تعلیماتِ سلطان باھوؒکاقرآنی استدلال

تعلیماتِ سلطان باھوؒکاقرآنی استدلال

تعلیماتِ سلطان باھوؒکاقرآنی استدلال

مصنف: لئیق احمد مئی 2019

کسے خبر کہ ہزاروں مقام رکھتا ہے
وہ فقر کہ جس میں بے پردہ روح قرآنی

سلطان العارفین برھان الواصلین حضرت سخی سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ) کی فقر و تصوف کے موضوعات پر تصانیف، علمی میدان میں آپؒ کی گراں قدر خدمات کی عکاس ہیں-

آپؒ کی تصانیف فارسی زبان میں ہیں جو کہ حکمت و معرفت اور توحید کے درس خاص سے مزین ہیں - آپ کو بارگاہِ خداوند تعالیٰ سے بصدقہ حضور علیہ الصلوة و السلام قرآن حکیم کے باطنی اسرار و رموز سے لےکر نثر و شعر کی خوبیوں پر دسترس عطا فرمائی گئی- آپؒ کی جملہ تصانیف قرآن مجید کا مغز و نچوڑ ہیں- آپ کی تعلیمات شریعت و طریقت کو جدا جدا نہیں کرتیں بلکہ شریعت کو اقوالِ محمدی (ﷺ) اور طریقت کو احوالِ محمدی (ﷺ) کے خزانے کے طور پر پیش کرتی ہیں- ادب کے میدان میں آپ کی تعلیمات فہم و ادراک کا بیش بہا خزانے کا درجہ رکھتی ہیں-

آپ (قدس اللہ سرّہٗ)کی تصانیف کا مطالعہ قرب الٰہی کے ساتھ ساتھ بصیرت و فراست کے راستے ہموار کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے اور ساتھ ہی مقصدیت انسان سے روشناس کرانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں- آپؒ کی تعلیمات کا بنیادی نکتہ دعوت الی اللہ ہے- آپ نے طالبان مولیٰ کے لیے جن افکار کا ذکر اپنی تعلیمات میں فرمایا ہے وہ ایسی حقیقت سے آشنائی کی طرف راغب کرتی ہے جس کا انسان ازل سے متلاشی تھا-

رسالہ روحی شریف میں فرمان مبارک ہے:-

شد اجازت باھو را از مصطفےٰ
خلق را تلقین بکن بہر از خدا

’’فقیرِ باھو کو حضور نبی کریم (ﷺ) کی طرف سے اس بات کا حکم ہوا ہے کہ خلقت کو فی سبیل اللہ تلقین کرو‘‘-

آپ (قدس اللہ سرّہٗ)نے تصوف و عرفان کی تعلیمات از قرآن و احادیث کو ایسا خوبصورت رنگ بخشا جس کے ذریعے معاشرے میں پائے جانے والے ناپسندیدہ افکار کی اصلاح ہوتی ہے -

آپ کی روح پرور شاعری طالبان مولی کیلئے شعور و آگہی اور تسکین قلب کا وہ درس دیتی ہے جس سے پچھلے 400سالوں سے ارواحِ عاشقاں مستفید ہوتی چلی آرہی ہیں-  آپ کی پُر تاثیر شاعری سالکان راہ طریقت کیلئے حکمت و معرفت کا درس دیتی ہے جو ان کے لیے وظیفہ کا درجہ عظیم رکھتی ہے-

مشہور و منقول روایت کے مطابق آپؒ نے نورِ ہدایت عامۃ الناس میں مروج کرنے کےلیےکم وبیش 140 کتب تصنیف فرمائیں- آپؒ کسی ایسے قول و فعل کے قائل نہیں ہیں جس سے شریعتِ محمدی (ﷺ) کی خلاف ورزی ہو- جیسا کہ آپؒ اپنی تصنیف لطیف ’’شمس العارفین‘‘ میں فرماتے ہیں:-

’’جو کوئی شریعتِ محمدی (ﷺ)کے خلاف چلتا ہے اور امر معروف و نص وحدیث کی حدود سے باہر قدم رکھتا ہےوہ پکا مردود و خبیث ہے‘‘- [1]

اسی تصنیف میں ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:-

’’باطن میں جو چیز شریعت طاہر اور قرآن کے موافق دکھائی نہ دے اس کا تعلق باطل سے ہے‘‘-[2]

حضور سلطان العارفین(قدس اللہ سرّہٗ) کا طرزِ تحریر قرآن مجید کی تعلیمات کا ایسا عکس ہے کہ اگر آپؒ کی تصانیف کے فارسی متن کا مطالعہ کیا جائے تو ایک عجیب سرور و لذت کا احساس دل میں جاگزیں ہوجاتا ہے- حضور سلطان صاحب کی تعلیمات کا قرآن کریم سے بہت گہرا تعلق ہے جوکہ انتہائی تفکر و تدبر پر مبنی ہے- جیسا کہ آپؒ اپنی تصنیف ’’عقلِ بیدار‘‘ میں فرماتے ہیں:-

’’مَیں قرآن کی ایک ایک آیت کی تَہ تک پہنچا اور اسے اپنا رفیقِ راہ بنایا‘‘ -[3]

نورالہدیٰ شریف میں ایک مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:

’’ہیچ تالیف نی در تصنیف ما ہرسخن تصنیف مارا از خدا-علم از قرآن گرفتم و زحدیث ہر کہ منکر می شود اہل ازخبیث‘‘[4]

’’ہماری تصانیف میں کوئی تالیف نہیں ہے- ہماری تصانیف کا ہر سخن الہامِ خداوندی ہے- میں نے ہر علم قرآن و حدیث سے پایا ہے- لہٰذا میری تحریر کا انکار کرنے والا قرآن و حدیث کا منکر ہے اس لیے وہ پکا خبیث ہے‘‘-

آپؒ کی تعلیمات قرآن مجید کو کائنات کے تمام علوم کا منبع و مرکز قرار دیتی ہیں جس کا اندازہ آپؒ کی تصانیف سے قارئین کو بخوبی ہو جاتا ہے- آپؒ طالبانِ مولیٰ کو اپنی تصانیف کے ذریعے جملہ علوم سیکھنے کی تلقین فرماتے ہیں جیسا کہ آپؒ اپنی تصنیفِ لطیف ’’محک الفقر‘‘میں فرماتے ہیں:

’’اے(طالبِ حق) علم کی طے سے قرآن مجید کے 30,000 علوم سیکھ‘‘-[5]

اسی تصنیف کے ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:-

’’دونوں جہان کی نعمتیں قرآن مجید میں ہیں اور اس کے خزانے حاضرات کلمہ طیبہ سے کھلتے ہیں‘‘-[6]

اپنی تصنیف لطیف شمس العارفین میں فرماتے ہیں:-

’’اللہ تعالیٰ کے ظاہر و باطن کے تمام خزانے خشکی و تری اور بحر وبر کی جملہ مخلوق کے حالات اور 6 سمتوں میں پھیلی توحید ذات و صفات کی تمام تفصیل قرآن مجید میں موجود ہے ‘‘-[7]

اسی تصنیف لطیف میں ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:-

’’جان لے کہ خلقِ خدا کی کوئی چیز بھی علم آیات قرآن سے باہر نہیں خواہ اس کاتعلق بہر وبر سے ہویا خشک اور تر سے ‘‘-[8]

آپؒ راہِ سلوک میں مرشد کامل کی یہ نشانی بیان فرماتے ہیں کہ وہ طالب پر سلوک کا ہر مقام و مرتبہ آیات قرآن کے علم سے کھولتا ہےاور اس کے وجود میں قرآن کی محبت کو راسخ فرماتا ہے- جیسا کہ آپؒ اپنی تصنیف لطیف ’’نور الھدیٰ‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’کامل(مرشد) وہ ہے جو ہر مرتبہ آیات قرآن کے علم سے کھول دے‘‘-[9]

آپؒ ’’کلید التوحید‘‘میں فرماتے ہیں:

’’پس معلوم ہوا کہ مرشد وہ ہے جو طالب کوقرآن کی محبت بخشے‘‘-[10]

قرآن مجید وہ روشن کتاب ہے جو حضرتِ انسان کو دائرہ اسلام میں داخل ہونے سے لے کر تکمیلِ انسانیت و شرفِ ولایت و فقر تک رہنمائی فراہم کرتی ہے- جس میں شریعت، طریقت، معرفت و حقیقت کے کلی علوم و رموز کی تشریحات و توضیحات حاصل ہوتی ہیں- آپؒ اپنی تصنیفِ لطیف ’’محک الفقر‘‘  میں فرماتے ہیں:

’’پس اس راہ میں سند چاہیے سند شریعتِ محمدی ہے جس کی حجت قرآن مجید ہے‘‘-

آپؒ ’’مجالسۃ النبی ‘‘میں فرماتے ہیں:

’’جس راہ کو شریعت نے رد کر دیا وہ راہِ کفر ہے جبکہ شریعت کی اصل قرآن و حدیث ہے‘‘-

آپؒ کی تصانیف بمثلِ گوہرِ نایاب بوجہ قرآنی ترتیب و تاثیرکی واضح جھلک رونما کرتی ہے- آپ کی تصانیف کا مطالعہ مردہ قلوب میں روح پھونکنے کے مترادف ہے- آپؒ کی تصانیف کا مطالعہ کرنے والا کبھی بے فیض نہیں رہتا- آپؒ تمام عمر شریعتِ مطہرہ پر کاربند رہے اور آپؒ کی تعلیمات قرآن و احادیث کی انوار و برکات سے لپٹی وہ حقیقی تعلیم ہے جو ایک ایک قرآنی آیات کا بھید باطنی و روحانی مفہوم میں سموئے ہوئے ہے- آپؒ فرماتے ہیں:-

ہر مراتب از شریعت یافتم
پیشوائے خود شریعت ساختم

آپؒ کی نظر میں قربِ الٰہی اور ہدایت و معرفت کے تمام خزائن تعلیماتِ قرآن اور خصوصاً شریعتِ مطہرہ پر عمل کرنے سے ہی حاصل ہوتے ہیں-جیسا کہ آپؒ فرماتے ہیں:

’’ جس کسی کو قرآن مجید سے قربِ حق نصیب ہوگیا اس کی نظر میں تمام خزائنِ الٰہی آگئے‘‘-[11]

ایک اور مقام پر آپؒ ارشاد فرماتے ہیں:

’’قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا بھید، ہادی و رہنمائے دو جہاں ہے‘‘-[12]

حضور سلطان صاحب فرماتے ہیں:

’’جان لے کہ چار چیزیں گنجِ الٰہی میں ہزاراں ہزار میں سے کوئی ایک ہی ہوتا ہے جو انتہاء کو پہنچ کر صاحبِ گنج بنتا ہے- پہلا گنجِ الٰہی قرآن مجید ہے جس میں بادشاہ خزانہ اسم اعظم ہے- جو آدمی قرآن میں سے اسم اعظم تلاش کرلیتا ہے وہ دونوں جہان کا بادشاہ بن جاتا ہے‘‘-

حضور سلطان العارفین (قدس اللہ سرّہٗ) کی تعلیمات علم و معرفت کا ایک بحرِ بیکراں نظر آتی ہیں- آپؒ کی تصانیف میں اس قدر آیات سے استدلال موجود ہے اور اس قدر تشریح و تفسیر ظاہری و باطنی لحاظ سے فرمائی ہے کہ اگر ان تمام مقامات کو علمِ تفسیر کے نقطہٗ نظر سے جمع کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب منظرِ عام پر آسکتی ہے- آپؒ کا تفسیری اسلوب تفسیر بالماثور ہے ، جبکہ کئی مقامات پہ آپ تاویل بھی فرماتے ہیں - (تفسیر بالماثور سے مراد وہ تفسیر ہے جو قرآن، احادیثِ مبارکہ، اقوالِ صحابہ و تابعین سے منقول ہو)۔ قرآنی آیات، احادیثِ نبوی اور احادیثِ قدسیہ کا استعمال آپ کی تصانیف میں بکثرت موجود ہے-

بعض مقامات پر آپؒ نے کسی آیت کے استدلال میں بیان فرماتے ہوئےاقوالِ صحابہ و تابعین کو بھی پیش کیا ہے- موضوع کی طوالت کے پیشِ نظر صرف ایک حوالہ پیشِ خدمت ہے- آپؒ ’’سورۃ محمد (ﷺ) کی آیت نمبر 19‘‘ کی تفسیر بیان فرماتے ہوئےصحابہ و تابعین کے اقوال پیش فرماتے ہیں:

’’مجاہد فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سب سے افضل ذکر کلمہ طیب لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ کا ذکر ہے-ابنِ عباس (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نفع و نقصان دینے والا اور زیر و زبر کرنے والااللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں- سہیل (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سوائے ذاتِ حق تعالیٰ کے نفع و نقصان پہنچانے والا اور کوئی نہیں اور نہ ہی کوئی روکنے والا ہے- اس کی ذات ہی توحید اور توکل کی اصل ہے- اس جملہ میں فرمایا گیا ہے کہ جان لو کہ مومنوں کا بخشنہار اللہ تعالیٰ ہے اور تمہاری جائے رہائش اور منتقلی کا جاننے والا بھی اللہ کے سوااور کوئی نہیں‘‘- [13]

بعض مقامات پر آپؒ نے دیگر مفسرین کی تفاسیر کو بھی نقل فرمایا ہے- آپؒ اپنی تصنیف لطیف محک الفقر (کلاں) میں 3 تفاسیر کے حوالے مختلف مقامات پر دئیے ہیں اور آیات کے تحت ان کی تفسیر رقم فرمائی ہے- ایک مقام پر آپ نے مفسر کا نام بیان کیا ہےاور دو مقامات پر تفسیر کا-

  •      یعقوب چرخی کی تفسیر میں نقل ہے-[14]
  •      تفسیر منیر میں ’’یوم ھو فی شان‘‘ کی تفسیر یوں بیان ہوئی-[15]
  •      بحرالمعانی سورۃ عم میں تفسیر بیان کی گئی ہے- [16]

آپؒ کے اسی اندازِ تحریر پر سیّد احمد سعید ہمدانی صاحب لکھتے ہیں:-

’’حضرت سلطان باھوؒ نے اپنے نصاب فقر میں طالبِ حق کے لئے تفسیر قرآن و شرح حدیث کا علم لازمی قرار دیا ہے کیونکہ ان کے بغیر ہرآن گمراہی کا خطرہ درپے رہتاہے-خود ان کا اپنا انداز یہ ہےکہ وہ اپنی تصنیفات میں ہر مسئلہ کے بیان میں اکثروبیشتر قرآنی آیات کا حوالہ دیتےہیں اور بہت کم ایسا ہوا ہےکہ انہوں نے باطنی معنوں کی طرف توجہ دی ہو، لیکن پھربھی کہیں کہیں اپنے متصوفانہ انداز میں قرآنی آیات کی تفسیر بیان کی ہے، مثلاً قرآن مجید میں جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چار پرندوں کے ذبح کرنے کا حکم ہوا، وہ اس سےطالب حق کےلئے تزکیہ نفس کے سلسلے میں یہ استدلال کرتے ہیں کہ طالب حق اپنے وجود کے چار پرندوں کو ذبح کرے- یعنی ’’شہوت کا مرغ، زینت کا مور، حرص کا کوا اور خواہش کا کبوتر‘‘ -پھر اس سے چار صفتیں زندہ ہوکر اس کی طرف لوٹ آئیں گی، نفس، قلب، روح اور سر زندہ ہوجائیں گے‘‘-[17]

آپؒ فرماتے ہیں کہ علمِ تفسیر کا علم ذکر اسم اللہ کی برکت سے بھی حاصل ہوتا ہےجس کا ذکر آپؒ ان الفاظ میں فرماتے ہیں:

’’اسم اللہ ذات کی حاضرات سے سات قسم کی آیات قرآن کی تفسیر کا علم کھلتا ہے یعنی آیات وعدہ کی تفسیر کا علم، آیات نہی عن المنکرکی تفسیر کا علم، آیات منسوخ کی تفسیر کا علم اور آیات ناسخ کی تفسیر کا علم ان جملہ آیات قرآن کا ختم موافقِ رحمٰن و مخالفتِ شیطان ہے‘‘- [18]

حضور سلطان صاحب علم کے تین حروف کی قرآن مجید کے 30 پاروں سے مطابقت کے بارے میں فرماتے ہیں:-

’’علم کے تین حروف ہیں اور قرآن کے 30 پارے- انہی تین حروف میں مندرج ہیں جیسا کہ تیس حروف ابجد سے آیات ناسخ و منسوخ آیات وعدہ و وعید و آیات قصص الانبیاء و آیات نہی عن المنکر اور موافق آیات احادیثِ نبوی وجود میں آئیں-جو قوانین کی ہر ایک چیز کا پتہ دیتی ہیں‘‘-[19]

آپؒ نے اسم اللہ ذات جو قرآن پاک کی صورت مجمل ہے، کی شرح و تفسیرکی جو 140کتب تصنیف فرمائیں، اُن میں 35 کتب منظرِ عام پر آئیں جن میں سے چند تصانیف کا انتخاب راقم الحروف نے کیا ہے تاکہ تعلیماتِ باھوؒ کا قرآن کریم سے استدلال مزید واضح کیا جاسکے اور طالبانِ مولیٰ و راہِ حق کے سالکین مزید استفادہ حاصل کرسکیں-

پارہ نمبر:1

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْجٰہِلِیْنِ [20]

’’کہا!میں جاہل ہونے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں‘‘-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’و جاہل مثلِ ابوجہل است باوسخن مگو‘‘

’’جاہل ابوجہل کی مثل ہوتا ہےاس سے کلام مت کیا کرو‘‘-

بیت: آنچہ از حق بازداردجہل زشت وآنکہ با حق میبردعلمی بہشت

’’جو چیزحق سبحانہ تعالیٰ سےدور کرتی ہےوہ بدترین چیز جہالت ہے اور جو چیز حق تعالیٰ سےملاتی ہے وہ علمِ دل بہار ہے‘‘-[21]

پارہ نمبر:2

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ[22]

 ’’بےشک اللہ تعالیٰ اہلِ تقویٰ کا ساتھی ہے‘‘-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’ اگر کوئی آدمی تقویٰ کے بغیر فقیری و درویشی و معرفتِ الٰہی کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ جھوٹاودغاباز ہے- تقویٰ کے چار حروف ہیں  ’’ت ق وی‘‘- صاحبِ تقویٰ کے پاس دو ’’ت‘‘ ہونی چاہییں، ایک ’’ت‘‘ترک کی اور دوسری توکل کی- صاحبِ تقویٰ کے پاس دو ’’ق‘‘ہونی چاہییں، ایک ’’ق‘‘ قہر برسائے اپنے نفس پراور دوسرا ’’ق‘‘قادر ہو جائے اپنے نفس پر- صاحبِ تقویٰ کے پاس دو ’’و‘‘ہونی چاہییں، ایک ’’و‘‘ واحد ہو جائے اور دوسرا ’’و‘‘ وحدت میں غرق ہوجائے- صاحبِ تقویٰ کے پاس دو ’’ی‘‘ ہونی چاہییں، ایک ’’ی‘‘ یگانہ بحق ہو جائے اور دوسری ’’ی‘‘ یاری کرلے حق تعالیٰ سے- جان لےکہ تقویٰ و پرہیزگاری اس نیک و صالح عمل کو کہتے ہیں جو پوشیدہ، بےریااور مقبولِ خدا ہواور پوشیدہ، بےریا اور مقبولِ خدا نیک و صالح عمل تصورِ اسم اللہ ذات ہے-جس سے بندہ معرفتِ الٰہی حاصل کر کے نجات یافتہ ہوجاتا ہے، یہی باطنی تقویٰ اور باطنی راز ہے جو ریاضتِ باطن  سے کھلتا ہے اور بندے کو غوغائے خلق سےنجات دلاتا ہے‘‘-[23]

پارہ نمبر:3

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُکُمْ بِالۡفَحْشَآء‘‘[24]

’’شیطان وہ ہے جو تمہیں مفلسی کا خوف دلا کربرائی پر اُکساتا ہے‘‘-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’جس نے شیطان سے تعلق جوڑا اور اسکی پیروی کی وہ دنیا کا ہوکررہ گیا، دنیا نے اسے پسند کرکے ایسا ڈنگ ماراکہ وہ دنیا  ہیں ہی غرق ہوکررہ گیا‘‘-[25]

پارہ نمبر:4

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْن‘‘[26]

’’تم ہرگز اپنی مراد کو نہیں پہنچوگے جب تک کہ اپنی پیاری چیزوں کو اللہ کی راہ میں قربان نہیں کروگے‘‘-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

بیت: کن تصرف جان مال ہرچہ ہست تا ترا حاصل شود کنہش الست

’’اپنی جان و مال اور ہر پیاری چیز کواللہ کی راہ میں قربان کر دے تاکہ تجھ پر حقیقتِ الست کھل جائے‘‘- [27]

پارہ نمبر:5

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’قُلْ مَتَاعُ الدُّنۡیَا قَلِیْلٌ‘‘[28]

’’آپ فرمادیں کہ متاعِ دنیا قلیل ہے‘‘-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’اہلِ مراتب دنیامنافق وبخیل ہیں اور محروم از معرفتِ رب جلیل ہیں- حضور نبی کریم (ﷺ) کا فرمان ہے: ’’مومن کے دل میں حبِ دنیااور دین کا جمع ہونا اس طرح ناممکن ہے جس طرح آگ اور پانی کا ایک ہی جگہ پر جمع ہونا‘‘- [29]

پارہ نمبر:6

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’یَاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ‘‘[30]

’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو‘‘-اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں وسیلہ سے مراد علم ہے حالانکہ علم وسیلہ نہیں ہے- علمِ شریعت تو شاہراہِ راستی ہے اور وسیلہ مرشد اس راہ کا نگہبان و محافظ ہے جس کے پاس نگہبانی اور حفاظت کا پورا پورا سامان اور لشکر ہوتا ہے- جس کے ذریعے وہ طالب کو شیطان کی راہزنی سے بچا کرسلامتی کے ساتھ اس شاہراہ سےگزار لے جاتا ہے اور معرفتِ الّا اللہ اور مجلسِ محمدی (ﷺ) کی حضوری سے مشرف کر کے جمیعت سے سرفراز کرتا ہے- صاحبِ ارشاد و صاحبِ ولایت مرشد بہت ہیں-لیکن صاحبِ روایت مرشد کم ہیں- صاحب، روایت کے لیے (صاحبِ ارشاد) پیر و مرشد سے فیض و ہدایت کا علم (حاصل کرنا ضروری)ہے- شیطان بے پیر و بےمرشد ہے- اس لیے اس پر قیامت تک لعنت ڈال دی گئی ہے-اب وہ اس بات سے پریشان ہے کہ کاش وہ بے پیر و بے مرشد نہ ہوتا‘‘- [31]

پارہ نمبر:7

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃ‘‘ [32]

’’اور بے شک تم ہمارے پاس اکیلے آئے ہوجیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی بار اکیلا پیدا کیاتھا‘‘-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’ہر آدمی اپنی ماں کے پیٹ سے تنہا و خالی ہاتھ آتا ہےاور تنہا و خالی ہاتھ ہی قبر میں جاتا ہےلیکن عارفانِ الٰہی شکمِ مادر سے معرفت الٰہی میں غرق ہوکر آتے ہیں اور ذکر فکر و معرفتِ الٰہی میں غرق ہوکر ہی قبروں میں جاتے ہیں‘‘-[33]

پارہ نمبر:8

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’یُذْکَرِ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ وَ اِنَّہٗ لَفِسْق‘‘[34]

’’جس چیز پر اسم ’’اللہ‘‘نہ پڑھا جائے وہ چیز ناپاک ہے‘‘-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

یاد رکھ کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا عرش و کرسی اور لوح و قلم سے گزر کر حضورِ پروردگار میں قاب قوسین کے مقام پر پہنچنا اور اللہ تعالیٰ سے بلاحجاب کلام کرنا محض اسم اللہ کی برکت سے ہی ہوا کہ اسم اللہ دونوں جہانوں کی چابی ہے -ساتوں طبقاتِ زمین اور ساتوں طبقاتِ آسمان جو بلا ستون ایستادہ ہیں تو یہ محض اسم اللہ ہی کی برکت ہے- جو پیغمبر بھی مرتبہ پیغمبری پر پہنچا اور کفار پر فتح حاصل کرکے ان کے شر سے مامون ہوا تو یہ بھی اسم اللہ ہی کی برکت تھی کہ ان کا نعرہ ہمیشہ یہی ہوا کرتا تھا:’’اللہ ہی ہمارامعین و مدد گار ہے‘‘-بندے اور مولیٰ کے درمیان رابطے کا وسیلہ اسم اللہ ہی توہے‘‘-[35]

پارہ نمبر:9

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’ اِنْ تَتَّقُوا اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا‘‘[36]

’’اگر تم پرہیز گاری اختیار کرو گےتو میں تمہیں اس کے قابل بنادوں گا کہ تم حق سے باطل کو جدا کر سکو‘‘-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ میری شاگردی اختیار کرلو تاکہ میں تمہیں بہت زیادہ علم پڑھادوں- ایک لاکھ چوبیس ہزار علوم ہیں اور ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر ہیں، ہر پیغمبر کا علم جدا ہے، کسی کے پاس کتاب کا علم ہے-کسی کے پاس صحیفے کا علم ہے، کسی کے پاس خواب کا علم ہےاور کسی کے پاس الہام کا علم ہے- یہ تمام علوم اسمِ اللہ سے حاصل ہوجاتے ہیں‘‘- [37]

پارہ نمبر:10

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَ عَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْن ‘‘[38]

’’اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے‘‘-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’جان لے کہ فقیر دو صفات سے متصف ہوتا ہے- ایک توحید اور دوسرے توکل- حضور علیہ الصلوۃوالسلام کا فرمان ہے: ’’توحید اور توکل دو جڑواں بھائی ہیں‘‘-جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:’’وَ عَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُوْمِنُوْن‘‘،[39] ’’اور مومنوں کو خدا ہی کا بھروسہ رکھنا چاہیے‘‘-

پارہ نمبر:11

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’اَلَا اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَ لَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ‘‘[40]

’’خبردار! اولیائے اللہ پر نہ کوئی خوف نہ غم‘‘-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’ولی اللہ اسے کہتے ہیں جو رحمتِ الٰہی میں لپٹا ہوا صاحبِ ایمان و صدق، صاحبِ تصدیق و یقین اور ’’لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ‘‘ کا ذاکر ہو کہ یہ تمام چیزیں ایمان و رحمت کی بنیاد ہیں جو کسی اہلِ ایمان ہی کو نصیب ہوتی ہیں اور انہی سے ہی بندے کی عاقبت سنورتی ہےاور خاتمہ بالخیر ہوتا ہے - جو شخص دنیا سے ایمان کے ساتھ رخصت ہوا وہ گویا سینکڑوں خزانے سمیٹ لے گیا اور جو بےایمان ہوکرگیاوہ گویا مفلسی کی موت مرا‘‘-[41]

پارہ نمبر:12

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’ وَ مَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزْقُہَا‘‘[42]

’’اور زمین میں کوئی چلنے پھرنے والا (جاندار) نہیں ہے مگر (یہ کہ) اس کا رزق اﷲ (کے ذمۂ کرم) پر ہے‘‘-

رزق موت کی طرح شہ رگ سے زیادہ قریب رہتا ہے- جس طرح موت بندے کو کہیں نہیں چھوڑتی اسی طرح رزق بھی بندے کے پاس ہر جگہ پہنچ جاتا ہے-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’بیت: اگر رزق آدمی پر عاشق نہ ہوتا تو گندم کا دانہ زمین کا گریبان چاک کرکے باہر کیوں آتا؟

مصنف کہتا ہے جو شخص رزق، ایمان، یقین اور تصدیقِ قلب تو چاہتا ہے لیکن ذکر اللہ سے غافل رہتا ہےیہ چاروں مراتب اس سے بیزار رہتے ہیں اور جو شخص ہر وقت ذکر اللہ میں مشغول رہتا ہےاس سے رزق و ایمان و یقین اور تصدیقِ قلب جدا نہیں ہوتے بلکہ اس سے یکتا و شاد رہتے ہیں - رزق آدمی کی تلاش میں اس طرح کہ ملک الموت عزرائیل علیہ السلام طلبِ جان میں اور جس طرح وہ آدمی کو بحروبر میں کہیں نہیں چھوڑتا اسی طرح رزق بھی آدمی کو کہیں نہیں چھوڑتا- حضورعلیہ الصلوۃوالسلام کا فرمان ہے:- ’’رزق آدمی کو موت سے زیادہ شدت کے ساتھ تلاش کرتا ہے‘‘- پس رزق کا دار و مدار یقین و نیت پر ہے- نیکو کاروں کے لیے رزقِ حلال ہے اور بدکاروں کےلئے رزقِ حرام ‘‘- [43]

پارہ نمبر:13

 فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَ یَفْعَلُ اللّٰہُ مَا یَشَآء ‘‘[44]

’’اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے‘‘-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’جب رزق مقدر ہوتو اس کےلیے سرگردانی کیسی؟ رازق خود پہنچاتا ہےتو اس کےلیے جستجو کیسی؟ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:ہم نے ان کے درمیان روزی تقسیم کردی ہے‘‘-اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے‘‘- [45]

پارہ نمبر:14

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’ وَ نَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ‘‘[46]

’’اور جب میں اس میں اپنی روح پھونک لوں‘‘-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’جب روحِ اعظم نے وجودِ اعظم میں داخل ہوکرکہا یااللہ تو قیامت تک کے تمام احوال واضح ہوگئےلیکن پھر بھی ماہیتِ اسم اللہ ذات کی انتہاء  تک کوئی نہیں پہنچ سکا‘‘-[47]

پارہ نمبر:15

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَ دَخَلَ جَنَّتَہٗ وَ ہُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ‘‘[48]

’’وہ باغ میں داخل ہوا اور اپنے نفس کےلیے ظالم بنا ‘‘-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’ہر چیز کی آفت ہے اور آدمی کی آفت اس کا نفس ہے- فرمانِ حق تعالیٰ ہے:’’وہ باغ میں داخل ہوا اور اپنے نفس کے لیے ظالم بنا‘‘؛ اور نفس کی آفت طمع ہے- نفس و طمع آدمی سے جدا نہیں ہوتےجب تک کہ وہ ترک و توکل اختیار نہ کرے اور ترک و توکل حاصل نہیں ہوتا جب تک کہ دل میں دردِ داغِ محبتِ مولیٰ پیدا نہیں ہوتاجب تک کہ کلمہ طیب کا ذکر نہ کیا جائےاور کلمہ طیب کا ذکر تاثیر نہیں کرتا جب تک کہ مرشد کامل کے ارشاد کے تحت نہ ہواور اگر کلمہ طیب لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا ذکرارشادِ مرشدِ کامل کے تحت کیا جائے تو توحید و توکل دونوں حاصل ہوجاتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃو السلام کا فرمان ہے: ’’توحید اور توکل دونوں جڑواں بھائی ہیں‘‘-[49]

پارہ نمبر:16

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’ قَالَ ہٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِکَ‘‘[50]

’’اب میرے اور آپ کے درمیان علیحدگی ہی بھلی‘‘-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’حضرت خضر علیہ السلام کے کام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نظر میں گناہ تھے حالانکہ باطن میں حضرت خضر علیہ السلام کےکام عین ثواب و راستی کے کام تھے- آپ نے کشتی کو توڑا، بچے کو قتل کیا اور دیوار کو بنایا اور سورۃ کہف میں درج ہے کہ ان کاموں پر اعتراض کے جواب میں حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا:اب میرے اور آپ کے درمیان علیحدگی ہی بھلی‘‘[51]

پارہ نمبر:17

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’قُلْنَا یٰنَارُ کُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰی اِبْرٰہِیْم‘‘

’’ہم نے حکم دیا کہ اے آگ ہوجا ٹھنڈی اور سلامتی والی ابراہیم پر‘‘-[52]

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’زندہ دل عارف سب خلیل ہیں اور مردہ دل سب بخیل ہیں‘‘[53]

پارہ نمبر:18

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’اَللہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط مَثَلُ نُوْرِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ فِیْہَا مِصْبَاحٌط اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍط اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّہَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَۃٍ مُّبٰـرَکَۃٍ زَیْتُوْنَۃٍ لَّاشَرْقِیَّۃٍ وَّلَا غَرْبِیَّۃٍ یَّکَادُ زَیْتُہَا یُضِٓیْئُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌط نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍط یَہْدِی اللہُ لِنُوْرِہٖ مَنْ یَّشَآئُط وَیَضْرِبُ اللہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِط وَاللہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ‘‘[54]

’’اللہ نور ہے آسمانوں اور زمینوں کا اس کے نور کی مثال ایسی جیسے ایک طاق کہ اس میں چراغ ہے وہ چراغ ایک فانوس میں ہے وہ فانوس گویا ایک ستارہ ہے موتی سا چمکتا روشن ہوتا ہے برکت والے پیڑ زیتون سے جو نہ پورب کا نہ پچھم کا قریب ہے کہ اس کا تیل بھڑک اٹھے اگرچہ اسے آگ نہ چھوئے نور پر نور ہے اللہ اپنے نور کی راہ بتاتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ مثالیں بیان فرماتا ہے لوگوں کے لئے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے‘‘-[55]

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’یہ ایسا نور ہے کہ جس کی مثال نہیں دی جاسکتی- یہ نور سرد آگ ہےجو سرخ اور معطر ہے اور پانی زیادتی کی وجہ سے شیشہ وجود کی قندیل میں عرقِ گلاب کی طرح بھری ہوئی ہے-آدمی کے وجود میں شیشے کی وہ قندیل دل ہے جس میں درختِ زیتون محبتِ الٰہی ہے- اس درخت کا تیل معرفتِ الٰہی میں محویت ہے جس سے دل کے چراغ میں نورِ ایمان کی بتی روشن ہوتی ہے-اس نور کی روشنی میں آنکھ آخرت کا مشاہدہ کرتی ہے‘‘- [56]

پارہ نمبر:19

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ‘‘[57]

’’کیا تم نے اس شخص کو دیکھا کہ جس نے ہوائے نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے‘‘-

 فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

ابیات:

  1. در وجودی دو خدا ہر یک شناس و ز دوئی بگزر بیابی حق سپاس

’’تیرے وجود میں دو خدا موجود ہیں،انہیں پہچان اوردوئی کو ختم کرکے ایک خدا تک رسائی حاصل کر‘‘[58]

  1. نفس شہوت رابہ کش کلی ہوا تاتراحاصل شودواحد خدا

نفس و شہوت و ہوا کا خاتمہ کرتاکہ تجھے وحدہ لاشریک خدا کا قرب نصیب ہو‘‘-

پارہ نمبر:20

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی‘‘[59]

’’ اےنبی بےشک آپ ان مردوں کو نہیں سنا سکتے‘‘-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’جس دل میں طمع و حرص زیادہ ہوجائےوہ دنیا فانی کے لایعنی اشتغال میں محو رہ کر مردہ و افسردہ رہتا ہے اور معرفتِ توحیدِ مولیٰ میں قدم نہیں رکھتا- اگر آپؒ اسے وعظ و نصیحت کریں یا آیتِ قرآن کی تفسیر و احادیث و مسائل علمِ فقہ و خوف و رجا و اقوالِ مشائخ پڑھ کر سنادیں اس پر کوئی اثر نہیں ہوگا اور نہ کوئی فائدہ ہوگا- فرمانِ حق تعالیٰ ہے: ’’اےنبی بے شک آپ ان مردوں کو نہیں سنا سکتے‘‘-[60]

پارہ نمبر:21

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’مَا جَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِہٖ‘‘[61]

’’اللہ نے کسی آدمی کے لیے اس کے پہلو میں دو دِل نہیں بنائے‘‘-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’نیز یہ آیت بھی فقراء کے بارے میں ہے-فرمانِ حق تعالیٰ ہے:’’اللہ تعالیٰ نے کسی کے سینے میں دو دل نہیں رکھے‘‘- ’’رسالہ غوث العالم محی الدین‘‘میں تحریر ہے کہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا:میرے نزدیک فقیر وہ نہیں کہ جس کی ملکیت میں کچھ نہ ہوبلکہ فقیر وہ ہے کہ جس کا حکم ہر چیز پر چلتا ہو-وہ جس چیز کے لیے کَہ دے کہ ’’ہو جا‘‘وہ ہو جائے-اے غوث محی الدین!اپنے احباب و اصحاب سے کَہ دو-جو شخص میری محبت کا طالب ہے اسے چاہیے کہ فقر اختیار کرےکہ فقر جب کامل ہوتا ہے تو اللہ ہی اللہ ہوتا ہے-اے غوث محی الدین اپنے اصحاب سے کہہ دو کہ: ’’دعوتِ فقر کو غنیمت جانیں کہ بے شک فقراء میرے ساتھی ہیں اورمیں ان کا ساتھی ہوں‘‘-اےغوث محی الدین! جب کسی کو فقر کی آگ میں جلتا ہوا اور کثرتِ فاقہ سے شکستہ حال دیکھو تو اس کے ساتھی بن جاؤکہ اس کے اور میرے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا-’’حضور علیہ الصلوۃوالسلام کا فرمان ہے:(1)’’فقر لوگوں کے نزدیک ملامت ہی ملامت ہے لیکن اللہ کے نزدیک ایک انمول خزانہ ہے‘‘- (2)’’فقیر اگر شقی بھی ہوتو شاکر غنی سے افضل ہے‘‘- (3)’’فقر دونوں جہان میں چہرے کا نور ہے‘‘-[62]

پارہ نمبر:22

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’اِعْمَلُوْا اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًاوَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ‘‘[63]

’’اےآلِ داؤد شکر گزاری کرو، بندے بہت ہی کم شکر گزار ہوتے ہیں‘‘-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’پس غور کر کہ فقر پر صبرشکر کوئی نہیں کرتا سوائے ذاکر حقیقی اور صابرِ تحقیقی کے- دنیا اور دنیا کی کوئی نعمت بھی حقیقت میں تعمت نہیں ہےکہ قیامت کے دن یہ سب نعمتیں کڑوی محسوس ہوں گی‘‘-

پارہ نمبر:23

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’یٰبَنِیْ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ ۚ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ‘‘[64]

’’اے اولادِ آدم شیطان کی پیروی مت کرو،بےشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے‘‘-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’جو آدمی نفس کو قید کرلیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا ومحبت حاصل کرلیتا ہےاور جو آدمی نفس کو بند نہیں کرتا اسے نفس و شیطان کی رضا و محبت حاصل رہتی ہے-اے باھو! نفس کو کتا سمجھ،اس کتے کو مت پال،شیطان کا پیروکار ہوکر شیطانی مت کر- فرمانِ حق تعالیٰ ہے: ’’اے اولادِ آدم شیطان کی پیروی مت کرو،بےشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے‘‘-جس آدمی کے دل کا میلان نفس کی طرف ہوجاتا ہےاس کا دل سیاہ ہو جاتا ہے اور اس میں غفلت پیدا ہو جاتی ہے- جب نفس و دل ایک ہو جاتے  ہیں روح عاجز و کمزور ہو جاتی ہے اور جب دل و روح ایک ہو جاتے ہیں تو نفس کمزور و  عاجز ہو کر غریب و تابع ہو جاتا ہے-یہ فقیر باھو کہتا ہےکہ ایک ہدایتِ الٰہی بہتر ہےہزار دشمنِ نفس و شیطان سے- جس دل پر رحمتِ خداوندی کی نظر ہےوہ نفس و شیطان سے جدا ہے‘‘-[65]

پارہ نمبر:24

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْ اِلَی اللّٰہِ  اِنَّ اللّٰہَ بَصِیْرٌبِالْعِبَادِ‘‘

’’ اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، بے شک اللہ بندوں کو دیکھنے والا ہے‘‘-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’بندہ نہ تو اپنی مرضی سے پیدا ہوتا ہےاور نہ ہی کوئی کام اس کی مرضی سے ہوتا ہے- حدیث:حکیم کا کوئی کام بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتا- لہٰذا بہتر یہ ہے کہ تو اپنا ہر معاملہ خدا کے سپرد کر دے اور خود کو درمیان سے ہٹا دے - فرمانِ حق تعالیٰ ہے:میں اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں، بےشک وہ اپنے بندوں کی خبرگیری کرتا ہے‘‘-[66]

پارہ نمبر:25

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَہُمْ مَّعِیْشَتَہُمْ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ‘‘[67]

’’ ہم نے دنیا میں ان کی روزی تقسیم کردی ہے اور بعض کو بعض پر فوقیت دےدی ہے‘‘-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’اے درویش!غور کر، تیرا فکر و غم حق سبحانہ کی خاطر ہونا چاہیے نہ کہ اولاد و رزق کی خاطر- فرمانِ حق تعالیٰ ہے: ’’ہم نے دنیا میں ان کی روزی تقسیم کردی ہے اور بعض کو بعض پر فوقیت دےدی ہے‘‘-[68]

پارہ نمبر:26

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

فَاعْلَمْ اَنَّہٗ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ اللہُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِط وَاللہُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَکُمْ وَمَثْوٰکُمْo

’’پس جان لیجیے کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ (اظہارِ عبودیت اور تعلیمِ امت کی خاطر اﷲ سے) معافی مانگتے رہا کریں کہ کہیں آپ سے خلافِ اولیٰ (یعنی آپ کے مرتبہ عالیہ سے کم درجہ کا) فعل صادر نہ ہو جائے اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کیلیے بھی طلبِ مغفرت (یعنی ان کی شفاعت) فرماتے رہا کریں (یہی ان کا سامان بخشش ہے)اور (اے لوگو!) اﷲ (دنیا میں) تمہارے چلنے پھرنے کے ٹھکانے اور (آخرت میں) تمہارے ٹھہرنے کی منزلیں (سب) جانتا ہے‘‘-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’اہل معافی کہتے ہیں کہ یہ خطاب حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام سے  ہے اور اس سے مراد ان کے غیر ہیں کیونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام خوب جانتے تھے کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں‘‘- [69]

پارہ نمبر:27

’’ وَ ہُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ ‘‘[70]

’’اور میں تمہارے ساتھ ہوں تم کہیں بھی ہو‘‘-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’اگر تو یہ جان لے کہ خدا تیرے ساتھ ہےتو پھر تو کسی اور سے مت ڈراور نہ ہی کسی سے خوف کھااور اگر تو یہ سمجھے کہ خدا تیرے ساتھ نہیں ہے تو تو مشرک ہےاور تو خراب ہوگا- میں ایسے عقیدے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں‘‘- [71]

پارہ نمبر:28

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآئَ تُلْقُوْنَ اِلَیْھِمْ بِالْمَوَدَّۃِ ‘‘[72]

’’اے ایمان والو! تم میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ- تم ان کے دوست بن کر ان کو خبریں مت پہنچایا کرو‘‘-

یعنی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اےمومنو! تم میرے دشمنوں کو اپنا دوست مت بناؤکہ جو لوگ میری بندگی کے لائق نہیں وہ تمہاری دوستی کے بھی لائق نہیں-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

اس لئے کہ دنیا، اہلِ دنیاِ، نفس، شیطان اور کافر خدا کے دشمن ہیں لہٰذا دوستانِ خدا کو چاہیے کہ وہ خدا کے ان دشمنوں سے ترکِ تعلق ہوکر ان سے بیزار ہوجائیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کا فرمان ہے:میں نیک کردار و پرہیزگار ہوں اور اہلِ تکلیف امت سے بیزار ہوں اور دنیا مطلق تکلیف ہے‘‘-[73]

پارہ نمبر:29

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَ اذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ بُکْرَۃً وَّ اَصِیْلًا‘‘[74]

’’اور ذکر کر اپنے رب کے نام کا صبح و شام‘‘-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’اس سے مراد وہ ذکر ہےجو منہ اور زبان بند کرکے خفیہ طور پر دل میں کیا جاتا ہے- اس کا تعلق تصدیقِ دل سے ہے کہ یہ ذکرِ قلب ہے- ذاکر قلبی خود کو قبائے الٰہی میں پوشیدہ رکھتا ہےکہ ذکرِ قلب کو اہلِ قالب (اہلِ نفس) پر ظاہر کرنا خود فروشی ہے‘‘-[75]

پارہ نمبر:30

’’اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ‘‘[76]

’’(اے حبیب!) اپنے رب کے نام سے (آغاز کرتے ہوئے) پڑھئے جس نے (ہر چیز کو) پیدا فرمایا‘‘-

قرآن مجید میں سورۃ اقراء یعنی سورۃ علق اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ سب سے پہلے جب حق سبحانہ تعالیٰ کے نور سےنورِ محمد (ﷺ) کا ظہور ہوا تو نورِ محمد (ﷺ)  کو ا’’اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ‘‘کی تعلیم سے سنوارا گیا- بعد میں روحِ محمد (ﷺ)  کو حق سبحانہ تعالیٰ نے زبان وآواز کے واسطے کے بغیر ہی ’’اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ‘‘ کی تعلیم فرمائی- اس کے بعد وحی آئی اور فرمایا گیا: ’’اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ‘‘ یعنی اے محمد(ﷺ)! پڑھ اپنے رب کا نام لے کر جس نے مخلوق کو پیدا کیا-

فرمانِ حضرت سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ):

’’پس اسم اللہ پڑھتے ہی حضور علیہ الصلوٰۃو السلام پرہر کلام و ہر علم و ہر بولی اور جملہ علومِ ہردو جہانی، تمام اسرارِ سبحانی اور تمام رموزِ معرفتِ رحمانی واضح روشن ہوگئے‘‘- [77]

حاصلِ کلام:

قرآن مجید فرقان حمید رموزِ اسرار الٰہی سے مزین ایک ایسی الہامی کتاب ہے جسے حضورِ نبی کریم (ﷺ) کی ذاتِ مبارکہ نے ہی خالقِ کائنات سے ربط کیلئے سہل ترین عملی نمونہ کے طور پر پیش کیا-

حضور سلطان العارفینؒ ارشاد فرماتے ہیں-

’’سر قرآن است رازش مصطفیٰ سر نہ بوودے کس نہ گفتن جزالہٗ‘‘

’’سرِ الٰہی قرآن ہے اور اس کے راز دان حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام ہیں- اگر قرآن و حضور (ﷺ) نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ سے کوئی باخبر نہ ہوتا‘‘-

مزید فرماتے ہیں:

دست بیعت کرد مارا مصطفے
خوانداست فرزند مارا مجتبے
شد اجازت باھُو را از مصطفے
خلق را تلقین بکن بہر از خدا

’’مجھے حضرت محمد (ﷺ)نے دستِ بیعت فرمایااور انہوں نے مجھے اپنا حضوری فرزند قرار دیا- مجھے حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے اجازت دی ہے کہ میں خلقِ خدا کو تلقین کروں‘‘-

آپ قدس اللہ سرّہٗ ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:

بے مرشداں را مرشدم من بہر از خدا
بے پیراں را پیریم من از مصطفے

آپؒ مزید فرماتے ہیں-

فقر را برداشتم نظر از نبی
 ہر بند روئے من گرد ولی
ایں علم تعلیم مارا از نبی
ہر کہ طالب از من است اہل از ولی

آپ نے اپنی تصانیف میں جو علمِ ربانی درج فرما دیا ہے وہ کسی عقل و نقل کی پیداوار نہیں ہے بلکہ بارگاہِ نبوی سے حاصل کردہ ہے-

حضور سلطان العارفینؒ کی تعلیمات کا مختصراً استدلال بذریعہ قرآن مجید کا مقصد آپؒ کی تعلیمات کی عوام الناس تک کی رسائی اور آپؒ کی تصانیف کا مطالعہ اور قرآن کریم کے رموز سے آگاہی طالبانِ مولیٰ کو اُن خزائنِ حقیقی تک پہنچانا ہے جس کی کنجی اسم اللہ ذات ہے-  قفل کلمہ طیب کو کھولنے کی چابی تصور اسم اللہ ذات ہے- جیسا کہ آپ قدس اللہ سرّہٗ کے منظوم کلام کا مجموعہ ’’چنبے دی بوٹی‘‘کے نام سے مشہور ہے، پہلی رباعی کا مصرعہ بھی یہی ہے-

الف اللہ چنبے دی بوٹی میرے من وچ مرشد لائی ھو

 آپ کی تعلیمات کا محور دعوت الی اللہ ہے جس کا مقصد ذاتِ باری تعالیٰ کو دل میں جاگزیں کرنا اور معرفتِ الٰہی کی جوت جگانی ہے اور رضائے الٰہی کیلئے قرآن کریم کے ظاہرو باطن سے یکساں رہنمائی تعلیماتِ باھُو کا خاصہ رہا ہے-

٭٭٭


[1](شمس العارفین، ص:131)

[2](شمس العارفین، ص:133)

[3](عقلِ بیدار، ص:101)

[4](نور الھدیٰ، ص:153)

[5](محک الفقر، ص:207)

[6](ایضاً، ص:527)

[7](شمس العارفین، ص :165)

[8](ایضاً، ص:85)

[9](نور الھدیٰ،  ص :215)

[10](کلید التوحید، ص:151)

[11](عقلِ بیدار،  ص: 223)

[12](محک الفقر، ص:631)

[13](محک الفقر ، ص:697)

[14](ایضاً، ص:577)

[15](ایضاً، ص:619)

[16](ایضاً، ص:503)

[17](احوال و مقامات حضرت سلطان باھو، احمد سعید ہمدانی، ص:77)

[18](اسرار القادری،  ص:33)

[19](اشاعت خاص: حضرت سلطان باھو اور قرآن: ایم اے شاکر)

[20](البقرہ:67)

[21](محک الفقرکلاں، ص:613)

[22](البقرہ:194)

[23](محک الفقر،  ص:73)

[24](البقرہ:268)

[25](کلید التوحید،  ص:355)

[26](آلِ عمران:92)

[27](کلید التوحید،  ص:143)

[28](النساء:77)

[29](کلید التوحید،  ص :403)

[30](المائدہ: 35)

[31](کلید التوحید،  ص:509)

[32](الانعام:94)

[33](محک الفقر کلاں،  ص:445)

[34](الانعام:121)

[35](عین الفقر،  ص:69)

[36](الانفال:29)

[37](محک الفقر، ص:547)

[38](التوبہ:51)

[39](اسرار القادری، ص:167)

[40](الیونس:62)

[41](شمس العارفین ، ص:81)

[42](ھود:6)

[43](کلید التوحید،  ص:517-519)

[44](ابراہیم:27)

[45](عین الفقر ، ص :123)

[46](الحجر:29)

[47](اسرار القادری،  ص:47)

[48](الکہف:35)

[49](محک الفقر کلاں،  ص:33)

[50](الکہف:78)

[51](اسرار القادری ، ص:99)

[52](الانبیاء :69)

[53](محک الفقر ، ص:685)

[54](النور:135)

[55](کنز الایمان)

[56]( مجالسۃ النبی خورد ، ص:41-43)

[57](الفرقان:43)

[58](کلید التوحید ، ص:143)

[59](النمل:80)

[60](اسرارالقادری ، ص:63)

[61](الاحزاب:4)

[62](عین الفقر،ص:63)

[63](السباء:13)

[64](یسین:60)

[65](عین الفقر، ص:153)

[66](شمس العارفین ، ص:125)

[67](الزخرف:32)

[68](محک الفقر،  ص:255)

[69](محک الفقر،  ص:697)

[70](الحدید:4)

[71](محک الفقر،  ص:381)

[72](الممتحنہ:1)

[73](محک الفقر،  ص:375)

[74](الدھر :25)

[75](محک الفقر،  ص:123)

[76](العلق:1)

[77](محک الفقر،  ص:207)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر