ابیات باھوؒ (جل جلیندیاں جنگل بھوندیاں)

ابیات باھوؒ (جل جلیندیاں جنگل بھوندیاں)

ابیات باھوؒ (جل جلیندیاں جنگل بھوندیاں)

مصنف: Translated By M.A Khan اکتوبر 2016

جل جلیندیاں جنگل بھوندیاں میری ہکا گل نہ پکی ھو

چلے چلئے مکےحج گزاریاں میری دل دی ڈور نہ ڈگی ھو

تریھے روزے پنچ نمازاں ایہہ بھی پڑھ پڑھ تھکی ھو

سبھے مراداں حاصل ہویاں باھو جاں کامل نظر مہردی تکی ھو

By crossing the rivers and roaming the jungles not even single issue I attained Hoo

Being in solitude and performing pilgrimage to Makka my hearts desires never refrained Hoo

By keeping thirty fasts and five daily prayers I had drained Hoo

When a perfect gives merciful glance ‘Bahoo’ then entire wishes were gained Hoo

 

Jal jalaindiya'N jangal bhondiya'N meri hikka gal na pakki Hoo

Chille chalayye makkay hajj guzariaya'N meri dil di do'R na Dakki Hoo

Tarihey rozay panj namaza'N aeh bhi pa'Rh pa'Rh thakki Hoo

Sabhey muradaa’N Hasil hoyaa'N Bahoo ja'N kamil nazar mahar di takki Hoo                (Translated by: M.A.Khan)

 

تشریح:

حضرت سلطان باھوقدس اللہ سرّہ  نے درج بالابیت کے پہلے تین مصروں میں جستجوِ حق کی ارتقا پذیری بیان فرمائی اورآخری مصرعہ میں اِ س کا حاصل بتا دیا-

جب انسان میں طلبِ الٰہی پیدا ہوجائے تو وہ اپنے پروردگار کی تلاش کرتا ہے- لیکن اِس جستجو کے مختلف مراحل میں وہ درپیش مسائل سے نہ صرف نبردآزما رہتا ہے بلکہ وہ وِصال ذات ِحق کی حتمی منزل بھی اپنے ذہن میں برقرار رکھتا ہے- راہِ حق کے اس سفر میں وہ سب سے پہلے نفس کشی کامرحلہ عبور کرنا چاہتا ہے- اس امر کے لیے وہ بیابانوں میں اپنا ٹھکانہ بناتا ہے- دریاؤں کے کنارے زندگی گزارتا اور اپنی سمجھ کے مطابق ذکر اذکار کرتا ہے تاکہ اُسے حضرت خضر علیہ السلام تک رسائی ہو جائے- جنگلوں میں بھٹکتا ہے کہ کبھی تو نفس امّارہ سے خلاصی پالے گا-اِس سب کے با وصف جب وہ اپنا محاسبہ کرتاہے تو اس نتیجہ پہ پہنچتا ہے کہ ابھی بھی وہ نفس کی چالبازیوں سے محفوظ نہیں ہوا اورتصورِ اسم اللہ ذات سے بھی جوں کا توں محروم ہے-

(۲) گونا گوں چلہ کشی کے ذریعے نفس کی مخالف کرتاہے مگر اُسے شکست دینے میں ناکام رہتا ہے- لقائے الٰہی کے حصول کے لیے وہ سو ئے حجاز عازم سفر ہوتا ہے- کعبۃ اللہ کا حج، اُس کا طواف اور دیگر ارکانِ حج بھی ادا کرتا ہے- لیکن اُس کا دِل تاحال عرفانِ ذاتِ حق سے محروم ہی رہتا ہے اوراُس کی رُوح میں قربِ الٰہی کی تشنگی بھی کم نہیں ہوتی- نفس کی شرارتوں سے بھی امان نہیں پاتا- حضرت سلطان باھوقدس اللہ سرّہ  سالک کی مخالف نفس کوششوں کی بے فیضی کا ذکر فرماتے ہیں کہ:-’’زہد و تقویٰ، صوم و صلوٰة اور ریاضتِ حج و زکوٰة خلافِ نفس ہے، کیا اِس سے نفس مرجاتا ہے؟ مَیں کہتا ہوں نہیں مرتا- ذکر فکر مجاہدہ مشاہدہ مراقبہ محاسبہ اور وصال حضور مذکور خلافِ نفس ہے، کیا اِس سے نفس مرجاتا ہے؟ مَیں کہتا ہوں نہیں مرتا- وِرد وظائف، ذکر و تسبیح، تلاوت ِقرآن اور علمِ مسائل ِفقہ خلاف ِنفس ہے، کیا اِس سے نفس مرجاتا ہے؟ مَیں کہتا ہوں نہیں مرتا- موٹا کھردرا لباس پہننا، گُدڑی پہننا، مخلوق سے علیحدگی اختیار کرنا، چُپ رہنا، نیک وصال و خوب خصال ہونا خلاف ِنفس ہے، کیا اِس سے نفس مرجاتا ہے؟ مَیں کہتا ہوں نہیں مرتا- گوشئہ تنہائی میں چلہ کشی کرنا اور ہر چیز سے بے تعلق ہو کر سرگردان پھرنا  خلاف ِنفس ہے، کیا اِس سے نفس مرجاتا ہے؟ مَیں کہتا ہوں نہیں مرتا- علم و تعلیم، درس و تدریس اور خدا شناسی خلافِ نفس ہے، کیا اِس سے نفس مرجاتا ہے؟ مَیں کہتا ہوں نہیں مرتا‘‘- (عین الفقر:۷۶۱)

(۳) طالب مولیٰ وِصال حق کے لیے اپنے مذہبی فرائض اور نفلی عبادات میں بھی مشغول رہتا ہے- پنجگانہ نماز پڑھتا ہے اور رمضان المبارک کے روزے بھی رکھتا ہے- فرمایا گیا کہ: ’’اگر کوئی تمام عمر ریاضت ِتقویٰ میں مشغول رہے یا عمر بھر علمِ مسائل ِفقہ پڑھتا رہے یا تمام عمر صوم و صلوٰةِ نوافل میں گزار دے یا رات دن تلاوتِ قرآن میں مشغول رہے اور ذکر فکر و مراقبہ کی مشقت میں جان بہ لب ہو جائے وہ دیدار ِالٰہی سے مشرف ہوئے بغیر مراتب ِتصدیق القلب ہرگز حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ نفس کے ہر بال و رگ میں کفار سے زیادہ سخت بلکہ سخت ترین اکہتر ہزار زُنار پڑے ہوئے ہیں جو ہرگز نہیں ٹوٹتے جب تک کہ وہ دیدار  ِپروردگار سے مشرف ہو کر صاحب ِحضور نہ ہو جائے‘‘-(امیرالکونین:۷۸۴)

(۴) یہ حقیقت ہے کہ عشقِ الٰہی کی شرابِ ازل کاایک قطرہ نصیب ہونا انسان کی زندگی کی جملہ عبادات سے زیادہ قربِ الٰہی کی سرشاری دیتا ہے- اسی لیے فرمایا گیا کہ:-" یہ فقیر باھُو کہتا ہے کہ محبت  الٰہی کا ایک ذرّہ جملہ عباداتِ حج و زکوٰة و نماز و روزہ و نوافل اور تمام جن و اِنس و دیو و پری و فرشتہ و ملائک کی مجموعی عبادت سے افضل ہے بشرطیکہ محبت و اخلاص کی اِس راہ میں فقیر صادق و ثابت قدم اور راسخ الاعتقاد ہو کیونکہ فقرائے کامل اپنے معاملات کو عشق و محبت کے کمال تک پہنچاتے ہیں جن سے اُن کا سینہ تجلی انوار سے مالا مال رہتا ہے کہ صاحب ِعشق و محبت کے دل پر ہر دم لاکھوں اسرار نازل ہوتے ہیں"-(عین الفقر:۱۹۳)

جستجوِ حق میں اگر خوش بختی سے مرشد کامل کی بیعت و صحبت میّسر آجائے تو طالب کی وصال الٰہی کی قلبی مراد جلد پوری ہوتی ہے- کیونکہ مرشد کامل نگاہِ سے اُس کے دِل کو اسمِ اعظم کے حاضرات کی جلوہ گاہ بنا دیتا ہے جس کی تجلیات سے اُس کانفس مغلوب اوراُس کی تمام کاوشیں ثمرآور ہوجاتی ہیں -وہ سالکِ تصوف سے فقیر کامل بن جاتاہے- یہ وہ مقام ہے جس سے نفس مرجاتا ہے اور رُوح زِندہ ہوجاتی ہے -

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر