اقتباس

اقتباس

اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

’’یٰـبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاصْبِرْ عَلٰی مَآ اَصَابَکَط اِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِo

’’اے میرے فرزند! تو نماز قائم رکھ اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کر اور جو تکلیف تجھے پہنچے اس پر صبر کر، بے شک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں ‘‘- (لقمان:17)

رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’ام المؤمنین سیّدہ  عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں  کہ رسول اللہ (ﷺ) نے کبھی کسی کو  اپنے دستِ اقدس سے نہیں  مارا،نہ کسی عورت  کو اور نہ کسی خادم کو-  مگر یہ کہ اللہ پاک  کی راہ میں جہاد کیا جاتا اور جب بھی آپ (ﷺ) کو نقصان پہنچایا گیا آپ (ﷺ) نے اس سے انتقام نہیں لیامگریہ کہ اللہ پاک کی حدود کی خلاف ورزی کی جائے پھر آپ (ﷺ) اللہ عزوجل کیلیے انتقام لیتے‘‘-(صحیح مسلم، کتاب الفضائل)

فرمان سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ :

’’اے کم عقل !اللہ عزّوجلّ کے دروازے سے مت بھاگ کسی ایسی  تکلیف کی وجہ سے جس میں اللہ پاک تجھ کو مبتلا فرمائے کیونکہ وہ تیری مصلحت کا تجھ سے زیادہ واقف ہے تجھ کو جو (آزمائش میں)مبتلافرماتاہے توکسی فائدہ اورحکمت ہی کی وجہ سے فرماتا ہے  -جب تجھ کو مبتلا فرمائے تو ثابت قدم رہ اور اپنے گناہوں کی طرف توجہ کر اور استغفار و توبہ زیادہ کر، اس پر صبر و سکون کا اللہ پاک سے سوال کر، اس کے سامنے (دست بستہ) کھڑا ہو جا، اس کی رحمت کے دامن سے لٹک جا، اس کے رفع کرنے اور اس کی مصلحت بیان فرمانے کی اس سے دعا مانگ-اگر تو فلاح چاہتا ہے تو ایسے شیخ کی صحبت اختیار کر جو  اللہ عزوجل کے حُکم اورعِلم کا عالم ہو کہ وہ تجھ کو علم سکھائے، مؤدب بنائے اور تجھ کو اللہ پاک کےراستہ سے واقف کروائے ‘‘- (فتح الربانی)

فرمان سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ:

عَاشق نیک صَلاحیں لگدے تاں کیوں اُجاڑدے گھر نُوں ھو
بال مواتا بِرہوں والا نہ لاندے جان جگر نوں ھو
جان جہاں سب بھُل گیونیں پئی لوٹی ہوش صبر نوں ھو
مَیں قُربان تِنہاں توں باھوؒ جِنہاں خُون بَخشیا دِلبر نوں ھو (ابیاتِ باھو)

فرمان قائداعظم محمد علی جناح ؒ :

ایمان ، اتحاد، تنطیم

’’بہر حال مقصد یہ تھا کہ ایک خاص قسم کی نفسیات اور ایک مخصوص ذہنی کیفیت پیداکی جائے -ایک عام آدمی جب بی اے یا ایم اے پاس کرتے تو بس سرکاری ملازمت ڈھونڈھتے پھرتے-اگرملازمت مل گئی تویہ سمجھ لیاکہ منزل پالی-اس سے زیادہ سربلندی کاتصور ہی نہیں کیاجاتا تھا،میں جانتاہوں اورآپ سب جانتے ہیں کہ اس کا کیانتیجہ نکلا‘‘-

(جلسہ تقسیم اسناد ،ڈھاکہ یونیورسٹی 24مارچ 1948)

فرمان علامہ محمد اقبالؒ:

میرا نشیمن نہیں درگہ میر و وزیر
میرا نشیمن بھی تو، شاخِ نشیمن بھی تو
تجھ سے گریبان مرا مطلع صبح ِ نشور
تجھ سے میرے سینے میں آتشِ ’’اللہ ھو‘‘ (بالِ جبریل)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر