دستک : حفاظت، جامعیت، فصاحت اور فہمِ قرآن

دستک : حفاظت، جامعیت، فصاحت اور فہمِ قرآن

دستک : حفاظت، جامعیت، فصاحت اور فہمِ قرآن

مصنف: مئی 2019

حفاظت ،جامعیت ، فصاحت اورفہمِ قرآن

قرآن کریم دینِ اسلام کا بنیادی مصدر اور شریعت محمدی (ﷺ)کی اساس ہے جو خاتم المرسلین، امامُ الانبیاء حضرت محمد مصطفےٰ (ﷺ) پر نازل ہوا-یہ دنیا کی واحدکتاب ہے ،جس کی حفاظت کی ضمانت اللہ پاک نے خود اپنے ذمہ کرم پہ لی ہے-اس وقت قرآن مجید کے علاوہ کوئی آسمانی کتا ب دنیا میں ایسی نہیں ہے جو تحریف وتغیر کا شکار نہ ہوئی ہو-لوح ِ محفوظ سے حضور نبی کریم (ﷺ)کے قلب ِ انور پہ نزول کے بعد آج تک من وعن محفوظ رہنا نہ صر ف اس کا زندہ معجزہ ہے بلکہ یہ بات ہرسلیم الفطرت آدمی کی ہدایت کی موجب بھی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن پاک نہ صرف پہلی تمام آسمانی کتب کا جامع ہے بلکہ اللہ پاک نے ا س میں تمام اشیاء کا بیان، ہدایت ِ کاملہ اور رحمت کا ساما ن بھی رکھا ہے، جیسا کہ اللہ پاک نے سورہ نحل میں ارشاد فرمایا ہے:

وَ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِيْنَ‘‘[1]

 

’’اور ہم نےآپ (حضور نبی کریم ﷺ)پر اس کتاب کو نازل کیا ہے جو ہر چیز کا روشن بیان ہے اور ہدایت اوررحمت ہےاورمسلمانوں کیلئےبشارت ہے‘‘-

اس کی جامعیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اسی کی مجموعی طور پر کئی جلدوں پر مشتمل سینکڑوں تفاسیر کی جا چکی ہیں لیکن کوئی مفسر  قرآن پاک کے مکمل ظاہری و باطنی مفاہیم کو اپنی تفسیر میں جمع کرنے کادعوٰ ی نہیں کر سکتا، آئے روز نئی ایجادات و دریافت کے ساتھ قرآن کے نئے نکات واضح ہوتے رہے ہیں اور رہیں گے جو قرآن کی جامعیت اور اکملیت کی روشن دلیل ہے-

اس لاریب کتاب کی فصاحت اور بلاغت کے لیے اس سے بڑھ کر اور دلیل کیا ہو سکتی ہے کہ اس نے اس وقت تمام اہل عرب کو چیلنج کیا کہ وہ اس کی آیت کی مثل لے آئیں وہ عرب جن کو اپنی زبان دانی پہ اتنا ناز تھا کہ وہ دوسروں کو عجم (گونگا)کہ کرپکارتے تھے اور ان کی فصاحت و بلاغت کو دنیا آج بھی تسلیم کرتی ہے لیکن قرآن کے اس چیلنج کے سامنے انہوں نے بھی اپنے گھٹنے ٹیک دیے اور قرآن پاک کا یہ چیلنج آج بھی برقرار ہے اور یہ تمام اعجاز صرف قرآن پاک کو ہی حاصل ہیں-

قرآن پاک کی اس جامعیت و اکملیت کے باوجود یہ بات ذہن نشین رہے کہ جہاں تک قرآن فہمی کا تعلق ہے وہ دامن ِ مصطفےٰ (ﷺ)سے خیرات لئے بغیر اورفرامین مصطفےٰ(ﷺ)سے رہنمائی لئے بغیر ناممکن ہے ، اسی لئے صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم)عربی دان ہونے اور حضور نبی کریم (ﷺ) کی رفاقت نصیب ہونے کےباوجود قرآن کریم کے کلی ادراک کیلئے آپ (ﷺ)کے بیان کردہ قرآنی معنی و مطالب کو لازم سمجھتے تھے-قرآن پاک کے کئی احکام مجمل ہیں،ان کے اجمال کی تفصیل کے لیے سنت مصطفٰے (ﷺ)اورفرامین مصطفٰے (ﷺ)سے رجوع اور رہنمائی نہایت ضروری ہے-جو لوگ قرآن فہمی کے لیے حدیث وسنت کو ترجیح نہیں دیتے اوریہ کہتے ہیں کہ ہمارے لیے قرآن ہی کافی ہےتویہاں ایک سادہ ساسوال ہے کہ قرآن پاک میں نماز،روزہ ،حج وغیر ہ کا اجما لاً ذکر تو ہے لیکن ان کے ادائیگی کے طریقے،ادائیگی کے اوقات اور دیگر تفصیل کہاں سے لیں گے؟ اسی طرح اذان ،نمازِ جنازہ ،قربانی،اعتکاف اور دیگر کئی ضروری احکام کی تکمیل کی سنت رسول (ﷺ)کیسے ممکن ہے ؟یہی وجہ ہے کہ علامہ عبد العزيز بن عبد الله بن عبد الرحمن الراجحیؒ سنت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’وأن القرآن إلى السنة أحوج من السنة إلى القرآن‘‘[2]            ’’سنت قرآن کریم کی شاید اتنی محتاج نہیں جتنا قرآن کریم سنت کا محتاج ہے‘‘-

حضرت عبداللہ ابن عباس (رضی اللہ عنہ)سے مروی ہے کہ رسول اللہ (ﷺ)نے حجۃ الوداع کے موقع پہ لوگوں کو خطاب فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’يا أيهاالناس: إني قد تركت فيكم ما إن اعتصمتم به فلن تضلوا أبدا، كتاب الله وسنة نبيه‘‘[3]

 

’’اے لوگو!بے شک میں تم میں جو چھوڑ کر جا رہا ہوں اگر تم اسے مضبوطی سے تھامے رکھو تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے (اوروہ ہے )اللہ کی کتاب اوراس کے نبی(ﷺ) کی سنت‘‘-

اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ جو ان میں سے کسی ایک کوبھی چھوڑدے گا وہ گمراہ ہوجائے گا-مزید یہ کہ آپ (ﷺ)کی ہربات وحی الٰہی ہے اور آپ (ﷺ) کے کسی فرمان مبارک کو نظر انداز کرنا خود حکم ِ قرآنی کی خلاف ورزی ہے جیسا کہ اللہ پاک نے خود ارشاد فرمایا:

’’وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَانَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا وَاتَّقُوا اللّـهَ‘‘ [4]

 

’’اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو‘‘-

یہ حقیقت ہے کہ دین اسلام میں قرآن مجید اور حدیثِ رسول (ﷺ) لازم و ملزوم ہیں اور ان میں سے کسی ایک کو بھی (معاذ اللہ) نظر انداز کر دینے سے مسلمان اسلام سے کوسوں دور ہو جائے گا، اس کا اسلام سے ایک براہ نام تعلق رہ جائے گا اور بلاشبہ اسلام کی عمارت ان دو کلاموں، کلامِ خدا اور کلامِ رسول (ﷺ) پر قائم و دائم ہے- جسے خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ منفرد شاعرانہ انداز میں یوں فرماتے ہیں:

ما طالبِ خدائیم، بر دین مصطفائیم
در باغ و بوستانم دیگر نجُو معینے

 

بر در گہش گدائیم، سلطانِ ما محمدؐؐ
یا غم بس است قرآں، بستانِ ما محمدؐؐ

’’مقام شکر ہے کہ ہم خدا کے طالب ہیں اورمصطفٰے(ﷺ)کے دین پر ہیں-ہم اُن کے در کے بھکاری ہیں اور ہمارے سلطان حضور (ﷺ) ہیں-اے معین! باغ و بستان میں کوئی اور چیز طلب نہ کر-ہمارے لئے قرآن کا گلزار ہدایت کافی ہے؛ ہمارےحضور(ﷺ) کی ذات بستانِ معرفت ہے‘‘-


[1](النحل:89)

[2](شرح كتاب السنة للبربهاری، ج:8، ص:166)

[3](مرعاة المفاتيح)

[4](الحشر:7)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر