دستک : بھارت میں مذہبی غنڈہ گردی کی انتہاء

دستک : بھارت میں مذہبی غنڈہ گردی کی انتہاء

دستک : بھارت میں مذہبی غنڈہ گردی کی انتہاء

مصنف: نومبر 2015

بھارت میں مذہبی غنڈہ گردی کی انتہاء

            دادری انڈیا کے ایک بے گناہ مسلمان کے خون سے بھارت کو اپنا دامن رنگین کرنا بہت مہنگا پڑا ، اخلاق، دادری میں اپنے بیوی بچوں سمیت گھر میں موجود تھا کہ اچانک ’’گائے بچائو‘‘ مہم کے غنڈے اُس کے گھر میں دندناتے ہوئے داخل ہوئے تواُس نے پوچھا کیا بات ہے ، یہ سنتے ہی گائے بچائو مہم کے ہندو گماشتے آپے سے باہر ہوگئے اوربولے اچھاگائے ذبح کرتے ہو اورہم سے پوچھتے ہوکیا بات ہے یہ کہتے ہی بپھرے ہوئے ہندوجنونی اُ س پر بل پڑے اوراُسے وحشیانہ تشدد کانشانہ بنایا جس سے اخلاق جاں بحق ہوگیا تو اُس کی لاش گھسیٹتے ہوئے باہر لائے اورلاش کی بے حرمتی کی - بعدازاں اخلاق کے گھر سے ملنے والے گوشت کے نمونوں کی فرانزک رپورٹ سے ثابت ہوگیا کہ اخلاق کے گھر سے ملنے والا گوشت گائے کا نہیںبلکہ بکرے کاتھا - میڈیا پہ اس واقعے کی مذمت جاری ہے اورعالمی میڈیا نے بھی اس سانحہ پہ اپنی روایتی جانبداری سے ہٹ کر رپورٹنگ کی - یوں عالمی سطح پہ بھی بھارت کے خون خوار ،متعصب ہندوکردار سے نقاب کشائی ہوئی - ویسے تو بھارت میں شروع دن سے ہی اس قسم کے واقعات ایک تسلسل سے چلے آرہے ہیں لیکن بھارت نے ہمیشہ اپنے تنگ نظر وانتہاپسند چہرے کوسیکولر ریاست کے پردے میں چھپائے رکھا- نریندر مودی اپنے سیاسی سفر کے آغاز سے ہی مسلم دشمنی پہ گویا اُدھار کھائے بیٹھا ہے- گجرات کے بدترین مسلم کش فسادات بھی مودی کی سرپرستی میں ہوئے اورہزار سے زائد مسلمانوں کے لہو سے ہاتھ رنگے تو مودی کی مشہوری بدنامِ زمانہ لقب ’’گجرات کاقصائی‘‘ سے ہوئی -بی جے پی نے بھارت کے 2013ء کے انتخابات میں مسلم اور پاکستان دشمنی کے منشور کے تحت حصہ لیا اوریوں ایک چائے فروش گجراتی قصائی کاسیاسی سفر وزیراعظم بھارت بننے پر منتج ہوا-بھارتی وزیراعظم کی کرسی پہ براجمان ہوکر بھی نریندر مودی کاسیاسی شعور شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کے عام مرید کے ذہن سے بلند نہ ہونے پایا-یہ حقیقت ہے کہ سیلفی ماسٹر اوربال ٹھاکرے ایک ہی سکے کے دورُخ ہیں -بال ٹھاکرے معاشرتی واخلاقی حدود میں ہندو توا کے نفاذ کے لئے سرگرم ہے اورموجودہ بھارتی وزیراعظم میدانِ سیاست ہندوتوا کی بالادستی کے لئے کوشاں ہیں -مودی کے رُوحانی پیشوا بال ٹھاکرے نہ صرف مذہبی دہشت گرد تھا بلکہ بھتہ خوری ،قبضہ گیری اوراغوا برائے تاوان جیسے جرائم میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا -گزشتہ 35سال سے بال ٹھاکرے اینڈکمپنی بالی وڈ کے اداکاروں اوربڑے بڑے سرمایہ داروں کوبلیک میل کرنے اورمختلف قبضہ گروپوں کے لئے غریبوں کی کچی آبادیوں کو ملیامیٹ کرنے میں مصروف رہے اوربھارتی وزیراعظم اقلیتوں کابھارت میں جینا دوبھر کررہے ہیں - بھارت کاقریباً ہرذی فہم غیر جانبدار عوامی حلقہ ان دونوں کے سیاہ کارناموں سے بخوبی واقف ہے لیکن کیاکِیاجائے کہ بھارتی عوام نے جو غلطی بی جے پی کو منتخب کرکے کی تھی اُس کاخمیازہ تو بہرحال بھگتنا پڑے گا- گزشتہ 30دن کے اخبارات اُٹھا کردیکھ لیں کہ زندگی کاکون سا شعبہ شیوسینا اور بی جے پی کی مذہبی غنڈہ گردی سے محفوظ ہے ؟کون سی اقلیت ایسی ہے جو مذہبی ومعاشرتی جبر سے محفوظ ہے؟ ممبئی میں پاکستان کے سابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری کی کتاب کی تقریب رُونمائی کے منتظم سد ھیندرا کلکرنی کوشیوسینا کے ہندو بدقماشوں نے ڈرایا دھمکایا کہ وہ خورشید محمود قصوری کی کتاب کی تقریب رُونمائی منسوخ کردے مگر اُس نے ایسے کرنے سے انکار کردیا توشیوسینا کے غنڈوں نے اُ س پر حملہ کردیا اورچہرے پر کالک مَل دی - شیو سینا نے تقریب رُونمائی کے آرگنائزر کانہیں بلکہ پورے بھارت کامنہ کالا کیا - کشمیری مسلمان رکن پارلیمنٹ کے منہ پہ کالک ملی گئی ، اِسی طرح پاکستانی کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ سطحی وفد پہ بی سی سی آئی کے دفتر میں حملہ کیا گیا -پاکستان کے شعبہ فنون لطیفہ سے وابستہ کئی افراد کو شیوسینا نے بھارت میں پروگرام کرنے سے زبردستی روک دیا-ان متعصب ہندوئوں سے کوئی پوچھے کہ کیا تم پاکستان کی ملٹری اسٹیبلیشمنٹ سے نفسیاتی طور پہ خوف زدہ ہوکر ان بے ضرر افراد پر پابندی لگارہے ہو؟بدنامی اوررسوائی کے سوا ایسا کرنے سے کیا حاصل ہوگا؟ان افراد کابھارت میں داخلہ روک کر کیا ملک سے غزل وقوالی ایسے اصناف اورمسلمان ادیبوں کی مقبولیت کم کر لوگے؟ایسا ہونا ممکن نہیں -اسلامی ثقافت کے بھارتی معاشرے پہ اَن مٹ اثرات ہیں -ان اثرات کو اگر ختم کرنا مقصود ہے تو پہلے تاج محلؒ کے عجوبے کو ہٹائو ،ہندوبنیا ایساخسارے کا کام توہرگز نہیں کرے گا البتہ بابری مسجد شہدکرنے والے اسلامی شعار تباہ کرنے پہ تُلے ہوئے ہیں ،انہوں نے مسلمان اورعیسائیوں کے بعد اب سکھوں کے مذہبی جذبات کومجروح کرنا شروع کردیا ہے -سکھوں کی مذہبی کتاب گروگرنتھ کی بے حرمتی کے بعد مشرقی پنجاب کے شہر لدھیانہ میں فسادات پھوٹ پڑے جس کی وجہ سے کئی افراد اپنی جان سے گئے -بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری ،ہندو انتہاپسندی اورہندو دہشت گردی نے بھارت کے سنجیدہ حلقوں کوہلا کر رکھ دیا ہے ، بھارتی ادیب بھی اس غنڈہ گردی کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے اور 40 سے زائد بھارتی ادیبوں نے بطور احتجاج بھارتی سول اعزازات واپس کردئیے -نامور مصنفہ دلیب کور نے شہری اعزاز بدم شری ایوارڈ واپس کرتے ہوئے کہا کہ ’’گوتم بدھ اور گورو نانک کی سرزمین پر سکھوں اورمسلمانوں کے خلاف ہونے والی زیادتیاں انتہائی شرمناک ہیں ‘‘- اس کے باوصف بھارتی سرکار اپنی متعصب طرز حکومت اورڈھٹائی پہ قائم ہیں بی جے پی نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ سول اعزاز واپس کرنے کاکوئی جواز نہیں - اسی خیال کی پیروی کرتے وفاقی وزیر ہمیش شرما نے کہا کہ جب لکھاری لکھنا بند کردیں گے تو دیکھا جائے گا - یعنی بھارتی سرکار تسلیم کررہی ہے کہ بھارتی معاشرے سے رواداری تحمل وبرداشت کی خصوصیات ختم ہورہی ہیں اوراُن کی جگہ ہندو تعصب اوردہشت گردی کوفروغ حاصل ہورہا ہے-

اقوام متحدہ ،یورپی ممالک خصوصاً امریکہ کوان حالات میں اپنی روایتی جانبداری ترک کرکے بھارت کا اصلی چہرہ پہچاننا ہوگا -یہ حقیقت ہے کہ بھارت میں جو حالات درپیش ہیں ان کا عُشرِ عشیر بھی پاکستا ن یا کسی مسلم ملک میں ہوتا تو یہ لوگ وہ ہنگامہ برپا کرتے کہ پناہ خدا کی! ان ممالک کو یہ ضرور ماننا پڑے گا کہ حالات بتارہے ہیں کہ اب بھارت سیکولرازم کی صف بندی میں شامل نہیں رہا کیونکہ بھارتی وزیراعظم مودی بھارت کے سیاسی میدان میں اورشیوسینا معاشرتی زندگی میں ہندوتوا نافذ کررہے ہیں -ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں ہندو توا کے نفاذ کی بھارتی سرکار کی کوششوں کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرے اوربھارت پہ سفارتی دبائو بڑھائے تاکہ بھارتی سرکار اس امر سے باز رہے -

بھارت میںمذہبی غنڈہ گردی کی انتہاء

            دادری انڈیا کے ایک بے گناہ مسلمان کے خون سے بھارت کو اپنا دامن رنگین کرنا بہت مہنگا پڑا ، اخلاق، دادری میں اپنے بیوی بچوں سمیت گھر میں موجود تھا کہ اچانک ’’گائے بچائو‘‘ مہم کے غنڈے اُس کے گھر میں دندناتے ہوئے داخل ہوئے تواُس نے پوچھا کیا بات ہے ، یہ سنتے ہی گائے بچائو مہم کے ہندو گماشتے آپے سے باہر ہوگئے اوربولے اچھاگائے ذبح کرتے ہو اورہم سے پوچھتے ہوکیا بات ہے یہ کہتے ہی بپھرے ہوئے ہندوجنونی اُ س پر بل پڑے اوراُسے وحشیانہ تشدد کانشانہ بنایا جس سے اخلاق جاں بحق ہوگیا تو اُس کی لاش گھسیٹتے ہوئے باہر لائے اورلاش کی بے حرمتی کی - بعدازاں اخلاق کے گھر سے ملنے والے گوشت کے نمونوں کی فرانزک رپورٹ سے ثابت ہوگیا کہ اخلاق کے گھر سے ملنے والا گوشت گائے کا نہیںبلکہ بکرے کاتھا - میڈیا پہ اس واقعے کی مذمت جاری ہے اورعالمی میڈیا نے بھی اس سانحہ پہ اپنی روایتی جانبداری سے ہٹ کر رپورٹنگ کی - یوں عالمی سطح پہ بھی بھارت کے خون خوار ،متعصب ہندوکردار سے نقاب کشائی ہوئی - ویسے تو بھارت میں شروع دن سے ہی اس قسم کے واقعات ایک تسلسل سے چلے آرہے ہیں لیکن بھارت نے ہمیشہ اپنے تنگ نظر وانتہاپسند چہرے کوسیکولر ریاست کے پردے میں چھپائے رکھا- نریندر مودی اپنے سیاسی سفر کے آغاز سے ہی مسلم دشمنی پہ گویا اُدھار کھائے بیٹھا ہے- گجرات کے بدترین مسلم کش فسادات بھی مودی کی سرپرستی میں ہوئے اورہزار سے زائد مسلمانوں کے لہو سے ہاتھ رنگے تو مودی کی مشہوری بدنامِ زمانہ لقب ’’گجرات کاقصائی‘‘ سے ہوئی -بی جے پی نے بھارت کے 2013ء کے انتخابات میں مسلم اور پاکستان دشمنی کے منشور کے تحت حصہ لیا اوریوں ایک چائے فروش گجراتی قصائی کاسیاسی سفر وزیراعظم بھارت بننے پر منتج ہوا-بھارتی وزیراعظم کی کرسی پہ براجمان ہوکر بھی نریندر مودی کاسیاسی شعور شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کے عام مرید کے ذہن سے بلند نہ ہونے پایا-یہ حقیقت ہے کہ سیلفی ماسٹر اوربال ٹھاکرے ایک ہی سکے کے دورُخ ہیں -بال ٹھاکرے معاشرتی واخلاقی حدود میں ہندو توا کے نفاذ کے لئے سرگرم ہے اورموجودہ بھارتی وزیراعظم میدانِ سیاست ہندوتوا کی بالادستی کے لئے کوشاں ہیں -مودی کے رُوحانی پیشوا بال ٹھاکرے نہ صرف مذہبی دہشت گرد تھا بلکہ بھتہ خوری ،قبضہ گیری اوراغوا برائے تاوان جیسے جرائم میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا -گزشتہ 35سال سے بال ٹھاکرے اینڈکمپنی بالی وڈ کے اداکاروں اوربڑے بڑے سرمایہ داروں کوبلیک میل کرنے اورمختلف قبضہ گروپوں کے لئے غریبوں کی کچی آبادیوں کو ملیامیٹ کرنے میں مصروف رہے اوربھارتی وزیراعظم اقلیتوں کابھارت میں جینا دوبھر کررہے ہیں - بھارت کاقریباً ہرذی فہم غیر جانبدار عوامی حلقہ ان دونوں کے سیاہ کارناموں سے بخوبی واقف ہے لیکن کیاکِیاجائے کہ بھارتی عوام نے جو غلطی بی جے پی کو منتخب کرکے کی تھی اُس کاخمیازہ تو بہرحال بھگتنا پڑے گا- گزشتہ 30دن کے اخبارات اُٹھا کردیکھ لیں کہ زندگی کاکون سا شعبہ شیوسینا اور بی جے پی کی مذہبی غنڈہ گردی سے محفوظ ہے ؟کون سی اقلیت ایسی ہے جو مذہبی ومعاشرتی جبر سے محفوظ ہے؟ ممبئی میں پاکستان کے سابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری کی کتاب کی تقریب رُونمائی کے منتظم سد ھیندرا کلکرنی کوشیوسینا کے ہندو بدقماشوں نے ڈرایا دھمکایا کہ وہ خورشید محمود قصوری کی کتاب کی تقریب رُونمائی منسوخ کردے مگر اُس نے ایسے کرنے سے انکار کردیا توشیوسینا کے غنڈوں نے اُ س پر حملہ کردیا اورچہرے پر کالک مَل دی - شیو سینا نے تقریب رُونمائی کے آرگنائزر کانہیں بلکہ پورے بھارت کامنہ کالا کیا - کشمیری مسلمان رکن پارلیمنٹ کے منہ پہ کالک ملی گئی ، اِسی طرح پاکستانی کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ سطحی وفد پہ بی سی سی آئی کے دفتر میں حملہ کیا گیا -پاکستان کے شعبہ فنون لطیفہ سے وابستہ کئی افراد کو شیوسینا نے بھارت میں پروگرام کرنے سے زبردستی روک دیا-ان متعصب ہندوئوں سے کوئی پوچھے کہ کیا تم پاکستان کی ملٹری اسٹیبلیشمنٹ سے نفسیاتی طور پہ خوف زدہ ہوکر ان بے ضرر افراد پر پابندی لگارہے ہو؟بدنامی اوررسوائی کے سوا ایسا کرنے سے کیا حاصل ہوگا؟ان افراد کابھارت میں داخلہ روک کر کیا ملک سے غزل وقوالی ایسے اصناف اورمسلمان ادیبوں کی مقبولیت کم کر لوگے؟ایسا ہونا ممکن نہیں -اسلامی ثقافت کے بھارتی معاشرے پہ اَن مٹ اثرات ہیں -ان اثرات کو اگر ختم کرنا مقصود ہے تو پہلے تاج محلؒ کے عجوبے کو ہٹائو ،ہندوبنیا ایساخسارے کا کام توہرگز نہیں کرے گا البتہ بابری مسجد شہدکرنے والے اسلامی شعار تباہ کرنے پہ تُلے ہوئے ہیں ،انہوں نے مسلمان اورعیسائیوں کے بعد اب سکھوں کے مذہبی جذبات کومجروح کرنا شروع کردیا ہے -سکھوں کی مذہبی کتاب گروگرنتھ کی بے حرمتی کے بعد مشرقی پنجاب کے شہر لدھیانہ میں فسادات پھوٹ پڑے جس کی وجہ سے کئی افراد اپنی جان سے گئے -بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری ،ہندو انتہاپسندی اورہندو دہشت گردی نے بھارت کے سنجیدہ حلقوں کوہلا کر رکھ دیا ہے ، بھارتی ادیب بھی اس غنڈہ گردی کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے اور 40 سے زائد بھارتی ادیبوں نے بطور احتجاج بھارتی سول اعزازات واپس کردئیے -نامور مصنفہ دلیب کور نے شہری اعزاز بدم شری ایوارڈ واپس کرتے ہوئے کہا کہ ’’گوتم بدھ اور گورو نانک کی سرزمین پر سکھوں اورمسلمانوں کے خلاف ہونے والی زیادتیاں انتہائی شرمناک ہیں ‘‘- اس کے باوصف بھارتی سرکار اپنی متعصب طرز حکومت اورڈھٹائی پہ قائم ہیں بی جے پی نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ سول اعزاز واپس کرنے کاکوئی جواز نہیں - اسی خیال کی پیروی کرتے وفاقی وزیر ہمیش شرما نے کہا کہ جب لکھاری لکھنا بند کردیں گے تو دیکھا جائے گا - یعنی بھارتی سرکار تسلیم کررہی ہے کہ بھارتی معاشرے سے رواداری تحمل وبرداشت کی خصوصیات ختم ہورہی ہیں اوراُن کی جگہ ہندو تعصب اوردہشت گردی کوفروغ حاصل ہورہا ہے-

اقوام متحدہ ،یورپی ممالک خصوصاً امریکہ کوان حالات میں اپنی روایتی جانبداری ترک کرکے بھارت کا اصلی چہرہ پہچاننا ہوگا -یہ حقیقت ہے کہ بھارت میں جو حالات درپیش ہیں ان کا عُشرِ عشیر بھی پاکستا ن یا کسی مسلم ملک میں ہوتا تو یہ لوگ وہ ہنگامہ برپا کرتے کہ پناہ خدا کی! ان ممالک کو یہ ضرور ماننا پڑے گا کہ حالات بتارہے ہیں کہ اب بھارت سیکولرازم کی صف بندی میں شامل نہیں رہا کیونکہ بھارتی وزیراعظم مودی بھارت کے سیاسی میدان میں اورشیوسینا معاشرتی زندگی میں ہندوتوا نافذ کررہے ہیں -ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں ہندو توا کے نفاذ کی بھارتی سرکار کی کوششوں کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرے اوربھارت پہ سفارتی دبائو بڑھائے تاکہ بھارتی سرکار اس امر سے باز رہے -

 

 

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر