دستک : سانحہ قصور : قصوروارکون؟؟

دستک : سانحہ قصور : قصوروارکون؟؟

دستک : سانحہ قصور : قصوروارکون؟؟

مصنف: فروری 2018

سانحہ قصور : قصور وار کون؟

قصور میں 7سالہ معصوم بچی زینب کے انسان نما درندہ کے ہاتھوں مبینہ زیادتی اور لرزہ خیز قتل نے ہر ذی شعور دردمند پاکستانی کو خون کے آنسو رُلا دیا ہے- اس مرگِ اخلاقیات سانحہ کی جس قدر بھی مذمت کی جائے کم ہے کیونکہ دنیا کا کوئی بھی مذہب، تہذیب، قانون یا اخلاقی اقدار ایسے ناپاک فعل کی ہرگز اجازت نہیں دیتے- افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا ہونے والا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ پہلے بھی ایسے المناک واقعات ہو چکے ہیں جن میں اپنے اعضاء کو جنسی خواہشات کے تابع کردینے والے انسان نما درندوں نے بہت سی معصوم کلیوں اور ننھی پریوں کو مسل کر رکھ دیا -

اس دلخراش سفاکیت و درندگی کےعمل پر ملک بھر میں ہونے والے شدید احتجاج ایک فطری عمل تھے لیکن افسوس ہمیشہ کی طرح چند دن کے احتجاجی مظاہروں، ایک دوسرے کو کوسنےاور اس درد ناک سانحہ پر اپنے اپنے ذاتی مفادات کے حصول کی کوشش کے بعد ایک بار پھر ’’وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا ‘‘کے مصداق اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوتے چلے جا رہے ہیں- اگر یہ اہل سیاست کی ذمہ داریوں میں نہیں آتا یا خود سیاستدان اس میں ملوث نہ ہوں تو اس طرح کے واقعات کو سیاسی رنگ نہیں دیا جا نا چاہیے اور نہ ہی اس تلخ حقیقت سے نظریں چرائی جا سکتی ہیں- ایسے جرائم کے مرتکبین کو فی الفور سزا دی جانی چاہئے اور اس ضمن میں سانحہ قصور  کے اصل مجرم کی فوری گرفتاری عمل میں لاتے ہوئے اس فعل کو فساد فی الارض گردانتے ہوئے حربہ کے تحت کڑی سے کڑی اور عبرتناک سزا دی جانی چاہئے-

جہاں تک ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات کا معاملہ ہے تو ہمیں سب سے پہلے یہ ادراک کرنا ہو گا کہ آج کی دنیا میں معصوم بچوں اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کسی ایک ملک، نسل، قوم ، معاشرہ یا گروہ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک عالمی نوعیت کا مسئلہ ہے - بچوں کے حقوق کی پامالی کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے 20 نومبر 1989ء کو اقوامِ متحدہ میں بچوں کے حقوق کے متعلق کنونشن پیش کی گئی جسے سوائے امریکہ دنیا کے 194 ممالک نے تسلیم کرتے ہوئے عہد کیا کہ وہ اپنے ممالک میں بچوں کے تحفظ کیلئے مناسب قانون سازی اور دیگر امور بجا لائیں گیں-دنیا کے ایسے ممالک جہاں بچوں اور عورتوں کے حقوق کی کئی تنظیمیں اپنا کردار ادا کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں اور مناسب قوانین بھی موجود ہیں وہاں بھی جنسی استحصال کے حالات کچھ مختلف نہیں-برطانیہ میں 2017ء میں  52,406 ریپ کیس رپورٹ کیے گئے جبکہ ہر بیس میں سے ایک بچہ جنسی تشدد کا نشانہ بنتا ہے[1]-امریکہ میں 2015ء میں جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے زائد تھی [2]اور 2015ء میں دس سال سے کم عمر 19 ہزار سے زائد بچے جنسی استحصال کا نشانہ بنے[3]-اسی طرح 2015ء کی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں سالانہ کم و بیش ڈیڑھ لاکھ خواتین کی عزتیں پامال ہونے کے کیس رپورٹ ہوتے ہیں-آسٹریلین ہیومن رائٹس کمیشن کے سروے کے مطابق 2016ء میں آسٹریلیا کی یونیورسٹیز میں 51 فیصد خواتین طلباء کو جنسی طور پر حراساں کیا گیا- پاکستان میں 2016ء کے پہلے چھے ماہ میں بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کے 2127 کیس رپورٹ کیے گئے ہیں جبکہ اوسطاً سالانہ 4 ہزار بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے [4]-ان اعداد و شمار سے یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ ترقی یافتہ و ترقی پذیر ممالک اور تمام عالم ِانسانیت اس درد ناک مسئلہ سے دوچار و شرمندہ ہے چنانچہ جہاں ایک جانب قانون کے سخت کرنے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے تو وہیں عالمی برادری کو اس بات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ آخر ایسے واقعات کے بنیادی اسباب کیا ہیں اور ایک فرد کیلئے اپنی جنسی خواہشات کو کنٹرول کرنا کس طرح سے ممکن بنایا جا سکتا ہے تاکہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو مادی و اخلاقی طور پر مہذب معاشرہ دے سکیں کیونکہ آج کا انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو چکا ہے کہ کیا ہم واقعی مہذب ہیں-

اگر بڑھتی ہوئی جنسی ہوس پرستی کی وجوہات کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو ان میں فرد کی معاشرے سے علیحدگی اور تنہائی، میڈیا کا منفی کردار، مادر پدر آزادی کا تصور، مقصد حیات فقط زندگی کو خواہشاتِ نفسانی کے مطابق گزارنا، بڑھتا ہوا گالم گلوچ کا کلچر اور ظالمین کے خلاف بروقت قانونی کاروائی کا نہ ہونا شامل ہیں-سماجی تعلقات کی مختلف ویب سائٹس اور سمارٹ فونز کے منفی استعمال، غیر اخلاقی فلموں، ڈراموں اور ٹی وی شوز اورانٹرنیٹ پر غیر اخلاقی مواد کے بآسانی حصول نے نوجوان نسل کو جنسی بے راہ روی کا شکار کر نے میں اپنا کردار ادا کیا ہے-آزادی کے نام پر انسان کو اس قدر بے لگام کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنی غلیظ خواہشات کے حصول کے لیے ہر طرح کے غیر قانونی و غیر اخلاقی عمل کو اپنی آزادی کا حصہ سمجھتے ہوئے کسی بھی باضمیر، زندہ انسانی تہذیبی معاشرے کے اخلاقیات ، جذبات و احساسات کو مجروح کرنے اور ان کی دھجیا ں اڑا نے میں عار محسوس نہیں کرتا- مختلف محققین کے مطابق زبانی بدسلوکی اور گالم گلوچ انسان کی نفسیات پر بالکل ویسے ہی اثر انداز ہوتے ہیں جیسے جنگ سے واپس آنے والے فوجیوں پر پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر (PTSD) کے اثرات مرتب ہوتے ہیں- چنانچہ ہمیں ان بنیادی مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے- دوسری جانب فرد کی روحانی و اخلاقی تربیت کی ہر ممکن حد تک کوشش کی جانی چاہیے -فرد کی سطح پر یہ بات ذہن نشین ہونی چائیے کہ اول تو دوسروں کا استحصال کرنے والا قانون کے شکنجے میں آئے گا مگر ساتھ ہی ساتھ ضمیر و فطرت کی عدالت سے کبھی نہیں بچ پائے گا-ایسا انسان ذہنی تذبذب وذلالت، روحانی انحطاط اور بدسکونی کا شکار ہو کر اپنی موت آپ مر جاتا ہے-

 



[2]https://www.statista.com/statistics/642458/rape-and-sexual-assault-victims-in-the-us-by-gender/

[3]https://www.statista.com/statistics/639493/sex-offences-united-states-by-victim-age/

[4]https://www.dawn.com/news/1278753

سانحہ قصور : قصور وار کون؟

قصور میں 7سالہ معصوم بچی زینب کے انسان نما درندہ کے ہاتھوں مبینہ زیادتی اور لرزہ خیز قتل نے ہر ذی شعور دردمند پاکستانی کو خون کے آنسو رُلا دیا ہے- اس مرگِ اخلاقیات سانحہ کی جس قدر بھی مذمت کی جائے کم ہے کیونکہ دنیا کا کوئی بھی مذہب، تہذیب، قانون یا اخلاقی اقدار ایسے ناپاک فعل کی ہرگز اجازت نہیں دیتے- افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا ہونے والا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ پہلے بھی ایسے المناک واقعات ہو چکے ہیں جن میں اپنے اعضاء کو جنسی خواہشات کے تابع کردینے والے انسان نما درندوں نے بہت سی معصوم کلیوں اور ننھی پریوں کو مسل کر رکھ دیا -

اس دلخراش سفاکیت و درندگی کےعمل پر ملک بھر میں ہونے والے شدید احتجاج ایک فطری عمل تھے لیکن افسوس ہمیشہ کی طرح چند دن کے احتجاجی مظاہروں، ایک دوسرے کو کوسنےاور اس درد ناک سانحہ پر اپنے اپنے ذاتی مفادات کے حصول کی کوشش کے بعد ایک بار پھر ’’وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا ‘‘کے مصداق اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوتے چلے جا رہے ہیں- اگر یہ اہل سیاست کی ذمہ داریوں میں نہیں آتا یا خود سیاستدان اس میں ملوث نہ ہوں تو اس طرح کے واقعات کو سیاسی رنگ نہیں دیا جا نا چاہیے اور نہ ہی اس تلخ حقیقت سے نظریں چرائی جا سکتی ہیں- ایسے جرائم کے مرتکبین کو فی الفور سزا دی جانی چاہئے اور اس ضمن میں سانحہ قصور  کے اصل مجرم کی فوری گرفتاری عمل میں لاتے ہوئے اس فعل کو فساد فی الارض گردانتے ہوئے حربہ کے تحت کڑی سے کڑی اور عبرتناک سزا دی جانی چاہئے-

جہاں تک ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات کا معاملہ ہے تو ہمیں سب سے پہلے یہ ادراک کرنا ہو گا کہ آج کی دنیا میں معصوم بچوں اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کسی ایک ملک، نسل، قوم ، معاشرہ یا گروہ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک عالمی نوعیت کا مسئلہ ہے - بچوں کے حقوق کی پامالی کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے 20 نومبر 1989ء کو اقوامِ متحدہ میں بچوں کے حقوق کے متعلق کنونشن پیش کی گئی جسے سوائے امریکہ دنیا کے 194 ممالک نے تسلیم کرتے ہوئے عہد کیا کہ وہ اپنے ممالک میں بچوں کے تحفظ کیلئے مناسب قانون سازی اور دیگر امور بجا لائیں گیں-دنیا کے ایسے ممالک جہاں بچوں اور عورتوں کے حقوق کی کئی تنظیمیں اپنا کردار ادا کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں اور مناسب قوانین بھی موجود ہیں وہاں بھی جنسی استحصال کے حالات کچھ مختلف نہیں-برطانیہ میں 2017ء میں 52,406 ریپ کیس رپورٹ کیے گئے جبکہ ہر بیس میں سے ایک بچہ جنسی تشدد کا نشانہ بنتا ہے[1]-امریکہ میں 2015ء میں جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے زائد تھی [2]اور 2015ء میں دس سال سے کم عمر 19 ہزار سے زائد بچے جنسی استحصال کا نشانہ بنے[3]-اسی طرح 2015ء کی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں سالانہ کم و بیش ڈیڑھ لاکھ خواتین کی عزتیں پامال ہونے کے کیس رپورٹ ہوتے ہیں-آسٹریلین ہیومن رائٹس کمیشن کے سروے کے مطابق 2016ء میں آسٹریلیا کی یونیورسٹیز میں 51 فیصد خواتین طلباء کو جنسی طور پر حراساں کیا گیا- پاکستان میں 2016ء کے پہلے چھے ماہ میں بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کے 2127 کیس رپورٹ کیے گئے ہیں جبکہ اوسطاً سالانہ 4 ہزار بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے [4]-ان اعداد و شمار سے یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ ترقی یافتہ و ترقی پذیر ممالک اور تمام عالم ِانسانیت اس درد ناک مسئلہ سے دوچار و شرمندہ ہے چنانچہ جہاں ایک جانب قانون کے سخت کرنے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے تو وہیں عالمی برادری کو اس بات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ آخر ایسے واقعات کے بنیادی اسباب کیا ہیں اور ایک فرد کیلئے اپنی جنسی خواہشات کو کنٹرول کرنا کس طرح سے ممکن بنایا جا سکتا ہے تاکہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو مادی و اخلاقی طور پر مہذب معاشرہ دے سکیں کیونکہ آج کا انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو چکا ہے کہ کیا ہم واقعی مہذب ہیں-

اگر بڑھتی ہوئی جنسی ہوس پرستی کی وجوہات کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو ان میں فرد کی معاشرے سے علیحدگی اور تنہائی، میڈیا کا منفی کردار، مادر پدر آزادی کا تصور، مقصد حیات فقط زندگی کو خواہشاتِ نفسانی کے مطابق گزارنا، بڑھتا ہوا گالم گلوچ کا کلچر اور ظالمین کے خلاف بروقت قانونی کاروائی کا نہ ہونا شامل ہیں-سماجی تعلقات کی مختلف ویب سائٹس اور سمارٹ فونز کے منفی استعمال، غیر اخلاقی فلموں، ڈراموں اور ٹی وی شوز اورانٹرنیٹ پر غیر اخلاقی مواد کے بآسانی حصول نے نوجوان نسل کو جنسی بے راہ روی کا شکار کر نے میں اپنا کردار ادا کیا ہے-آزادی کے نام پر انسان کو اس قدر بے لگام کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنی غلیظ خواہشات کے حصول کے لیے ہر طرح کے غیر قانونی و غیر اخلاقی عمل کو اپنی آزادی کا حصہ سمجھتے ہوئے کسی بھی باضمیر، زندہ انسانی تہذیبی معاشرے کے اخلاقیات ، جذبات و احساسات کو مجروح کرنے اور ان کی دھجیا ں اڑا نے میں عار محسوس نہیں کرتا- مختلف محققین کے مطابق زبانی بدسلوکی اور گالم گلوچ انسان کی نفسیات پر بالکل ویسے ہی اثر انداز ہوتے ہیں جیسے جنگ سے واپس آنے والے فوجیوں پر پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر (PTSD) کے اثرات مرتب ہوتے ہیں- چنانچہ ہمیں ان بنیادی مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے- دوسری جانب فرد کی روحانی و اخلاقی تربیت کی ہر ممکن حد تک کوشش کی جانی چاہیے -فرد کی سطح پر یہ بات ذہن نشین ہونی چائیے کہ اول تو دوسروں کا استحصال کرنے والا قانون کے شکنجے میں آئے گا مگر ساتھ ہی ساتھ ضمیر و فطرت کی عدالت سے کبھی نہیں بچ پائے گا-ایسا انسان ذہنی تذبذب وذلالت، روحانی انحطاط اور بدسکونی کا شکار ہو کر اپنی موت آپ مر جاتا ہے-



[2]https://www.statista.com/statistics/642458/rape-and-sexual-assault-victims-in-the-us-by-gender/

[3]https://www.statista.com/statistics/639493/sex-offences-united-states-by-victim-age/

[4]https://www.dawn.com/news/1278753

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر