اقتباس

اقتباس

اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ فَاَبٰیٓ اَکْثَرُ النَّاسِ اِلاَّ کُفُوْرًاo (الاسراء:89)

’’اور بے شک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر طرح کی مثال (مختلف طریقوں سے) بار بار بیان کی ہے مگر اکثر لوگوں نے (اسے) قبول نہ کیا (یہ) سوائے ناشکری کے (اور کچھ نہیں)‘‘-

رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:

قَالَ عُمَرُ أَمَّا إِنَّ نَبِيَّكُمْ (ﷺ) قَدْ قَالَ إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهٰذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَّيَضَعُ بِهٖ آخَرِيْنَ

سیدناعمر(رضی اللہ عنہ)نے فرمایا:بے شک تمہارے نبی مکرّم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ پاک اس قرآن مجید کے ذریعے بعض لوگوں کو عزت دیتا ہے اور بعض لوگوں کو رُسوا کرتا ہے‘‘- (صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا)

فرمان سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ :

حضورنبی کریم (ﷺ)نے ارشادفرمایا :شریعت ایک درخت ہے،طریقت اُس کی ٹہنیاں ہیں،معرفت اُس کے پتے ہیں،حقیقت اُس کا پھل ہے اورقرآن اِن سب کا جامع ہے جس کی تفسیر یا تاویل میں اِن سب کے لئے دلائل و اشارات موجود ہیں- صاحب المجمع کا کہناہے کہ تفسیرعوام کے لیے ہے اورتاویل خواص کے لیے ہے کہ وہ راسخون ہیں اور رسوخ کے معانی ہیں علم میں ثبات و قرار و استحکام کھجور کے اس مُحکم درخت کی طرح ہے کہ جس کی جڑ زمین میں پیوست ہے اورشاخیں فضا میں پھیلی ہوئی ہیں-یہ رسوخ (استحکام وپختگی)نتیجہ ہے اس کلمہ کا کہ جس کا بیج دل کی صفائی کے بعد اُس کی گہرائی میں بویا گیاہے‘‘-

فرمان سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ:

اندر کلمہ کَل کَل کردا عشق سکھایا کلماں ھُو
چوداں طبق کلمے دے اندر قرآن کتاباں علماں ھُو
کانے کپ کے قلم بناون لکھ نہ سکن قلماں ھُو
باھُو ایہہ کلمہ مینوں پیر پڑھایا ذرا نہ رہیاں الماں ھُو (ابیاتِ باھو)

فرمان قائداعظم محمد علی جناح ؒ :

ایمان ، اتحاد، تنطیم

’’ہمارے رسول پاک (ﷺ) کا حکم ہے کہ ہرمسلمان کے پاس قرآنِ حکیم کانسخہ ہونا چاہیے اور اسے اپنا عالِم خود بننا چاہیے (قرآن کریم سے صحیح ہدایت حاصل کر کے)- لہٰذا اسلام محض روحانی عقائد اور ایمان یا رسومات تک محدود نہیں ہے یہ ایک مکمل ضابطہ ہے جو پورے مسلم معاشرے کی اجتماعی اور انفرادی زندگی کو اپنے اصولوں پر کار بند کرتا ہے‘‘-(جلسہ تقسیم اسناد ،ڈھاکہ یونیورسٹی 24مارچ 1948)

فرمان علامہ محمد اقبالؒ:

منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک (بانگِ درا)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر