سیاسی ، معاشی و سماجی طبقاتی تقسیم کا حل حیات نبویہﷺ کی روشنی میں

سیاسی ، معاشی و سماجی طبقاتی تقسیم کا حل حیات نبویہﷺ کی روشنی میں

سیاسی ، معاشی و سماجی طبقاتی تقسیم کا حل حیات نبویہﷺ کی روشنی میں

مصنف: ڈاکٹرعمیرمحمودصدیقی دسمبر 2018

الحاج ملک الشہباز میلکم ایکس دنیا میں سیاہ فام لوگوں کے حقوق کے لیے کوشش کرنے والے بہت بڑے رہنما تھے-اسلام قبول کرنے کے بعد جب پہلی مرتبہ حج کے لیے بیت اللہ کا طواف اور وقوف عرفات و مزدلفہ گیا تو انسانوں میں امتیاز رنگ و خوں کو عملی طور پر مٹتے ہوئے دیکھا -امریکہ واپسی پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کے نسل پرستی کے مسائل کا حل یہ ہے کہ امریکہ کے تمام لوگ مسلمان ہو جائیں-اس کے بعد میلکم ایکس کو گولی مار دی گئی اور آپ شہید ہو گئے-آج انسان ذات، رنگ، نسل،زبان، مذہب ،سیاست کے علاوہ سماجی اور معاشی تقسیم کا شکار ہے-یہ تقسیم ایک دوسرے کے تعارف سے آگے بڑھ کر تعصب کی شکل اختیار کر جائے تو یقیناً انسان حق و باطل، عدل اور ظلم کے فرق کو بھلا بیٹھتا ہے-انسان نے جب کبھی اپنے لیے وحی الٰہی کے انکار کے بعد کوئی نظام حیات انسانی علوم کی بنیاد پر کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے تو نتیجہ تباہی اور لا تعداد انسانوں کی ہلاکت کی صورت میں نکلا ہے-جن لوگوں نے پوری زندگی کی معاشی تعبیر کی ،انسان کو محض ایک معاشی حیوان قرار دیتے ہوئے انسانوں کو سرمایہ دار اور مزدوروں کے طبقات میں تقسیم کردیا -بعض معاشرتوں کی بنیاد شرک پر رکھی گئی تو انسان بھی دیوتاؤں کی طرح مختلف اونچی اور نچلی ذاتوں کی تقسیم میں بٹتا گیا- سیاسی فرقوں کی بنیاد کیونکہ علاقائی، لسانی اورنسلی تعصبات پر ہے اسی لیے جو مذہب کے منکر تھے وہ ان مصنوعی کھوکھلی بنیادوں پرتقسیم ہوتے گئے- جدیدیت کے دور میں حقوق انسانی کی بحث میں اگر چہ مساوات کا نعرہ لگایا گیا تاہم انسان پر یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہ بلند بانگ دعاوی محض پر کشش ، حقیقت سے خالی دعاوی ہی ہیں -انسان پہلے بھی تعصب کا شکار تھا اور آج بھی ہے-

’الست بربکم‘ اور ’الارواح جنود مجندہ‘کے بموجب انسان کی زندگی کا مبدأ روحانی ہے -توحید،رسالت اور آخرت پر ایمان ان تمام طبقانی تعصبات سے بالا ہو کر انسان کو ایسے ’اتحاد انسانی‘ کے نظم میں پرو دیتا ہے جو ’لا جغرافی‘ہے-حضور نبی کریم (ﷺ)کی ختم نبوت کا عقیدہ زمان و مکان کی حد بندیوں سے انسان کو آزاد کرتے ہوئے عالمگیر تہذیب کی طرف دعوت دیتا ہے - آپ (ﷺ) نے اپنی تعلیمات میں زندگی کا مبدأ روحانی قرار دیتے ہوئے شعوب و قبائل کی تقسیم کو محض ایک تعارفی ضرورت قرار دیا -اسلام ایک ایسی معاشرت کی تشکیل کرتا ہے جس کی بنیاد توحید،رسالت اور آخرت پر ہے -توحید کا عقیدہ انسانیت میں مساوات کے تصور کو عملی طور پر ممکن بناتا ہے-رسالت پر ایمان اپنی خواہشات اور عقل پرستی کی بنیاد پر خیر و شر کے تعین کے بجائے اپنے خالق کی تخلیق کردہ فطر ت کے مطابق وحی کی روشنی میں زندگی گزارنے کا تقاضا کرتا ہے جبکہ آخرت پر ایمان دنیا کو آخرت کے تناظر میں دیکھنے کا زاویہ عطا کرتا ہے جس سے انسان میں اللہ کا خوف اور تقویٰ و ورع سے پر زندگی گزارنے کا شعور بیدار ہوتا ہے-جب انسان کو محض مادی وجود قرار دے کر وفا داریوں کو زمینی اور خونی رشتوں پر قائم کیا جائے تو انسان ہمیشہ طبقاتی تعصبات کا شکار رہتا ہے-حضور نبی کریم (ﷺ) نے مدینہ طیبہ میں جس معاشرت کی بنیاد رکھی وہ ایک ایسا مثالی معاشرہ ہے کہ برناڈ شا جیسے دانشور بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ آپ (ﷺ) کے دامن میں ہی پناہ لینے میں انسانیت کی نجات ہے اور آپ (ﷺ) کو ہی تمام انسانیت کا نجات دہندہ کہنا چاہئے-حضور نبی کریم (ﷺ) کے اَصحاب میں عرب، حبشہ، روم، فارس ،ہند وغیرہ سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے تاہم حضور نبی کریم (ﷺ) نے ان تمام کو اخوت و محبت کے ایسے رشتے میں پرو دیا جس کی صحیح تصویر حبشہ کے ’بلال‘ کو سیدنا بلال (رضی اللہ عنہ) کہنے اور حضرت سیدنا سلمان فارسی (رضی اللہ عنہ) کے جواب’انا ابن الاسلام‘ سے سامنے آتی ہے-انسان سیاسی ،سماجی اور معاشی تعصبات کا شکار انکارِ وحی اور انسانی علوم کے پیش نظر خیر و شر کے تعین اور ترقی کے حصول کے جنون کے سبب ہے-انسان نے جب انکارِ خدا کے بعد اپنے وجود میں غور و فکر کی کوشش کی تو نتیجتاً خود کو ’بندر‘دریافت کیا -قرآن مجید میں انسان کی بابت 4سوالات کا جواب دیا گیا ہے :

1.       انسان کیا ہے ؟

2.       انسان کیسے تخلیق ہوا؟

3.       انسان کو کس چیز سے تخلیق کیا گیا ؟

4.       انسان کو کیوں تخلیق کیا گیا ؟ 

بحیثیت ایک مخلوق اپنے عبد اللہ اور خلیفۃ اللہ ہونے کا تصور انسان کو’لا الہ‘ (معبودان باطلہ کے معبود ہونے کی نفی) اور (معبود حقیقی پر ایمان کےاقرار) ’الا اللہ ‘ کے اثبات کے ساتھ اس حقیقی معراج پر لے جاتا ہے جو انسان کا مقصود حیات ہے- مدینہ منورہ میں آزادی بصورت عبدیت،عدل،اخوت،مساوات جیسی اقدار ہی تھیں جن کے سبب سے انسان ایسی متعصبانہ طبقاتی تقسیم سے محفوظ رہے -ان قدیم تقسیمات سے آگے بڑھ کر اب انسان نے جدید سائنسی معاشرے میں ’آزادی‘کی بنیاد پر کچھ نئے تعصبات کی بنیاد رکھی ہے جن میں انسانوں کو’مغرب کے تصور آزادی‘کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا ہے-بقول اقبال آج انسانیت کو (سیرت النبی (ﷺ) کی روشنی میں) فرد کے روحانی استخلاص، معاشرے کی روحانی بنیادوں پر تقسیم اور کائنات کی روحانی تعبیر کی ضرورت ہے- یہی وہ ذریعہ ہے جس کی بدولت ہم ان تعصبات سے انسانیت کو بچا سکتے ہیں-

 

٭٭٭

الحاج ملک الشہباز میلکم ایکس دنیا میں سیاہ فام لوگوں کے حقوق کے لیے کوشش کرنے والے بہت بڑے رہنما تھے-اسلام قبول کرنے کے بعد جب پہلی مرتبہ حج کے لیے بیت اللہ کا طواف اور وقوف عرفات و مزدلفہ گیا تو انسانوں میں امتیاز رنگ و خوں کو عملی طور پر مٹتے ہوئے دیکھا -امریکہ واپسی پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کے نسل پرستی کے مسائل کا حل یہ ہے کہ امریکہ کے تمام لوگ مسلمان ہو جائیں-اس کے بعد میلکم ایکس کو گولی مار دی گئی اور آپ شہید ہو گئے-آج انسان ذات، رنگ، نسل،زبان، مذہب ،سیاست کے علاوہ سماجی اور معاشی تقسیم کا شکار ہے-یہ تقسیم ایک دوسرے کے تعارف سے آگے بڑھ کر تعصب کی شکل اختیار کر جائے تو یقیناً انسان حق و باطل، عدل اور ظلم کے فرق کو بھلا بیٹھتا ہے-انسان نے جب کبھی اپنے لیے وحی الٰہی کے انکار کے بعد کوئی نظام حیات انسانی علوم کی بنیاد پر کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے تو نتیجہ تباہی اور لا تعداد انسانوں کی ہلاکت کی صورت میں نکلا ہے-جن لوگوں نے پوری زندگی کی معاشی تعبیر کی ،انسان کو محض ایک معاشی حیوان قرار دیتے ہوئے انسانوں کو سرمایہ دار اور مزدوروں کے طبقات میں تقسیم کردیا -بعض معاشرتوں کی بنیاد شرک پر رکھی گئی تو انسان بھی دیوتاؤں کی طرح مختلف اونچی اور نچلی ذاتوں کی تقسیم میں بٹتا گیا- سیاسی فرقوں کی بنیاد کیونکہ علاقائی، لسانی اورنسلی تعصبات پر ہے اسی لیے جو مذہب کے منکر تھے وہ ان مصنوعی کھوکھلی بنیادوں پرتقسیم ہوتے گئے- جدیدیت کے دور میں حقوق انسانی کی بحث میں اگر چہ مساوات کا نعرہ لگایا گیا تاہم انسان پر یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہ بلند بانگ دعاوی محض پر کشش ، حقیقت سے خالی دعاوی ہی ہیں -انسان پہلے بھی تعصب کا شکار تھا اور آج بھی ہے-

’الست بربکم‘ اور ’الارواح جنود مجندہ‘کے بموجب انسان کی زندگی کا مبدأ روحانی ہے -توحید،رسالت اور آخرت پر ایمان ان تمام طبقانی تعصبات سے بالا ہو کر انسان کو ایسے ’اتحاد انسانی‘ کے نظم میں پرو دیتا ہے جو ’لا جغرافی‘ہے-حضور نبی کریم (ﷺ)کی ختم نبوت کا عقیدہ زمان و مکان کی حد بندیوں سے انسان کو آزاد کرتے ہوئے عالمگیر تہذیب کی طرف دعوت دیتا ہے - آپ (ﷺ) نے اپنی تعلیمات میں زندگی کا مبدأ روحانی قرار دیتے ہوئے شعوب و قبائل کی تقسیم کو محض ایک تعارفی ضرورت قرار دیا -اسلام ایک ایسی معاشرت کی تشکیل کرتا ہے جس کی بنیاد توحید،رسالت اور آخرت پر ہے -توحید کا عقیدہ انسانیت میں مساوات کے تصور کو عملی طور پر ممکن بناتا ہے-رسالت پر ایمان اپنی خواہشات اور عقل پرستی کی بنیاد پر خیر و شر کے تعین کے بجائے اپنے خالق کی تخلیق کردہ فطر ت کے مطابق وحی کی روشنی میں زندگی گزارنے کا تقاضا کرتا ہے جبکہ آخرت پر ایمان دنیا کو آخرت کے تناظر میں دیکھنے کا زاویہ عطا کرتا ہے جس سے انسان میں اللہ کا خوف اور تقویٰ و ورع سے پر زندگی گزارنے کا شعور بیدار ہوتا ہے-جب انسان کو محض مادی وجود قرار دے کر وفا داریوں کو زمینی اور خونی رشتوں پر قائم کیا جائے تو انسان ہمیشہ طبقاتی تعصبات کا شکار رہتا ہے-حضور نبی کریم (ﷺ) نے مدینہ طیبہ میں جس معاشرت کی بنیاد رکھی وہ ایک ایسا مثالی معاشرہ ہے کہ برناڈ شا جیسے دانشور بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ آپ (ﷺ) کے دامن میں ہی پناہ لینے میں انسانیت کی نجات ہے اور آپ (ﷺ) کو ہی تمام انسانیت کا نجات دہندہ کہنا چاہئے-حضور نبی کریم (ﷺ) کے اَصحاب میں عرب، حبشہ، روم، فارس ،ہند وغیرہ سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے تاہم حضور نبی کریم (ﷺ) نے ان تمام کو اخوت و محبت کے ایسے رشتے میں پرو دیا جس کی صحیح تصویر حبشہ کے ’بلال‘ کو سیدنا بلال (﷜) کہنے اور حضرت سیدنا سلمان فارسی (﷜) کے جواب’انا ابن الاسلام‘ سے سامنے آتی ہے-انسان سیاسی ،سماجی اور معاشی تعصبات کا شکار انکارِ وحی اور انسانی علوم کے پیش نظر خیر و شر کے تعین اور ترقی کے حصول کے جنون کے سبب ہے-انسان نے جب انکارِ خدا کے بعد اپنے وجود میں غور و فکر کی کوشش کی تو نتیجتاً خود کو ’بندر‘دریافت کیا -قرآن مجید میں انسان کی بابت 4سوالات کا جواب دیا گیا ہے :

1.      انسان کیا ہے ؟

2.       انسان کیسے تخلیق ہوا؟

 

3.       انسان کو کس چیز سے تخلیق کیا گیا ؟

4.       انسان کو کیوں تخلیق کیا گیا ؟

 

بحیثیت ایک مخلوق اپنے عبد اللہ اور خلیفۃ اللہ ہونے کا تصور انسان کو’لا الہ‘ (معبودان باطلہ کے معبود ہونے کی نفی) اور (معبود حقیقی پر ایمان کےاقرار) ’الا اللہ ‘ کے اثبات کے ساتھ اس حقیقی معراج پر لے جاتا ہے جو انسان کا مقصود حیات ہے- مدینہ منورہ میں آزادی بصورت عبدیت،عدل،اخوت،مساوات جیسی اقدار ہی تھیں جن کے سبب سے انسان ایسی متعصبانہ طبقاتی تقسیم سے محفوظ رہے -ان قدیم تقسیمات سے آگے بڑھ کر اب انسان نے جدید سائنسی معاشرے میں ’آزادی‘کی بنیاد پر کچھ نئے تعصبات کی بنیاد رکھی ہے جن میں انسانوں کو’مغرب کے تصور آزادی‘کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا ہے-بقول اقبال آج انسانیت کو (سیرت النبی (ﷺ) کی روشنی میں) فرد کے روحانی استخلاص، معاشرے کی روحانی بنیادوں پر تقسیم اور کائنات کی روحانی تعبیر کی ضرورت ہے- یہی وہ ذریعہ ہے جس کی بدولت ہم ان تعصبات سے انسانیت کو بچا سکتے ہیں-

٭٭٭

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر