اقبال کا پیغامِ امن محبت فاتح عالم (سیمینار)

اقبال کا پیغامِ امن محبت فاتح عالم (سیمینار)

اقبال کا پیغامِ امن محبت فاتح عالم (سیمینار)

مصنف: مسلم انسٹیٹیوٹ جون 2016

علامہ محمد اقبال کے اٹھہترویں ﴿۸۷﴾ یوم وفات کے موقع پر مسلم انسٹی ٹیوٹ اور انٹرنیشنل اقبال انسٹی ٹیوٹ برائے تحقیق و مکالمہ ﴿اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد﴾ کے زیر اہتمام ’’ اقبال کا پیغامِ امن، محبت فاتح عالم ‘‘کے عنوان سے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں سیمینار کا انعقاد ہواجس میں مہمانانِ خصوصی کے طور جمہوریّہ تاجکستان کے سفیر جناب شیر علی جانانوف نے شرکت کی جبکہ سیمینار کی صدارت انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے صدر جناب ڈاکٹر احمد یوسف الدراویش نے کی - جناب سینیٹر اکرم ذکی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی آر ڈی جناب ڈاکٹر حسن الامین، ہیڈآف کلچرل اینڈ پریس ڈیپارٹمنٹ ایمبیسی آف جرمنی جناب ڈاکٹر ڈان ٹیڈٹن، ڈائریکٹر آئی آر ڈی، جناب ڈاکٹر طالب حسین سیال، معروف شاعر و دانشور جناب پروفیسر جلیل عالی ، پرنسپل پوسٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین راولپنڈی جناب ڈاکٹر عالیہ سہیل خان اور معروف اقبال شناس ڈاکٹر ایوب صابر نے اپنے خیالات کا اظہار کیا-

سیمینار میں غیر ملکی وفود، یونی ورسٹیز کے پروفیسرز و طلبا، مختلف اداروں کے محققین، دانشوروں، تجزیہ نگاروں اور صحافیوںنے حصہ لیا-

مقررین نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ:-

مشہور شاعر فلسفی اور مفکر علامہ اقبال نے امن کے پیغام’’ محبت فاتح عالم ‘‘پہ بڑا زور دیا جس کا مفہوم محبت کے ذریعے حکمرانی اور لوگوں کے دل جیتنا ہے- علامہ اقبال کے نزدیک توحید پر ایمان کا معاشرتی تقاضہ یہ ہے کہ ساری دنیا کے انسانوں کو ایک کنبے کے افراد سمجھا جائے ، یہ عالمگیر وفاداری ہے یہ ہمارے تصورِ تہذیب اور تصورِ دین کا مرکزی نکتہ ہے-

رسول اللہ ا نے فرمایا کہ:-

’’ ظالم کی بھی مدد کرو  ‘‘ جب آپ ا سے پوچھا گیا کہ ظالم کی مدد کا کیا مطلب ہے؟ رسول اللہ ا نے فرمایا اُس کو ظلم کرنے سے روکنا‘‘-

اُس کو ماڈرن لینگوئج میں یوں کہیں گے کہ سسٹم کو تبدیل کرنا ہے بندوں کو نہیں مارنا-اقبال انسانیت کے علمبردار تھے- آپ محبت اور مساوات پہ مبنی عالمی امن کا پرچار کرنے والے تھے لیکن آ پ کا نظریۂ انسانیت مغربی نظریہ سے مختلف ہے- مغربی نظریہ کا دارومدار مادی قوت پہ ہے جب کہ اقبال کے نظریہ کی بنیاد روحانی طاقت پہ مبنی ہے- وہ اللہ عز و جل، عشقِ رسول ا ، اسلام اور اسلامی شناخت پر یقین رکھتے ہیں وہ بقائے باہمی پہ یقین رکھتے ہیں- گو کہ اقبال اسلامی شناخت، اسلامی فلسفہ اور اپنی ذات کی پہچان پہ بہت زور دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ یہ چیزیں دوسروں کی عزت، دوسروں کے عقائد، نظام اور نظریات کے احترام سے کیسے جڑی ہیں- جیسا کہ اقبال نے ۰۳۹۱ئ میں ’’الہٰ     آباد‘‘ میں اپنے مشہور خطاب میں فرمایا کہ:-

’’ایسا طبقہ جس کے دوسرے طبقہ کے خلاف نفرت بھرے الفاظ سے جذبات بھڑکتے ہوں وہ پست قامت اور کم ظرف ہے- مَیں دوسروں کی روایات، قوانین، مذہبی اور معاشرتی اداروں کا بہت احترام کرتا ہوں نہ صرف یہ بلکہ قرآن کی تعلیمات کے مطابق ضرورت پڑنے پر اُن کی عبادت گاہوں کا دفاع کرنا بھی میرا فرض ہے‘‘-

اقبال اپنی ایک مشہور نظم میں خدا کی محبت کو پانے کے راز سے پردہ اٹھاتے ہیں کہ خدا کی محبت اس کی مخلوق اور انسانوں سے محبت میں پوشیدہ ہے- اقبال کا مندرجہ ذیل شعر دل پہ اثر کرتا ہے:-

خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں،

بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے

مَیں اُس کا بندہ بنوں گا جس کو،

خدا کے بندوں سے پیار ہوگا

علامہ اقبال ایک عظیم شخصیت تھے جو آج بھی بصیرت اور جوش و ولولہ کا ذریعہ ہیں- وہ صرف مسلمانوں کے شاعر نہیں بلکہ وہ کسی بھی انسانی ظلم پر آہ و فغاں کرتے ہیں جیسا کہ وہ فرماتے ہیں کہ:-

òقیامت ہے کہ انساں، نوعِ انساں کا شکاری ہے

اقبال کا وژن آفاقی اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والا ہے- وہ اس بات پہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ کائنات محبت کے اصول پہ وجود میں آئی وہ فرماتے ہیں :-

 

òریاض ہستی کے ذرے ذرے سے ہے محبت کا جلوہ پیدا

اقبال اس بات پہ یقین رکھتے ہیں کہ اس وقت دُنیا میں طاعون کی طرح پھیلی مختلف تقسیمیں، پریشانیاں اور ظلم و استبداد کا واحد حل قرآنی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے میں ہے جس کا پہلا اور بنیادی درس محبت اور امن کا ہے- اسلام کے معانی ہی امن اور سلامتی کے ہیں- رحم دِلی، خدا ترسی، ایثار و قربانی، فراخ دِلی، صبر و برداشت، تنوع کو برداشت کرنا، انسانی وقار اور سب کے مسائل کی فکر اسلام کے بنیادی اصول ہیں-

محبت فاتح عالَم کی فتح مکہ سے بہتر کیا مثال ہو سکتی ہے جس میں رسالت مآب ا نے اپنے سارے دشمنوں کو معاف کر دیا اور خون کا ایک قطرہ تک نہ بہا-

مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں بنی نوع انسان سے محبت کی ضرورت ہے- بلاشبہ اقبال محبت کا شاعر ہے جس نے بالخصوص مسلمانوں اور بالعموم انسانوں کو محبت اور اتحاد کا درس دیا اقبال فرماتے ہیں کہ ﴿اخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جا ﴾ -

یہی مقصودِ فطرت ہے یہی رمزِ مسلمانی

اخوت کی جہانگیری، محبت کی فراوانی

ایک اور مقام پہ فرماتے ہیں :-

محبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نے

کیا ہے اپنے بختِ خُفتہ کو بیدار قوموں نے

علامہ اقبال اور جرمن فلاسفر نیتشے کے فلسفہ میں بہت فرق ہے کہ اقبال کی خودی میں انسان ارتقائ کرتا ہے اور اسے ہر کوئی پاسکتا ہے جبکہ نیتشے کے فلسفہ میں سپرمین ایک تخیلاتی کردار ہے جسے ہر کوئی حاصل نہیں کر سکتا-

فکر اقبال انسان کی تکمیل کرنے میں مددگار ہے اِس لیے اقبال کو انسانیت کا شاعر بھی کہا جاتا ہے اُنہوں نے اپنے پیغام میں محبت کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق، انصاف اور صلح رحمی کا سبق بھی دیا اقبال کی شاعری گِرے اور پِسے ہوئے طبقے کو کھڑا ہونے کے لیے سہارا فراہم کرتی ہے-

آج کی دُنیا میں فکرِ اقبال انسانیت کو درپیش مسائل کا حل ہے کیوں کہ فکرِ اقبال کی بنیاد مساوات، انصاف، محبت اور امن ہیں اور اِن خصوصیات کا ماخذ قرآن پاک ہے-

اقبال کی ایک خاصیت اُن کاعشقِ رسول ا ہے-

اقبال نے نہ صرف انسانیت سے محبت کا پیغام دیا بلکہ وہ تعلیم و تحقیق کے ساتھ کائنات میں موجود مظاہرِ فطرت سے بھی محبت کا سبق دیتے ہیں- یقین محکم، عمل پیہم ، محبت فاتح عالَم کے حصول کے لیے ضروری ہیں اور اِن کے بغیر انسان زندگی کی جدوجہد میں کامیاب نہیں ہو سکتا-

اقبال یقین، ایمان اور ان کی برتر شکل محبت اور عشق پر بہت زور دیتے ہیں- آج کے دور میں اُمّتِ مسلمہ کو اپنے مسائل کے حل کے لیے اتحاد کی ضرورت ہے-

اگر آج پھر مسلمان محبت و عشق سے اپنی تعمیر کے بعد تعمیرِ جہاں کریں تو فرقہ واریت اور فروعی اختلافات کا خاتمہ کرتے ہوئے ترقی کی نئی منازل طے کر سکتے ہیں-

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر