سالانہ ملک گیردورہ"اصلاحی جماعت وعالمی تنظیم العارفین" (رپورٹ)

سالانہ ملک گیردورہ

سالانہ ملک گیردورہ"اصلاحی جماعت وعالمی تنظیم العارفین" (رپورٹ)

مصنف: ادارہ مارچ 2019

قوم کے فکری انتشار کے دوران قیادت کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے- کارواں جب بھٹکنے لگے تو قائد کی شخصیت ہی صحیح سمت کا تعین کرتی ہے   جیسے بکھرے ہوئے پروانوں کو شمع کی لَو ہی یکجا کرتی ہے- جس کشتی کے مسافروں کو ملاح نصیب ہو وہ طوفانوں کی پرواہ نہیں کرتے -ضرورت صرف شاخ سے پیوستہ رہنے کی ہے شجر پہ بہار آکر رہتی ہے-دینی مُعاملات و تربیت میں صُوفیائے کرام کو روزِ اول سے ہی قائدانہ حیثیت حاصل رہی ہے، صُوفیاء کے قرآن و سُنت کے عملی مشن کو عہدِ حاضر میں آگے بڑھانے کیلئے سُلطان الفقر حضرت سُلطان محمد اصغر علی صاحبؒ نے اِصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کو قائم فرمایا-آج نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد اصلاحی و روحانی تربیّت کے ذریعے اپنے انفرادی و ملی کردار کو پختہ تر بنا رہی ہے اس کی وجہ اصلاحی جماعت کی رُوحانی اور ولولہ انگیز قیادت،مضبوط دِینی کردار اورغیر معمولی معیار کی تربیت ہے-

اِس دردِ انسانیت کو عامۃ الناس کے دل و دماغ میں جاگزیں کرنے کے لئے ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘کے زیرِ اہتمام جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مدظلہ الاقدس)، سرپرستِ اعلی ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘ کی قیادت میں علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر محسنِ انسانیت فخرِ موجودات (ﷺ) کے اسمِ گرامی سے منسوب محافل میلادِ مصطفےٰ (ﷺ) اور حضرت سلطان باھُو (قدس اللہ سرّہٗ)  کانفرنسز (Conferences) کے سالانہ اجتماعات منعقد ہوتے ہیں-

یہ اجتماعات روایتی طریق کار کی طرح نہیں ہوتے بلکہ نہایت ہی منظّم اور بامقصد طریقے سے ہوتے ہیں-ہر پروگرام کی ترتیب اس طرح سے ہوتی ہے کہ پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک اور نعتِ رسول مقبول (ﷺ)سے ہوتا ہے-اس کے بعد نہایت ہی خوبصورت انداز میں حضرت سلطان باھو(قَدَّسَ اللہ سرّہٗ) کا عارفانہ کلام پیش کیا جاتا ہے- خصوصی و تحقیقی خطاب جنرل سیکریٹری ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘ ، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب کا ہوتا ہے، صاحبزادہ صاحب کے خطابات تحقیقی و عِلمی نوعیّت کے ہوتے ہیں اور تقریباً تقریباً ہر مقام پہ ایک نئے موضوع پہ نئی تحقیق کے ساتھ خطاب ہوتا ہے-بعض دیگر تحریکی مصروفیات کی وجہ سے جہاں صاحبزادہ سُلطان احمد علی صاحب تشریف نہ لا سکیں وہاں پر ناظم اعلیٰ اصلاحی جماعت الحاج محمد نواز القادری صاحب خطاب کرتے ہیں-پروگرام میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شرکت کرتے ہیں -جو لوگ اِس دعوتِ بقائے اِنسانیت کو قبول کرتے ہیں اور بیعت ہونا چاہتے ہیں تو وہ پروگرام کے اختتام پر سرپرستِ اعلیٰ اصلاحی جماعت جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مدّ ظِلُّہ الاقدس) کے دستِ مبارک پر بیعت ہونے کا شرف حاصل کرتے ہیں اور ’’اسم اللہ ذات‘‘ کی لازوال دولت سے سرفراز ہوتے ہیں-بیعت ہونے والوں کی تعداد بعض مقامات پر سینکڑوں اور بعض مقامات پر ہزاروں میں ہوتی ہے-پروگرام کےآخر میں صلوٰۃ و السلام کے بعد ملک و قوم اور اُمّتِ مسلمہ کی سلامتی کے لئے دعائے خیر کی جاتی ہے-

امسال انعقاد پذیر ہونے والے ان شاندار تربیّتی و اِصلاحی اجتماعات کے تیسرے مرحلے  کی تفصیل اور خطابات کی مختصر رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:

میانوالی                                                    2019-01-18                

صدارت: سرپرستِ اعلیٰ ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘ جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مدظلہ الاقدس)

خطاب:مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’پنڈال کھچاکھچ بھرا ہوا تھا ہر طرف جماعت اور پاکستان کے پرچم  لہرا رہے تھے-موسم قدرے سرد تھا، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی لیکن اس کے باوجود لوگوں کا ٹھاٹے مارتا ہوا سمندر موجود تھا-خطاب بروقت شروع ہوا جس میں موضوع سخن ’’خاتم النبیین (ﷺ) کی سیرت مبارک‘‘ رہا-ابتداء میں حضور نبی کریم (ﷺ) کی ختم نبوت کی وضاحت کرتے ہوئے صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ حضور نبی کریم (ﷺ) کا کل عالمین کے لیے نبی ہونا آپ (ﷺ) کے ختم نبوت پہ دلیل ہے-جیسا کہ امام ابن حنبل ’’مسند احمد بن حنبل ‘‘میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشادفرمایا:

إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّيْ رَسُوْلُ اللهِ،

 

’’زمین وآسمان کے درمیان جو چیز بھی ہے اسے معلوم ہے کہ بے شک میں اللہ پاک کا رسول (ﷺ) ہوں‘‘-

یعنی کائنات کی جتنی بھی اشیاءہیں مثلاً آسمان، زمین، دریا، درخت، پتھر، کنکر، لکڑی، خوشبو،روشنی، ہوا ، پانی وغیرہ سب چیزیں شے میں آتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ  تمام چیزیں حضور نبی کریم (ﷺ) کی معرفت رکھتی ہیں-مزید صاحبزاہ صاحب نے فرمایا کہ سرکارِ دو عالم (ﷺ) کی متعدد ایسی احادیث مبارکہ ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ  حضور نبی کریم (ﷺ) کو پرندے، جانور اور حتی کہ وحشی درندے بھی جانتے تھے اور آپ (ﷺ) کے ذاتِ گرامی کا احترام کرتے تھے- اس کے اوپر کتبِ حدیث اور کتب سیرت سے ایسی روایات پیش کی گئی جن سے پرندوں ، جانوروں اور درندوں کا آقا کریم (ﷺ) کی بارگاہ میں ادب وتعظیم کرنا ثابت ہے-مثلاً اونٹوں اور اونٹنیوں، چڑیوں، کتوبروں اور شیر کے واقعات بیان کیے گئے  اور آخر میں بالخصوص حضور نبی کریم (ﷺ) کی خدمت میں رہنے والے دراز گوش کا واقعہ بیان کیا گیا-جب وہ واقعہ بیان کیا جارہا تھا تو مجمع میں ایک ایسی کیفیت طاری ہوگئی  جس میں لوگوں کی آنکھوں سے اشک رواں تھے  کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرم (ﷺ) کی معرفت و پہنچان مخلوقات کے دل میں پیدا فرمائی ہے- اس دراز گوش کے لئے محدثین نے ’’حمار مبارک‘‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں-خاص طور پہ جمال الدين ابن حديدہ (المتوفى: 783ھ) ’’اَلْمِصْبَاحُ الْمُضِیْ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ:

فَلَيْتَنِيْ كُنْتُ شَعْرَةً فِيْ جِلْدِ هَذَا الْحِمَارِ الْمُبَارَكِ                  ’’کاش کہ میں اس مبارک گدھے کی جلد کا ایک بال ہوتا ‘‘-

یعنی اس طرح عشاق  نے اپنے آقا کریم (ﷺ)  کو پہچانا اور آپ (ﷺ) کے خاتم النبیین  ہونے پر گواہی دی‘‘-

خوشاب                           2019-01-19                             پرانا میلہ گراؤنڈ جوہر آباد

صدارت: سرپرستِ اعلیٰ ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘ جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مدظلہ الاقدس)

خطاب:مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’گفتگو کا موضوع ’’سیرتِ رسول (ﷺ)‘‘ رہا- جس کے ابتداء میں بیان کیا گیا کہ کسی بھی چیز کی جتنی زیادہ صفات ہوتی ہیں اتنی ہی زیادہ اس کےلئے احترام کی بلندی سمجھی جاتی ہے-مثلاً ایک آدمی ڈاکٹر ہے اور اس کے علاوہ اس کا کوئی تجربہ نہیں ہے تو اس کے نام کے ساتھ صرف ڈاکٹر لکھا  جاتا ہے؛  لیکن ایک آدمی نے اگر اپنی اُسی میڈیکل فیلڈ کو باقاعدہ طریق سے طویل عرصہ طلباء کو پڑھایا ہو  تو  اس کو پروفیسر بھی کہا جاتا ہے-اگر اسی پروفیسر ڈاکٹر کا تعلق ملٹری سے ہو تو وہ ترقی  کرتے کرتے جرنل کے عہدے پر پہنچ جاتا ہے-پھر اگر مزید اس کے عہدے میں ترقی ہوجائے تووہ لیفٹیننٹ بن جاتا ہےجس سے اس کے عہدے کا احترام اور بڑھ جاتا ہے-اس کے ساتھ ساتھ  اگر اس کو ادارے کی طرف سے کوئی تمغہ یا کوئی ستا رہ بھی ملا ہوا ہوتو اس کے نام کے بعد اس کے تمغے کا بھی ذکر آجاتا ہے مثلاً تمغۂ جرأت، ستارۂ بسالت-اس کے علاوہ اگروہ کسی ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہو جن کے قوموں کے مخصوص نام ہوتے ہیں جن سے وہ پہچانے جاتے ہیں، مثلاً ملک، خان،چوہدری، مہر، رانا، راؤ تو اس کے ساتھ ایک اور اضافت لگ جاتی ہے-یعنی جیسے جیسے بندے کا تعارف وسیع ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے اس کے القابات اور زیادہ بڑھتے  چلے جاتے ہیں- لیکن دنیامیں ایک لقب، کسی کو دو، بہت زیادہ کسی کو اگر اعزاز ملا تو اس کو  چھ القاب مع کنیت مل گئے- چند شخصیات ایسی ہیں جن  کے اسماء کی جزئیات نے بارہ یا پندرہ سے تجاوز کیا ہے لیکن سرکارِ دو عالم (ﷺ) کے اسماء حسنی کو جب ہم دیکھتے ہیں تو بعض نے کہا کہ حضور نبی کریم (ﷺ) کے اسماء مبارک کی تعداد اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی کے برابر ننانوے(99) ہے- اس پر محدثین اور آئمہ دین کے مختلف کتب کے حوالوں سے یہ واضح کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء مبارک کی تعداد ایک ہزار بیان کی گئی ہے اور اسی طرح حضور نبی کریم (ﷺ) کے اسماء حسنی کی تعداد بیان کی گئی ہے-تعدادِ اسماء پہ روشنی ڈالنے کے بعد اس چیز کو بیان کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کئی اسماء صفات سے اپنے حبیب مکرم (ﷺ) کو متصف فرمایا ہے-یعنی آقا کریم (ﷺ) کے اسماء حسنی کی کثرت آپ (ﷺ) کی صفات کی کثرت کو واضح کرتی ہے اور صفات کی کثرت آپ (ﷺ) کے کمالات کی کثرت کو واضح کرتی ہے اور کمالات کی کثرت آپ (ﷺ) کے فضائل کی کثرت  کو واضح کرتی ہے اور فضائل کی کثرت آپ (ﷺ) کے مقامات کی کثرت کو واضح کرتی ہےاور مقامات کی کثرت ہمیں اس بات کی طرف اکساتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اتنا عظیم الشان نبی عطا کیا ہے تو کیوں نہ ان کے نام پر اپنی زندگیوں کو وقف کردیاجائے‘‘-

اسلام آباد                         2019-01-20                 کنونشن سنٹر

صدارت: سرپرستِ اعلیٰ ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘ جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مدظلہ الاقدس)

خطاب:مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’اسلام نے سماج اور معاشرت کے اصول طے کئے ہیں جس کا مقصد سماج میں خوبصورتی پیدا کرنا اور اسے ٹوٹ پھوٹ سے بچا کر محبت و اخوت کی جانب لانا ہے- کنبے کی حرمت قائم کر کے اللہ تعالیٰ نے احسانِ عظیم کیا ہے- انسان کے نسب اور اس کے سسرال سے تعلق انسان پر لازم ہے اور ان میں اعتدال سے  حسنِ معاشرت قائم ہوتا ہے- ہمیں بھی اپنے ان رشتوں کی حرمت کو قائم رکھنا چاہیے اور ان میں اعتدال رکھنا چاہیے- اہلِ تصوف کا شیوہ رہا ہے کہ انہوں نے معاشرے کو جوڑا اور نفرتوں کو ختم کیا جو کہ دین و دنیا میں اعتدال پیدا کرنے سے ممکن ہے- تصوف کا بنیادی اصول اپنے باطن کی اصلاح ہے- معافی مانگنے میں پہل کرنا اور معاف کرنے میں پہل کرنا تصوف کا اہم اصول ہے- بخیل کبھی صوفی نہیں ہوتا اور صوفی کبھی بخیل نہیں ہوتا-صاحبزادہ صاحب نے مزید فرمایا کہ دین آفاقی زندگی کے تمام پہلوؤں پر رہنمائی دیتا ہے اور  انسان کو دو بنیادی پہلوؤں کی جانب بلاتا ہے، حکمِ الٰہی اور اطاعتِ رسول اکرم(ﷺ)- اسلام کی دعوت، دعوتِ الی اللہ بھی ہے اور دعوتِ الی الرسول (ﷺ) بھی-علامہ اقبال نے بھی یہ واضح کیا ہے کہ مصطفےٰ کریم(ﷺ) کی محبت ہی دینِ حق کی شرط اول ہے  اور دین کی حقیقت اور اصل مغز اسی نسبت سے نصیب ہوتا ہے- ایمان بالتوحید اور ایمان بالرسالت دونوں اسلام کی بنیاد ہیں-جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں آنے اور ذکر کرنے کے آداب بیان فرمائے ہیں وہیں قرآن کریم میں حضور نبی کریم(ﷺ) کی بارگاہ کےآداب بھی سکھائے ہیں-قلب کا تقویٰ ادب اور تعظیمِ مصطفےٰ (ﷺ) میں ہے- حبیب اکرم (ﷺ)کو اللہ تعالیٰ نے یہ اختیار عطا فرمایا کہ آپ (ﷺ)جسے چاہیں صراط مستقیم پر ہدایت عطا فرمائیں-کفار اور منافقین میں سے بہت سے لوگ توحید پر یقین رکھتے تھے مگر رسول اکرم(ﷺ) پر ایمان نہ لانے کے باعث ایمان کی نعمت نہ پا سکے‘‘-

ایبٹ آباد                          2019-01-21                              مارکی شادی ہال

صدارت: سرپرستِ اعلیٰ ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘ جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مدظلہ الاقدس)

خطاب:مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’آج کی تقریب کا مقصد اپنے ظاہر و باطن کی اصلاح کرنا ہے  یعنی اس تربیت کو  اپنے اندر اجاگرکرنا ہے جو انسانی اپنی انسانیت سے آشنا ئی اور فراست و  دور اندیشی پیدا کرتی ہے جس کے ذریعے انسان میں وہ صلاحیت پیداہوتی ہے  کہ اپنی قوم کے مستقبل کے فیصلے کر سکے-صاحبزادہ صاحب نے مزید فرمایا کہ جن لوگوں کو آئیڈیلائز کرتے ہیں اپنے رول ماڈل کے طور پر اور جن کو ہم نے اپنے لئے اور اپنی آنے والے نسلوں کے ذریعے راہبر اور رہنما تصور کرتے ہیں ان کی زبان مبارک سے نکلاہوا ہر ہر لفظ ہمارے اخلاقی اور شرعی حجت کی حیثیت رکھتا ہے جن کے فیصلوں میں شریعت تشکیل پائی، جن  کی روایت پہ پوری اُمت ان کے عدل و صدق اور اخلاق  پر متفق ہے-وہ مقدس ہستیاں ہمارے پیارے نبی کریم (ﷺ) کی نگاہ مبارک، صحبت مبارک اور آپ (ﷺ) کے  رخِ زیباکی زیارت کے فیضان سے تیار شدہ خلفاء  راشدین   صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) ہیں-عام طور پر ہم جو واقعات ان ہستیوں کے پڑھتے ہیں ان میں عموماًہماری نظروں سے ان کا ظاہری  پہلو اجاگر ہوتا لیکن ہم نے کبھی کوشش نہیں کی اس کا عمیق مطالعہ کر کے جائزہ لیں اور یہ تحقیق کرلیں کہ وہ اتنی عمدگی سے اتنا عدل و اعتدال اور اتنے قلیل وقت میں ایک بہترین فیصلے کی صلاحیت اور قدرت ان کے اندر کیسے پیدا ہوجاتی تھی؟ تو مجھے سیدنا صدیق اکبر ، سیدنا فاروق اعظم، سیدنا ذوالنورین اور سیدنا المرتضیٰ(رضی اللہ عنہ) کے اس امت کے متعلق فیصلے  کس قدر محسن ہیں-امیر المومنین سیدنا علی المرتضی (رضی اللہ عنہ) نے جو فیصلے کیے ہیں ، جو قانون ہمارے پاس بنا ہوا یا لکھا ہوا ہے مگر ہماری عدالتیں جو پاکستان میں لگنی چاہیں وہ یورپ کے اندر لگیں ہیں یا کسی اور مقام پہ لگیں ہیں-وہ قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کے محتاج ہیں لیکن  یہ ان کا کمال تھا کہ صحابہ کرام  اور خلفہ راشدین(رضی اللہ عنہم) کے  مرتب قانون کے نہ ہوتے ہوئے بھی جو فیصلہ کرتے وہ عدل و انسانیت پہ مبنی تھا-میں جب بھی  اس بات کی کھوج لگاتا ہوں کہ بشری تقاضوں کے اندر رہتے ہوئے یہ ممکن ہوسکتا ہے تو میرے سامنے ہمیشہ  آقا دو جہاں (ﷺ)کا فرمان  اقدس سامنے آتا ہے کہ:

اِتَّقُوْا فِرَاسَۃَ الْمُؤْمِنِ فَاِنَّہٗ یَنْظُرُ بِنُوْ رِاللّٰہِ تَعَالیٰ [1]

 

 

’’مومن کی فراست (دُور اندیشی)سے ڈرو بیشک وہ اللہ تعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہے‘‘-

ہری پور                                        2019-01-22                              ملک بینکویٹ ہال

صدارت: سرپرستِ اعلیٰ ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘ جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مدظلہ الاقدس)

خطاب:مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’گفتگو کا بنیادی موضوع ’’سیرتِ رسول (ﷺ)‘‘ ہی رہا جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی کہ کس طرح سیرت ایک الگ موضوع اور ایک الگ نظم و ضبط کا درجہ اختیار کرتی گئی؟  اور مسلمانوں کےنزدیک تاریخی طور پہ سیرتِ کے مطالعہ کی  کیا اہمیت رہی ہے؟اس کے بعد سیرت کی آفاقیت اور اس کی ہمہ گیریت پہ گفتگو رہی کہ کیسے سیرت پوری دنیا کے مختلف علوم کو اپنے ہاتھوں میں لا کر بحث کرتی ہے اور خاص کر مسلمانوں کی جو سماجی  و اقتصادی، عدالتی اور ریاستی زندگی ہے وہ کس طریق سے براہ راست سیرت سے فیض حاصل کرتی ہے-پھر اس کے بعد اس چیز کی وضاحت کی گئی کہ اس سب کے باوجود مسلمان کا جوسرکار دو عالم (ﷺ) کی ذات اقدس سے رشتہ و ناطہ ہے وہ صرف سماج یا معیشت یا ریاست کا نہیں ہے بلکہ حضور نبی کریم (ﷺ) سے بنیادی تعلق شفاعت ،ایمان ا ور قلب و روح کا ہے- جومسلمان کی جستجو کا حاصل و حصول ہے وہ حضور نبی کریم (ﷺ)  سے تعلق باطنی کو اپنے عشق و محبت کو فروغ دینا ہے اور جب تک وہ چیزیں فروغ نہیں پاتیں تب تک انسان الجھا رہتا ہے- مثلاً حضور نبی کریم (ﷺ) کے متعلق ایک معروف سیرت نگار نے بہت زور دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضور پاک (ﷺ)کو مدینہ منورہ میں اوس وخزرج کے مابین سردار کے طور پر جو تسلیم کیا گیا اس میں حضور نبی کریم (ﷺ) کی اجنبیت نے حضور نبی کریم (ﷺ) کو سردار بنوایا- سیرت نگاروں کو اس طرح کے مغالطے لگتے  ہی تبھی ہیں جب وہ روحانی تعلق سے منقطع ہوکر صرف سیاسی  سیرت نگاری کرنا چاہتے ہیں-حالانکہ یہ بات واضح ہے کہ عبد اللہ بن ابی منافق کی حضور نبی کریم (ﷺ) سے عداوت کی وجہ  ہی یہی تھی کہ اس کا تاج بننے کے لئے سنار کے پاس جا چکا تھا اور آقا کریم تشریف لائے تو لوگوں نے اس کو چھوڑ کر حضور نبی کریم (ﷺ) کو  اپنا آقا و سردار مان لیا اور انصار تو وہ لوگ تھے جن میں خاص کر حضرت ابو ایوب انصاری (رضی اللہ عنہ) کا قبیلہ جو بعض روایات میں 400 سال، بعض میں 600 سال، بعض میں 900 سال سے مدینہ منورہ میں خط لے کر بیٹھے تھے کہ  نبی آخر الزماں نے تشریف لانا ہے اور ہم ان کے انتظار میں بیٹھے ہیں تو اجنبیت کہاں سے آگئی؟اس لئے مسلمان کو سب سے پہلے یہ چاہیے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) سے اپنے  تعلق کی بنیادیں  واضح کرے  پھر سیرت کا مطالعہ اسےایمانی،  باطنی  اور روحانی طور پہ منافع دے گا-کیونکہ:

آئینہ دل صاف ہو تو شفا ملتی ہے

 

زہر بن جاتی ہے ورنہ جو بھی دوا ملتی ہے

کئی مستشرقین  ایسے ہیں جنہوں نے سیرت پہ بہت اچھا کام کیا ہے لیکن اس کے باوجود انہیں دولت ایمان نصیب نہیں ہوسکی تو محض سیاسیات سیرت کے مطالعہ سے تقویت ملتی تو مستشرقین  کیوں ایمان لائے بغیر دنیا سے رخصت ہوگئے-اس کا مطلب یہ ہے کہ محض مطالعہ ، محض حضور نبی کریم (ﷺ) کی سیاسی  عظمت کا اعتراف و ادراک کافی نہیں جب تک کہ حضور نبی کریم (ﷺ) کی عظمتوں کا ادراک نصیب نہ ہوجائے‘‘-

اٹک                                           2019-01-23                             

صدارت: سرپرستِ اعلیٰ ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘ جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مدظلہ الاقدس)

خطاب:الحاج محمد نواز القادری

’’اصلاحی جماعت دنیا کے تمام انسانوں کو زندگی کے اصل مقصد سے روشناس کروا رہی ہے-تمام مخلوقات سے افضل و اشرف انسان ہے اور تمام انسانوں سے افضل حضور نبی کریم (ﷺ) کی ذات مبارکہ ہے-مگر افسوس! کہ انسان اس بات کو بھول بیٹھا ہے کہ اس کو شرف و فضیلت کا تاج کیونکر عطا ہوا ہے؟ اولیاء کرام نے اس راز کو پایا اور عوام الناس  کو اس راز سے آگاہ کیا کہ انسان کی زندگی کے دو پہلو ہیں-ایک ظاہری اور دوسرا باطنی-ظاہری وجود حقیقی انسان (روح)کا لباس ہے-روح  نوری انسان ہے-روح کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ  بھی ہے اور آقا کریم (ﷺ) کے ساتھ بھی-

خزینہ نبوی چھپایا مجھ کو مشتِ خاک صحرا نے

 

کسی کو کیا خبر میں کہاں ہوں؟ کس کی دولت ہوں

حقیقی انسان (روح )کی پہچان خود شناسی ہے اور یہی خود شناسی خدا شناسی کا زینہ ہے-بقول اقبال:

ڈھونڈ کے اپنی خاک میں جس نے پایا اپنا آپ

 

اس بندے کی دہقانی پر سلطانی قربان[2]

چکوال                                              2019-01-24                              مکہ میرج ہال

صدارت: سرپرستِ اعلیٰ ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘ جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مدظلہ الاقدس)

خطاب:الحاج محمد نواز القادری

’’میلادِ مصطفےٰ  (ﷺ) کا بنیادی مقصد انسان کو اس کی حقیقت سے روشناس کروانا ہے کہ انسان کی تکمیل فقط ظاہر پر اکتفا کرنے سے نہیں بلکہ ظاہر اور باطن دونوں کومرتبہ کمال تک پہنچانے میں ہے-انسان کے ظاہر کو سنوارنے کے لئے شریعت پر عمل پیرا ہونا ہے اور باطن کی تکمیل کے لئے قلبی ذکر یعنی ذکر الٰہی سے کرنا جب تک انسان اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اپنے باطن کا تزکیہ نہیں کر لیتا اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا-اسی مقصد کے لئے جانشین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد علی مدظلہ الاقدس  سر پرست اعلیٰ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین ملک کے کونے کو کو  فیض یاب کرنے کےلئے اسم اللہ ذات کو فی  سبیل اللہ ہر انسان تک پہنچا رہے ہیں‘‘-

جہلم                                                       2019-01-25                              جعفری اسٹیڈیم

صدارت: عکس سلطان الفقرؒ حضرت حاجی سلطان محمد بہادر عزیز صاحب مد ظلہ الاقدس

خطاب: الحاج محمد نواز القادری

’’اولیاء کرام  انسان کی توجہ اس راستے کی جانب مبذول کرواتے ہیں جس میں دنیا و عقبی سے ماورا ہو کر فقط رضا الٰہی کو اختیار کیا جائے کیونکہ اہل اللہ فرماتے ہیں:

”طالب دنیا مخنث ہے طالب عقبی مؤنث ہے اور طالب مولی مذکر ہے-دور حاضر میں زوال سے نکلنے کا واحد راستہ قرآن و سنت پر عمل ہے-جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:

ہُدًی لِّلنَّاسِ                          ”(قرآن) پوری انسانیت کے لیےہدایت کا زریعہ ہے“-

سیالکوٹ                                       2019-01-26                             ہاکی اسٹیڈیم

صدارت: عکس سلطان الفقرؒ حضرت حاجی سلطان محمد بہادر عزیز صاحب مد ظلہ الاقدس

خطاب: الحاج محمد نواز القادری

’’تعلیماتِ اولیاء کیا ہے؟ قرآن و حدیث کی وہ تعلیمات جو انسان کو بیدار کردیتی ہیں- مگر افسوس! کہ انسان اشرف المخلوقات ہونے  کے باوجود اپنے آپ سے بے خبر ہے-اس لئے  اولیاء کرام کی تعلیمات کا مرکزی کردار انسان کی راہنمائی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ قرآن پاک حکم فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو عظمت والا بنایا ہے –اللہ تعالیٰ نے  بنی نوع انسان کی قسمیں کھا کر اس کی عظمت کو بیان کیا ہے لیکن آج ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے قرآن و حدیث کو چھوڑ دیا-ہم نے انگریز کو تو فالو کیا مگر اپنے آپ کو جاننے کی کوشش نہیں کی- اس لئے ہمارے  مرشد کریم نے ہمیں یہ فرمایا کہ قرآن کریم کو اپنے اوپر وارد کرو تا کہ اس کے ذریعے تم اپنے آپ کو پہنچان سکو-قرآن ہمیں تفرقوں سے نکال کر ایک کردیتا ہے  اور ہمیں ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کرتا ہے، انسانوں کو جگاتا ہے اور  صراطِ مستقیم پر چلاتا ہے-قرآن  خدا اور انسان کے درمیان گفتگو کا ذریعہ ہے- ہمیں اس سے اپنا ناطہ کمزور نہیں کرنا چاہیے ورنہ ہم اپنی اصلاح  نہیں کرسکتے-اپنے اسلاف کی طرح قرآن پر پابند ہوکر انسان کو بیدار کرنا ہے اور سب فرقوں سے نکال کر ایک راستہ جسے صراطِ مستقیم کہتے ہیں اس پر چلنا ہے-آج انسان سو رہا ہے اس کو بیدار کرنے کے لئے اولیاء اللہ کی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا-اپنےد ل کو زندہ کر کے اپنی انسانیت کو اجاگر کرنا ہوگا، اپنی ساری عبادات کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا ہوگا-یہ تب ممکن ہے  جب ہم قرآن و حدیث کو اپنانے کی فکر اپنے اندر پیدا کریں گے-دوستو! اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسان جیسا کوئی شاہکار نہیں جس کو یہ مقام حاصل ہے کہ انسان خدا تک رسائی پاسکتا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ انسان تو خدا کی جلوہ گاہ ہے-آج اس امر کی ضرورت ہے اس خانۂ دا کو سنوار کر نورِ ایمان کو پیدا کیا جائے‘‘-

گوجرانوالہ                                     2019-01-27                             منی اسٹیڈیم

صدارت: سرپرستِ اعلیٰ ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘ جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مدظلہ الاقدس)

خطاب:مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’گفتگو کا بنیادی موضوع سیرت نبوی (ﷺ) کی روشنی میں اپنے اخلاق  کی تشریح تھی جس میں  متعدد آیات قرآنی اوراحادیث مبارکہ سے استدلال کیا گیا کہ دین کا بنیادی مقصد انسان کی اخلاقی و روحانی تربیت کرنا ہے- جس کی مثال ہمیں صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) سےملتی ہےکہ آقا کریم (ﷺ) نے ان کی ایک ایک ادا کی تربیت فرمائی-یعنی بچے کی ولادت سے لے کر قبر تک کے جانے کا نصاب دین نے مرتب کردیا اور ہر ہر حرکت میں اس کے آداب مقرر ہیں- والد، والدہ، بیٹے اور بیٹی کے سامنے کیسے اٹھنا اور بیٹھنا ہے، مسجد میں داخل اور نکلتے وقت جوتے کیسے اتارے اورپہننے ہیں، بال سنوارنے کے کیا آداب ہیں، لباس پہنے اور دھونے کے کیا آداب ہیں، کھانے اور پینے کے کیا آداب ہیں، مریض اور معذور کے لئے کیا آداب ہیں اور اسی طرح دین نے ہرچیز کی اتنی باریکی و گہرائی سےانسانی نفسیات کے اوپر ایک اثر پیدا کیا کہ انسان واقعتاً آداب میں ڈھل جائے-جو لوگ اس میں ڈھل جاتے ہیں تو لوگوں کو ان سے اس لئے محبت ہوتی ہے کہ ان کے کردار اور اخلاق سے حضور نبی کریم (ﷺ) کی اطاعت کی خوشبو آتی ہے-صوفیاء کرام کے طریق کو بھی آداب کا طریق کہا جاتا ہے –کئی صوفیاء کا فرمان ہے کہ تصوف مکمل طور پر آداب پر مشتمل ہے –اس لئےآداب پیدا کرنا بندے کو اخلاقِ نبوی (ﷺ) کے قریب کرتا ہے اور یہ مسلمان کی زندگی کی جستجو ہونی چاہیے کہ وہ آداب اور ان اخلاقیات کو سیکھے‘‘-

حافظ آباد                                      2019-01-28                              میونسپل اسٹیڈیم

صدارت و خطاب:مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’عصرِ حاضر میں جو بھونچال  برپا ہے اس پر گفتگو کر تے ہوئے صاحبزادہ صاحب نے نہایت اختصار سے فرمایا کہ مسلمانوں کی اول و آخر کامیابی  اس بات پر منحصر ہے کہ اپنا رشتہ و تعلق جس حد تک سرکار دو عالم (ﷺ) کی بارگاہ میں قائم کیا جاسکتا ہے، کیا جائے- کیونکہ اس میں  صرف پاکستان کی نہیں بلکہ پوری اُمت مسلمہ کی  بقاء  مضمر ہے کہ ہمارا رشتہ عشق و محبت، ادب و تکریم کے ساتھ دربارِ مصطفےٰ (ﷺ) سے قائم ہے-ہمارے مستقبل کا ، ہماری بقاء کا فیصلہ عشقِ مصطفےٰ (ﷺ)  اور تعلقِ مصطفےٰ (ﷺ) سے قائم ہے-اس بات کے ثبوت پہ ایک دو محافل نہیں بلکہ ہزاروں نشستیں بھی درکار ہوں تو کم ہیں-تہذیبی و سیاسی اعتبار سے، فکری اور روحانی اعتبار سے ہمیں سیرت النبی (ﷺ) کے نام پر جو نصاب  پہلی جماعت سے لے کر یونیورسٹی لیول تک پڑھایا جاتا ہے؛ اس سے مسلمانوں کو آقا دو عالم (ﷺ) کے خصائص، اخلاق عالیہ اور دیگر پہلوؤں کا بنیادی تعارف تو ضرور ہوجاتا ہے ، لیکن افسوس! کہ یہ نصاب آقا کریم (ﷺ) سے محبت کی جامع اور مکمل تصویر فراہم نہیں کرتا‘‘-

شیخو پورہ                                        2019-01-29                              مین اسٹیڈیم

صدارت: سرپرستِ اعلیٰ ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘ جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مدظلہ الاقدس)

خطاب:مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’سیرت نبوی (ﷺ) کے اس پہلو پہ روشنی ڈالی گئی  کہ اللہ تعالیٰ نے آقا کریم (ﷺ) کی ذات گرامی کو جامع کمالات و صفات فرمایا ہے اور آپ (ﷺ) کی ذات کو جس طرح فضائل ، شمائل اور کمالات کی کثرت عطا کی ہے اسی طرح آپ (ﷺ) کو معجزات کی کثرت بھی عطا فرمائی ہے-آپ (ﷺ) کے معجزات میں سے ایک عظیم بات یہ ہے کہ کل دنیا کو حضور نبی کریم (ﷺ)کا تعارف ہے-تمام اشیاء و موجودات، نباتات و جمادات آپ (ﷺ) کی معرفت و پہچان رکھتی ہیں-متفق علیہ حدیث ہے کہ آقا کریم (ﷺ) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل کو فرماتا ہے کہ اے جبرائیل! آسمانوں اور زمینوں میں منادی کردے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو-یہ بات تو حضور نبی کریم (ﷺ) کے اس امتی کی ہے کہ جو حضور (ﷺ)کا کلمہ پڑھنے کی  وجہ سے اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے توجس کا کلمہ پڑھا جارہا ہے تو اس کی شان کا عالم کیا ہوگا؟-اس لئے کل کائنات کی اشیاء و موجودات، نباتات و جمادات آپ (ﷺ) کو کتنا جانتی ہیں اس کا شمار عقل کی محدودیت سے نہیں بلکہ حضور نبی کریم (ﷺ) کی شان کی لا محدودیت سے کرنا چاہیے-آپ  (ﷺ) کےمعجزات مبارکہ کے حوالہ سےیہ چیز ذہین میں رکھنی چاہیے کہ معجزات عقیدت کا نہیں بلکہ عقیدہ کا حصہ ہیں-صاحبزادہ صاحب نے اس پر بڑی طویل گفتگو فرمائی بالخصوص اس  پہ مختلف آئمہ کرام کے حوالے دیے گئے جنہوں نےیہ کہا ہے کہ آپ (ﷺ) کی ذات اقدس کے معجزات مبارکہ کو ماننا اور ایمان لانا امت کے اہل نجات طبقہ کی نشانی ہے اور اس کا انکارامت کے گمراہ شدہ لوگوں کی نشانی ہے-امام ابو منصور البغدادی نے ’’الفرق بین الفرق‘‘ میں 15 صفات بیان کی ہیں  جن سے فرقہ ناجیہ کی شناخت ہوتی ہے-مزید آپ فرماتے ہیں کہ جنہوں نے اس قاعدہ کی مخالفت کی وہ گمراہ ہوئے- جمہور آئمہ کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ)کے معجزات برحق ہیں اور آپ (ﷺ) کے معجزات کا شمار ممکن نہیں ہے- شمس الدين، أبو العون محمد بن أحمد بن سالم السفارينی الحنبلی (المتوفى: 1188ھ)’’لَوَامِعُ الْأَنْوَارِ الْبَهِيَّةِ‘‘میں  فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم(ﷺ) کے معجزات اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں ہے-بعض کا فرمان ہےکہ قرآن مجید کے علاوہ آپ (ﷺ)کو 3000 معجزات عطا ہوئے اور بعض نے یہ کہا ہے کہ قرآن مجید میں 60 یا 70 ہزار معجزات ہیں-اصول میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) کے معجزات کی چھ اقسام ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:

1-بعض وہ ہیں جو حضور نبی کریم () سے پہلے گزشتہ نبیوں اور امتوں نے دیکھے-

2- بعض وہ ہیں جو ولادت پاک سے پہلے والدہ ماجدہ اور عرب بلکہ دنیا نے دیکھے -

3-بعض وہ ہیں جو ولادت پاک کے وقت دیکھے گئے-

4-بعض وہ ہیں جو بچپن شریف میں دیکھے گئے-

5-بعض وہ ہیں جو ظہور نبوت کے بعد سے وفات پاک تک دیکھے گئے-

6- بعض وہ ہیں جو بعد وفات سے قیامت تک دیکھے جائیں گے-

اس کے بعد بالخصوص وہ معجزات بیان کیے گئے جن کا تعلق نباتات اور جمادات کے تعلق اور تعارف اور معرفتِ مصطفےٰ (ﷺ) کے اوپر تھا‘‘-

لاہور                                          2019-01-30                              منہاج کرکٹ گراؤنڈ

صدارت: سرپرستِ اعلیٰ ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘ جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مد ظلہ الاقدس)

خطاب:مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’اگر اگلے اورپچھلے مل کر بھی  حضورعلیہ الصلوۃ والسلام  کے مناقب  اور فضائل میں مبالغہ کرنا چاہیں  تو آپ (ﷺ) کےفضائل اور کمالات کے ضبط سے عاجز اور محتاج ہوں گے اور نہیں کرسکیں گے - اس لئے کہ میرے اللہ نے اپنے حبیب مکرم (ﷺ)کو درجات اور کمالات ہی  اتنے عطا کردئیے ہیں  کہ اُن عطاؤں کی کوئی حد، شمار اور گنت نہیں ہے- آج سرکار دوعالم (ﷺ) کی ذاتِ اقدس کا مطالعہ شرق تاغرب صرف ایک جہتِ سیاسی تک محدود کیا جا رہا ہے - یاد رکھیں!  ذاتِ مُصطفٰے (ﷺ)  کے ادب و تعظیم کے تقاضے اُس وقت تک پورے نہیں ہوتے جب تک حضورعلیہ الصلوۃ و السلام  کی عظمت کا کامل ادراک مؤمن کو نصیب نہ ہو- اگر آپ (ﷺ) کا ادب و تعظیم  دل کے اندر پیدا ہی نہ ہو تو لاکھ ٹکریں مار لی جائیں انسان کو دین نصیب نہیں ہو سکتا‘‘-

صاحبزادہ صاحب نے کشمیر کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ کشمیر نہ صرف پاکستان کا بلکہ جنوبی  ایشیاء کا بہت بڑا مسئلہ ہے کیونکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ  ہے جس  کے بغیر پاکستان  نامکمل ہے-اس مسئلہ سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہے-ہماری موجودہ حکومت سے درخواست ہے کہ قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے اصولی مؤقف کے مطابق کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی جائے‘‘-

قصور                                          2019-02-01                             ڈگری کالج گراؤنڈ

صدارت و خطاب:مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’آج الحمد اللہ!  پاکستان 70 برس سے گزر رہا ہے جس میں مشکلات بھی آئیں، پریشانیاں اور  جنگیں بھی آئیں، کئی عروج و زوال کی داستانوں نے بھی جنم لیا- لیکن آج جس طرح پاکستان مستحکم و مضبوطی سےقائم ہے یہ ہماری آزادی کی ضمانت ہے-ہمیں اولاً اور آخراً اس مملکت عظیم کے ساتھ اپنے عہد وفا کو نبھانا ہے جو ہمارے اباؤ اجداد نے اس کے سبز ہلالی پرچم سے کیا تھا جس پرچم کا رنگ گنبد خضری ٰ  کے سبز رنگ سے مستعار لیا گیا ہے-مسلمان کے ایمان پہ لازم ہے کہ وہ سرکارِ دو عالم (ﷺ) کی  ناموس  کی پہرے داری کرے-کیونکہ قرآن نے انسان کو حضور نبی کریم (ﷺ) کا ادب سکھایا ہے کہ:

’’یٰـٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْہَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ‘‘[3]

 

’’اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبئ مکرّم () کی آواز سے بلند مت کیا کرو اور اُن کے ساتھ اِس طرح بلند آواز سے بات (بھی) نہ کیا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے بلند آواز کے ساتھ کرتے ہو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے سارے اعمال ہی (ایمان سمیت) غارت ہوجائیں اور تمہیں (ایمان اور اعمال کے برباد ہوجانے کا) شعور تک بھی نہ ہو‘‘-

یعنی ادب و تعظیمِ مصطفےٰ (ﷺ) یہ ایمان کا جزوی رکن  ہے کیونکہ صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کو اگر سرکارِ دو عالم (ﷺ) پکارتے تو وہ اپنی نمازیں چھوڑ کر حضور نبی کریم (ﷺ) کی بارگاہ میں حاضر ہوجایا کرتے تھے-اس  لئےہمیں اپنی ظاہری اور باطنی اصلاح پہ توجہ کرنی چاہیے کیونکہ جب تک وہ تربیت و اصلاح نہیں ملتی تب تک انسان کے اندر کی دنیا پاک نہیں ہوتی   اور ایمان پوری طرح سے داخل  نہیں ہوتا‘‘-

سرگودھا                          2019-02-01                             مرکزی عید گاہ

صدارت و خطاب:

مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’اللہ تعالیٰ تکبر کرنے  اور زمین پر اکڑ کر چلنے والوں کو پسند نہیں کرتا بلکہ انسان کی عاجزی و انکساری اس کو پسند ہے-تمام عبادات کا مقصد انسان کی روحانی پاکیزگی ہے وہ عبادت جس کے اثرات ہمارے باطن پر نہ ہوں تو ہم اس کے مقصود تک نہیں پہنچ سکتے-صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم)اور صالحین کی حیات مبارکہ سے اپنے باطن یعنی روح کی اصلاح کا درس ملتا ہے- صاحبزادہ صاحب نے مزید نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ  آج تلوار اور نیزے کی جنگ نہیں بلکہ آج  ہمیں ففتھ جنریشن وار کا سامنا ہے-یہ جنگ میڈیا پر لڑی جارہی ہے؛ ہمیں اس جنگ کا مقابلہ کرنا ہے-دنیا کی مختلف جنگوں میں اقوام اور ممالک کو صفحۂ ہستی سے مٹادیا گیا لیکن دشمن پاکستان کے ساتھ روزِ اول کے ساتھ جنگ لڑرہا ہے-لیکن نہ پاکستان ناکام ہوا اور نہ افواج پاکستان-یاد رکھیں ! کہ یہ حفاظت گنبد خضری کا فیضان ہے اور اولیائے عظام کی بشارتیں ہیں-پاکستان کا عربی ترجمہ براہِ راست مدینہ طیبہ ہے-’’پاک‘‘ طیب کو کہتے ہیں ’’ستان‘‘ بستی کو کہتے ہیں-اس طرح براہِ راست پاکستان کا ترجمہ مدینہ طیبہ ہے   یعنی پاکستان مدینہ ثانی ہے‘‘-

منڈی بہاؤ الدین                              2019-02-02                             حیدر پیلس اینڈ میرج ہال

صدارت و خطاب:

مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’دربار سلطان باھو سے چلائی گئی اصلاحی جماعت اصلاح و تربیت اور محبت کے اس پیغام کو عام کر رہی ہے جس کے ذریعے انسان کے وجود میں اصلاح اور رحمت بھی پیدا ہوتی ہے اورامن بھی پیدا ہوتا ہے-صاحبزادہ صاحب نے مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ  نے اپنے حبیب مکرم (ﷺ) کو کل عالمین کے لئے رحمت بنایا ہے  اور اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے دائرۂ قدرت کے متعلق بھی یہی ارشاد فرمایا ہے کہ میں رب العالمین ہوں-یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا مالک ہے اسی طرح حضور نبی کریم (ﷺ) کی رحمت بھی تمام جہانوں کے لئے ہے-اسی  لئے نظمِ کائنات جس رحمت کی چھاؤں میں محفوظ ہے وہ رحمت کی چھاؤں حضور نبی کریم (ﷺ) کی ذات اقدس ہے-جس طرح قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے  اپنی بارگاہ میں حاضر ہونے کا ادب سکھایا ہے اسی طرح اپنے حبیب مکرم (ﷺ) کی بارگاہ کا ادب سکھایا ہےکہ:

’’یٰـٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ‘‘[4] ’’اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبئ مکرّم (ﷺ) کی آواز سے بلند مت کیا کرو

قرآن ہمارے لئے باعث نجات ہے اس لئے وہ ہمیں راہنمائی عطا کرتا ہے کہ بارگاہِ نبوت کی بے ادبی اعمال کے ضائع ہوجانے کا سبب بن کر باعثِ ہلاکت ہے-

چنیوٹ                             2019-02-03                              حیدر پیلس اینڈ میرج ہال

صدارت و خطاب:

مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’دنیائے جدید کو خاص تناظر اور خاص نقطہ نظر میں بنا سنوار کر ہمارے سامنے پیش کیا گیا-دنیائے جدید کا آغاز سترھویں صدی میں یورپی نشاطِ ثانیہ کے بعد ہوتا ہے جو دنیائے جدید کے افکار، نظریات، رہن سہن ،فیشن، دستور کو بلا چون و چراں کے قبول کرتا ہے ا ُسے مہذب اور قابلِ عزت سمجھا جاتا ہے جو دنیائے جدید سے قبل کے رسم و رواج، تہذیب و تمدن اور عقیدے پر یقین رکھتا ہے اسے غیر مہذب اور بنیاد پرست سمجھا جاتا ہے- آج ہم پر مغربی تہذیب اور ہندی تہذیب یلغار کیے ہوئے ہیں-آج ہم نے مغربی تہذیب اور ہندی تہذیب کے خلاف جہاد کرنا ہے اور اسلامی تہذیب و تمدن کا دفاع کرنا ہے جو ہمارے بزرگوں نے 1400سال کی حفاظت کر کے ہم تک پہنچایا ہے-

آج ہم پر th5  جنریشن وار مسلط کی جا چکی ہے جس میں ہتھیار موبائل سکرین، فیس بک، واٹس ایپ، انسٹا گرام، یوٹیوب، ٹی وی چینلز، لفافہ جنرلزم، ضمیر فروشوں کی فورس، Misinformation ، ضمیر فروش نام نہاد دانشور، فحاشی و عریانی، نوجوانوں کے ذہنوں کو اس برائی اور غفلت کی طرف لے کر جانا ہے تاکہ یہ اپنی بنیاد، اساس اور عقیدے سے دستبردار ہو جائے-ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے دین کی حقانیت  پہ یقین رکھیں اور اسلامی تہذیب و تمدن اور بود و باش کو اپنائیں-قرآن و سنت نے جو آنکھوں میں حیاء  پیدا کرنے، زبان میں نرمی پیدا کرنے، چال میں عاجزی پیداکرنے ، لباس میں شرم و حیا پیداکرنے، بولنے میں اخلاق و آداب پیدا کرنے کا جو ہمیں راستہ سکھایا ہے؛ یہ دور ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے ہم اس دین کے نگہبان سپاہی اور مجاہد بن کے اس کی تہذیب کے تحفظ کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں‘‘-

(جاری ہے)


[1](جامع ترمذی ، کتاب التفسیر)

[2](ضربِ کلیم)

[3](الحجرات:2)

[4](الحجرات:2)

قوم کے فکری انتشار کے دوران قیادت کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے- کارواں جب بھٹکنے لگے تو قائد کی شخصیت ہی صحیح سمت کا تعین کرتی ہے   جیسے بکھرے ہوئے پروانوں کو شمع کی لَو ہی یکجا کرتی ہے- جس کشتی کے مسافروں کو ملاح نصیب ہو وہ طوفانوں کی پرواہ نہیں کرتے -ضرورت صرف شاخ سے پیوستہ رہنے کی ہے شجر پہ بہار آکر رہتی ہے-دینی مُعاملات و تربیت میں صُوفیائے کرام کو روزِ اول سے ہی قائدانہ حیثیت حاصل رہی ہے، صُوفیاء کے قرآن و سُنت کے عملی مشن کو عہدِ حاضر میں آگے بڑھانے کیلئے سُلطان الفقر حضرت سُلطان محمد اصغر علی صاحب (﷫) نے اِصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کو قائم فرمایا-آج نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد اصلاحی و روحانی تربیّت کے ذریعے اپنے انفرادی و ملی کردار کو پختہ تر بنا رہی ہے اس کی وجہ اصلاحی جماعت کی رُوحانی اور ولولہ انگیز قیادت،مضبوط دِینی کردار اورغیر معمولی معیار کی تربیت ہے-

اِس دردِ انسانیت کو عامۃ الناس کے دل و دماغ میں جاگزیں کرنے کے لئے ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘کے زیرِ اہتمام جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مدظلہ الاقدس)، سرپرستِ اعلی ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘ کی قیادت میں علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر محسنِ انسانیت فخرِ موجودات (ﷺ) کے اسمِ گرامی سے منسوب محافل میلادِ مصطفےٰ (ﷺ) اور حضرت سلطان باھُو (قدس اللہ سرّہٗ)  کانفرنسز (Conferences) کے سالانہ اجتماعات منعقد ہوتے ہیں-

یہ اجتماعات روایتی طریق کار کی طرح نہیں ہوتے بلکہ نہایت ہی منظّم اور بامقصد طریقے سے ہوتے ہیں-ہر پروگرام کی ترتیب اس طرح سے ہوتی ہے کہ پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک اور نعتِ رسول مقبول (ﷺ)سے ہوتا ہے-اس کے بعد نہایت ہی خوبصورت انداز میں حضرت سلطان باھو(قَدَّسَ اللہ سرّہٗ) کا عارفانہ کلام پیش کیا جاتا ہے- خصوصی و تحقیقی خطاب جنرل سیکریٹری ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘ ، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب کا ہوتا ہے، صاحبزادہ صاحب کے خطابات تحقیقی و عِلمی نوعیّت کے ہوتے ہیں اور تقریباً تقریباً ہر مقام پہ ایک نئے موضوع پہ نئی تحقیق کے ساتھ خطاب ہوتا ہے-بعض دیگر تحریکی مصروفیات کی وجہ سے جہاں صاحبزادہ سُلطان احمد علی صاحب تشریف نہ لا سکیں وہاں پر ناظم اعلیٰ اصلاحی جماعت الحاج محمد نواز القادری صاحب خطاب کرتے ہیں-پروگرام میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شرکت کرتے ہیں -جو لوگ اِس دعوتِ بقائے اِنسانیت کو قبول کرتے ہیں اور بیعت ہونا چاہتے ہیں تو وہ پروگرام کے اختتام پر سرپرستِ اعلیٰ اصلاحی جماعت جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مدّ ظِلُّہ الاقدس) کے دستِ مبارک پر بیعت ہونے کا شرف حاصل کرتے ہیں اور ’’اسم اللہ ذات‘‘ کی لازوال دولت سے سرفراز ہوتے ہیں-بیعت ہونے والوں کی تعداد بعض مقامات پر سینکڑوں اور بعض مقامات پر ہزاروں میں ہوتی ہے-پروگرام کےآخر میں صلوٰۃ و السلام کے بعد ملک و قوم اور اُمّتِ مسلمہ کی سلامتی کے لئے دعائے خیر کی جاتی ہے-

امسال انعقاد پذیر ہونے والے ان شاندار تربیّتی و اِصلاحی اجتماعات کے تیسرے مرحلے  کی تفصیل اور خطابات کی مختصر رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:

میانوالی                                                    2019-01-18                

صدارت: سرپرستِ اعلیٰ ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘ جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مدظلہ الاقدس)

خطاب:مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’پنڈال کھچاکھچ بھرا ہوا تھا ہر طرف جماعت اور پاکستان کے پرچم  لہرا رہے تھے-موسم قدرے سرد تھا، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی لیکن اس کے باوجود لوگوں کا ٹھاٹے مارتا ہوا سمندر موجود تھا-خطاب بروقت شروع ہوا جس میں موضوع سخن ’’خاتم النبیین (ﷺ) کی سیرت مبارک‘‘ رہا-ابتداء میں حضور نبی کریم (ﷺ) کی ختم نبوت کی وضاحت کرتے ہوئے صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ حضور نبی کریم (ﷺ) کا کل عالمین کے لیے نبی ہونا آپ (ﷺ) کے ختم نبوت پہ دلیل ہے-جیسا کہ امام ابن حنبل ’’مسند احمد بن حنبل ‘‘میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشادفرمایا:

إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّيْ رَسُوْلُ اللهِ،

 

’’زمین وآسمان کے درمیان جو چیز بھی ہے اسے معلوم ہے کہ بے شک میں اللہ پاک کا رسول (ﷺ) ہوں‘‘-

یعنی کائنات کی جتنی بھی اشیاءہیں مثلاً آسمان، زمین، دریا، درخت، پتھر، کنکر، لکڑی، خوشبو،روشنی، ہوا ، پانی وغیرہ سب چیزیں شے میں آتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ  تمام چیزیں حضور نبی کریم (ﷺ) کی معرفت رکھتی ہیں-مزید صاحبزاہ صاحب نے فرمایا کہ سرکارِ دو عالم (ﷺ) کی متعدد ایسی احادیث مبارکہ ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ  حضور نبی کریم (ﷺ) کو پرندے، جانور اور حتی کہ وحشی درندے بھی جانتے تھے اور آپ (ﷺ) کے ذاتِ گرامی کا احترام کرتے تھے- اس کے اوپر کتبِ حدیث اور کتب سیرت سے ایسی روایات پیش کی گئی جن سے پرندوں ، جانوروں اور درندوں کا آقا کریم (ﷺ) کی بارگاہ میں ادب وتعظیم کرنا ثابت ہے-مثلاً اونٹوں اور اونٹنیوں، چڑیوں، کتوبروں اور شیر کے واقعات بیان کیے گئے  اور آخر میں بالخصوص حضور نبی کریم (ﷺ) کی خدمت میں رہنے والے دراز گوش کا واقعہ بیان کیا گیا-جب وہ واقعہ بیان کیا جارہا تھا تو مجمع میں ایک ایسی کیفیت طاری ہوگئی  جس میں لوگوں کی آنکھوں سے اشک رواں تھے  کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرم (ﷺ) کی معرفت و پہنچان مخلوقات کے دل میں پیدا فرمائی ہے- اس دراز گوش کے لئے محدثین نے ’’حمار مبارک‘‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں-خاص طور پہ جمال الدين ابن حديدہ (المتوفى: 783ھ) ’’اَلْمِصْبَاحُ الْمُضِیْ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ:

فَلَيْتَنِيْ كُنْتُ شَعْرَةً فِيْ جِلْدِ هَذَا الْحِمَارِ الْمُبَارَكِ                  ’’کاش کہ میں اس مبارک گدھے کی جلد کا ایک بال ہوتا ‘‘-

یعنی اس طرح عشاق  نے اپنے آقا کریم (ﷺ)  کو پہچانا اور آپ (ﷺ) کے خاتم النبیین  ہونے پر گواہی دی‘‘-

خوشاب                           2019-01-19                             پرانا میلہ گراؤنڈ جوہر آباد

صدارت: سرپرستِ اعلیٰ ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘ جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مدظلہ الاقدس)

خطاب:مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’گفتگو کا موضوع ’’سیرتِ رسول (ﷺ)‘‘ رہا- جس کے ابتداء میں بیان کیا گیا کہ کسی بھی چیز کی جتنی زیادہ صفات ہوتی ہیں اتنی ہی زیادہ اس کےلئے احترام کی بلندی سمجھی جاتی ہے-مثلاً ایک آدمی ڈاکٹر ہے اور اس کے علاوہ اس کا کوئی تجربہ نہیں ہے تو اس کے نام کے ساتھ صرف ڈاکٹر لکھا  جاتا ہے؛  لیکن ایک آدمی نے اگر اپنی اُسی میڈیکل فیلڈ کو باقاعدہ طریق سے طویل عرصہ طلباء کو پڑھایا ہو  تو  اس کو پروفیسر بھی کہا جاتا ہے-اگر اسی پروفیسر ڈاکٹر کا تعلق ملٹری سے ہو تو وہ ترقی  کرتے کرتے جرنل کے عہدے پر پہنچ جاتا ہے-پھر اگر مزید اس کے عہدے میں ترقی ہوجائے تووہ لیفٹیننٹ بن جاتا ہےجس سے اس کے عہدے کا احترام اور بڑھ جاتا ہے-اس کے ساتھ ساتھ  اگر اس کو ادارے کی طرف سے کوئی تمغہ یا کوئی ستا رہ بھی ملا ہوا ہوتو اس کے نام کے بعد اس کے تمغے کا بھی ذکر آجاتا ہے مثلاً تمغۂ جرأت، ستارۂ بسالت-اس کے علاوہ اگروہ کسی ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہو جن کے قوموں کے مخصوص نام ہوتے ہیں جن سے وہ پہچانے جاتے ہیں، مثلاً ملک، خان،چوہدری، مہر، رانا، راؤ تو اس کے ساتھ ایک اور اضافت لگ جاتی ہے-یعنی جیسے جیسے بندے کا تعارف وسیع ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے اس کے القابات اور زیادہ بڑھتے  چلے جاتے ہیں- لیکن دنیامیں ایک لقب، کسی کو دو، بہت زیادہ کسی کو اگر اعزاز ملا تو اس کو  چھ القاب مع کنیت مل گئے- چند شخصیات ایسی ہیں جن  کے اسماء کی جزئیات نے بارہ یا پندرہ سے تجاوز کیا ہے لیکن سرکارِ دو عالم (ﷺ) کے اسماء حسنی کو جب ہم دیکھتے ہیں تو بعض نے کہا کہ حضور نبی کریم (ﷺ) کے اسماء مبارک کی تعداد اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی کے برابر ننانوے(99) ہے- اس پر محدثین اور آئمہ دین کے مختلف کتب کے حوالوں سے یہ واضح کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء مبارک کی تعداد ایک ہزار بیان کی گئی ہے اور اسی طرح حضور نبی کریم (ﷺ) کے اسماء حسنی کی تعداد بیان کی گئی ہے-تعدادِ اسماء پہ روشنی ڈالنے کے بعد اس چیز کو بیان کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کئی اسماء صفات سے اپنے حبیب مکرم (ﷺ) کو متصف فرمایا ہے-یعنی آقا کریم (ﷺ) کے اسماء حسنی کی کثرت آپ (ﷺ) کی صفات کی کثرت کو واضح کرتی ہے اور صفات کی کثرت آپ (ﷺ) کے کمالات کی کثرت کو واضح کرتی ہے اور کمالات کی کثرت آپ (ﷺ) کے فضائل کی کثرت  کو واضح کرتی ہے اور فضائل کی کثرت آپ (ﷺ) کے مقامات کی کثرت کو واضح کرتی ہےاور مقامات کی کثرت ہمیں اس بات کی طرف اکساتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اتنا عظیم الشان نبی عطا کیا ہے تو کیوں نہ ان کے نام پر اپنی زندگیوں کو وقف کردیاجائے‘‘-

اسلام آباد                         2019-01-20                 کنونشن سنٹر

صدارت: سرپرستِ اعلیٰ ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘ جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مدظلہ الاقدس)

خطاب:مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’اسلام نے سماج اور معاشرت کے اصول طے کئے ہیں جس کا مقصد سماج میں خوبصورتی پیدا کرنا اور اسے ٹوٹ پھوٹ سے بچا کر محبت و اخوت کی جانب لانا ہے- کنبے کی حرمت قائم کر کے اللہ تعالیٰ نے احسانِ عظیم کیا ہے- انسان کے نسب اور اس کے سسرال سے تعلق انسان پر لازم ہے اور ان میں اعتدال سے  حسنِ معاشرت قائم ہوتا ہے- ہمیں بھی اپنے ان رشتوں کی حرمت کو قائم رکھنا چاہیے اور ان میں اعتدال رکھنا چاہیے- اہلِ تصوف کا شیوہ رہا ہے کہ انہوں نے معاشرے کو جوڑا اور نفرتوں کو ختم کیا جو کہ دین و دنیا میں اعتدال پیدا کرنے سے ممکن ہے- تصوف کا بنیادی اصول اپنے باطن کی اصلاح ہے- معافی مانگنے میں پہل کرنا اور معاف کرنے میں پہل کرنا تصوف کا اہم اصول ہے- بخیل کبھی صوفی نہیں ہوتا اور صوفی کبھی بخیل نہیں ہوتا-صاحبزادہ صاحب نے مزید فرمایا کہ دین آفاقی زندگی کے تمام پہلوؤں پر رہنمائی دیتا ہے اور  انسان کو دو بنیادی پہلوؤں کی جانب بلاتا ہے، حکمِ الٰہی اور اطاعتِ رسول اکرم(ﷺ)- اسلام کی دعوت، دعوتِ الی اللہ بھی ہے اور دعوتِ الی الرسول (ﷺ) بھی-علامہ اقبال نے بھی یہ واضح کیا ہے کہ مصطفےٰ کریم(ﷺ) کی محبت ہی دینِ حق کی شرط اول ہے  اور دین کی حقیقت اور اصل مغز اسی نسبت سے نصیب ہوتا ہے- ایمان بالتوحید اور ایمان بالرسالت دونوں اسلام کی بنیاد ہیں-جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں آنے اور ذکر کرنے کے آداب بیان فرمائے ہیں وہیں قرآن کریم میں حضور نبی کریم(ﷺ) کی بارگاہ کےآداب بھی سکھائے ہیں-قلب کا تقویٰ ادب اور تعظیمِ مصطفےٰ (ﷺ) میں ہے- حبیب اکرم (ﷺ)کو اللہ تعالیٰ نے یہ اختیار عطا فرمایا کہ آپ (ﷺ)جسے چاہیں صراط مستقیم پر ہدایت عطا فرمائیں-کفار اور منافقین میں سے بہت سے لوگ توحید پر یقین رکھتے تھے مگر رسول اکرم(ﷺ) پر ایمان نہ لانے کے باعث ایمان کی نعمت نہ پا سکے‘‘-

ایبٹ آباد                          2019-01-21                              مارکی شادی ہال

صدارت: سرپرستِ اعلیٰ ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘ جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مدظلہ الاقدس)

خطاب:مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’آج کی تقریب کا مقصد اپنے ظاہر و باطن کی اصلاح کرنا ہے  یعنی اس تربیت کو  اپنے اندر اجاگرکرنا ہے جو انسانی اپنی انسانیت سے آشنا ئی اور فراست و  دور اندیشی پیدا کرتی ہے جس کے ذریعے انسان میں وہ صلاحیت پیداہوتی ہے  کہ اپنی قوم کے مستقبل کے فیصلے کر سکے-صاحبزادہ صاحب نے مزید فرمایا کہ جن لوگوں کو آئیڈیلائز کرتے ہیں اپنے رول ماڈل کے طور پر اور جن کو ہم نے اپنے لئے اور اپنی آنے والے نسلوں کے ذریعے راہبر اور رہنما تصور کرتے ہیں ان کی زبان مبارک سے نکلاہوا ہر ہر لفظ ہمارے اخلاقی اور شرعی حجت کی حیثیت رکھتا ہے جن کے فیصلوں میں شریعت تشکیل پائی، جن  کی روایت پہ پوری اُمت ان کے عدل و صدق اور اخلاق  پر متفق ہے-وہ مقدس ہستیاں ہمارے پیارے نبی کریم (ﷺ) کی نگاہ مبارک، صحبت مبارک اور آپ (ﷺ) کے  رخِ زیباکی زیارت کے فیضان سے تیار شدہ خلفاء  راشدین   صحابہ کرام (﷢) ہیں-عام طور پر ہم جو واقعات ان ہستیوں کے پڑھتے ہیں ان میں عموماًہماری نظروں سے ان کا ظاہری  پہلو اجاگر ہوتا لیکن ہم نے کبھی کوشش نہیں کی اس کا عمیق مطالعہ کر کے جائزہ لیں اور یہ تحقیق کرلیں کہ وہ اتنی عمدگی سے اتنا عدل و اعتدال اور اتنے قلیل وقت میں ایک بہترین فیصلے کی صلاحیت اور قدرت ان کے اندر کیسے پیدا ہوجاتی تھی؟ تو مجھے سیدنا صدیق اکبر ، سیدنا فاروق اعظم، سیدنا ذوالنورین اور سیدنا المرتضیٰ(﷢) کے اس امت کے متعلق فیصلے  کس قدر محسن ہیں-امیر المومنین سیدنا علی المرتضی (﷜) نے جو فیصلے کیے ہیں ، جو قانون ہمارے پاس بنا ہوا یا لکھا ہوا ہے مگر ہماری عدالتیں جو پاکستان میں لگنی چاہیں وہ یورپ کے اندر لگیں ہیں یا کسی اور مقام پہ لگیں ہیں-وہ قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کے محتاج ہیں لیکن  یہ ان کا کمال تھا کہ صحابہ کرام  اور خلفہ راشدین(﷢) کے  مرتب قانون کے نہ ہوتے ہوئے بھی جو فیصلہ کرتے وہ عدل و انسانیت پہ مبنی تھا-میں جب بھی  اس بات کی کھوج لگاتا ہوں کہ بشری تقاضوں کے اندر رہتے ہوئے یہ ممکن ہوسکتا ہے تو میرے سامنے ہمیشہ  آقا دو جہاں (ﷺ)کا فرمان  اقدس سامنے آتا ہے کہ:

اِتَّقُوْا فِرَاسَۃَ الْمُؤْمِنِ فَاِنَّہٗ یَنْظُرُ بِنُوْ رِاللّٰہِ تَعَالیٰ [1]

 

 

’’مومن کی فراست (دُور اندیشی)سے ڈرو بیشک وہ اللہ تعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہے‘‘-

ہری پور                                        2019-01-22                              ملک بینکویٹ ہال

صدارت: سرپرستِ اعلیٰ ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘ جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مدظلہ الاقدس)

خطاب:مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’گفتگو کا بنیادی موضوع ’’سیرتِ رسول (ﷺ)‘‘ ہی رہا جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی کہ کس طرح سیرت ایک الگ موضوع اور ایک الگ نظم و ضبط کا درجہ اختیار کرتی گئی؟  اور مسلمانوں کےنزدیک تاریخی طور پہ سیرتِ کے مطالعہ کی  کیا اہمیت رہی ہے؟اس کے بعد سیرت کی آفاقیت اور اس کی ہمہ گیریت پہ گفتگو رہی کہ کیسے سیرت پوری دنیا کے مختلف علوم کو اپنے ہاتھوں میں لا کر بحث کرتی ہے اور خاص کر مسلمانوں کی جو سماجی  و اقتصادی، عدالتی اور ریاستی زندگی ہے وہ کس طریق سے براہ راست سیرت سے فیض حاصل کرتی ہے-پھر اس کے بعد اس چیز کی وضاحت کی گئی کہ اس سب کے باوجود مسلمان کا جوسرکار دو عالم (ﷺ) کی ذات اقدس سے رشتہ و ناطہ ہے وہ صرف سماج یا معیشت یا ریاست کا نہیں ہے بلکہ حضور نبی کریم (ﷺ) سے بنیادی تعلق شفاعت ،ایمان ا ور قلب و روح کا ہے- جومسلمان کی جستجو کا حاصل و حصول ہے وہ حضور نبی کریم (ﷺ)  سے تعلق باطنی کو اپنے عشق و محبت کو فروغ دینا ہے اور جب تک وہ چیزیں فروغ نہیں پاتیں تب تک انسان الجھا رہتا ہے- مثلاً حضور نبی کریم (ﷺ) کے متعلق ایک معروف سیرت نگار نے بہت زور دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضور پاک (ﷺ)کو مدینہ منورہ میں اوس وخزرج کے مابین سردار کے طور پر جو تسلیم کیا گیا اس میں حضور نبی کریم (ﷺ) کی اجنبیت نے حضور نبی کریم (ﷺ) کو سردار بنوایا- سیرت نگاروں کو اس طرح کے مغالطے لگتے  ہی تبھی ہیں جب وہ روحانی تعلق سے منقطع ہوکر صرف سیاسی  سیرت نگاری کرنا چاہتے ہیں-حالانکہ یہ بات واضح ہے کہ عبد اللہ بن ابی منافق کی حضور نبی کریم (ﷺ) سے عداوت کی وجہ  ہی یہی تھی کہ اس کا تاج بننے کے لئے سنار کے پاس جا چکا تھا اور آقا کریم تشریف لائے تو لوگوں نے اس کو چھوڑ کر حضور نبی کریم (ﷺ) کو  اپنا آقا و سردار مان لیا اور انصار تو وہ لوگ تھے جن میں خاص کر حضرت ابو ایوب انصاری (﷜) کا قبیلہ جو بعض روایات میں 400 سال، بعض میں 600 سال، بعض میں 900 سال سے مدینہ منورہ میں خط لے کر بیٹھے تھے کہ  نبی آخر الزماں نے تشریف لانا ہے اور ہم ان کے انتظار میں بیٹھے ہیں تو اجنبیت کہاں سے آگئی؟اس لئے مسلمان کو سب سے پہلے یہ چاہیے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) سے اپنے  تعلق کی بنیادیں  واضح کرے  پھر سیرت کا مطالعہ اسےایمانی،  باطنی  اور روحانی طور پہ منافع دے گا-کیونکہ:

آئینہ دل صاف ہو تو شفا ملتی ہے

 

زہر بن جاتی ہے ورنہ جو بھی دوا ملتی ہے

کئی مستشرقین  ایسے ہیں جنہوں نے سیرت پہ بہت اچھا کام کیا ہے لیکن اس کے باوجود انہیں دولت ایمان نصیب نہیں ہوسکی تو محض سیاسیات سیرت کے مطالعہ سے تقویت ملتی تو مستشرقین  کیوں ایمان لائے بغیر دنیا سے رخصت ہوگئے-اس کا مطلب یہ ہے کہ محض مطالعہ ، محض حضور نبی کریم (ﷺ) کی سیاسی  عظمت کا اعتراف و ادراک کافی نہیں جب تک کہ حضور نبی کریم (ﷺ) کی عظمتوں کا ادراک نصیب نہ ہوجائے‘‘-

اٹک                                           2019-01-23                             

صدارت: سرپرستِ اعلیٰ ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘ جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مدظلہ الاقدس)

خطاب:الحاج محمد نواز القادری

’’اصلاحی جماعت دنیا کے تمام انسانوں کو زندگی کے اصل مقصد سے روشناس کروا رہی ہے-تمام مخلوقات سے افضل و اشرف انسان ہے اور تمام انسانوں سے افضل حضور نبی کریم (ﷺ) کی ذات مبارکہ ہے-مگر افسوس! کہ انسان اس بات کو بھول بیٹھا ہے کہ اس کو شرف و فضیلت کا تاج کیونکر عطا ہوا ہے؟ اولیاء کرام نے اس راز کو پایا اور عوام الناس  کو اس راز سے آگاہ کیا کہ انسان کی زندگی کے دو پہلو ہیں-ایک ظاہری اور دوسرا باطنی-ظاہری وجود حقیقی انسان (روح)کا لباس ہے-روح  نوری انسان ہے-روح کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ  بھی ہے اور آقا کریم (ﷺ) کے ساتھ بھی-

خزینہ نبوی چھپایا مجھ کو مشتِ خاک صحرا نے

 

کسی کو کیا خبر میں کہاں ہوں؟ کس کی دولت ہوں

حقیقی انسان (روح )کی پہچان خود شناسی ہے اور یہی خود شناسی خدا شناسی کا زینہ ہے-بقول اقبال:

ڈھونڈ کے اپنی خاک میں جس نے پایا اپنا آپ

 

اس بندے کی دہقانی پر سلطانی قربان[2]

چکوال                                              2019-01-24                              مکہ میرج ہال

صدارت: سرپرستِ اعلیٰ ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘ جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مدظلہ الاقدس)

خطاب:الحاج محمد نواز القادری

’’میلادِ مصطفےٰ  (ﷺ) کا بنیادی مقصد انسان کو اس کی حقیقت سے روشناس کروانا ہے کہ انسان کی تکمیل فقط ظاہر پر اکتفا کرنے سے نہیں بلکہ ظاہر اور باطن دونوں کومرتبہ کمال تک پہنچانے میں ہے-انسان کے ظاہر کو سنوارنے کے لئے شریعت پر عمل پیرا ہونا ہے اور باطن کی تکمیل کے لئے قلبی ذکر یعنی ذکر الٰہی سے کرنا جب تک انسان اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اپنے باطن کا تزکیہ نہیں کر لیتا اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا-اسی مقصد کے لئے جانشین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد علی مدظلہ الاقدس  سر پرست اعلیٰ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین ملک کے کونے کو کو  فیض یاب کرنے کےلئے اسم اللہ ذات کو فی  سبیل اللہ ہر انسان تک پہنچا رہے ہیں‘‘-

جہلم                                                       2019-01-25                              جعفری اسٹیڈیم

صدارت: عکس سلطان الفقرؒ حضرت حاجی سلطان محمد بہادر عزیز صاحب مد ظلہ الاقدس

خطاب: الحاج محمد نواز القادری

’’اولیاء کرام  انسان کی توجہ اس راستے کی جانب مبذول کرواتے ہیں جس میں دنیا و عقبی سے ماورا ہو کر فقط رضا الٰہی کو اختیار کیا جائے کیونکہ اہل اللہ فرماتے ہیں:

”طالب دنیا مخنث ہے طالب عقبی مؤنث ہے اور طالب مولی مذکر ہے-دور حاضر میں زوال سے نکلنے کا واحد راستہ قرآن و سنت پر عمل ہے-جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:

ہُدًی لِّلنَّاسِ                          ”(قرآن) پوری انسانیت کے لیےہدایت کا زریعہ ہے“-

سیالکوٹ                                       2019-01-26                             ہاکی اسٹیڈیم

صدارت: عکس سلطان الفقرؒ حضرت حاجی سلطان محمد بہادر عزیز صاحب مد ظلہ الاقدس

خطاب: الحاج محمد نواز القادری

’’تعلیماتِ اولیاء کیا ہے؟ قرآن و حدیث کی وہ تعلیمات جو انسان کو بیدار کردیتی ہیں- مگر افسوس! کہ انسان اشرف المخلوقات ہونے  کے باوجود اپنے آپ سے بے خبر ہے-اس لئے  اولیاء کرام کی تعلیمات کا مرکزی کردار انسان کی راہنمائی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ قرآن پاک حکم فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو عظمت والا بنایا ہے –اللہ تعالیٰ نے  بنی نوع انسان کی قسمیں کھا کر اس کی عظمت کو بیان کیا ہے لیکن آج ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے قرآن و حدیث کو چھوڑ دیا-ہم نے انگریز کو تو فالو کیا مگر اپنے آپ کو جاننے کی کوشش نہیں کی- اس لئے ہمارے  مرشد کریم نے ہمیں یہ فرمایا کہ قرآن کریم کو اپنے اوپر وارد کرو تا کہ اس کے ذریعے تم اپنے آپ کو پہنچان سکو-قرآن ہمیں تفرقوں سے نکال کر ایک کردیتا ہے  اور ہمیں ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کرتا ہے، انسانوں کو جگاتا ہے اور  صراطِ مستقیم پر چلاتا ہے-قرآن  خدا اور انسان کے درمیان گفتگو کا ذریعہ ہے- ہمیں اس سے اپنا ناطہ کمزور نہیں کرنا چاہیے ورنہ ہم اپنی اصلاح  نہیں کرسکتے-اپنے اسلاف کی طرح قرآن پر پابند ہوکر انسان کو بیدار کرنا ہے اور سب فرقوں سے نکال کر ایک راستہ جسے صراطِ مستقیم کہتے ہیں اس پر چلنا ہے-آج انسان سو رہا ہے اس کو بیدار کرنے کے لئے اولیاء اللہ کی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا-اپنےد ل کو زندہ کر کے اپنی انسانیت کو اجاگر کرنا ہوگا، اپنی ساری عبادات کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا ہوگا-یہ تب ممکن ہے  جب ہم قرآن و حدیث کو اپنانے کی فکر اپنے اندر پیدا کریں گے-دوستو! اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسان جیسا کوئی شاہکار نہیں جس کو یہ مقام حاصل ہے کہ انسان خدا تک رسائی پاسکتا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ انسان تو خدا کی جلوہ گاہ ہے-آج اس امر کی ضرورت ہے اس خانۂ دا کو سنوار کر نورِ ایمان کو پیدا کیا جائے‘‘-

گوجرانوالہ                                     2019-01-27                             منی اسٹیڈیم

صدارت: سرپرستِ اعلیٰ ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘ جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مدظلہ الاقدس)

خطاب:مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’گفتگو کا بنیادی موضوع سیرت نبوی (ﷺ) کی روشنی میں اپنے اخلاق  کی تشریح تھی جس میں  متعدد آیات قرآنی اوراحادیث مبارکہ سے استدلال کیا گیا کہ دین کا بنیادی مقصد انسان کی اخلاقی و روحانی تربیت کرنا ہے- جس کی مثال ہمیں صحابہ کرام (﷢) سےملتی ہےکہ آقا کریم (ﷺ) نے ان کی ایک ایک ادا کی تربیت فرمائی-یعنی بچے کی ولادت سے لے کر قبر تک کے جانے کا نصاب دین نے مرتب کردیا اور ہر ہر حرکت میں اس کے آداب مقرر ہیں- والد، والدہ، بیٹے اور بیٹی کے سامنے کیسے اٹھنا اور بیٹھنا ہے، مسجد میں داخل اور نکلتے وقت جوتے کیسے اتارے اورپہننے ہیں، بال سنوارنے کے کیا آداب ہیں، لباس پہنے اور دھونے کے کیا آداب ہیں، کھانے اور پینے کے کیا آداب ہیں، مریض اور معذور کے لئے کیا آداب ہیں اور اسی طرح دین نے ہرچیز کی اتنی باریکی و گہرائی سےانسانی نفسیات کے اوپر ایک اثر پیدا کیا کہ انسان واقعتاً آداب میں ڈھل جائے-جو لوگ اس میں ڈھل جاتے ہیں تو لوگوں کو ان سے اس لئے محبت ہوتی ہے کہ ان کے کردار اور اخلاق سے حضور نبی کریم (ﷺ) کی اطاعت کی خوشبو آتی ہے-صوفیاء کرام کے طریق کو بھی آداب کا طریق کہا جاتا ہے –کئی صوفیاء کا فرمان ہے کہ تصوف مکمل طور پر آداب پر مشتمل ہے –اس لئےآداب پیدا کرنا بندے کو اخلاقِ نبوی (ﷺ) کے قریب کرتا ہے اور یہ مسلمان کی زندگی کی جستجو ہونی چاہیے کہ وہ آداب اور ان اخلاقیات کو سیکھے‘‘-

حافظ آباد                                      2019-01-28                              میونسپل اسٹیڈیم

صدارت و خطاب:مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’عصرِ حاضر میں جو بھونچال  برپا ہے اس پر گفتگو کر تے ہوئے صاحبزادہ صاحب نے نہایت اختصار سے فرمایا کہ مسلمانوں کی اول و آخر کامیابی  اس بات پر منحصر ہے کہ اپنا رشتہ و تعلق جس حد تک سرکار دو عالم (ﷺ) کی بارگاہ میں قائم کیا جاسکتا ہے، کیا جائے- کیونکہ اس میں  صرف پاکستان کی نہیں بلکہ پوری اُمت مسلمہ کی  بقاء  مضمر ہے کہ ہمارا رشتہ عشق و محبت، ادب و تکریم کے ساتھ دربارِ مصطفےٰ (ﷺ) سے قائم ہے-ہمارے مستقبل کا ، ہماری بقاء کا فیصلہ عشقِ مصطفےٰ (ﷺ)  اور تعلقِ مصطفےٰ (ﷺ) سے قائم ہے-اس بات کے ثبوت پہ ایک دو محافل نہیں بلکہ ہزاروں نشستیں بھی درکار ہوں تو کم ہیں-تہذیبی و سیاسی اعتبار سے، فکری اور روحانی اعتبار سے ہمیں سیرت النبی (ﷺ) کے نام پر جو نصاب  پہلی جماعت سے لے کر یونیورسٹی لیول تک پڑھایا جاتا ہے؛ اس سے مسلمانوں کو آقا دو عالم (ﷺ) کے خصائص، اخلاق عالیہ اور دیگر پہلوؤں کا بنیادی تعارف تو ضرور ہوجاتا ہے ، لیکن افسوس! کہ یہ نصاب آقا کریم (ﷺ) سے محبت کی جامع اور مکمل تصویر فراہم نہیں کرتا‘‘-

شیخو پورہ                                        2019-01-29                              مین اسٹیڈیم

صدارت: سرپرستِ اعلیٰ ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘ جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مدظلہ الاقدس)

خطاب:مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’سیرت نبوی (ﷺ) کے اس پہلو پہ روشنی ڈالی گئی  کہ اللہ تعالیٰ نے آقا کریم (ﷺ) کی ذات گرامی کو جامع کمالات و صفات فرمایا ہے اور آپ (ﷺ) کی ذات کو جس طرح فضائل ، شمائل اور کمالات کی کثرت عطا کی ہے اسی طرح آپ (ﷺ) کو معجزات کی کثرت بھی عطا فرمائی ہے-آپ (ﷺ) کے معجزات میں سے ایک عظیم بات یہ ہے کہ کل دنیا کو حضور نبی کریم (ﷺ)کا تعارف ہے-تمام اشیاء و موجودات، نباتات و جمادات آپ (ﷺ) کی معرفت و پہچان رکھتی ہیں-متفق علیہ حدیث ہے کہ آقا کریم (ﷺ) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل کو فرماتا ہے کہ اے جبرائیل! آسمانوں اور زمینوں میں منادی کردے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو-یہ بات تو حضور نبی کریم (ﷺ) کے اس امتی کی ہے کہ جو حضور (ﷺ)کا کلمہ پڑھنے کی  وجہ سے اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے توجس کا کلمہ پڑھا جارہا ہے تو اس کی شان کا عالم کیا ہوگا؟-اس لئے کل کائنات کی اشیاء و موجودات، نباتات و جمادات آپ (ﷺ) کو کتنا جانتی ہیں اس کا شمار عقل کی محدودیت سے نہیں بلکہ حضور نبی کریم (ﷺ) کی شان کی لا محدودیت سے کرنا چاہیے-آپ  (ﷺ) کےمعجزات مبارکہ کے حوالہ سےیہ چیز ذہین میں رکھنی چاہیے کہ معجزات عقیدت کا نہیں بلکہ عقیدہ کا حصہ ہیں-صاحبزادہ صاحب نے اس پر بڑی طویل گفتگو فرمائی بالخصوص اس  پہ مختلف آئمہ کرام کے حوالے دیے گئے جنہوں نےیہ کہا ہے کہ آپ (ﷺ) کی ذات اقدس کے معجزات مبارکہ کو ماننا اور ایمان لانا امت کے اہل نجات طبقہ کی نشانی ہے اور اس کا انکارامت کے گمراہ شدہ لوگوں کی نشانی ہے-امام ابو منصور البغدادی نے ’’الفرق بین الفرق‘‘ میں 15 صفات بیان کی ہیں  جن سے فرقہ ناجیہ کی شناخت ہوتی ہے-مزید آپ فرماتے ہیں کہ جنہوں نے اس قاعدہ کی مخالفت کی وہ گمراہ ہوئے- جمہور آئمہ کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ)کے معجزات برحق ہیں اور آپ (ﷺ) کے معجزات کا شمار ممکن نہیں ہے- شمس الدين، أبو العون محمد بن أحمد بن سالم السفارينی الحنبلی (المتوفى: 1188ھ)’’لَوَامِعُ الْأَنْوَارِ الْبَهِيَّةِ‘‘میں  فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم(ﷺ) کے معجزات اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں ہے-بعض کا فرمان ہےکہ قرآن مجید کے علاوہ آپ (ﷺ)کو 3000 معجزات عطا ہوئے اور بعض نے یہ کہا ہے کہ قرآن مجید میں 60 یا 70 ہزار معجزات ہیں-اصول میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) کے معجزات کی چھ اقسام ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:

1-بعض وہ ہیں جو حضور نبی کریم () سے پہلے گزشتہ نبیوں اور امتوں نے دیکھے-

2- بعض وہ ہیں جو ولادت پاک سے پہلے والدہ ماجدہ اور عرب بلکہ دنیا نے دیکھے -

3-بعض وہ ہیں جو ولادت پاک کے وقت دیکھے گئے-

4-بعض وہ ہیں جو بچپن شریف میں دیکھے گئے-

5-بعض وہ ہیں جو ظہور نبوت کے بعد سے وفات پاک تک دیکھے گئے-

6- بعض وہ ہیں جو بعد وفات سے قیامت تک دیکھے جائیں گے-

اس کے بعد بالخصوص وہ معجزات بیان کیے گئے جن کا تعلق نباتات اور جمادات کے تعلق اور تعارف اور معرفتِ مصطفےٰ (ﷺ) کے اوپر تھا‘‘-

لاہور                                          2019-01-30                              منہاج کرکٹ گراؤنڈ

صدارت: سرپرستِ اعلیٰ ’’اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین‘‘ جانشین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مد ظلہ الاقدس)

خطاب:مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’اگر اگلے اورپچھلے مل کر بھی  حضورعلیہ الصلوۃ والسلام  کے مناقب  اور فضائل میں مبالغہ کرنا چاہیں  تو آپ (ﷺ) کےفضائل اور کمالات کے ضبط سے عاجز اور محتاج ہوں گے اور نہیں کرسکیں گے - اس لئے کہ میرے اللہ نے اپنے حبیب مکرم (ﷺ)کو درجات اور کمالات ہی  اتنے عطا کردئیے ہیں  کہ اُن عطاؤں کی کوئی حد، شمار اور گنت نہیں ہے- آج سرکار دوعالم (ﷺ) کی ذاتِ اقدس کا مطالعہ شرق تاغرب صرف ایک جہتِ سیاسی تک محدود کیا جا رہا ہے - یاد رکھیں!  ذاتِ مُصطفٰے (ﷺ)  کے ادب و تعظیم کے تقاضے اُس وقت تک پورے نہیں ہوتے جب تک حضورعلیہ الصلوۃ و السلام  کی عظمت کا کامل ادراک مؤمن کو نصیب نہ ہو- اگر آپ (ﷺ) کا ادب و تعظیم  دل کے اندر پیدا ہی نہ ہو تو لاکھ ٹکریں مار لی جائیں انسان کو دین نصیب نہیں ہو سکتا‘‘-

صاحبزادہ صاحب نے کشمیر کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ کشمیر نہ صرف پاکستان کا بلکہ جنوبی  ایشیاء کا بہت بڑا مسئلہ ہے کیونکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ  ہے جس  کے بغیر پاکستان  نامکمل ہے-اس مسئلہ سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہے-ہماری موجودہ حکومت سے درخواست ہے کہ قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے اصولی مؤقف کے مطابق کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی جائے‘‘-

قصور                                          2019-02-01                             ڈگری کالج گراؤنڈ

صدارت و خطاب:مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’آج الحمد اللہ!  پاکستان 70 برس سے گزر رہا ہے جس میں مشکلات بھی آئیں، پریشانیاں اور  جنگیں بھی آئیں، کئی عروج و زوال کی داستانوں نے بھی جنم لیا- لیکن آج جس طرح پاکستان مستحکم و مضبوطی سےقائم ہے یہ ہماری آزادی کی ضمانت ہے-ہمیں اولاً اور آخراً اس مملکت عظیم کے ساتھ اپنے عہد وفا کو نبھانا ہے جو ہمارے اباؤ اجداد نے اس کے سبز ہلالی پرچم سے کیا تھا جس پرچم کا رنگ گنبد خضری ٰ  کے سبز رنگ سے مستعار لیا گیا ہے-مسلمان کے ایمان پہ لازم ہے کہ وہ سرکارِ دو عالم (ﷺ) کی  ناموس  کی پہرے داری کرے-کیونکہ قرآن نے انسان کو حضور نبی کریم (ﷺ) کا ادب سکھایا ہے کہ:

’’یٰـٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْہَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ‘‘[3]

 

’’اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبئ مکرّم () کی آواز سے بلند مت کیا کرو اور اُن کے ساتھ اِس طرح بلند آواز سے بات (بھی) نہ کیا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے بلند آواز کے ساتھ کرتے ہو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے سارے اعمال ہی (ایمان سمیت) غارت ہوجائیں اور تمہیں (ایمان اور اعمال کے برباد ہوجانے کا) شعور تک بھی نہ ہو‘‘-

یعنی ادب و تعظیمِ مصطفےٰ (ﷺ) یہ ایمان کا جزوی رکن  ہے کیونکہ صحابہ کرام (﷢) کو اگر سرکارِ دو عالم (ﷺ) پکارتے تو وہ اپنی نمازیں چھوڑ کر حضور نبی کریم (ﷺ) کی بارگاہ میں حاضر ہوجایا کرتے تھے-اس  لئےہمیں اپنی ظاہری اور باطنی اصلاح پہ توجہ کرنی چاہیے کیونکہ جب تک وہ تربیت و اصلاح نہیں ملتی تب تک انسان کے اندر کی دنیا پاک نہیں ہوتی   اور ایمان پوری طرح سے داخل  نہیں ہوتا‘‘-

سرگودھا                          2019-02-01                             مرکزی عید گاہ

صدارت و خطاب:

مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’اللہ تعالیٰ تکبر کرنے  اور زمین پر اکڑ کر چلنے والوں کو پسند نہیں کرتا بلکہ انسان کی عاجزی و انکساری اس کو پسند ہے-تمام عبادات کا مقصد انسان کی روحانی پاکیزگی ہے وہ عبادت جس کے اثرات ہمارے باطن پر نہ ہوں تو ہم اس کے مقصود تک نہیں پہنچ سکتے-صحابہ کرام (﷢)اور صالحین کی حیات مبارکہ سے اپنے باطن یعنی روح کی اصلاح کا درس ملتا ہے- صاحبزادہ صاحب نے مزید نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ  آج تلوار اور نیزے کی جنگ نہیں بلکہ آج  ہمیں ففتھ جنریشن وار کا سامنا ہے-یہ جنگ میڈیا پر لڑی جارہی ہے؛ ہمیں اس جنگ کا مقابلہ کرنا ہے-دنیا کی مختلف جنگوں میں اقوام اور ممالک کو صفحۂ ہستی سے مٹادیا گیا لیکن دشمن پاکستان کے ساتھ روزِ اول کے ساتھ جنگ لڑرہا ہے-لیکن نہ پاکستان ناکام ہوا اور نہ افواج پاکستان-یاد رکھیں ! کہ یہ حفاظت گنبد خضری کا فیضان ہے اور اولیائے عظام کی بشارتیں ہیں-پاکستان کا عربی ترجمہ براہِ راست مدینہ طیبہ ہے-’’پاک‘‘ طیب کو کہتے ہیں ’’ستان‘‘ بستی کو کہتے ہیں-اس طرح براہِ راست پاکستان کا ترجمہ مدینہ طیبہ ہے   یعنی پاکستان مدینہ ثانی ہے‘‘-

منڈی بہاؤ الدین                              2019-02-02                             حیدر پیلس اینڈ میرج ہال

صدارت و خطاب:

مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’دربار سلطان باھو سے چلائی گئی اصلاحی جماعت اصلاح و تربیت اور محبت کے اس پیغام کو عام کر رہی ہے جس کے ذریعے انسان کے وجود میں اصلاح اور رحمت بھی پیدا ہوتی ہے اورامن بھی پیدا ہوتا ہے-صاحبزادہ صاحب نے مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ  نے اپنے حبیب مکرم (ﷺ) کو کل عالمین کے لئے رحمت بنایا ہے  اور اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے دائرۂ قدرت کے متعلق بھی یہی ارشاد فرمایا ہے کہ میں رب العالمین ہوں-یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا مالک ہے اسی طرح حضور نبی کریم (ﷺ) کی رحمت بھی تمام جہانوں کے لئے ہے-اسی  لئے نظمِ کائنات جس رحمت کی چھاؤں میں محفوظ ہے وہ رحمت کی چھاؤں حضور نبی کریم (ﷺ) کی ذات اقدس ہے-جس طرح قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے  اپنی بارگاہ میں حاضر ہونے کا ادب سکھایا ہے اسی طرح اپنے حبیب مکرم (ﷺ) کی بارگاہ کا ادب سکھایا ہےکہ:

’’یٰـٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ‘‘[4] ’’اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبئ مکرّم (ﷺ) کی آواز سے بلند مت کیا کرو

قرآن ہمارے لئے باعث نجات ہے اس لئے وہ ہمیں راہنمائی عطا کرتا ہے کہ بارگاہِ نبوت کی بے ادبی اعمال کے ضائع ہوجانے کا سبب بن کر باعثِ ہلاکت ہے-

چنیوٹ                             2019-02-03                              حیدر پیلس اینڈ میرج ہال

صدارت و خطاب:

مرکزی جنرل سیکریٹری اصلاحی جماعت، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب

’’دنیائے جدید کو خاص تناظر اور خاص نقطہ نظر میں بنا سنوار کر ہمارے سامنے پیش کیا گیا-دنیائے جدید کا آغاز سترھویں صدی میں یورپی نشاطِ ثانیہ کے بعد ہوتا ہے جو دنیائے جدید کے افکار، نظریات، رہن سہن ،فیشن، دستور کو بلا چون و چراں کے قبول کرتا ہے ا ُسے مہذب اور قابلِ عزت سمجھا جاتا ہے جو دنیائے جدید سے قبل کے رسم و رواج، تہذیب و تمدن اور عقیدے پر یقین رکھتا ہے اسے غیر مہذب اور بنیاد پرست سمجھا جاتا ہے- آج ہم پر مغربی تہذیب اور ہندی تہذیب یلغار کیے ہوئے ہیں-آج ہم نے مغربی تہذیب اور ہندی تہذیب کے خلاف جہاد کرنا ہے اور اسلامی تہذیب و تمدن کا دفاع کرنا ہے جو ہمارے بزرگوں نے 1400سال کی حفاظت کر کے ہم تک پہنچایا ہے-

آج ہم پر th5  جنریشن وار مسلط کی جا چکی ہے جس میں ہتھیار موبائل سکرین، فیس بک، واٹس ایپ، انسٹا گرام، یوٹیوب، ٹی وی چینلز، لفافہ جنرلزم، ضمیر فروشوں کی فورس، Misinformation ، ضمیر فروش نام نہاد دانشور، فحاشی و عریانی، نوجوانوں کے ذہنوں کو اس برائی اور غفلت کی طرف لے کر جانا ہے تاکہ یہ اپنی بنیاد، اساس اور عقیدے سے دستبردار ہو جائے-ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے دین کی حقانیت  پہ یقین رکھیں اور اسلامی تہذیب و تمدن اور بود و باش کو اپنائیں-قرآن و سنت نے جو آنکھوں میں حیاء  پیدا کرنے، زبان میں نرمی پیدا کرنے، چال میں عاجزی پیداکرنے ، لباس میں شرم و حیا پیداکرنے، بولنے میں اخلاق و آداب پیدا کرنے کا جو ہمیں راستہ سکھایا ہے؛ یہ دور ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے ہم اس دین کے نگہبان سپاہی اور مجاہد بن کے اس کی تہذیب کے تحفظ کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں‘‘-

(جاری ہے)



[1](جامع ترمذی ، کتاب التفسیر)

[2](ضربِ کلیم)

[3](الحجرات:2)

[4](الحجرات:2)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر