فلسفہ عیدمیلادالنبی ﷺ

فلسفہ عیدمیلادالنبی ﷺ

اللہ رب العزت نے عالم ارواح میں انبیا کرام اور رسل عظام کی جملہ ارواح سے ایک عہد لیا جس کو قرآن مجید نے ان الفاظ میں بیان فرمایا،ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’وَ اِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ ط قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ ط قَالُوْٓا اَقْرَرْنَاط قَالَ فَاشْہَدُوْا وَاَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰہِدِیْنَ‘‘

’’اور (اے محبوب! وہ وقت یاد کریں) جب اﷲ نے انبیاء سے پختہ عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کر دوں پھر تمہارے پاس وہ (سب پر عظمت والا) رسول (ﷺ) تشریف لائے جو ان کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو جو تمہارے ساتھ ہوں گی تو ضرور بالضرور ان پر ایمان لاؤ گے اور ضرور بالضرور ان کی مدد کرو گے، فرمایا: کیا تم نے اقرار کیا اور اس (شرط) پر میرا بھاری عہد مضبوطی سے تھام لیا؟ سب نے عرض کیا: ہم نے اِقرار کر لیا، فرمایا کہ تم گواہ ہو جاؤ اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں‘‘-

’’اللہ تعالیٰ کا اتنا فرمادینا ہی کافی تھا کیونکہ جن نفوس قدسیہ کو مخاطب کر کےیہ فرمان جاری کیا جارہا تھا ان سے تو یہ ممکن ہی نہ تھا کہ وہ زندگی کے کسی مرحلے میں اس سے سرتابی کریں-لیکن اس کی اہمیت و حیثیت کے پیشِ نظر حاضرین کی جملہ ارواح کا زبانی اقرار بھی ضروری سمجھا گیااور ان سے پوچھا گیاکہ:

’’أَأَقْرَرْتُمْ‘‘،’’کیا تم نےاقرار کرلیا ہے؟‘‘پھراس  فرمان کو اپنا عہد قرار دے کر اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا گیا، فرمایا: وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي‘‘’’اور میرے اس بھاری عہد کو قبول کر لیا ہے؟‘‘’’قَالُوا أَقْرَرْنَا‘‘’’سب نے کہا ہم نے اقرار کرلیا ہے‘‘-

اس عہد کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جملہ حاضرین کی پاکیزہ ارواح کے اس اقرار پر بھی اکتفاء نہ کیا گیا بلکہ اس پر باقاعدہ گواہیاں ڈالی گئیں- حیران کن اور تعجب خیز بات یہ ہے کہ گواہیاں کن کی تھیں؟ اور کن کے اوپر تھیں؟ فرمایا:

’’قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ‘‘[1]

’’تم سب اس پرگواہ رہنا اور مَیں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں‘‘-

اس عہد و پیمان کی اہمیت کا اندازہ کوئی کرسکتا ہے؟ جس کے گواہوں میں خود خالق کائنات کا اپنا نام بھی درج ہو؟پھر اس عہد و پیمان سے انحراف ہونے کا انجام بھی بیان فرمادیا- حالانکہ وہ خود جانتا ہے کہ انبیاء کی پوری جماعت میں سے کوئی بھی میرے حکم سے انحراف نہیں کرے گا لیکن اس بات کی اہمیت کو مزید واضح کرنے کے لئے فرمایاکہ:

’’فَمَنْ تَوَلّٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ‘‘[2]

’’(اب پوری نسل آدم علیہ السلام کے لیے تنبیہاً فرمایا) پھر جس نے اس (اقرار) کے بعد روگردانی کی پس وہی لوگ نافرمان ہوں گے‘‘-

خواجہ ابو الحسن امیر خسرو دہلوی (﷫) اسی ’’میثاق‘‘ کی عکاسی کرتے ہوئےفرماتے ہیں کہ:

خدا خود میر مجلس بود اندر لا مکاں خسرو

 

محمد شمع محفل بود شب جائے کہ من بود

درحقیقت یہ سب کچھ اس لیے کیا گیا تاکہ جماعتِ انبیاء کے دل میں اس آنے والے کی عظمت اور شان و شوکت نقش ہوجائے اور انہیں معلوم ہوجائے کہ ان کی نبوت اور ان کی کتابوں کی اس رسول کی نبوت اور کتاب سے وہی نسبت ہے جو تاروں کو آفتاب سے ہے-علامہ بوصیری فرماتے ہیں:

فانہ شمس فضلھم کواکبھا

 

یظھرن انوارھا للناس فی الظلم

’’بے شک رسول اللہ(ﷺ)  فضل و کمال کے سورج ہیں اور باقی انبیاء ستارے ہیں جو اپنے اپنے وقت میں اندھیروں میں روشنیاں بکھیرتے رہے ‘‘14-

انبیاء (﷩) کی اپنی اقوام کو آپ(ﷺ) سے متعلق تاکیدات:

 امام محمد بن جرير أبو جعفر الطبری (م 310 ھ) اسی آیت کی تفسیر  میں   ’’جامع البيان فی تأويل القرآن‘‘میں  لکھتے  ہیں   -

’’عن علي بن أبي طالب قال: لم يبعث الله عز وجل نبيًّا، آدمَ فمن بعدَه  إلا أخذ عليه العهدَ في محمد: لئن بعث وهو حيّ ليؤمنن به ولينصرَنّه  ويأمرُه فيأخذ العهدَ على قومه‘‘[3]

’’حضرت علی ابن ابی طالب(﷜) سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل نے سیدنا حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر بعد تک جس نبی علیہ السلام کو بھی بھیجا اس سے عہد لیا کہ اگر اس کی حیات میں محمد (ﷺ) مبعوث ہوں گے تو وہ ضرور بہ ضرور ان پر ایمان لائے گااور ضروربضرور ان کی مدد کرے گا اور پھر وہ نبی اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنی قوم سے یہ عہد لیتا تھا‘‘-

جمیع انبیاء کرام اور رسل عظام(﷩) نے اپنے اپنے دور میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اپنی نبوت ورسالت کے اعلان کے بعد سب سے جو اہم کا م سر انجام دیا وہ حضور نبی کریم رؤوف الرحیم احمد مجتبیٰ حضرت محمدمصطفےٰ (ﷺ) کی دنیا میں تشریف آوری کا اعلان تھا- اللہ تعالیٰ نے روزِ میثاق جو ہر نبی اور رسول سے عہد لیا تھا اس کو نبھاتے ہوئے شانِ عظمت مصطفےٰ(ﷺ) کو اپنی قوم کے قلوب و اذھان میں نقش کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا- جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں قرآن فرماتا ہے کہ:

’’وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ‘‘[4] 

’’اور جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا! اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اس (عظیم الشان) رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا اس کا نام احمد ہوہے‘‘-

ابو الاثر حفیظ جالندھری ’’شاہنامۂ اسلام‘‘ میں اسی آیت کی عکاسی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

لبِ عیسیٰ پہ آئے وعظ جس کی شانِ رحمت کے[5]

وہ شانِ رحمت کے وعظ کیا تھے؟انجیل برناباس کے باب سترہ(۱۷) میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام  نے حضور نبی کریم (ﷺ) سے متعلق اپنی قوم کو ابتدائی ہدایت (Briefing)دیتے ہوئے فرمایا کہ:

“But after me shall come the splendour of all the Prophets and holy ones. And shall shed light upon the darkness of all that the Prophets have said because He is the messenger of God”[6].

’’لیکن میرے بعد وہ ہستی تشریف لائے گی جو تمام نبیوں اور نفوس قدسیہ کے لئے آب و تاب ہے اور پہلے انبیاء نے جو باتیں کی ہیں ان پر روشنی ڈالے گی کیونکہ وہ اللہ رسول ہے‘‘-

اسی طرح انجیل برناباس کے باب بیالیس(۴۲) میں ہے کہ:

“For I am not worthy to unloose the ties of the hosen or the latchets or the shoes of the messenger of God whom ye call “Messiah” who was made before me. And shall come after me. And shall bring the words or truth. So that His faith shall have no end.”[7]

’’یعنی جس ہستی کی آمدکا تم ذکر کر رہے ہو مَیں  تو اللہ  کے اس رسول کی جوتیوں کے تسمے کھولنے کے لائق بھی نہیں جس کو تم مسیحا کہتے ہو- اس کی تخلیق مجھ سے پہلے ہوئی اور تشریف میرے بعد لے آئے گا- وہ سچائی کے الفاظ لائے گا اور اس کے دین کی کوئی انتہاء نہ ہوگی‘‘-

اب حضرت یحیٰ علیہ السلام کا حال دیکھیئےجو کہ انجیل مرقس میں درج ہے کہ :

’’حضرت یحیٰ علیہ السلام اپنی قوم میں منادی کرتے تھے کہ میرے بعد وہ شخص آنے والا ہے جو مجھ سے زور آور ہے مَیں اس لائق نہیں کہ جھک کر اس کی جوتیوں کے تسمے کھولوں‘‘-[8]

اُمم سابقہ میں  آپ (ﷺ)  کے ذکر پاک کی روایت کا نسل در نسل جاری رہنا اور ان  کا آپ (ﷺ) کے نام سے استعانت طلب کرنا:

یہ انہی قدسی صفات پیغمبران کرا م اور ترجمانِ حقیقت کے اظہار حقیقت کا ہی نتیجہ تھا کہ یہود جیسی اکھڑاور ضدی قوم مشکل پیش آنے پر اپنے اباؤ اجداد، اپنے انبیاء و رسل جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے علاوہ، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (﷩) جیسی شخصیات تھیں کی بجائے اگرتوسل کرتے اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں استقامت طلب کرتے تو پیغمبر آخر الزمان (ﷺ) کا نام اقدس سے کرتے-جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:

’’وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا‘‘[9]

’’اور وہ اس سے پہلے (اس نبی کے وسیلہ سے) کفار کے خلاف فتح کی دعا کرتے تھے-

امام محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب الآملی، أبو جعفر الطبری اسی آیت کی تفسیر  میں   ’’جامع البيان فی تأويل القرآن‘‘پر لکھتے  ہیں   -

’’عن ابن عباس: أن يھود كانوا يستفتحون على الأوس والخزرج برسول (ﷺ) قبل مبعثه‘‘[10]

’’حضرت عبد اللہ ابن عباس (﷠) بیان کرتے ہیں کہ : یہود، اوس اور خزرج کے خلاف جنگ میں رسول اللہ (ﷺ) کی بعثت سے پہلے آپ (ﷺ) کے وسیلہ سے فتح طلب کرنے کی دعا کرتے تھے‘‘-

مفتی بغداد علامہ ابو الفضل شہاب الدین  سید محمودآلوسی البغدادی (﷫)اسی آیت کے تحت ’’روح المعانی ‘‘میں لکھتے ہیں کہ:

’’حضور نبی کریم (ﷺ) کی تشریف آوری سے قبل یہود کا طریقہ کار یہ تھا کہ جب کبھی کفار و مشرکین سے ان کی جنگ ہوتی اور ان کی فتح کے ظاہری امکانات ختم ہوجاتے تو اس وقت تورات کو سامنے  رکھتے اور ان الفاظ سے دعا کرتے:

’’اَللَّهُمَّ إِنَّا نَسْئَلُکَ بِحَقِّ نَبِيِّكَ الَّذِیْ وَعَدْتَنَا أَنْ تَبْعَثَهٗ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ أَنْ تَنْصُرَنَا الْيَوْمَ عَلٰى عَدُوِّنَا فَيُنْصَرُوْنَ‘‘

’’اے اللہ ہم تجھ سے تیرے اس نبی کا واسطہ دے کر عرض کرتے ہیں جس کی بعثت کا تونے ہم سے وعدہ کیا ہے -آج ہمیں اپنے دشمنوں پر فتح دے تو حضور نبی پاک (ﷺ) کے صدقے اللہ تعالیٰ انہیں فتح دیتا‘‘-[11]

حضور نبی کریم (ﷺ) کی تشریف آوری سے قبل قوموں اور قبیلوں کے سردار اور اکابر مرتے وقت اپنے اصاغر (چھوٹوں) کو اکٹھا کرکے وصیت کرتے کہ اگر تمہاری زندگی میں نبی آخر الزمان (ﷺ) کا ظہور ہو جائے تو ہمارے متعلق عرض کرنا کہ وہ آپ کی راہ میں آنکھوں کا فرش بچھائے رہے اور متاع ِعمر عزیز کو آپ کی انتظار پر ہی قربان کر گئے - لہٰذا روزِ حشر ان کو اپنے غلاموں میں شمار کرنا-امام جلال الدین سیوطی،حافظ ابن کثیر، امام قرطبی اور دیگرمتعدد مفسرین کرام نے سورۃ الدخان کی آیت نمبر (۳۷) کی تفسیر میں اپنے اپنے انداز  اور الفاظ میں لکھا ہےکہ:

’’تبع یمانی حضور نبی کریم (ﷺ) کی تشریف آوری سے تقریباً کئی سو سال قبل فوت ہوا- جب اس نے مدینہ طیبہ (جس کا نام اس وقت یثرب تھا) پر چڑھائی کی اور اسے برباد   کرنے کا ارادہ کیا تو یہودی علماء نے اسے بتایا کہ یہ شہر نبی آخر الزمان کی جائے ہجرت  ہے ، جن کا نام احمدہوگا- ’’وَ اَخْبَرُوْہُ اَنَّہُ لَا یُدْرِکُہُ‘‘ اور انہوں نے تبع کو یہ بتایا کہ تبع اس کا زمانہ نہیں پائے گا تو تبع نے اپنے قوم کو کہا:تفسیردر منثور کے الفاظ یہ ہیں:

فقال تبع للاوس و الخزرج:أقیموا بھذا البلد، فان خرج فیکم، فازروہ و صدقوہ، و ان لم یخرج، فأوصوابذالک أولادکم‘‘

’’تبع نے اوس اور خزرج سے کہا! اسی شہر میں رہ جاؤ جب وہ تمہارے درمیان ظاہر ہو تو اسے پناہ دینا اور اس کی تصدیق کرنا- اگر وہ تمہاری موجودگی میں ظاہر نہ ہو تو اپنی اولادوں کو اس کے بارے میں وصیت کرجانا‘‘-

پھر اس نے اپنی محبت و عشقِ رسول (ﷺ) کو اشعار کے قالب میں بند کیا- ابن کثیر لکھتے ہیں کہ:

’’قال فی ذلک شعرا واستودعہ عند اھل المدینۃ و کانوا یتوار ثونہ و یروونہ خلفاً عن سلف، وکان ممن یحفظہ ابو ایوب خالد بن زید الذی نزل رسول (ﷺ) فی دارہ وھو:‘‘

’’تو اس نے کچھ شعر کہے اور بطور امانت اہل مدینہ کے پاس رکھے وہ قصیدہ بطور میراث ان کے پاس رہا اور اس کی روایت نسل در نسل چلتی رہی یہ ابو ایوب خالد بن زید الانصاری(﷜)کو حفظ تھا جن کے ہاں حضور نبی کریم (ﷺ) ہجرت کے بعد قیام فرما ہوئے- وہ اشعار کچھ اس طرح ہیں کہ:‘‘

حُدِثْتْ اَنَّ رَسُوْلَ الْمَلِيْكِ

 

يَخْرُجُ حَقّاً بَارِضِ الْحَرَمِ

’’مجھے بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا رسول(ﷺ) حرم کی سرزمین میں حق کے ساتھ ظاہر ہوگا‘‘-

شَهِدتُّ على أَحْمَدٍ أَنَّهُ

 

رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ بَارِی النَّسَمْ

’’میں حضرت احمد پر گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ جو خالق کائنات ہے کے رسول ہیں‘‘-

فَلَوْ مُدَّ عُمْرِي إلى عُمْرِهِ

 

لَكُنْتُ وَزِيراً لَهُ وابن عَمّ

’’اگر میری عمر اُن کی عمر تک طویل ہوئی تو مَیں ان کا  وزیر اور ان کا چچا زاد ہوں گا یعنی مددگار اور دستِ بازو‘‘-

وَ جَاهَدْتُ بالسَّيفِ أعْدَاءَهُ

 

وَ فرَّجتُ عَنْ صَدْرِه كُلَّ غَم

’’اور آپ (ﷺ) کے دشمنوں سے تلوار کے ساتھ جنگ کروں گا اور آپ سے ہر غم کو دور کروں گا‘‘-

و أَلْزَمتُ طَاعَتَه كلَّ مَن

 

عَلَى الأَرْضِ، مِنْ عُرْبٍ وعَجم

’’اور میں زمین پرعرب و عجم میں سے ہر شخص پر آپ (ﷺ) کی اطاعت کو لازم کروں گا‘‘

و لَكِن قَوْلي له دَائماً

 

سَلاَمٌ عَلَى أَحْمَدٍ في الأمَم

’’اور لیکن آپ (ﷺ) کے بارے میں میری ہمیشہ یہی بات رہےگی کہ تمام امتوں میں احمد (ﷺ) پر سلام ہو‘‘-

فأَحمَدُنا سَيَّدُ المُرسَلِين

 

و أُمَّتهُ تلكَ خيرُ الأمم

’’پس ہمارا احمد (ﷺ) رسولوں کا سردار ہے اور آپ(ﷺ) کی یہ امت تمام  امتوں سے بہتر ہے‘‘-

هو المُرتَضَى و هُو المُصطَفَى

 

و أكرَمُ مَنْ حملتْهُ القَدَم

’’آپ (ﷺ) مرتضیٰ اور مصطفےٰ (تمام مخلوق سے چنے ہوئے)ہیں اور جس نے آپ (ﷺ)کی پیروی کی وہ سب سے عزت والا ہے‘‘-

(حوالہ:در منثور،  ابن کثیر، قرطبی، بحر المدید، البدایہ والنھایہ وغیرہم)

امام ابو نعیم الاصبھانی (﷫) ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:

’’حضرت ابو  سلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف (﷜) سے روایت ہے کہ کعب بن لؤی بن غالب بن فھر بن مالک جمعہ کے دن اپنی قوم کو جمع کرتا اور انہیں حضور نبی کریم (ﷺ) کے بارے طویل خطبہ دیتے (مختصر یہ کہ) کہتے ہیں کہ:

’’حَرَمُكُمْ زَيِّنُوهُ وَعَظِّمُوهُ وَتَمَسَّكُوا بِهِ ، فَسَيَأْتِي لَهُ نَبَأٌ عَظِيمٌ‘‘

’’اپنے حرم کو آراستہ کرو اور اس کی تعظیم بجا لاؤ اور اس کو مضبوطی سے پکڑے رہو، اس سے ایک بہت شاندار اور اہم خبر آئے گی‘‘-

’’وَسَيَخْرُجُ مِنْهُ نَبِيٌّ كَرِيمٌ، بذلك جاء موسى وعيسى(﷩)‘‘

’’اور اسی سے ایک نبی کریم (ﷺ) ظاہر ہوں گے، یہی خوش خبری (حضرت)موسیٰ اور (حضرت) عیسیٰ(﷩) نے اپنی امتوں کو دی‘‘-

’’عَلَى غَفْلَةٍ يَأْتِي النَّبِيُّ مُحَمَّدٌ ، فَيُخْبِرُ أَخْبَارًا صَدُوقًا خَبِيرُهَا‘‘

’’اور اچانک نبی کریم جن کا اسم گرامی محمد (ﷺ) ہے تشریف لائیں گے، اور ہمیں ایسی خبروں سے آگاہ کریں گے جن کا خبر دینے والا سچا ہوگا‘‘-

’’ثُمَّ يَقُولُ : أَمَا وَاللَّهِ لَئِنْ كُنْتُ فِيهَا ذَا سَمْعٍ وَبَصَرٍ وَيَدٍ وَرِجْلٍ ، لَتَنَصَّبْتُ فِيهَا تَنَصُّبَ الْجَمَلِ وَلَأَرْقَلْتُ فِيهَا إرْقَالَ الْفَحْلِ‘‘

’’پھر کہتے ہیں: بخدا کاش اس وقت میرے کان اور آنکھیں میرے پاؤں اور ہاتھ صحیح ہوں تو میں اس دعوت کو پھیلانے کے لئے سر بلند کرکے کھڑا ہوتا جیسے اونٹ کھڑا ہوتا ہے اور اس طرح فخر و ناز سے چلتا جس طرح نر سانڈ چلا کرتا ہے‘‘-

’’ثُمَّ يَقُولُ:لَيْتَنِي شَاهِدٌ فَحْوَاءَ دَعْوَتِهِ حِينَ الْعَشِيرَةُ تَبْغِي الْحَقَّ خِذْلَانًا‘‘

’’پھر کہتے ہیں:اے کاش مَیں اس وقت موجود ہوتا (اُن کی مدد کرنے کیلئے) جب کہ (میرا) قبیلہ ،حق کو ، نامراد کرنے کے لئے مصروف عمل ہوگا‘‘-

ابو نعیم الاصبھانی، ابن کثیر اور امام سیوطی لکھتے ہیں کہ:

’’وكان بين موت كعب بن لؤي ومبعث النبي {صلى الله عليه وسلم} خمسمائة سنة وستون سنة‘‘

’’کعب کی موت اور رسول اللہ (ﷺ) کی بعثت کے درمیان پانچ سو ساٹھ (۵۶۰) سال کا عرصہ ہے‘‘-

(حوالہ جات:البدایہ و النھایہ، جلد:2،ص:244،دلائل النبوۃ، الفضل الخامس رقم الحدیث:47، خصائص الکبریٰ، باب اعلام اللہ بہ موسیٰ علیہ السلام سبل الھدی والرشاد فی سیرۃ خیر العباد الباب الرابع:نسبہ الشریف)

حضور نبی کریم (ﷺ) کی تشریف آوری سے پانچ سو ساٹھ(۵۶۰) سال قبل اپنی قوم کو حضور علیہ الصلوۃ و السلام کی شان اور آپ کے مقام سے آگاہ بھی کر رہے ہیں اور اپنے عشق و محبت کا اظہاربھی  کر رہے ہیں - اسی طرح حضرت سلمان فارسی (﷜) بھی ایک طویل مدت تک راہبوں کی صحبت اور خدمت کے صلہ میں انعام پاتے ہیں کہ ان کو  نبی آخر الزمان(ﷺ) کے محل ظہور اور دارِ ہجرت کا پتہ بتا کر ادھر روانہ کر دیا جاتا-

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند:

 فقط ایک حضرت سلمان فارسی (﷜)تلاش میں نہیں تھے بلکہ کائنات کا ذرہ ذرہ منتظر تھا- بالآخر انتظار کٹ گیا، فراق کا عرصہ ختم ہوا اور نبوت رسالت آفتاب عالمتاب کے ضیابار ہونے کا وقت قریب آپہنچا-مطلع کائنات پر مہر رسالت ضیابار ہونے والا ہے

ابو الاثر حفیظ جالندھری’’شاہنامۂ اسلام‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:

وہ دن آیا کہ پورے ہوگئے تورات کے وعدے
مرادیں بھر کے دامن میں مناجاتِ زبور آئی
نظر آئی بالاخر معنیٔ انجیل کی صورت
ازل کے روز جس کی دھوم  تھی  وہ آج کی شب تھی
اُدھر سطحِ فلک پر چاند تارے رقص کرتے تھے
گلے پھولوں سے ملتے جارہے تھے پھول گلشن میں
تبسم ہی تبسم تھے نظارے لالہ زاروں کے
خدا کی شانِ رحمت کے فرشتے صف بصف اترے
ندا آئی دریچے کھول دو ایوانِ قدرت کے

 

خدا نے آج ایفاء کر دیے ہر بات کے وعدے
امیدوں کی سحر پڑھتی ہوئی آیات نور آئی
ودیعت ہوگئی انسان کی تکمیل کی صورت
جو قسمت کے لئے مقسوم تھی وہ آج کی شب تھی
اِدھرروح  زمین کے نقش بنتے تھے سنورتے تھے
گلے مل مل کے کھلتے جارہے تھے پھول گلشن میں
ترنم ہی ترنم تھے کنارے جوئباروں کے
پرے باندھے ہوئے سب دین و دنیا کے شرف اترے نظارے خود کرے گی آج قدرت شانِ قدرت کے[12]

آخرکار’’دستِ قدرت کا شاہکار غنچہ چٹکا، جن کی نکہت وشادابی اور رنگ روپ دیکھ کر چشم نظارہ بیں ورطۂ حیرت میں ڈوب گئی- وہ گل ِر عنا کھلا جس کی بوئے دلآویز سے چمنستانِ دہر کا ہر طائر مست و بے خود ہوگیا- وہ نسیمِ سحر چلی، جس کے ہر جھونکے میں گلزارِ ازل کی مہک رچی تھی- وہ صبا محوِ خرام ہوئی جس کی اٹکھیلیوں سے باغِ ابد کی ہر کلی مسکرا پڑی اور ہر شگوفہ کھل اٹھا-وہ بادِ بہاری چلی، جس کی راحت بخش تھپکیوں سے بے قرارانِ عالم کو قرار آگیا-وہ کرم کی گھٹا اٹھی، جس سے ہر کشتِ ویراں سیراب و شاداب ہوگئی-وہ شبنم پڑی جس کا نم گلستانِ حیات کے پتے پتے کے لئے آبِ حیات ثابت ہوا-

’’یہ ربیع الاول کی بارھویں تاریخ اور سوموار کا دن تھا اور صبح صادق کی ضیاء بار سہانی گھڑی تھی رات کی بھیانک سیاہی چھٹ رہی تھی اور دن کا اجلا پھیلنے لگا تھا‘‘[13] کہ وہ سراجِ منیر روشن ہوا، جس کی ضیاء پاشی کے سامنے بزمِ امکان کی ہر روشنی ماند پڑ گئی- ہر چراغ بے نورہوگیا-وہ شمع ابد فروزاں ہوئی، جس پر نثار ہونے والا ہر پروانہ امینِ حیاتِ دوام ہوگیا- وہ نجم در خشاں طلوع ہوا، جسے دیکھ کر دشتِ ضلالت میں گم گشتہ کائنات کو راہِ منزل کا سراغ مل گیا- وہ ماہِ تمام ضوفشاں ہوا، جس کی چاندنی نے زیست کے تپتے صحرا کے اک اک مسافر کو ٹھنڈک ،راحت اور سکون کی لذتوں سے سرشار کردیا- وہ بجلی کا کوندا لپکا، جس کی لہر لہر روشنی، طوفانِ نیمِ شب میں گھرےکاروانوں کی رہنما بن گئی- وہ سپیدۂ سحر نمودار ہوا جس کی نمود دکھی انسانیت کو رنج و غم اور درد و الم کی طویل رات کٹ جانے کی نوید سناگئی-وہ صبح سیمیں ہویدا ہوئی، جس کے اجالے سے شبستانِ ہستی کی ہولناک تاریکیاں سیماب پا ہوگئیں- وہ مہر تاباں نور بار ہوا جس کی رو پہلی کرنوں سے کائنات کا ذرہ ذرہ روشنی  میں نہاگیا(’’وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّھَا‘‘)اور زمین اپنے رب کے نور سے جگمگا اُٹھی-یعنی سید المرسلین، خاتم النبین، شفیع المذنبین، انیس الغریبین، رحمۃ اللعالمین، راحۃ العاشقین، مراد المشتاقین، شمس العارفین، سراج السالکین، مصباح المقربین، محب الفقراء و الغرباء والیتٰماء و المساکین حضرت محمد مصطفےٰ(ﷺ) بصد عزت و احترام ہزار شوکت و احتشام بوقت طلوع فجر رونق افروز بزم ِعالم ہوگئے ‘‘-[14]

حفیظ جالندھری حضور نبی کریم (ﷺ) کی ولادت باسعادت کی خوشی میں مبارک باد دیتے ہوئے شاہنامہ اسلام میں لکھتے ہیں کہ:

مبارک باد بیواؤں کو حسرت زاد نگاہوں کو
ضعیفوں، بیکسوں، آفت نصیبوں کو مبارک ہو
مبارک ٹھوکریں کھا کھاکے پیہم گرنے والوں کو
مبارک ہو کے دورِ راحت و آرام آپہنچا
مبارک ہو کہ ختم المرسلین تشریف لے آئے

 

اثر بخشا گیا نالوں کو، فریادوں کو، آہوؤں کو
یتیموں کو، غلاموں کو، غریبوں کو مبارک ہو
مبارک دشتِ غربت میں بھٹکنے پھرنے والوں کو
نجاتِ دائمی کی شکل میں اسلام آپہنچا
جناب رحمۃ للعالمین تشریف لے آئے[15]

ولادت باسعادت کا سماں:

حضرت عثمان بن العاص (﷜) کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ(﷞) اس ’’سہانی گھڑی‘‘ کا حال بیان کرتی ہیں کہ مَیں شبِ ولادت سیدہ آمنہ (﷞) کے پاس تھی- فرماتی ہیں کہ:’’فما شیئ انظرہ فی البیت الانور‘‘

’’تو میں نے گھر میں جس طرف بھی نظر دوڑائی مجھے  نور ہی نور نظر آیا‘‘-[16]

امام ابو بکر احمد بن حسین البیہقی (﷫)’’شعب الایمان[17] ‘‘ فصل فی شرف اصلہ و طہارۃ مولدہ (ﷺ) میں ، امام احمد بن حنبل (﷜) ’’مسند احمد[18] ‘‘ میں ،  امام طبرانی المعجم الکبیر [19]میں اور امام جلال الدین سیوطی خصائص الکبریٰ [20]میں  آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی آمنہؓ کے حوالہ سے لکھتے ہیں :

’’و ان ام رسول اللہ (ﷺ) رات حین و ضعتہ نوراً أضاءت لہ قصور الشام‘‘

’’اور بیشک جب رسول اللہ (ﷺ) کی ولادت ہوئی تو آپ کی والدہ محترمہ نے ایک ایسا نور دیکھا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے‘‘-

امام حاکم ’’المستدرک ‘‘ میں نقل کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم (ﷺ) کی بارگاہ مبارک میں آپکے چچا  حضرت عباس (﷜)  عرض کرتے ہیں کہ:

’’و انت لما ولدت أشرقت الارض و ضاءت بنورک الأفق فنحن فی ذلک الضیاء و فی النور وسبل الرشاد نخترق‘‘[21]

’’ جب آپ پیدا ہوئے تو زمین روشن ہوگئی اور آپ کے  نور مبارک سے آفاق منور ہوگئے پس ہم اس ضیاء اور نور میں ہدایت کے راستوں کو قطع کر رہے ہیں‘‘-

ولادت باسعادت کی تاریخ:

حضور نبی کریم (ﷺ) کی ولادت باسعادت کی تاریخ کے حوالے سے اہل علم نے مختلف اقوال نقل کیے ہیں جن میں اکثر غیرمعروف ہیں- محققین کے نزدیک جو سب سے معروف قول ہے وہ بارہ(۱۲) ربیع الاول کا ہے اور جمہور کے نزدیک بھی یہی قول مشہور ہے اسی حوالے سے محققین کی کتب کے چند حوالے درج کیے دیتے ہیں- حافظ ابن کثیر الدمشقی (﷫)(المتوفی:744ھ)’’البدایۃ والنھایۃ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:

’’عن جابر و ابن عباس قالا: ولد رسو ل اللہ )ﷺ( یوم الاثنین عام الفیل الاثنین الثانی عشر من ربیع الاول‘‘

’’حضرت جابر اور ابن عباس (﷠)دونوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ) ﷺ(کی ولادت  سوموار کے دن ربیع الاول کی بارھویں تاریخ  کو عام الفیل میں ہوئی ‘‘-

اِس قول کی تائید اُمت میں اجماع کے درجے کو پہنچی ہوئی ہے -  متقدمین، متوسطین اور متاخرین جملہ اکابرِ اُمت نے بارہ ربیع الاول کو ولادتِ مصطفےٰ ﷺ کی تصدیق و تائید کی ہے - امام ابنِ کثیر کی طرح درج بالا قول کثیر آئمہ دین نے نقل فرمایا ہے - سند کیلئے چند ایک حوالہ جات ملاحظہ ہوں :-

(۱)امام بیہقی ، دلائل النبوۃ [22] (۲) امام محمد بن جریر الطبری ، تاریخ الامم والملوک[23]  (۳) امام ابی عبد اللہ محمد بن احمد بن ابی بکر القرطبی ، تفسیر الجامع الاحکام القرآن[24] (۴) علامہ ابن جوزی’’الوفاء بتعریف فضائل المصطفے (۵) علامہ ابن خلدون ، المقدمہ

علامہ ابن کثیر جو علوم تفسیر، حدیث اور تاریخ میں اپنی نظیر آپ تھے وہ ’’السیرۃ النبویۃ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’و رواہ ابن ابی شیبۃ فی مصنفہ عن عفان، عن سعید بن میناء عن جابر و ابن عباس انھما قالا: ولد رسو ل اللہ )ﷺ(عام الفیل یوم الاثنین ’’الثانی عشر من شھر ربیع الاول، ’’و ھذا ھو المشھور عند الجمھور و اللہ اعلم‘‘[25]

’’حضرت جابر اور ابن عباس (﷠) سے مروی ہےکہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ) ﷺ(سوموار کے دن بارہ ربیع الاول کو پیدا ہوئے، اور جمہور اہل اسلام کے نزدیک یہی تاریخ بارہ ربیع الاول مشہور ہے- واللہ اعلم‘‘

شارح بخاری امام قُسطلانی (﷫)(المتوفی:923ھ) ’’المواہب اللدنیہ‘‘میں مختلف اقوال ذکر کرنے کے ساتھ لکھتے ہیں کہ:

’’ ولادت نبوی(ﷺ) بارہ ربیع الاول شریف کو ہوئی‘‘[26]

ان تمام محققین کے ان تمام حوالہ جات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو گئی کہ حضور (ﷺ) کی ولادت باسعادت بارہ(۱۲) ربیع الاول کو ہے- اس لئے پوری اُمت مسلمہ نےاپنے عمل سے بھی ثابت کردیا ہے کہ آقا علیہ الصلوۃ و السلام کی ولادت باسعادت کا دن بارہ(۱۲) ربیع الاول ہے-

اُمتِ اِسلامیہ بارہ ربیع الاول پہ متفق:

پوری امت مسلمہ اس دن میلاد النبی(ﷺ) کی  خوشی مناتی ہے، جلوس بھی نکالتی ہے اور اِسلامی دُنیا کے کثیر ممالک میں سرکاری طور پر تعطیلِ عام ہوتی اور اس دن کو منایا جاتاہے جس میں ہم مثال کے طور پر چند ممالک کا ذکر کرتے ہیں:

افریقی ممالک:1-الجیریا، 2-بینن،3-برکینا فاسو،4-کیمرون،5-کوموروس،6-آئیوری کوسٹ،7-ٹوگو،8-جبوتی،9-مصر،10-اریٹیریا،11-ایتھوپیا،12- گیمبیا،13-گنی،14-لیبیا،15-مالی،16-موریطانیہ،17-مراکش،18-نائیجر،19- نائیجیریا،20-سینیگال،21-سیرالیون،22-صومالیہ،23-سوڈان،24-تنزانیہ،25- تیونس-

مشرق وسطی:26-بحرین،27-ایران،28-عراق،29-اردن،30-کویت،31-لبنان،32-عمان،33-فلسطینی قومی اتھارٹی،34-شام،35-متحدہ عرب امارات،36-یمن

ایشیا:37-افغانستان،38-بنگلہ دیش،39-،برونائی،40-بھارت،41-انڈونیشیا،42-پاکستان،43-ملائیشیا،44-سری لنکا،45-ازبکستان

دیگر:46-فیجی،47، گیانا

اِن میں سے کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جو غیرمسلم ہیں جیسے بھارت،سری لنکا،فجی،تنزانیہ وغیرہ- کثیر ممالک کا بارہ (۱۲) ربیع الاول کو سرکاری طور پر منانا یہ بھی ایک سند کی حیثیت رکھتا ہے-

عید میلادالنبی(ﷺ) :

خالقِ کائنات کے نزدیک اس کی پوری تخلیق میں سے کسی لحاظ سے بھی تاجدارِ کا ئنات (ﷺ) سے بڑھ کر کوئی شئے نہیں ہے جو کچھ ہے یہ سب آپ(ﷺ) کے طفیل ہے - جو کچھ ہوا، جو کچھ ہےاور جو کچھ ہوگا یہ سب کچھ آپ(ﷺ) کی خاطر ہےکیونکہ وہ تو خودفرماتا ہے:

’’یا محمد (ﷺ) کل احد یطلب رضائی و انا اطلب رضاک‘‘

’’اے محمد(ﷺ)! ہرکوئی میری رضا چاہتاہے اور مَیں آپ کی رضا چاہتا ہوں‘‘-

اور قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

’’وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ‘‘

’’اورہم نے آپ کی خاطر آپ(ﷺ) کے ذکر کو بلند کردیا‘‘-

’’ورفعنا‘‘ اور ہم نے بلند کیا- ’’ذکرک‘‘ آپ(ﷺ) کے ذکر کو- کس لیے؟’’ لک‘‘ (اےمحبوب مکرم(ﷺ!) آپ کی خاطر-برسوں سے جس محبوب (ﷺ) کی آمد اور تشریف آوری کی منادی انبیاء کرام اور رسل عظام (﷩) کرتے آرہے  ہوں اور جس کی گواہی قرآن ان الفاظ کے ساتھ دے رہا ہو:

’’وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ‘‘[27]

’’( عیسیٰ ابن مریم نے کہا! ) اور اس (عظیم الشان) رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا اس کا نام احمد ہوگا‘‘-

 جن کی بارگاہ میں انبیاء (﷩) کی نیازکا یہ عالم ہو کہ ہم تو اس رسول (ﷺ) کے تسمے کھولنے  کے بھی قابل نہیں ہیں- اور جو نبی ہونے کے باوجود آپ کے امتی بننے کے لیے دعائیں مانگ رہے ہوں[28]- جب ایسا والیل کی زلفوں اورو الضحیٰ کے مکھڑے والا محبوب تشریف لے آئے جس کا صدیوں سے کائنات کو انتظار تھا تو ایمان سے کہیے کیا اس دن سے بڑی بڑھ کر بھی کوئی عید ہے؟ اگر سابقہ امم کے لئے روٹی ملنے کا دن عید بن سکتا ہے؟ جس پر قرآن میں اِن الفاظ کے ساتھ گواہی موجود ہے:

قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰہُمَّ رَبَّنَـآ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآئِ تَکُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰیَۃً مِّنْکَ[29]

’’عیسٰی ابن مریم (﷥) نے عرض کیا: اے اﷲ! اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے خوانِ (نعمت) نازل فرما دے کہ (اس کے اترنے کا دن) ہمارے لیے عید ہوجائے ہمار ے اگلوں کے لیے (بھی) اور ہمارے پچھلوں کے لیے (بھی) اور(وہ خوان) تیری طرف سے نشانی ہو‘‘-

تو کیا حضور نبی کریم(ﷺ) کی ولادت با سعادت کا دن عید سے کم ہے ؟ قرآن مجید نے تو صراحت کے ساتھ بیان کر دیا ہےکہ:

’’قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْاط ھُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ‘‘

’’فرما دیجیے! (یہ سب کچھ) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے باعث ہے (جو بعثتِ محمدی(ﷺ) کے ذریعے تم پر ہوا ہے) پس مسلمانوں کو چاہئے کہ اس پر خوشیاں منائیں، یہ اس (سارے مال و دولت) سے کہیں بہتر ہے جسے وہ جمع کرتے ہیں‘‘-

اِس آیت کریمہ کے تحت مفسرین کرام نے’’فضل اللہ‘‘اور ’’رحمۃ‘‘ کی تفسیر میں مختلف اقوال  نقل فرمائے ہیں- مفتی بغداد سید محمود آلوسی (﷫) ’’روح المعانی ‘‘ میں حضرت عبد اللہ ابن عباس (﷢) سے روایت بیان کرتے ہوئے فرماتےہیں کہ:

’’وبرحمۃ‘‘ میں  رحمت سے مراد حضور نبی کریم(ﷺ) کی ذات پاک ہے‘‘-[30]

مزید فرماتے ہیں کہ:

’’و اخرج الخطیب و ابن عساکر عنہ تفسیر الفضل  بالنبی(ﷺ)‘‘[31]

’’خطیب اور ابن عساکر نے حضرت ابن عباس(﷢) سے روایت یا ہے کہ ’’قل بضل اللہ‘‘ میں فضل اللہ سے مراد نبی کریم (ﷺ) ہیں‘‘

جیسا کہ اللہ پاک نے فرمایاکہ! (یہ سب کچھ) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے باعث ہے (جو بعثتِ محمدی(ﷺ) کے ذریعے تم پر ہوا ہے) پس مسلمانوں کو چاہئے کہ اس پر خوشیاں منائیں، یہ اس (سارے مال و دولت) سے کہیں بہتر ہے جسے وہ جمع کرتے ہیں- اس لئے حضور نبی کریم (ﷺ) کی ولادت باسعادت کی خوشی یعنی میلاد منانا قرآن، اسلام اور شریعت کے عین مطابق ہے -

عید میلاد النبی (ﷺ) کے حوالہ سے پیغام:

جشن عید میلاد النبی(ﷺ) کے حوالے سے جو بات کرنا مناسب، ضروری اوروقت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ ہر آنے والے شخص کی تین (۳) حیثیتیں ہوا کرتی ہیں:

v      پہلی حیثیت اس حوالہ سے کہ آنے والا کہاں سے آرہا ہے؟ کس کے پاس آرہا ہے؟ کسی نے بھیجا ہے یا خود آیا ہے؟

v      دوسری حیثیت اس حوالہ سے کہ آنے والا کس مقام و مرتبہ کا مالک ہے ؟ کس عہدہ پر فائز ہے؟ کیا حیثیت رکھتا ہے؟

v      تیسری حیثیت اس حوالہ سے کہ آنے والا کیوں آرہا ہے؟ آنے والے کے اغراض ومقاصد کیا ہیں؟ آنے والے کا مشن اور پیغام کیا ہے؟

اگر ہم پہلی حیثیت کے حوالے سے بات کرنا چاہیں تو اس مرحلے کو قرآ ن یوں بیان کرتا ہے:

’’قد جاء‘‘: تحقیق آیا (آنے والا)کس کے پاس؟ پھر قرآن کہتا ہے ’’کم‘‘ تمہارے پاس - کہاں سے آیا؟ پھر قرآن کہتا ہے کہ ’’من اللہ‘‘ اللہ تعالیٰ کے پاس سے- اس حصےکو اگر ایک جملہ میں بیان کرنا چاہیں تو وہ جملہ یہ ہے

’’آمد رسول اللہ (ﷺ) جس میں آپ (ﷺ) کی ولادت با سعادت کامکمل تذکرہ ہے‘‘

اگر ہم دوسری حیثیت کے حوالے سے بات کرنا چاہیں تو قرآن یوں ناطق ہے :

وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰـکِنَّ اللہَ رَمٰی[32]

اور (اے حبیب محتشم!) جب آپ نے (ان پر سنگریزے) مارے تھے (وہ) آپ نے نہیں مارے تھے بلکہ (وہ تو) اللہ نے مارے تھے ‘‘-

لَآ اُقْسِمُ بِہٰذَا الْبَلَدِo وَ اَنْتَ حِلٌّم بِہٰذَا الْبَلَدِ[33]o

      میں اس شہر (مکہ) کی قَسم کھاتا ہوںo(اے حبیبِ مکرّم!) اس لیے کہ آپ اس شہر میں تشریف فرما ہیںo

وَالضُّحٰیo وَالَّیْلِ اِذَا سَجٰیo[34]

(اے حبیبِ مکرّم!) قَسم ہے چاشت (کی طرح آپ کے چہرۂ انور) کی (جس کی تابانی نے تاریک روحوں کو روشن کر دیاo) (اے حبیبِ مکرّم!) قَسم ہے سیاہ رات کی (طرح آپ کی زلفِ عنبریں کی) جب وہ (آپ کے رُخِ زیبا یا شانوں پر) چھا جائےo)

’’وَوَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَo وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ‘‘[35]

’’اور ہم نے آپ کا (غمِ امت کا وہ) بار آپ سے اتار دیااور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا ذکر (اپنے ذکر کے ساتھ ملا کر دنیا و آخرت میں ہر جگہ) بلند فرما دیاo

’’اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ‘‘[36]’’بے شک آپ کا دشمن ہی بے نسل اور بے نام و نشاں ہوگا‘‘-

’’قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہُ ‘‘o[37]

’’(اے حبیب!) آپ فرما دیں: اگر تم اﷲ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو تب اﷲ تمہیں (اپنا) محبوب بنا لے گا ‘‘-

’’لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ‘‘[38]’’تم  ضرور بالضرور اُن پہ ایمان لاؤ گے اور  ضرور بہ ضرور ان کی مدد کرو گے‘‘

’’لِّتُؤْمِنُوْا بِااللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُعَزِّرُوْہُ وَتُوَقِّرُوْہُ ط وَتُسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا‘‘[39]o

’’تاکہ (اے لوگو!) تم اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لائو اور ان (کے دین) کی مدد کرو اور ان کی بے حد تعظیم و تکریم کرو، اور (ساتھ) اﷲ کی صبح و شام تسبیح کرو‘‘-

’’اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللہَ‘‘[40]

’’(اے حبیب!) بے شک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اﷲ ہی سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر (آپ کے ہاتھ کی صورت میں) اﷲ کا ہاتھ ہے‘‘-

’’یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاتَّقُوا اللہَطاِنَّ اللہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ‘‘[41]

’’اے ایمان والو! (کسی بھی معاملے میں) اﷲ اور اس کے رسول (ﷺ) سے آگے نہ بڑھا کرو اور اﷲ سے ڈرتے رہو (کہ کہیں رسول(ﷺ) کی بے ادبی نہ ہوجائے)، بے شک اﷲ (سب کچھ) سننے والا خوب جاننے والا ہے‘‘-

’’یٰـٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ‘‘[42]

’’اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبئ مکرّم (ﷺ) کی آواز سے بلند مت کیا کرو اور اُن کے ساتھ اِس طرح بلند آواز سے بات (بھی) نہ کیا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے بلند آواز کے ساتھ کرتے ہو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے سارے اعمال ہی (ایمان سمیت) غارت ہوجائیں اور تمہیں (ایمان اور اعمال کے برباد ہوجانے کا) شعور تک بھی نہ ہو‘‘-

وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ جَآئُ ْوکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًاo[43]

’’اوراگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب(ﷺ) تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول(ﷺ) ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والامہربان پائیں‘‘-

 فَـلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ o[44]

’’پس (اے حبیب!) آپ کے رب کی قسم یہ لوگ مسلمان نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ وہ اپنے درمیان واقع ہونے والے ہر اختلاف میں آپ کو حاکم نہ بنالیں‘‘-

ان تمام آیاتِ مبارکہ میں مقام رسول (ﷺ) اور اس کی مختلف جہتوں کو بیان کیا گیا ہے-

امام بخاری’’صحیح بخاری: کتاب التفسیر‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:حضرت ابو سعید بن معلی (﷜) کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ وہ مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے تو دورانِ نماز انہیں رسول اللہ (ﷺ) نے بلایا-حاضر نہیں ہوئے  جب نماز سےفارغ ہوئے توعرض کیا کہ حضور مَیں نماز پڑھ رہاتھا یہ سن کرآپ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’الم یقل اللہ استجیبوا اللہ و للرسول اذا دعا کم‘‘

’’کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ جب تمہیں اللہ اور اس کا رسول بلائیں تو فوراً حاضر ہو جاؤ‘‘-

اِس طرح کی اور بھی متعدد احادیث مبارکہ محدثین کرام نے روایت فرمائی ہیں جن سے آقا کریم (ﷺ) کے مقام و مرتبہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہےاور مقام اس لیے بیان کیا جاتا ہے کہ جب تک دل و دماغ میں مقام کی معرفت پیدا نہیں ہوگی اس وقت تک وہ اس کے پیغام پر توجہ نہیں دیں گے- اس کے حکم کو اتنی زیادہ اہمیت نہیں دیں گے اور مقام سے آگاہی پہچان کے بغیر ممکن نہیں - اس لیے ہم پر لازم آتا ہے کہ ہم خود بھی اور اپنے اہل و عیال کو بھی مقام مصطفےٰ(ﷺ) سے روشناس کروائیں کیونکہ مقام کی معرفت کے بغیر ادب ممکن نہیں ہے-

اگر ہم تیسری حیثیت کا جائزہ لینا چاہیں کہ تشریف لے آنے والے کاپیغام کیا ہے؟ تو اس حوالے سے قرآن یوں بیان کرتا ہے کہ:

قُلْ ہٰذِہٖ سَبِیْلِیْٓ اَدْعُوْٓا اِلَی اللہِ قف عَلٰی بَصِیْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ ط وَسُبْحٰنَ اللہِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَo[45]

(اے حبیبِ مکرم!) فرما دیجیے!  یہی میری راہ ہے-مَیں اﷲ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر (قائم) ہوں، مَیں (بھی) اور وہ شخص بھی جس نے میری اتباع کی، اور اﷲ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوںo

ان آیات مبارکہ میں پیغام رسول (ﷺ) کو بیان کیا گیا ہے - علامہ  محمود آلوسی البغدادی (﷫) ’’تفسیر روح المعانی‘‘ میں پیغام رسول (ﷺ) کے حوالے سے ’’ادعو الی اللہ‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ای ادعوالناس الی معرفتہ سبحانہ بصفات کمالہ و نعوت جلالہ ‘‘[46]

’’یعنی   تم لوگوں کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی معرفت کی طرف اس کی تمام صفاتِ کمال اور صفاتِ جلال کے ساتھ بلاؤ‘‘-

تو گویا کہ یہ تینوں  ابوا ب ’’آمد رسول اللہ (ﷺ) ، مقام رسول اللہ (ﷺ) اور پیغام رسول اللہ (ﷺ) ‘‘   آپ (ﷺ) کی پوری حیات مبارکہ کا احاطہ کرتے ہیں اور انہی تین ابواب میں مکمل دین سمودیا گیا ہے- تو امت مسلمہ پر لازم ہے کہ انہی تینوں  ابواب کو خود بھی اور اپنے اہل و عیال کو  بھی حفظ کروائیں اور ان پر پہرہ دیں- اگر کسی نےپہلے باب کو اپنایا  یعنی جشن آمد رسول (ﷺ) کا پرچار کیا، جھنڈیوں سے اپنے مکانوں اور بازاروں کوسجایا، خوشیاں بھی منائیں، جلوس بھی نکالے، اپنے عشق و محبت کا اظہار بھی کیا اور وہ سب کچھ کیا جو ایک غلام سے اپنے آقا ومولیٰ کے عشق و محبت میں توقع کی جاسکتی ہے اور زندگی کا سارا زور اسی پہلے باب یعنی ولادت با سعادت مصطفےٰ (ﷺ) پر لگادیا اور باقی دو ابواب یعنی مقام ِ رسول (ﷺ) اور پیغامِ (ﷺ) کو بھلا دیا، خود بھی بھول گئے اورنسل بھی بھول گئیں - تو اس حوالے سے آپ خود ہی بہتر فیصلہ دے سکیں گے کہ میرا حضور پاک (ﷺ) کی ذات پاک کے ساتھ کتنے فیصد تعلق ہے؟

ایک مثال کی مدد سے اِس کو مزید یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک آدمی کا باپ حج پر گیا ہوا تھا- باپ کی واپسی پر اولاد اور اہل خانہ نے گھر کو سجایا، سفیدی کروائی، راستہ صاف کیا، چونا بچھا دیا جھنڈیاں لگائیں اور ان کو رسیو کرنے ائیر پورٹ پر جا پہنچے-بڑے پروٹوکول کے ساتھ باپ کو لے کر گھر پہنچے - گھر کاماحول ، صفائی، چونا، جھنڈیاں دیکھ کر باپ کا دل بڑا خوش ہوا- بچوں کو بلایا ،پیار دیا، دعائیں دیں اورکچھ نصیحتیں کیں سنو! اس راستے پر نہیں جانا ، فلاں جگہ پر نہیں جانا، فلاں کے ساتھ نہیں بیٹھنا، فلاں چیز نہیں کھانی اور فلاں چیز نہیں پینی-اولاد نے سنی ان سنی کردی- باپ کے منع کرنے کے باوجود وہ سارے کام کرتے رہے- کیا باپ خوش ہوگا؟ ایمان سے کہیے بالکل بعنیہ اس طرح اگر ہم حضور (ﷺ) کی آمد مبارک پر جھنڈیاں تو لگائیں، جلوس بھی نکالیں، نعرے بھی لگائیں لیکن جو آپ (ﷺ) دین اور پیغام لے کر آئے ہیں اور جس دین کی خاطر اہل بیت اطہار کا گھرانہ کربلا میں قربان ہوا اگر اس دین کو ہم اپنی زندگیوں اور اپنے گھروں میں جگہ نہ دیں ، فقط جلوس اور نعروں پر ہی اکتفاء کرلیں،نہ جھوٹ سے رکیں، نہ سود سے رکیں، نہ شراب اور جوئے سے رکیں، نہ حلال و حرام میں تمیز کریں، نہ ملاوٹ کرنے سے رکیں، نہ ناپ تول میں کمی کرنے سے رکیں اور نہ عہد اور حقوق کی پاسداری کریں تو لفظی دعویٰ  محبت کی کیا حیثیت ہو گی ؟

آپ (ﷺ) نے تو یہاں تک فرما دیاکہ:

’’لا یومن احد کم حتی یکون ھواہ تبعالما جبٔت بہ‘‘[47]

’’تم میں سے کوئی آدمی مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ آدمی اپنی خواہشات کو میرے لائے ہوئے  دین کے تابع نہ کردے‘‘-

یہ آپ نے خود سوچتے رہنا ہے کہ وہ کیسا محب اور عاشق ہے کہ جو محبوب کے آنے پر خوش تو ہو لیکن جو بات محبوب فرمائے اس پر کان نہ دھرے، اس کی بات پر عمل نہ کرےاور حکم کو بجا نہ لائے تو کیا وہ اپنے دعویِ محبت اور دعویِ عشق میں کامل ہے؟؟؟



[1](العمران:81)

[2](العمران:82)

[3](جامع البيان في تأويل القرآن ،جلد : 3 ، ص: 330  )

[4](الصف:6)

[5](شاہنامہ اسلام حصہ:1، ص:88)

[6](ضیاءالنبی،ص:508)

[7](ضیاءالنبی،ص:509)

[8](انجیل مرقس ، ص:34)

[9](البقرہ : 89)

[10](جامع البيان فی تأويل القرآن ، جلد : 1 ، ص: 455 ) 

[11](روح  المعانی ، جلدا، ص:505)

[12](شاہنامہ اسلام، حصہ: 1ص:88-89 )

[13](ضیاء النبی، جلد:2، ص:27)

[14](ماخوذ از سید الوریٰ،ص:84 تا 87)

[15](شاہنامہ اسلام، ص89-90)

[16](البدایۃ و النھایۃ جلد:2،ص:324)

[17](شعب الایمان، جلد:2، ص:134 )

[18](مسند امام احمد بن حنبل،جلد،7، ص :279 )

[19](المعجم الکبیر،جلد:10،ص:263)

[20](خصائص الکبریٰ، ج:1،ص:110)

[21](المستدرک علی الصحیحین، جلد:4، ص :43)

[22](دلائل النبوۃ للبیہقی، باب شھر الذی ولد فیہ رسول (ﷺ)

[23](تاریخ طبری، باب ذکر مولد رسول اللہ ﷺ)

[24](الجامع الاحکام القرآن، جلد:22، ص:486)

[25](السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، جلد:1، ص :199 )

[26](المواہب اللدنیہ، جلد:1، ص:88 )

[27](الصف:6)

[28](مدارج النبوۃ، ص:139)

[29](المائدہ:114)

[30](روح المعانی، جلد:6،ص:205)

[31](درمنثور،جلد:3، ص:935)

[32](الانفال:17)

[33](البلد:1-2)

[34](الضحیٰ:1-2)

[35] (الم نشرح:4،2)

[36](الکوثر:3)

[37] (العمران:31)

[38](العران:81)

[39](الفتح:9)

[40](الفتح:10)

[41](الحجرات:1)

[42](الحجرات:2)

[43](النساء:64)

[44](النساء:65)

[45](الیوسف:108)

[46](تفسیر روح المعانی، جلد:7، ص:96)

[47](شرح السنہ للنبوی: باب رد البدع و الاھواء)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر