خطبہ الٰہ آبادسےقراردادِپاکستان تک (مختصر جائزہ)

خطبہ الٰہ آبادسےقراردادِپاکستان تک (مختصر جائزہ)

خطبہ الٰہ آبادسےقراردادِپاکستان تک (مختصر جائزہ)

مصنف: حافظ شہباز عزیز مارچ 2019

یہ نا قابلِ تردید حقیقت ہے کہ علامہ اقبالؒ کا خطبہ الٰہ آباد(29دسمبر 1930ء) اسلامیانِ ہند کی سیاسی و فکری تاریخ میں نہایت اہمیت کا حامل ہے اور یہ وہ بنیادی دستاویز ہے جس نے مسلمانانِ برِصغیر کو نہ صرف ایک خود مختار مملکت (پاکستان) کے وجود کا پہلا جواز فراہم کیا بلکہ ایک ایسی نظریاتی ریاست (اسلامی ریاست)کے قیام کا مطالبہ بھی ہے جس میں مسلمان تمدنی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں کیونکہ تہذیب و تمدن کی حفاظت بغیر نظریاتی ریاست کے ممکن نہیں ہے-مسلمان قوم کی اپنی ایک جدا گانہ حیثیت ہے جن کی قومیت اپنی بنیاد میں رنگ، نسل، زبان اور جغرافیے کے اشتراک کی بجائے اسلام کے آفاقی و روحانی اُصولوں پر قائم ہے لیکن ان اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایک آزاد ریاست کے قیام کا مطالبہ کریں- جیسا کہ علامہ اقبالؒ خطبہ الٰہ آباد میں فرماتے ہیں :

India is the greatest Muslim country in the World. The life of Islam as a cultural force in the country very largely depends on its centralization in a specified territory.”

’’ہندوستان دنیا میں سب سے بڑا اسلامی ملک ہے-اسلام کو بحیثیت ایک تمدنی قوت کے زندہ رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کر سکے‘‘-

اس خطبہ میں اقبالؒ نے ’’مسلم قومیت‘‘کے جداگانہ تشخص پر ممکنہ اعتراضات کابھی تسلی بخش جواب دیا اور کمالِ استدلال سے یہ باور کرایا کہ ہندوستان کے مسلمان اپنی الگ تہذیبی شناخت رکھتے ہیں جس وجہ سے وہ اقلیت نہیں بلکہ جدید معنوں میں ایک جداگانہ قوم ہیں- پروفیسر فتح محمد ملک ہمیں تدبر دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ:

’’مسلم قومیت کی تعمیر و استحکام اورمتحدہ ہندوستانی قومیت کی تردیدکےمتعلق اقبالؒ کا کہنا ہے کہ برِصغیر کے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی اور منفرد تہذیب و معاشرت سراسر اسلام کے معاشرتی و روحانی اُصولوں پر مبنی ہے-اسلام سے اٹوٹ وابستگی ہی نے ہندی مسلمانوں کو ایک منتشر ہجوم سے ایک متحد و مستحکم قوم بنایا ہے-اگر وہ خدانخوستہ اسلام کے اجتماعی اُصولوں سے روگردانی کرتے ہوئے متحدہ ہندوستانی قومیت کے فریب میں مبتلا ہو گئے تو وہ پھر سے ایک منتشر ہجوم بن کررہ جائیں گے‘‘-[1]

اقبال کے نزدیک ہندوستان میں مختلف نسلوں،زبانوں اور مختلف مذاہب کے لوگ بستے ہیں جو اپنے اعمال و افعال، تہذیب و تمدن، کلچر اور اطوارِ زندگی میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں اور ان میں بقائے باہمی کیلئے ضروری ہے کہ توازنِ  اقتدار قائم کیا جائے- کیونکہ توازنِ اقتدار عمومی طور پہ ہندوستان کیلئے اور خصوصی طور پہ اسلام و اسلامیانِ ہند کیلئے تاریخ ساز مواقع پیدا کرے گا- اِس ساری صُورت حال پہ جامع تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر فتح محمد ملک لکھتے ہیں :

’’علامہ اقبالؒ نے اپنے خطبہ الٰہ آباد میں قیامِ پاکستان کو ہندوستان اور اسلام دونوں کیلئے باعثِ خیر و برکت ٹھہرایا اور فرمایا کہ پاکستان کے قیام سے ہندوستان میں اندرونی توازنِ اقتدار قائم ہو گا اور اس توازنِ اقتدار سے ہندوستان کے اندر امن قائم ہوگا اور ہندوستان کی سرحدیں محفوظ ہو جائیں گی-ساتھ ہی ساتھ اسلام کو یہ موقع نصیب ہو گا کہ وہ عرب شہنشاہیت (Arabian Imperialism) کی چھاپ سے خود کو پاک کر کے اپنی ابتدائی سادگی اور پاکیزگی کی بازیافت کر سکے- شہنشاہیت نے اسلامی قانون، اسلامی تعلیم اور اسلامی کلچر کو منجمد کر رکھا ہے-پاکستان اسلام کی ایسی تجربہ گاہ بن جائے گا جہاں شہنشاہیت کے زیر اثر پیدا ہونے والا انجماد ٹوٹ جائے گا اور قانون، تعلیم اور کلچر کی دنیا حرکت و عمل سے آشنا ہو گی-اس طرح پاکستان میں اسلام کی حقیقی روح کو از سرِ نو دریافت کر کے روحِ عصر کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے گا‘‘-[2]

اقبالؒ کے اِس تصورِ پاکستان کو حقیقت کا روپ دینے اور قافلہ کی قیادت کیلئے ایک ایسے صاحبِ بصیرت قائد کی ضرورت تھی جو ملت کے جسدِ خُفتہ و خوابیدہ میں آزادی کی تڑپ اور ولولہ پیدا کر سکے اور یہ عظیم ہستی دنیائے سیاست میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے نام سے معروف ہے جو اپنی ہمہ جہت اور کرشمہ ساز شخصیت میں جہاں ایک عبقری سیاستدان، اصول پرست قانون دان، بے باک وکیل، عظیم سیاسی مدبر، انسانی حقوق کے علمبردار، ناقابلِ تسخیر قوت ارادی، بلند پایہ ہمت، حوصلے، مومنانہ فہم و فراست اور غیر متزلزل عزم جیسےاوصاف کے مالک تھے وہیں ایک حقیقی اسلام شناس بھی تھے-

محققین کا کہنا ہے کہ اقبالؒ نے درج ذیل جملے قائد اعظم کے اعزاز میں فرمائے تھے:

For thousands of years a nation may lament and remain groping in darkness. Only then a visionary leader may be born to guide the nation”. (Ahmed, 1997:139)[3]

’’ہزاروں سال ایک قوم کے رنج و غم میں مبتلا اور اندھیرے میں گھومتے رہنے کے بعد ایک صاحبِ بصیرت لیڈر پیدا ہو تاہے جو اس قوم کی رہنمائی کرتاہے‘‘-

 معروف انگریز دانشور اور مصنف اسٹینلے وولپرٹ (Stanley Wolpert) نے قائد اعظمؒ کی عالمگیر شخصیت کو ان الفاظ میں خراج ِتحسین پیش کیا ہے:

Few individuals significantly alter the course of history. Fewer still modify the map of the world. Hardly anyone can be credited with creating a nation state. Mohammad Ali Jinnah did all three”.[4]

’’چند افراد تاریخ کا باب بدلتے ہیں -اب بھی چند ایک ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل دیتے ہیں-بڑی مشکل سے کسی ایک کے سر سہرا جاتا ہے کہ وہ ایک ’’قومی ریاست‘‘کی تخلیق کر سکے-محمد علی جناحؒ نے یہ تینوں کام سر انجام دیے‘‘-

جناحؒ کی قائدانہ صلاحیت کے متعلق جمیل الدین احمد رقم طراز ہیں:

“Jinnah was indeed the only leader of Muslim India who could always respond to Muslim interests and aspirations, and who knew “how to express the stirrings of their minds in the form of concrete propositions”.[5]

’’جناح ہندوستانی مسلمانوں کے وہ واحد رہنما ہیں جنہوں نے ہمیشہ مسلم مفاد اور تمناؤں کو مدِنظر رکھا اور وہ جانتے تھے کہ کس طرح مسلمانوں کی ذہنی فعالیت کا اظہار پختہ تجاویز کی صورت میں کیا جائے‘‘-

تاریخ برِصغیر میں قائد اعظمؒ کے سیاسی مقام و خدمات اور آپ کی کثیر الجہت شخصیت کے متعلق خواجہ رضی حیدر لکھتے ہیں کہ:

’’برصغیر کی جدید تاریخ میں سیاسی خدمات کے اعتبار سے قائد اعظم محمد علی جناح جس مقام و مرتبہ پر فائز ہیں وہ مقام اس خطۂ ارضی پر کسی اور سیاسی رہنما کو حاصل نہیں ہوا- فراست، راست گوئی، ضبط وتحمل، دور بینی و پیش بینی، عالی حوصلگی و خود اعتمادی، استقلال و استقامت، ذاتی اور قومی معاملات میں صداقت، نجی و اجتماعی زندگی میں پاکیزگی،  نفاست و شائستگی جیسے اوصاف ان کی فطرت ثانیہ بن گئے تھے-جناح ایک منطقی انسان تھے،اس لئے احتجاجی شور و غوغا سے زیادہ استدلال پر یقین رکھتے تھے‘‘-[6]

جب قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ نے میدانِ سیاست میں قدم رکھا تو ابتداء میں دونوں کا سیاسی رجحان وطنی قومیت(یعنی مغربی نیشنلزم کی تقلید میں ہندی وطنیّت ) تھا- مگر اقبال نے جلد ہی اس لسانی، نسلی و جغرافیائی بنیادوں پر مبنی مادہ پرستانہ تصورِ وطنیت کو اپنی مومنانہ بصیرت سے بھانپ لیا اور اس سے رجوع کر لیا لیکن جناح ؒ ابھی تک متحدہ ہندوستانی قومیت (وطنی قومیت) کے حامی تھے اور عملی سیاست میں دادا بھائی نورو جی، سریندر نارتھ، سی-آر داس اور کرشن گوپال گھوکلے جیسے اعتدال پسند سیاسی قائدین کے ساتھ شانہ بشانہ ملکی سیاست میں گامزنِ سفر تھے اور ’ہندو مسلم اتحاد‘ کے سفیر کی حثییت سے کانگریس اور مسلم لیگ میں مفاہمت کیلئے کوشاں تھے تو ایک طویل عرصے (یعنی نہرو رپورٹ 1928ءتک) علامہ اقبال ؒ اور مسٹر جناح کے سیاسی افکار کی راہیں جُدا جُدا بلکہ بعض دفعہ بالکل مخالف سمت پر رہیں- یہ فاصلے قائد اعظمؒ کے مشہور 14 نکات (مارچ 1929ء)  کے موقع پر ختم ہوئے اور یوں دونوں(اقبالؒ اورجناحؒ) کی ذہنی و فکری قربت بڑھنے لگی-

لندن میں پہلی گول میز کانفرنس 12 نومبر  1930ء کو منعقد ہوئی جس میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سپہ سالار قائداعظمؒ اپنے چند لیگی رفقاء کے ساتھ شرکت کیلئے لندن روانہ ہوئےجبکہ اس کانفرنس میں اقبالؒ مدعو نہیں تھے جس کا خلا قائد اعظم ؒنے محسوس کیا اور مسلم لیگ کے اجلاس میں علامہ اقبالؒ کا نام آئندہ آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس 1930ء کیلئے بطورِ صدر نامزد کروایا اور اقبال ؒنے اس اجلاس (الٰہ آبادمیں)اپنامذکورہ بالا شُہرہ آفاق تاریخی خطبہ الٰہ آباد پیش کیا - گول میز کانفرنس میں مسلمانوں کے مطالبات تسلیم نہ ہونے اور ہندو ذہنیت اور رویے کی وجہ سے دلبرداشتہ ہوکر قائد اعظم ہندوستان چھوڑ کر لندن چلے گئے-کئی برس بعد ایک بیان میں انہوں نے اپنی ذہنی کیفیت کچھ اس طرح بیان کی ہے جس میں ان کی ہندوستان چھوڑ کر لندن سکونت اختیار کرنے کی وجہ واضح ہوتی ہے:

’’میں نے مفاہمت کرنے کیلئے اس قدر مسلسل کام کیا کہ ایک اخبار نے لکھا کہ مسٹر جناح ہندو مسلم اتحاد کی کوشش سے کبھی تھکتے نہیں-لیکن گول میز کانفرنس کے جلسوں میں ایسا دھچکا لگا جو زندگی میں پہلے کبھی نہ لگا تھا- خطرے کے سامنے ہندو جذبہ، ہندو ذہن اور ہندو رویے نے مجھے اس نتیجے پر پہنچا دیا کہ اتحاد کی کوئی امید نہیں-مجھے اپنے ملک کے بارے میں سخت مایوسی کا احساس ہوا-صورتحال بہت افسوس ناک تھی--!مَیں نے یہ محسوس کرنا شروع کردیا کہ نہ تو مَیں ہندوستان کی کوئی مدد کر سکتا ہوں اورنہ ہی مسلمانوں کو یہ احساس دلاسکتا ہوں کہ وہ کس درجہ سنگین صورتحال سے دوچار ہیں-مجھے اس قدر مایوسی ہوئی اور مَیں اتنا آزردہ ہوا کہ مَیں نے لندن میں سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا‘‘-[7]

آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے اقبال ؒجب دوسری گول میز کانفرنس(1932ء) میں شرکت کیلئے لندن تشریف لے گئے تو وہاں ان کی ملاقات محمد علی جناحؒ سے ہوئی جس میں انہیں ایک دوسرے کے نظریات جاننے اور سمجھنے کا موقع ملا- اقبالؒ نے مسٹر جناح کو برِصغیر کے مسلمانوں کی سیا سی صورتِحال سے آگاہ کیا اور اس بات پر قائل کیا کہ وہ انڈیا واپس آکر مسلمانانِ برصغیر کی قیادت سنبھالیں اور مسلمانوں کو برطانوی نوآبادیاتی نظام سے آزادی دلانے، غفلت کی نیند سے جگانے اور متحد کرنے کیلئے اسلامی اصولوں اور تعلیمات کے مطابق جہدِ آزادی کی تلقین کریں- اقبالؒ جانتے تھے کہ اسلامیان ِہند کو ان سنگین حالات میں اگر کوئی شخص استعمار کی غلامی سے نجات دلاسکتا ہے تو وہ مسٹر جناح ہیں- خواجہ رضی حیدر لکھتے ہیں :

’’1935ء میں قائد اعظم محمد علی جناح ؒکی لندن سے حتمی واپسی کے بعد علامہ اقبال  اور قائد اعظم کے تعلقات کا تاریخی دور شروع ہوتا ہے جس میں علامہ اقبالؒ نے بذریعہ مراسلت ہندوستان کے ملی، ثقافتی اور آئینی مسائل پر تبادلۂ خیال کیا ہے-اقبال کے خطوط قائد اعظم محمد علی جناح کے نام جہاں مفکرِ پاکستان اور قائد کے درمیان تعلقات کا بیّن ثبوت ہیں وہاں برِصغیر پاک و ہند کے ایک خاص عہد کے سیاسی حالات اور مسائل پر بھی گہری روشنی ڈالتے ہیں‘‘-[8]

1937ء کے بعد اقبالؒ نے قائد اعظم کو جو خطوط لکھےان میں مختلف آراء اور تجاویز پیش کیں جس کا عملی اظہار وقتاً فوقتاً جناح ؒ کی سیاسی سرگرمیوں میں ہوتا ہے -ان خطوط میں اقبالؒ نے یہ بھی ذکر کیا کہ اس وقت آپ وہ واحد مسلم رہنما ہیں جو مسلمانانِ برصغیر کی قیادت کرتے ہوئے انہیں سیاسی بحران کے طوفان سے نجات دلا سکتے ہیں- اس بات کی وضاحت علامہ اقبالؒ بنام جناحؒ ایک مکتوب(21جون،1937ء) میں ہوتی ہے جس میں اقبالؒ نےجناحؒ پراپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ :

’’اس وقت جو طوفان شمال مغربی ہندوستان اور شاید پورے ہندوستان میں برپا ہونے والاہےاس میں صرف آپ ہی کی ذاتِ گرامی سے قوم محفوظ رہنمائی کی توقع کا حق رکھتی ہے‘‘-[9]

قائد اعظمؒ کی لندن سے واپسی کا ایک اہم بنیادی سبب یہ بھی ہے کہ جب وہ قیام ِلندن کے دوران اپنے فلیٹ میں مقیم تھے تو ایک شب حضور رسالت مآب (ﷺ)نےآپؒ کو خواب میں زیارت کا شرف بخشا اورحکم فرمایا کہ :

’’مسٹر جناح برِصغیر کے مسلمانوں کو تمہاری فوری ضرورت ہے اور مَیں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تحریکِ آزادی کی قیادت کرو، مَیں تمہارے ساتھ ہوں تم بالکل فکر نہ کرو، انشاء اللہ! تم اپنے مقصد میں کامیاب رہوگے‘‘-[10]

واقعہ طویل تھا اسی لئے خوف ِطوالت کی وجہ سے اصل مدعا(حضورنبی کریم (ﷺ)کا قائداعظم کو خواب میں کیا گیا فرمان مبارک) نقل کردیا-

مسلمانوں کی سیاسی صورتحال، گول میز کانفرنس کے نتائج، قائد اعظمؒ کی لندن سے واپسی اور مسلم لیگ کی تنظیمِ نو کی واضح جھلک ہم درج ذیل پیرائے میں دیکھ سکتے ہیں-

’’بیسویں صدی کا چوتھا عشرہ برصغیر ہند کے سیاسی و دستوری ارتقاء میں بہت نازک مرحلہ تھا جبکہ اسلامیانِ ہند سخت انتشار و افترق میں مبتلا تھے-گول میز کانفرنس کے نتیجے میں کمیونل ایوارڈ،صوبائی خود مختاری،قانونِ ہند کے 1935ء کی صورت میں سامنے آچکا تھا، جس کی تکمیل پر برِّصغیر کے آئندہ مقدر کا فیصلہ ہونا تھا-اس نازک مرحلے میں اقبال اور چند دوسرے درد مندانِ ملّت نے انگلستان میں مقیم مسٹر جناح سے التماس کیا کہ وہ ہند میں واپس آکر اسلامیانِ ہند کی قیادت فرمائیں-مسٹر جناح نے یہ دعوت قبول کرلی اور ہندوستان آکر آل انڈیا مسلم لیگ کی تنظیم ِنَو کا بیڑا اٹھایا-انتہائی نا مساعد حالات میں چند پرس کے اندر کاروانِ مِلّی کی شیرازہ بندی کی اور پھر یہ کاروان اپنی منزل حُریّت،آزادی اور استقلال کی طرف بڑھتا چلا گیا‘‘-[11]

تحریک آزادی کے اس سفر میں علامہ اقبالؒ علیل ہونے کے با وجود قائد اعظمؒ کے شانہ بشانہ کھڑے رہے اور مسلم لیگ کی تشکیلِ نو میں قائد اعظمؒ کو اپنے انمول مشوروں سے (بذریعہ خطوط) نوازتے رہے-1937ء میں قائد اعظم محمد علی جناح کے نام ایک مکتوب میں اس جانب توجہ مبذول کروائی کہ مسلمانوں کی علیحدہ مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا جائے اور مسلم لیگ کی عوامی سطح پر تنظیمِ نو کی جائے-اقبالؒ نے (20 مارچ 1937ء)کےایک خط میں قائد اعظم ؒ کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ:

’’ ایشیاء میں اسلام کی سیاسی و اخلاقی قوت کے مستقبل کا انحصار بہت حد تک ہندوسانی مسلمانوں کی مکمل تنظیمِ پر ہے‘‘-[12]

قائد اعظمؒ کی سیاسی زندگی میں ان کے افکار و نظریات میں ارتقاء کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے-ان میں سب سے بڑی اور اہم نظریاتی تبدیلی ان کا ہندی قومیت سے اسلامی قومیت کی طرف رجوع اور متحدہ ہندوستان کی بجائے الگ ریاست کا مطالبہ ہے-

1936ء کے بعدقائد اعظم جناحؒ کے نظریات میں نمایاں تبدیلی نظر آتی ہے اور یہی وہ عرصہ ہےجب علامہ اقبالؒ سے ان کی خط و کتابت کا سلسلہ جاری تھاجس نے قائد اعظمؒ کو انڈین نیشنل ازم سے مسلم قومیت اور متحدہ ہندوستان سے علیحدہ ریاست کے قیام کے مطالبہ پر لاکھڑا کیا اور جناحؒ اب اپنی تقاریر، بیانات اور سیاسی جلسوں میں مسلمانوں کیلئے علیحدہ قوم (جو اقبالؒ نے خطبہ الٰہ آباد میں استعمال کیا تھا) اور متحدہ ہندوستان کی بجائے علیحدہ ریاست(اقبالؒ کا تصور) جیسی اصطلاحات استعمال کرنے لگے-

مثلاً قائد اعظم ؒ نےمسلم لیگ کے نظریہ کے متعلق جب درج ذیل بیان دیا تو وہ اقبالؒ کی اسلامی فکر اور مسلم قومیت کے جداگانہ تصور سے متاثر تھے-

“The ideology of league is based on the fundamental principle that Muslim India is an independent nationally….we are determined and let there should be no mistake about it, to establish the status of an independent nation and an independent state in this subcontinent”.[13]

’’لیگ(آل انڈیا مسلم لیگ) کے نظریے کی بنیاد اس بنیادی اصول پر ہے کہ ہندوستانی مسلمان ایک خود مختار قوم ہیں---ہم پر عزم ہیں اور برِصغیر میں ایک خود مختار قوم کی حیثیت اور آزاد ریاست کے قیام سے متعلق اب کوئی مغالطہ نہیں ہونا چاہئے‘‘-[14]

قائد اعظمؒ نے گاندھی جی کوایک خط لکھا جو ان کے تصورِ قومیت کی عکاسی کرتا ہے-اقتباس درج ذیل ہے:

’’ہم کہتے ہیں اور یہ ہمارا پختہ عقیدہ ہے کہ مسلمان اور ہندو ہر تعریف اور ہر معیار قومیت کی رو سے ہندوستان کی دو بڑی اقوام ہیں-ہم مسلمان 10 کروڑ نفوس پر مشتمل ایک قوم ہیں اور اس کے علاوہ یہ بھی کہ ہم اپنے ایک مخصوص و منفرد کلچر کے مالک ہیں-اخلاقی ضوابط و قوانین، رسم و رواج، روایات و اعتقادت، تاریخ، تعمیری اسالیب غرض زندگی کے بارے میں اور زندگی میں ہمارا اپنا ایک خاص نقطۂ نظر ہے اور بین الاقوامی قانون کی ہر تعبیر کے مطابق ہم ایک مستقل قوم ہیں‘‘-[15]

اسی طرح مسلم لیگ کے لاہور میں منعقدہ مارچ 1940ء کے تاریخی جلسہ کے اپنے خطبہ صدارت میں فرمایا کہ:

’’قومیت کی تعریف چاہے جس طرح کی جائے مسلمان اس تعریف کی روسے ایک علیحدہ قوم کی حثییت رکھتے ہیں اور اس بات کے مستحق ہیں کہ ملک میں ان کی اپنی الگ مملکت اور جداگانہ خود مختار ریاست ہو- ہم مسلمان چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے اندر ہم ایک آزاد قوم بن کر اپنے ہمسائیوں کے ساتھ ہم آہنگی اور امن  کے ساتھ زندگی بسر کریں-ہماری تمنا ہے کہ ہماری قوم اپنی روحانی، اخلاقی، اقتصادی، معاشرتی اور سیاسی زندگی کو کامل ترین نشو نما بخشے‘‘-[16]

مذکورہ بالا بیانات میں قائد اعظم ؒ اور علامہ اقبالؒ کی فکری مماثلت اور قائد اعظم ؒ کی نظریاتی تبدیلی کا واضح اور غیر مبہم اظہار ملتا ہے-

قرار دادِ پاکستان کے پس منظر میں 1935ء کا آزادی ہند ایکٹ، 1937ء کے انتخابات اور کانگریسی وزارتوں کا تذکرہ ضروری ہے- کانگریس نے آزادی ہند ایکٹ (1935ء) کی مخالفت کی کیونکہ اس میں مسلم مفادات کے تحفظ کی اہم دفعات شامل تھیں-مثلاً صوبائی خود مختاری،سندھ کو علیحدہ صوبہ کا درجہ دے دیا گیا وغیرہ-لیکن اس قانون کے تحت کانگرس نے مارچ 1937ء کے صوبائی انتخابات میں حصہ لیا اور واضح اکثریت (11میں سے 6نشستوں)سے کامیابی حاصل کرتےہوئے  8 صوبوں میں اپنی حکومت قائم کی اور اس طرح کانگریسی وزارتیں (1937ء تا 1939ء تک) بر سرِ اقتدار رہیں-ان وزارتوں نے جن نسلی و مذہبی تعصبات(واردھا سکیم،بندے ماترم گیت،گاؤکشی کا مسئلہ،ہندی کی ترویج وغیرہ) کو فروغ دیا اور مسلمانوں سے جو غیر منصفانہ رویہ (مسلم لیگ کے خاتمے کی کوشش،معاشی و معاشرتی دباؤ )اختیار کیا اس سے کانگریس کا اصل روپ پوری طرح بے نقاب ہوگیا-

ان تمام مخالفتوں اور خطرات کے باوجود آل انڈیا مسلم لیگ قائد اعظمؒ کی مخلص قیادت میں آئے روز مضبوط سے مضبوط تر جماعت بنتی چلی گئی اور مسلمان اپنے سیاسی اختلافات کو بھول کر آل انڈیا مسلم لیگ کے پرچم تلے جمع ہوتے چلے گئے اور یوں وہ دن بھی آیا جب مسلمانوں نے یوم ِنجات (دسمبر 1939ء میں)منایا-

کانگریس کیلئے اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ متحدہ ہندوستان کا خیال ہمیشہ کیلئے دل سے نکال دے اور مسلمانوں کو ایک علیحدہ قوم تسلیم کر لے-جس کا اظہار خود ایک کانگرسی رکن مسٹر این سی دت نے(جنوری 1940ء)کو اپنے ایک بیان میں کچھ اس طرح کیا کہ:

’’میرا خیال ہے کہ ہندو مسلم قضیہ کا حل یہی ہو گا کہ ہندوستان میں ہندو مسلمانوں کو دو قومیں سمجھ لیا جائے اور پھر دو قوموں کی حیثیت سے ان کے ساتھ متحدہ قومیت کا خیا ل ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دل سے نکال دیا جائے‘‘-[17]

اسی طرح ؒ بانیانِ پاکستان (قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ) کی جہدِ مسلسل رنگ لائی اور یوںمسلمانان برِصغیر کیلئےعلیحدہ اسلامی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہو گئی یوں قردادِپاکستان(23مارچ 1940ء)منعقد ہوئی جس میں اسلامیانِ ہند کیلئے علیحدہ مملکت کے مطالبے کو تسلیم کر لیا گیا اور یہ تاریخی قرار داد تاریخِ قیامِ پاکستان میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے-

٭٭٭


[1](پروفیسر فتح محمد ملک،فتنئہِ انکارِپاکستان،صفحہ 27)

[2](پروفیسر فتح محمد ملک،اقبال فراموشی،صفحہ 101،102)

[3])http://pu.edu.pk/images/journal/csas/PDF/17_v32_2_17.pdf(

[4])Stanley Wolpert, Jinnah of Pakistan, Oxford University Press(

[5](Sikandar Hayat,Aspects of the Pakistan Movement,Third Revised Expended Edition,2016,p 265)

[6](خواجہ رضی حیدر،قائد اعظم محمد علی جناح خطوط کے آئینے میں،صفحہ 22،پیس پبلیکیشنز،2015ء)

[7](مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں خطاب مورخہ 5فروری 1938ء-قائد اعظم؛تقاریر وبیانات،صفحہ 214)

[8]( خواجہ رضی حیدر،قائد اعظم محمد علی جناح خطوط کے آئینے میں،صفحہ 282،)

[9]( خواجہ رضی حیدر،قائد اعظم محمد علی جناح خطوط کے آئینے میں،صفحہ285)

[10]( پاکستان بشارات ِ اولیاء اور ہماری ذمہ داریاں، ماہنامہ مرآۃا لعارفین انٹر نیشنل، اگست 2018)

[11](پروفیسر ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار،پاکستان تصور سے حقیقت تک صفحہ 5)

[12]http://pu.edu.pk/images/journal/csas/PDF/17_v32_2_17.pdf

[13]http://www.qurtuba.edu.pk/thedialogue/The%20Dialogue/5_2/Dialogue_April_June2010_136-164.pdf

[14]http://www.qurtuba.edu.pk/thedialogue/The%20Dialogue/5_2/Dialogue_April_June2010_136-164.pdf

[15](آغا اشرف،رُدادِپاکستان،صفحہ 34،35)

[16](تصورپاکستان بانیان پاکستان کی نظر میں،صفحہ 13،شریعہ اکیڈمی ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ،اسلام آباد،پاکستان)

[17](محمد علی چراغ،پاکستان منزل بہ منزل(1901ءتا 1947ء)،صفحہ 52)

یہ نا قابلِ تردید حقیقت ہے کہ علامہ اقبال(﷫) کا خطبہ الٰہ آباد(29دسمبر 1930ء) اسلامیانِ ہند کی سیاسی و فکری تاریخ میں نہایت اہمیت کا حامل ہے اور یہ وہ بنیادی دستاویز ہے جس نے مسلمانانِ برِصغیر کو نہ صرف ایک خود مختار مملکت (پاکستان) کے وجود کا پہلا جواز فراہم کیا بلکہ ایک ایسی نظریاتی ریاست (اسلامی ریاست)کے قیام کا مطالبہ بھی ہے جس میں مسلمان تمدنی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں کیونکہ تہذیب و تمدن کی حفاظت بغیر نظریاتی ریاست کے ممکن نہیں ہے-مسلمان قوم کی اپنی ایک جداگانہ حیثیت ہے جن کی قومیت اپنی بنیاد میں رنگ، نسل، زبان اور جغرافیے کے اشتراک کی بجائے اسلام کے آفاقی و روحانی اُصولوں پر قائم ہے لیکن ان اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایک آزاد ریاست کے قیام کا مطالبہ کریں- جیسا کہ علامہ اقبالؒ خطبہ الٰہ آباد میں فرماتے ہیں :

India is the greatest Muslim country in the World. The life of Islam as a cultural force in the country very largely depends on its centralization in a specified territory.”

’’ہندوستان دنیا میں سب سے بڑا اسلامی ملک ہے-اسلام کو بحیثیت ایک تمدنی قوت کے زندہ رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کر سکے‘‘-

اس خطبہ میں اقبال (﷫) نے ’’مسلم قومیت‘‘کے جداگانہ تشخص پر ممکنہ اعتراضات کابھی تسلی بخش جواب دیا اور کمالِ استدلال سے یہ باور کرایا کہ ہندوستان کے مسلمان اپنی الگ تہذیبی شناخت رکھتے ہیں جس وجہ سے وہ اقلیت نہیں بلکہ جدید معنوں میں ایک جداگانہ قوم ہیں- پروفیسر فتح محمد ملک ہمیں تدبر دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ:

’’مسلم قومیت کی تعمیر و استحکام اورمتحدہ ہندوستانی قومیت کی تردیدکےمتعلق اقبال (﷫) کا کہنا ہے کہ برِصغیر کے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی اور منفرد تہذیب و معاشرت سراسر اسلام کے معاشرتی و روحانی اُصولوں پر مبنی ہے-اسلام سے اٹوٹ وابستگی ہی نے ہندی مسلمانوں کو ایک منتشر ہجوم سے ایک متحد و مستحکم قوم بنایا ہے-اگر وہ خدانخوستہ اسلام کے اجتماعی اُصولوں سے روگردانی کرتے ہوئے متحدہ ہندوستانی قومیت کے فریب میں مبتلا ہو گئے تو وہ پھر سے ایک منتشر ہجوم بن کررہ جائیں گے‘‘-[1]

اقبال کے نزدیک ہندوستان میں مختلف نسلوں،زبانوں اور مختلف مذاہب کے لوگ بستے ہیں جو اپنے اعمال و افعال، تہذیب و تمدن، کلچر اور اطوارِ زندگی میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں اور ان میں بقائے باہمی کیلئے ضروری ہے کہ توازنِ  اقتدار قائم کیا جائے- کیونکہ توازنِ اقتدار عمومی طور پہ ہندوستان کیلئے اور خصوصی طور پہ اسلام و اسلامیانِ ہند کیلئے تاریخ ساز مواقع پیدا کرے گا- اِس ساری صُورت حال پہ جامع تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر فتح محمد ملک لکھتے ہیں :

’’علامہ اقبالؒ نے اپنے خطبہ الٰہ آباد میں قیامِ پاکستان کو ہندوستان اور اسلام دونوں کیلئے باعثِ خیر و برکت ٹھہرایا اور فرمایا کہ پاکستان کے قیام سے ہندوستان میں اندرونی توازنِ اقتدار قائم ہو گا اور اس توازنِ اقتدار سے ہندوستان کے اندر امن قائم ہوگا اور ہندوستان کی سرحدیں محفوظ ہو جائیں گی-ساتھ ہی ساتھ اسلام کو یہ موقع نصیب ہو گا کہ وہ عرب شہنشاہیت (Arabian Imperialism) کی چھاپ سے خود کو پاک کر کے اپنی ابتدائی سادگی اور پاکیزگی کی بازیافت کر سکے- شہنشاہیت نے اسلامی قانون، اسلامی تعلیم اور اسلامی کلچر کو منجمد کر رکھا ہے-پاکستان اسلام کی ایسی تجربہ گاہ بن جائے گا جہاں شہنشاہیت کے زیر اثر پیدا ہونے والا انجماد ٹوٹ جائے گا اور قانون، تعلیم اور کلچر کی دنیا حرکت و عمل سے آشنا ہو گی-اس طرح پاکستان میں اسلام کی حقیقی روح کو از سرِ نو دریافت کر کے روحِ عصر کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے گا‘‘-[2]

اقبالؒ کے اِس تصورِ پاکستان کو حقیقت کا روپ دینے اور قافلہ کی قیادت کیلئے ایک ایسے صاحبِ بصیرت قائد کی ضرورت تھی جو ملت کے جسدِ خُفتہ و خوابیدہ میں آزادی کی تڑپ اور ولولہ پیدا کر سکے اور یہ عظیم ہستی دنیائے سیاست میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے نام سے معروف ہے جو اپنی ہمہ جہت اور کرشمہ ساز شخصیت میں جہاں ایک عبقری سیاستدان، اصول پرست قانون دان، بے باک وکیل، عظیم سیاسی مدبر، انسانی حقوق کے علمبردار، ناقابلِ تسخیر قوت ارادی، بلند پایہ ہمت، حوصلے، مومنانہ فہم و فراست اور غیر متزلزل عزم جیسےاوصاف کے مالک تھے وہیں ایک حقیقی اسلام شناس بھی تھے-

محققین کا کہنا ہے کہ اقبالؒ نے درج ذیل جملے قائد اعظم کے اعزاز میں فرمائے تھے:

For thousands of years a nation may lament and remain groping in darkness. Only then a visionary leader may be born to guide the nation”.(Ahmed, 1997:139)[3]

’’ہزاروں سال ایک قوم کے رنج و غم میں مبتلا اور اندھیرے میں گھومتے رہنے کے بعد ایک صاحبِ بصیرت لیڈر پیدا ہو تاہے جو اس قوم کی رہنمائی کرتاہے‘‘-

 معروف انگریز دانشور اور مصنف اسٹینلے وولپرٹ (Stanley Wolpert) نے قائد اعظمؒ کی عالمگیر شخصیت کو ان الفاظ میں خراج ِتحسین پیش کیا ہے:

Few individuals significantly alter the course of history. Fewer still modify the map of the world. Hardly anyone can be credited with creating a nation state. Mohammad Ali Jinnah did all three”.[4]

’’چند افراد تاریخ کا باب بدلتے ہیں -اب بھی چند ایک ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل دیتے ہیں-بڑی مشکل سے کسی ایک کے سر سہرا جاتا ہے کہ وہ ایک ’’قومی ریاست‘‘کی تخلیق کر سکے-محمد علی جناحؒ نے یہ تینوں کام سر انجام دیے‘‘-

جناحؒ کی قائدانہ صلاحیت کے متعلق جمیل الدین احمد رقم طراز ہیں:

“Jinnah was indeed the only leader of Muslim India who could always respond to Muslim interests and aspirations, and who knew “how to express the stirrings of their minds in the form of concrete propositions”.[5]

’’جناح ہندوستانی مسلمانوں کے وہ واحد رہنما ہیں جنہوں نے ہمیشہ مسلم مفاد اور تمناؤں کو مدِنظر رکھا اور وہ جانتے تھے کہ کس طرح مسلمانوں کی ذہنی فعالیت کا اظہار پختہ تجاویز کی صورت میں کیا جائے‘‘-

تاریخ برِصغیر میں قائد اعظمؒ کے سیاسی مقام و خدمات اور آپ کی کثیر الجہت شخصیت کے متعلق خواجہ رضی حیدر لکھتے ہیں کہ:

’’برصغیر کی جدید تاریخ میں سیاسی خدمات کے اعتبار سے قائد اعظم محمد علی جناح جس مقام و مرتبہ پر فائز ہیں وہ مقام اس خطۂ ارضی پر کسی اور سیاسی رہنما کو حاصل نہیں ہوا- فراست، راست گوئی، ضبط وتحمل، دور بینی و پیش بینی، عالی حوصلگی و خود اعتمادی، استقلال و استقامت، ذاتی اور قومی معاملات میں صداقت،نجی و اجتماعی زندگی میں پاکیزگی، نفاست و شائستگی جیسے اوصاف ان کی فطرت ثانیہ بن گئے تھے-جناح ایک منطقی انسان تھے،اس لئے احتجاجی شور و غوغا سے زیادہ استدلال پر یقین رکھتے تھے‘‘-[6]

جب قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ نے میدانِ سیاست میں قدم رکھا تو ابتداء میں دونوں کا سیاسی رجحان وطنی قومیت(یعنی مغربی نیشنلزم کی تقلید میں ہندی وطنیّت ) تھا- مگر اقبال نے جلد ہی اس لسانی، نسلی و جغرافیائی بنیادوں پر مبنی مادہ پرستانہ تصورِ وطنیت کو اپنی مومنانہ بصیرت سے بھانپ لیا اور اس سے رجوع کر لیا لیکن جناح ؒ ابھی تک متحدہ ہندوستانی قومیت (وطنی قومیت) کے حامی تھے اور عملی سیاست میں دادا بھائی نورو جی، سریندر نارتھ، سی-آر داس اور کرشن گوپال گھوکلے جیسے اعتدال پسند سیاسی قائدین کے ساتھ شانہ بشانہ ملکی سیاست میں گامزنِ سفر تھے اور ’ہندو مسلم اتحاد‘ کے سفیر کی حثییت سے کانگریس اور مسلم لیگ میں مفاہمت کیلئے کوشاں تھے تو ایک طویل عرصے (یعنی نہرو رپورٹ 1928ءتک) علامہ اقبال ؒ اور مسٹر جناح کے سیاسی افکار کی راہیں جُدا جُدا بلکہ بعض دفعہ بالکل مخالف سمت پر رہیں- یہ فاصلے قائد اعظمؒ کے مشہور 14 نکات (مارچ 1929ءکے موقع پر ختم ہوئے اور یوں دونوں(اقبالؒ اورجناحؒ) کی ذہنی و فکری قربت بڑھنے لگی-

لندن میں پہلی گول میز کانفرنس 12 نومبر  1930ء کو منعقد ہوئی جس میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سپہ سالار قائداعظمؒ اپنے چند لیگی رفقاء کے ساتھ شرکت کیلئے لندن روانہ ہوئےجبکہ اس کانفرنس میں اقبالؒ مدعو نہیں تھے جس کا خلا قائد اعظم ؒنے محسوس کیا اور مسلم لیگ کے اجلاس میں علامہ اقبالؒ کا نام آئندہ آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس 1930ء کیلئے بطورِ صدر نامزد کروایا اور اقبال ؒنے اس اجلاس (الٰہ آبادمیں)اپنامذکورہ بالا شُہرہ آفاق تاریخی خطبہ الٰہ آباد پیش کیا - گول میز کانفرنس میں مسلمانوں کے مطالبات تسلیم نہ ہونے اور ہندو ذہنیت اور رویے کی وجہ سے دلبرداشتہ ہوکر قائد اعظم ہندوستان چھوڑ کر لندن چلے گئے-کئی برس بعد ایک بیان میں انہوں نے اپنی ذہنی کیفیت کچھ اس طرح بیان کی ہے جس میں ان کی ہندوستان چھوڑ کر لندن سکونت اختیار کرنے کی وجہ واضح ہوتی ہے:

’’میں نے مفاہمت کرنے کیلئے اس قدر مسلسل کام کیا کہ ایک اخبار نے لکھا کہ مسٹر جناح ہندو مسلم اتحاد کی کوشش سے کبھی تھکتے نہیں-لیکن گول میز کانفرنس کے جلسوں میں ایسا دھچکا لگا جو زندگی میں پہلے کبھی نہ لگا تھا- خطرے کے سامنے ہندو جذبہ، ہندو ذہن اور ہندو رویے نے مجھے اس نتیجے پر پہنچا دیا کہ اتحاد کی کوئی امید نہیں-مجھے اپنے ملک کے بارے میں سخت مایوسی کا احساس ہوا-صورتحال بہت افسوس ناک تھی--!مَیں نے یہ محسوس کرنا شروع کردیا کہ نہ تو مَیں ہندوستان کی کوئی مدد کر سکتا ہوں اورنہ ہی مسلمانوں کو یہ احساس دلاسکتا ہوں کہ وہ کس درجہ سنگین صورتحال سے دوچار ہیں-مجھے اس قدر مایوسی ہوئی اور مَیں اتنا آزردہ ہوا کہ مَیں نے لندن میں سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا‘‘-[7]

آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے اقبال ؒجب دوسری گول میز کانفرنس(1932ء) میں شرکت کیلئے لندن تشریف لے گئے تو وہاں ان کی ملاقات محمد علی جناحؒ سے ہوئی جس میں انہیں ایک دوسرے کے نظریات جاننے اور سمجھنے کا موقع ملا- اقبالؒ نے مسٹر جناح کو برِصغیر کے مسلمانوں کی سیا سی صورتِحال سے آگاہ کیا اور اس بات پر قائل کیا کہ وہ انڈیا واپس آکر مسلمانانِ برصغیر کی قیادت سنبھالیں اور مسلمانوں کو برطانوی نوآبادیاتی نظام سے آزادی دلانے، غفلت کی نیند سے جگانے اور متحد کرنے کیلئے اسلامی اصولوں اور تعلیمات کے مطابق جہدِ آزادی کی تلقین کریں- اقبالؒ جانتے تھے کہ اسلامیان ِہند کو ان سنگین حالات میں اگر کوئی شخص استعمار کی غلامی سے نجات دلاسکتا ہے تو وہ مسٹر جناح ہیں- خواجہ رضی حیدر لکھتے ہیں :

’’1935ء میں قائد اعظم محمد علی جناح ؒکی لندن سے حتمی واپسی کے بعد علامہ اقبال  اور قائد اعظم کے تعلقات کا تاریخی دور شروع ہوتا ہے جس میں علامہ اقبالؒ نے بذریعہ مراسلت ہندوستان کے ملی، ثقافتی اور آئینی مسائل پر تبادلۂ خیال کیا ہے-اقبال کے خطوط قائد اعظم محمد علی جناح کے نام جہاں مفکرِ پاکستان اور قائد کے درمیان تعلقات کا بیّن ثبوت ہیں وہاں برِصغیر پاک و ہند کے ایک خاص عہد کے سیاسی حالات اور مسائل پر بھی گہری روشنی ڈالتے ہیں‘‘-[8]

1937ء کے بعد اقبالؒ نے قائد اعظم کو جو خطوط لکھےان میں مختلف آراء اور تجاویز پیش کیں جس کا عملی اظہار وقتاً فوقتاً جناح ؒ کی سیاسی سرگرمیوں میں ہوتا ہے -ان خطوط میں اقبالؒ نے یہ بھی ذکر کیا کہ اس وقت آپ وہ واحد مسلم رہنما ہیں جو مسلمانانِ برصغیر کی قیادت کرتے ہوئے انہیں سیاسی بحران کے طوفان سے نجات دلا سکتے ہیں- اس بات کی وضاحت علامہ اقبالؒ بنام جناحؒ ایک مکتوب(21جون،1937ء) میں ہوتی ہے جس میں اقبالؒ نےجناحؒ پراپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ :

’’اس وقت جو طوفان شمال مغربی ہندوستان اور شاید پورے ہندوستان میں برپا ہونے والاہےاس میں صرف آپ ہی کی ذاتِ گرامی سے قوم محفوظ رہنمائی کی توقع کا حق رکھتی ہے‘‘-[9]

قائد اعظمؒ کی لندن سے واپسی کا ایک اہم بنیادی سبب یہ بھی ہے کہ جب وہ قیام ِلندن کے دوران اپنے فلیٹ میں مقیم تھے تو ایک شب حضور رسالت مآب (ﷺ)نےآپؒ کو خواب میں زیارت کا شرف بخشا اورحکم فرمایا کہ :

’’مسٹر جناح برِصغیر کے مسلمانوں کو تمہاری فوری ضرورت ہے اور مَیں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تحریکِ آزادی کی قیادت کرو، مَیں تمہارے ساتھ ہوں تم بالکل فکر نہ کرو، انشاء اللہ! تم اپنے مقصد میں کامیاب رہوگے‘‘-[10]

واقعہ طویل تھا اسی لئے خوف ِطوالت کی وجہ سے اصل مدعا(حضورنبی کریم (ﷺ)کا قائداعظم کو خواب میں کیا گیا فرمان مبارک) نقل کردیا-

مسلمانوں کی سیاسی صورتحال، گول میز کانفرنس کے نتائج، قائد اعظمؒ کی لندن سے واپسی اور مسلم لیگ کی تنظیمِ نو کی واضح جھلک ہم درج ذیل پیرائے میں دیکھ سکتے ہیں-

’’بیسویں صدی کا چوتھا عشرہ برصغیر ہند کے سیاسی و دستوری ارتقاء میں بہت نازک مرحلہ تھا جبکہ اسلامیانِ ہند سخت انتشار و افترق میں مبتلا تھے-گول میز کانفرنس کے نتیجے میں کمیونل ایوارڈ،صوبائی خود مختاری،قانونِ ہند کے 1935ء کی صورت میں سامنے آچکا تھا، جس کی تکمیل پر برِّصغیر کے آئندہ مقدر کا فیصلہ ہونا تھا-اس نازک مرحلے میں اقبال اور چند دوسرے درد مندانِ ملّت نے انگلستان میں مقیم مسٹر جناح سے التماس کیا کہ وہ ہند میں واپس آکر اسلامیانِ ہند کی قیادت فرمائیں-مسٹر جناح نے یہ دعوت قبول کرلی اور ہندوستان آکر آل انڈیا مسلم لیگ کی تنظیم ِنَو کا بیڑا اٹھایا-انتہائی نا مساعد حالات میں چند پرس کے اندر کاروانِ مِلّی کی شیرازہ بندی کی اور پھر یہ کاروان اپنی منزل حُریّت،آزادی اور استقلال کی طرف بڑھتا چلا گیا‘‘-[11]

تحریک آزادی کے اس سفر میں علامہ اقبالؒ علیل ہونے کے با وجود قائد اعظمؒ کے شانہ بشانہ کھڑے رہے اور مسلم لیگ کی تشکیلِ نو میں قائد اعظمؒ کو اپنے انمول مشوروں سے (بذریعہ خطوط) نوازتے رہے-1937ء میں قائد اعظم محمد علی جناح کے نام ایک مکتوب میں اس جانب توجہ مبذول کروائی کہ مسلمانوں کی علیحدہ مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا جائے اور مسلم لیگ کی عوامی سطح پر تنظیمِ نو کی جائے-اقبالؒ نے (20 مارچ 1937ء)کےایک خط میں قائد اعظم ؒ کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ:

’’ ایشیاء میں اسلام کی سیاسی و اخلاقی قوت کے مستقبل کا انحصار بہت حد تک ہندوسانی مسلمانوں کی مکمل تنظیمِ پر ہے‘‘-[12]

قائد اعظمؒ کی سیاسی زندگی میں ان کے افکار و نظریات میں ارتقاء کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے-ان میں سب سے بڑی اور اہم نظریاتی تبدیلی ان کا ہندی قومیت سے اسلامی قومیت کی طرف رجوع اور متحدہ ہندوستان کی بجائے الگ ریاست کا مطالبہ ہے-

1936ء کے بعدقائد اعظم جناحؒ کے نظریات میں نمایاں تبدیلی نظر آتی ہے اور یہی وہ عرصہ ہےجب علامہ اقبالؒ سے ان کی خط و کتابت کا سلسلہ جاری تھاجس نے قائد اعظمؒ کو انڈین نیشنل ازم سے مسلم قومیت اور متحدہ ہندوستان سے علیحدہ ریاست کے قیام کے مطالبہ پر لاکھڑا کیا اور جناحؒ اب اپنی تقاریر، بیانات اور سیاسی جلسوں میں مسلمانوں کیلئے علیحدہ قوم (جو اقبالؒ نے خطبہ الٰہ آباد میں استعمال کیا تھا) اور متحدہ ہندوستان کی بجائے علیحدہ ریاست(اقبالؒ کا تصور) جیسی اصطلاحات استعمال کرنے لگے-

مثلاً قائد اعظم ؒ نےمسلم لیگ کے نظریہ کے متعلق جب درج ذیل بیان دیا تو وہ اقبالؒ کی اسلامی فکر اور مسلم قومیت کے جداگانہ تصور سے متاثر تھے-

“The ideology of league is based on the fundamental principle that Muslim India is an independent nationally….we are determined and let there should be no mistake about it, to establish the status of an independent nation and an independent state in this subcontinent”.[13]

’’لیگ(آل انڈیا مسلم لیگ) کے نظریے کی بنیاد اس بنیادی اصول پر ہے کہ ہندوستانی مسلمان ایک خود مختار قوم ہیں---ہم پر عزم ہیں اور برِصغیر میں ایک خود مختار قوم کی حیثیت اور آزاد ریاست کے قیام سے متعلق اب کوئی مغالطہ نہیں ہونا چاہئے‘‘-[14]

قائد اعظمؒ نے گاندھی جی کوایک خط لکھا جو ان کے تصورِ قومیت کی عکاسی کرتا ہے-اقتباس درج ذیل ہے:

’’ہم کہتے ہیں اور یہ ہمارا پختہ عقیدہ ہے کہ مسلمان اور ہندو ہر تعریف اور ہر معیار قومیت کی رو سے ہندوستان کی دو بڑی اقوام ہیں-ہم مسلمان 10 کروڑ نفوس پر مشتمل ایک قوم ہیں اور اس کے علاوہ یہ بھی کہ ہم اپنے ایک مخصوص و منفرد کلچر کے مالک ہیں-اخلاقی ضوابط و قوانین، رسم و رواج، روایات و اعتقادت، تاریخ، تعمیری اسالیب غرض زندگی کے بارے میں اور زندگی میں ہمارا اپنا ایک خاص نقطۂ نظر ہے اور بین الاقوامی قانون کی ہر تعبیر کے مطابق ہم ایک مستقل قوم ہیں‘‘-[15]

اسی طرح مسلم لیگ کے لاہور میں منعقدہ مارچ 1940ء کے تاریخی جلسہ کے اپنے خطبہ صدارت میں فرمایا کہ:

’’قومیت کی تعریف چاہے جس طرح کی جائے مسلمان اس تعریف کی روسے ایک علیحدہ قوم کی حثییت رکھتے ہیں اور اس بات کے مستحق ہیں کہ ملک میں ان کی اپنی الگ مملکت اور جداگانہ خود مختار ریاست ہو- ہم مسلمان چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے اندر ہم ایک آزاد قوم بن کر اپنے ہمسائیوں کے ساتھ ہم آہنگی اور امن  کے ساتھ زندگی بسر کریں-ہماری تمنا ہے کہ ہماری قوم اپنی روحانی، اخلاقی، اقتصادی، معاشرتی اور سیاسی زندگی کو کامل ترین نشو نما بخشے‘‘-[16]

مذکورہ بالا بیانات میں قائد اعظم ؒ اور علامہ اقبالؒ کی فکری مماثلت اور قائد اعظم ؒ کی نظریاتی تبدیلی کا واضح اور غیر مبہم اظہار ملتا ہے-

قرار دادِ پاکستان کے پس منظر میں 1935ء کا آزادی ہند ایکٹ، 1937ء کے انتخابات اور کانگریسی وزارتوں کا تذکرہ ضروری ہے- کانگریس نے آزادی ہند ایکٹ (1935ء) کی مخالفت کی کیونکہ اس میں مسلم مفادات کے تحفظ کی اہم دفعات شامل تھیں-مثلاً صوبائی خود مختاری،سندھ کو علیحدہ صوبہ کا درجہ دے دیا گیا وغیرہ-لیکن اس قانون کے تحت کانگرس نے مارچ 1937ء کے صوبائی انتخابات میں حصہ لیا اور واضح اکثریت (11میں سے 6نشستوں)سے کامیابی حاصل کرتےہوئے  8 صوبوں میں اپنی حکومت قائم کی اور اس طرح کانگریسی وزارتیں (1937ء تا 1939ء تک) بر سرِ اقتدار رہیں-ان وزارتوں نے جن نسلی و مذہبی تعصبات(واردھا سکیم،بندے ماترم گیت،گاؤکشی کا مسئلہ،ہندی کی ترویج وغیرہ) کو فروغ دیا اور مسلمانوں سے جو غیر منصفانہ رویہ (مسلم لیگ کے خاتمے کی کوشش،معاشی و معاشرتی دباؤ )اختیار کیا اس سے کانگریس کا اصل روپ پوری طرح بے نقاب ہوگیا-

ان تمام مخالفتوں اور خطرات کے باوجود آل انڈیا مسلم لیگ قائد اعظمؒ کی مخلص قیادت میں آئے روز مضبوط سے مضبوط تر جماعت بنتی چلی گئی اور مسلمان اپنے سیاسی اختلافات کو بھول کر آل انڈیا مسلم لیگ کے پرچم تلے جمع ہوتے چلے گئے اور یوں وہ دن بھی آیا جب مسلمانوں نے یوم ِنجات (دسمبر 1939ء میں)منایا-

کانگریس کیلئے اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ متحدہ ہندوستان کا خیال ہمیشہ کیلئے دل سے نکال دے اور مسلمانوں کو ایک علیحدہ قوم تسلیم کر لے-جس کا اظہار خود ایک کانگرسی رکن مسٹر این سی دت نے(جنوری 1940ء)کو اپنے ایک بیان میں کچھ اس طرح کیا کہ:

’’میرا خیال ہے کہ ہندو مسلم قضیہ کا حل یہی ہو گا کہ ہندوستان میں ہندو مسلمانوں کو دو قومیں سمجھ لیا جائے اور پھر دو قوموں کی حیثیت سے ان کے ساتھ متحدہ قومیت کا خیا ل ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دل سے نکال دیا جائے‘‘-[17]

اسی طرح ؒ بانیانِ پاکستان (قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ) کی جہدِ مسلسل رنگ لائی اور یوںمسلمانان برِصغیر کیلئےعلیحدہ اسلامی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہو گئی یوں قردادِپاکستان(23مارچ 1940ء)منعقد ہوئی جس میں اسلامیانِ ہند کیلئے علیحدہ مملکت کے مطالبے کو تسلیم کر لیا گیا اور یہ تاریخی قرار داد تاریخِ قیامِ پاکستان میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے-

٭٭٭

 


[1](پروفیسر فتح محمد ملک،فتنئہِ انکارِپاکستان،صفحہ 27)

[2](پروفیسر فتح محمد ملک،اقبال فراموشی،صفحہ 101،102)

[3])http://pu.edu.pk/images/journal/csas/PDF/17_v32_2_17.pdf(

[4])Stanley Wolpert, Jinnah of Pakistan, Oxford University Press(

[5](Sikandar Hayat,Aspects of the Pakistan Movement,Third Revised Expended Edition,2016,p 265)

[6](خواجہ رضی حیدر،قائد اعظم محمد علی جناح خطوط کے آئینے میں،صفحہ 22،پیس پبلیکیشنز،2015ء)

[7](مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں خطاب مورخہ 5فروری 1938ء-قائد اعظم؛تقاریر وبیانات،صفحہ 214)

[8]( خواجہ رضی حیدر،قائد اعظم محمد علی جناح خطوط کے آئینے میں،صفحہ 282،)

[9]( خواجہ رضی حیدر،قائد اعظم محمد علی جناح خطوط کے آئینے میں،صفحہ285)

[10]( پاکستان بشارات ِ اولیاء اور ہماری ذمہ داریاں، ماہنامہ مرآۃا لعارفین انٹر نیشنل، اگست 2018)

[11](پروفیسر ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار،پاکستان تصور سے حقیقت تک صفحہ 5)

[12]http://pu.edu.pk/images/journal/csas/PDF/17_v32_2_17.pdf

[13]http://www.qurtuba.edu.pk/thedialogue/The%20Dialogue/5_2/Dialogue_April_June2010_136-164.pdf

[14]http://www.qurtuba.edu.pk/thedialogue/The%20Dialogue/5_2/Dialogue_April_June2010_136-164.pdf

[15](آغا اشرف،رُدادِپاکستان،صفحہ 34،35)

[16](تصورپاکستان بانیان پاکستان کی نظر میں،صفحہ 13،شریعہ اکیڈمی ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ،اسلام آباد،پاکستان)

[17](محمد علی چراغ،پاکستان منزل بہ منزل(1901ءتا 1947ء)،صفحہ 52)

یہ نا قابلِ تردید حقیقت ہے کہ علامہ اقبالؒ کا خطبہ الٰہ آباد(29دسمبر 1930ء) اسلامیانِ ہند کی سیاسی و فکری تاریخ میں نہایت اہمیت کا حامل ہے اور یہ وہ بنیادی دستاویز ہے جس نے مسلمانانِ برِصغیر کو نہ صرف ایک خود مختار مملکت (پاکستان) کے وجود کا پہلا جواز فراہم کیا بلکہ ایک ایسی نظریاتی ریاست (اسلامی ریاست)کے قیام کا مطالبہ بھی ہے جس میں مسلمان تمدنی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں کیونکہ تہذیب و تمدن کی حفاظت بغیر نظریاتی ریاست کے ممکن نہیں ہے-مسلمان قوم کی اپنی ایک جدا گانہ حیثیت ہے جن کی قومیت اپنی بنیاد میں رنگ، نسل، زبان اور جغرافیے کے اشتراک کی بجائے اسلام کے آفاقی و روحانی اُصولوں پر قائم ہے لیکن ان اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایک آزاد ریاست کے قیام کا مطالبہ کریں- جیسا کہ علامہ اقبالؒ خطبہ الٰہ آباد میں فرماتے ہیں :

India is the greatest Muslim country in the World. The life of Islam as a cultural force in the country very largely depends on its centralization in a specified territory.”

’’ہندوستان دنیا میں سب سے بڑا اسلامی ملک ہے-اسلام کو بحیثیت ایک تمدنی قوت کے زندہ رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کر سکے‘‘-

اس خطبہ میں اقبالؒ نے ’’مسلم قومیت‘‘کے جداگانہ تشخص پر ممکنہ اعتراضات کابھی تسلی بخش جواب دیا اور کمالِ استدلال سے یہ باور کرایا کہ ہندوستان کے مسلمان اپنی الگ تہذیبی شناخت رکھتے ہیں جس وجہ سے وہ اقلیت نہیں بلکہ جدید معنوں میں ایک جداگانہ قوم ہیں- پروفیسر فتح محمد ملک ہمیں تدبر دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ:

’’مسلم قومیت کی تعمیر و استحکام اورمتحدہ ہندوستانی قومیت کی تردیدکےمتعلق اقبالؒ کا کہنا ہے کہ برِصغیر کے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی اور منفرد تہذیب و معاشرت سراسر اسلام کے معاشرتی و روحانی اُصولوں پر مبنی ہے-اسلام سے اٹوٹ وابستگی ہی نے ہندی مسلمانوں کو ایک منتشر ہجوم سے ایک متحد و مستحکم قوم بنایا ہے-اگر وہ خدانخوستہ اسلام کے اجتماعی اُصولوں سے روگردانی کرتے ہوئے متحدہ ہندوستانی قومیت کے فریب میں مبتلا ہو گئے تو وہ پھر سے ایک منتشر ہجوم بن کررہ جائیں گے‘‘-[1]

اقبال کے نزدیک ہندوستان میں مختلف نسلوں،زبانوں اور مختلف مذاہب کے لوگ بستے ہیں جو اپنے اعمال و افعال، تہذیب و تمدن، کلچر اور اطوارِ زندگی میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں اور ان میں بقائے باہمی کیلئے ضروری ہے کہ توازنِ  اقتدار قائم کیا جائے- کیونکہ توازنِ اقتدار عمومی طور پہ ہندوستان کیلئے اور خصوصی طور پہ اسلام و اسلامیانِ ہند کیلئے تاریخ ساز مواقع پیدا کرے گا- اِس ساری صُورت حال پہ جامع تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر فتح محمد ملک لکھتے ہیں :

’’علامہ اقبالؒ نے اپنے خطبہ الٰہ آباد میں قیامِ پاکستان کو ہندوستان اور اسلام دونوں کیلئے باعثِ خیر و برکت ٹھہرایا اور فرمایا کہ پاکستان کے قیام سے ہندوستان میں اندرونی توازنِ اقتدار قائم ہو گا اور اس توازنِ اقتدار سے ہندوستان کے اندر امن قائم ہوگا اور ہندوستان کی سرحدیں محفوظ ہو جائیں گی-ساتھ ہی ساتھ اسلام کو یہ موقع نصیب ہو گا کہ وہ عرب شہنشاہیت (Arabian Imperialism) کی چھاپ سے خود کو پاک کر کے اپنی ابتدائی سادگی اور پاکیزگی کی بازیافت کر سکے- شہنشاہیت نے اسلامی قانون، اسلامی تعلیم اور اسلامی کلچر کو منجمد کر رکھا ہے-پاکستان اسلام کی ایسی تجربہ گاہ بن جائے گا جہاں شہنشاہیت کے زیر اثر پیدا ہونے والا انجماد ٹوٹ جائے گا اور قانون، تعلیم اور کلچر کی دنیا حرکت و عمل سے آشنا ہو گی-اس طرح پاکستان میں اسلام کی حقیقی روح کو از سرِ نو دریافت کر کے روحِ عصر کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے گا‘‘-[2]

اقبالؒ کے اِس تصورِ پاکستان کو حقیقت کا روپ دینے اور قافلہ کی قیادت کیلئے ایک ایسے صاحبِ بصیرت قائد کی ضرورت تھی جو ملت کے جسدِ خُفتہ و خوابیدہ میں آزادی کی تڑپ اور ولولہ پیدا کر سکے اور یہ عظیم ہستی دنیائے سیاست میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے نام سے معروف ہے جو اپنی ہمہ جہت اور کرشمہ ساز شخصیت میں جہاں ایک عبقری سیاستدان، اصول پرست قانون دان، بے باک وکیل، عظیم سیاسی مدبر، انسانی حقوق کے علمبردار، ناقابلِ تسخیر قوت ارادی، بلند پایہ ہمت، حوصلے، مومنانہ فہم و فراست اور غیر متزلزل عزم جیسےاوصاف کے مالک تھے وہیں ایک حقیقی اسلام شناس بھی تھے-

محققین کا کہنا ہے کہ اقبالؒ نے درج ذیل جملے قائد اعظم کے اعزاز میں فرمائے تھے:

For thousands of years a nation may lament and remain groping in darkness. Only then a visionary leader may be born to guide the nation”. (Ahmed, 1997:139)[3]

’’ہزاروں سال ایک قوم کے رنج و غم میں مبتلا اور اندھیرے میں گھومتے رہنے کے بعد ایک صاحبِ بصیرت لیڈر پیدا ہو تاہے جو اس قوم کی رہنمائی کرتاہے‘‘-

 معروف انگریز دانشور اور مصنف اسٹینلے وولپرٹ (Stanley Wolpert) نے قائد اعظمؒ کی عالمگیر شخصیت کو ان الفاظ میں خراج ِتحسین پیش کیا ہے:

Few individuals significantly alter the course of history. Fewer still modify the map of the world. Hardly anyone can be credited with creating a nation state. Mohammad Ali Jinnah did all three”.[4]

’’چند افراد تاریخ کا باب بدلتے ہیں -اب بھی چند ایک ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل دیتے ہیں-بڑی مشکل سے کسی ایک کے سر سہرا جاتا ہے کہ وہ ایک ’’قومی ریاست‘‘کی تخلیق کر سکے-محمد علی جناحؒ نے یہ تینوں کام سر انجام دیے‘‘-

جناحؒ کی قائدانہ صلاحیت کے متعلق جمیل الدین احمد رقم طراز ہیں:

“Jinnah was indeed the only leader of Muslim India who could always respond to Muslim interests and aspirations, and who knew “how to express the stirrings of their minds in the form of concrete propositions”.[5]

’’جناح ہندوستانی مسلمانوں کے وہ واحد رہنما ہیں جنہوں نے ہمیشہ مسلم مفاد اور تمناؤں کو مدِنظر رکھا اور وہ جانتے تھے کہ کس طرح مسلمانوں کی ذہنی فعالیت کا اظہار پختہ تجاویز کی صورت میں کیا جائے‘‘-

تاریخ برِصغیر میں قائد اعظمؒ کے سیاسی مقام و خدمات اور آپ کی کثیر الجہت شخصیت کے متعلق خواجہ رضی حیدر لکھتے ہیں کہ:

’’برصغیر کی جدید تاریخ میں سیاسی خدمات کے اعتبار سے قائد اعظم محمد علی جناح جس مقام و مرتبہ پر فائز ہیں وہ مقام اس خطۂ ارضی پر کسی اور سیاسی رہنما کو حاصل نہیں ہوا- فراست، راست گوئی، ضبط وتحمل، دور بینی و پیش بینی، عالی حوصلگی و خود اعتمادی، استقلال و استقامت، ذاتی اور قومی معاملات میں صداقت، نجی و اجتماعی زندگی میں پاکیزگی،  نفاست و شائستگی جیسے اوصاف ان کی فطرت ثانیہ بن گئے تھے-جناح ایک منطقی انسان تھے،اس لئے احتجاجی شور و غوغا سے زیادہ استدلال پر یقین رکھتے تھے‘‘-[6]

جب قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ نے میدانِ سیاست میں قدم رکھا تو ابتداء میں دونوں کا سیاسی رجحان وطنی قومیت(یعنی مغربی نیشنلزم کی تقلید میں ہندی وطنیّت ) تھا- مگر اقبال نے جلد ہی اس لسانی، نسلی و جغرافیائی بنیادوں پر مبنی مادہ پرستانہ تصورِ وطنیت کو اپنی مومنانہ بصیرت سے بھانپ لیا اور اس سے رجوع کر لیا لیکن جناح ؒ ابھی تک متحدہ ہندوستانی قومیت (وطنی قومیت) کے حامی تھے اور عملی سیاست میں دادا بھائی نورو جی، سریندر نارتھ، سی-آر داس اور کرشن گوپال گھوکلے جیسے اعتدال پسند سیاسی قائدین کے ساتھ شانہ بشانہ ملکی سیاست میں گامزنِ سفر تھے اور ’ہندو مسلم اتحاد‘ کے سفیر کی حثییت سے کانگریس اور مسلم لیگ میں مفاہمت کیلئے کوشاں تھے تو ایک طویل عرصے (یعنی نہرو رپورٹ 1928ءتک) علامہ اقبال ؒ اور مسٹر جناح کے سیاسی افکار کی راہیں جُدا جُدا بلکہ بعض دفعہ بالکل مخالف سمت پر رہیں- یہ فاصلے قائد اعظمؒ کے مشہور 14 نکات (مارچ 1929ء)  کے موقع پر ختم ہوئے اور یوں دونوں(اقبالؒ اورجناحؒ) کی ذہنی و فکری قربت بڑھنے لگی-

لندن میں پہلی گول میز کانفرنس 12 نومبر  1930ء کو منعقد ہوئی جس میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سپہ سالار قائداعظمؒ اپنے چند لیگی رفقاء کے ساتھ شرکت کیلئے لندن روانہ ہوئےجبکہ اس کانفرنس میں اقبالؒ مدعو نہیں تھے جس کا خلا قائد اعظم ؒنے محسوس کیا اور مسلم لیگ کے اجلاس میں علامہ اقبالؒ کا نام آئندہ آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس 1930ء کیلئے بطورِ صدر نامزد کروایا اور اقبال ؒنے اس اجلاس (الٰہ آبادمیں)اپنامذکورہ بالا شُہرہ آفاق تاریخی خطبہ الٰہ آباد پیش کیا - گول میز کانفرنس میں مسلمانوں کے مطالبات تسلیم نہ ہونے اور ہندو ذہنیت اور رویے کی وجہ سے دلبرداشتہ ہوکر قائد اعظم ہندوستان چھوڑ کر لندن چلے گئے-کئی برس بعد ایک بیان میں انہوں نے اپنی ذہنی کیفیت کچھ اس طرح بیان کی ہے جس میں ان کی ہندوستان چھوڑ کر لندن سکونت اختیار کرنے کی وجہ واضح ہوتی ہے:

’’میں نے مفاہمت کرنے کیلئے اس قدر مسلسل کام کیا کہ ایک اخبار نے لکھا کہ مسٹر جناح ہندو مسلم اتحاد کی کوشش سے کبھی تھکتے نہیں-لیکن گول میز کانفرنس کے جلسوں میں ایسا دھچکا لگا جو زندگی میں پہلے کبھی نہ لگا تھا- خطرے کے سامنے ہندو جذبہ، ہندو ذہن اور ہندو رویے نے مجھے اس نتیجے پر پہنچا دیا کہ اتحاد کی کوئی امید نہیں-مجھے اپنے ملک کے بارے میں سخت مایوسی کا احساس ہوا-صورتحال بہت افسوس ناک تھی--!مَیں نے یہ محسوس کرنا شروع کردیا کہ نہ تو مَیں ہندوستان کی کوئی مدد کر سکتا ہوں اورنہ ہی مسلمانوں کو یہ احساس دلاسکتا ہوں کہ وہ کس درجہ سنگین صورتحال سے دوچار ہیں-مجھے اس قدر مایوسی ہوئی اور مَیں اتنا آزردہ ہوا کہ مَیں نے لندن میں سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا‘‘-[7]

آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے اقبال ؒجب دوسری گول میز کانفرنس(1932ء) میں شرکت کیلئے لندن تشریف لے گئے تو وہاں ان کی ملاقات محمد علی جناحؒ سے ہوئی جس میں انہیں ایک دوسرے کے نظریات جاننے اور سمجھنے کا موقع ملا- اقبالؒ نے مسٹر جناح کو برِصغیر کے مسلمانوں کی سیا سی صورتِحال سے آگاہ کیا اور اس بات پر قائل کیا کہ وہ انڈیا واپس آکر مسلمانانِ برصغیر کی قیادت سنبھالیں اور مسلمانوں کو برطانوی نوآبادیاتی نظام سے آزادی دلانے، غفلت کی نیند سے جگانے اور متحد کرنے کیلئے اسلامی اصولوں اور تعلیمات کے مطابق جہدِ آزادی کی تلقین کریں- اقبالؒ جانتے تھے کہ اسلامیان ِہند کو ان سنگین حالات میں اگر کوئی شخص استعمار کی غلامی سے نجات دلاسکتا ہے تو وہ مسٹر جناح ہیں- خواجہ رضی حیدر لکھتے ہیں :

’’1935ء میں قائد اعظم محمد علی جناح ؒکی لندن سے حتمی واپسی کے بعد علامہ اقبال  اور قائد اعظم کے تعلقات کا تاریخی دور شروع ہوتا ہے جس میں علامہ اقبالؒ نے بذریعہ مراسلت ہندوستان کے ملی، ثقافتی اور آئینی مسائل پر تبادلۂ خیال کیا ہے-اقبال کے خطوط قائد اعظم محمد علی جناح کے نام جہاں مفکرِ پاکستان اور قائد کے درمیان تعلقات کا بیّن ثبوت ہیں وہاں برِصغیر پاک و ہند کے ایک خاص عہد کے سیاسی حالات اور مسائل پر بھی گہری روشنی ڈالتے ہیں‘‘-[8]

1937ء کے بعد اقبالؒ نے قائد اعظم کو جو خطوط لکھےان میں مختلف آراء اور تجاویز پیش کیں جس کا عملی اظہار وقتاً فوقتاً جناح ؒ کی سیاسی سرگرمیوں میں ہوتا ہے -ان خطوط میں اقبالؒ نے یہ بھی ذکر کیا کہ اس وقت آپ وہ واحد مسلم رہنما ہیں جو مسلمانانِ برصغیر کی قیادت کرتے ہوئے انہیں سیاسی بحران کے طوفان سے نجات دلا سکتے ہیں- اس بات کی وضاحت علامہ اقبالؒ بنام جناحؒ ایک مکتوب(21جون،1937ء) میں ہوتی ہے جس میں اقبالؒ نےجناحؒ پراپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ :

’’اس وقت جو طوفان شمال مغربی ہندوستان اور شاید پورے ہندوستان میں برپا ہونے والاہےاس میں صرف آپ ہی کی ذاتِ گرامی سے قوم محفوظ رہنمائی کی توقع کا حق رکھتی ہے‘‘-[9]

قائد اعظمؒ کی لندن سے واپسی کا ایک اہم بنیادی سبب یہ بھی ہے کہ جب وہ قیام ِلندن کے دوران اپنے فلیٹ میں مقیم تھے تو ایک شب حضور رسالت مآب (ﷺ)نےآپؒ کو خواب میں زیارت کا شرف بخشا اورحکم فرمایا کہ :

’’مسٹر جناح برِصغیر کے مسلمانوں کو تمہاری فوری ضرورت ہے اور مَیں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تحریکِ آزادی کی قیادت کرو، مَیں تمہارے ساتھ ہوں تم بالکل فکر نہ کرو، انشاء اللہ! تم اپنے مقصد میں کامیاب رہوگے‘‘-[10]

واقعہ طویل تھا اسی لئے خوف ِطوالت کی وجہ سے اصل مدعا(حضورنبی کریم (ﷺ)کا قائداعظم کو خواب میں کیا گیا فرمان مبارک) نقل کردیا-

مسلمانوں کی سیاسی صورتحال، گول میز کانفرنس کے نتائج، قائد اعظمؒ کی لندن سے واپسی اور مسلم لیگ کی تنظیمِ نو کی واضح جھلک ہم درج ذیل پیرائے میں دیکھ سکتے ہیں-

’’بیسویں صدی کا چوتھا عشرہ برصغیر ہند کے سیاسی و دستوری ارتقاء میں بہت نازک مرحلہ تھا جبکہ اسلامیانِ ہند سخت انتشار و افترق میں مبتلا تھے-گول میز کانفرنس کے نتیجے میں کمیونل ایوارڈ،صوبائی خود مختاری،قانونِ ہند کے 1935ء کی صورت میں سامنے آچکا تھا، جس کی تکمیل پر برِّصغیر کے آئندہ مقدر کا فیصلہ ہونا تھا-اس نازک مرحلے میں اقبال اور چند دوسرے درد مندانِ ملّت نے انگلستان میں مقیم مسٹر جناح سے التماس کیا کہ وہ ہند میں واپس آکر اسلامیانِ ہند کی قیادت فرمائیں-مسٹر جناح نے یہ دعوت قبول کرلی اور ہندوستان آکر آل انڈیا مسلم لیگ کی تنظیم ِنَو کا بیڑا اٹھایا-انتہائی نا مساعد حالات میں چند پرس کے اندر کاروانِ مِلّی کی شیرازہ بندی کی اور پھر یہ کاروان اپنی منزل حُریّت،آزادی اور استقلال کی طرف بڑھتا چلا گیا‘‘-[11]

تحریک آزادی کے اس سفر میں علامہ اقبالؒ علیل ہونے کے با وجود قائد اعظمؒ کے شانہ بشانہ کھڑے رہے اور مسلم لیگ کی تشکیلِ نو میں قائد اعظمؒ کو اپنے انمول مشوروں سے (بذریعہ خطوط) نوازتے رہے-1937ء میں قائد اعظم محمد علی جناح کے نام ایک مکتوب میں اس جانب توجہ مبذول کروائی کہ مسلمانوں کی علیحدہ مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا جائے اور مسلم لیگ کی عوامی سطح پر تنظیمِ نو کی جائے-اقبالؒ نے (20 مارچ 1937ء)کےایک خط میں قائد اعظم ؒ کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ:

’’ ایشیاء میں اسلام کی سیاسی و اخلاقی قوت کے مستقبل کا انحصار بہت حد تک ہندوسانی مسلمانوں کی مکمل تنظیمِ پر ہے‘‘-[12]

قائد اعظمؒ کی سیاسی زندگی میں ان کے افکار و نظریات میں ارتقاء کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے-ان میں سب سے بڑی اور اہم نظریاتی تبدیلی ان کا ہندی قومیت سے اسلامی قومیت کی طرف رجوع اور متحدہ ہندوستان کی بجائے الگ ریاست کا مطالبہ ہے-

1936ء کے بعدقائد اعظم جناحؒ کے نظریات میں نمایاں تبدیلی نظر آتی ہے اور یہی وہ عرصہ ہےجب علامہ اقبالؒ سے ان کی خط و کتابت کا سلسلہ جاری تھاجس نے قائد اعظمؒ کو انڈین نیشنل ازم سے مسلم قومیت اور متحدہ ہندوستان سے علیحدہ ریاست کے قیام کے مطالبہ پر لاکھڑا کیا اور جناحؒ اب اپنی تقاریر، بیانات اور سیاسی جلسوں میں مسلمانوں کیلئے علیحدہ قوم (جو اقبالؒ نے خطبہ الٰہ آباد میں استعمال کیا تھا) اور متحدہ ہندوستان کی بجائے علیحدہ ریاست(اقبالؒ کا تصور) جیسی اصطلاحات استعمال کرنے لگے-

مثلاً قائد اعظم ؒ نےمسلم لیگ کے نظریہ کے متعلق جب درج ذیل بیان دیا تو وہ اقبالؒ کی اسلامی فکر اور مسلم قومیت کے جداگانہ تصور سے متاثر تھے-

“The ideology of league is based on the fundamental principle that Muslim India is an independent nationally….we are determined and let there should be no mistake about it, to establish the status of an independent nation and an independent state in this subcontinent”.[13]

’’لیگ(آل انڈیا مسلم لیگ) کے نظریے کی بنیاد اس بنیادی اصول پر ہے کہ ہندوستانی مسلمان ایک خود مختار قوم ہیں---ہم پر عزم ہیں اور برِصغیر میں ایک خود مختار قوم کی حیثیت اور آزاد ریاست کے قیام سے متعلق اب کوئی مغالطہ نہیں ہونا چاہئے‘‘-[14]

قائد اعظمؒ نے گاندھی جی کوایک خط لکھا جو ان کے تصورِ قومیت کی عکاسی کرتا ہے-اقتباس درج ذیل ہے:

’’ہم کہتے ہیں اور یہ ہمارا پختہ عقیدہ ہے کہ مسلمان اور ہندو ہر تعریف اور ہر معیار قومیت کی رو سے ہندوستان کی دو بڑی اقوام ہیں-ہم مسلمان 10 کروڑ نفوس پر مشتمل ایک قوم ہیں اور اس کے علاوہ یہ بھی کہ ہم اپنے ایک مخصوص و منفرد کلچر کے مالک ہیں-اخلاقی ضوابط و قوانین، رسم و رواج، روایات و اعتقادت، تاریخ، تعمیری اسالیب غرض زندگی کے بارے میں اور زندگی میں ہمارا اپنا ایک خاص نقطۂ نظر ہے اور بین الاقوامی قانون کی ہر تعبیر کے مطابق ہم ایک مستقل قوم ہیں‘‘-[15]

اسی طرح مسلم لیگ کے لاہور میں منعقدہ مارچ 1940ء کے تاریخی جلسہ کے اپنے خطبہ صدارت میں فرمایا کہ:

’’قومیت کی تعریف چاہے جس طرح کی جائے مسلمان اس تعریف کی روسے ایک علیحدہ قوم کی حثییت رکھتے ہیں اور اس بات کے مستحق ہیں کہ ملک میں ان کی اپنی الگ مملکت اور جداگانہ خود مختار ریاست ہو- ہم مسلمان چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے اندر ہم ایک آزاد قوم بن کر اپنے ہمسائیوں کے ساتھ ہم آہنگی اور امن  کے ساتھ زندگی بسر کریں-ہماری تمنا ہے کہ ہماری قوم اپنی روحانی، اخلاقی، اقتصادی، معاشرتی اور سیاسی زندگی کو کامل ترین نشو نما بخشے‘‘-[16]

مذکورہ بالا بیانات میں قائد اعظم ؒ اور علامہ اقبالؒ کی فکری مماثلت اور قائد اعظم ؒ کی نظریاتی تبدیلی کا واضح اور غیر مبہم اظہار ملتا ہے-

قرار دادِ پاکستان کے پس منظر میں 1935ء کا آزادی ہند ایکٹ، 1937ء کے انتخابات اور کانگریسی وزارتوں کا تذکرہ ضروری ہے- کانگریس نے آزادی ہند ایکٹ (1935ء) کی مخالفت کی کیونکہ اس میں مسلم مفادات کے تحفظ کی اہم دفعات شامل تھیں-مثلاً صوبائی خود مختاری،سندھ کو علیحدہ صوبہ کا درجہ دے دیا گیا وغیرہ-لیکن اس قانون کے تحت کانگرس نے مارچ 1937ء کے صوبائی انتخابات میں حصہ لیا اور واضح اکثریت (11میں سے 6نشستوں)سے کامیابی حاصل کرتےہوئے  8 صوبوں میں اپنی حکومت قائم کی اور اس طرح کانگریسی وزارتیں (1937ء تا 1939ء تک) بر سرِ اقتدار رہیں-ان وزارتوں نے جن نسلی و مذہبی تعصبات(واردھا سکیم،بندے ماترم گیت،گاؤکشی کا مسئلہ،ہندی کی ترویج وغیرہ) کو فروغ دیا اور مسلمانوں سے جو غیر منصفانہ رویہ (مسلم لیگ کے خاتمے کی کوشش،معاشی و معاشرتی دباؤ )اختیار کیا اس سے کانگریس کا اصل روپ پوری طرح بے نقاب ہوگیا-

ان تمام مخالفتوں اور خطرات کے باوجود آل انڈیا مسلم لیگ قائد اعظمؒ کی مخلص قیادت میں آئے روز مضبوط سے مضبوط تر جماعت بنتی چلی گئی اور مسلمان اپنے سیاسی اختلافات کو بھول کر آل انڈیا مسلم لیگ کے پرچم تلے جمع ہوتے چلے گئے اور یوں وہ دن بھی آیا جب مسلمانوں نے یوم ِنجات (دسمبر 1939ء میں)منایا-

کانگریس کیلئے اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ متحدہ ہندوستان کا خیال ہمیشہ کیلئے دل سے نکال دے اور مسلمانوں کو ایک علیحدہ قوم تسلیم کر لے-جس کا اظہار خود ایک کانگرسی رکن مسٹر این سی دت نے(جنوری 1940ء)کو اپنے ایک بیان میں کچھ اس طرح کیا کہ:

’’میرا خیال ہے کہ ہندو مسلم قضیہ کا حل یہی ہو گا کہ ہندوستان میں ہندو مسلمانوں کو دو قومیں سمجھ لیا جائے اور پھر دو قوموں کی حیثیت سے ان کے ساتھ متحدہ قومیت کا خیا ل ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دل سے نکال دیا جائے‘‘-[17]

اسی طرح ؒ بانیانِ پاکستان (قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ) کی جہدِ مسلسل رنگ لائی اور یوںمسلمانان برِصغیر کیلئےعلیحدہ اسلامی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہو گئی یوں قردادِپاکستان(23مارچ 1940ء)منعقد ہوئی جس میں اسلامیانِ ہند کیلئے علیحدہ مملکت کے مطالبے کو تسلیم کر لیا گیا اور یہ تاریخی قرار داد تاریخِ قیامِ پاکستان میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے-

٭٭٭


[1](پروفیسر فتح محمد ملک،فتنئہِ انکارِپاکستان،صفحہ 27)

[2](پروفیسر فتح محمد ملک،اقبال فراموشی،صفحہ 101،102)

[3])http://pu.edu.pk/images/journal/csas/PDF/17_v32_2_17.pdf(

[4])Stanley Wolpert, Jinnah of Pakistan, Oxford University Press(

[5](Sikandar Hayat,Aspects of the Pakistan Movement,Third Revised Expended Edition,2016,p 265)

[6](خواجہ رضی حیدر،قائد اعظم محمد علی جناح خطوط کے آئینے میں،صفحہ 22،پیس پبلیکیشنز،2015ء)

[7](مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں خطاب مورخہ 5فروری 1938ء-قائد اعظم؛تقاریر وبیانات،صفحہ 214)

[8]( خواجہ رضی حیدر،قائد اعظم محمد علی جناح خطوط کے آئینے میں،صفحہ 282،)

[9]( خواجہ رضی حیدر،قائد اعظم محمد علی جناح خطوط کے آئینے میں،صفحہ285)

[10]( پاکستان بشارات ِ اولیاء اور ہماری ذمہ داریاں، ماہنامہ مرآۃا لعارفین انٹر نیشنل، اگست 2018)

[11](پروفیسر ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار،پاکستان تصور سے حقیقت تک صفحہ 5)

[12]http://pu.edu.pk/images/journal/csas/PDF/17_v32_2_17.pdf

[13]http://www.qurtuba.edu.pk/thedialogue/The%20Dialogue/5_2/Dialogue_April_June2010_136-164.pdf

[14]http://www.qurtuba.edu.pk/thedialogue/The%20Dialogue/5_2/Dialogue_April_June2010_136-164.pdf

[15](آغا اشرف،رُدادِپاکستان،صفحہ 34،35)

[16](تصورپاکستان بانیان پاکستان کی نظر میں،صفحہ 13،شریعہ اکیڈمی ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ،اسلام آباد،پاکستان)

[17](محمد علی چراغ،پاکستان منزل بہ منزل(1901ءتا 1947ء)،صفحہ 52)

یہ نا قابلِ تردید حقیقت ہے کہ علامہ اقبال(﷫) کا خطبہ الٰہ آباد(29دسمبر 1930ء) اسلامیانِ ہند کی سیاسی و فکری تاریخ میں نہایت اہمیت کا حامل ہے اور یہ وہ بنیادی دستاویز ہے جس نے مسلمانانِ برِصغیر کو نہ صرف ایک خود مختار مملکت (پاکستان) کے وجود کا پہلا جواز فراہم کیا بلکہ ایک ایسی نظریاتی ریاست (اسلامی ریاست)کے قیام کا مطالبہ بھی ہے جس میں مسلمان تمدنی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں کیونکہ تہذیب و تمدن کی حفاظت بغیر نظریاتی ریاست کے ممکن نہیں ہے-مسلمان قوم کی اپنی ایک جداگانہ حیثیت ہے جن کی قومیت اپنی بنیاد میں رنگ، نسل، زبان اور جغرافیے کے اشتراک کی بجائے اسلام کے آفاقی و روحانی اُصولوں پر قائم ہے لیکن ان اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایک آزاد ریاست کے قیام کا مطالبہ کریں- جیسا کہ علامہ اقبالؒ خطبہ الٰہ آباد میں فرماتے ہیں :

India is the greatest Muslim country in the World. The life of Islam as a cultural force in the country very largely depends on its centralization in a specified territory.”

’’ہندوستان دنیا میں سب سے بڑا اسلامی ملک ہے-اسلام کو بحیثیت ایک تمدنی قوت کے زندہ رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کر سکے‘‘-

اس خطبہ میں اقبال (﷫) نے ’’مسلم قومیت‘‘کے جداگانہ تشخص پر ممکنہ اعتراضات کابھی تسلی بخش جواب دیا اور کمالِ استدلال سے یہ باور کرایا کہ ہندوستان کے مسلمان اپنی الگ تہذیبی شناخت رکھتے ہیں جس وجہ سے وہ اقلیت نہیں بلکہ جدید معنوں میں ایک جداگانہ قوم ہیں- پروفیسر فتح محمد ملک ہمیں تدبر دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ:

’’مسلم قومیت کی تعمیر و استحکام اورمتحدہ ہندوستانی قومیت کی تردیدکےمتعلق اقبال (﷫) کا کہنا ہے کہ برِصغیر کے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی اور منفرد تہذیب و معاشرت سراسر اسلام کے معاشرتی و روحانی اُصولوں پر مبنی ہے-اسلام سے اٹوٹ وابستگی ہی نے ہندی مسلمانوں کو ایک منتشر ہجوم سے ایک متحد و مستحکم قوم بنایا ہے-اگر وہ خدانخوستہ اسلام کے اجتماعی اُصولوں سے روگردانی کرتے ہوئے متحدہ ہندوستانی قومیت کے فریب میں مبتلا ہو گئے تو وہ پھر سے ایک منتشر ہجوم بن کررہ جائیں گے‘‘-[1]

اقبال کے نزدیک ہندوستان میں مختلف نسلوں،زبانوں اور مختلف مذاہب کے لوگ بستے ہیں جو اپنے اعمال و افعال، تہذیب و تمدن، کلچر اور اطوارِ زندگی میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں اور ان میں بقائے باہمی کیلئے ضروری ہے کہ توازنِ  اقتدار قائم کیا جائے- کیونکہ توازنِ اقتدار عمومی طور پہ ہندوستان کیلئے اور خصوصی طور پہ اسلام و اسلامیانِ ہند کیلئے تاریخ ساز مواقع پیدا کرے گا- اِس ساری صُورت حال پہ جامع تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر فتح محمد ملک لکھتے ہیں :

’’علامہ اقبالؒ نے اپنے خطبہ الٰہ آباد میں قیامِ پاکستان کو ہندوستان اور اسلام دونوں کیلئے باعثِ خیر و برکت ٹھہرایا اور فرمایا کہ پاکستان کے قیام سے ہندوستان میں اندرونی توازنِ اقتدار قائم ہو گا اور اس توازنِ اقتدار سے ہندوستان کے اندر امن قائم ہوگا اور ہندوستان کی سرحدیں محفوظ ہو جائیں گی-ساتھ ہی ساتھ اسلام کو یہ موقع نصیب ہو گا کہ وہ عرب شہنشاہیت (Arabian Imperialism) کی چھاپ سے خود کو پاک کر کے اپنی ابتدائی سادگی اور پاکیزگی کی بازیافت کر سکے- شہنشاہیت نے اسلامی قانون، اسلامی تعلیم اور اسلامی کلچر کو منجمد کر رکھا ہے-پاکستان اسلام کی ایسی تجربہ گاہ بن جائے گا جہاں شہنشاہیت کے زیر اثر پیدا ہونے والا انجماد ٹوٹ جائے گا اور قانون، تعلیم اور کلچر کی دنیا حرکت و عمل سے آشنا ہو گی-اس طرح پاکستان میں اسلام کی حقیقی روح کو از سرِ نو دریافت کر کے روحِ عصر کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے گا‘‘-[2]

اقبالؒ کے اِس تصورِ پاکستان کو حقیقت کا روپ دینے اور قافلہ کی قیادت کیلئے ایک ایسے صاحبِ بصیرت قائد کی ضرورت تھی جو ملت کے جسدِ خُفتہ و خوابیدہ میں آزادی کی تڑپ اور ولولہ پیدا کر سکے اور یہ عظیم ہستی دنیائے سیاست میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے نام سے معروف ہے جو اپنی ہمہ جہت اور کرشمہ ساز شخصیت میں جہاں ایک عبقری سیاستدان، اصول پرست قانون دان، بے باک وکیل، عظیم سیاسی مدبر، انسانی حقوق کے علمبردار، ناقابلِ تسخیر قوت ارادی، بلند پایہ ہمت، حوصلے، مومنانہ فہم و فراست اور غیر متزلزل عزم جیسےاوصاف کے مالک تھے وہیں ایک حقیقی اسلام شناس بھی تھے-

محققین کا کہنا ہے کہ اقبالؒ نے درج ذیل جملے قائد اعظم کے اعزاز میں فرمائے تھے:

For thousands of years a nation may lament and remain groping in darkness. Only then a visionary leader may be born to guide the nation”.(Ahmed, 1997:139)[3]

’’ہزاروں سال ایک قوم کے رنج و غم میں مبتلا اور اندھیرے میں گھومتے رہنے کے بعد ایک صاحبِ بصیرت لیڈر پیدا ہو تاہے جو اس قوم کی رہنمائی کرتاہے‘‘-

 معروف انگریز دانشور اور مصنف اسٹینلے وولپرٹ (Stanley Wolpert) نے قائد اعظمؒ کی عالمگیر شخصیت کو ان الفاظ میں خراج ِتحسین پیش کیا ہے:

Few individuals significantly alter the course of history. Fewer still modify the map of the world. Hardly anyone can be credited with creating a nation state. Mohammad Ali Jinnah did all three”.[4]

’’چند افراد تاریخ کا باب بدلتے ہیں -اب بھی چند ایک ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل دیتے ہیں-بڑی مشکل سے کسی ایک کے سر سہرا جاتا ہے کہ وہ ایک ’’قومی ریاست‘‘کی تخلیق کر سکے-محمد علی جناحؒ نے یہ تینوں کام سر انجام دیے‘‘-

جناحؒ کی قائدانہ صلاحیت کے متعلق جمیل الدین احمد رقم طراز ہیں:

“Jinnah was indeed the only leader of Muslim India who could always respond to Muslim interests and aspirations, and who knew “how to express the stirrings of their minds in the form of concrete propositions”.[5]

’’جناح ہندوستانی مسلمانوں کے وہ واحد رہنما ہیں جنہوں نے ہمیشہ مسلم مفاد اور تمناؤں کو مدِنظر رکھا اور وہ جانتے تھے کہ کس طرح مسلمانوں کی ذہنی فعالیت کا اظہار پختہ تجاویز کی صورت میں کیا جائے‘‘-

تاریخ برِصغیر میں قائد اعظمؒ کے سیاسی مقام و خدمات اور آپ کی کثیر الجہت شخصیت کے متعلق خواجہ رضی حیدر لکھتے ہیں کہ:

’’برصغیر کی جدید تاریخ میں سیاسی خدمات کے اعتبار سے قائد اعظم محمد علی جناح جس مقام و مرتبہ پر فائز ہیں وہ مقام اس خطۂ ارضی پر کسی اور سیاسی رہنما کو حاصل نہیں ہوا- فراست، راست گوئی، ضبط وتحمل، دور بینی و پیش بینی، عالی حوصلگی و خود اعتمادی، استقلال و استقامت، ذاتی اور قومی معاملات میں صداقت،نجی و اجتماعی زندگی میں پاکیزگی، نفاست و شائستگی جیسے اوصاف ان کی فطرت ثانیہ بن گئے تھے-جناح ایک منطقی انسان تھے،اس لئے احتجاجی شور و غوغا سے زیادہ استدلال پر یقین رکھتے تھے‘‘-[6]

جب قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ نے میدانِ سیاست میں قدم رکھا تو ابتداء میں دونوں کا سیاسی رجحان وطنی قومیت(یعنی مغربی نیشنلزم کی تقلید میں ہندی وطنیّت ) تھا- مگر اقبال نے جلد ہی اس لسانی، نسلی و جغرافیائی بنیادوں پر مبنی مادہ پرستانہ تصورِ وطنیت کو اپنی مومنانہ بصیرت سے بھانپ لیا اور اس سے رجوع کر لیا لیکن جناح ؒ ابھی تک متحدہ ہندوستانی قومیت (وطنی قومیت) کے حامی تھے اور عملی سیاست میں دادا بھائی نورو جی، سریندر نارتھ، سی-آر داس اور کرشن گوپال گھوکلے جیسے اعتدال پسند سیاسی قائدین کے ساتھ شانہ بشانہ ملکی سیاست میں گامزنِ سفر تھے اور ’ہندو مسلم اتحاد‘ کے سفیر کی حثییت سے کانگریس اور مسلم لیگ میں مفاہمت کیلئے کوشاں تھے تو ایک طویل عرصے (یعنی نہرو رپورٹ 1928ءتک) علامہ اقبال ؒ اور مسٹر جناح کے سیاسی افکار کی راہیں جُدا جُدا بلکہ بعض دفعہ بالکل مخالف سمت پر رہیں- یہ فاصلے قائد اعظمؒ کے مشہور 14 نکات (مارچ 1929ءکے موقع پر ختم ہوئے اور یوں دونوں(اقبالؒ اورجناحؒ) کی ذہنی و فکری قربت بڑھنے لگی-

لندن میں پہلی گول میز کانفرنس 12 نومبر  1930ء کو منعقد ہوئی جس میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سپہ سالار قائداعظمؒ اپنے چند لیگی رفقاء کے ساتھ شرکت کیلئے لندن روانہ ہوئےجبکہ اس کانفرنس میں اقبالؒ مدعو نہیں تھے جس کا خلا قائد اعظم ؒنے محسوس کیا اور مسلم لیگ کے اجلاس میں علامہ اقبالؒ کا نام آئندہ آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس 1930ء کیلئے بطورِ صدر نامزد کروایا اور اقبال ؒنے اس اجلاس (الٰہ آبادمیں)اپنامذکورہ بالا شُہرہ آفاق تاریخی خطبہ الٰہ آباد پیش کیا - گول میز کانفرنس میں مسلمانوں کے مطالبات تسلیم نہ ہونے اور ہندو ذہنیت اور رویے کی وجہ سے دلبرداشتہ ہوکر قائد اعظم ہندوستان چھوڑ کر لندن چلے گئے-کئی برس بعد ایک بیان میں انہوں نے اپنی ذہنی کیفیت کچھ اس طرح بیان کی ہے جس میں ان کی ہندوستان چھوڑ کر لندن سکونت اختیار کرنے کی وجہ واضح ہوتی ہے:

’’میں نے مفاہمت کرنے کیلئے اس قدر مسلسل کام کیا کہ ایک اخبار نے لکھا کہ مسٹر جناح ہندو مسلم اتحاد کی کوشش سے کبھی تھکتے نہیں-لیکن گول میز کانفرنس کے جلسوں میں ایسا دھچکا لگا جو زندگی میں پہلے کبھی نہ لگا تھا- خطرے کے سامنے ہندو جذبہ، ہندو ذہن اور ہندو رویے نے مجھے اس نتیجے پر پہنچا دیا کہ اتحاد کی کوئی امید نہیں-مجھے اپنے ملک کے بارے میں سخت مایوسی کا احساس ہوا-صورتحال بہت افسوس ناک تھی--!مَیں نے یہ محسوس کرنا شروع کردیا کہ نہ تو مَیں ہندوستان کی کوئی مدد کر سکتا ہوں اورنہ ہی مسلمانوں کو یہ احساس دلاسکتا ہوں کہ وہ کس درجہ سنگین صورتحال سے دوچار ہیں-مجھے اس قدر مایوسی ہوئی اور مَیں اتنا آزردہ ہوا کہ مَیں نے لندن میں سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا‘‘-[7]

آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے اقبال ؒجب دوسری گول میز کانفرنس(1932ء) میں شرکت کیلئے لندن تشریف لے گئے تو وہاں ان کی ملاقات محمد علی جناحؒ سے ہوئی جس میں انہیں ایک دوسرے کے نظریات جاننے اور سمجھنے کا موقع ملا- اقبالؒ نے مسٹر جناح کو برِصغیر کے مسلمانوں کی سیا سی صورتِحال سے آگاہ کیا اور اس بات پر قائل کیا کہ وہ انڈیا واپس آکر مسلمانانِ برصغیر کی قیادت سنبھالیں اور مسلمانوں کو برطانوی نوآبادیاتی نظام سے آزادی دلانے، غفلت کی نیند سے جگانے اور متحد کرنے کیلئے اسلامی اصولوں اور تعلیمات کے مطابق جہدِ آزادی کی تلقین کریں- اقبالؒ جانتے تھے کہ اسلامیان ِہند کو ان سنگین حالات میں اگر کوئی شخص استعمار کی غلامی سے نجات دلاسکتا ہے تو وہ مسٹر جناح ہیں- خواجہ رضی حیدر لکھتے ہیں :

’’1935ء میں قائد اعظم محمد علی جناح ؒکی لندن سے حتمی واپسی کے بعد علامہ اقبال  اور قائد اعظم کے تعلقات کا تاریخی دور شروع ہوتا ہے جس میں علامہ اقبالؒ نے بذریعہ مراسلت ہندوستان کے ملی، ثقافتی اور آئینی مسائل پر تبادلۂ خیال کیا ہے-اقبال کے خطوط قائد اعظم محمد علی جناح کے نام جہاں مفکرِ پاکستان اور قائد کے درمیان تعلقات کا بیّن ثبوت ہیں وہاں برِصغیر پاک و ہند کے ایک خاص عہد کے سیاسی حالات اور مسائل پر بھی گہری روشنی ڈالتے ہیں‘‘-[8]

1937ء کے بعد اقبالؒ نے قائد اعظم کو جو خطوط لکھےان میں مختلف آراء اور تجاویز پیش کیں جس کا عملی اظہار وقتاً فوقتاً جناح ؒ کی سیاسی سرگرمیوں میں ہوتا ہے -ان خطوط میں اقبالؒ نے یہ بھی ذکر کیا کہ اس وقت آپ وہ واحد مسلم رہنما ہیں جو مسلمانانِ برصغیر کی قیادت کرتے ہوئے انہیں سیاسی بحران کے طوفان سے نجات دلا سکتے ہیں- اس بات کی وضاحت علامہ اقبالؒ بنام جناحؒ ایک مکتوب(21جون،1937ء) میں ہوتی ہے جس میں اقبالؒ نےجناحؒ پراپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ :

’’اس وقت جو طوفان شمال مغربی ہندوستان اور شاید پورے ہندوستان میں برپا ہونے والاہےاس میں صرف آپ ہی کی ذاتِ گرامی سے قوم محفوظ رہنمائی کی توقع کا حق رکھتی ہے‘‘-[9]

قائد اعظمؒ کی لندن سے واپسی کا ایک اہم بنیادی سبب یہ بھی ہے کہ جب وہ قیام ِلندن کے دوران اپنے فلیٹ میں مقیم تھے تو ایک شب حضور رسالت مآب (ﷺ)نےآپؒ کو خواب میں زیارت کا شرف بخشا اورحکم فرمایا کہ :

’’مسٹر جناح برِصغیر کے مسلمانوں کو تمہاری فوری ضرورت ہے اور مَیں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تحریکِ آزادی کی قیادت کرو، مَیں تمہارے ساتھ ہوں تم بالکل فکر نہ کرو، انشاء اللہ! تم اپنے مقصد میں کامیاب رہوگے‘‘-[10]

واقعہ طویل تھا اسی لئے خوف ِطوالت کی وجہ سے اصل مدعا(حضورنبی کریم (ﷺ)کا قائداعظم کو خواب میں کیا گیا فرمان مبارک) نقل کردیا-

مسلمانوں کی سیاسی صورتحال، گول میز کانفرنس کے نتائج، قائد اعظمؒ کی لندن سے واپسی اور مسلم لیگ کی تنظیمِ نو کی واضح جھلک ہم درج ذیل پیرائے میں دیکھ سکتے ہیں-

’’بیسویں صدی کا چوتھا عشرہ برصغیر ہند کے سیاسی و دستوری ارتقاء میں بہت نازک مرحلہ تھا جبکہ اسلامیانِ ہند سخت انتشار و افترق میں مبتلا تھے-گول میز کانفرنس کے نتیجے میں کمیونل ایوارڈ،صوبائی خود مختاری،قانونِ ہند کے 1935ء کی صورت میں سامنے آچکا تھا، جس کی تکمیل پر برِّصغیر کے آئندہ مقدر کا فیصلہ ہونا تھا-اس نازک مرحلے میں اقبال اور چند دوسرے درد مندانِ ملّت نے انگلستان میں مقیم مسٹر جناح سے التماس کیا کہ وہ ہند میں واپس آکر اسلامیانِ ہند کی قیادت فرمائیں-مسٹر جناح نے یہ دعوت قبول کرلی اور ہندوستان آکر آل انڈیا مسلم لیگ کی تنظیم ِنَو کا بیڑا اٹھایا-انتہائی نا مساعد حالات میں چند پرس کے اندر کاروانِ مِلّی کی شیرازہ بندی کی اور پھر یہ کاروان اپنی منزل حُریّت،آزادی اور استقلال کی طرف بڑھتا چلا گیا‘‘-[11]

تحریک آزادی کے اس سفر میں علامہ اقبالؒ علیل ہونے کے با وجود قائد اعظمؒ کے شانہ بشانہ کھڑے رہے اور مسلم لیگ کی تشکیلِ نو میں قائد اعظمؒ کو اپنے انمول مشوروں سے (بذریعہ خطوط) نوازتے رہے-1937ء میں قائد اعظم محمد علی جناح کے نام ایک مکتوب میں اس جانب توجہ مبذول کروائی کہ مسلمانوں کی علیحدہ مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا جائے اور مسلم لیگ کی عوامی سطح پر تنظیمِ نو کی جائے-اقبالؒ نے (20 مارچ 1937ء)کےایک خط میں قائد اعظم ؒ کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ:

’’ ایشیاء میں اسلام کی سیاسی و اخلاقی قوت کے مستقبل کا انحصار بہت حد تک ہندوسانی مسلمانوں کی مکمل تنظیمِ پر ہے‘‘-[12]

قائد اعظمؒ کی سیاسی زندگی میں ان کے افکار و نظریات میں ارتقاء کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے-ان میں سب سے بڑی اور اہم نظریاتی تبدیلی ان کا ہندی قومیت سے اسلامی قومیت کی طرف رجوع اور متحدہ ہندوستان کی بجائے الگ ریاست کا مطالبہ ہے-

1936ء کے بعدقائد اعظم جناحؒ کے نظریات میں نمایاں تبدیلی نظر آتی ہے اور یہی وہ عرصہ ہےجب علامہ اقبالؒ سے ان کی خط و کتابت کا سلسلہ جاری تھاجس نے قائد اعظمؒ کو انڈین نیشنل ازم سے مسلم قومیت اور متحدہ ہندوستان سے علیحدہ ریاست کے قیام کے مطالبہ پر لاکھڑا کیا اور جناحؒ اب اپنی تقاریر، بیانات اور سیاسی جلسوں میں مسلمانوں کیلئے علیحدہ قوم (جو اقبالؒ نے خطبہ الٰہ آباد میں استعمال کیا تھا) اور متحدہ ہندوستان کی بجائے علیحدہ ریاست(اقبالؒ کا تصور) جیسی اصطلاحات استعمال کرنے لگے-

مثلاً قائد اعظم ؒ نےمسلم لیگ کے نظریہ کے متعلق جب درج ذیل بیان دیا تو وہ اقبالؒ کی اسلامی فکر اور مسلم قومیت کے جداگانہ تصور سے متاثر تھے-

“The ideology of league is based on the fundamental principle that Muslim India is an independent nationally….we are determined and let there should be no mistake about it, to establish the status of an independent nation and an independent state in this subcontinent”.[13]

’’لیگ(آل انڈیا مسلم لیگ) کے نظریے کی بنیاد اس بنیادی اصول پر ہے کہ ہندوستانی مسلمان ایک خود مختار قوم ہیں---ہم پر عزم ہیں اور برِصغیر میں ایک خود مختار قوم کی حیثیت اور آزاد ریاست کے قیام سے متعلق اب کوئی مغالطہ نہیں ہونا چاہئے‘‘-[14]

قائد اعظمؒ نے گاندھی جی کوایک خط لکھا جو ان کے تصورِ قومیت کی عکاسی کرتا ہے-اقتباس درج ذیل ہے:

’’ہم کہتے ہیں اور یہ ہمارا پختہ عقیدہ ہے کہ مسلمان اور ہندو ہر تعریف اور ہر معیار قومیت کی رو سے ہندوستان کی دو بڑی اقوام ہیں-ہم مسلمان 10 کروڑ نفوس پر مشتمل ایک قوم ہیں اور اس کے علاوہ یہ بھی کہ ہم اپنے ایک مخصوص و منفرد کلچر کے مالک ہیں-اخلاقی ضوابط و قوانین، رسم و رواج، روایات و اعتقادت، تاریخ، تعمیری اسالیب غرض زندگی کے بارے میں اور زندگی میں ہمارا اپنا ایک خاص نقطۂ نظر ہے اور بین الاقوامی قانون کی ہر تعبیر کے مطابق ہم ایک مستقل قوم ہیں‘‘-[15]

اسی طرح مسلم لیگ کے لاہور میں منعقدہ مارچ 1940ء کے تاریخی جلسہ کے اپنے خطبہ صدارت میں فرمایا کہ:

’’قومیت کی تعریف چاہے جس طرح کی جائے مسلمان اس تعریف کی روسے ایک علیحدہ قوم کی حثییت رکھتے ہیں اور اس بات کے مستحق ہیں کہ ملک میں ان کی اپنی الگ مملکت اور جداگانہ خود مختار ریاست ہو- ہم مسلمان چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے اندر ہم ایک آزاد قوم بن کر اپنے ہمسائیوں کے ساتھ ہم آہنگی اور امن  کے ساتھ زندگی بسر کریں-ہماری تمنا ہے کہ ہماری قوم اپنی روحانی، اخلاقی، اقتصادی، معاشرتی اور سیاسی زندگی کو کامل ترین نشو نما بخشے‘‘-[16]

مذکورہ بالا بیانات میں قائد اعظم ؒ اور علامہ اقبالؒ کی فکری مماثلت اور قائد اعظم ؒ کی نظریاتی تبدیلی کا واضح اور غیر مبہم اظہار ملتا ہے-

قرار دادِ پاکستان کے پس منظر میں 1935ء کا آزادی ہند ایکٹ، 1937ء کے انتخابات اور کانگریسی وزارتوں کا تذکرہ ضروری ہے- کانگریس نے آزادی ہند ایکٹ (1935ء) کی مخالفت کی کیونکہ اس میں مسلم مفادات کے تحفظ کی اہم دفعات شامل تھیں-مثلاً صوبائی خود مختاری،سندھ کو علیحدہ صوبہ کا درجہ دے دیا گیا وغیرہ-لیکن اس قانون کے تحت کانگرس نے مارچ 1937ء کے صوبائی انتخابات میں حصہ لیا اور واضح اکثریت (11میں سے 6نشستوں)سے کامیابی حاصل کرتےہوئے  8 صوبوں میں اپنی حکومت قائم کی اور اس طرح کانگریسی وزارتیں (1937ء تا 1939ء تک) بر سرِ اقتدار رہیں-ان وزارتوں نے جن نسلی و مذہبی تعصبات(واردھا سکیم،بندے ماترم گیت،گاؤکشی کا مسئلہ،ہندی کی ترویج وغیرہ) کو فروغ دیا اور مسلمانوں سے جو غیر منصفانہ رویہ (مسلم لیگ کے خاتمے کی کوشش،معاشی و معاشرتی دباؤ )اختیار کیا اس سے کانگریس کا اصل روپ پوری طرح بے نقاب ہوگیا-

ان تمام مخالفتوں اور خطرات کے باوجود آل انڈیا مسلم لیگ قائد اعظمؒ کی مخلص قیادت میں آئے روز مضبوط سے مضبوط تر جماعت بنتی چلی گئی اور مسلمان اپنے سیاسی اختلافات کو بھول کر آل انڈیا مسلم لیگ کے پرچم تلے جمع ہوتے چلے گئے اور یوں وہ دن بھی آیا جب مسلمانوں نے یوم ِنجات (دسمبر 1939ء میں)منایا-

کانگریس کیلئے اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ متحدہ ہندوستان کا خیال ہمیشہ کیلئے دل سے نکال دے اور مسلمانوں کو ایک علیحدہ قوم تسلیم کر لے-جس کا اظہار خود ایک کانگرسی رکن مسٹر این سی دت نے(جنوری 1940ء)کو اپنے ایک بیان میں کچھ اس طرح کیا کہ:

’’میرا خیال ہے کہ ہندو مسلم قضیہ کا حل یہی ہو گا کہ ہندوستان میں ہندو مسلمانوں کو دو قومیں سمجھ لیا جائے اور پھر دو قوموں کی حیثیت سے ان کے ساتھ متحدہ قومیت کا خیا ل ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دل سے نکال دیا جائے‘‘-[17]

اسی طرح ؒ بانیانِ پاکستان (قائد اعظمؒ اور علامہ اقبالؒ) کی جہدِ مسلسل رنگ لائی اور یوںمسلمانان برِصغیر کیلئےعلیحدہ اسلامی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہو گئی یوں قردادِپاکستان(23مارچ 1940ء)منعقد ہوئی جس میں اسلامیانِ ہند کیلئے علیحدہ مملکت کے مطالبے کو تسلیم کر لیا گیا اور یہ تاریخی قرار داد تاریخِ قیامِ پاکستان میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے-

٭٭٭

 


[1](پروفیسر فتح محمد ملک،فتنئہِ انکارِپاکستان،صفحہ 27)

[2](پروفیسر فتح محمد ملک،اقبال فراموشی،صفحہ 101،102)

[3])http://pu.edu.pk/images/journal/csas/PDF/17_v32_2_17.pdf(

[4])Stanley Wolpert, Jinnah of Pakistan, Oxford University Press(

[5](Sikandar Hayat,Aspects of the Pakistan Movement,Third Revised Expended Edition,2016,p 265)

[6](خواجہ رضی حیدر،قائد اعظم محمد علی جناح خطوط کے آئینے میں،صفحہ 22،پیس پبلیکیشنز،2015ء)

[7](مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں خطاب مورخہ 5فروری 1938ء-قائد اعظم؛تقاریر وبیانات،صفحہ 214)

[8]( خواجہ رضی حیدر،قائد اعظم محمد علی جناح خطوط کے آئینے میں،صفحہ 282،)

[9]( خواجہ رضی حیدر،قائد اعظم محمد علی جناح خطوط کے آئینے میں،صفحہ285)

[10]( پاکستان بشارات ِ اولیاء اور ہماری ذمہ داریاں، ماہنامہ مرآۃا لعارفین انٹر نیشنل، اگست 2018)

[11](پروفیسر ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار،پاکستان تصور سے حقیقت تک صفحہ 5)

[12]http://pu.edu.pk/images/journal/csas/PDF/17_v32_2_17.pdf

[13]http://www.qurtuba.edu.pk/thedialogue/The%20Dialogue/5_2/Dialogue_April_June2010_136-164.pdf

[14]http://www.qurtuba.edu.pk/thedialogue/The%20Dialogue/5_2/Dialogue_April_June2010_136-164.pdf

[15](آغا اشرف،رُدادِپاکستان،صفحہ 34،35)

[16](تصورپاکستان بانیان پاکستان کی نظر میں،صفحہ 13،شریعہ اکیڈمی ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ،اسلام آباد،پاکستان)

[17](محمد علی چراغ،پاکستان منزل بہ منزل(1901ءتا 1947ء)،صفحہ 52)

 

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر