھی ہزاروں گُنا بڑھ جاتا ہے کیونکہ مُجاہد کے عمل میں عام آدمی کے عمل سے زیادہ اجر شامل ہوتا ہے - لیکن اگر بے جُہد و بے کاوش یعنی غیر مُجاہدانہ زندگی پہ اکتفا کرنا ہے تو پھر اِس کتابِ پاک کے احکامات کے نفاذ اِس کتابِ پاک کے قانون کے نفاذ کو مقصد و تمنّا بنائے بغیر صرف ثواب کمائے جانے پہ زور دیئے رکھنا ہے جیسا کہ حکیم الاُمّت حضرت علّامہ اقبال کہتے ہیں :

بایآتش ترا کارے جزایں نیست

از یٰسین او آسان بمیری

’’ (اے مسلمان!) تیرا آیاتِ قرآن کیساتھ اس سے زیادہ کیا تعلق رہ گیا ہے کہ جب تیری موت آئے تیرے سرہانے یٰسین شریف کی تلاوت کردی جائے-‘‘

مَیں بھی چاہتا ہوں، میری بھی یہ دعا ہے کہ اگر میری بد قسمتی سے مجھے شہادت کی موت نصیب نہ ہو تو کم از کم ایسی ضرور ہو کہ جب مَیں مرنے لگوں تو میرے گھر والے، میرے رشتے دار، میرے سرہانے بیٹھے یٰسین شریف پڑھ رہے ہوں- مجھے قرآن کے سائے میں دفنایا جائے، میری یہ خواہش ہے، ہر مسلمان کی یہ دعا ہے کہ بوقتِ آخر آیاتِ قرآن نصیب ہوجائیں لیکن کیا قرآن صرف اِسی لئے آیا تھا؟ کیا صرف اتنے سے عمل سے ہمارے اوپر قرآن کے مقرر کردہ حقوق پورے ہوجاتے ہیں ؟ کیا مرتے وقت قرآن نصیب ہوجانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے قرآن کا قرض اد کردیا ہے ؟ کیا قرآن کا صرف اتنا سا کام ہے کہ جب بہن کی،بیٹی کی ،رشتہ دار کی شادی ہونے لگے تو ایک قرآن اسے تحفہ دے کرفرض ادا ہو گیا، قرآن کا یہی فرض ہے ہمارے اوپر- مسلمانو! اس وقت سے ڈرو ! جب ہمارے جنازے میں یہ سدالگائی جائے کہ اگر کسی کا قرض اس نے دینا ہے تو آج بتاؤ،اس کے بچے، اس کی اولاد، اس کے عزیز واقارب، اس کے وارثین وہ قرض لٹانے یہاں پہ موجود ہیں -مسلمانو! اُس وقت سے ڈرو ! جب قرآن غلاف سے بولے کہ ہاں یہ میرا قرض ادا کئے بغیر جارہا ہے - دوستو! کون قرض ادا کرے گا قرآن کا ؟ کیا قرآن کا قرض نہیں ہے ہم پہ ؟کیا قرآن کا احسان نہیں ہم پہ ؟کیا ہم نے نہیں لوٹانااس کا قرض ؟{ہَلْ جَزَآئُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُo }  کیا احسان کا بدلہ ہم نے اس سے احسان نہیں کرنا ؟

خدا کیلئے میرے نوجوان ساتھیو ! میرے نوجوان بھائیو!ہمیں انٹرٹینمنٹ میڈیا ، سوشل میڈیا اور نیوز میڈیا کے ذریعے جس بات پہ موٹیویٹ کیا جارہا ہے، ہمیں جس بات پہ کنوینس کیا جا رہا ہے، ہمیں جس کا سبق دیا جاتاہے ،ہمیں جس بحث میں الجھایا جارہا ہے کہ دین یا مذہب فرد کا نجی یا ذاتی معاملہ ہے، خدا کے لئے اس جہالت کے پیچھے نہ پڑئیے گا، یہ جہالتِ جدیدہ ہے جو ہمیں یہ کہتی ہے کہ مذہب فرد کا ذاتی یا نجی معاملہ ہے جبکہ مذہب ہمارا اجتماعی اور کلی معاملہ ہے -

’’ایک یہودی حضرت علی المرتضیٰ ؓکی بارگاہ میں آکے عرض کرتاہے کہ کیسا نبی ہے تمھارا وہ کہتا ہے کہ مسجد خدا کا گھر ہے اور آج مَیں وہاں سے گزرا وہ اپنے لوگوں کو بتا رہا تھا کہ بیت الخلاء میں کیسے جانا ہے ؟بیت الخلاء کی باتیں بھی بھلا خداکے گھر میں ہوتی ہیں؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواباً فرمایا او بھولے تجھے یہ معلوم نہیں کہ اِسلام دینِ فطرت ہے اور اس کانبی ،اس کا رسول بیت الخلاء سے بیت اللہ تک جانے کے آداب مقرر کرتا ہے، ایک ایک بات کاحکم مقرر ہے، ایک ایک بات کی آگاہی مقرر ہے، ایک ایک بات کا امر مقرر ہے-‘‘

 اور ہم بہت زیادہ میڈیا ایڈکٹ ہو گئے ہیں، ہم نے ہر میڈیا پہ انحصار کیا ہوا ہے گوکہ آج زیادہ وقت نہیں اِس بحث اور اس موضوع پہ ، لیکن سوال یہ ہے کہ کیوںہمارے درمیان ان چیزوں کو اُبھارا جاتا ہے ؟کیوں ہمارے درمیان ان چیزوں کوزیادہ پروموٹ اور پروجیکٹ کیا جاتا ہے ؟ہمارے درمیان پھیلایا جاتاہے کس لئے ؟اس لئے کہ ہمیں دین سے دور کردیا جائے، ہمارے نظریات کو کھوکھلاکر دیا جائے اور اقبال ہمیں بتاتے ہیں کہ شیطان اپنے سیاسی فرزندوں کو بتاتا بلکہ سِکھلاتا ہے ، اقبال کی بڑی شاندار نظم ہے ’’ ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام ‘‘اس میں اقبال فرماتے ہیں کہ ابلیس اپنے سیاسی فرزندوں کو حکم دیتا ہے کہ

لا کر برہمنوں کو سیاست کے پیچ میں

زناریوں کو دیرِ کہن سے نکال دو

فکرِ عرب کو دے کے فرنگی تخیلات

اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو

یہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا

روحِ محمدﷺ اس کے بدن سے نکال دو

بعض لوگ یہ چاہتے ہیں کہ مغرب میں عیسائیت کی جدید شکل کی طرح دینِ اِسلام سے ہمارا اِجتماعی و حقیقی رِشتہ منقطع ہوجائے اور نجی یا ذاتی معاملات تک محدود ہو کر رِہ جائے - اُس کی بھونڈی اور تاریخی و تہذیبی حقائق سے عاری دلیل یہ دیتے ہیں کہ دین کو آئے ہوئے چودہ سو برس بیت گئے ہیں آپ چودہ سو سال پہلے کی باتیں آج لاگو کرنا چاہتے ہیں ، بھلا اتنے باسی اور پرانے اصول آج کیسے چلیں گے ؟ ارے ناسمجھو! یہ دین ہر دور میں تروتازہ ہوکر پہنچا ،حضر ت آدم علیہ السلام ، حضرت نوح علیہ السلام ،حضرت موسیٰ علیہ السلام اسلام ہی کا پرچار کرتے تھے ،تمام انبیائے کرام علیھم السلام اِسلام ہی کا پرچار کرتے تھے اور ہم اسی دین پہ ہیں جو ان انبیاء کا تھا، ہم ان تمام انبیاء کو نبی مانتے ہیں ،ان تمام کا احترام کرتے ہیں ،ان تمام پہ ایمان لاتے ہیں ہمارے ایمان کی شرائط میں شامل ہیں -انبیاء پہ ایمان لانا، اللہ کی کتابوں پہ ایمان لانا، ملائکہ پہ ایمان لانا ،یوم آخرت پہ ایمان لانا، اللہ کی تقدیر پہ ایمان لانا، یہ ہمارے شرائط ایمان میں ہیں اور آقاپاکﷺ کے عہد میں یہی دین تھا جو حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ تک چلااور آقا پاک کسی الگ دین کے نبی بن کے نہیں آئے اسی دین کی تکمیل کرنے والے بن کرآئے جو دین ایک عرصہ تک ارتقاء پذیر رہا آقا پاک پہ آکے اسکا ارتقاء مکمل ہوا ،اس کی تکمیل ہوئی اور آقا پاکﷺ تک جب وہ دین پہنچاتو کیا وہ باسی دین تھا’’ جینوں اساں پنجابی وچ بیہا آکھیندے ہیں بیہا دین ہائی؟‘‘ باسی دین تھا ؟ نہیں! بڑا تروتازہ تھا ،بڑا حیات بخش ، بڑا روح پرور اور بڑا ہی زندگی افروز دین !

ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ تم یہ چاہتے ہو کہ ہم چودہ سو سال پہلے والی روایت اپنا لیں او بھائی دُنیا کہاں کی کہاں پہنچ گئی ہے آج تم چودہ سوسال پیچھے کی باتیں کرتے ہوکیا کر رہے ہو؟ بڑے بڑے جدید لوگ جو مغرب زدہ ہیں وہ ہمیں یہ رغبت دلاتے ہیں - لیکن اُن سے پوچھیں کہ چودہ سو سال قبل جودین آیا تھا اُس دین میں اور حضرت آدم کے دین میں کتنا فاصلہ تھا ؟آقاپاک ﷺاور سیدنا حضرت عیسیٰؑ کے درمیان کم ازکم پانچ سوانہتر برس کا فاصلہ تھا حضرت عیسیٰ بن مریم اور حضرت موسیٰ بن عمرانؑ کے درمیان تقر یباًتقریباًانیس سو برس کا وقفہ تھا اسی طرح حضرت موسیٰؑ اور حضرت ابراھیمؑ کے درمیان ایک ہزار برس کا وقفہ تھا، حضرت ابراھیم ؑاور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان ایک ہزرار برس کا وقفہ تھا، حضرت نوحؑ اور حضرت آدم علیہ السلام کے درمیان ایک ہزرار برس کا وقفہ تھا ،اور حضرت آدم اور آقا پاکﷺ  کے درمیان یہ کل ملا کے تقریباًچوّن سو(۵۴۰۰) برس کا وقفہ بنتا ہے- جو دین چوّن سو برس میںپرانا نہیں ہوا وہ چودہ سو (۱۴۰۰) برس میںکس طرح پرانا ہو سکتا ہے؟ اگر دین نے پرانا ہونا ہوتا اگر دین نے باسی ہونا ہوتا تو یہ دین اس وقت باسی ہوتا جب یہ آقاپاکﷺتک پہنچا تھایہ آج کیسے باسی ہو گیا؟ ۱۴۰۰ برس زیادہ عرصہ ہے یا ۵۴۰۰ برس زیادہ عرصہ ہے؟ اس کامطلب ہے کہ دین پرانا نہیں ہوتایہ دینِ فطرت ہے یہ کبھی پرانا نہیں ہوسکتا -

جرمنی کے معروف فلسفی شاعر ’’گوئٹے‘‘ اِسلام کا بڑا گہرا مُطالعہ رکھتے تھے اور اپنی تحریروں میں آقا پاک ﷺ کی سرت پہ بھی لکھا - علّامہ اقبال بیان فرماتے ہیں کہ گوئٹے کی ایک نظم تھی جس کا عُنوان اُس نے رکھّا تھا ’’نغمۂ محمدﷺ ‘‘- حضرت علّامہ نے اپنی تصنیف ’’پیامِ مشرق‘‘ میں فارسی زبان میں اس کا منظوم ترجمہ کیا کہ گوئیٹے کیاکہتے ہیںکہ آقا پاکﷺ کا پیغام کیا ہے؟ آقا پاکﷺ کا دین کیا ہے؟ اِس موقعہ پہ وقت کی قِلّت کے پیشِ نظر اُس نظم کا صرف آخری بند پیش کروں گا لیکن انشأ اللہ کسی اور موقعہ پہ پوری نظم کی تشریح عرض کروں گا- اسکا آخری بند یہ ہے اقبال بتاتے ہیں :

دریائے پُرخروش زبند و شکن گذشت

از تنگنائے وادی و کوہ و دَمَن گذشت

یکساں چوں سیل کردہ نشیب و فراز را

از کاخِ شاہ و بارہ و کِشت چمن گذشت

بے تاب و تند و تیز و جگر سوز و بے قرار

در ہر زماں بتازہ رسید، از کہن گذشت

کہ دریائے پُرخروش آقاپاکﷺ کا دین، آقاپاکﷺ کاپیغام ، آقاپاکﷺ کی رحمت ،یہ ایک ایسادریا ہے جو اپنی عالمگیریت کی وجہ سے، جو اپنی آفاقیت کی وجہ سے، جو اپنی صداقت کی وجہ سے، جو اپنی حقانیت کی وجہ سے ہر بند ، ہر رُکاوٹ سے نکل گیا ،یہ وادی کے تنگ راستوں سے بھی گزر گیا، یہ پہاڑوں کے تنگ راستوں سے بھی گزر گیا ،یہ دامن کے راستوں سے بھی گزر گیا ،اس کے سامنے بڑی رکاوٹیں آئیں ان کو بھی یہ اسی طرح عبور کرتا گیا،اس کے سامنے چھوٹی رکاوٹیں آئیں یہ ان کو بھی اسی طرح عبور کرتا گیا، بڑی ذات والے انہیں بھی اسی طرح نوازتا گیا، چھوٹی ذاتوں کے انہیں اسی طرح نوازتا گیا، رتبے کے بڑے انہیں بھی اسی طرح نوازتا گیا، رتبے کے چھوٹے انہیں اسی طرح نوازتا گیا ، کہ محل سے بھی گزرگیا ،یہ قلعہ کی فصیلوںسے گزر گیا ،یہ ریتلی مٹی سے بھی گزر گیااور چمنستانوں سے بھی گزر گیا ،نہ اسے کوئی مٹی روک سکی، نہ اسے کوئی محل روک سکا نہ اسے کوئی باغیچہ روک سکا -یہ ایسا دین تھا جس نے اپنے ماننے والوں کو بے تاب کررکھا تھا کہ ہم کس طریقے سے اس زمین پہ اللہ کے پرچم کو نصب کر دیں- اللہ کے پرچم کو بلند کر دیں-’’ امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب ؓستون سے اوٹھ لگا کے کھڑے ہیں،بڑے تفکر میں گم ہیں،آقا پاکﷺ آئے آپ ﷺ پوچھتے ہیں اے عمر! کیا سوچ رہے ہو، یا رسول اللہﷺ !مَیں یہ سوچ رہا ہوں کہ کون سا ایسا طریقہ ہو کہ آپ ﷺ کے دین کو مَیں اس زمین پر نافذ کردوں-‘‘ یہ جس بھی زمانے میں پہنچا، جدید ہو کر پہنچا، (از کہن گذشت) پرانے سے گذر کے پہنچا ، نیا ہوکر آیا جدید ہو کر آیا‘‘-

مطلب یہ ہے کہ دینِ اِسلام ہر عہد کے انسان کیلئے ہر زمانے کے انسانوں کیلئے مُفید بن کے آیا ، نفع بخش بن کے آیا، سُود مند بن کے آیا اور قابلِ عمل اور زندگی کی گہری ترین حقیقت بن کے آیا -

اسلام کیسے پرانا ہو گیا؟ دین کیسے پرانا ہو گیا؟ کیا خدا کی کتاب آج ہماری رہنمائی نہیںکرتی ؟کیا خدا کی کتاب آج ہمیں سبق نہیں دیتی؟ کیا آج اس کے احکامات پرانے ہو گئے ہیں؟ اللہ تعالیٰ کے مقرر فرمودہ فیصلوں کی دوامیّت فطرت سے ثابت ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے جو قوانین ارشاد فرمائے اُن کی آفاقیّت کبھی معدوم نہیں ہو سکتی ، اللہ تعالیٰ نے زندگی ، آدابِ زندگی اور کائنات کی اجتماعی حیات کے جو تقاضے قرآن کے ذریعے ہم تک پہنچائے اُن کی ابدیّت کا قوانینِ شریعت پہرہ دیتے ہیں - کیونکہ وحدہٗ لاشریک کی ذات فنا سے مبرّا ہے اُس کے احکامات بھی فنا سے مبرّا ہیں ، اُس کی ذات بھی ہمیشہ باقی رہنے والی ہے اور اُس کے احکامات بھی ہمیشہ باقی رہنے والے ہیں اگر میں تجاوز کررہا ہوں تو اللہ تعالیٰ میری زُبان کی لغزش کو معاف فرمائیں لیکن یہ کہنا چاہوں گا کہ مالک و خالقِ کائنات کی ذات اِس کائنات سے غیر متعلق (Irrelevant) ہوئی تھی نہ ہوئی ہے اور نہ ہی ہوگی اور نہ ہی اُس کا دین اِس کائنات سے کبھی غیر متعلق (Irrelevant) ہوا ، نہ ہے نہ ہی کبھی غیر متعلق (Irrelevant) ہوگا  - یہ ہے وہ فرق جو مغرب کے تصورِ خدا میں اور ہمارے تصورِ خدا میں ہے - اُن کے آج کے دانشوروں کی دانست میں ان کاخدا (Irrelevant) ہو گیا ہے لہٰذا اُن کا دین بھی (Irrelevant) ہو گیا ہے ہمارا خدا (Relevant) ہے اس کے احکامات آج بھی (Relevant) ہیں اور لاگو ہیں، اس کا دین آج بھی زندہ ہے، اس کے احکامات آج بھی زندہ ہیں، اس کا پیغام آج بھی زندہ ہے اوراس لئے دین ذاتی نہیں دین آفاقی معاملہ ہے، دین جُزوی نہیں دین کلی معاملہ ہے ، دین نجی نہیں پوری سوسائٹی کا مُعاملہ ہے ، دین اِنفرادی نہیں اجتماعی مُعاملہ ہے - اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میںکئی آفاقی احکامات فرمائے جوہر عہد میں مسلمانوں پر لاگوں ہیں، تمام انسانیت کیلئے ہیں- اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا کہ

{وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّـقْبَلَ مِنْہُ ج وَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَo}(ال عمران:۸۵)

’’اور جو کوئی اسلام کے سوا کسی اور دین کو چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا-‘‘

اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو اسلام کے سواکسی اور دین کو چاہتا ہے جواسلام کے سوا کسی اور نظرئیے کا پرچار کرتا ہے اسلام کے سوا کسی اور فکرکا پرچار کرتا ہے جو اسلام کے نظام کے سوا کسی اور نظام پرچلتاہے:

{وَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَo}  قیامت کے دن ان کاشمار ان لوگوں میںہو گا جنہوں اپنا خسارہ کیا ہو گا-

 ہمیں کبھی کہا جاتا ہے تم سوشل ازم اختیا رکرلو،کبھی کہا جاتا ہے تم کیمنزم کو مان لو،آج ہمیں کہا جاتا ہے تم سیکولر ازم کو مان لو،جب دین آگیا تو دین میں کسی ازم کی گنجائش نہیں- اپنی حقیقت و حقانِیَّت میں ، اپنی عظمت و صداقت میں یہ دین ہر ایک پہلو پہ محیط ہے اور جتنے بھی انبیا علیھم السلام سے ارتقا پاتا ہوا یہ دین آقا علیہ السلام تک آیا ہے تو آپ کی ذاتِ پاک پہ یہ دین مکمل ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کیلئے بہترین طرزِ حیات ، بہترین بود و باش کے اطوار ، بہترین قانون و آئین ، بہترین اصول ، بہترین نظامِ زندگی اور بہترین ضابطۂ حیات کے طور پہ اِس دین کو پسند فرما لیا :

{ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ط}(المائدہ:۳)

’’ آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو (بطور) دین (یعنی مکمل نظام حیات کی حیثیت سے) پسند کر لیا-‘‘

آج ہم نے دین کو مکمل کر دیا ہے ،جب دین مکمل ہو گیا تواس میں دین کے بعد کسی اور ازم کی ضرورت نہیں رہ جاتی، اللہ کا دین سب سے بلند ہے، اللہ کی کتاب سب سے بلند ہے، اللہ کاقانون سب سے بلند ہے، اللہ کا دستور سب سے بلند ہے- اسی طرح ایک مقام پہ اللہ تبارک تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

{وَذَرِالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَہُمْ لَعِبًا وَّلَہْوًا وَّغَرَّتْہُمُ الحَیٰوۃُ الدُّنْیَا}(الانعام:۷۰)

’’اور آپ ان لوگوں کو چھوڑے رکھئے جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنالیا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی نے فریب دے رکھا ہے-‘‘

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اور وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اے محبوب ﷺ آپ ان سے قطع تعلق کردیجئے ا،ن کو چھوڑ دیجئے جنہوں نے اپنے دین کو فقط ایک کھیل تماشا بنا رکھا ہے ،چند افراد کی غلطیوں کو سامنے رکھ کے، چند افراد کی سیاسی یا سماجی غلطیوں کو سامنے رکھ کے پورے دین کو یا دینی نظام کو گالی نہیں دی جاسکتی، ان شخصیات کا احتساب کیا جاسکتا ہے، ان شخصیات سے حساب لیا جاسکتا ہے لیکن مجموعی طور پہ نظامِ دین سے بدظن ہو جانا، نظامِ دین کو برا بھلا کہنا ِنظام دین کی حقانیت سے منہ موڑ لینا کفّار و مشرکین کا طریقہ تھا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایااے محبوب ﷺ ! جو لوگ ایسے کام کرنے لگ جائیں آپ ان سے قطع تعلق کر لیجئے کیونکہ وہ لوگ جو دنیا کے فریب میں غرق ہوگئے ،جو دنیا کی رنگینیوں میں غرق ہو گئے ان کا آقاپاک ﷺ کی ذات سے کوئی تعلق نہیں رہتا -

{وَذَکِّرْ بِہٖٓ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌم بِمَا کَسَبَتْ ق صلے لَیْسَ لَہَا مِنْ دُوْنِ اﷲِ وَلِیٌّ وَّلَا شَفِیْعٌ ج}(الانعام ۷۰)

’’ اور اس (قرآن) کے ذریعے (ان کی آگاہی کی خاطر) نصیحت فرماتے رہئے تاکہ کوئی جان اپنے کیے کے بدلے سپردِ ہلاکت نہ کردی جائے (پھر) اس کے لیے اﷲ کے سوانہ کوئی مدد گار ہوگا اور نہ کوئی سفارشی -‘‘

لیکن فرمایا کہ آپ اُن کو قرآن سے نصیحت فرماتے رہئے تاکہ ان پراِتمامِ حجت رہے اور شاید وہ اِس پیغام کو قبول کرلیں قیامت کے دن ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ کی شفاعت سے محروم ہو جائیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو میرے دین کو کھیل تماشہ سمجھ لیں آپ ان سے قطع تعلق کردیجئے اسی طریقے سے اور مقام پہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا :

{الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَہُمْ لَھْوًا وَّلَعِبًا وَّغَرَّتْھُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَاج فَالْیَوْمَ نَنْسٰہُمْ کَمَا نَسُوْا لِقَآئَ یَوْمِھِمْ ھٰذَا وَمَا کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَo} (الاعراف:۵۱)

’’جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا لیا اور جنہیں دنیوی زندگی نے فریب دے رکھا تھا، آج (حشر کے دن) ہم انہیں اسی طرح بھلا دیں گے جیسے وہ (ہم سے) اپنے اس دن کی ملاقات کو بھولے ہوئے تھے اور جیسے وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے-‘‘

کہ جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور فریب ِدنیا میں غرق ہو گئے، مادیت پرستی میں پڑ گئے ،دین کو نجی معاملہ کہہ کر معاشرے کی تطہیر سے غافل رہے ، دین کو انفرادی معاملہ کہہ کر معاشرے کی اجتماعی تنظیم و ترتیب کو ناپاکیوں کے سپُرد کردیا ، فرمایا کہ اس دن مَیں بھی انہیں بھلا دوں گا اُسی طرح جس طرح انہوںنے مجھے بھلا دیا تھا اورجیسے انہوں نے میری آیتوں کا انکار کیا تھا، جو مجھے بھول گئے جب وہ میرے سامنے آئیں گے تو مَیں انہیں بھلا دوں گا - جنہوں نے مجھ سے اور میرے دین سے منہ پھیر لیا مَیں ان سے منہ موڑ لوں گا، مَیں ان سے منہ پھیر لوں گا، انہوں نے مجھ سے کوئی تعلق نہ رکھا اب میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہوگا ،انہوں نے میرے احکامات سے رُو گردانی کی اس دن مَیں ان کی کوئی بات ،ان کی کوئی آہ وزار ی نہیں مانوں گا-

دوستو ! ہم سب کو اپنے سامنے اِس فکر کو رکھنا چاہیے کہ دین ہے کیا اور دین کو ہم نے کیا سمجھ رکھا ہے ؟ یہ تو ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ بے ریا عبادت دین کی بنیاد ہے ، عبادت کے بغیر تو دین میں داخلہ نہیں ہوتا لیکن اگرآدمی اپنے آپ کو بدنی عبادت تک ہی محدود کردے اور یہ تصور پیش کرے کہ دین صرف و صرف عبادات ہی کا مرقع ہے اور عبادت کی ادائیگی سے بڑھ کے کچھ نہیں ہے ، تو پھر جو اللہ تعالیٰ کے باقی احکامات ہیں، اللہ کے دستور، اللہ کے قانون کے مطابق اللہ کی مخلوق کو چلانا، اللہ کی کتاب کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنا ، اجتماعی عدل و انصاف کا قیام عمل میں لانا اور امر و نہی کو عملی طور پر لوگوں میں نافذ کر نا اور لوگوںمیں مروّج کرنا اگر ہم اسے بھول گئے ،اگر ہم نے اسے چھوڑ دیا تو ہم یہ یاد رکھیں کہ قرآن کے الفاظ کے مطابق کل ہمارا اللہ ہمیں بھلا دے گا، کل ہمارا اللہ ہمیں معاف نہیں فرمائے گا - قرآن نے بتایا ہے بے شمار مقامات پہ کہ دین صرف تمہاری عبادات کا نام ہی نہیں بلکہ دین تمہیں ہر بات میں احکامات لاگو کرتا ہے ، زندگی کے ہر گوشے میں ،زندگی کے ہر پہلو میں، زندگی کے ہر حصے میں، زندگی کے ہر کام میں، زندگی کی ہر سمت میں، یہ تمہاری رہنمائی کرتا ہے -آپ سورۃ بنی اسرائیل کو دیکھیںآیت نمبر ۲۳سے لیکر آیت نمبر۳۷تک اللہ تبارک وتعالیٰ نے تیرہ(۱۳) احکامات فرمائے کہ ان احکامات کے مطابق اپنی زندگی بسر کرو،اگر ان احکامات کے مطابق زندگی بسر نہیںکرو گے تو قیامت کے دن اللہ تبارک وتعالیٰ نے جہنم کا ٹھکانہ تیار کر رکھاہے اُن لوگوں کیلئے جو اللہ کے ان احکامات سے رُو گردانی کرتے ہیں اور وہ تیرہ (۱۳)احکامات کیا ہیں؟ ان تیرہ (۱۳) احکامات میں عقیدہ بھی ہے ،ایمان بھی اور ان احکامات میں سیاست بھی ہے، معیشت بھی ہے، اقتصادیات بھی ہے ،سماج بھی ہے، معاشرہ بھی ہے، آداب زندگی بھی ہیں، عاداتِ زیست بھی ہے ،گھر میں رہنے کے آداب - اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمام کے تمام اُصول اس میں مرتّب فرما دئیے ہیں،تجارت کیسے کرو، تم معیشت کیسے چلاو ٔ،تم نظام کیسے چلاؤ، تمہارے عقائد کیسے ہونے چاہئے ،ان تمام کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے مقرر فرما دیا اگر آپ اسے مرحلہ وار دیکھیں تو پہلا حکم اللہ نے توحید کا کیا اور اس حکم کے متعلق اللہ تبارک وتعالی فرماتے ہیں :

(۱) توحید پر قوی اور غیر متزلزل ایمان :-

{لَا تَجْعَلْ مَعَ اﷲِ اِلٰـھًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلاًo} ( بنی اسرائیل :۲۲)

’’(اے سننے والے!) اﷲ کے ساتھ دوسرا معبود نہ بنا (ورنہ) تو ملامت زدہ (اور) بے یار و مددگار ہو کر بیٹھا رہ جائے گا-‘‘

کہ اللہ کے سوا کسی اور کو معبود نہ بنا لینااگر اللہ کے سوا کسی اور کو معبود بنا لو گے، اگرا للہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرو گے ،تو تمہارے حصے میں سوائے ملامت کے اور بے یارو مدگار ہوجانے کے اور کچھ نہیں آئے گا- ایک تو اِس آیت پاک کا اِشارہ آخرت کی جانب ہے کہ جس نے اِس دُنیا میں اللہ تعالیٰ کی ذات سے شرک کیا وہ آخرت میں بے یار و بے مددگار ہوگا اُس کا سفارشی کوئی نہ ہوگا اور اُسے بارگاہِ الٰہی میں بھی اور ہجومِ محشر کے سامنے بھی شرمندگی و ندامت کا سامنا کرنا پڑے گا اور سوائے اپنے آپ پر ملامت کئے جانے کے اور کچھ بھی ہاتھ نہ آئے گا کہ یہی ملامت ستائے جائے گی کہ کاش دُنیا کی دو سانسوں کی زندگی خواہشِ نفس کی پیروی کرنے کی بجائے اپنے سچے رب تعالیٰ کی بندگی میں گزار دیتا -

دوسرا اِس آیت پاک کا اِشارہ ہماری دُنیاوی زندگی کے انفرادی پہلو کی جانب بھی ہے یعنی جب قرآن یہ کہتا ہے کہ ’’کیا تم نے ایسے شخص کو نہیں دیکھا جس نے اپنے نفس کی خواہشات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے‘‘- یعنی جس نے اُس وحدہٗ لاشریک ذات کے احکامات پہ عمل پیرا رہنے کی بجائے اپنے نفس کی پیروی کی تو وہ یہ یاد رکھے کہ نہ تو نفس نے بندے کو پیدا کیا ہے اور نہ ہی بندے سے اُس کا کوئی ایسا رشتہ ہے جس میں اُسے بندے سے کسی بھی طرح کی کوئی ہمدردی ہو لہٰذا وہ یہی چاہتا ہے کہ بندہ ہلاکت و تباہی سے دوچار ہو جائے تو وہ ایسے اعمال ، ایسے افعال ، ایسے اقوال اور ایسے افکار بندے کے ذہن میں ڈالتا ہے جس سے کہ بندہ لمحہ بہ لمحہ اپنے خالق و مالک و رازق سے دور ہوتا جائے اور اپنے خالق و مالک کی نافرمانیوں کی دلدل میں پھنستا چلا جائے - جس کے نتیجے میں انسان ایسے کام سرانجام دیتا ہے جو تعمیر کی بجائے تخریب پہ مبنی ہوتے ہیں اور دُنیا میں استحکام ، امن ، سلامتی اور اپنائیت کی بجائے دُشمنی ، عداوت ، نفرت ، تعصُّب اور افراتفری پھیلتی ہے جس کے عوض بنی نوعِ انسان کی اجتماعی و انفرادی زندگیاں اجڑ کر ، تباہ ہو کر ، برباد ہوکر رِہ جاتی ہیں ، نسلوں کی نسلیں ، قبیلوں کے قبیلے ، بستیوں کی بستیاں اور شہروں کے شہر صفحۂ ہستی سے مٹ جاتے ہیں - یہ درندگی صرف نفسانیّت ہی کی پیداوار ہے کیونکہ وحشت اور سخت دِلی روحانیت سے پیدا ہونے والی کیفیت و کیفیات کے متضاد الفاظ ہیں کیونکہ روحانیت سے بندے کی کیفیات میں اُنسِیَّت و نرمی پیدا ہوتی ہے لہٰذا ناچیز کی ناقص رائے میں دُنیا میں پائی جانے والی عام سوغات وحشت و سخت دِلی خواہشاتِ نفس کی اندھا دھند تقلید کی بدولت امڈ آئی ہیں - آج ہم جو بھی تباہی ، وحشت اور قتل و غارت اور اس کی تیاری شرق تا غرب دیکھ رہے ہیں یہ دراصل انسانیت کے روحانی زوال کی وجہ سے ہے جب جب اِنسان روحانی طور پہ بد حال ہوجاتے ہیں تب تب تباہیاں اور ہلاکتیں انہیں نرغوں میں دبوچ لیتی ہیں جب انسان پوری طرح اس میں دبوچا جاتا ہے تو پھر وہ اِدھر اُدھر کی ٹامک ٹوئیاں لگا کر ضمیر کی خفت چھپاتا رہتا ہے اور اصل حقائق کو ماننے سے انکار کرتا ہے اس کے پیچھے بھی نفس ہی کارفرما ہوتا ہے - نتیجہ انسان کی بد ترین ندامت ہے کہ نہ تو سُدھر نے کی جانب آتا ہے اور بعض دفعہ تو نہ ہی سُدھرنا چاہتا ہے زندگی کے امور اُداسیوں میں ، تنہائیوں میں اور اکیلے پن میں ڈھل جاتے ہیں اور سات عشاریہ تین بلین(7.3 Billion - یعنی سات ارب تیس کروڑ) انسانوں میں خودکو تنہا اور اکیلا پاتا ہے - انسانوں کے سمندر میں احساسِ تنہائی کا بتدریج تیز رفتاری سے بڑھتے جانا اور ایک نفسیاتی مرض کی وبا بن کر مسلسل پھیلتے چلے جانا قرآن پاک کے اِس حُکم کی صداقت پہ دلیل ہے کہ {لَا تَجْعَلْ مَعَ اﷲِ اِلٰـھًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلاًo} یعنی {’’(اے سننے والے!) اﷲ کے ساتھ دوسرا معبود نہ بنا (ورنہ) تو ملامت زدہ (اور) بے یار و مددگار ہو کر بیٹھا رہ جائے گا‘‘} -

تیسرا اِس آیت پاک کا اِشارَہ ہماری مِلّی زندگی کی جانب بھی ہے بطورِ اُمّت ہمیں اِس میں یہ نصیحت فرمائی جا رہی ہے کہ اگر تُم توکّل علی اللہ کے ابدی و آفاقی اصُول کو ترک کر دو گے ، چھوڑ دو گے اور اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کسی اور کے دستِ نگر بن جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کے نافذ کردہ اوامر و نواہی کو اغیار کے دباؤ پہ مٹانا اور ختم کرنا اور معاشرتی زندگی سے خارج کرنا شروع کردو گے تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے تمہارے اوپر مدد و نُصرت نہیں آئے گی اور تمہاری ترقی کی راہیں مسدود ہو کر رہ جائیں گی اور اقوامِ عالَم میں سوائے حزیمت و ندامت کے ، سوائے رسوائی و ذِلّت کے اور سوائے تاراج و شکست کے تمہیں کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا - اِس لئے اغیار کی دُشمنانہ پالیسیاں اگر دوستی سمجھ کر اختیار کرتے رہو گے تو ایک وقت آئے گا کہ تمہارا کوئی بھی حامی و مدد گار نہیں ہوگا - اگر اِس بات کو اپنی مغرب سے تہذیبی اختلاف والی گزشتہ بات سے مِلا کر کہنا چاہوں تو اقبال کی زُبان میں یوں ہوگا :

اپنی ملّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

اُن کی جمعیّت کا ہے مُلک و نسب پہ انحصار

قُوّتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیّت تیری

دامنِ دین ہاتھ سے چھُوٹا تو جمعیّت کہاں؟

اور جمعیّت ہوئی رُخصَت تو مِلَّت بھی گئی

میرا یہ ماننا ہے شاید اہلِ مغرب بطورِ انسان ہمیں کسی صورت قبول کرلیں اور جو ہمارے لئے پالیسیاں وضع کریں اُن میں ایک انسانی سطح کی گنجائش ہمیں مُہیّا کی جائے اور ظاہر ہے کہ مادی ترقی کا اصول ہی اِسی پہ ہے کہ اَخلاقیات (روحانیت) کی بجائے فقط معیشت کو انسانی رشتوں کی بُنیاد بنایا جائے (End the moral & support the material) - اِس لئے یہ واضح ہے کہ بطور مسلمان کمیونٹی ہمارے لئے جدید دُنیا میں بقا کی راہیں تلاش کرنا بہت مشکل ہوتا چلا جا رہا ہے اِس میں گو کہ ہماری کمزوریاں بھی بُنیادی کردار ادا کر رہی ہیں لیکن سوال یہ بھی اپنی جگہ بڑا اہم ہے کہ کون سی نادیدہ طاقت ہے جو ہمیں صلاحیّتیں دِکھانے کے مواقع مسدود محدود کرادیتی ہے اور صرف ہماری کمزوریاں ہی سامنے آپاتی ہیں بلکہ نادیدہ طاقتیں استعمال کرتی ہیں - ہمارے لئے ترقی کی راہیں کھولنے کی شرائط میں سے یہ ہے کہ مذہب کو چھوڑو معیشت اپناؤ ، روحانیّت و اخلاقیات کو چھوڑو مادیّت اپناؤ - اس مؤقف کی دلیل پہ پاکستان کی تاریخ سے کئی درجن حوالے پیش کرسکتا ہوں - ہمیں اِس پہ بڑا واضح ہونا چاہئے کہ پاکستان ’’بنا‘‘ بھی نہیں اور ’’بنایا‘‘ بھی نہیں گیا بلکہ تائیدِ غیبی سے ایک بہت ہی عظیم مقصد کیلئے ’’بنوایا‘‘ گیا ہے جس نے بنوایا ہے وہی اِس کو چلا بھی رہا ہے اور اُسی کے کرم اور فضل سے یہ قائم ہے ورنہ دوست نُما دشمنوں نے اِس کی جڑیں کاٹنے میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی پاکستان کی سُنیں تو یہی آواز آتی ہے کہ {میرے جتنے بھی دوست تھے سب نے --حسبِ توفیق بے وفائی کی} ہمیں کسی دوست یا دُشمن ملک کو اپنا بڑا یا سپریم یا سپر ماننے کی طرف جانے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی ذات پہ توکّل کرنا چاہئے اور اُس کے احکامات کا سودا کسی بھی صورت نہیں کرنا چاہئے خاص کر آئینِ پاکستان میں ہم نے قرآن و سُنّت کی بالا دستی اور بنی نوعِ انسان کی فلاح و بقا کا جو وعدہ کیا ہے اُسے بہر صُورت نبھانا ہے اور اس وعدے کی پاسداری کرنی ہے - اگر ہم نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو حاکمِ اعلیٰ یا سُپر طاقت یا بالادست مانا تو یہ ایک طرح کا ’’سیاسی شرک‘‘ ہوگا اگر اللہ تعالیٰ کے قوانین کے سامنے اغیار کے تراشیدہ قوانین مُقدّم کردئیے تو پھر قرآن مجید نے انجام بتا دیا ہے کہ تمہارا کوئی حامی ، کوئی مدد گار نہیں رہے گا اور سوائے شرمندگی و ندامت کے کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا -

بنی اسرائی کی آیت ۲۲ سے آگے آیت ۲۳ میں بھی پہلا حُکم توحید ہی کے متعلق اِرشاد فرمایا:

{وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ }(بنی اسرائیل:۲۳)

’’اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو -‘‘

اللہ تبارک تعالیٰ نے تمہارے درمیان یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ تم اللہ کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہیں کرسکتے، تمہارا الٰہ صرف وہی ہے، سجدے کے لائق ، عبادت کے لائق صرف وہی ہے ،اس کی ذات کے علاوہ کسی کو سجدہ جائز نہیں، اس کی ذات کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کی جاسکتی، یہ سورۃ بنی اسرائیل کا وہ پہلا حکم ہے آیت نمبر ۲۳ میں پورے عقیدے کو واضح کر دیا- 

(۲) والدین سے حُسنِ سلوک:-

اور پھر دوسر ے حصے میں اللہ تبارک تعالیٰ نے فرمایا :

{وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً ط}(بنی اسرائیل ۲۳)

’’اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو-‘‘

اپنے والدین کے ساتھ احسان کے ساتھ پیش آؤ، اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ-

{اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَآ اَوْ کِلٰہُمَا فَـلَا تَقُلْ لَّہُمَا اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلًا کَرِیْمًاo}(بنی اسرائیل:۲۳)

’’ اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ’’اُف‘‘ بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کرو-‘‘

اس سے اگلی آیت مبارکہ میں حکم فرمایا کہ

{وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ}

’’عاجزی اور محبت کے ساتھ اُن کے سامنے تواضع کا بازُو پست رکھے رکھنا- ‘‘

{وَقُل رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْرًا}

’’اور کہو کہ اے ہمارے پروردگار ! اِن پر ویسا ہی رحم کر جیسا کہ انہوں نے میرے بچپن میں پرورش کی یا انہوں نے میرے بچپن میں مجھ پہ رحم کیا ‘‘-

یہ جو آخری حصہ ہے اِس کے متعلق سلف صالحین اور اولیائے کاملین کا طریق رہا ہے کہ جب بھی اپنے مرحوم والدین کا ذکر کرتے ، اُنہیں یاد کرتے یا اُن کیلئے دُعا کرتے تو لازمی طور پہ یہ دُعا مانگا کرتے کہ {وَقُل رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْرًا} ہم میں سے وہ لوگ جن کے والدین اِس دارِ فانی سے رِحلت کرچکے ہوں انہیں چاہئے کہ اُن کیلئے بکثرت یہ دُعا کیا کریں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے بہت ہی مقبول بندوں اور اُس کی بارگاہ کے دوستوں کا طریق ہے اور اللہ کریم کو بھی وہی طریق پسند آتا ہے جو اُس کے حکم سے اُس کی بارگاہ کے مقبول لوگ اختیار کرتے ہیں - 

(۳)قرابت داروں ، محتاجوں اور مسافروں کے حقوق:-

اور تیسرا حکم اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا :

{وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ}(بنی اسرائیل:۲۶)

’’اور قرابت داروں کو ان کا حق ادا کرو اور محتاجوں اور مسافروں کو بھی-‘‘

قرابت داروں کو ان کا حق دو، مساکین کوان کا حق دو اور مسافروں کو ان کا حق دو، تمام کے تمام جو رشتے ہیں تمہارے رشتے دار ہیں، عزیز ہیں، اقرباء ہیں، ان کے ساتھ اسلام نے، میرے محبوبﷺ نے جو حقوق مقرر کئے ہیں تمہارے اوپر لازم ہے کہ ان حقوق کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ کرو {وَالْمِسْکِیْنَ} اور جوتمہاری سوسائٹی کا پسا ہوا طبقہ ہے، جو تمہارے معاشرے کا غریب طبقہ ہے، جو تمہارے معاشرے کا مظلوم طبقہ ہے، جو تمہارے معاشرے کا مسکین طبقہ ہے ان کا حق انہیں دو، یہ ایک پوری ویلفئیرسٹیٹ کا تصور اللہ تبارک تعالیٰ نے قرآن پاک میں دیا اور بالخصوص اگر آپ قرآن پاک میں نظر دوڑاکردیکھیں تو پورے قرآن میں جگہ جگہ پھیلا ہو ا ہے، فلاح معاشرہ تمہارے اوپر لازم ہے، اپنے معاشرے کے مظلوم لوگوں کی مدد کرنا تمہارے اوپر لازم ہے، قرآن کی رُو سے {وَابْنَ السَّبِیْل }اور جو راہ چلتے مسافر ہیں ان کے بھی حقوق ہیں تمہارے اوپر ، چاہے وہ علم کا مسافر ہے، چاہے وہ حق کا مسافر ہے، چاہے وہ راستے میں کسی اور طرف جاتا ہوا کسی اور چیز کا مسافر ہے اللہ تعالی نے فرمایا کہ ان تمام کے تمہارے اوپر مَیں نے حقوق مقرر کر دیئے ہیں جن کی وضاحت میرے محبوبﷺ کی احادیث سے اور میرے محبوبﷺ کی سنت سے ہوتی ہے -

عزیز و اقارب کے حقوق تو خاندانی ڈھانچے میں کافی حد تک واضح ہوتے ہیں بالخصوص بیٹیاں اقارب میں سب سے پہلے ہونگی اُن کے حقوق ادا کرنا ، زمین ، جائیداد اور وراثت میں اُن کا حق بہر طور اُن کو منتقل کرنا لازم ہے - ہمارے معاشرے کے وہ چند سلگتے ہوئے پہلو جن سے بے شمار خرابیاں حتیٰ کہ دُشمنیاں اور نفرتیں جنم لے رہی ہیں اُن میں سے ایک بیٹیوں اور بہنوں کے حقوق پہ ڈاکہ ہے مگر ناچیز کو بڑے افسوس اور تاسف سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ منبر و محراب نے دُخترانِ اِسلام کے حقوق کی جنگ معاشرے میں اُس طرح نہیں لڑی جس طرح کہ لڑنے کا حق تھا ، جو عزّت اور جو معاشرتی مقام عورت کو ، بہن کو بیٹی کو دین نے دِیا وہ بھی پوری طرح معاشرے پہ واضح نہیں کیا گیا لیکن خاص کر جہاں تک بیٹیوں کو وراثت منتقل کرنے کی بات ہے تو اِس پہ پورے ایک جہاد کی ضرورت ہے - دوسری چیز مساکین کے حقوق ہیں استطاعت رکھنے والے اور حیثیت مند لوگوں پہ لازم ہے کہ اپنے مال سے مساکین کیلئے ایک حصہ ضرور مختص کریں اور جہاں کہیں بھی اُن پہ ظُلم ہوتا دیکھیں یا کسی جابر کو اُن کا مال ہڑپ کرتے ہضم کرتے اور غصب کرتے دیکھیں تو لازماً مساکین کا ساتھ دیں کسی سیاسی غرض یا ووٹ بینک کی خاطر نہیں بلکہ خالصتاً رضائے الٰہی کی خاطر - عموماً ہمارے چرب زبان سیاستدان خدمتِ خلق کو بُنیاد بنا کر سیاسی بُنیاد پہ لوگوں کی حمایت کرتے ہیں جس کا مقصد عموماً ووٹ بینک بڑھانا ہوتا ہے تو اُنہیں بھی چاہئے کہ صرف ذاتی مفاد کو سامنے نہ رکھّیں بلکہ اُخروی مفاد بھی مدِّ نظر رکھنا ضروری ہے - اگر ہمارے معاشرے کے سماجی اور سیاسی طور پہ بااثر اَفراد تعمیری نوعیّت کے اقدام کرنا چاہیں تو اُنہیں سب سے پہلا کام یہ تجویز کرنا چاہئے کہ کسی بھی طور پہ ظالم کے ساتھی نہ بنیں ، کسی بھی طور ظُلم کی حمایت نہ کریں چاہے اس کیلئے کوئی بھی قربانی دینا پڑے ، کتنا بڑا سیاسی دھڑا کیوں نہ ٹوٹ جائے مظلوم کا ساتھ ہر صورت دینا چاہئے ، اقبال فرماتے ہیں کہ

اگر مُلک ہاتھوں سے جاتا ہے ، جائے!

تُو اَحکامِ حق سے نہ کر بے وفائی

تیسری چیز راستہ چلتے مُسافروں کو سہولیات فراہم کرنا ہے مثلاً عام شاہراہوں پہ پانی کا اہتمام کرنا ، راستے میں ایسی رکاوٹیں کھڑی نہ کرنا ایسی رکاوٹیں نہ پیدا کرنا جن سے کہ مسافروں کی مشکلات میں اضافہ ہو - سُلطان العارفین حضرت سُلطان باھُو رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

ع -شالا مُسافر کوئی ناں ہووے ککھ جنہاں تھیں بھارے ھُو

حضرت سُلطان العارفین کے اِس فرمان کی رُوحانی تاویلات اپنی جگہ مُسلّم ہیں مگر اس کے سماجی و معاشرتی تناظر سے بھی قطعِ نظر نہیں کیا جا سکتا - قرآنِ حکیم کے انہیں فرامین کے پیشِ نظر صُوفیائے کرام نے خانقاہی نظام کو ایک معاشرتی مثال بنا کے پیش کیا جہاں مساکین کیلئے ہر وقت مُفت کھانا اور وہ بھی بِلا تفریقِ رنگ و نسل اور مذہب ! کسی بھی رنگ و نسل کا کسی بھی عقیدے و مذہب کا آدمی عورت ہے یا مرد بچہ ہے یا بوڑھا جب آگیا ہے تو پھر لنگر کھائے بغیر نہیں جا سکتا - برِّصغیر پاک و ہند کے صوفیا نے تو کمال ہی کردیا تھا کہ بنگال سے کشمیر تک ایک ایسا متفقّہ فیصلہ فرمایا کہ عقل دنگ رِہ جاتی ہے اور یہ فیصلہ لیبیا ، شام ، مصر ، عراق ، مراکش اور دیگر ممالک کی خانقاہوں پہ کم کم ہی نظر آتا ہے جبکہ برِّصغیر میں یہ متفقّہ تھا کہ لنگر میں دال پکائی جاتی تھی اور ابھی بھی یہی مروّج ہے - کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟ وہ اِس لئے کہ جو یہاں کی آڈئینس تھی جن کو یہاں تبلیغ فرما کر حلقہ بگوشِ اِسلام اور مشرف با ایمان کرنا تھا اُن کی بڑی اکثریّت ایک ایسے مذہب سے تعلّق رکھتی تھی جو گوشت نہیں کھاتے اور ان کے بعض طبقے توہم پرستی کی بِنا پہ بعض سبزیوں سے بھی پرہیز کرتے ہیں تو اُن کو اپنے قریب لانے کیلئے صُوفیأ نے سماجی طریقہ یہ اختیار فرمایا کہ کھانے میں صرف دال مخصوص فرما دی تاکہ کسی کو بھی آتے ہوئے اور کھاتے ہوئے سوچنا نہ پڑے کوئی تکلّف محسوس نہ کرے اُن کے لنگر سے کھانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے - یہی وجہ ہے کہ وہ بکثرت آتے اور لنگر کے بہانے صوفیا کی صُحبت انہیں نصیب ہوتی اور اللہ تعالیٰ اُن کے دلوں میں اپنے دین کی رغبت ڈال دیتا - یہ لنگر جہاں مقامی مساکین کے پیٹ بھرتا تھا وہیں راہ چلتے مسافر بھی چلتے وقت اپنی منزل کا تعیُّن یوں کرتے کہ ہمیں راستے میں فلاں فلاں خانقاہ پڑے گی وہاں ہمارے رات بسر کرنے اور کھانے کا اہتمام و انتظام ہو جائے گا - ایسی خانقاہیں جو برطانوی قبضہ سے پہلے کی ہیں اُن میں اگر سب کے ہاں نہیں تو اکثریت کے ہاں ضرور ایسی مثالیں تاریخ میں موجود ہوں گی کہ غیر مسلموں کی شادی بیاہ کی باراتیں اُن کی خانقاہوں سے گزرتے ہوئے قیّام کرتیں اور پوری پوری باراتیں مشرف با اسلام ہو کر روانہ ہوتیں - اِس لئے کہ اُن بزرگوں نے قرآن کو فقط ثواب کمانے کا آلہ ہی نہیں سمجھ رکھا تھا یعنی یہیں تک محدود نہیں کر رکھّا تھا بلکہ وہ قرآن کو ایک کتابِ زندہ سمجھتے تھے اور اس کے فرمودات کو عملی شکل دیتے تھے جس وجہ سے اللہ تعالیٰ اُن کے ہر نیک عمل کو قلیل ہونے کے باوجود کثیر برکت اور کثیر تاثیر عطا فرماتے تھے -

(۴) فضول خرچی کی ممانعت :-

اور چوتھا حکم اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :

{ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًاo اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّیٰـطِیْن ط}(بنی اسرائیل ۲۷- ۲۶ )

’’اور اسراف اور بے جا خرچ سے بچو - بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں-‘‘

فضول خرچی نہ کرو، فضول خرچی سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے منع فرمایااور فرمایا کہ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے دوست ہیں، ہمارے اوپر اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ معاشی حد مقرر کردی ہے - تفسیرات میں بزرگانِ دین نے فضول خرچی کو کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ اِس لئے ناپسند ہے کہ یہ دراصل کُفرانِ نعمت کی ایک شکل ہے کیونکہ آیت ۲۷ کے اگلے حِصَّے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ {وَکَانَ الشَّیْطَانُ لِرَبِّہٖ کَفُوْرًا} ’’کہ شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ہی ناشکرا ہے‘‘ تو اِس لئے وہ فرماتے ہیں شیطان کا کام بھی اپنے سچے رب کی ناشکری کرنا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے اِس لئے شیطان بندوں کو بھی اِسی طرف لگاتا ہے تاکہ وہ بھی اسراف ، تبذیر اور فضول خرچی جیسے ناشکری پہ مبنی افعال سرانجام دیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے نامنظور و ناپسندیدہ لوگوں میں شامل ہو جائیں - اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو غیر مناسب طور طریقہ سے خرچ کرنا یا انہیں ضائع کرنا معاشرے میں طبقاتی تفریق کو ہوا دیتا ہے اور کئی طرح کی سماجی و معاشرتی ناہمواریاں ، ناخوشگواریاں اور ناداریاں پیدا کرنے کا موجب ہے - میں یہاں قرآن پاک کے اِس حکم سے روگردانی کرنے یا اِسے عملی طور پہ میں دُنیا میں نافذ نہ کر سکنے کے نقصانات کی ایک انتہائی مختصر سی ، انتہائی مختصر سی تصویر پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ اصراف و تبذیر اور فضول خرچی کرنے والوں کو خالقِ کائنات نے شیطان کا بھائی کیوں قرار دیا ؟ شاید بہت سے لوگ ایسے آرگیومنٹس کو سُننے کیلئے تیار نہ ہوں یا اُنہیں پسند نہ آئے لیکن یہ موجودہ نام نہاد ترقی یافتہ دُنیا کی ایک مانی ہوئی حقیقت ہے کہ دُنیا بھر میں انسانوں کیلئے تیار کئے جانے والی اشیائے خورد و نوش اور خوراک کا ایک تہائی حصہ ضائع ہوجاتا ہے جس کی اندازاً مقدار ایک عشاریہ تین ارب ٹن بنتی ہے - جبکہ افریقہ اور ایشیا کے ۸۶۸ ملین (چھیاسی کروڑ اسّی لاکھ) لوگ بھوک اور فاقہ کی زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں - جبکہ اگر یہی ضائع شُدہ یعنی فضول خرچی یا اسراف و تبذیر کی نذر کیا گیا کھانا یعنی ایک عشاریہ تین ارب ٹن اگر محفوظ کرلیا جائے تو اس سے ۸۶۸ ملین سے چارگنا زیادہ (تقریباً تین ہزار چارسو بہتر ملین }تین ارب سینتالیس کروڑ بیس لاکھ {) لوگوں کو کھانا کھلایا جا سکتا ہے - صرف امریکہ میں جو کھانا ضائع کیا جاتا ہے اُس سے برِّاعظم افریقہ کے تمام فاقہ کشوں کو تین وقت کھانا کھلا کر بھی کھانا بچ جائے گا - اِسی طرح ہم اِسی مدّ میں خوراک اور پانی کی جو مشترکہ فضول خرچی کررہے ہیں اس میں عالمی سطح پہ تسلیم کئے گئے اعداد و شُمار یہ بتاتے ہیں کہ جس زمین پہ ہم رہتے ہیں انسان اِس زمین سے جو پانی نکالتے ہیں اس کا ایک چوتھائی حصّہ ایسے کھانوں میں صرف ہوجاتا ہے جو کھانا ضائع کیا جاتا ہے - ہم کتنا پانی فضول میں خرچ کررہے ہیں اس کا تو اندازہ بہت ہی بڑا ہے لیکن جو صرف ضائع ہوجانے والے کھانے میں استعمال ہو کر اس کے ساتھ ہی ضائع ہوجاتا ہے وہ زمین سے حاصل کئے جانے والے کل پانی کا ایک چوتھائی بنتا ہے - اِسی کی اور مثال لیجئے کہ صرف کینیڈا میں جتنا کھانا ضائع کیا جاتا ہے اس سے تقریباً ۱۲۰۰ سینڈوچ سالانہ اور 3.5 سینڈوچ روزانہ لوگوں کو کھلائے جا سکتے ہیں - اِس پہ آخری مثال میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ گلف کی ایک معروف کاروباری شخصیّت پیرس کے نائیٹ کلب میں ایک ہفتہ میں جتنا خرچ کرتے ہیں اُس سے غزہ اور مغربی کنارہ کے تمام فلسطینیوں کو تازہ اور معیاری کھانا پیش کیا جاسکتا ہے -

دوستو اور ساتھیو ! قرآن پاک ہر زمانے اور ہر عہد کیلئے ایک کتابِ زِندہ ہے جس کا ایک ایک حرف کائنات کی ابدی صداقتوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اگر فضول خرچی اور اصراف کے متعلق قرآن پاک کا فیصلہ عملاً لاگو کیا جائے تو یہ معاشرتی ناہمواری اور امیر و غریب کا بڑھتا ہوا فرق بآسانی مٹایا جا سکتا ہے - لیکن اس فرمان سے رُوگردانی کی صُورت میں جو ضیاع اور نقصان خوراک ، اشیائے خورد و نوش اور خود انسانی جانوں کے فاقہ و بھوک کا انسان مل کے کررہے ہیں اِس کا ہمارے ضمیر کی عدالت میں ہمارے پاس کیا جواب ہے ؟ 

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر