حضرت امام مُسلم رحمتہ اللہ علیہ

حضرت امام مُسلم رحمتہ اللہ علیہ

حضرت امام مُسلم رحمتہ اللہ علیہ

مصنف: مفتی مہرمحمدساجداقبال مئی 2016

اللہ تعالیٰ نے دین میں دو چیزوں کو آخری حجت کے طور پہ پیش فرمایا ، ایک اپنا حکم جو اپنی آخری کتاب میں فرمایا اور ایک اپنے محبوبِ پاک شہہِ لولاک ﴿﴾ کی ذاتِ گرامی کو - قرآن پاک میں اپنے حبیب ﴿﴾ کے احکامات کو اپنے حکم ، اطاعت کو اپنی اطاعت ، بیعت کو اپنی بیعت اور ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا - اِس لئے اہلِ ایمان کو اِس عقیدہ کی وضاحت خود خالقِ کائنات نے فرمائی کہ

 

    ﴿وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰیo اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی﴾

’’اور وہ ﴿اپنی﴾ خواہش سے کلام نہیں کرتے - اُن کا ارشاد سَراسَر وحی ہوتا ہے جو انہیں کی جاتی ہے     ‘‘ -

اِس لئے اجماع کے ساتھ آئمہ نے آقا کریم﴿﴾ کے فرمان کو بھی وحی کے درجہ پہ رکھّا ہے - یہ تو صرف بیان تھا قرآن کا کہ حضور ﴿﴾ کے فرمان کی شان کیا ہے ، اس کے بعد حکم بھی ہے کہ چونکہ آپ صرف وحی ہی فرماتے ہیں اور صرف مرضیٔ خداوندی ہی سے کلام فرماتے ہیں اس لئے آپ جو بھی حکم فرمائیں اسے قبول کرو جس چیز سے منع فرمائیں اس سے رُک جاؤ     -

 

 ﴿وَمَآ اٰتٰ کُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا﴾

’’اور جو کچھ رسول﴿﴾ تمہیں عطا فرمائیں سو اُسے لے لیا کرو اور جس سے تمہیں منع فرمائیں سو ﴿اُس سے﴾ رُک جایا کرو‘‘-

 

تو گویا اُمّت کے پاس آقا ﴿﴾ کے ظاہری پردہ فرما جانے کے بعد آپ کی سُنّت یوں تھی کہ جیسے براہِ راست آپ ﴿﴾ کی مجلسِ مبارک سے فیض پانا ہے کیونکہ آپ کا طریقِ عمل ایسے نفوسِ قدسیّہ کے اجساد و اذہان میں محفوظ کیا گیا تھا جن کا رُتبہ بعد از انبیا کرام علیہم السلام سب انسانوں سے افضل و اشرف ہے یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین - صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سُنتِ رسول ﴿﴾ کو محفوظ تر بنانے کیلئے حضور ﴿﴾ کی احادیث مبارکہ کو کمالِ احتیاط سے جمع کیا اور تابعین کو منتقل کیا ، بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے تو بلادِ اسلامیّہ کے مختلف حصوں میں علمِ حدیث کی باضابطہ و باقاعدہ درس گاہیں قائم کیں جہاں ہزاروں تابعین علمِ حدیث کے عالم بنے - خود صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ایک بڑی تعداد نے کتبِ احادیث مرتب کیں ، پھر سینکڑوں تابعین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین نے کتبِ احادیث مرتب کیں اور عہدِ تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین میں تو حدیث پاک کا علم و فن اپنے نقطۂ کمال و عروج کو جا پہنچا تھا ہزارہا کتبِ احادیث مرتب ہوئیں اور سلطنتِ اسلامیّہ کا گوشہ گوشہ انوارِ حدیث سے جگمگانے لگا - جس طرح کہ ہر علم اپنی ارتقائی منازل طے کرتا ہے علمِ حدیث میں بھی ہمیں ایسا ہی نظر آتا ہے کہ ابتداً اصوال و ضوابط مختلف تھے لیکن جیسے جیسے وقت گزرا اور نسلیں بیتتی گئیں اسی طرح اس علم کو محفوظ سے محفوظ تر رکھنے کیلئے قوانین اور اصول بھی بدلتے گئے - اُن علمائے علمِ حدیث نے طویل اسفار فرمائے اور حدیث پاک یعنی سُنّتِ رسول کو محفوظ کیا -

 

جن علمائ اور محدّثین عظام رحمۃاللہ علیہم نے رسالت مآب ﴿﴾ سے اپنا اور امت مسلمہ کا تعلق برقرار رکھنے کے لئے دن رات جدو جہد عظیم کی اور طلب حدیث کی خاطر مختلف ممالک کے اطراف و اکناف میں پھرے انہی نفوس قدسیہ میں سے ایک عظیم محدث جلیل ائمہ فی الحدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کانام نما یاںطور پر سا منے آتا ہے - اما م مسلم رحمۃ اللہ علیہ فنِ حدیث کے اکا بر ا ٓئمہ میںشما ر کیے جا تے ہیں ابوزرعہ را زی اور ابو حا تم رازی جیسے جلیل القدر محدثین نے آپ کی اما متِ حدیث پر شہا دت دی اور آپ کو محدثین کا پیشوا تسلیم کیا ہے-

 

اسم گرامی:

مسلم بن حجاج بن مسلم بن ورد بن کرشاد’’ القشیری ‘‘ - آپ خراسان ﴿ایران﴾کے شہر نیشاپورکی طرف منسوب تھے آپ کی ولادت با سعادت اور تعلیم تربیت نیشا پور شہر میں ہوئی اور چونکہ آپ کا مزار مبارک بھی نیشا پور میں ہے ان تمام نسبتوں کی بنا ئ پر آپ کو نیشا پوری بھی کہتے ہیں-آپ کی کنیت ابوالحسین اور لقب عساکر الدین ہے-

آپ رحمۃ اللہ علیہ کی ولا دت کے سا ل میں مؤ ر خین کا اختلاف ہے-ابن الصلاح ﴿صحیح مسلم، ص۲۱،دارالمعرفہ﴾ نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کا سا ل ولا د ت ۲۰۲ھ لکھا ہے امام ذہبی نے ﴿صحیح مسلم، امام ا لنو وی ، جلد: ۱ ، ص:۰۷ ، دارالمعرفہ بیروت﴾ ۴۰۲ ھ اور ابن اثیر نے ﴿علامہ محمد امین الھرری الشافعی،شرح صحیح مسلم ،ج ۱ص۷۲دارطوق النجاۃ﴾۶۰۲ھ بیان کیا ہے -

تعلیم و تربیّت:

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے والدین کی نگرانی میں بہترین تربیت حاصل کی جس کا اثر یہ ہوا کہ ابتدا ئی عمر سے لے کر آخری سانس تک آپ نے پرہیز گاری اور دینداری کی زندگی بسر کی اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی ذکاوت ،ذہانت ،اور قوت حافظہ عطائ کی تھی-بہت تھوڑے عرصہ میں آپ رحمۃ اللہ علیہ نے رسمی علوم و فنون کو حاصل کر لیا اورابتد ا ئی تعلیم سے فا ر غ ہو نے کے بعداٹھارہ سال کی عمر میںآپ رحمتہ اللہ علیہ نے علم حد یث سیکھنا شروع کیا- علم حدیث کی طلب میںآپ رحمۃ اللہ علیہ نے متعدد شہروں کا سفر اختیا ر کیا- نیشاپور کے اساتذہ سے اکتساب فیض کے بعد آپ رحمۃ اللہ علیہ حجاز،شام،عراق اور مصر گئے اور ان گنت بار بغداد کا سفر کیا آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ان تمام شہروں کے مشاہیر اساتذہ کے سامنے زانوائے تلمذتہ کیا -

شیوخ:آپ رحمۃاللہ علیہ کے اساتذہ میں ،

 ابراہیم بن خالد الیشکری ، ابراہیم بن دینار،ابراہیم بن زیاد ،ابراہیم بن موسی الرازی ،یحییٰ بن یحییٰ ، محمد بن یحییٰ ذہلی، اسحاق بن موسی الانصاری،احمدبن محمدبن حنبل﴿مسنداحمدبن حنبل﴾اسحاق بن رہوایہ، عبد اللہ بن مسلمہ قعنبی، احمد بن یونس یربوعی، اسماعیل بن ابو اویس ، سعید بن منصور ، ابی مصعب الزہری-وغیرہ﴿صحیح مسلم، ص۴۱،دارالمعرفہ﴾

تلامذہ:

امام نوَوِیْ رحمۃ اللہ علیہ شرح صحیح مسلم میں تحریر فرماتے ہیں کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ سے ان کے زمانہ کے اکابر محدثین اور حفاظ اعلام نے احادیث روایت کی ہیں جیسے

 ابو حاتم رازی ،موسیٰ بن ہارون ،احمد بن سلمہ ، ابو عیسی ترمذی ﴿جامع ترمذی﴾ ، ابوبکر بن خزیمہ ﴿صحیح ابن خزیمہ﴾ ، یحییٰ بن مساعد ، ابوعوانہ الاسفرائینی ﴿مسند ابی عوانہ ﴾ ، ابراہیم بن ابو طالب، ابو عمر و مستملی ، محمد بن عبد الوہاب، سراج، ابوحامد بن الشرق، ابو حامد الاعمشی، ابراہیم بن محمد بن سفیان الفقیہ، مکی بن عبدان، عبد الرحمن بن ابی حاتم - وغیرہ

امام مسلم کی شخصیت:

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے َسر اورریش کے بال سفید تھے اور وجہیہ شخصیت کے مالک تھے سَر پر عمامہ باندھتے تھے اور شملہ کندھوں کے درمیان لٹکایا کرتے تھے -﴿سیراعلام النبلائ،امام الذہبی جلد ۲۱ص۰۷۵ مؤسسۃ الرسالۃ﴾

شاہ عبدالعزیز محدثِ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ امام مسلم کے عجائبات میں سے یہ ہے کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے عمر بھر نہ کسی کی غیبت کی نہ کسی کو مارا اور نہ کسی کیساتھ بَدکلامی کی -

علمِ حدیث میں امام مسلم کا مقام :

 آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فن حدیث کو ا نتہا ئی لگن اور محنت سے حا صل کیا اور بہت جلد نیشا پورکے عظیم محدثین میںآپ کا شما ر ہو نے لگا -حضرت احمد بن سلمہ رحمتہ اللہ علیہ فر ما تے ہیں:-

﴿رأیت أبا زرعۃ و أبا حاتم یقدمان مسلم بن الحجاج فی معرفۃ الصحیح علی مشایخ عصر ھما﴾-

’’ میں نے ابو زرعہ اور ابو حاتم کو دیکھا کہ وہ لو گ معر فتِ حدیث میں مسلم بن حجاج کو ا پنے زما نہ کے مشا ئخ پر تر جیح دیتے تھے‘‘-

﴿تاریخ بغداد ،امام حافظ ابو بکر احمد بن علی الخطیب البغدادی جلد۳۱ ،ص۲۰۱ ، العلمیہ﴾

اما م ترمذی اور ابو بکر خزیمہ﴿رحمۃاللہ علیھما﴾ جیسے محدثین نے آپ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت حد یث کو با عث شر ف سمجھا اور محمد بن بشار رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں :-

﴿حفاظ الدنیا أربعۃ : أبو زرعۃ بالری و مسلم بنیسابور و عبد اللہ الدارمی بسمرقند و محمد بن اسماعیل ببخاری﴾-﴿شرح مسلم ،اما م ا لنو وی متو فی ۶۷۶ھ جلد ۱ ص۷۷ دارالمعرفہ ﴾

’’دنیا میںصرف چا ر ﴿عظیم ﴾ حفا ظ ہیں’’رَی‘‘ میں ابو زرعہ،’’ نیشاپور‘‘ میںمسلم ، ’’سمرقند‘‘ میں عبداللہ الدارمی ’’بخارا‘‘ میں محمد بن اسماعیل ‘‘-

 اما م مسلم رحمۃ اللہ علیہ کی خد اداد صلاحیتوں اور آپ کے کمالات نے اپنے اساتذہ کرام اور معاصرین کو اس قدر گرویدہ بنا لیا تھا کہ ابو عمرو مستملی رحمۃاللہ علیہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مر تبہ ہمیں اسحاق بن منصور احادیث لکھوا رہے تھے اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ ان احادیث میں سے انتخاب کر رہے تھے اچانک اسحا ق بن منصو ررحمۃاللہ علیہ نے امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کی طر ف دیکھا اور فرمایا کہ:-

’’ہم اس وقت تک کبھی خیر سے محرو م نہیں ہوں گے جب تک ہما رے درمیان مسلم بن حجاج موجود ہیں‘‘- ﴿سیراعلام النبلائ،امام الذہبی جلد ۲۱ ص۳۶۵ مؤسسۃ الرسالۃ﴾

آپ کے ایک اور استاد محمد بن عبد الوہاب رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا:-

﴿کا ن مسلم من علمائ الناس و أوعیۃ العلم ما علمتہ الا خیراً﴾ -﴿صحیح مسلم، امام ا لنو وی ، جلد: ۱ ، ص:۸۷ ، دارالمعرفہ بیروت ﴾

’’امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ لوگوں میں سے سب سے بڑے عالم اور علم کے محافظ تھے اور میںنے ان میںخیر کے سوا اور کچھ نہیں پایا ‘‘-

ابو بکر جا رودی رحمۃاللہ علیہ نے فر ما یا :-

﴿وکا ن من أوعیۃ العلم﴾-﴿صحیح مسلم ،ص۹۱، دارالمعرفہ﴾

 ’’امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ علم کے محا فظ تھے ‘‘

مسلم بن قا سم رحمۃاللہ علیہ نے فر ما یا :

﴿ثقۃ جلیل ا لقدر من الائمۃ﴾﴿شرح مسلم ، ا لنو وی جلد ۱ ص۸۷ دارالمعرفہ ﴾

’’ وہ قابلِ اعتماد اور جلیل ا لقدر امام تھے‘‘-

امام حافظ عبدالرحمن بن علی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے چند اشعار امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کی تعریف میں کہے ہیں جن کا مفہوم یہ ہے :-

’’ اے پڑھنے والے ،صحیح مسلم علم کادریا ہے ،جس میں پانی بہنے کے راستے نہیں یعنی تمام پانی ایک ہی مقام پر موجود ہے‘‘-

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ فن حد یث میںعظیم صلا حیتو ںکے ما لک تھے- حدیث صحیح اور سقیم کی پہچان میں وہ اپنے زما نہ کے اکثر محدثین پر فوقیت رکھتے تھے حتی کہ کچھ آئمہ حدیث کے بیان کے مطابق بعض امور میں ان کو امام بخا ری پر بھی فضیلت حا صل تھی-ابو عمر بن حمدان بیان کرتے ہیں کہ

’’ میں نے ابن عقدہ سے دریافت کیا کہ بخاری و مسلم میں سے کسے فوقیت حاصل ہے؟ فرمایا کہ وہ بھی عالم ہیں یہ بھی عالم ہیں- میں نے پھر دوبارہ دریافت کیا تو فرمایا امام بخاری ﴿رحمۃاللہ علیہ﴾ کو اہل شام کے راویوں کے بارے میں مغالطہ ہوا ہے اس لئے کہ آپ نے ان کی کتابوں کو لیا اور ان میں دیکھا ہے خود ان کے مؤلفین سے سماع نہیں کیا اس لیے ان کے راویوں میں اما م بخا ری﴿رحمۃاللہ علیہ﴾ سے بسا اوقات غلطی واقع ہو جاتی ہے کیونکہ ایک ہی راوی کا کبھی نام ذکر کیا جاتا ہے اور کبھی کنیت، ایسی صورت میں بعض دفعہ امام بخاری﴿رحمۃاللہ علیہ﴾ ان کو ’’دو‘‘ راوی خیا ل کرلیتے ہیں اور امام مسلم ﴿رحمۃاللہ علیہ﴾نے چو نکہ اہل شا م سے براہ راست سماع کیا ہے اس لیے وہ اس قسم کا مغالطہ نہیںکھاتے اور آپ رحمۃاللہ علیہ نے مقطوع اور مرسل روایت کوبیان نہیںکیا- ﴿ ا لنو وی ، شرح مسلم، ج۱ ، ص:۰۸ ، دارالمعرفہ﴾

تصانیف:

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا اکثر حصہ روایت حدیث کے حصول کے لیے مختلف شہروں میں سفر کرتے ہوئے گزرا ہے اس کے ساتھ ساتھ آپ رحمۃ اللہ علیہ درس و تدریس میں بھی بے حد مشغول رہے اس کے با وجود آپ رحمۃ اللہ علیہ کی مندرجہ ذیل تصانیف یادگار ہیں؛

﴿۱﴾ الجامع الصحیح ﴿صحیح مسلم﴾ ﴿۲﴾ المسند الکبیر ﴿۳﴾ کتاب الاسمائ و الکنی ﴿۴﴾ کتاب العلل ﴿۵﴾ کتاب الوحدان ﴿۶﴾ کتاب الافراد ﴿۷﴾ کتاب سوالات احمد بن حنبل ﴿۸﴾ کتاب حدیث عمرو بن شعیب ﴿۹﴾ کتاب الانتفاع باھب السباع ﴿۰۱﴾ کتاب مشائخ مالک ﴿۱۱﴾ کتاب مشائخ ثوری ﴿۲۱﴾ کتاب مشائخ شعبہ ﴿۳۱﴾ کتاب المخضرمین ﴿۴۱﴾ کتاب اولاد الصحابۃ ﴿۵۱﴾ کتاب اوہام المحدثین ﴿۶۱﴾ کتاب الطبقات ﴿۷۱﴾ کتاب افراد الشامیین -﴿امام الذہبی ، تذکرۃ الحفاظ ،ج۱، ص۶۲۱، دارالکتب العلمیہ ﴾

آپ رحمۃ اللہ علیہ کی تمام تصانیف سے ’’ صحیح مسلم‘‘ کو زیادہ مقبولیت حاصل ہے اس کی تالیف کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

’’ مجھ سے میرے بعض شاگردوں نے درخواست کی کہ میں احادیث صحیحہ کا ایک ایسا مجموعہ تیار کروں جس میں بلا تکرار احادیث کو جمع کیا جائے چنانچہ ان کے مشورہ پر میں نے اپنی الجامع صحیح ﴿صحیح مسلم ﴾ کو تالیف کیا اسی طرح پندرہ سال کی لگاتار جدوجہد اور شدید مشقت کے بعد الجامع الصحیح کی صورت میں یہ مجموعہ احادیث تیار ہو گیا‘‘-

صحیح مسلم، صحاح ستہّ کی کتابوں میں صحیح بخاری کے بعد شمار کی جاتی ہے- بعض آئمۂ حدیث نے تو یہ بھی فرمایا ہے کہ امام مسلم بن حجاج نے اس کی احادیث کو انتہائی محنت اور کاوش سے ترتیب دیا ہے اس لیے حسن ترتیب اور تدوین کی عمدگی کے لحاظ سے یہ صحیح بخاری پر بھی فوقیت رکھتی ہے اور زمانہ تصنیف سے لے کر آج تک اس کو قبولیت عامہ کا شرف حاصل رہا ہے- لیکن بعض آئمہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ صحیح مسلم کے حسنِ ترتیب اور تدوین کی عمدگی کا ایک کریڈٹ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو بھی ہے کیونکہ جو اصول انہوں نے اپنی جامع الصحیح ﴿صحیح بخاری﴾ کیلئے اختیار فرمائے وہ فنِّ حدیث میں ایک شاندار اضافہ تھا اور بعد میں آنے والے آئمہ حدیث میں وہ اصول مقبول ہوئے - خود صحاحِ ستہ کے آئمہ میں سے بھی اس اثر کو قبول کرتے ہیں - گوکہ اُمَّت کا اجماع اِسی پر ہے کہ قرآن پاک کے بعد صحیحین اور ان دونوں میں بخاری شریف - جیسا کہ امام نَوَوِی رحمۃ اللہ علیہ شرح صحیح مسلم کے مقدمہ میں تحریر فرماتے ہیں:-

’’ علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن عزیز کے بعد اصحّ الکتب، صحیح بخاری و صحیح مسلم ہیں ‘‘-

امام النَّووی رحمۃاللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ

’’پہلے علوم حدیث میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح بخاری تصنیف کی اس کے بعد اتباع کرتے ہوئے امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح مسلم تالیف فرمائی ہے- ﴿اما م ا لنو وی ،شرح صحیح مسلم ، جلد ۱ ص۲۲ دا را لمعرفہ بیرو ت﴾ قرآن پاک کے بعد صحت میں ان دونوں کتابوں کا مقام ہے‘‘- ﴿سیراعلام النبلائ،امام الذہبی جلد ۲۱ص۷۶۵ مؤسسۃ الرسالۃ ﴾

الجامع الصحیح ﴿صحیح مسلم﴾ :

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ہے کہ صحیح بخاری کی اہمیّت و مقام اظہر من الشمس ہے ، لیکن جب ہم آئمہ میں سے بعض کے اَقوال صحیح مسلم کی طرف دیکھتے ہیں تو اُس سے صحیح مسلم کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ کس قدر حدیث پاک کی برکت سے اِس کتاب کو خاصانِ خُدا نے اپنے لئے حجت بنایا اور اس سے طریق و سُنّتِ رسول پہ گامزنِ عمل رہنے کا فیض پایا -

حافظ ابو علی نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ صحیح مسلم کے بارے فرماتے ہیں:-

﴿ما تحت أدیم السمائ أصح من کتاب مسلم فی علم حدیث﴾﴿تاریخ بغداد،احمد بن علی الخطیب البغدادی جلد ۳۱ص۲۰۱، العلمیہ﴾

’’ علم حدیث میںرو ئے زمین پر امام مسلم کی کتاب ﴿صحیح مسلم﴾ سے بڑھ کر صحیح ترین اور کوئی کتاب نہیں ہے ‘‘-

 غرض یہ کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کی فن حدیث میں بہت سی تصانیف ہیں مگر صحیح مسلم ان کی تصانیف میں اس پایہ کی کتاب ہے-

متقدمین سے بعض مغاربہ اور محققین نے صحیح مسلم کو بے حد پسند کیا ہے اور اس کو صحیح بخاری پر بھی ترجیح دی ہے - امام عبدالرحمن نسائی رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا کہ

’’ امام مسلم کی صحیح امام بخاری کی صحیح سے عمدہ ہے-ابو علی حاکم نیشاپوری اور حافظ ابو بکر اسماعیلی، صاحبِ مدخل کا بھی یہی قول ہے-

﴿سیراعلام النبلائ ، امام الذہبی جلد ۲۱ص۷۶۵ مؤسسۃ الرسا لۃ﴾

 مسلم بن قاسم قرطبی جو کہ معاصر ہیں امام دار قطنی کے ، اُنہوںنے کہا

’’ امام مسلم کی ’’صحیح‘‘ کی مثل کوئی شخص نہیں پیش کر سکتا ‘‘-

﴿علامہ محمد امین الھرری الشافعی،شرح صحیح مسلم ،ج ۱ص۲۲دارطوق النجاۃ﴾

ابن حزم رحمۃاللہ علیہ بھی ’’صحیح مسلم‘‘ کو ’’صحیح بخاری ‘‘پر ترجیح دیتے تھے اور خود امام مسلم نے اپنی الجامع الصحیح کے بارے میں فرمایاتھا:-

﴿لو أن أھل الحدیث یکتبون الحدیث مئتی سنۃ فمدارھم علی ھذا المسند﴾-

 ’’اگر محدثین دو سو سال بھی احادیث لکھتے رہیں پھر بھی ان کا مدار اسی کتاب پر ہو گا ‘‘- ﴿المفھم، ابو العباس احمد القرطبی ، ج۱ ص۱۰۱ ، دار ابن کثیر﴾

کیونکہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے تین لاکھ احادیث میں سے اپنی الجامع الصحیح کا انتخاب فرمایا اور جن مشائخ کی احادیث کو انہوں نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے ان سب سے انہوں نے بالمشافہ اور براہ راست سماع کیا ہے- اس تصنیف میں انہوں نے صرف اپنی ذاتی تحقیق پر ہی اکتفائ نہیں کیا بلکہ مزید احتیاط کے پیش نظر اس مجموعہ میں صرف ان احادیث کو لائے ہیں جن کی صحت پر اس وقت کے اکابرین کا اتفاق تھا- پھر اسی پر بس نہیں کی بلکہ مزید تحقیق کے لیے کتاب کی تکمیل کے بعد اسے حافظ عصر ابو زرعہ کی خدمت میں پیش کیا جو اس زمانہ میں علل حدیث اور جرح و تعدیل کے فن میں امام گردانے جاتے تھے- جس روایت کے بارے میں انہوں نے کسی علت کی نشاندہی کی تو امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو کتاب سے حذف فرما دیا- ﴿اما م ا لنو وی شرح صحیح مسلم ، جلد ۱ ص۹۷ دا را لمعرفہ ﴾

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ راویوں کے اوصاف میں صرف عدالت پر ہی اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ شرائط شہادت کو بھی پیش نظر رکھتے کیونکہ آپ نے یہ شرط لگائی تھی کہ اپنی صحیح میں صرف وہ حدیث بیان کریں گے جس کو کم از کم دوثقہ تابعین رضی اللہ عنہم نے دو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے روایت کیا ہو اور یہی شرط تمام طبقات تابعین و تبع تابعین رحمتہ اللہ علیہم میں بھی ملحوظ رکھی یہاں تک کہ سلسلہ اسناد خود ان ﴿امام مسلم﴾ تک ختم ہو-

شاہ عبد العزیزرحمۃاللہ علیہ لکھتے ہیں کہ

’’ ابو علی زعفرانی کو کسی شخص نے وفات کے بعد خواب میں دیکھا اور ان سے پوچھا کہ تمہاری بخشش کس سبب سے ہوئی تو انہوں نے صحیح مسلم کے چند اجزا کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ان اجزائ کے سبب اللہ تعالی نے مجھے بخش دیا -‘‘﴿شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی بستان المحدثین،ص۱۸۲

 وصال:امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے وصال کا سبب بھی نہایت عجیب و غریب بیان کیا گیا ہے - حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃاللہ علیہ لکھتے ہیں کہ

’’ ایک دن مجلس مذاکرہ میں امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ سے ایک حدیث کے بارے میں استفسار کیا گیا- اس وقت آپ رحمۃاللہ علیہ اس حدیث کے بارے میں کچھ نہ بتا سکے- گھر آکر اپنی کتابوں میں اس حدیث پاک کی تلاش شروع کر دی- ساتھ ہی کھجوروں کا ایک ٹوکرا بھی رکھا ہوا تھا- امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے استغراق اور انہماک کا یہ عالم تھا کہ کھجوروں کی مقدار کی طرف آپ کی توجہ نہ ہو سکی اور حدیث ملنے تک کھجوروں کا سارا ٹوکرا خالی ہو گیا- غیر ارادی طور پر کھجوروں کا زیادہ کھا لینا ہی آپ رحمۃاللہ علیہ کی موت کا سبب بن گیا -

اس طرح ۴۲ رجب ۱۶۲ھ اتوار کے دن شام کے وقت علم حدیث کا یہ درخشندہ آفتاب غروب ہو گیا- اگلے روز پیر کے دن خراسان کے اس عظیم محدث کو سپرد خاک کر دیا گیا- ﴿تاریخ بغداد ،امام حافظ ابو بکر احمد بن علی الخطیب البغدادی ، متوفی ۳۶۴ھ، جلد۳۱ ،ص۴۰۱ ،العلمیہ﴾

امام ابو حاتم الرازی رحمۃاللہ علیہ بیان فرماتے ہیں کہ

’’ میں نے امام مسلم کو خواب میں دیکھا اور ان کا حال دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا اللہ تعالیٰ نے اپنی جنت کو میرے لیے مباح کر دیا اور میں اس میں جہاں چاہتا ہوں رہتا ہوں -‘‘﴿شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ،بستان المحدثین،ص۱۸۲

امام مسلم نہایت ہی پاکیزہ خو اور انصاف پسند شخصیت تھے اور علم و عمل کی بہترین خوبیوں کے جامع تھے اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کی خدمات کا بہترین صلہ عطا فرمایا- یوں امام مسلم بن حجاج القشیری نیشا پوری رحمۃ اللہ علیہ مُحسنینِ اُمّت میں سے ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی آقا کریم﴿﴾ کی سُنت کی حفاظت و محافظت میں بسر کی اور وہ علمِ حدیث جو دو صدیوں تک عظامِ اُمّت کی آغوشوں میں پرورش پاتا رہا اُسے نقطۂ عروج پہ پہنچا دیا اور ایسے اصول وضع کر دیئے کہ آج ان کے ساڑھے بارہ سو برس بعد بھی سُنتِ رسول ﴿﴾ کے بیان میں جب تک امام مسلم کی ترتیب دہندہ صحیح کا حوالہ نہ آجائے بات کو مکمل نہیں سمجھا جاتا - اُن کی مانند بھی کوئی نہیں ہو سکتا جو فقط چند احادیث مبارکہ کو سامنے رکھ کر پورے خلوص و اخلاص سے اُن پہ عمل پیرا ہو جائے ، اور اُن کی مانند بھلا کون ہو سکتا ہے کہ جن کا تعارُف اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبِ پاک ﴿﴾ کی سُنت کی حفاظت اور اُس کے بیان سے خاص کر دیا ہو - ناچیز تو یہ سوچتا ہے کہ انہوں نے اس کارِ عظیم کی انجام دہی میں جو ایک ایک سانس گزاری ہے اگر اُن سانسوں میں ہمیں ایک کی حدّت و تپش بھی نصیب ہو جائے تو ہمارے لئے سرمایۂ حیات ہو گا -

 

نہ صرف حضرت امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ ، بلکہ آپ کے اساتذہ و تلامذہ اور دیگر جملہ اکابر محدثین جنہوں نے اِس علم کی خِدمت میں اپنی عمریں بسر کیں اور بارگاہِ خداوندی و بارگاہِ مصطفوی کے مقبول ٹھہرے وہ سب اِس اُمّت کے محسن ہیں اور ہم کسی بھی طرح اُن کے احسانات کا بدلہ چکانہیں سکتے ، البتّہ یہ کوشش ضرور کر سکتے ہیں کہ جس علم کی وہ آبیاری کر گئے اُسے منقطع نہ ہونے دیں ، اُسے اپنے درمیان سے اُٹھنے نہ دیں اور اپنی آئندہ نسل میں ایسے نفوس پیدا کرتے رہیں جو پورے اخلاصِ قلبی سے آقا کریم ﴿ﷺ﴾ کی حدیث و سُنّت کے محافظ ہوں تاکہ یہ اُمّت اپنے آقا کریم ﴿﴾ کے دین کے دامن سے اپنے دامن کی گانٹھ لگائے رکھے -

اللہ تعالیٰ نے دین میں دو چیزوں کو آخری حجت کے طور پہ پیش فرمایا ، ایک اپنا حکم جو اپنی آخری کتاب میں فرمایا اور ایک اپنے محبوبِ پاک شہہِ لولاک ﴿


ö﴾ کی ذاتِ گرامی کو - قرآن پاک میں اپنے حبیب ﴿
ö﴾ کے احکامات کو اپنے حکم ، اطاعت کو اپنی اطاعت ، بیعت کو اپنی بیعت اور ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا - اِس لئے اہلِ ایمان کو اِس عقیدہ کی وضاحت خود خالقِ کائنات نے فرمائی کہ

 

﴿وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰیo اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی﴾

’’اور وہ ﴿اپنی﴾ خواہش سے کلام نہیں کرتے - اُن کا ارشاد سَراسَر وحی ہوتا ہے جو انہیں کی جاتی ہے ‘‘ -

اِس لئے اجماع کے ساتھ آئمہ نے آقا کریم﴿


ö﴾ کے فرمان کو بھی وحی کے درجہ پہ رکھّا ہے - یہ تو صرف بیان تھا قرآن کا کہ حضور ﴿
ö﴾ کے فرمان کی شان کیا ہے ، اس کے بعد حکم بھی ہے کہ چونکہ آپ صرف وحی ہی فرماتے ہیں اور صرف مرضیٔ خداوندی ہی سے کلام فرماتے ہیں اس لئے آپ جو بھی حکم فرمائیں اسے قبول کرو جس چیز سے منع فرمائیں اس سے رُک جاؤ -

 

﴿وَمَآ اٰتٰ کُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا﴾

’’اور جو کچھ رسول﴿


ö﴾ تمہیں عطا فرمائیں سو اُسے لے لیا کرو اور جس سے تمہیں منع فرمائیں سو ﴿اُس سے﴾ رُک جایا کرو‘‘-

 

تو گویا اُمّت کے پاس آقا ﴿


ö﴾ کے ظاہری پردہ فرما جانے کے بعد آپ کی سُنّت یوں تھی کہ جیسے براہِ راست آپ ﴿
ö﴾ کی مجلسِ مبارک سے فیض پانا ہے کیونکہ آپ کا طریقِ عمل ایسے نفوسِ قدسیّہ کے اجساد و اذہان میں محفوظ کیا گیا تھا جن کا رُتبہ بعد از انبیا کرام علیہم السلام سب انسانوں سے افضل و اشرف ہے یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین - صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سُنتِ رسول ﴿
ö﴾ کو محفوظ تر بنانے کیلئے حضور ﴿
ö﴾ کی احادیث مبارکہ کو کمالِ احتیاط سے جمع کیا اور تابعین کو منتقل کیا ، بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے تو بلادِ اسلامیّہ کے مختلف حصوں میں علمِ حدیث کی باضابطہ و باقاعدہ درس گاہیں قائم کیں جہاں ہزاروں تابعین علمِ حدیث کے عالم بنے - خود صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ایک بڑی تعداد نے کتبِ احادیث مرتب کیں ، پھر سینکڑوں تابعین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین نے کتبِ احادیث مرتب کیں اور عہدِ تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین میں تو حدیث پاک کا علم و فن اپنے نقطۂ کمال و عروج کو جا پہنچا تھا ہزارہا کتبِ احادیث مرتب ہوئیں اور سلطنتِ اسلامیّہ کا گوشہ گوشہ انوارِ حدیث سے جگمگانے لگا - جس طرح کہ ہر علم اپنی ارتقائی منازل طے کرتا ہے علمِ حدیث میں بھی ہمیں ایسا ہی نظر آتا ہے کہ ابتداً اصوال و ضوابط مختلف تھے لیکن جیسے جیسے وقت گزرا اور نسلیں بیتتی گئیں اسی طرح اس علم کو محفوظ سے محفوظ تر رکھنے کیلئے قوانین اور اصول بھی بدلتے گئے - اُن علمائے علمِ حدیث نے طویل اسفار فرمائے اور حدیث پاک یعنی سُنّتِ رسول کو محفوظ کیا -

 

جن علمائ اور محدّثین عظام رحمۃاللہ علیہم نے رسالت مآب ﴿


ö﴾ سے اپنا اور امت مسلمہ کا تعلق برقرار رکھنے کے لئے دن رات جدو جہد عظیم کی اور طلب حدیث کی خاطر مختلف ممالک کے اطراف و اکناف میں پھرے انہی نفوس قدسیہ میں سے ایک عظیم محدث جلیل ائمہ فی الحدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کانام نما یاںطور پر سا منے آتا ہے - اما م مسلم رحمۃ اللہ علیہ فنِ حدیث کے اکا بر ا ٓئمہ میںشما ر کیے جا تے ہیں ابوزرعہ را زی اور ابو حا تم رازی جیسے جلیل القدر محدثین نے آپ کی اما متِ حدیث پر شہا دت دی اور آپ کو محدثین کا پیشوا تسلیم کیا ہے-

 

اسم گرامی:

مسلم بن حجاج بن مسلم بن ورد بن کرشاد’’ القشیری ‘‘ - آپ خراسان ﴿ایران﴾کے شہر نیشاپورکی طرف منسوب تھے آپ کی ولادت با سعادت اور تعلیم تربیت نیشا پور شہر میں ہوئی اور چونکہ آپ کا مزار مبارک بھی نیشا پور میں ہے ان تمام نسبتوں کی بنا ئ پر آپ کو نیشا پوری بھی کہتے ہیں-آپ کی کنیت ابوالحسین اور لقب عساکر الدین ہے-

آپ رحمۃ اللہ علیہ کی ولا دت کے سا ل میں مؤ ر خین کا اختلاف ہے-ابن الصلاح ﴿صحیح مسلم، ص۲۱،دارالمعرفہ﴾ نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کا سا ل ولا د ت ۲۰۲ھ لکھا ہے امام ذہبی نے ﴿صحیح مسلم، امام ا لنو وی ، جلد: ۱ ، ص:۰۷ ، دارالمعرفہ بیروت﴾ ۴۰۲ ھ اور ابن اثیر نے ﴿علامہ محمد امین الھرری الشافعی،شرح صحیح مسلم ،ج ۱ص۷۲دارطوق النجاۃ﴾۶۰۲ھ بیان کیا ہے -

تعلیم و تربیّت:

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے والدین کی نگرانی میں بہترین تربیت حاصل کی جس کا اثر یہ ہوا کہ ابتدا ئی عمر سے لے کر آخری سانس تک آپ نے پرہیز گاری اور دینداری کی زندگی بسر کی اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی ذکاوت ،ذہانت ،اور قوت حافظہ عطائ کی تھی-بہت تھوڑے عرصہ میں آپ رحمۃ اللہ علیہ نے رسمی علوم و فنون کو حاصل کر لیا اورابتد ا ئی تعلیم سے فا ر غ ہو نے کے بعداٹھارہ سال کی عمر میںآپ رحمتہ اللہ علیہ نے علم حد یث سیکھنا شروع کیا- علم حدیث کی طلب میںآپ رحمۃ اللہ علیہ نے متعدد شہروں کا سفر اختیا ر کیا- نیشاپور کے اساتذہ سے اکتساب فیض کے بعد آپ رحمۃ اللہ علیہ حجاز،شام،عراق اور مصر گئے اور ان گنت بار بغداد کا سفر کیا آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ان تمام شہروں کے مشاہیر اساتذہ کے سامنے زانوائے تلمذتہ کیا -

شیوخ:آپ رحمۃاللہ علیہ کے اساتذہ میں ،

 ابراہیم بن خالد الیشکری ، ابراہیم بن دینار،ابراہیم بن زیاد ،ابراہیم بن موسی الرازی ،یحییٰ بن یحییٰ ، محمد بن یحییٰ ذہلی، اسحاق بن موسی الانصاری،احمدبن محمدبن حنبل﴿مسنداحمدبن حنبل﴾اسحاق بن رہوایہ، عبد اللہ بن مسلمہ قعنبی، احمد بن یونس یربوعی، اسماعیل بن ابو اویس ، سعید بن منصور ، ابی مصعب الزہری-وغیرہ﴿صحیح مسلم، ص۴۱،دارالمعرفہ﴾

تلامذہ:

امام نوَوِیْ رحمۃ اللہ علیہ شرح صحیح مسلم میں تحریر فرماتے ہیں کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ سے ان کے زمانہ کے اکابر محدثین اور حفاظ اعلام نے احادیث روایت کی ہیں جیسے

 ابو حاتم رازی ،موسیٰ بن ہارون ،احمد بن سلمہ ، ابو عیسی ترمذی ﴿جامع ترمذی﴾ ، ابوبکر بن خزیمہ ﴿صحیح ابن خزیمہ﴾ ، یحییٰ بن مساعد ، ابوعوانہ الاسفرائینی ﴿مسند ابی عوانہ ﴾ ، ابراہیم بن ابو طالب، ابو عمر و مستملی ، محمد بن عبد الوہاب، سراج، ابوحامد بن الشرق، ابو حامد الاعمشی، ابراہیم بن محمد بن سفیان الفقیہ، مکی بن عبدان، عبد الرحمن بن ابی حاتم - وغیرہ

امام مسلم کی شخصیت:

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے َسر اورریش کے بال سفید تھے اور وجہیہ شخصیت کے مالک تھے سَر پر عمامہ باندھتے تھے اور شملہ کندھوں کے درمیان لٹکایا کرتے تھے -﴿سیراعلام النبلائ،امام الذہبی جلد ۲۱ص۰۷۵ مؤسسۃ الرسالۃ﴾

شاہ عبدالعزیز محدثِ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ امام مسلم کے عجائبات میں سے یہ ہے کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے عمر بھر نہ کسی کی غیبت کی نہ کسی کو مارا اور نہ کسی کیساتھ بَدکلامی کی -

علمِ حدیث میں امام مسلم کا مقام :

 آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فن حدیث کو ا نتہا ئی لگن اور محنت سے حا صل کیا اور بہت جلد نیشا پورکے عظیم محدثین میںآپ کا شما ر ہو نے لگا -حضرت احمد بن سلمہ رحمتہ اللہ علیہ فر ما تے ہیں:-

﴿رأیت أبا زرعۃ و أبا حاتم یقدمان مسلم بن الحجاج فی معرفۃ الصحیح علی مشایخ عصر ھما﴾-

’’ میں نے ابو زرعہ اور ابو حاتم کو دیکھا کہ وہ لو گ معر فتِ حدیث میں مسلم بن حجاج کو ا پنے زما نہ کے مشا ئخ پر تر جیح دیتے تھے‘‘-

﴿تاریخ بغداد ،امام حافظ ابو بکر احمد بن علی الخطیب البغدادی جلد۳۱ ،ص۲۰۱ ، العلمیہ﴾

اما م ترمذی اور ابو بکر خزیمہ﴿رحمۃاللہ علیھما﴾ جیسے محدثین نے آپ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت حد یث کو با عث شر ف سمجھا اور محمد بن بشار رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں :-

﴿حفاظ الدنیا أربعۃ : أبو زرعۃ بالری و مسلم بنیسابور و عبد اللہ الدارمی بسمرقند و محمد بن اسماعیل ببخاری﴾-﴿شرح مسلم ،اما م ا لنو وی متو فی ۶۷۶ھ جلد ۱ ص۷۷ دارالمعرفہ ﴾

’’دنیا میںصرف چا ر ﴿عظیم ﴾ حفا ظ ہیں’’رَی‘‘ میں ابو زرعہ،’’ نیشاپور‘‘ میںمسلم ، ’’سمرقند‘‘ میں عبداللہ الدارمی ’’بخارا‘‘ میں محمد بن اسماعیل ‘‘-

 اما م مسلم رحمۃ اللہ علیہ کی خد اداد صلاحیتوں اور آپ کے کمالات نے اپنے اساتذہ کرام اور معاصرین کو اس قدر گرویدہ بنا لیا تھا کہ ابو عمرو مستملی رحمۃاللہ علیہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مر تبہ ہمیں اسحاق بن منصور احادیث لکھوا رہے تھے اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ ان احادیث میں سے انتخاب کر رہے تھے اچانک اسحا ق بن منصو ررحمۃاللہ علیہ نے امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کی طر ف دیکھا اور فرمایا کہ:-

’’ہم اس وقت تک کبھی خیر سے محرو م نہیں ہوں گے جب تک ہما رے درمیان مسلم بن حجاج موجود ہیں‘‘- ﴿سیراعلام النبلائ،امام الذہبی جلد ۲۱ ص۳۶۵ مؤسسۃ الرسالۃ﴾

آپ کے ایک اور استاد محمد بن عبد الوہاب رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا:-

﴿کا ن مسلم من علمائ الناس و أوعیۃ العلم ما علمتہ الا خیراً﴾ -﴿صحیح مسلم، امام ا لنو وی ، جلد: ۱ ، ص:۸۷ ، دارالمعرفہ بیروت ﴾

’’امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ لوگوں میں سے سب سے بڑے عالم اور علم کے محافظ تھے اور میںنے ان میںخیر کے سوا اور کچھ نہیں پایا ‘‘-

ابو بکر جا رودی رحمۃاللہ علیہ نے فر ما یا :-

﴿وکا ن من أوعیۃ العلم﴾-﴿صحیح مسلم ،ص۹۱، دارالمعرفہ﴾

 ’’امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ علم کے محا فظ تھے ‘‘

مسلم بن قا سم رحمۃاللہ علیہ نے فر ما یا :

﴿ثقۃ جلیل ا لقدر من الائمۃ﴾﴿شرح مسلم ، ا لنو وی جلد ۱ ص۸۷ دارالمعرفہ ﴾

’’ وہ قابلِ اعتماد اور جلیل ا لقدر امام تھے‘‘-

امام حافظ عبدالرحمن بن علی شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے چند اشعار امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کی تعریف میں کہے ہیں جن کا مفہوم یہ ہے :-

’’ اے پڑھنے والے ،صحیح مسلم علم کادریا ہے ،جس میں پانی بہنے کے راستے نہیں یعنی تمام پانی ایک ہی مقام پر موجود ہے‘‘-

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ فن حد یث میںعظیم صلا حیتو ںکے ما لک تھے- حدیث صحیح اور سقیم کی پہچان میں وہ اپنے زما نہ کے اکثر محدثین پر فوقیت رکھتے تھے حتی کہ کچھ آئمہ حدیث کے بیان کے مطابق بعض امور میں ان کو امام بخا ری پر بھی فضیلت حا صل تھی-ابو عمر بن حمدان بیان کرتے ہیں کہ

’’ میں نے ابن عقدہ سے دریافت کیا کہ بخاری و مسلم میں سے کسے فوقیت حاصل ہے؟ فرمایا کہ وہ بھی عالم ہیں یہ بھی عالم ہیں- میں نے پھر دوبارہ دریافت کیا تو فرمایا امام بخاری ﴿رحمۃاللہ علیہ﴾ کو اہل شام کے راویوں کے بارے میں مغالطہ ہوا ہے اس لئے کہ آپ نے ان کی کتابوں کو لیا اور ان میں دیکھا ہے خود ان کے مؤلفین سے سماع نہیں کیا اس لیے ان کے راویوں میں اما م بخا ری﴿رحمۃاللہ علیہ﴾ سے بسا اوقات غلطی واقع ہو جاتی ہے کیونکہ ایک ہی راوی کا کبھی نام ذکر کیا جاتا ہے اور کبھی کنیت، ایسی صورت میں بعض دفعہ امام بخاری﴿رحمۃاللہ علیہ﴾ ان کو ’’دو‘‘ راوی خیا ل کرلیتے ہیں اور امام مسلم ﴿رحمۃاللہ علیہ﴾نے چو نکہ اہل شا م سے براہ راست سماع کیا ہے اس لیے وہ اس قسم کا مغالطہ نہیںکھاتے اور آپ رحمۃاللہ علیہ نے مقطوع اور مرسل روایت کوبیان نہیںکیا- ﴿ ا لنو وی ، شرح مسلم، ج۱ ، ص:۰۸ ، دارالمعرفہ﴾

تصانیف:

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا اکثر حصہ روایت حدیث کے حصول کے لیے مختلف شہروں میں سفر کرتے ہوئے گزرا ہے اس کے ساتھ ساتھ آپ رحمۃ اللہ علیہ درس و تدریس میں بھی بے حد مشغول رہے اس کے با وجود آپ رحمۃ اللہ علیہ کی مندرجہ ذیل تصانیف یادگار ہیں؛

﴿۱﴾ الجامع الصحیح ﴿صحیح مسلم﴾ ﴿۲﴾ المسند الکبیر ﴿۳﴾ کتاب الاسمائ و الکنی ﴿۴﴾ کتاب العلل ﴿۵﴾ کتاب الوحدان ﴿۶﴾ کتاب الافراد ﴿۷﴾ کتاب سوالات احمد بن حنبل ﴿۸﴾ کتاب حدیث عمرو بن شعیب ﴿۹﴾ کتاب الانتفاع باھب السباع ﴿۰۱﴾ کتاب مشائخ مالک ﴿۱۱﴾ کتاب مشائخ ثوری ﴿۲۱﴾ کتاب مشائخ شعبہ ﴿۳۱﴾ کتاب المخضرمین ﴿۴۱﴾ کتاب اولاد الصحابۃ ﴿۵۱﴾ کتاب اوہام المحدثین ﴿۶۱﴾ کتاب الطبقات ﴿۷۱﴾ کتاب افراد الشامیین -﴿امام الذہبی ، تذکرۃ الحفاظ ،ج۱، ص۶۲۱، دارالکتب العلمیہ ﴾

آپ رحمۃ اللہ علیہ کی تمام تصانیف سے ’’ صحیح مسلم‘‘ کو زیادہ مقبولیت حاصل ہے اس کی تالیف کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

’’ مجھ سے میرے بعض شاگردوں نے درخواست کی کہ میں احادیث صحیحہ کا ایک ایسا مجموعہ تیار کروں جس میں بلا تکرار احادیث کو جمع کیا جائے چنانچہ ان کے مشورہ پر میں نے اپنی الجامع صحیح ﴿صحیح مسلم ﴾ کو تالیف کیا اسی طرح پندرہ سال کی لگاتار جدوجہد اور شدید مشقت کے بعد الجامع الصحیح کی صورت میں یہ مجموعہ احادیث تیار ہو گیا‘‘-

صحیح مسلم، صحاح ستہّ کی کتابوں میں صحیح بخاری کے بعد شمار کی جاتی ہے- بعض آئمۂ حدیث نے تو یہ بھی فرمایا ہے کہ امام مسلم بن حجاج نے اس کی احادیث کو انتہائی محنت اور کاوش سے ترتیب دیا ہے اس لیے حسن ترتیب اور تدوین کی عمدگی کے لحاظ سے یہ صحیح بخاری پر بھی فوقیت رکھتی ہے اور زمانہ تصنیف سے لے کر آج تک اس کو قبولیت عامہ کا شرف حاصل رہا ہے- لیکن بعض آئمہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ صحیح مسلم کے حسنِ ترتیب اور تدوین کی عمدگی کا ایک کریڈٹ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو بھی ہے کیونکہ جو اصول انہوں نے اپنی جامع الصحیح ﴿صحیح بخاری﴾ کیلئے اختیار فرمائے وہ فنِّ حدیث میں ایک شاندار اضافہ تھا اور بعد میں آنے والے آئمہ حدیث میں وہ اصول مقبول ہوئے - خود صحاحِ ستہ کے آئمہ میں سے بھی اس اثر کو قبول کرتے ہیں - گوکہ اُمَّت کا اجماع اِسی پر ہے کہ قرآن پاک کے بعد صحیحین اور ان دونوں میں بخاری شریف - جیسا کہ امام نَوَوِی رحمۃ اللہ علیہ شرح صحیح مسلم کے مقدمہ میں تحریر فرماتے ہیں:-

’’ علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن عزیز کے بعد اصحّ الکتب، صحیح بخاری و صحیح مسلم ہیں ‘‘-

امام النَّووی رحمۃاللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ

’’پہلے علوم حدیث میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح بخاری تصنیف کی اس کے بعد اتباع کرتے ہوئے امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح مسلم تالیف فرمائی ہے- ﴿اما م ا لنو وی ،شرح صحیح مسلم ، جلد ۱ ص۲۲ دا را لمعرفہ بیرو ت﴾ قرآن پاک کے بعد صحت میں ان دونوں کتابوں کا مقام ہے‘‘- ﴿سیراعلام النبلائ،امام الذہبی جلد ۲۱ص۷۶۵ مؤسسۃ الرسالۃ ﴾

الجامع الصحیح ﴿صحیح مسلم﴾ :

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ہے کہ صحیح بخاری کی اہمیّت و مقام اظہر من الشمس ہے ، لیکن جب ہم آئمہ میں سے بعض کے اَقوال صحیح مسلم کی طرف دیکھتے ہیں تو اُس سے صحیح مسلم کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ کس قدر حدیث پاک کی برکت سے اِس کتاب کو خاصانِ خُدا نے اپنے لئے حجت بنایا اور اس سے طریق و سُنّتِ رسول پہ گامزنِ عمل رہنے کا فیض پایا -

حافظ ابو علی نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ صحیح مسلم کے بارے فرماتے ہیں:-

﴿ما تحت أدیم السمائ أصح من کتاب مسلم فی علم حدیث﴾﴿تاریخ بغداد،احمد بن علی الخطیب البغدادی جلد ۳۱ص۲۰۱، العلمیہ﴾

’’ علم حدیث میںرو ئے زمین پر امام مسلم کی کتاب ﴿صحیح مسلم﴾ سے بڑھ کر صحیح ترین اور کوئی کتاب نہیں ہے ‘‘-

 غرض یہ کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کی فن حدیث میں بہت سی تصانیف ہیں مگر صحیح مسلم ان کی تصانیف میں اس پایہ کی کتاب ہے-

متقدمین سے بعض مغاربہ اور محققین نے صحیح مسلم کو بے حد پسند کیا ہے اور اس کو صحیح بخاری پر بھی ترجیح دی ہے - امام عبدالرحمن نسائی رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا کہ

’’ امام مسلم کی صحیح امام بخاری کی صحیح سے عمدہ ہے-ابو علی حاکم نیشاپوری اور حافظ ابو بکر اسماعیلی، صاحبِ مدخل کا بھی یہی قول ہے-

﴿سیراعلام النبلائ ، امام الذہبی جلد ۲۱ص۷۶۵ مؤسسۃ الرسا لۃ﴾

 مسلم بن قاسم قرطبی جو کہ معاصر ہیں امام دار قطنی کے ، اُنہوںنے کہا

’’ امام مسلم کی ’’صحیح‘‘ کی مثل کوئی شخص نہیں پیش کر سکتا ‘‘-

﴿علامہ محمد امین الھرری الشافعی،شرح صحیح مسلم ،ج ۱ص۲۲دارطوق النجاۃ﴾

ابن حزم رحمۃاللہ علیہ بھی ’’صحیح مسلم‘‘ کو ’’صحیح بخاری ‘‘پر ترجیح دیتے تھے اور خود امام مسلم نے اپنی الجامع الصحیح کے بارے میں فرمایاتھا:-

﴿لو أن أھل الحدیث یکتبون الحدیث مئتی سنۃ فمدارھم علی ھذا المسند﴾-

 ’’اگر محدثین دو سو سال بھی احادیث لکھتے رہیں پھر بھی ان کا مدار اسی کتاب پر ہو گا ‘‘- ﴿المفھم، ابو العباس احمد القرطبی ، ج۱ ص۱۰۱ ، دار ابن کثیر﴾

کیونکہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے تین لاکھ احادیث میں سے اپنی الجامع الصحیح کا انتخاب فرمایا اور جن مشائخ کی احادیث کو انہوں نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے ان سب سے انہوں نے بالمشافہ اور براہ راست سماع کیا ہے- اس تصنیف میں انہوں نے صرف اپنی ذاتی تحقیق پر ہی اکتفائ نہیں کیا بلکہ مزید احتیاط کے پیش نظر اس مجموعہ میں صرف ان احادیث کو لائے ہیں جن کی صحت پر اس وقت کے اکابرین کا اتفاق تھا- پھر اسی پر بس نہیں کی بلکہ مزید تحقیق کے لیے کتاب کی تکمیل کے بعد اسے حافظ عصر ابو زرعہ کی خدمت میں پیش کیا جو اس زمانہ میں علل حدیث اور جرح و تعدیل کے فن میں امام گردانے جاتے تھے- جس روایت کے بارے میں انہوں نے کسی علت کی نشاندہی کی تو امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو کتاب سے حذف فرما دیا- ﴿اما م ا لنو وی شرح صحیح مسلم ، جلد ۱ ص۹۷ دا را لمعرفہ ﴾

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ راویوں کے اوصاف میں صرف عدالت پر ہی اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ شرائط شہادت کو بھی پیش نظر رکھتے کیونکہ آپ نے یہ شرط لگائی تھی کہ اپنی صحیح میں صرف وہ حدیث بیان کریں گے جس کو کم از کم دوثقہ تابعین رضی اللہ عنہم نے دو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے روایت کیا ہو اور یہی شرط تمام طبقات تابعین و تبع تابعین رحمتہ اللہ علیہم میں بھی ملحوظ رکھی یہاں تک کہ سلسلہ اسناد خود ان ﴿امام مسلم﴾ تک ختم ہو-

شاہ عبد العزیزرحمۃاللہ علیہ لکھتے ہیں کہ

’’ ابو علی زعفرانی کو کسی شخص نے وفات کے بعد خواب میں دیکھا اور ان سے پوچھا کہ تمہاری بخشش کس سبب سے ہوئی تو انہوں نے صحیح مسلم کے چند اجزا کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ان اجزائ کے سبب اللہ تعالی نے مجھے بخش دیا -‘‘﴿شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی بستان المحدثین،ص۱۸۲

 وصال:امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے وصال کا سبب بھی نہایت عجیب و غریب بیان کیا گیا ہے - حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃاللہ علیہ لکھتے ہیں کہ

’’ ایک دن مجلس مذاکرہ میں امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ سے ایک حدیث کے بارے میں استفسار کیا گیا- اس وقت آپ رحمۃاللہ علیہ اس حدیث کے بارے میں کچھ نہ بتا سکے- گھر آکر اپنی کتابوں میں اس حدیث پاک کی تلاش شروع کر دی- ساتھ ہی کھجوروں کا ایک ٹوکرا بھی رکھا ہوا تھا- امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے استغراق اور انہماک کا یہ عالم تھا کہ کھجوروں کی مقدار کی طرف آپ کی توجہ نہ ہو سکی اور حدیث ملنے تک کھجوروں کا سارا ٹوکرا خالی ہو گیا- غیر ارادی طور پر کھجوروں کا زیادہ کھا لینا ہی آپ رحمۃاللہ علیہ کی موت کا سبب بن گیا -

اس طرح ۴۲ رجب ۱۶۲ھ اتوار کے دن شام کے وقت علم حدیث کا یہ درخشندہ آفتاب غروب ہو گیا- اگلے روز پیر کے دن خراسان کے اس عظیم محدث کو سپرد خاک کر دیا گیا- ﴿تاریخ بغداد ،امام حافظ ابو بکر احمد بن علی الخطیب البغدادی ، متوفی ۳۶۴ھ، جلد۳۱ ،ص۴۰۱ ،العلمیہ﴾

امام ابو حاتم الرازی رحمۃاللہ علیہ بیان فرماتے ہیں کہ

’’ میں نے امام مسلم کو خواب میں دیکھا اور ان کا حال دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا اللہ تعالیٰ نے اپنی جنت کو میرے لیے مباح کر دیا اور میں اس میں جہاں چاہتا ہوں رہتا ہوں -‘‘﴿شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ،بستان المحدثین،ص۱۸۲

امام مسلم نہایت ہی پاکیزہ خو اور انصاف پسند شخصیت تھے اور علم و عمل کی بہترین خوبیوں کے جامع تھے اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ان کی خدمات کا بہترین صلہ عطا فرمایا- یوں امام مسلم بن حجاج القشیری نیشا پوری رحمۃ اللہ علیہ مُحسنینِ اُمّت میں سے ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی آقا کریم﴿


ö﴾ کی سُنت کی حفاظت و محافظت میں بسر کی اور وہ علمِ حدیث جو دو صدیوں تک عظامِ اُمّت کی آغوشوں میں پرورش پاتا رہا اُسے نقطۂ عروج پہ پہنچا دیا اور ایسے اصول وضع کر دیئے کہ آج ان کے ساڑھے بارہ سو برس بعد بھی سُنتِ رسول ﴿
ö﴾ کے بیان میں جب تک امام مسلم کی ترتیب دہندہ صحیح کا حوالہ نہ آجائے بات کو مکمل نہیں سمجھا جاتا - اُن کی مانند بھی کوئی نہیں ہو سکتا جو فقط چند احادیث مبارکہ کو سامنے رکھ کر پورے خلوص و اخلاص سے اُن پہ عمل پیرا ہو جائے ، اور اُن کی مانند بھلا کون ہو سکتا ہے کہ جن کا تعارُف اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبِ پاک ﴿
ö﴾ کی سُنت کی حفاظت اور اُس کے بیان سے خاص کر دیا ہو - ناچیز تو یہ سوچتا ہے کہ انہوں نے اس کارِ عظیم کی انجام دہی میں جو ایک ایک سانس گزاری ہے اگر اُن سانسوں میں ہمیں ایک کی حدّت و تپش بھی نصیب ہو جائے تو ہمارے لئے سرمایۂ حیات ہو گا -

 

نہ صرف حضرت امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ ، بلکہ آپ کے اساتذہ و تلامذہ اور دیگر جملہ اکابر محدثین جنہوں نے اِس علم کی خِدمت میں اپنی عمریں بسر کیں اور بارگاہِ خداوندی و بارگاہِ مصطفوی کے مقبول ٹھہرے وہ سب اِس اُمّت کے محسن ہیں اور ہم کسی بھی طرح اُن کے احسانات کا بدلہ چکانہیں سکتے ، البتّہ یہ کوشش ضرور کر سکتے ہیں کہ جس علم کی وہ آبیاری کر گئے اُسے منقطع نہ ہونے دیں ، اُسے اپنے درمیان سے اُٹھنے نہ دیں اور اپنی آئندہ نسل میں ایسے نفوس پیدا کرتے رہیں جو پورے اخلاصِ قلبی سے آقا کریم ﴿


ö﴾ کی حدیث و سُنّت کے محافظ ہوں تاکہ یہ اُمّت اپنے آقا کریم ﴿
ö﴾ کے دین کے دامن سے اپنے دامن کی گانٹھ لگائے رکھے -

 

 

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر