غصہ : تعلیماتِ اسلامیہ کی روشنی میں (آخری قسط)

غصہ : تعلیماتِ اسلامیہ کی روشنی میں (آخری قسط)

غصہ : تعلیماتِ اسلامیہ کی روشنی میں (آخری قسط)

مصنف: شہلانور اپریل 2019

اب ہم ان پر مختصر بحث کرتے ہیں:

1.      قوتِ غصہ میں تفریط:

غصہ میں تفریط یعنی اس قدر کم آنا کہ بالکل ختم ہی ہو جائے یا پھر یہ جذبہ ہی کمزور پڑ جائے تو یہ ایک مذموم صفت ہے- کیونکہ ایسی صورت میں بندے کی مروت اور غیرت ختم ہو جاتی ہے اور جس شخص میں یہ دونوں صفات نہ ہوں وہ کسی قسم کے کمال کا اہل نہیں ہوتا-ایسا شخص حشرات الارض کے مشابہ ہوتا ہے-

امام شافعی علیہ الرحمہ کے اس قول کا یہی معنیٰ ہے کہ :

’’جسے غصہ دلایا گیا اور وہ غصہ میں نہ آیا تو وہ گدھا ہے‘‘-[1]

اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) کی حمیت و شدت پر تعریف کرتے ہوئے فرمایا:

’’اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ‘‘ [2]

’’وہ مومنوں پر نرم (اور) کافروں پر سخت ہوں گے‘‘-

اس معاملے میں غصے کی اس کمی کا نتیجہ یوں ظاہر ہوتاہے کہ انسان اپنے حرم یعنی محرم عورتوں مثلاً بیٹی، بہن، بیوی وغیرہ سے چھیڑ چھاڑ کئے جانے کے معاملے میں غیرت کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے-جبکہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا:

’’غیرت ایمان کا حصہ ہے‘‘-[3]

2.      قوتِ غصہ میں افراط:

افراط یعنی اضافہ بھی غصہ میں مذموم ہے کیونکہ یہ قوت جب انسان پر غلبہ پاتی ہے تو وہ معقول و منقول ہر دو چیزوں کی سوجھ بوجھ سے عاری ہو جاتا ہے اور اس کے پاس کسی قسم کی دانش و فکر اور اختیار نہیں رہتا- وہ شخص جس کے اندر یہ آگ بھڑک رہی ہوتی ہے، ہر قسم کی نصیحت سننے، سمجھنے سے اندھا اور بہرہ ہوجاتا ہے-چنانچہ :

’’حضرت وھب بن منبہ (رضی اللہ عنہ) اپنی ایک طویل روایت بیان فرماتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ: ایک راہب اپنی عبادت گاہ میں مصروف عبادت رہا کرتا تھا -شیطان نے ہر چند اسے گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا --- آخر کار اس نے اپنا شیطان ہونا ظاہر کردیا تو راہب نے اس سے پوچھا مجھے ابن آدم کی ان خصلتوں کے بارے میں بتا جو ان کے خلاف تیری مددگار ہیں؟ شیطان بولا: ’’وہ غصہ ہے آدمی جب غصہ کرتا ہے تو میں اسے اس طرح الٹ پلٹ کرتا ہوں جیسے بچے گیند سے کھیلتے ہیں‘‘-[4]

غصہ کی زیادتی کا نتیجہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے- چیزوں کے نقصان کے علاوہ بعض اوقات انسان اس حالت میں نہ صرف دوسروں کی بلکہ اپنی جان بھی لے لیتا ہے- معاشرے میں غصہ کی اس لہر نے نظام کو بے حد متاثر کیا ہے - چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر بندہ اس کے زیر اثر ہے-جس کا جہاں بس چل رہا ہے وہ اپنے غصے کا اظہار کرتا ہے-عجیب بات یہ ہے کہ غصہ آنے کی وجہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی ہیں - گھریلو معاملات دیکھیں یا دفاتر و کمپنیوں کے حالات، یا پھر شاہراہیں اور عوامی مقامات ہر جگہ ذرا سی بات پر بھڑکتےہوئے لوگ ملیں گے- حالانکہ اس بات کو خذ العفو پر عمل کرتے ہوئے برداشت اور حسن اخلاق سے درگزر بھی کیا جاسکتا ہے- معاشرے میں جو رواج عام طور پر رائج ہیں مثلاً غیرت کے نام پر قتل، برادری سے باہر نیز پسند کی شادی کرنے پر قتل وغیرہ یہ سب افراط کی شکلیں ہیں-اسلام کسی انسان کو یہ ا ختیار نہیں دیتا کہ وہ اس طرح دوسرے کی جان لے- حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جو زیادہ تر پریشانیاں اور بے سکونی ہے وہ غصہ بھرے رویے کی وجہ سے ہے- کسی بات کو جب انا کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے تو لڑائی دو افراد سے بڑھ کر دو خاندانوں، پھر اس سے آگے بڑھ کر تھانہ، عدالت اور لاکھوں روپے کے ضیاع تک پہنچ جاتی ہے- غصے کے افراط سے متعدد مقامات پر قرآن پاک میں بھی روکا گیا ہے- اسے برداشت اور درگزر کرنے والوں کو احسان کرنے والوں سے تعبیر کیا گیا ہے- جیساکہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ‘‘[5]

’’اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے‘‘-

یعنی یہ عمل اللہ پاک کے نزدیک پسندیدہ ہے-قرآن پاک کی تفسیر یعنی حدیث مبارکہ میں بھی غصہ کو برداشت کرنے پر زور دیا گیا ہے- چنانچہ حدیث مبارکہ میں ہے:

’’عن ابی ھریرۃ (رضی اللہ عنہ)قال ان رجلا قال للنبی (ﷺ)اوصنی قال لا تغضب فردد مرارا قال لا تغضب‘‘[6]

حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور نبی کریم (ﷺ) سےعرض کی: مجھے وصیت (نصیحت) کیجیے فرمایا: غصہ نہ کیا کرو-اس نے یہ سوال بار بار دہرایا حضور نبی کریم(ﷺ) نے یہی فرمایا غصہ نہ کیا کرو‘‘-

اس حدیث مبارکہ میں غور و فکر کرنے سے بہت سے فوائد و حقائق سامنےآتے ہیں-جن میں سے یہ بھی ہے کہ غصہ تمام برائیوں کی جڑ ہے- چنانچہ رسول اللہ (ﷺ) نے ایک جامع اور مختصر نصیحت یہی فرمائی کہ غصہ سے اجتناب کیا جائے- بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان اپنے سارے کیے کرائے پر اور برسوں کی محنت پرایک لمحہ غصہ پر قابو نہ رکھ سکنے کی وجہ سے برباد کر بیٹھتا ہے-بہت سے قابل اور باصلاحیت لوگ اس بنا پر ناکام ہوجاتے ہیں کہ وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتے- اور لوگ بھی ان سے کما حقہ استفادہ نہیں کر پاتے-

چنانچہ-----!

اب ہم غصے کے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں-

1- جسم پر اثرات:

 غصے کے جسم پر اثرات جو مرتب ہوتے ہیں وہ یہ ہیں-- رنگ کا متغیر ہونا، کاندھوں پر کپکپی طاری ہونا، اپنے افعال پر قابو نہ رہنا، حرکات و سکنات میں بے چینی کا پایا جانا نیز جھاگ نکلنے لگتی ہے--آنکھوں کی سرخی حد سے بڑھ جاتی ہے- ناک کے نتھنے پھول جاتے ہیں بلکہ ساری صورت ہی بدل جاتی ہے-- اگر کوئی غضبناک شخص اس حالت میں اپنی ہی شکل دیکھ لے تو شرم کے مارے خودبخود ہی اس کا غصہ ختم ہوجائےگا- اکثر غصہ کرنے والے شخص کے چہرے پہ ہمیشہ ناگواری کے اثرات نمایاں رہتے ہیں-

 2- زبان پر اثرات :

 زبان پر غصہ اور غضب کے اثرات اس طرح ظاہر ہوتے ہیں کہ اس سے بری باتیں نکلتی ہیں مثلاً ایسی فحش اور گندی گالیاں وغیرہ کہ جن سے ہر صاحب عقل انسان کو حیا آتی ہے-

3- اعضاء پر اثرات:

اعضاء پر اس کے اثرات اس طرح ہوتے ہیں کہ نوبت مار پیٹ بلکہ بعض اوقات قتل تک پہنچ جاتی ہے- اگر کوئی شخص بدلہ نہ لے سکتا ہو تو وہ اپنا غصہ خود پر نکالتا ہے وہ اس طرح کے اہنے ہی کپڑ ے پھاڑ ڈالتا ہے- اپنے آپ کو اور دوسروں کو یہاں تک کہ جانوروں اور دیگر چیزوں کو بھی نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کرتا-

4-دل پر اثرات:

دل پہ اس کے اثرات یوں مرتب ہوتے ہیں کہ جس پہ غصہ ہو اس کے خلاف دل میں کینہ اور حسد پیدا ہو جاتا ہے-اس کی مصیبت پر خوشی اور خوشی پر غم کا اظہار کرتا ہے اس کا راز فاش کرنے اور مذاق اُڑانے کا عزم مصمم کئے ہوتا ہے اور اس کے علاوہ دیگر برائیاں بھی جنم لیتی  ہیں- [7]

لہٰذا --- جو شخص افراط و تفریط کا شکار ہو اسے چاہیئے کہ اپنے نفس کا علاج کرے- انسان کو چاہیے کہ غصہ پینے، عفو و درگزر اور صبر کرنے کی فضیلت پر وارد روایات پر غور کرے- کیونکہ اللہ تعا لیٰ نے قرآن پاک میں ایمان والوں کی نشانی ’’وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظ‘‘، ’’یعنی غصہ پی جانے والے‘‘ بیان فرمائی ہے-

3.      قوت ِغصہ میں اعتدال:

انسان کا کمال یہ ہے کہ اس کی قوت غضب معتدل (درمیانی) ہو یعنی نہ تو اس میں افراط (زیادتی) ہو اور نہ ہی تفریط(کمی)- بلکہ وہ قوت دین و عقل کے تابع ہو صرف اسی وقت بھڑکے جہاں حمیت و غیرت کی ضرورت ہو اور وہاں بجھی رہے جہاں بردباری سے کام لینا مناسب اور زیبا ہو-یہ وہی حالت اعتدال ہے جس کی تعریف حضور نبی کریم (ﷺ) نے ان الفاظ میں فرمائی ہے:

’’امور کی بھلائی ان کا اعتدال یعنی درمیانہ پن ہے‘‘-[8]

یہی اسلام نے پسند کیا ہے اور ہر ایک مسلم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غصے میں اعتدال برتے اور وہیں غصے کا اظہار  کرے جہاں اسلام نے حکم دیا ہے - چنانچہ حضور نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا:

’’من احب للہ وابغض للہ واعطیٰ للہ ومنع للہ فقد استکمل الایمان‘‘[9]

’’جس نے اللہ کے لئے محبت کی اور اللہ کے لیے بغض رکھا اور اللہ کے لیے عطا کیا اور اللہ کے لیے روکا اس نے اپنا ایمان مکمل کرلیا‘‘-

غصے کا خاتمہ:

غصہ کا بالکل ختم ہو جانا ممکن نہیں ہاں ایسا ہو سکتا ہے کہ بعض امور میں بعض اوقات غصہ ظاہر نہ ہو اور لوگ سمجھیں کہ غصہ ختم ہو گیا ہے- کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو توحید الٰہی میں اس قدر مغلوب ہوتے ہیں کہ ان کا دل کسی امرِ عظیم میں مشغول ہوتا ہے- ایسے موقع پر بھی غصہ دب جاتا ہے یا چھپ جاتا ہے--- کچھ واقعات ملاحظہ کیجیے:

  1. ’’کسی نے شیخ ربیع بن ہیثم کو گالی دی انہوں نے کہا میرے اور بہشت کے درمیان ایک گھاٹی حائل ہے جسے میں طے کر نے میں مصروف ہوں اگر طے کرلوں تو تیری اس گالی کی مجھے کیا پرواہ- اگر طے نہ کر سکوں تو تیری یہ گا لی مجھے کافی نہیں بلکہ اور زیادہ گالیوں کا مَیں مستحق ہوں‘‘-
  2. ’’امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق (﷜)کو کسی نے گالی دی فرمایا: میر ے ایسے بہت سے عیوب ہیں جو تجھے معلوم نہیں‘‘-
  3. ’’ایک شخص نے امام شعبی علیہ الرحمہ کو کوئی بری بات کہی تو انہوں نے جواب دیا : اگر تو سچ کہتا ہے تو اللہ میری مغفرت فرمائے اور اگر تو جھوٹ کہتا ہے تو اللہ تیری مغفرت فرمائے‘‘-[10]

چنانچہ---اگر ہم آخرت کی فکر کریں نیز یہ مدنظر رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اور  رسول اللہ (ﷺ) اس بات سے خوش ہوتے ہیں کہ بندہ ان کی محبت و رضا کی خاطر جب کوئی ناپسندیدہ بات پہنچے تو غصہ نہ کرے بلکہ ان کی محبت اس پر غالب رہے- اس سوچ سے ہم بھی اپنے غصے کے بڑھتے ہوئے زور کو توڑسکتے ہیں-

اس تفصیل کے بعد غصہ کو دور کرنے کے چند اور طریقے درج ذیل ہیں:

 پہلا طریقہ:

انسان اللہ تعالیٰ کی قدرت پہ غور کرے کہ اللہ اس پہ غضب فرمانے پر قادر ہے اور انسان قیامت میں عفو و درگزر کا زیادہ محتاج ہوگا- اس لیے وہ دوسروں پر غصٰہ نہ کرے انہیں معاف کرے تاکہ اسے بھی معاف کیا جائے-

 دوسرا طریقہ:

انسان خود کو سامنے والے کے انتقام سے ڈرائے -اگر کوئی انسان اس سے انتقام لینے پر مسلط ہوجائے اس کی عزت دری کرے،اس کی مصیبت پہ خوشی کا اظہار کرے تو اس پر کیا گزرے گی؟ چنانچہ وہ خود بھی اس سے باز رہے-

 تیسرا طریقہ:

انسان غصے کی حالت کی بری صورت پہ غور کرے اور اپنے نزدیک غصے کی قباحت اور غضب ناک شخص کو کاٹنے والے جانور سے مشابہ اور بردبار شخص کی انبیاء و اولیاء کرام سے مشابہت تصور کرےاور پھر غور کرے کہ اسے کس کے مثل بننا ہے-

 چوتھا طریقہ:

وہ شیطان مردود سے اللہ عزوجل کی پناہ چاہے-تعوذ یعنی ’’اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ‘‘ پڑھ لے،پانی پی لے، غسل کرلے،اسے چاہیئے کہ وہ بیٹھ جائے پھر بھی غصہ ختم نہ ہو تو لیٹ جائے تاکہ اسے جس زمین سے پیدا کیا گیا ہے اس کے قریب ہو جائے-

حضور نبی کریم (ﷺ)کا فرمانِ عالیشان ہے:

’’غصہ دل میں دہکنے والا انگارہ ہے-کیا تم غصے والے شخص کی رگوں کا پھولنا اور آنکھوں کا سرخ ہونا نہیں دیکھتے؟ لہٰذا تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہئے کہ بیٹھ جائے اگر بیٹھا ہو تو لیٹ جائے اور اگر پھر بھی غصہ زائل نہ ہوتو اسے چاہیئے کہ وضو یا غسل کر لے کیونکہ آگ کو پانی ہی بجھاتا ہے‘‘-[11]

 پانچواں طریقہ:

یہ ہے کہ انسان خاموش ہو جائے اس میں عافیت ہی عافیت ہے- جیسا کہ رسول کریم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے خاموشی اختیار کر لینی چاہیئے‘‘-[12]

نیز اس جگہ سے ہٹ جانا یا کسی اور کام میں مشغول ہوجانا بھی مفید ہے-بہرحال!!!مجموعی طور پر اللہ عزوجل کے نزدیک معاف کرنا اور غصے کو پی جانا ہی پسندیدہ ہے- اگرچہ وہ دوسرے پر قدرت رکھتا ہو- اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ گھونٹ غصے کا ہے جو پی لیا جائے- جیساکہ روایت میں آیا:

’’عن ابن عمر رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ (ﷺ) ما تجرع عبد افضل عند اللہ عزوجل من جرعۃ غیظ یکظمھا ابتغاء وجہ اللہ تعالیٰ‘‘[13]

’’حضرت ابن عمر (رضی اللہ عنہ)سے روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بندے کا سب سے افضل غصے کا گھونٹ ہے جسے اللہ کی رضاکے لیےپی لیا جائے‘‘-

چنانچہ قرآن و حدیث نیز بزرگانِ دین کے واقعات کی روشنی میں ہمیں اپنے غصے پر قابو پاکر ایک نارمل اور کارآمد انسان و مسلمان ہونے کا ثبوت دینا چاہیئے-

بہادر شاہ ظفر نے کیا خوب کہا:

ظفر آدمی اس کو نہ جانیے گا ہو وہ کتنا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا

اللہ کریم ہمیں غصے کی تباہ کاریوں سے بچنے اور اس متعلق اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے- آمین!

٭٭٭


[1](لباب الاحیاء ، ص:249،)

[2](المائدہ: 54)

[3](السنن الکبریٰ للبیھقی ، کتاب الشھادات،الرقم الحدیث:21023)

[4]( الزواجر عن اقتراف الکبائر، ص:185،)

[5](آلِ عمران:134)

[6](صحیح بخاری، کتاب الادب، رقم الحدیث:6116)

[7]( الزواجر عن اقتراف الکبائر،ص202/203،)

[8]( المصنف لابن کثیر، کتاب الزھد، الرقم الحدیث:13، ج:8)

[9]( سنن ابی داود، سلیمان بن اشعث،ج:2، ص:287)

[10](شاہراہ ہدایت ترجمہ کیمیائے سعادت ، مولانا فیض احمد اویسی،ص:494)

[11]( اتحاف السادۃ المتقین،ج:9ص:425)

[12]( مسند امام احمد بن حنبل، الرقم الحدیث: 2136)

[13](مشکٰوۃ المصابیح، علامہ ولی الدین محمد بن عبداللہ الخطیب التبریزی، الرقم الحدیث: 4883)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر