دستک : کشمیر ؛ جدوجہدِحریت اور انسانی حقوق کی پامالی

دستک : کشمیر ؛ جدوجہدِحریت اور انسانی حقوق کی پامالی

دستک : کشمیر ؛ جدوجہدِحریت اور انسانی حقوق کی پامالی

مصنف: فروری 2019

  کشمیر: جدوجہدِ حریت اور انسانی حقوق کی پامالی

تاریخ ِ عالم میں اہلِ کشمیر اُن چند پُرعزم، بلندحوصلہ، حق پرست ، حریت پسند اورجذبۂ اِستقلال سے سرشار اقوام میں سرِ فہرست ہیں جنہوں نے نہ تو کبھی ظالم کے ظلم سے خوف کھایا اور نہ ہی قابض کے سامنے سر تسلیم ِ خم کیا- گو کہ رائے عامہ کے مطابق مسئلہ ِ کشمیر 1947ء میں تقسیم ہند سے شروع ہوا مگر درحقیقت مسلمانانِ کشمیر پر زندگی تقسیم ِ ہند سے قبل ہی تنگ کر دی گئی تھی- بلا شبہ کشمیر کی موجودہ صورتحال ہندو بنیا و ڈوگرا راج کے مسلم کُش پالیسیز کا ہی تسلسل ہے- گمنام اجتماعی قبریں، بے گناہ شہداء، معصوم یتیم، بیوہ و نصف بیوہ عورتیں، نابینہ بچے، معذور و بے سہارا بوڑھے اور لہو لہان وادیٔ کشمیر بھارتی مظالم کا منہ بولتا ثبوت ہے-

گزشتہ برس یعنی 2018ء کے اواخر میں ایک طرف اقوامِ عالم 10 دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے طور پر منا رہے تھے جبکہ دوسری جانب بنیادی انسانی حقوق سے محروم کشمیری خاموش زبانوں، نابینہ آنکھوں،بہتے زخموں، لُٹی عزتوں اور بے بس ہاتھوں میں جوان لاشے اٹھائے ضمیر ِعالم کو جھنجھوڑنے کی ناکام مگر پُر امید کوشش میں مصروف و شکوہ کناں رہے- 1948ء میں اقوامِ متحدہ نے اس دن انسانی حقوق کے تحفظ اور آگاہی کیلئے 48 ممالک کی رضامندی سے 30 دفعات پر مشتمل عالمی منشور جاری کیاتھا - اس منشور کے تحفظ ،بہتری اور عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے ایک مستقل کمیشن برائے انسانی حقوق بھی قائم کیا گیاتھا - انسانی حقوق کے اس عالمی منشور میں بنیادی انسانی حقوق مثلاً انسانی آزادی ، مساوی حیثیت ، آزادانہ نقل و حرکت ،آزادی اظہار، باوقار زندگی، سماجی تحفظ کا حق، مذہبی آزادی اور تشدد، ظلم و ستم ، غیر انسانی اورتوہین آمیز سلوک یا سزا کا نشانہ نہ بنائے جانے کو یقینی بنایا گیا ہے-گو کہ اِس دن دنیا بھر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کی گئی ،مگر سوا ئے پاکستان و دیگر چند ممالک کے ،اقوامِ عالم نے کشمیرو فلسطین میں ہونے والی اندوہ ناک انسان دشمنی کو ہمیشہ کی طرح پسِ پشت ڈالے رکھا-

مقبوضہ جموں و کشمیر میں آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ(افسپا)، جمّوں و کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ اور ٹیرر ازم اینڈ ڈسرپٹیو ایکٹیویٹیز ایکٹ (ٹاڈا ایکٹ) جیسے کالے قوانین کے تحت ’’لائسنس ٹو کِل‘‘کی حامل7لاکھ سے زائد بھارتی فوج ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کر چکی ہے جبکہ کم و بیش20000کے قریب لوگ بالخصوص نوجوان لا پتہ ہیں جن کے متعلق خدشہ ہے کہ وہ کسی کال کوٹھڑی میں بھارتی ظلم و جبر کا شکار ہو رہے ہونگے -بھارت انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل کے گمنام قبروں کی تحقیقات کے حوالے سے آزاد تحقیقاتی کمیشن کا مطالبے کو بارہا رد کر چکا ہے- انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایشین سینٹر فار ہیومین رائٹس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مقبوضہ وادی کی جیلوں میں بڑی تعداد معصوم بچوں کی ہے جو بین الاقوامی و بھارتی نجی قوانین کے مطابق بچوں کے حقوق کی واضح خلاف ورزی ہے -اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ماضی میں بھارت عالمی برادری کے سامنے کشمیری جدوجہد کو دہشت گرد ی قرار دینے کی کوششیں کرتا رہا ہے البتہ جولائی 2016ء میں کشمیری حریت پسند برہان مظفر وانی کی شہادت نے کشمیریوں کی جدوجہدِ حقِ خود ارادیت میں ایک نیا جذبہ و جنون بھرتےہوئے بھارت کی تمام گھناؤنی سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے-جس کا منہ بولتا ثبوت مذکورہ بآلا اقوام متحدہ کمشن برائے انسانی حقوق کی جون 2018ءمیں کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مرتب کی جانے والی (پہلی) رپورٹ ہے جس کے مطابق جولائی 2016ءسے مارچ 2018ء تک ایک محتاط اندازے کے مطابق 170 نہتے کشمیری بھارتی جارحیت کا نشانہ بنے جبکہ 6 ہزار سے زائد لوگ زخمی ہوئے جن میں کئی افراد بینائی جیسی نعمت سے محروم ہو چکے ہیں-اس رپورٹ میں قتل، انصاف کی کمی، فوجی عدالتیں، انتظامی ناکامی، طاقت کا بے دریغ استعمال، پیلٹ گن کا وحشیانہ استعمال، من مانی گرفتاریاں، تشدد، گمشدگیاں، حقوقِ صحت،تعلیم اور اظہار ِرائے کی خلاف ورزی، صحافیوں کے خلاف تشدد اور جنسی زیادتی جیسی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے-دیگر کئی تنظیموں کی تحقیقات سمیت اس رپورٹ میں بھی بھارتی کالے قوانین کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سب سے بڑا ذمہ دار قرار دیا گیا -بھارت کی جانب سے اس رپورٹ کی مجرمانہ مخالفت کے بعد بھارتی غیر قانونی کردار میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہ جاتی اور اب عالمی برادری کی خاموشی یقیناً مجرم کا ساتھ دینے کے مترادف ہوگی-

 

پاکستان کشمیریوں کے حقِ خودارادیت اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہا ہے- اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر ماریہ فرنینڈا اسپینوزا کے حالیہ دورہ پاکستان پر انہیں مقبوضہ کشمیر کی مکمل صورتحال سے آگاہ کیا گیا -یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ایک متنازعہ علاقہ ہے جس میں کشمیریوں نے اپنے مستقبل کا فیصلہ اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ، استصوابِ رائے سے کرنا ہے- 

 کشمیر: جدوجہدِ حریت اور انسانی حقوق کی پامالی

تاریخ ِ عالم میں اہلِ کشمیر اُن چند پُرعزم، بلندحوصلہ، حق پرست ، حریت پسند اورجذبۂ اِستقلال سے سرشار اقوام میں سرِ فہرست ہیں جنہوں نے نہ تو کبھی ظالم کے ظلم سے خوف کھایا اور نہ ہی قابض کے سامنے سر تسلیم ِ خم کیا- گو کہ رائے عامہ کے مطابق مسئلہ ِ کشمیر 1947ء میں تقسیم ہند سے شروع ہوا مگر درحقیقت مسلمانانِ کشمیر پر زندگی تقسیم ِ ہند سے قبل ہی تنگ کر دی گئی تھی- بلا شبہ کشمیر کی موجودہ صورتحال ہندو بنیا و ڈوگرا راج کے مسلم کُش پالیسیز کا ہی تسلسل ہے- گمنام اجتماعی قبریں، بے گناہ شہداء، معصوم یتیم، بیوہ و نصف بیوہ عورتیں، نابینہ بچے، معذور و بے سہارا بوڑھے اور لہو لہان وادیٔ کشمیر بھارتی مظالم کا منہ بولتا ثبوت ہے-

گزشتہ برس یعنی 2018ء کے اواخر میں ایک طرف اقوامِ عالم 10 دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے طور پر منا رہے تھے جبکہ دوسری جانب بنیادی انسانی حقوق سے محروم کشمیری خاموش زبانوں، نابینہ آنکھوں،بہتے زخموں، لُٹی عزتوں اور بے بس ہاتھوں میں جوان لاشے اٹھائے ضمیر ِعالم کو جھنجھوڑنے کی ناکام مگر پُر امید کوشش میں مصروف و شکوہ کناں رہے- 1948ء میں اقوامِ متحدہ نے اس دن انسانی حقوق کے تحفظ اور آگاہی کیلئے 48 ممالک کی رضامندی سے 30 دفعات پر مشتمل عالمی منشور جاری کیاتھا - اس منشور کے تحفظ ،بہتری اور عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے ایک مستقل کمیشن برائے انسانی حقوق بھی قائم کیا گیاتھا - انسانی حقوق کے اس عالمی منشور میں بنیادی انسانی حقوق مثلاً انسانی آزادی ، مساوی حیثیت ، آزادانہ نقل و حرکت ،آزادی اظہار، باوقار زندگی، سماجی تحفظ کا حق، مذہبی آزادی اور تشدد، ظلم و ستم ، غیر انسانی اورتوہین آمیز سلوک یا سزا کا نشانہ نہ بنائے جانے کو یقینی بنایا گیا ہے-گو کہ اِس دن دنیا بھر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کی گئی ،مگر سوا ئے پاکستان و دیگر چند ممالک کے ،اقوامِ عالم نے کشمیرو فلسطین میں ہونے والی اندوہ ناک انسان دشمنی کو ہمیشہ کی طرح پسِ پشت ڈالے رکھا-

مقبوضہ جموں و کشمیر میں آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ(افسپا)، جمّوں و کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ اور ٹیرر ازم اینڈ ڈسرپٹیو ایکٹیویٹیز ایکٹ (ٹاڈا ایکٹ) جیسے کالے قوانین کے تحت ’’لائسنس ٹو کِل‘‘کی حامل7لاکھ سے زائد بھارتی فوج ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کر چکی ہے جبکہ کم و بیش20000کے قریب لوگ بالخصوص نوجوان لا پتہ ہیں جن کے متعلق خدشہ ہے کہ وہ کسی کال کوٹھڑی میں بھارتی ظلم و جبر کا شکار ہو رہے ہونگے -بھارت انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل کے گمنام قبروں کی تحقیقات کے حوالے سے آزاد تحقیقاتی کمیشن کا مطالبے کو بارہا رد کر چکا ہے- انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایشین سینٹر فار ہیومین رائٹس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مقبوضہ وادی کی جیلوں میں بڑی تعداد معصوم بچوں کی ہے جو بین الاقوامی و بھارتی نجی قوانین کے مطابق بچوں کے حقوق کی واضح خلاف ورزی ہے -اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ماضی میں بھارت عالمی برادری کے سامنے کشمیری جدوجہد کو دہشت گرد ی قرار دینے کی کوششیں کرتا رہا ہے البتہ جولائی 2016ء میں کشمیری حریت پسند برہان مظفر وانی کی شہادت نے کشمیریوں کی جدوجہدِ حقِ خود ارادیت میں ایک نیا جذبہ و جنون بھرتےہوئے بھارت کی تمام گھناؤنی سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے-جس کا منہ بولتا ثبوت مذکورہ بآلا اقوام متحدہ کمشن برائے انسانی حقوق کی جون 2018ءمیں کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مرتب کی جانے والی (پہلی) رپورٹ ہے جس کے مطابق جولائی 2016ءسے مارچ 2018ء تک ایک محتاط اندازے کے مطابق 170 نہتے کشمیری بھارتی جارحیت کا نشانہ بنے جبکہ 6 ہزار سے زائد لوگ زخمی ہوئے جن میں کئی افراد بینائی جیسی نعمت سے محروم ہو چکے ہیں-اس رپورٹ میں قتل، انصاف کی کمی، فوجی عدالتیں، انتظامی ناکامی، طاقت کا بے دریغ استعمال، پیلٹ گن کا وحشیانہ استعمال، من مانی گرفتاریاں، تشدد، گمشدگیاں، حقوقِ صحت،تعلیم اور اظہار ِرائے کی خلاف ورزی، صحافیوں کے خلاف تشدد اور جنسی زیادتی جیسی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے-دیگر کئی تنظیموں کی تحقیقات سمیت اس رپورٹ میں بھی بھارتی کالے قوانین کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سب سے بڑا ذمہ دار قرار دیا گیا -بھارت کی جانب سے اس رپورٹ کی مجرمانہ مخالفت کے بعد بھارتی غیر قانونی کردار میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہ جاتی اور اب عالمی برادری کی خاموشی یقیناً مجرم کا ساتھ دینے کے مترادف ہوگی-

پاکستان کشمیریوں کے حقِ خودارادیت اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہا ہے- اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر ماریہ فرنینڈا اسپینوزا کے حالیہ دورہ پاکستان پر انہیں مقبوضہ کشمیر کی مکمل صورتحال سے آگاہ کیا گیا -یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ایک متنازعہ علاقہ ہے جس میں کشمیریوں نے اپنے مستقبل کا فیصلہ اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ، استصوابِ رائے سے کرنا ہے-

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر