نبی اکرمﷺ کی خارجہ پالیسی ، عہدنوکےلئےمشعل راہ

نبی اکرمﷺ کی خارجہ پالیسی ، عہدنوکےلئےمشعل راہ

نبی اکرمﷺ کی خارجہ پالیسی ، عہدنوکےلئےمشعل راہ

مصنف: لئیق احمد دسمبر 2018

انسان مدنی الطبع ہے-اس کو باہم لوگوں سے ملنے کی ضرورت رہتی ہے- اس لئے بقائے انسانی کیلئے معاشرے کا قیام ضروری ہے- افراد کے مجموعے کا نام معاشرہ ہے اور بین الاقوامی معاشرہ اقوام اور مملکتوں کے مجموعہ کا نام ہے-

بالکل افراد کی طرح ایک مملکت بھی دوسری مملکتوں کے ساتھ تعلقات قائم کیے بغیر نہیں رہ سکتی کیونکہ افراد کے مسائل معاشروں کے مسائل سے مختلف نہیں ہوتے-بالکل اسی طرح عالمی معاشرہ کے اراکین کے لئے بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون لازمی ہے کیونکہ کرۂ ارض پر کوئی حکومت تنہا نہیں رہ سکتی اور اس کے ساتھ یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ انسانی مزاج میں یہ بات شامل ہے- وہ باہمی تعلقات میں اپنے اور پرائے کا فرق کرتا ہے اور اس بنیاد پر تعلقات کی نوعیت اور ترجیحات طے ہیں کہ کس کو اپنا اور کس کو پرایا سمجھا جائے- اس کا دار و مدار قوموں کے اپنے تصور زندگی، نظریہ حیات، قومی مزاج، تہذیبی پس منظر اور اصول و تمدن پر ہوتا ہے- بعض قومیں نسلی یکجہتی کو اس کی بنیاد قرار دیتی ہیں جیسے دور حاضر میں بھی بالادست اقوام ایک خاص نسل اور رنگ کی بنیاد پر ہی اپنے بین الاقوامی تعلقات استوار کر رہی ہیں- لیکن جب ہم اسلام کی جانب دیکھتے ہیں تو حضور رسالت مآب (ﷺ)نے ہمیں انسانیت کی فلاح و بقا کے لیے وہ بنیادی بین الاقوامی تعلقات کے اصول و ضوابط عطا کیے جو آج بھی اسی طرح قابل عمل ہیں، جیسے حضور رسالت مآب (ﷺ)نے ان اصول و ضوابط کا نفاذ اپنے معاشرے میں فرمایا- حضور نبی اکرم (ﷺ)نے بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد لسانی جغرافیائی وحدت علاقائی یا نسلی عصبیت پر نہیں بلکہ عقیدے اور نظریے پر رکھی-آپ (ﷺ) نے بلاتفریق رنگ و نسل کی بنیاد پر انسانیت کو اکھٹا کیا- آپ (ﷺ) کے عطا کیے نظام میں کوئی کسی سے بالاتر نہیں اور یہی کائنات کی بڑی اولین حقیقت ہے جس کی بنیاد پر آج بھی بین الاقوامی نظام کو مرتب کیا جا سکتا ہے-

حضور نبی کریم(ﷺ) نے اپنے عہد میں بین الاقوامی عصبیتوں کو دور کرنے کے لیے بہت سی تدبیریں اختیار فرمائیں جو بلاشبہ پوری عالم انسانیت کے لئے مشعل راہ ہیں- آپ (ﷺ) نے حالت جنگ اور امن دونوں کے لئے الگ الگ بین الاقوامی اصول عطا فرمائے اور دین اسلام کی تبلیغ کے لئے بادشاہوں، راجاؤں اور سردارانہ قبائل کے نام خطوط بھی تحریر فرمائے- نبی اکرم (ﷺ) بادشاہان وقت کیلیے تحائف بھی بھیجتے اور قبول بھی فرماتے تھے جو کہ ایک خیر سگالی کا پیغام ہوتا ہے- آپ (ﷺ) نے بادشاہوں کے قاصدوں کا احترام سکھایا اور مسیلمہ کذاب جیسے دشمن اور جھوٹے نبی کے بھیجے ہوئے قاصدوں کو بھی قتل سے منع فرما دیا- حضورنبی اکرم (ﷺ) نے بین الاقوامی شعار اقوام کا بھی لحاظ رکھا- آپ (ﷺ) نے جہاں جاہلیت کی رسموں اور اس وقت کے بین الاقوامی عرف و تعامل کی بہت سی باتوں کو رد فرمایا ہے تو وہاں کچھ باتوں کو کل یا جز قبول بھی فرمایا ہے - آپ (ﷺ) نے دفاعی اور عسکری معاملات میں دیگر اقوام سے بہت سے معاہدات بھی فرمائے اور جنگی قوانین میں بھی اخلاقیات کی بنیاد پر کئی نئے قوانین متعارف بھی کروائے- جیسے کہ شب خون نہیں مارا جائے گا، عورتوں، بوڑھوں، بچوں، نہتے لوگوں کو قتل نہیں کیا جائے گا، درخت نہیں کاٹے جائیں گے، جانور ہلاک نہیں کیے جائیں گے- الغرض بہت سارے معاملات ہیں جو کہ بین الاقوامی سطح پر حضور نبی کریم (ﷺ) نے رائج فرمائے-

ریاست مدینہ اور بین الاقوامی تعلقات:

مکی دور کی 13 سالہ جد و جہد کے نتیجے میں مدینہ میں پہلی اسلامی ریاست معرض وجود میں آئی جس میں آپ (ﷺ) کی مثالی طرز حکمرانی نے داخلی و خارجی سطح پر بکھرے یثرب کو دنیا کی بہترین اسلامی فلاحی ریاست ’’مدینہ‘‘ میں تبدیل کردیا-

ریاست مدینہ کی پالیسی برائے خارجہ امور ان آفاقی قواعد و ضوابط اور اصولوں پر مبنی تھی جو کسی بھی منظم اور مہذب ریاست کے ہوسکتے ہیں- ریاست مدینہ نے خارجہ امور اور دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کار کے حوالے سے وہ نظری اور عملی بنیاد فراہم کی جس سے آگے چل کر مسلم بین الاقوامی قانون وجود میں آیا اور اس کے اثرات دوسری اقوام پر بھی پڑے- حضور نبی اکرم (ﷺ) نے اپنے طرز حکمرانی اور ریاست مدینہ کی خارجہ پالیسی مرتب فرما کر رہتی دنیا تک اسلامی دنیا کو ایک عملی نمونہ عطا فرمایا کہ اسلامی ریاست کی دوسری ریاستوں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی- قرآن مجید میں بھی بین الاقوامی تعلقات کی بنیادی رہنمائی ملتی ہے اور انہی قرآنی اصولوں کے تحت حضور نبی اکرم (ﷺ)نے دیگر ریاستوں کے ساتھ تعلقات استوار فرمائے اور اپنے عمل اور سنت سے قرآن حکیم کے اصولوں کی توضیح و تشریح فرمائی- ہم یہاں قرآن حکیم کی کچھ آیات بیان کررہے ہیں جن کا تعلق براہ راست خارجہ تعلقات سے ہے-

1)عہد و پیمان کا احترام

1-وَاَوْفُوْا بِعَھْدِ اللہِ اِذَا عٰـھَدْتُّمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْکِیْدِھَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللہَ عَلَیْکُمْ کَفِیْلًاط اِنَّ اللہَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَo‘‘[1]

’’اور تم اللہ کا عہد پورا کر دیا کرو جب تم عہد کرو اور قسموں کو پختہ کر لینے کے بعد انہیں مت توڑا کرو حالانکہ تم اللہ کو اپنے آپ پر ضامن بنا چکے ہو، بے شک اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو‘‘-

2-’’فَمَا اسْتَقَامُوْا لَکُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَہُمْط اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ‘‘[2]

’’سو جب تک وہ تمہارے ساتھ (عہد پر) قائم رہیں تم ان کے ساتھ قائم رہو-بے شک اللہ پرہیزگاروں کو پسند فرماتا ہے‘‘-

2) دیانتداری :

1) ’’ لَا تَتَّخِذُوْٓا اَیْمَانَکُمْ دَخَلًام بَیْنَکُمْ‘‘[3]

’’اپنی قسموں کو اپنے درمیان مکر و فریب کا ذریعہ نہ بناؤ‘‘-

3) عدل و انصاف :

’’وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْاط وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی‘‘[4]

’’اور تمہیں کسی قوم کی (یہ) دشمنی کہ انہوں نے تم کو مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ کی حاضری) سے روکا تھا اس بات پر ہرگز نہ ابھارے کہ تم (ان کے ساتھ) زیادتی کرو اور نیکی اور پرہیزگاری (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرو‘‘-

4) صلح پسندی

1-’’وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَھَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ ط اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ‘‘[5]

’’اور اگر وہ (کفار) صلح کے لیے جھکیں تو آپ بھی اس کی طرف مائل ہوجائیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں-بے شک وہی خوب سننے والا جاننے والا ہے‘‘-

5)رواداری کا قیام :

1-وَلَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِھَا‘‘[6]

’’اور زمین میں اس کے سنور جانے (یعنی ملک کا ماحولِ حیات درست ہو جانے) کے بعد فساد انگیزی نہ کرو‘‘-

6) امن کا فروغ :

’’وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ اللہِ ط فَاِنِ انْتَھَوْا فَـلَا عُدْوَانَ اِلاَّ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ‘‘[7]

’’اور ان سے جنگ کرتے رہو حتیٰ کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین (یعنی زندگی اور بندگی کا نظام عملاً) اﷲ ہی کے تابع ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو سوائے ظالموں کے کسی پر زیادتی روا نہیں‘‘-

7) مظلوم کی حمایت :

وَ مَا لَکُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآئِ وَالْوِلْدَانِ‘‘[8]

’’اور (مسلمانو!) تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں (مظلوموں کی آزادی کے لیے) جنگ نہیں کرتے حالانکہ کمزور، مظلوم اور مقہور مرد، عورتیں اور بچے (ظلم و ستم سے تنگ آ کر اپنی آزادی کے لیے) پکارتے ہیں‘‘-

حضور رسالت مآب (ﷺ)نے انہی قرآنی تعلیمات کی روشنی میں ریاست مدینہ کی خارجہ پالیسی کو مرتب فرمایا جس میں آج کے مسلم ممالک کے لئے بہترین رہنمائی موجود ہے مُسلم حکمران قرآن کے ان بنیادی اصولوں اور ریاست مدینہ کے ماڈل کو سامنے رکھ کر اپنی خارجہ پالیسی کو مرتب کر سکتے ہیں-

بین الاقوامی قانون جنگ سیرت طیبہ کی روشنی میں :-

انسان کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ انسانوں کے درمیان جنگ کا خاتمہ ہو جائے لیکن یہ ایک مسلّمہ اور مصدّقہ حقیقت ہے کہ جنگ ہر زمانے میں انسانوں کے درمیان ایک معاشرتی حقیقت رہی ہے اور گزشتہ صدی میں ہونے والی عالمی خونریز جنگیں اس پر مہر ثبت کر چکی ہیں-اسی لئے ابن خلدون نے کہا تھا:

’’جنگ انسان کی فطرت میں داخل ہے اس سے نہ کوئی قوم خالی رہی ہے نہ کوئی نسل‘‘-[9]

عہد نبوی (ﷺ) میں جب ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی گئی اور اس ریاست کی سالمیت کو خطرات لاحق ہوئے تو قرآن مجید میں مسلمانوں کو بھی تلوار اٹھانے کی اجازت مل گئی اور یوں غزوات کا سلسلہ شروع ہوگیا-

یہ بات دنیا کو آج ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے کہ وہ قوانین جنگ جو انسانی بنیادوں پر آج عالمی ادارے متعین کر رہے ہیں وہ آج سے 14صدیاں قبل حضور رسالت مآب (ﷺ) نے اپنی امت کو عطا فرما دیئے تھے- مسلم وغیر مسلم بین الاقوامی قانون کا تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ انسانی اقدار و حرمت کا جتنا لحاظ مسلم قانون میں رکھا گیا ہے اس کی نظیر کسی دوسرے نظام قانون میں نہیں ملتی -

حضور رسالت مآب (ﷺ)نے جنگ کا ایک ضابطہ اخلاق یہ بھی عطا کیا کہ رات کے وقت دشمن پر حملہ نہیں کیا جائے گا بلکہ صبح ہونے کا انتظار کیا جائے گا تاکہ غیر حربی لوگ، عورتیں، بوڑھے، مریض اور بچے اچانک پریشان نہ ہوں اور انہیں کوئی گزند نہ پہنچے-

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت انس (رضی اللہ عنہ)سے روایت ہے:

’’رسول اﷲ (ﷺ)رات کے وقت خیبر کے مقام پر پہنچے-چنانچہ آپ (ﷺ) کا معمول تھا کہ جب کسی جگہ رات کو پہنچتے تو صبح ہونے تک ان لوگوں پر حملہ نہیں کیا کرتے تھے‘‘-[10]

حضور نبی اکرم (ﷺ) نے دشمن کی عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کرنے سے منع فرمایا جیسا کہ حدیث مبارکہ ہے کہ :

’’حضرت عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہ)سے روایت ہے کے حضور نبی اکرم (ﷺ)نے راستے میں ایک عورت کو دیکھا جسے قتل کر دیا گیا تھا تو آپ (ﷺ) نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا ‘‘-[11]

ہاں یہ وضاحت ضرور کی ہے کہ یہ حکم ایسے بچوں عورتوں یا بوڑھے افراد کے لیے ہے جو شریک جنگ نہ ہو اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ بھی شریک جنگ ہیں تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی-

حضور نبی کریم(ﷺ) کے عطا کردہ قوانینِ جہاد میں دورانِ جنگ خدمت پر مامور افراد کے قتل کو بھی حضور نبی اکرم (ﷺ) نے منع فرمایا-

امام احمد بن حنبل، امام ابو داؤد، امام نسائی، امام ابن ماجہ اور امام حاکم ؒ نے حضرت رباح بن ربیع (رضی اللہ عنہ) سے مروی حدیث بیان کی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ:

’’ایک غزوہ میں ہم حضور نبی کریم (ﷺ) کے ساتھ تھے کہ آپ (ﷺ) نے دیکھا کہ بہت سے لوگ کسی چیز کے پاس جمع ہیں-آپ (ﷺ) نے ایک آدمی کو یہ دیکھنے کے لئے بھیجا کہ لوگ کس چیز کے پاس جمع ہوئے ہیں، ایک مقتول عورت کے پاس اُس نے آ کر بتایا: یہ عورت تو جنگ نہیں کرتی تھی، حضرت رباح (رضی اللہ عنہ)بیان کرتے ہیں کہ اگلے دستے کے کمانڈر حضرت خالد بن ولید تھے، لہٰذا آپ (ﷺ) نے ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا: خالد سے کہنا: (مشرکین کی) عورتوں اور لوگوں کی خدمت کرنے والوں کو ہرگز قتل مت کرنا‘‘-

 ایک اور روایت میں ہے:

 ’’بچوں اور خدمت گاروں کو ہرگز قتل مت کرنا‘‘- [12]

اسلام نے حالت جنگ میں جن چیزوں کی سخت تاکید کی ہے ان میں سے ایک عہد کی پاسداری بھی ہے اسی لئے خصوصا دوران جنگ یہ تاکید کی گئی ہے کہ دشمن خواہ بدعہدی کیوں نہ کرے مسلمانوں کے لئے ہرگز یہ اجازت نہیں کہ قبل از اطلاع ان کی جانب پیش قدمی کریں یا بغیر انقطاع عہد کی اطلاع کے ان پر چڑھ دوڑیں-

بلکہ ان کی جانب سے عہد شکنی کے باوجود بھی مسلمانوں کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ پہلے صاف اور صریح الفاظ میں معاہدے کے خاتمے کا اعلان کردیں پھر اس کے بعد وہ جنگی کارروائی کر سکتے ہیں-

ارشاد خداوندی ہے:

’’وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَۃً فَانْبِذْ اِلَیْہِمْ عَلٰی سَوَآئٍط اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ‘‘-[13]

’’اور اگر آپ کو کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو ان کا عہد ان کی طرف برابری کی بنیاد پر پھینک دیں-بے شک اللہ دغابازوں کو پسند نہیں کرتا‘‘-

مذکورہ دلائل کی روشنی میں یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام کا قانون جنگ دیگر اقوام کے لئے بھی امن وعافیت کا ضامن ہے-المختصر! یہ کہ اگر انسانیت کو آج بھی نجات کے راستے کی طرف قدم بڑھانا ہے تو حضور رسالت مآب (ﷺ) کے دامن رحمت سے ہی خیرات لینی ہوگی-

صلح حدیبیہ کے معاہدے میںخارجہ پالیسی کے لئے اسباق:

ہجرت کے فوراً بعد مختلف قبائل عرب اور دوسری اَقوام سے آپ (ﷺ)کے معاہدات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا-

یہ معاہدات حضور رسالت مآب (ﷺ) کی خارجہ پالیسی کو واضح کرتے ہیں:

خارجہ پالیسی کے لیے حضور نبی اکرم (ﷺ) نے امن عامہ اور بین الاقوامی اتحاد کو بنیاد بنایا- اسلامی ریاست کی خارجہ پالیسی جغرافیائی حدود میں وسعت اور جنگ و جدل پر مبنی نہیں ہوتی- اگر ایسا ہوتا تو حدیبیہ کے مقام پر صلح کا معاہدہ طے نہ پاتا- یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس وقت مسلمان کم زور تھے اور غیر مسلموں کی قوت سے خوف زدہ تھے- اس لئے کہ صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم)نے تو جانیں قربان کر دینے کی قسمیں کھائی تھیں مگر ہادی کونین (ﷺ) نے غیر مسلموں کی تمام شرائط مان کر صلح کر لینا ہی بہتر سمجھا-

جناب نبی اکرم (ﷺ)کی خارجہ پالیسی میں یہ بات ایک بڑی حکمت عملی سمجھی جاتی ہے کہ مدینہ منورہ میں جب آپ (ﷺ) نے ’’میثاق مدینہ‘‘ کی صورت میں یہودیوں کے ساتھ ایک مشترکہ ریاست تشکیل دی تھی جس پر یہودی قائم نہ رہے اور معاہدہ شکنی کی پاداش میں یکے بعد دیگرے یہودیوں کے تینوں قبائل بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریضہ مدینہ منورہ سے جلاوطن ہوگئے- اس کے بعد انہوں نے خیبر کو مرکز بنا کر مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں اور مسلمانوں کو یہودیوں کے ساتھ یہ فیصلہ کن جنگ نظر آنے لگی- اس پر رسول اللہ (ﷺ)نے خیبر کی جنگ سے پہلے قریش مکہ کے ساتھ ’’معاہدۂ حدیبیہ‘‘ کر کے اس محاذ کو خاموش کیا اور اس کے فورًا بعد خیبر پر حملہ کر کے یہودیوں سے نمٹ لینے کا اہتمام کیا جو کہ جنگی اور سفارتی فراست و تدبر کا شاہکار ہے-

عباس محمود العقاد المصری صلح حدیبیہ کے ذیل میں اپنی کتاب ’’محمد (ﷺ)‘‘ میں حضور نبی کریم (ﷺ) کی حیرت انگیز سیاسی بصیرت اور خارجہ پالیسی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ :

 اس معاہدے کے بعد حضور رسالت مآب (ﷺ) کو قریش کی طرف سے قدرے اطمینان ہو گیا اور آپ (ﷺ) نے اپنی توجہ خیبر کے یہودیوں کی طرف مبذول فرمائی یہودیوں نے خیبر کی بستی کو اسلام دشمن سرگرمیوں کا مضبوط قلعہ بنا رکھا تھا اس کے علاوہ حضور نبی اکرم (ﷺ)نے بیرونی ممالک کے سربراہوں کے نام دعوتی خطوط بھی ارشاد فرمائے اور اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کام زیادہ توجہ سے فرمانے لگے -

صلح حدیبیہ کے موقع پر جب قرآن مقدس کی یہ آیت نازل ہوئیں ’’اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا‘‘تو بہت سے مسلمان ان کے مفہوم کو سمجھ نہیں پائے تھے اور سوچتے تھے کہ یہ فتح کی کون سی قسم ہے لیکن دو سال کے مختصر عرصے میں انہوں نے فتح مبین کا مشاہدہ خود اپنی آنکھوں سے کیا اور تب انہیں اندازہ ہوا کہ بسا اوقات محض گفتگو اور سیاسی سوجھ بوجھ کے ذریعے بھی جنگ جیتی جاسکتی ہے- صلح حدیبیہ کو حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی حیرت انگیز سیاسی بصیرت کا ایک بے مثال اور ناقابل فراموش شاہکار کہا جا سکتا ہے -[14]

حضور نبی اکرم (ﷺ) نے بین الاقوامی سطح پر برابری اور رواداری کے باوجود اگر کہیں سے کوئی چیلنج سامنے آیا تو اسے قبول کرنے میں اُمّت کو کمزوری نہیں دکھانے دی اور چیلنج کو قبول کر کے اس کا بروقت سامنا کرنے پہ راغب فرمایا -

اسلام کی خارجہ پالیسی کا اصول یہ ہے کہ باوقار زندگی کے لیے پُر امن جدو جہد جاری رکھی جائے- اگر کوئی شرپسند اس راہ میں حائل ہو تو اس حد تک اس کے خلاف کارروائی کی جائے جس حد تک اس کی ضرورت ہو- یہی وجہ ہے کہ آپ (ﷺ)نے مختلف اقوام کے ساتھ دوستی کے معاہدے کیے- جو قومیں غیر جانبدار رہنا پسند کرتی تھیں ان کی غیر جانبداری کا احترام کیا- الغرض صلح حدیبیہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی بہترین خارجہ پالیسی کا آئینہ دار ہے اور آج کے مسلم ممالک کے حکمرانوں کے لئے نمونہ عمل بھی ہے-

حضور (ﷺ) کے خطوط بادشاہان وقت کے نام :

مدینے میں اسلامی ریاست کے استحکام کے بعد آپ (ﷺ) نے اس وقت کی متمدن دنیا کے قابلِ ذکر حکمرانوں کو دعوتی خطوط لکھے-اُن سے جو بات کہی گئی وہ اللہ کی بندگی قبول کرنے کی دعوت تھی- اس میں عربوں کی حکمرانی کے تصور کا شائبہ تک نہیں ملتا- مخاطبین پر یہ امر بالکل واضح کردیا گیا تھا کہ دعوت قبول کرنے کی صورت میں وہ بالکل برابر کے حقوق کے ساتھ امتِ مسلمہ کا جز بن سکیں گے-

آپ (ﷺ) کی نبوت و رسالت عالمگیر ہے-اسی عالمگیر نبوت کی بعثت کے تحت آپ (ﷺ)نے سینکڑوں کی تعداد میں خطوط روانہ فرمائے تا کہ اسلام کا عالمگیر پیغام دنیا کے تمام گوشوں تک پہنچ جائے-ان خطوط کے مخاطبین میں مختلف قسم کے لوگ شامل تھے-ان میں سے کچھ خطوط تو اس عہد کے عظیم اور پر ہیبت بادشاہوں کے نام ہیں جن میں اہل کتاب کے علاوہ مشرک بھی تھے،بعض خطوط عرب کے علاقائی بادشاہوں راجاؤں اور سردارانِ قبائل کے نام ہیں اور کچھ مکتوبات آپ (ﷺ)نے صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم)،مسلم عمائدین اور سپہ سالاروں کو بھی تحریر کیے-یہاں پر ہمارا مقصد صرف ان چند خطوط کا جائزہ لینا ہے جو مختلف ریاستوں کے بادشاہوں کو لکھے گئے-

آپ (ﷺ) نے صلح حدیبیہ سے واپسی پر ماہ ذی الحجہ 6ھ میں بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط بھیجنے کا ارادہ کیا جیسا کہ ’’طبقات ابن سعد‘‘ میں ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد آپ (ﷺ) نے دنیا کے 6مشہور حکمرانوں کے نام تبلیغی خطوط روانہ فرمائے اور ان پر اپنی مہر بطورِ دستخط ثبت فرمائی- [15]

دنیا کے 6مشہور حکمرانوں کے نام یہ ہیں:

1.      نامہ مبارک بنا م نجاشی شاہ حبشہ

2.       نامہ مبارک بنام کسرہ شاہ فارس

3.       نامہ مبارک بنام مقوقس شاہ قبط مصر

4.       نامہ مبارک بنام ہرقل قیصر روم

5.       نامہ مبارک بنام منذر بن ساوی حاکم بحرین

6.       نامہ مبارک بنام حاکم بن ابی شمر غسانی حاکم دمشق کے نام

ان خطوط پر تبصرہ کرتے ہوئے سیرت طیبہ کے محقق مفتی ہاشم صاحب لکھتے ہیں:

مکتوبات نبوی(ﷺ) میں جن لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے، ان میں 4 مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں:

1.      مشرکین عرب

2.       عیسائی

3.       یہودی

4.       زرتشی (مجوسی)

آپ (ﷺ)نے ہرقل اور مقوقس کے نام جو خطوط لکھے- ان میں آپ (ﷺ) نے اپنے نام کی خصوصیت کے ساتھ ’’عبد اللہ‘‘ (خدا کا بندہ) لکھا جس سے مخاطب کے عقیدے کی نہایت لطیف پیرائے میں تردید کردی گئی ہے کہ انبیاء ومرسلین خدا کی اولاد نہیں بلکہ مخلوق ہوتے ہیں-فارس خسر و پرویز کے نام جو نامہ مبارک ارسال کیا گیا،اس میں عقیدہٴ توحید کو خاص طور پر اجاگر کیا گیا کیونکہ فارس میں دو خداؤں کا عقیدہ موجود تھا،اس کے بعد اسلام کے عالمی مذہب ہونے اور آپ کے تمام اقوام کی جانب مبعوث ہونے کا صاف لفظوں میں اظہار کیا گیا-یہود کے نام خط میں تورات کے حوالے دے کر اپنی نبوت کا اثبات کیا گیا اور مشرکینِ عرب کے نامہٴ مبارک میں توحید خدا پر زور دے کر غیر خدا کی عبادت سے روکا گیا-

قیصر روم (جو کہ مذہباً عیسائی تھا) نے آپ(ﷺ) کے دعوتی خط کے بعد احوال کا جائزہ لے کر آپ (ﷺ) کی نبوت و رسالت کا اقرار کیا،مگر اسلام قبول نہ کیا- اسی طرح عزیز مصر مقوقس نے بھی (جوکہ مذہباً نصرانی تھا) آپ (ﷺ)کی نبوت و رسالت کا اعتراف کیا،مگر حلقہٴ اسلام میں داخل نہ ہوا، نجاشی شاہ حبشہ (جوکہ عیسائی تھا) حلقہ بگوش اسلام ہوا- [16]

حضور رسالت مآب (ﷺ) کے ان خطوط کی روشنی میں مسلم ممالک اپنی خارجہ پالیسی کو مرتب کرسکتے ہیں نیز ان خطوط کی روشنی میں اسلام کے دعوتی پیغام کو عالمی سطح پر کس طرح احسن انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے، رہنمائی ملتی ہے -

عہد نبوی (ﷺ) میں دیگر سلطنتوں اور اقوام سے خارجہ تعلقات :

جدید دنیا میں بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد کا تعین اور اس کے قواعد و ضوابط کی تشکیل تو کچھ ہی عرصہ قبل ہوئی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصول و ضوابط اسلام نے 1400 سال قبل ہی انسانیت کی فلاح و بقاء کے لیے پیش کر دئیے تھے - اسلام کا نظام بین الاقوامی تعلقات زبانی جمع خرچ کے بجائے ٹھوس حقائق، صدیوں کے تجربات اور عملی کامیابیوں کے ساتھ نمایاں اور ممتاز مقام رکھتا ہے- حضور نبی کریم(ﷺ) نے اپنے دور کی دیگر اقوام کے ساتھ جو تعلقات کا نظام جاری فرمایا آج تک دنیا بھر کے لیے مشعل راہ ہے- جس کا تقابل اگر تعصب کی عینک اتار کر جدید بین الاقوامی اصول و ضوابط سے کیا جائے تو بلاشبہ اسلام کے اصول و ضوابط پوری عالم انسانیت کے لیے مشعل راہ نظر آتے ہیں- عہد نبوی (ﷺ) میں تعلقات کے قیام کے لئے حضور نبی کریم(ﷺ) نے سلاطین و امراء کو خطوط لکھے جس میں دین اسلام کی تبلیغ کی گئی تھی- اس وقت قبائل کی حیثیت بھی ایک ملک کی طرح تھی ان کے اندر بھی چھوٹی چھوٹی حکومتیں قائم تھیں جو کہ اپنے آپ کو خود مختار حکومت اور سلطنت کا ہم پلّہ سمجھتی تھیں اس وجہ سے قبائل کے ساتھ بھی تعلقات کو استوار کیا گیا -

آپ (ﷺ) نے جن قبائل اور ریاستوں سے خارجہ تعلقات رکھے ان کے نام درج ذیل ہیں :

1.      ریاست مدینہ اور حبشہ سے خارجہ تعلقات

2.       ریاست مدینہ اور احابیش قبائل سے خارجہ تعلقات

3.       ریاست مدینہ اور یہود سے خارجہ تعلقات

4.       ریاست مدینہ اور مصر سے خارجہ تعلقات

5.       ریاست مدینہ اور بازنطینی سلطنت سے خارجہ تعلقات

6.       ریاست مدینہ اور فارس سے خارجہ تعلقات

7.       ریاست مدینہ اور طائف سے خارجہ تعلقات

8.       ریاست مدینہ اور عمان سے خارجہ تعلقات

9.       ریاست مدینہ اور چین سے خارجہ تعلقات

10.   ریاست مدینہ اور قریش سے خارجہ تعلقات

ان تمام ریاستوں سے خارجہ تعلقات کی تفصیل سیرت کی کتب میں دیکھی جا سکتی ہے-

 لیکن اگر مختصراً عہدِ نبوی (ﷺ) کی خارجہ پالیسی کا تجزیہ کیا جائے تو عہدِ نبوی (ﷺ)کی خارجہ پالیسی کو 4 حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے :

1.      خارجہ پالیسی کا پہلا حصّہ ہجرت سے جنگوں کے آغاز تک ہے جس میں آپ (ﷺ) نے ہجرت کے بعد مدینہ میں آباد اقوام کے ساتھ خارجی تعلقات قائم کئے اور اس کے لئے تاریخی دستاویز مرتب کی جو مثال مدینہ کے نام سے مشہور ہے جس کی بدولت مدینہ کا معاشرہ ایک پر سکون اور پر امن معاشرہ بن گیا-

2.       خارجہ پالیسی کا دوسرا حصّہ جنگوں سے صلح حدیبیہ تک ہے مدینہ منورہ ایک وقت تک پر سکون رہا لیکن سرداری کی دلدادہ اقوام نے اس کو اپنے لئے چیلنج سمجھا اور مسلمانوں کے خلاف اعلانیّہ اور خفیہ سازشیں شروع کر دیں جس کی وجہ سے مسلمانوں پر اپنا دفاع لازم ہو گیا اور تقریبا 6سال کا عرصہ جنگوں میں گزر گیا -

3.       خارجہ پالیسی کا تیسرا حصّہ صلح حدیبیہ سے فتح مکّہ تک ہے-اب رسول اللہ (ﷺ) کو چونکہ جنگوں سے فرصت ملی تھی تو آپ (ﷺ) نے اس موقع کو غنیمت جان کر عرب اور عرب سے باہر اقوام قبائل ممالک کو اپنے پیغام سے روشناس کرانے کا ارادہ فرمایا اور اپنے سفیروں کو سفارتی پیغام دے کر شاہی محلات میں بھیجا جس کا مقصد ہرگز ان کو فتح کرکے غلام بنانے کا نہیں تھا بلکہ آپ (ﷺ)نے فرمایا کہ جو اس دین کو قبول کرتا ہے اس کو اس کے عہدے پر برقرار رکھا جائے گا -بعض اقوام اور ممالک میں سے بیشتر نے آپ (ﷺ)کے سفارت کاروں کا اکرام کیا اور ان کو قدرومنزلت بخشی- جبکہ بعض دیگر نے اس کو طاقت میں اشتراک سمجھا اور نفرت کا اظہار کیا -

4.       خارجہ پالیسی کا چوتھا حصّہ فتح مکہ سے وصال مبارک تک ہے اس دوران آپ (ﷺ) کی خارجہ پالیسی سے اقوام عالم اتنی متاثر ہوئیں کہ وفود و معاہدات کا سلسلہ شروع ہو گیا اور اس پورے سال میں اتنے وفود آئے کہ یہ سال ’’عام الوفود‘‘ کے نام سے مشہور ہو گیا - [17]

حضور رسالت مآب (ﷺ)کی خارجہ پالیسی آج کے مسلم حکمرانوں کے لئے نمونہ عمل ہے- آج بھی اگر حضور نبی کریم (ﷺ) کے عطا کردہ اصول خارجہ کا اطلاق اگر مسلم ممالک اپنی خارجہ پالیسی میں کرے تو اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں-

حرف آخر :

حضور رسالت مآب (ﷺ) کی سیرت طیبہ کی روشنی میں خارجہ پالیسی کے حوالے سے یہ بات دلائل سے عیاں ہے کہ مسلمانوں کی بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد امن پر ہے کیونکہ اسلام نے جنگ پر امن کو فوقیت دی ہے- مطالعہ قرآن سے اس امر کی نشاندہی بھی ہوتی ہے کہ اسلامی حکومت کے تمام معاملات دیگر اقوام سے صلح اور امن و آتشی کے بنیادی اصولوں پر طے ہونے چاہیے- اس میں کسی قسم کی شدت،  انتہا پسندی اور جارحانہ عزائم نہیں ہونے چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ بین الاقوامی پالیسی کمزور اور بزدلانہ نہ ہو کیونکہ غیر اقوام سے تعلق قائم کرتے وقت برابری کی سطح پر اپنے حقوق کا تحفظ کرنا بھی ضروری ہے- لیکن اگر دشمن امن کی زبان کو نہ مانے تو پھر جہاد فی سبیل اللہ کا حکم قرآن مجید اور حضور نبی کریم (ﷺ)کے اسوۂ حسنہ سے ہم پر واضح ہے- المختصر! یہ کہ اسلامی مملکت کو خارجہ پالیسی کو وضع کرتے وقت قرآنی اصولوں اور حضور علیہ الصلاۃ و السلام کے اسوۂ حسنہ کو پیش نظر رکھنا چاہیے تاکہ اسلامی مملکت ارتقائی عمل طے کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی قیام امن میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکے-

٭٭٭


[1](النحل:91)

[2](التوبہ:7)

[3](النحل:94)

[4](المائدہ:2)

[5](الانفال:61)

[6](الاعراف:56)

[7](البقرۃ:193)

[8](النساء:75)

[9](مقدمہ ابن خلدون، ص:270)

[10]( صحیح بخاری، کتاب المغازی)

[11](صحیح مسلم، کتاب الجہاد)

[12](سنن ابو داؤد، کتاب الجہاد)

[13](الانفال:58)

[14](العقاد مصری عباس محمود عبقری محمد (ص:69، دار التالیف مصر)

[15](ماہنامہ مراة العارفین، شمارہ دسمبر 2017ء، ص:25)

[16]( ایضاً)

[17]( پروفیسر ڈاکٹر حسین بانو، ’’رسول اکرم () کی سفارتکاری اور خارجہ پالیسی‘‘ راحیل پبلیکیشنز ’ستمبر 2018ء‘، ص:480)

انسان مدنی الطبع ہے-اس کو باہم لوگوں سے ملنے کی ضرورت رہتی ہے- اس لئے بقائے انسانی کیلئے معاشرے کا قیام ضروری ہے- افراد کے مجموعے کا نام معاشرہ ہے اور بین الاقوامی معاشرہ اقوام اور مملکتوں کے مجموعہ کا نام ہے-

بالکل افراد کی طرح ایک مملکت بھی دوسری مملکتوں کے ساتھ تعلقات قائم کیے بغیر نہیں رہ سکتی کیونکہ افراد کے مسائل معاشروں کے مسائل سے مختلف نہیں ہوتے-بالکل اسی طرح عالمی معاشرہ کے اراکین کے لئے بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون لازمی ہے کیونکہ کرۂ ارض پر کوئی حکومت تنہا نہیں رہ سکتی اور اس کے ساتھ یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ انسانی مزاج میں یہ بات شامل ہے- وہ باہمی تعلقات میں اپنے اور پرائے کا فرق کرتا ہے اور اس بنیاد پر تعلقات کی نوعیت اور ترجیحات طے ہیں کہ کس کو اپنا اور کس کو پرایا سمجھا جائے- اس کا دار و مدار قوموں کے اپنے تصور زندگی، نظریہ حیات، قومی مزاج، تہذیبی پس منظر اور اصول و تمدن پر ہوتا ہے- بعض قومیں نسلی یکجہتی کو اس کی بنیاد قرار دیتی ہیں جیسے دور حاضر میں بھی بالادست اقوام ایک خاص نسل اور رنگ کی بنیاد پر ہی اپنے بین الاقوامی تعلقات استوار کر رہی ہیں- لیکن جب ہم اسلام کی جانب دیکھتے ہیں تو حضور رسالت مآب (ﷺ)نے ہمیں انسانیت کی فلاح و بقا کے لیے وہ بنیادی بین الاقوامی تعلقات کے اصول و ضوابط عطا کیے جو آج بھی اسی طرح قابل عمل ہیں، جیسے حضور رسالت مآب (ﷺ)نے ان اصول و ضوابط کا نفاذ اپنے معاشرے میں فرمایا- حضور نبی اکرم (ﷺ)نے بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد لسانی جغرافیائی وحدت علاقائی یا نسلی عصبیت پر نہیں بلکہ عقیدے اور نظریے پر رکھی-آپ (ﷺ) نے بلاتفریق رنگ و نسل کی بنیاد پر انسانیت کو اکھٹا کیا- آپ (ﷺ) کے عطا کیے نظام میں کوئی کسی سے بالاتر نہیں اور یہی کائنات کی بڑی اولین حقیقت ہے جس کی بنیاد پر آج بھی بین الاقوامی نظام کو مرتب کیا جا سکتا ہے-

حضور نبی کریم(ﷺ) نے اپنے عہد میں بین الاقوامی عصبیتوں کو دور کرنے کے لیے بہت سی تدبیریں اختیار فرمائیں جو بلاشبہ پوری عالم انسانیت کے لئے مشعل راہ ہیں- آپ (ﷺ) نے حالت جنگ اور امن دونوں کے لئے الگ الگ بین الاقوامی اصول عطا فرمائے اور دین اسلام کی تبلیغ کے لئے بادشاہوں، راجاؤں اور سردارانہ قبائل کے نام خطوط بھی تحریر فرمائے- نبی اکرم (ﷺ) بادشاہان وقت کیلیے تحائف بھی بھیجتے اور قبول بھی فرماتے تھے جو کہ ایک خیر سگالی کا پیغام ہوتا ہے- آپ (ﷺ) نے بادشاہوں کے قاصدوں کا احترام سکھایا اور مسیلمہ کذاب جیسے دشمن اور جھوٹے نبی کے بھیجے ہوئے قاصدوں کو بھی قتل سے منع فرما دیا- حضورنبی اکرم (ﷺ) نے بین الاقوامی شعار اقوام کا بھی لحاظ رکھا- آپ (ﷺ) نے جہاں جاہلیت کی رسموں اور اس وقت کے بین الاقوامی عرف و تعامل کی بہت سی باتوں کو رد فرمایا ہے تو وہاں کچھ باتوں کو کل یا جز قبول بھی فرمایا ہے - آپ (ﷺ) نے دفاعی اور عسکری معاملات میں دیگر اقوام سے بہت سے معاہدات بھی فرمائے اور جنگی قوانین میں بھی اخلاقیات کی بنیاد پر کئی نئے قوانین متعارف بھی کروائے- جیسے کہ شب خون نہیں مارا جائے گا، عورتوں، بوڑھوں، بچوں، نہتے لوگوں کو قتل نہیں کیا جائے گا، درخت نہیں کاٹے جائیں گے، جانور ہلاک نہیں کیے جائیں گے- الغرض بہت سارے معاملات ہیں جو کہ بین الاقوامی سطح پر حضور نبی کریم (ﷺ) نے رائج فرمائے-

ریاست مدینہ اور بین الاقوامی تعلقات:

مکی دور کی 13 سالہ جد و جہد کے نتیجے میں مدینہ میں پہلی اسلامی ریاست معرض وجود میں آئی جس میں آپ (ﷺ) کی مثالی طرز حکمرانی نے داخلی و خارجی سطح پر بکھرے یثرب کو دنیا کی بہترین اسلامی فلاحی ریاست ’’مدینہ‘‘ میں تبدیل کردیا-

ریاست مدینہ کی پالیسی برائے خارجہ امور ان آفاقی قواعد و ضوابط اور اصولوں پر مبنی تھی جو کسی بھی منظم اور مہذب ریاست کے ہوسکتے ہیں- ریاست مدینہ نے خارجہ امور اور دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کار کے حوالے سے وہ نظری اور عملی بنیاد فراہم کی جس سے آگے چل کر مسلم بین الاقوامی قانون وجود میں آیا اور اس کے اثرات دوسری اقوام پر بھی پڑے- حضور نبی اکرم (ﷺ) نے اپنے طرز حکمرانی اور ریاست مدینہ کی خارجہ پالیسی مرتب فرما کر رہتی دنیا تک اسلامی دنیا کو ایک عملی نمونہ عطا فرمایا کہ اسلامی ریاست کی دوسری ریاستوں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی- قرآن مجید میں بھی بین الاقوامی تعلقات کی بنیادی رہنمائی ملتی ہے اور انہی قرآنی اصولوں کے تحت حضور نبی اکرم (ﷺ)نے دیگر ریاستوں کے ساتھ تعلقات استوار فرمائے اور اپنے عمل اور سنت سے قرآن حکیم کے اصولوں کی توضیح و تشریح فرمائی- ہم یہاں قرآن حکیم کی کچھ آیات بیان کررہے ہیں جن کا تعلق براہ راست خارجہ تعلقات سے ہے-

1)عہد و پیمان کا احترام

1-وَاَوْفُوْا بِعَھْدِ اللہِ اِذَا عٰـھَدْتُّمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْکِیْدِھَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللہَ عَلَیْکُمْ کَفِیْلًاط اِنَّ اللہَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَo‘‘[1]

’’اور تم اللہ کا عہد پورا کر دیا کرو جب تم عہد کرو اور قسموں کو پختہ کر لینے کے بعد انہیں مت توڑا کرو حالانکہ تم اللہ کو اپنے آپ پر ضامن بنا چکے ہو، بے شک اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو‘‘-

2-’’فَمَا اسْتَقَامُوْا لَکُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَہُمْط اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ‘‘[2]

’’سو جب تک وہ تمہارے ساتھ (عہد پر) قائم رہیں تم ان کے ساتھ قائم رہو-بے شک اللہ پرہیزگاروں کو پسند فرماتا ہے‘‘-

2) دیانتداری :

1) ’’ لَا تَتَّخِذُوْٓا اَیْمَانَکُمْ دَخَلًام بَیْنَکُمْ‘‘[3]

’’اپنی قسموں کو اپنے درمیان مکر و فریب کا ذریعہ نہ بناؤ‘‘-

3) عدل و انصاف :

’’وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْاط وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی‘‘[4]

’’اور تمہیں کسی قوم کی (یہ) دشمنی کہ انہوں نے تم کو مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ کی حاضری) سے روکا تھا اس بات پر ہرگز نہ ابھارے کہ تم (ان کے ساتھ) زیادتی کرو اور نیکی اور پرہیزگاری (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرو‘‘-

4) صلح پسندی

1-’’وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَھَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ ط اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ‘‘[5]

’’اور اگر وہ (کفار) صلح کے لیے جھکیں تو آپ بھی اس کی طرف مائل ہوجائیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں-بے شک وہی خوب سننے والا جاننے والا ہے‘‘-

5)رواداری کا قیام :

1-وَلَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِھَا‘‘[6]

’’اور زمین میں اس کے سنور جانے (یعنی ملک کا ماحولِ حیات درست ہو جانے) کے بعد فساد انگیزی نہ کرو‘‘-

6) امن کا فروغ :

’’وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ اللہِ ط فَاِنِ انْتَھَوْا فَـلَا عُدْوَانَ اِلاَّ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ‘‘[7]

’’اور ان سے جنگ کرتے رہو حتیٰ کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین (یعنی زندگی اور بندگی کا نظام عملاً) اﷲ ہی کے تابع ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو سوائے ظالموں کے کسی پر زیادتی روا نہیں‘‘-

7) مظلوم کی حمایت :

وَ مَا لَکُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآئِ وَالْوِلْدَانِ‘‘[8]

’’اور (مسلمانو!) تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں (مظلوموں کی آزادی کے لیے) جنگ نہیں کرتے حالانکہ کمزور، مظلوم اور مقہور مرد، عورتیں اور بچے (ظلم و ستم سے تنگ آ کر اپنی آزادی کے لیے) پکارتے ہیں‘‘-

حضور رسالت مآب (ﷺ)نے انہی قرآنی تعلیمات کی روشنی میں ریاست مدینہ کی خارجہ پالیسی کو مرتب فرمایا جس میں آج کے مسلم ممالک کے لئے بہترین رہنمائی موجود ہے مُسلم حکمران قرآن کے ان بنیادی اصولوں اور ریاست مدینہ کے ماڈل کو سامنے رکھ کر اپنی خارجہ پالیسی کو مرتب کر سکتے ہیں-

بین الاقوامی قانون جنگ سیرت طیبہ کی روشنی میں :-

انسان کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ انسانوں کے درمیان جنگ کا خاتمہ ہو جائے لیکن یہ ایک مسلّمہ اور مصدّقہ حقیقت ہے کہ جنگ ہر زمانے میں انسانوں کے درمیان ایک معاشرتی حقیقت رہی ہے اور گزشتہ صدی میں ہونے والی عالمی خونریز جنگیں اس پر مہر ثبت کر چکی ہیں-اسی لئے ابن خلدون نے کہا تھا:

’’جنگ انسان کی فطرت میں داخل ہے اس سے نہ کوئی قوم خالی رہی ہے نہ کوئی نسل‘‘-[9]

عہد نبوی (ﷺ) میں جب ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی گئی اور اس ریاست کی سالمیت کو خطرات لاحق ہوئے تو قرآن مجید میں مسلمانوں کو بھی تلوار اٹھانے کی اجازت مل گئی اور یوں غزوات کا سلسلہ شروع ہوگیا-

یہ بات دنیا کو آج ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے کہ وہ قوانین جنگ جو انسانی بنیادوں پر آج عالمی ادارے متعین کر رہے ہیں وہ آج سے 14صدیاں قبل حضور رسالت مآب (ﷺ) نے اپنی امت کو عطا فرما دیئے تھے- مسلم وغیر مسلم بین الاقوامی قانون کا تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ انسانی اقدار و حرمت کا جتنا لحاظ مسلم قانون میں رکھا گیا ہے اس کی نظیر کسی دوسرے نظام قانون میں نہیں ملتی -

حضور رسالت مآب (ﷺ)نے جنگ کا ایک ضابطہ اخلاق یہ بھی عطا کیا کہ رات کے وقت دشمن پر حملہ نہیں کیا جائے گا بلکہ صبح ہونے کا انتظار کیا جائے گا تاکہ غیر حربی لوگ، عورتیں، بوڑھے، مریض اور بچے اچانک پریشان نہ ہوں اور انہیں کوئی گزند نہ پہنچے-

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت انس (﷜)سے روایت ہے:

’’رسول اﷲ (ﷺ)رات کے وقت خیبر کے مقام پر پہنچے-چنانچہ آپ (ﷺ) کا معمول تھا کہ جب کسی جگہ رات کو پہنچتے تو صبح ہونے تک ان لوگوں پر حملہ نہیں کیا کرتے تھے‘‘-[10]

حضور نبی اکرم (ﷺ) نے دشمن کی عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کرنے سے منع فرمایا جیسا کہ حدیث مبارکہ ہے کہ :

’’حضرت عبداللہ بن عمر (﷜)سے روایت ہے کے حضور نبی اکرم (ﷺ)نے راستے میں ایک عورت کو دیکھا جسے قتل کر دیا گیا تھا تو آپ (ﷺ) نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا ‘‘-[11]

ہاں یہ وضاحت ضرور کی ہے کہ یہ حکم ایسے بچوں عورتوں یا بوڑھے افراد کے لیے ہے جو شریک جنگ نہ ہو اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ بھی شریک جنگ ہیں تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی-

حضور نبی کریم(ﷺ) کے عطا کردہ قوانینِ جہاد میں دورانِ جنگ خدمت پر مامور افراد کے قتل کو بھی حضور نبی اکرم (ﷺ) نے منع فرمایا-

امام احمد بن حنبل، امام ابو داؤد، امام نسائی، امام ابن ماجہ اور امام حاکم (﷭) نے حضرت رباح بن ربیع (﷜) سے مروی حدیث بیان کی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ:

’’ایک غزوہ میں ہم حضور نبی کریم (ﷺ) کے ساتھ تھے کہ آپ (ﷺ) نے دیکھا کہ بہت سے لوگ کسی چیز کے پاس جمع ہیں-آپ (ﷺ) نے ایک آدمی کو یہ دیکھنے کے لئے بھیجا کہ لوگ کس چیز کے پاس جمع ہوئے ہیں، ایک مقتول عورت کے پاس اُس نے آ کر بتایا: یہ عورت تو جنگ نہیں کرتی تھی، حضرت رباح (﷜)بیان کرتے ہیں کہ اگلے دستے کے کمانڈر حضرت خالد بن ولید تھے، لہٰذا آپ (ﷺ) نے ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا: خالد سے کہنا: (مشرکین کی) عورتوں اور لوگوں کی خدمت کرنے والوں کو ہرگز قتل مت کرنا‘‘-

 ایک اور روایت میں ہے:

 ’’بچوں اور خدمت گاروں کو ہرگز قتل مت کرنا‘‘- [12]

اسلام نے حالت جنگ میں جن چیزوں کی سخت تاکید کی ہے ان میں سے ایک عہد کی پاسداری بھی ہے اسی لئے خصوصا دوران جنگ یہ تاکید کی گئی ہے کہ دشمن خواہ بدعہدی کیوں نہ کرے مسلمانوں کے لئے ہرگز یہ اجازت نہیں کہ قبل از اطلاع ان کی جانب پیش قدمی کریں یا بغیر انقطاع عہد کی اطلاع کے ان پر چڑھ دوڑیں-

بلکہ ان کی جانب سے عہد شکنی کے باوجود بھی مسلمانوں کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ پہلے صاف اور صریح الفاظ میں معاہدے کے خاتمے کا اعلان کردیں پھر اس کے بعد وہ جنگی کارروائی کر سکتے ہیں-

ارشاد خداوندی ہے:

’’وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَۃً فَانْبِذْ اِلَیْہِمْ عَلٰی سَوَآئٍط اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ‘‘-[13]

’’اور اگر آپ کو کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو ان کا عہد ان کی طرف برابری کی بنیاد پر پھینک دیں-بے شک اللہ دغابازوں کو پسند نہیں کرتا‘‘-

مذکورہ دلائل کی روشنی میں یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام کا قانون جنگ دیگر اقوام کے لئے بھی امن وعافیت کا ضامن ہے-المختصر! یہ کہ اگر انسانیت کو آج بھی نجات کے راستے کی طرف قدم بڑھانا ہے تو حضور رسالت مآب (ﷺ) کے دامن رحمت سے ہی خیرات لینی ہوگی-

صلح حدیبیہ کے معاہدے میں

خارجہ پالیسی کے لئے اسباق:

ہجرت کے فوراً بعد مختلف قبائل عرب اور دوسری اَقوام سے آپ (ﷺ)کے معاہدات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا-

یہ معاہدات حضور رسالت مآب (ﷺ) کی خارجہ پالیسی کو واضح کرتے ہیں:

خارجہ پالیسی کے لیے حضور نبی اکرم (ﷺ) نے امن عامہ اور بین الاقوامی اتحاد کو بنیاد بنایا- اسلامی ریاست کی خارجہ پالیسی جغرافیائی حدود میں وسعت اور جنگ و جدل پر مبنی نہیں ہوتی- اگر ایسا ہوتا تو حدیبیہ کے مقام پر صلح کا معاہدہ طے نہ پاتا- یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس وقت مسلمان کم زور تھے اور غیر مسلموں کی قوت سے خوف زدہ تھے- اس لئے کہ صحابہ کرام (﷢)نے تو جانیں قربان کر دینے کی قسمیں کھائی تھیں مگر ہادی کونین (ﷺ) نے غیر مسلموں کی تمام شرائط مان کر صلح کر لینا ہی بہتر سمجھا-

جناب نبی اکرم (ﷺ)کی خارجہ پالیسی میں یہ بات ایک بڑی حکمت عملی سمجھی جاتی ہے کہ مدینہ منورہ میں جب آپ (ﷺ) نے ’’میثاق مدینہ‘‘ کی صورت میں یہودیوں کے ساتھ ایک مشترکہ ریاست تشکیل دی تھی جس پر یہودی قائم نہ رہے اور معاہدہ شکنی کی پاداش میں یکے بعد دیگرے یہودیوں کے تینوں قبائل بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریضہ مدینہ منورہ سے جلاوطن ہوگئے- اس کے بعد انہوں نے خیبر کو مرکز بنا کر مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں اور مسلمانوں کو یہودیوں کے ساتھ یہ فیصلہ کن جنگ نظر آنے لگی- اس پر رسول اللہ (ﷺ)نے خیبر کی جنگ سے پہلے قریش مکہ کے ساتھ ’’معاہدۂ حدیبیہ‘‘ کر کے اس محاذ کو خاموش کیا اور اس کے فورًا بعد خیبر پر حملہ کر کے یہودیوں سے نمٹ لینے کا اہتمام کیا جو کہ جنگی اور سفارتی فراست و تدبر کا شاہکار ہے-

عباس محمود العقاد المصری صلح حدیبیہ کے ذیل میں اپنی کتاب ’’محمد (ﷺ)‘‘ میں حضور نبی کریم (ﷺ) کی حیرت انگیز سیاسی بصیرت اور خارجہ پالیسی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ :

 اس معاہدے کے بعد حضور رسالت مآب (ﷺ) کو قریش کی طرف سے قدرے اطمینان ہو گیا اور آپ (ﷺ) نے اپنی توجہ خیبر کے یہودیوں کی طرف مبذول فرمائی یہودیوں نے خیبر کی بستی کو اسلام دشمن سرگرمیوں کا مضبوط قلعہ بنا رکھا تھا اس کے علاوہ حضور نبی اکرم (ﷺ)نے بیرونی ممالک کے سربراہوں کے نام دعوتی خطوط بھی ارشاد فرمائے اور اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کام زیادہ توجہ سے فرمانے لگے -

صلح حدیبیہ کے موقع پر جب قرآن مقدس کی یہ آیت نازل ہوئیں ’’اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا‘‘تو بہت سے مسلمان ان کے مفہوم کو سمجھ نہیں پائے تھے اور سوچتے تھے کہ یہ فتح کی کون سی قسم ہے لیکن دو سال کے مختصر عرصے میں انہوں نے فتح مبین کا مشاہدہ خود اپنی آنکھوں سے کیا اور تب انہیں اندازہ ہوا کہ بسا اوقات محض گفتگو اور سیاسی سوجھ بوجھ کے ذریعے بھی جنگ جیتی جاسکتی ہے- صلح حدیبیہ کو حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی حیرت انگیز سیاسی بصیرت کا ایک بے مثال اور ناقابل فراموش شاہکار کہا جا سکتا ہے -[14]

حضور نبی اکرم (ﷺ) نے بین الاقوامی سطح پر برابری اور رواداری کے باوجود اگر کہیں سے کوئی چیلنج سامنے آیا تو اسے قبول کرنے میں اُمّت کو کمزوری نہیں دکھانے دی اور چیلنج کو قبول کر کے اس کا بروقت سامنا کرنے پہ راغب فرمایا -

اسلام کی خارجہ پالیسی کا اصول یہ ہے کہ باوقار زندگی کے لیے پُر امن جدو جہد جاری رکھی جائے- اگر کوئی شرپسند اس راہ میں حائل ہو تو اس حد تک اس کے خلاف کارروائی کی جائے جس حد تک اس کی ضرورت ہو- یہی وجہ ہے کہ آپ (ﷺ)نے مختلف اقوام کے ساتھ دوستی کے معاہدے کیے- جو قومیں غیر جانبدار رہنا پسند کرتی تھیں ان کی غیر جانبداری کا احترام کیا- الغرض صلح حدیبیہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی بہترین خارجہ پالیسی کا آئینہ دار ہے اور آج کے مسلم ممالک کے حکمرانوں کے لئے نمونہ عمل بھی ہے-

حضور (ﷺ) کے خطوط

بادشاہان وقت کے نام :

مدینے میں اسلامی ریاست کے استحکام کے بعد آپ (ﷺ) نے اس وقت کی متمدن دنیا کے قابلِ ذکر حکمرانوں کو دعوتی خطوط لکھے-اُن سے جو بات کہی گئی وہ اللہ کی بندگی قبول کرنے کی دعوت تھی- اس میں عربوں کی حکمرانی کے تصور کا شائبہ تک نہیں ملتا- مخاطبین پر یہ امر بالکل واضح کردیا گیا تھا کہ دعوت قبول کرنے کی صورت میں وہ بالکل برابر کے حقوق کے ساتھ امتِ مسلمہ کا جز بن سکیں گے-

آپ (ﷺ) کی نبوت و رسالت عالمگیر ہے-اسی عالمگیر نبوت کی بعثت کے تحت آپ (ﷺ)نے سینکڑوں کی تعداد میں خطوط روانہ فرمائے تا کہ اسلام کا عالمگیر پیغام دنیا کے تمام گوشوں تک پہنچ جائے-ان خطوط کے مخاطبین میں مختلف قسم کے لوگ شامل تھے-ان میں سے کچھ خطوط تو اس عہد کے عظیم اور پر ہیبت بادشاہوں کے نام ہیں جن میں اہل کتاب کے علاوہ مشرک بھی تھے،بعض خطوط عرب کے علاقائی بادشاہوں راجاؤں اور سردارانِ قبائل کے نام ہیں اور کچھ مکتوبات آپ (ﷺ)نے صحابہ کرام (﷢)،مسلم عمائدین اور سپہ سالاروں کو بھی تحریر کیے-یہاں پر ہمارا مقصد صرف ان چند خطوط کا جائزہ لینا ہے جو مختلف ریاستوں کے بادشاہوں کو لکھے گئے-

آپ (ﷺ) نے صلح حدیبیہ سے واپسی پر ماہ ذی الحجہ 6ھ میں بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط بھیجنے کا ارادہ کیا جیسا کہ ’’طبقات ابن سعد‘‘ میں ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد آپ (ﷺ) نے دنیا کے 6مشہور حکمرانوں کے نام تبلیغی خطوط روانہ فرمائے اور ان پر اپنی مہر بطورِ دستخط ثبت فرمائی- [15]

دنیا کے 6مشہور حکمرانوں کے نام یہ ہیں:

1.      نامہ مبارک بنا م نجاشی شاہ حبشہ

2.       نامہ مبارک بنام کسرہ شاہ فارس

3.       نامہ مبارک بنام مقوقس شاہ قبط مصر

4.       نامہ مبارک بنام ہرقل قیصر روم

5.       نامہ مبارک بنام منذر بن ساوی حاکم بحرین

6.       نامہ مبارک بنام حاکم بن ابی شمر غسانی حاکم دمشق کے نام

ان خطوط پر تبصرہ کرتے ہوئے سیرت طیبہ کے محقق مفتی ہاشم صاحب لکھتے ہیں:

مکتوبات نبوی(ﷺ) میں جن لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے، ان میں 4 مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں:

1.      مشرکین عرب

2.       عیسائی

3.       یہودی

4.       زرتشی (مجوسی)

آپ (ﷺ)نے ہرقل اور مقوقس کے نام جو خطوط لکھے- ان میں آپ (ﷺ) نے اپنے نام کی خصوصیت کے ساتھ ’’عبد اللہ‘‘ (خدا کا بندہ) لکھا جس سے مخاطب کے عقیدے کی نہایت لطیف پیرائے میں تردید کردی گئی ہے کہ انبیاء ومرسلین خدا کی اولاد نہیں بلکہ مخلوق ہوتے ہیں-فارس خسر و پرویز کے نام جو نامہ مبارک ارسال کیا گیا،اس میں عقیدہٴ توحید کو خاص طور پر اجاگر کیا گیا کیونکہ فارس میں دو خداؤں کا عقیدہ موجود تھا،اس کے بعد اسلام کے عالمی مذہب ہونے اور آپ کے تمام اقوام کی جانب مبعوث ہونے کا صاف لفظوں میں اظہار کیا گیا-یہود کے نام خط میں تورات کے حوالے دے کر اپنی نبوت کا اثبات کیا گیا اور مشرکینِ عرب کے نامہٴ مبارک میں توحید خدا پر زور دے کر غیر خدا کی عبادت سے روکا گیا-

قیصر روم (جو کہ مذہباً عیسائی تھا) نے آپ(ﷺ) کے دعوتی خط کے بعد احوال کا جائزہ لے کر آپ (ﷺ) کی نبوت و رسالت کا اقرار کیا،مگر اسلام قبول نہ کیا- اسی طرح عزیز مصر مقوقس نے بھی (جوکہ مذہباً نصرانی تھا) آپ (ﷺ)کی نبوت و رسالت کا اعتراف کیا،مگر حلقہٴ اسلام میں داخل نہ ہوا، نجاشی شاہ حبشہ (جوکہ عیسائی تھا) حلقہ بگوش اسلام ہوا- [16]

حضور رسالت مآب (ﷺ) کے ان خطوط کی روشنی میں مسلم ممالک اپنی خارجہ پالیسی کو مرتب کرسکتے ہیں نیز ان خطوط کی روشنی میں اسلام کے دعوتی پیغام کو عالمی سطح پر کس طرح احسن انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے، رہنمائی ملتی ہے -

عہد نبوی (ﷺ) میں دیگر سلطنتوں

اور اقوام سے خارجہ تعلقات :

جدید دنیا میں بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد کا تعین اور اس کے قواعد و ضوابط کی تشکیل تو کچھ ہی عرصہ قبل ہوئی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصول و ضوابط اسلام نے 1400 سال قبل ہی انسانیت کی فلاح و بقاء کے لیے پیش کر دئیے تھے - اسلام کا نظام بین الاقوامی تعلقات زبانی جمع خرچ کے بجائے ٹھوس حقائق، صدیوں کے تجربات اور عملی کامیابیوں کے ساتھ نمایاں اور ممتاز مقام رکھتا ہے- حضور نبی کریم(ﷺ) نے اپنے دور کی دیگر اقوام کے ساتھ جو تعلقات کا نظام جاری فرمایا آج تک دنیا بھر کے لیے مشعل راہ ہے- جس کا تقابل اگر تعصب کی عینک اتار کر جدید بین الاقوامی اصول و ضوابط سے کیا جائے تو بلاشبہ اسلام کے اصول و ضوابط پوری عالم انسانیت کے لیے مشعل راہ نظر آتے ہیں- عہد نبوی (ﷺ) میں تعلقات کے قیام کے لئے حضور نبی کریم(ﷺ) نے سلاطین و امراء کو خطوط لکھے جس میں دین اسلام کی تبلیغ کی گئی تھی- اس وقت قبائل کی حیثیت بھی ایک ملک کی طرح تھی ان کے اندر بھی چھوٹی چھوٹی حکومتیں قائم تھیں جو کہ اپنے آپ کو خود مختار حکومت اور سلطنت کا ہم پلّہ سمجھتی تھیں اس وجہ سے قبائل کے ساتھ بھی تعلقات کو استوار کیا گیا -

آپ (ﷺ) نے جن قبائل اور ریاستوں سے خارجہ تعلقات رکھے ان کے نام درج ذیل ہیں :

1.      ریاست مدینہ اور حبشہ سے خارجہ تعلقات

2.       ریاست مدینہ اور احابیش قبائل سے خارجہ تعلقات

3.       ریاست مدینہ اور یہود سے خارجہ تعلقات

4.       ریاست مدینہ اور مصر سے خارجہ تعلقات

5.       ریاست مدینہ اور بازنطینی سلطنت سے خارجہ تعلقات

6.       ریاست مدینہ اور فارس سے خارجہ تعلقات

7.       ریاست مدینہ اور طائف سے خارجہ تعلقات

8.       ریاست مدینہ اور عمان سے خارجہ تعلقات

9.       ریاست مدینہ اور چین سے خارجہ تعلقات

10.   ریاست مدینہ اور قریش سے خارجہ تعلقات

ان تمام ریاستوں سے خارجہ تعلقات کی تفصیل سیرت کی کتب میں دیکھی جا سکتی ہے-

 لیکن اگر مختصراً عہدِ نبوی (ﷺ) کی خارجہ پالیسی کا تجزیہ کیا جائے تو عہدِ نبوی (ﷺ)کی خارجہ پالیسی کو 4 حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے :

1.      خارجہ پالیسی کا پہلا حصّہ ہجرت سے جنگوں کے آغاز تک ہے جس میں آپ (ﷺ) نے ہجرت کے بعد مدینہ میں آباد اقوام کے ساتھ خارجی تعلقات قائم کئے اور اس کے لئے تاریخی دستاویز مرتب کی جو مثال مدینہ کے نام سے مشہور ہے جس کی بدولت مدینہ کا معاشرہ ایک پر سکون اور پر امن معاشرہ بن گیا-

2.       خارجہ پالیسی کا دوسرا حصّہ جنگوں سے صلح حدیبیہ تک ہے مدینہ منورہ ایک وقت تک پر سکون رہا لیکن سرداری کی دلدادہ اقوام نے اس کو اپنے لئے چیلنج سمجھا اور مسلمانوں کے خلاف اعلانیّہ اور خفیہ سازشیں شروع کر دیں جس کی وجہ سے مسلمانوں پر اپنا دفاع لازم ہو گیا اور تقریبا 6سال کا عرصہ جنگوں میں گزر گیا -

3.       خارجہ پالیسی کا تیسرا حصّہ صلح حدیبیہ سے فتح مکّہ تک ہے-اب رسول اللہ (ﷺ) کو چونکہ جنگوں سے فرصت ملی تھی تو آپ (ﷺ) نے اس موقع کو غنیمت جان کر عرب اور عرب سے باہر اقوام قبائل ممالک کو اپنے پیغام سے روشناس کرانے کا ارادہ فرمایا اور اپنے سفیروں کو سفارتی پیغام دے کر شاہی محلات میں بھیجا جس کا مقصد ہرگز ان کو فتح کرکے غلام بنانے کا نہیں تھا بلکہ آپ (ﷺ)نے فرمایا کہ جو اس دین کو قبول کرتا ہے اس کو اس کے عہدے پر برقرار رکھا جائے گا -بعض اقوام اور ممالک میں سے بیشتر نے آپ (ﷺ)کے سفارت کاروں کا اکرام کیا اور ان کو قدرومنزلت بخشی- جبکہ بعض دیگر نے اس کو طاقت میں اشتراک سمجھا اور نفرت کا اظہار کیا -

4.       خارجہ پالیسی کا چوتھا حصّہ فتح مکہ سے وصال مبارک تک ہے اس دوران آپ (ﷺ) کی خارجہ پالیسی سے اقوام عالم اتنی متاثر ہوئیں کہ وفود و معاہدات کا سلسلہ شروع ہو گیا اور اس پورے سال میں اتنے وفود آئے کہ یہ سال ’’عام الوفود‘‘ کے نام سے مشہور ہو گیا - [17]

حضور رسالت مآب (ﷺ)کی خارجہ پالیسی آج کے مسلم حکمرانوں کے لئے نمونہ عمل ہے- آج بھی اگر حضور نبی کریم (ﷺ) کے عطا کردہ اصول خارجہ کا اطلاق اگر مسلم ممالک اپنی خارجہ پالیسی میں کرے تو اس کے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں-

حرف آخر :

حضور رسالت مآب (ﷺ) کی سیرت طیبہ کی روشنی میں خارجہ پالیسی کے حوالے سے یہ بات دلائل سے عیاں ہے کہ مسلمانوں کی بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد امن پر ہے کیونکہ اسلام نے جنگ پر امن کو فوقیت دی ہے- مطالعہ قرآن سے اس امر کی نشاندہی بھی ہوتی ہے کہ اسلامی حکومت کے تمام معاملات دیگر اقوام سے صلح اور امن و آتشی کے بنیادی اصولوں پر طے ہونے چاہیے- اس میں کسی قسم کی شدت،  انتہا پسندی اور جارحانہ عزائم نہیں ہونے چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ بین الاقوامی پالیسی کمزور اور بزدلانہ نہ ہو کیونکہ غیر اقوام سے تعلق قائم کرتے وقت برابری کی سطح پر اپنے حقوق کا تحفظ کرنا بھی ضروری ہے- لیکن اگر دشمن امن کی زبان کو نہ مانے تو پھر جہاد فی سبیل اللہ کا حکم قرآن مجید اور حضور نبی کریم (ﷺ)کے اسوۂ حسنہ سے ہم پر واضح ہے- المختصر! یہ کہ اسلامی مملکت کو خارجہ پالیسی کو وضع کرتے وقت قرآنی اصولوں اور حضور علیہ الصلاۃ و السلام کے اسوۂ حسنہ کو پیش نظر رکھنا چاہیے تاکہ اسلامی مملکت ارتقائی عمل طے کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی قیام امن میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکے-

٭٭٭



[1](النحل:91)

[2](التوبہ:7)

[3](النحل:94)

[4](المائدہ:2)

[5](الانفال:61)

[6](الاعراف:56)

[7](البقرۃ:193)

[8](النساء:75)

[9](مقدمہ ابن خلدون، ص:270)

[10]( صحیح بخاری، کتاب المغازی)

[11](صحیح مسلم، کتاب الجہاد)

[12](سنن ابو داؤد، کتاب الجہاد)

[13](الانفال:58)

[14](العقاد مصری عباس محمود عبقری محمد (ص:69، دار التالیف مصر)

[15](ماہنامہ مراة العارفین، شمارہ دسمبر 2017ء، ص:25)

[16]( ایضاً)

[17]( پروفیسر ڈاکٹر حسین بانو، ’’رسول اکرم () کی سفارتکاری اور خارجہ پالیسی‘‘ راحیل پبلیکیشنز ’ستمبر 2018ء‘، ص:480)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر