مختصر ذکروتذکرہ : سلطان سیدمحمدبہادرعلی شاہ صاحب ؒ

مختصر ذکروتذکرہ : سلطان سیدمحمدبہادرعلی شاہ صاحب ؒ

مختصر ذکروتذکرہ : سلطان سیدمحمدبہادرعلی شاہ صاحب ؒ

مصنف: ایم رحمت فروری 2016

حضرت سلطان سیّد محمد بہادر علی شاہ صاحب(رح) کی حیاتِ تابندہ پہ طائرانہ نظر:

شہبازِ عارفاں حضرت سلطان سیّد محمد بہادر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کاظمی سیّد ہیں اور آپ (رح)کا سلسلہ نسب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اولاد میں سے حضرت امام موسیٰ کاظم (رض) سے جا ملتا ہے- آپ(رح) کا تعلق حضرت سیّد عبد الطیف شاہ صاحب (رح) المعروف امام برّی رحمتہ اللہ علیہ کے خاندان سے ہے - آپ(رح) کے بزرگ ضلع جھنگ کی تحصیل شورکوٹ تشریف لائے تو شور کوٹ کے شمال مغرب میں تقر یباًچار میل کے فاصلے پر واقع ایک گائوں حسّو والی میں قیام پذیر ہو گئے -اُس وقت یہ علاقہ اَن پڑھ ، غیر مسلموں سے بھرا ہوا تھا،آپ (رح) کے بزرگوں نے یہاں پر دینِ اسلام کی تعلیمات لوگوں تک پہنچائیں اور لوگوں کومشرفِ اسلام - (رح) ۷۱۲۱ہجری بمطابق 1801عیسوی اِسی قصبہ میں حضرت سلطان سیّد محمد بہادر علی شاہ(رح) کی وِلادت باسعادت ہوئی- آپ(رح) کے والد ِمحترم سیّد فتح محمد شاہ المشہدی الکاظمی درویش صفت انسان تھے- اکثر اوقات دربار حضرت سلطان باھُو رحمۃ اللہ علیہ پر حاضری کیلئے تشریف لے جاتے جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ حضرت سلطان محمد باھُو رحمۃ اللہ علیہ (رح)کے عقیدت مندوں اور فیض یافتہ تھے-

سات سال کی عمر میں آپ(رح) کے والد صاحب آپ(رح) کو سلام کی غرض سے سلطان العارفین حضرت سلطان باھُو رحمۃ اللہ علیہ(رح) کے دربار پر لے گئے اور وہاں سات روز قیام فرما یا-اِن سات دنوں کے قیام کے دوران سلطان العارفین حضرت سلطان باھُو(رح)رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت سلطان سیّدمحمد بہادر علی شاہ(رح)پر باطنی توجہ فرماکر تمام ظاہری و باطنی خزائن عطا کردئیے-

نگاہِ ولی میں وہ تاثیر دیکھی

بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی

حضرت سلطان سیّدمحمد بہادر علی شاہ(رح)نے سینکڑوں کی تعداد میں سونے کے پانی سے لکھے ہوئے اسم اللہ ذات طالبانِ مولیٰ کو عطا فرمائے جو آپ (رح) خاص طور پر ملتان کے ایک زرگر سے تیار کرواتے تھے اور اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے -

 حضرت سلطان سیّد محمد بہادر علی شا ہ صاحب(رح) نے طالبانِ مولیٰ کیلئے سرائیکی زبان میں ابیات اورمناجات تحریر فرمائیں جو اپنے منفرد اَسلوب کی وجہ سے ممتاز مقام کے حامل ہیں-آپ(رح) کا کلام سالکانِ راہِ حق کیلئے مینارۂ نور ہے- آپ کی شاعری تخیل اور تصوّر کی بجائے حقیقت ِ حق کے بھیدوں پر مشتمل ہے-جیسا کہ سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قصیدہ میں فرماتے ہیں:

ففی قصۃ الخضر الکریم لفایہ

بقتل غلام والکلیم یدافع

’’حضرت خضر علیہ السلام کا قصہ تیرے لئے کافی ہے جب انہوں نے بچہ کو قتل کیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام ان پر اعتراض کرتے تھے‘‘-

فلما اضائ الصبح عن لیل سترہ

وسل حساما للغیاھب قاطع

’’جب صبح رات کی تاریکی سے روشن ہوئی اور اس نے اندھیروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار سونت لی‘‘-

اقام لہ العذر الکلیم وانہ

کذلک علم القوم فیہ بلائع

’’تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کے سامنے عذر پیش کیا ، اسی طرح صوفیائے کرام کے کلام میں بھی عجیب و غریب نکات ہوتے ہیں‘‘-

﴿تصوف کے روشن حقائق:مصنف:حضرت شیخ عبدالقادر الشاذلی، مترجم :الاستاذ محمد اکرم الازھری ، ص ۸۶

حضرت سلطان سیّد محمد بہادر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ثابت سمجھ تامل کر جد اُسجد دا فرمان ہویا

عامل ملائک کل رہے ‘ نافرمان شیطان ہویا

خَشم   دی  چشم  نوں  طِین لیا ، وَنَفَخْتُ  توں نادان ہویا

سلطان سیّد محمدبہادرشاہ (رح) پناہ اس علم کولوں از دست سب نقصان ہویا

شیخِ اکبر محی الدین ابنِ عربی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

ادین بدین الحب أنی توجھت

رکایبہ فاالدین دینی وایمانی

’’مَیں مذہبِ عشق کا پیروکار ہوں اور اسی سمت چلتا ہوں جدھر اس کا کارواںمجھے لے جائے کیونکہ یہی میرا دین ہے اور یہی میرا ایمان‘‘-

﴿ترجمان الاشواق ،ابن العربی،ص ۱۱

 حضرت سلطان سیّد محمد بہادر علی شا ہ صاحب(رح) ،سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

بنام اللہ سنو فریاد یا محبوبِ سبحانی(رح)

کرو ہر دم مہربانی اے محی الدین جیلانی(رح)

تیرا سایہ ولّیاں پر

میرے سر تے قدم خوش دَھر

نہ ہووم کوئی ضرورت ڈر

کرو چا فیض بارانی

بنام اللہ سنو فریاد یا محبوبِ سبحانی(رح)

توں ہیں چشمہ ہدایت دا

توں ہیں منبع ولایت دا

تیرا رتبہ نہایت دا

کر ایہہ مقبول نادانی

بنام اللہ سنو فریاد یا محبوبِ سبحانی(رح)

اَلا یا غوثِ صمدانی(رح)

سَگم درگاہِ جیلانی(رح)

بخواہم قربِ ربانی

عطا کر لطفِ احسانی

بنام اللہ سنو فریاد یا محبوب سبحانی(رح)

 ۹۰۸۱ئ میں حضرت سلطان سیّد محمدبہادر علی شاہ صاحب کی عمر مبارک تقریباً آٹھ سال کی تھی -اُس وقت دربارِ پُر انوار کے سجادہ نشین سلطان محمد حسین(رح) تھے جوکہ حضرت سلطان باھُو رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے اور سجادہ نشین تھے - دربارِ پُر انوار پر آپ (رح) نے کافی عرصہ زائرین کیلئے وضو کے پانی بھرنے میں گزارابلکہ اپنی تمام عمر حضرت سلطان باھُو رحمۃ اللہ علیہ (رح) کی خدمت میں گزاردی اور مقام محبوبِ سلطانی پایا-حضرت سلطان سیّد محمد بہادر علی شا ہ صاحب(رح) ، حضرت سلطان محمد باھُو رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں لکھتے ہیں :

سبحان اﷲ سلطان صاحب(رح) دا محل مقدس وادی

ھُو اﷲ تے یاھُو دی ہے سَدا نِدا منادی

وجدانی عرفانی دی واہ اس جا کل آبادی

فیض رسانی دا ہے قبلہ روز ازل دا عادی

بخشے لکھ ہا گنج الٰہی خاص جمعیت شاہ دی

اکسیر نظر تے قُلزم رحمت تعریف اس راہنما دی

سن فریاد نمانے دی یا اکمل مرشد ہادی٭

عشق دا مکتب کھولیا ہے سلطان(رح) سوہنے عالیشان سائیں

داخل مکتب ہوون جانن یکساں سود زیان سائیں

دَسے الف، وکھائے ہک، صحیح اُستاد ہے اہل عرفان سائیں

سلطان سیّد محمدبہادر شاہ(رح) مدارج طے ہوون ہک آن تے ہک زمان سائیں

جیسا کہ سلطان العارفین حضرت سلطان محمد باھُو رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ہر کہ طالب حق بود من حاضرم

ز ابتدا تا انتہا یک دم برم

طالب بیا طالب بیا طالب بیا

تارسانم روزِ اوّل با خدا

 ’’ جو شخص ذات ِحق تعالیٰ کا طالب ہے وہ میرے پاس آجائے مَیں اُسے ایک ہی دم میں ابتداسے انتہا تک پہنچا دوںگا-اے طالب ِحق آجا،اے طالب ِحق آجا،اے طالب ِحق آ جا تاکہ مَیںتجھے پہلے ہی روز واصل باللہ کردوں-‘‘

حضرت سلطان محمدباھُو رحمۃ اللہ علیہ کے کہنے پر حضرت سلطان سیّد محمد بہادر علی شا ہ صاحب آپ (رح) کے خلیفہ مجاز پیر سیّد عبدالغفور شاہ صاحب جوکہ دربارسلطان باھُوسے ۳۱ کلومیٹر کے فاصلے پر مشرق کی جانب قیام پذیر تھے کے ہاتھ پر ظاہری بیعت کی-حضرت سلطان سیّد محمد بہادر علی شا ہ صاحب(رح) ، پیر سیّد عبدالغفور شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں لکھتے ہیں :

ذکر تے فکر قبول تداں دل مرشد دا رابطہ دار ہووے

حضرت عبدالغفور حضور ہووے اغیار نہ کیوں مسمار ہووے

دَم دَم دے نال جے پیر ویکھیں غم دور حاضر ستار ہووے

سلطان سیّد محمدبہادر  شاہ(رح) نادان جہان سَے ‘ جنہاں پیر کولوں اِنکار ہووے

شیخ یعنی مرشدکا فائدہ یہ ہے کہ وہ مرید کیلئے ﴿وصول الٰی اللّٰہ﴾ کے راستے کو مختصر کر دیتا ہے جوسالک بغیر شیخ ﴿مرشد﴾ کے اس راستہ پر چلتا ہے وہ بھٹک جاتا ہے اور اپنی تمام عمر صَرف کرنے کے باجود بھی منزلِ مقصود حاصل نہیں کرسکتا -امام عبدالوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ’’العھود المحمدیہ‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’ اگر منزل کا حصول بغیر شیخ ﴿مرشد﴾ کے صرف کتابوں کے مطالعہ سے ممکن ہوتا تو حجۃ الاسلام امام غزالی ، امام عز الدین بن عبدالسلام رحمہ اللہ علیہم جیسے علمائ کو شیخ ﴿مرشد﴾ کی ضرورت نہ ہوتی‘‘-

﴿بحوالہ: تصوف کے روشن حقائق: مصنف: حضرت شیخ عبدالقادر الشاذلی، مترجم :الاستاذ محمد اکرم الازھری ، ص ۰۷

سلطان سیّد محمد بہادر علی شا ہ صاحب(رح) رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

طلب تینوں جے خدا دی ہے اوّل مرشد گول کمال میاں

پیر ملیا تے رب مل گیا ایہا مثل ہے بے مثال میاں

اسمآئ صفات عبارت ہن توں معنے ویکھ جمال میاں

سلطان سید محمدبہادر شاہ(رح)  جے ہادی اﷲ ویکھیں ہوویں کامل صاحبِ حال میاں

کیونکہ راہبر اور مرشد ، سالک کو امن و امان کے ساحل تک پہنچاتا ہے اور اس کو پھسلنے اور راستہ کے خطرات سے بچاتا ہے-اس کی وجہ یہ ہے کہ مرشد اُس راہ کے پیچ و تاب سے بخوبی واقف ہوتا ہے- جیسا کہ حضرت سلطان سیّد محمد بہادر علی شا ہ صاحب(رح) رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

اﷲ دی خبر نہ بھلیاں نوں بھلے پیر توں رب توں بھل گئے

رفیق بناں طریق ناہیں اوجھڑ جنگل دے وچ رُل گئے

ہویا علم حجاب کبیر اکبر تولے نفس ہوا دے تل گئے

سلطان سید محمدبہادر شاہ(رح)  جنہاں’’پیر ‘‘پا لیا آہے جز تے ہو اوہ کل گئے

المختصر طالب ِ حق کو چاہیے کہ اپنے آپ کو کسی ایسے شیخِ کامل کے سپرد کردے جو اس کی نگہبانی اور طریقِ حق کی طرف نگرانی کرے اور اس کی زندگی کے تاریک پہلوئوں کو روشن و تابندہ کردے- یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت علی وجہ البصیرۃ اور یقینِ کامل کے ساتھ کرنا شروع کردے مرشد کی بارگاہ میں با ادب رہ کر اس کی وعظ و نصیحت کے مطابق عمل پیرا رہے اور عیوب سے پاک اور صفاتِ حسنہ سے مزین ہوکر منازلِ سلوک طے کرنے کا معاہدہ کرے تاکہ مختلف مقامات میں ترقی کرتے ہوئے مقامِ احسان تک پہنچ جائے -

حضرت سلطان سیّد محمد بہادر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے 133سال کی عمر پائی اور 1934ئ میں وصال فرمایا- آپ (رح)کا مزار مبارک شور کوٹ سے قریبی ’’قاسم آباد‘‘ میں ہے -

حضرت سلطان سیّد محمد بہادر علی شاہ صاحب(رح) کی حیاتِ تابندہ پہ طائرانہ نظر:

شہبازِ عارفاں حضرت سلطان سیّد محمد بہادر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کاظمی سیّد ہیں اور آپ (رح)کا سلسلہ نسب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اولاد میں سے حضرت امام موسیٰ کاظم (رض) سے جا ملتا ہے- آپ(رح) کا تعلق حضرت سیّد عبد الطیف شاہ صاحب (رح) المعروف امام برّی رحمتہ اللہ علیہ کے خاندان سے ہے - آپ(رح) کے بزرگ ضلع جھنگ کی تحصیل شورکوٹ تشریف لائے تو شور کوٹ کے شمال مغرب میں تقر یباًچار میل کے فاصلے پر واقع ایک گائوں حسّو والی میں قیام پذیر ہو گئے -اُس وقت یہ علاقہ اَن پڑھ ، غیر مسلموں سے بھرا ہوا تھا،آپ (رح) کے بزرگوں نے یہاں پر دینِ اسلام کی تعلیمات لوگوں تک پہنچائیں اور لوگوں کومشرفِ اسلام - (رح) ۷۱۲۱ہجری بمطابق 1801عیسوی اِسی قصبہ میں حضرت سلطان سیّد محمد بہادر علی شاہ(رح) کی وِلادت باسعادت ہوئی- آپ(رح) کے والد ِمحترم سیّد فتح محمد شاہ المشہدی الکاظمی درویش صفت انسان تھے- اکثر اوقات دربار حضرت سلطان باھُو رحمۃ اللہ علیہ پر حاضری کیلئے تشریف لے جاتے جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ حضرت سلطان محمد باھُو رحمۃ اللہ علیہ (رح)کے عقیدت مندوں اور فیض یافتہ تھے-

سات سال کی عمر میں آپ(رح) کے والد صاحب آپ(رح) کو سلام کی غرض سے سلطان العارفین حضرت سلطان باھُو رحمۃ اللہ علیہ(رح) کے دربار پر لے گئے اور وہاں سات روز قیام فرما یا-اِن سات دنوں کے قیام کے دوران سلطان العارفین حضرت سلطان باھُو(رح)رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت سلطان سیّدمحمد بہادر علی شاہ(رح)پر باطنی توجہ فرماکر تمام ظاہری و باطنی خزائن عطا کردئیے-

نگاہِ ولی میں وہ تاثیر دیکھی

بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی

حضرت سلطان سیّدمحمد بہادر علی شاہ(رح)نے سینکڑوں کی تعداد میں سونے کے پانی سے لکھے ہوئے اسم اللہ ذات طالبانِ مولیٰ کو عطا فرمائے جو آپ (رح) خاص طور پر ملتان کے ایک زرگر سے تیار کرواتے تھے اور اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے -

 حضرت سلطان سیّد محمد بہادر علی شا ہ صاحب(رح) نے طالبانِ مولیٰ کیلئے سرائیکی زبان میں ابیات اورمناجات تحریر فرمائیں جو اپنے منفرد اَسلوب کی وجہ سے ممتاز مقام کے حامل ہیں-آپ(رح) کا کلام سالکانِ راہِ حق کیلئے مینارۂ نور ہے- آپ کی شاعری تخیل اور تصوّر کی بجائے حقیقت ِ حق کے بھیدوں پر مشتمل ہے-جیسا کہ سیّدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قصیدہ میں فرماتے ہیں:

ففی قصۃ الخضر الکریم لفایہ

بقتل غلام والکلیم یدافع

’’حضرت خضر علیہ السلام کا قصہ تیرے لئے کافی ہے جب انہوں نے بچہ کو قتل کیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام ان پر اعتراض کرتے تھے‘‘-

فلما اضائ الصبح عن لیل سترہ

وسل حساما للغیاھب قاطع

’’جب صبح رات کی تاریکی سے روشن ہوئی اور اس نے اندھیروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار سونت لی‘‘-

اقام لہ العذر الکلیم وانہ

کذلک علم القوم فیہ بلائع

’’تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کے سامنے عذر پیش کیا ، اسی طرح صوفیائے کرام کے کلام میں بھی عجیب و غریب نکات ہوتے ہیں‘‘-

﴿تصوف کے روشن حقائق:مصنف:حضرت شیخ عبدالقادر الشاذلی، مترجم :الاستاذ محمد اکرم الازھری ، ص ۸۶

حضرت سلطان سیّد محمد بہادر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ثابت سمجھ تامل کر جد اُسجد دا فرمان ہویا

عامل ملائک کل رہے ‘ نافرمان شیطان ہویا

خَشم   دی  چشم  نوں  طِین لیا ، وَنَفَخْتُ  توں نادان ہویا

سلطان سیّد محمدبہادرشاہ (رح) پناہ اس علم کولوں از دست سب نقصان ہویا

شیخِ اکبر محی الدین ابنِ عربی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

ادین بدین الحب أنی توجھت

رکایبہ فاالدین دینی وایمانی

’’مَیں مذہبِ عشق کا پیروکار ہوں اور اسی سمت چلتا ہوں جدھر اس کا کارواںمجھے لے جائے کیونکہ یہی میرا دین ہے اور یہی میرا ایمان‘‘-

﴿ترجمان الاشواق ،ابن العربی،ص ۱۱

 حضرت سلطان سیّد محمد بہادر علی شا ہ صاحب(رح) ،سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

بنام اللہ سنو فریاد یا محبوبِ سبحانی(رح)

کرو ہر دم مہربانی اے محی الدین جیلانی(رح)

تیرا سایہ ولّیاں پر

میرے سر تے قدم خوش دَھر

نہ ہووم کوئی ضرورت ڈر

کرو چا فیض بارانی

بنام اللہ سنو فریاد یا محبوبِ سبحانی(رح)

توں ہیں چشمہ ہدایت دا

توں ہیں منبع ولایت دا

تیرا رتبہ نہایت دا

کر ایہہ مقبول نادانی

بنام اللہ سنو فریاد یا محبوبِ سبحانی(رح)

اَلا یا غوثِ صمدانی(رح)

سَگم درگاہِ جیلانی(رح)

بخواہم قربِ ربانی

عطا کر لطفِ احسانی

بنام اللہ سنو فریاد یا محبوب سبحانی(رح)

 ۹۰۸۱ئ میں حضرت سلطان سیّد محمدبہادر علی شاہ صاحب کی عمر مبارک تقریباً آٹھ سال کی تھی -اُس وقت دربارِ پُر انوار کے سجادہ نشین سلطان محمد حسین(رح) تھے جوکہ حضرت سلطان باھُو رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے اور سجادہ نشین تھے - دربارِ پُر انوار پر آپ (رح) نے کافی عرصہ زائرین کیلئے وضو کے پانی بھرنے میں گزارابلکہ اپنی تمام عمر حضرت سلطان باھُو رحمۃ اللہ علیہ (رح) کی خدمت میں گزاردی اور مقام محبوبِ سلطانی پایا-حضرت سلطان سیّد محمد بہادر علی شا ہ صاحب(رح) ، حضرت سلطان محمد باھُو رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں لکھتے ہیں :

سبحان اﷲ سلطان صاحب(رح) دا محل مقدس وادی

ھُو اﷲ تے یاھُو دی ہے سَدا نِدا منادی

وجدانی عرفانی دی واہ اس جا کل آبادی

فیض رسانی دا ہے قبلہ روز ازل دا عادی

بخشے لکھ ہا گنج الٰہی خاص جمعیت شاہ دی

اکسیر نظر تے قُلزم رحمت تعریف اس راہنما دی

سن فریاد نمانے دی یا اکمل مرشد ہادی

٭

عشق دا مکتب کھولیا ہے سلطان(رح) سوہنے عالیشان سائیں

داخل مکتب ہوون جانن یکساں سود زیان سائیں

دَسے الف، وکھائے ہک، صحیح اُستاد ہے اہل عرفان سائیں

سلطان سیّد محمدبہادر شاہ(رح) مدارج طے ہوون ہک آن تے ہک زمان سائیں

جیسا کہ سلطان العارفین حضرت سلطان محمد باھُو رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

ہر کہ طالب حق بود من حاضرم

ز ابتدا تا انتہا یک دم برم

طالب بیا طالب بیا طالب بیا

تارسانم روزِ اوّل با خدا

 ’’ جو شخص ذات ِحق تعالیٰ کا طالب ہے وہ میرے پاس آجائے مَیں اُسے ایک ہی دم میں ابتداسے انتہا تک پہنچا دوںگا-اے طالب ِحق آجا،اے طالب ِحق آجا،اے طالب ِحق آ جا تاکہ مَیںتجھے پہلے ہی روز واصل باللہ کردوں-‘‘

حضرت سلطان محمدباھُو رحمۃ اللہ علیہ کے کہنے پر حضرت سلطان سیّد محمد بہادر علی شا ہ صاحب آپ (رح) کے خلیفہ مجاز پیر سیّد عبدالغفور شاہ صاحب جوکہ دربارسلطان باھُوسے ۳۱ کلومیٹر کے فاصلے پر مشرق کی جانب قیام پذیر تھے کے ہاتھ پر ظاہری بیعت کی-حضرت سلطان سیّد محمد بہادر علی شا ہ صاحب(رح) ، پیر سیّد عبدالغفور شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں لکھتے ہیں :

ذکر تے فکر قبول تداں دل مرشد دا رابطہ دار ہووے

حضرت عبدالغفور حضور ہووے اغیار نہ کیوں مسمار ہووے

دَم دَم دے نال جے پیر ویکھیں غم دور حاضر ستار ہووے

سلطان سیّد محمدبہادر  شاہ(رح) نادان جہان سَے ‘ جنہاں پیر کولوں اِنکار ہووے

شیخ یعنی مرشدکا فائدہ یہ ہے کہ وہ مرید کیلئے ﴿وصول الٰی اللّٰہ﴾ کے راستے کو مختصر کر دیتا ہے جوسالک بغیر شیخ ﴿مرشد﴾ کے اس راستہ پر چلتا ہے وہ بھٹک جاتا ہے اور اپنی تمام عمر صَرف کرنے کے باجود بھی منزلِ مقصود حاصل نہیں کرسکتا -امام عبدالوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ’’العھود المحمدیہ‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’ اگر منزل کا حصول بغیر شیخ ﴿مرشد﴾ کے صرف کتابوں کے مطالعہ سے ممکن ہوتا تو حجۃ الاسلام امام غزالی ، امام عز الدین بن عبدالسلام رحمہ اللہ علیہم جیسے علمائ کو شیخ ﴿مرشد﴾ کی ضرورت نہ ہوتی‘‘-

﴿بحوالہ: تصوف کے روشن حقائق: مصنف: حضرت شیخ عبدالقادر الشاذلی، مترجم :الاستاذ محمد اکرم الازھری ، ص ۰۷

سلطان سیّد محمد بہادر علی شا ہ صاحب(رح) رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

طلب تینوں جے خدا دی ہے اوّل مرشد گول کمال میاں

پیر ملیا تے رب مل گیا ایہا مثل ہے بے مثال میاں

اسمآئ صفات عبارت ہن توں معنے ویکھ جمال میاں

سلطان سید محمدبہادر شاہ(رح)  جے ہادی اﷲ ویکھیں ہوویں کامل صاحبِ حال میاں

کیونکہ راہبر اور مرشد ، سالک کو امن و امان کے ساحل تک پہنچاتا ہے اور اس کو پھسلنے اور راستہ کے خطرات سے بچاتا ہے-اس کی وجہ یہ ہے کہ مرشد اُس راہ کے پیچ و تاب سے بخوبی واقف ہوتا ہے- جیسا کہ حضرت سلطان سیّد محمد بہادر علی شا ہ صاحب(رح) رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

اﷲ دی خبر نہ بھلیاں نوں بھلے پیر توں رب توں بھل گئے

رفیق بناں طریق ناہیں اوجھڑ جنگل دے وچ رُل گئے

ہویا علم حجاب کبیر اکبر تولے نفس ہوا دے تل گئے

سلطان سید محمدبہادر شاہ(رح)  جنہاں’’پیر ‘‘پا لیا آہے جز تے ہو اوہ کل گئے

المختصر طالب ِ حق کو چاہیے کہ اپنے آپ کو کسی ایسے شیخِ کامل کے سپرد کردے جو اس کی نگہبانی اور طریقِ حق کی طرف نگرانی کرے اور اس کی زندگی کے تاریک پہلوئوں کو روشن و تابندہ کردے- یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت علی وجہ البصیرۃ اور یقینِ کامل کے ساتھ کرنا شروع کردے مرشد کی بارگاہ میں با ادب رہ کر اس کی وعظ و نصیحت کے مطابق عمل پیرا رہے اور عیوب سے پاک اور صفاتِ حسنہ سے مزین ہوکر منازلِ سلوک طے کرنے کا معاہدہ کرے تاکہ مختلف مقامات میں ترقی کرتے ہوئے مقامِ احسان تک پہنچ جائے -

حضرت سلطان سیّد محمد بہادر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے 133سال کی عمر پائی اور 1934ئ میں وصال فرمایا- آپ (رح)کا مزار مبارک شور کوٹ سے قریبی ’’قاسم آباد‘‘ میں ہے -

 خخخ

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر