قرآن مجید کی روشنی میں لین دین کے عمومی اصول

قرآن مجید کی روشنی میں لین دین کے عمومی اصول

قرآن مجید کی روشنی میں لین دین کے عمومی اصول

مصنف: محمد حسیب خان جون 2019

زیرِ نظر تحریر کا موضوع انسان کےمعاشرتی معاملات ’’لین دین‘‘ سے ہے-یعنی انسان اپنے معاشرتی معاملات میں ایک دوسرے سے لین دین کس طریق سے بخوبی نبھا سکتا ہے- کیونکہ معاملات کی پابندی انسان کوایک اچھا شہری، ایک اچھا فرد بننے میں مدد فراہم کرتی ہے- قرآن مجید و سنت مبارکہ کی عبارات سے واضح ہوتا ہے کہ عبادات کو تفصیل میں جبکہ معاشرتی معاملات یعنی لین دین کو عام اصطلاحات ومسلمہ اصولوں کی صورت میں بیان کیا گیا ہے-

بالفاظ دیگر معاملات کے لئے مسلمہ اصول واضح کئے گئے ہیں جن کو مدنظر رکھتے ہوئے حالات و واقعات کےمطابق قانون سازی کی جاسکتی ہے- شریعت نے معاملات کو اصولوں کی روشنی میں اس لئے بیان کیا تاکہ مختلف لوگ، مختلف جگہوں سے اور مختلف وقت میں اس سے راہنمائی حاصل کر سکیں-جس کی وجہ شریعت محمدی (ﷺ)کی جامعیت اور عالمگیریت ہے- قرآن پاک میں لین دین کے معاملات کوطے کرنے کے لئے کچھ اسلامی اصول بیان کیے گئے ہیں جن میں سے کچھ کاذکردرج ذیل میں کیا جارہاہے:

باہمی رضامندی :

لین دین میں باہمی رضا مندی پہلا اصول ہے جس کا مطلب اسلامی قوانین میں دونوں فریقن کا آزادانہ طور پربغیر کسی خوف و ڈر کے رضا مند ہونا ہے- کسی لین دین کے معاہدے کی توثیق کے لئے ضروری ہےکہ دونوں فریقین باہمی طور پر رضا مند ہوں- ایسا معاہدہ جس میں جبر، دھوکہ، غلط بیانی اور دوسرے غیر قانونی عناصر شامل ہوں؛ ایسے معاہدے کو شریعت باطل قرار دیتی ہے- اس کو باطل کرنے کی علت پارٹیز کی باہمی رضا مندی اور معاہدے میں شامل ہونے کا ارادہ نہ ہونا ہے کیونکہ جبر، دھوکہ، غلط بیانی جیسے عوامل سے باہمی رضا مندی اور ارادہ باقی نہیں رہتے- باہمی رضا مندی کو قرآن پاک اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں بڑی اہمیت دی گئی ہے-جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْقف وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْط اِنَّ اللہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًاo‘‘[1]

’’اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے کوئی تجارت ہو اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بے شک اللہ تم پر مہربان ہے‘‘-

اسی طرح حضورنبی کریم (ﷺ)نےفرمایا :

’’فروخت کا معاہدہ صرف باہمی رضامندی سےدرست ہے‘‘-[2]

قمار اورمیسرکی ممانعت:

قمار اور میسر سے بچاؤ بھی اسلامی اصولوں میں ایک بہت اہمیت کا حامل اصول ہے- اسلام نے جوا کی تمام صورتوں کوسختی سے منع کیا ہے اسلام میں میسر اور قمار جوا کی ایسی اقسام ہیں جو مکمل طور پر ممنوع ہیں-

میسر سے مراد بغیر کوئی مشقت اور ذرائع آمدن استعمال کیے- یعنی دوسروں کوحق سے محروم کرتے ہوئے دولت کو اکٹھا کرنا- مطلب بہت آسانی سےمنافع حاصل کرنا- مثال کے طور پر لاٹری کا پیسہ، پانسے سے کھیلنا اور بازی یا شرط لگانا میسر کی تعریف پر پورا اترتا ہے-قمار وہ آمدنی، منافع یا حصول منافع پر مشتمل ہے جس کا مکمل انحصار قسمت اورموقع پر ہو- قرآن مجید نے ان سے بچنے کی تنبیہ فرمائی ہے جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo‘‘[3]

’’اے ایمان والو! بے شک شراب اور جوأ اور (عبادت کے لیے) نصب کیے گئے بُت اور (قسمت معلوم کرنے کے لیے) فال کے تیر (سب) ناپاک شیطانی کام ہیں-سو تم ان سے (کلیتاً) پرہیز کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ‘‘-

ربا کا خاتمہ:

عصر حاضرمیں اسلامی قانون کا تصورِربا بالعموم اور اسلامی بینکنگ کے آغاز سے بالخصوص ایک بہت اہم مسئلہ ہے- ربا کے لغوی معنی زیادتی، بڑھوتی اور بلندی کے ہیں- اسکالر نبیل صالح کے مطابق اصل رقم میں ایک ہی جنس کی دو چیزوں کے درمیان ایک غیر قانونی اضافہ ربا کہلاتا ہے-ربا کی ممانعت قرآن و احادیث میں بہت سے جگہوں پرفرمائی گئی ہے:

’’وَاَحَلَّ اللہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ‘‘[4]

’’اور اﷲ نے تجارت (سوداگری) کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کیا ہے‘‘-

مزید فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

یٰٓـایُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوا اللہَ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَo فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖج وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ رُءُ وْسُ اَمْوَالِکُمْج لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَo‘‘[5]

’’اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور جو کچھ بھی سود میں سے باقی رہ گیا ہے چھوڑ دو اگر تم (صدقِ دل سے) ایمان رکھتے ہو-پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اﷲ اور اس کے رسول (ﷺ) کی طرف سے اعلانِ جنگ پر خبردار ہو جاؤ اور اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے لیے تمہارے اصل مال (جائز) ہیں، نہ تم خود ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے‘‘-

دھوکہ اور فریب کی ممانعت:

خیلابہ اور غش بھی اسلامی اصولوں میں فریب اور دھوکہ دہی کے معنوں میں آتے ہیں - قرآن اور سنت نے دھوکہ دہی اور جھوٹ سےمنع کیا ہے- خلابہ، غش اور تطفیف کے الفاظ قرآن مجید میں دھوکہ دہی کے معنوں میں استعمال ہوئے ہیں- اس کو اس طرح بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ فروخت کی جانے والی چیز کی خرابی کو چھپانا-دھوکہ کے کاموں میں نام تول کی کمی کو (تطفیف)، ایک چیز کی قیمت بڑھانے کیلئے غلط بولی لگانا (نجش)، ایک دودھ دینے والے جانور کی پیداوار کو خریدار کے سامنے غلط بیان کرنا (تسریعہ) کہا گیا ہے-قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَo الَّذِیْنَ اِذَا اکْتَالُوْا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَo وَ اِذَا کَالُوْھُمْ اَوْوَّزَنُوْھُمْ یُخْسِرُوْنَo اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓئِکَ اَنَّھُمْ مَّبْعُوْثُوْنَo لِیَوْمٍ عَظِیْمٍo‘‘[6]

’’بربادی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے-یہ لوگ جب (دوسرے) لوگوں سے ناپ لیتے ہیں تو (ان سے) پورا لیتے ہیں اور جب انہیں (خود)ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو گھٹا کر دیتے ہیں-کیا یہ لوگ اس بات کا یقین نہیں رکھتے کہ وہ (مرنے کے بعد دوبارہ) اٹھائے جائیں گے-ایک بڑے سخت دن کے لیے‘‘-

ان آیات مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ ناپ تول کر نے والےپر کتنی بڑی وعید ہے -

حضور نبی کریم (ﷺ)نے ارشادفرمایا :

’’اگر دونوں نے سچ بولا اور چیز کی خرابی کو پہلے بیان کیا پھر وہ اپنے لین دین میں برکت پائیں گے اور اگر انہوں نے جھوٹ بولا اور کچھ چھپایا تو وہ لین دین کی برکت کو کھو دیں گے‘‘-[7]

آپ (ﷺ)نے مزید ارشاد فرمایا :

’’ایماندار اور سچا دکاندار قیامت کے دن اللہ کے نبی، صدیقین، شہدا اور صالحین کے ساتھ ہوگا‘‘-[8]

متنازع معاہدوں کی ممانعت:

متنازع معاہدوں سے متعلق قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِيْنَ ‘‘[9]

’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو ‘‘-

قرآن پاک کی طرح  حدیث مبارکہ  میں بھی متنازع معاہدوں کو بھی بہت سختی سے منع کیا گیا ہے-جیسا کہ حدیث نبوی (ﷺ) ہے:

’’حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) نے ایک فروخت میں دو فروختوں سے منع فرمایا ‘‘-[10]

اس حدیث کی روشنی میں مندرجہ ذیل چند استدلال کئے جا سکتےہیں: مثلاً:

1. ایک شخص دوسرے شخص کو کہتا ہے کہ ’’اگر میں تمہیں فلاں قیمت پر یہ چیز فروخت کر دوں تو اس کے بدلے اُس قیمت پر تم اپنا گھر مجھے بیچ دو گے‘‘-

2. معاہدہ تب دوسرے معاہدہ پر متنازع بنتا ہے جب دونوں باہمی طور پر متضاد معاہدے ہوں- مثلاً زید اپنے دوست بکر کو کہتا ہے کہ میں تمہیں تب اپنا گھر بیچوں گا جب تیسرا دوست قمر مجھے اپنا گھر بیچے گا-یعنی ایک معاہدہ دوسرے پر منحصرہو-

3. زید اپنے دوست بکر کو کہتا ہے کہ میں یہ چیز تمہیں ایک سو روپے نقد اوراگر ادھار چاہیے تو ایک سو پچاس کی بیچوں گا - اس طرح ایک چیز کی فروخت میں دو مختلف چیزوں کا آجانا بالکل غلط ہے-

معاہدہ کی مقاصد الشریعہ سے مطابقت و موافقت:

مقاصد الشریعہ بھی اسلامی اصولوں میں بہت اہمیت کے حامل ہیں-یعنی شریعہ کے کیا مقاصد ہیں؟ جن کی پیروی کرنا ہم پر فرض ہے- فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ شریعہ کا مقصد انسانی پانچ چیزوں کی حفاظت ہے: ’’دین، نفس، نسل،عقل اور مال کی حفاظت‘‘-کوئی بھی معاہدہ مندرجہ بالا مقاصد کےخلاف ہو تو وہ شریعت کی روشنی میں مسترد قرار دیا جاتاہے- مقاصد الشریعہ کو اسلامی قانون میں حقوق اللہ کی طرح دیکھا جاتا ہے-مقاصد الشریعہ پر قرآن پاک اور احادیث میں بہت زور دیا گیا ہے- جیساکہ اللہ رب العزت کافرمانِ ذیشان ہے:

’’مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَط کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاط وَمَنْ اَحْیَاہَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًاط وَلَقَدْ جَآئَ تْہُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِز ثُمَّ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَo ‘‘[11]

’’اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر (نازل کی گئی تورات میں یہ حکم) لکھ دیا (تھا) کہ جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے اسے (ناحق مرنے سے بچا کر) زندہ رکھا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو زندہ رکھا اور بے شک ان کے پاس ہمارے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے پھر (بھی) اس کے بعد ان میں سے اکثر لوگ یقینا زمین میں حد سے تجاوز کرنے والے ہیں‘‘-

مزید انسانی جان کی عظمت کویوں فرمایاگیاہے:

’’وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ‘‘[12] 

’’اور تمہارے لیے قصاص (یعنی خون کا بدلہ لینے) میں ہی زندگی (کی ضمانت) ہے اے عقلمند لوگو! تاکہ تم (خونریزی اور بربادی سے) بچو‘‘-

مقاصدِ شریعہ کی مزید وضاحت یوں کی گئی ہے:

’’یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ ‘‘[13]

’’اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ‘‘-

نقصان کی ذمہ داری اور منافع کی تو ثیق:

اسلام میں تجارت اور لین دین کی مکمل اجازت ہے، زندگی کے  ہر  پہلو کے متعلق آگاہی، بہترین تجارت اور لین دین کا طریقہ ہے-اسلام نے ہر فرد کو واضح احکام میں بتایا کہ منافع کیسے حاصل کیا جائے-جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ‘‘[14]

’’بیشک ضرور تمہاری آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں ‘‘-

ہر ٹرانزکشن میں یہ اصول واضح ہو ناچاہیے کہ ایک شخص اس صورت میں فائدہ اٹھانے کا حق رکھتاہے جس میں اس کو نقصان کا بھی خطرہ ہوتا ہے-

یہ اصول خرید و فروخت کے لین دین اور شراکت داری میں استعمال ہو رہا ہے- ایک کاروباری آدمی نفع تب ہی کماتا ہے جب وہ نقصان برداشت کرنے کے لیے تیار ہو- بالکل اسی طرح ایک مکان مالک اس گھر کا کرایہ لینے کا مستحق ہوتا ہے کیونکہ اس نے اس مکان سےمتعلق نقصانات کو برداشت کرنا ہوتا ہے- مذکورہ خطرہ اس کو اس کرایے کاصحیح حقدار بناتا ہے جو وہ وصول کرتا ہے- شراکت داری میں بھی تمام جمع کیا گیا منافع اصول ذمہ داری کے ساتھ منسوب کیا جاتاہے-

٭٭٭


[1](النساء:29)

[2](سنن ابن ماجہ)

[3](المائدہ:90)

[4](البقرۃ:275)

[5](البقرۃ:278-279)

[6](المطففین:1-5)

[7](صحیح بخاری)

[8](سنن ابن ماجہ)

[9](البقرۃ:278)

[10](ایضاً)

[11](المائدہ:32)

[12](البقرۃ:179)

[13](النساء:29)

[14](آلِ عمران:186)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر