دستک : فلسطینی یوم النکبہ اور اسرائیلی جبرو استبداد

دستک : فلسطینی یوم النکبہ اور اسرائیلی جبرو استبداد

دستک : فلسطینی یوم النکبہ اور اسرائیلی جبرو استبداد

مصنف: جون 2018

  فلسطینی یوم النکبہ اور اسرائیلی جبر و استبداد 

مسلمانوں کی سر زمینِ فلسطین سے محبت اسلام کی نسبت سے ہے- اسی مقام پرحضرت محمد مصطفےٰ (ﷺ)نے جملہ انبیائے کرام(علیھم السلام)کی امامت فرمائی-فلسطین کی داستان جدوجہد کی بے نظیر مثالوں سے رقم ہے-ظلم، جبر، نا انصافی اور بربریت کے خلاف آواز اٹھنا ایک فطری عمل ہے اور فلسطینی ہر سال 15 مئی کو احتجاجاً، یوم النکبہ مناتے ہیں جو کہ قابض اسرائیل کے وجود میں آنے اور اپنی سر زمین سے بے گھر ہونے کی یاد میں ہے- فلسطینی اس احتجاج میں محصورینِ غزہ کے حق میں اور خود پر بیتنے والے انسانیت سوز مظالم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں-غزہ دنیا کا گنجان ترین علاقہ ہے جہاں ہر ایک مربع میٹر پر 4 فلسطینی زندگی بسر کرنے کے سزاوار ہیں-اسرائیلی غاصب افواج کی اجازت کے بغیر اس علاقے سے باہر نکلنا ناممکن ہے- فلسطینی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنے کی پاداش میں اس جیل کے قیدی ہیں- جہاں پرائے تو کجا اپنے بھی پرسان حال نہیں- اہلیانِ غزہ کو اسرائیلی افواج کی جانب سے آئے روز ذلت آمیز سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے-

فلسطینیوں نے حالیہ مظاہروں کے سلسلے کا آغاز غزہ میں 30 مارچ 2018ء کے پر امن احتجاج سے کیا-جس پر اسرائیلی غاصب افواج کی فائرنگ سے 110 افراد قتل اور 2771 افراد زخمی ہوئے- جن میں 1359 لوگ براہ راست فائرنگ سے زخمی ہوئے- ہلاک ہونے والوں میں مرد، عورتیں، بچے اور ہیلتھ ورکرز بھی شامل ہیں-کئی ہزار مضروبین اپاہج ہو چکے ہیں جبکہ مزید 130افراد کی جان خطرہ میں ہے- ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پُرامن مظاہرین پر مہلک اور ہائی ولاسٹی (High Velocity) کے ملٹری ہتھیار استعمال کیے گئے جو کہ نہتے فلسطینیوں کو قتل یا اپاہج کرنے کی نیت کا واضح ثبوت ہیں جو کہ جنگی جرائم کے زُمرے میں آتا ہے-اسرائیلی تباہ کاریوں کے باعث فلسطین میں ہسپتال جیسی طبی سہولیات بہت کم میسر ہیں لحاظہ محدود وقت اور محدود وسائل میں ہزاروں زخمیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنا مشکلات میں مزید اضافہ کا باعث ہے-ایسے وقت میں 20 کے قریب ایمولینسسز کی تباہی اور ڈاکٹرز کی قیمتی جانوں کاقتل قیامت خیز ہے-21 سالہ نوجوان سائکلسٹ، اعلا الدالی انڈونیشیاء میں ہونے والی ایشین گیمز میں شرکت کی تیاری میں مصروف تھا کہ 30 مارچ کو ٹانگ پر گولی لگنے سے زخمی ہو گیا- بعد ازاں اسے علاج کے لیے غزہ سے باہر جانے کا پرمٹ نہ دیا گیا نتیجتاً اس نہتے کھلاڑی کی ٹانگ ضائع ہو گئی-

صحافتی اصولوں کے تحت میڈیا غیر جانبدارانہ طور پر حالات و واقعات بیان کرنے کا پابند ہوتا ہے- لیکن اس سانحہ پر عالمی میڈیا نے جس روایتی بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے وہ انتہائی شرمناک ہے - معاشی مفادات کو انسانی مفاد پر ترجیح دیتے ہوئے دوہرے معیارات کو برقرار رکھتے ہوئے الفاظ کا چناؤ بھی یوں کیا گیا کہ اسرائیل پر الزام کم سے کم عائد ہو- مثلاً ’’Israeli troops kill 15 Palestinians at Gaza protest ‘‘لکھنے کی بجائے ایک معروف صحافتی ادارے نے اس خبر کو ان الفاظ میں لکھا ’’Confrontations at Gaza Fence Leave 15 Dead‘‘حالانکہ نہتے فلسطینیوں کی طرف سے یہ Protest تھا نہ کہ Confrontation -  جن اینکرز نے اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نسل کشی کی درست رپورٹ پیش کی ان کے ساتھ بھی دشمنانہ سلوک برتا گیا- مثلا مشہور اسرائیلی اینکر Yonit Levy کو فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کی تصویر پیش کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، سینکڑوں کی تعداد میں اس کے خلاف شکایات درج ہوئیں اور جان سے مار نے تک کا مطالبہ کیا گیا-

اسرائیلی آرمی سوشل میڈیا پر کئی جعلی عربی اکاونٹس مینج کرتی ہے تاکہ عرب لوگوں کا نقطہ نظر اپنے حق میں تبدیل کیا جا سکے- ان اکاؤئنٹس کے فالورز کی تعداد لاکھوں میں ہے- ایک رپورٹ کے مطابق ہر 46 سیکنڈ میں فلسطین کے خلاف فیس بک پر تعصب آمیز پوسٹ لگائی جاتی ہے-

اس سانحہ سے متعلق 15 مئی 2018ء کو سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا جس میں روس، چائنہ اور ساؤتھ افریقہ سمیت کئی مغربی ممالک نے بھی اسرائیلی جارحیت کی پر زور مذمت کی-مثلا بولیویا (شمال امریکی ملک) نے کہا کہ ’’یہ صورتحال، تنازعہ (Conflict) کی نہیں بلکہ قبضہ (Occupation) کی ہے‘‘- اس مسئلہ کو بڑھاوا دینے کی وجہ امریکہ کا یک طرفہ طور پر اپنا سفارت خانہ منتقل کرنا ہے- بولیویا نے امریکہ کو سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 478 کی یاد دہانی کرائی- اس قراداد کے مطابق یروشلم میں سفارت خانہ منتقل کرنا سختی سے منع ہے- بولیویا کے سرکاری نمائندے نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ اقوام متحدہ فلسطینیوں کی مدد میں ناکام ہو چکی ہے- فرانس کے نمائندہ نے فلسطینی پُرامن احتجاج پر اسرائیلی عسکری قوت کے استعمال کی شدید مذمت کی اور کہا کہ پُرامن احتجاج پر اندھا دھند فائرنگ کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہے- برطانیہ کے نمائندے نے اس قتل عام کی انکوائری، سفاکانہ لائیو فائرنگ اور مجرموں کو سزا دینے کی سفارش پیش کی- عالمی سطح پر سلامتی کونسل کے تمام رکن اس قتل عام (Genocide) کی آزادانہ تحقیقات کے حق میں رہے لیکن امریکہ اس امر کے خلاف رہا- بولیویا، فرانس اور برطانیہ سمیت، نیدر لینڈ، پیرو اور پولینڈ جیسے مغربی ممالک کا اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا قابل تحسین ہے ، حیرت یہ ہے کہ اتنے سارے مغربی ممالک نے اس سانحہ پہ اسرائیل کی مذمت کرنے کی ہمت کرلی مگر کئی مسلمان ممالک کے حکمرانوں کو تو جیسے کوئی سانپ سونگھ گیا ہو -

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اس سانحہ پر اسرائیلی وزیراعظم کو ان الفاظ میں جواب دیا ہے کہ :

’’نیتن یاہو، نسلی عصبیت پسند ملک (اسرائیل) کا وزیراعظم ہے جس نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے معصوم اور نہتے لوگوں کی سرزمین پر 60 سے زائد سال سے قبضہ جما رکھا ہے- اس کے ہاتھ فلسطینیوں کے خون سے رنگے ہیں- اگر یہ انسانیت کا درس سیکھنا چاہتا ہے تو تورات ہی پڑھ لے‘‘-

 رجب طیب اردگان کی بے باکی جہاں لائق تحسین ہے وہیں دیگر مسلم قیادتوں سے مسئلہ فلسطین پر سنجیدہ اقدامات کی طلب گار بھی ہے- لیکن افسوس مسلم حکمران تاریخ سے سبق سیکھنے کی بجائے فروعی اور ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں- مسلم انسٹیٹیوٹ کے بانی جانشینِ سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب نے گزشتہ برس، سہ روزہ انٹرنیشنل علامہ محمد اقبال کانفرنس میں نہ صرف اس بات کی یاد دہانی کرائی بلکہ ہمیں اس تاریخ کی سمبالک(symbolic) حیثیت یاد رکھنے کی تاکید بھی فرمائی کہ 1917ء میں جو Balfour Declaration کیا گیا؛ اس کے ایک سو سال مکمل ہو چکے ہیں- فلسطینیوں کو ان کی زمین سے بے دخلی کا منصوبہ اپنی سویں سالگرہ منا رہا ہے اور فلسطینیوں کے وارث امراء و علماء لسانی، قبائلی، علاقائی اور فروعی تفرقوں میں الجھ کر ایک دوسرے کی جان کے درپے ہیں- یعنی اس سمبالک تاریخ کے گزرتے ہی رپبلکن انتظامیہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دار الحکومت بنوا دیا اور وہاں اپنا سفارتخانہ بھی جا کھولا-

علامہ اقبال کی نصیحت آج بھی ہمیں پکارتی ہے کہ مسلمان بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں کب گم ہوگا؟ فلسطینیوں کی 70 سالہ جلا وطنی کب اختتام پذیر ہوگی؟ آزادی کے لیے مزید کتنے فلسطینیوں کو اپنا خون پیش کرنا پڑے گا؟ ہم اپنے اسلاف کے افکار سے کب تک آنکھیں چراتے رہیں گے؟ قائداعظم محمد علی جناحؒ کا فرمان ہے:

 

’’فلسطین کی تقسیم تاریخی، سیاسی اور اخلاقی کسی بھی طور جائز نہیں- پاکستان اس ناانصافی کو روکنے کے لئے ہر وہ قدم اٹھائے گا جو اس کے احاطہء اقتدار میں ہوگا‘‘-

 فلسطینی یوم النکبہ اور اسرائیلی جبر و استبداد

مسلمانوں کی سر زمینِ فلسطین سے محبت اسلام کی نسبت سے ہے- اسی مقام پرحضرت محمد مصطفےٰ (ﷺ)نے جملہ انبیائے کرام (﷩)کی امامت فرمائی-فلسطین کی داستان جدوجہد کی بے نظیر مثالوں سے رقم ہے-ظلم، جبر، نا انصافی اور بربریت کے خلاف آواز اٹھنا ایک فطری عمل ہے اور فلسطینی ہر سال 15 مئی کو احتجاجاً، یوم النکبہ مناتے ہیں جو کہ قابض اسرائیل کے وجود میں آنے اور اپنی سر زمین سے بے گھر ہونے کی یاد میں ہے- فلسطینی اس احتجاج میں محصورینِ غزہ کے حق میں اور خود پر بیتنے والے انسانیت سوز مظالم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں-غزہ دنیا کا گنجان ترین علاقہ ہے جہاں ہر ایک مربع میٹر پر 4 فلسطینی زندگی بسر کرنے کے سزاوار ہیں-اسرائیلی غاصب افواج کی اجازت کے بغیر اس علاقے سے باہر نکلنا ناممکن ہے- فلسطینی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنے کی پاداش میں اس جیل کے قیدی ہیں- جہاں پرائے تو کجا اپنے بھی پرسان حال نہیں- اہلیانِ غزہ کو اسرائیلی افواج کی جانب سے آئے روز ذلت آمیز سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے-

فلسطینیوں نے حالیہ مظاہروں کے سلسلے کا آغاز غزہ میں 30 مارچ 2018ء کے پر امن احتجاج سے کیا-جس پر اسرائیلی غاصب افواج کی فائرنگ سے 110 افراد قتل اور 2771 افراد زخمی ہوئے- جن میں 1359 لوگ براہ راست فائرنگ سے زخمی ہوئے- ہلاک ہونے والوں میں مرد، عورتیں، بچے اور ہیلتھ ورکرز بھی شامل ہیں-کئی ہزار مضروبین اپاہج ہو چکے ہیں جبکہ مزید 130افراد کی جان خطرہ میں ہے- ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پُرامن مظاہرین پر مہلک اور ہائی ولاسٹی (High Velocity) کے ملٹری ہتھیار استعمال کیے گئے جو کہ نہتے فلسطینیوں کو قتل یا اپاہج کرنے کی نیت کا واضح ثبوت ہیں جو کہ جنگی جرائم کے زُمرے میں آتا ہے-اسرائیلی تباہ کاریوں کے باعث فلسطین میں ہسپتال جیسی طبی سہولیات بہت کم میسر ہیں لحاظہ محدود وقت اور محدود وسائل میں ہزاروں زخمیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنا مشکلات میں مزید اضافہ کا باعث ہے-ایسے وقت میں 20 کے قریب ایمولینسسز کی تباہی اور ڈاکٹرز کی قیمتی جانوں کاقتل قیامت خیز ہے-21 سالہ نوجوان سائکلسٹ، اعلا الدالی انڈونیشیاء میں ہونے والی ایشین گیمز میں شرکت کی تیاری میں مصروف تھا کہ 30 مارچ کو ٹانگ پر گولی لگنے سے زخمی ہو گیا- بعد ازاں اسے علاج کے لیے غزہ سے باہر جانے کا پرمٹ نہ دیا گیا نتیجتاً اس نہتے کھلاڑی کی ٹانگ ضائع ہو گئی-

صحافتی اصولوں کے تحت میڈیا غیر جانبدارانہ طور پر حالات و واقعات بیان کرنے کا پابند ہوتا ہے- لیکن اس سانحہ پر عالمی میڈیا نے جس روایتی بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے وہ انتہائی شرمناک ہے - معاشی مفادات کو انسانی مفاد پر ترجیح دیتے ہوئے دوہرے معیارات کو برقرار رکھتے ہوئے الفاظ کا چناؤ بھی یوں کیا گیا کہ اسرائیل پر الزام کم سے کم عائد ہو- مثلاً ’’Israeli troops kill 15 Palestinians at Gaza protest ‘‘لکھنے کی بجائے ایک معروف صحافتی ادارے نے اس خبر کو ان الفاظ میں لکھا ’’Confrontations at Gaza Fence Leave 15 Dead‘‘حالانکہ نہتے فلسطینیوں کی طرف سے یہ Protest تھا نہ کہ Confrontation -  جن اینکرز نے اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نسل کشی کی درست رپورٹ پیش کی ان کے ساتھ بھی دشمنانہ سلوک برتا گیا- مثلا مشہور اسرائیلی اینکر Yonit Levy کو فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کی تصویر پیش کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، سینکڑوں کی تعداد میں اس کے خلاف شکایات درج ہوئیں اور جان سے مار نے تک کا مطالبہ کیا گیا-

اسرائیلی آرمی سوشل میڈیا پر کئی جعلی عربی اکاونٹس مینج کرتی ہے تاکہ عرب لوگوں کا نقطہ نظر اپنے حق میں تبدیل کیا جا سکے- ان اکاؤئنٹس کے فالورز کی تعداد لاکھوں میں ہے- ایک رپورٹ کے مطابق ہر 46 سیکنڈ میں فلسطین کے خلاف فیس بک پر تعصب آمیز پوسٹ لگائی جاتی ہے-

اس سانحہ سے متعلق 15 مئی 2018ء کو سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا جس میں روس، چائنہ اور ساؤتھ افریقہ سمیت کئی مغربی ممالک نے بھی اسرائیلی جارحیت کی پر زور مذمت کی-مثلا بولیویا (شمال امریکی ملک) نے کہا کہ ’’یہ صورتحال، تنازعہ (Conflict) کی نہیں بلکہ قبضہ (Occupation) کی ہے‘‘- اس مسئلہ کو بڑھاوا دینے کی وجہ امریکہ کا یک طرفہ طور پر اپنا سفارت خانہ منتقل کرنا ہے- بولیویا نے امریکہ کو سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 478 کی یاد دہانی کرائی- اس قراداد کے مطابق یروشلم میں سفارت خانہ منتقل کرنا سختی سے منع ہے- بولیویا کے سرکاری نمائندے نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ اقوام متحدہ فلسطینیوں کی مدد میں ناکام ہو چکی ہے- فرانس کے نمائندہ نے فلسطینی پُرامن احتجاج پر اسرائیلی عسکری قوت کے استعمال کی شدید مذمت کی اور کہا کہ پُرامن احتجاج پر اندھا دھند فائرنگ کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہے- برطانیہ کے نمائندے نے اس قتل عام کی انکوائری، سفاکانہ لائیو فائرنگ اور مجرموں کو سزا دینے کی سفارش پیش کی- عالمی سطح پر سلامتی کونسل کے تمام رکن اس قتل عام (Genocide) کی آزادانہ تحقیقات کے حق میں رہے لیکن امریکہ اس امر کے خلاف رہا- بولیویا، فرانس اور برطانیہ سمیت، نیدر لینڈ، پیرو اور پولینڈ جیسے مغربی ممالک کا اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا قابل تحسین ہے ، حیرت یہ ہے کہ اتنے سارے مغربی ممالک نے اس سانحہ پہ اسرائیل کی مذمت کرنے کی ہمت کرلی مگر کئی مسلمان ممالک کے حکمرانوں کو تو جیسے کوئی سانپ سونگھ گیا ہو -

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اس سانحہ پر اسرائیلی وزیراعظم کو ان الفاظ میں جواب دیا ہے کہ :

’’نیتن یاہو، نسلی عصبیت پسند ملک (اسرائیل) کا وزیراعظم ہے جس نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے معصوم اور نہتے لوگوں کی سرزمین پر 60 سے زائد سال سے قبضہ جما رکھا ہے- اس کے ہاتھ فلسطینیوں کے خون سے رنگے ہیں- اگر یہ انسانیت کا درس سیکھنا چاہتا ہے تو تورات ہی پڑھ لے‘‘-

 رجب طیب اردگان کی بے باکی جہاں لائق تحسین ہے وہیں دیگر مسلم قیادتوں سے مسئلہ فلسطین پر سنجیدہ اقدامات کی طلب گار بھی ہے- لیکن افسوس مسلم حکمران تاریخ سے سبق سیکھنے کی بجائے فروعی اور ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں- مسلم انسٹیٹیوٹ کے بانی جانشینِ سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب نے گزشتہ برس، سہ روزہ انٹرنیشنل علامہ محمد اقبال کانفرنس میں نہ صرف اس بات کی یاد دہانی کرائی بلکہ ہمیں اس تاریخ کی سمبالک(symbolic) حیثیت یاد رکھنے کی تاکید بھی فرمائی کہ 1917ء میں جو Balfour Declaration کیا گیا؛ اس کے ایک سو سال مکمل ہو چکے ہیں- فلسطینیوں کو ان کی زمین سے بے دخلی کا منصوبہ اپنی سویں سالگرہ منا رہا ہے اور فلسطینیوں کے وارث امراء و علماء لسانی، قبائلی، علاقائی اور فروعی تفرقوں میں الجھ کر ایک دوسرے کی جان کے درپے ہیں- یعنی اس سمبالک تاریخ کے گزرتے ہی رپبلکن انتظامیہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دار الحکومت بنوا دیا اور وہاں اپنا سفارتخانہ بھی جا کھولا-

علامہ اقبال کی نصیحت آج بھی ہمیں پکارتی ہے کہ مسلمان بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں کب گم ہوگا؟ فلسطینیوں کی 70 سالہ جلا وطنی کب اختتام پذیر ہوگی؟ آزادی کے لیے مزید کتنے فلسطینیوں کو اپنا خون پیش کرنا پڑے گا؟ ہم اپنے اسلاف کے افکار سے کب تک آنکھیں چراتے رہیں گے؟ قائداعظم محمد علی جناح(﷫) کا فرمان ہے:

’’فلسطین کی تقسیم تاریخی، سیاسی اور اخلاقی کسی بھی طور جائز نہیں- پاکستان اس ناانصافی کو روکنے کے لئے ہر وہ قدم اٹھائے گا جو اس کے احاطہء اقتدار میں ہوگا‘‘-

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر